Baaghi TV

Tag: حماس

  • جنگ بندی معاہدہ، 3 اسرائیلی خواتین قیدی ریڈ کراس کے حوالے

    جنگ بندی معاہدہ، 3 اسرائیلی خواتین قیدی ریڈ کراس کے حوالے

    فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کے تحت 3 اسرائیلی خواتین قیدیوں کو ریڈ کراس کے حوالے کردیا گیا۔

    قبل ازیں حماس کی جانب سےآج رہا کیے جانے والی 3 اسرائیلی خواتین قیدیوں کے نام جاری کیے گئے تھے۔ریڈ کراس کی ٹیم اسرائیلی خواتین کو غزہ میں اسرائیل کے خصوصی فوجی یونٹ پہنچائےگی جہاں سے انہیں اسرائیلی فوجی اسپتال لے جایا جائےگا۔فوجی اسپتال میں ان کا ابتدائی طبی معائنہ ہوگاجس کے بعد ہونے والی اسرائیلی خواتین کو اسپتال پہنچا دیا جائے گا، یہ خواتین اسپتال میں ہی اپنے اہلخانہ سے ملاقات کریں گی۔عرب میڈیا کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے سے معاہدے کے تحت آج رہا کیے جانے والے 90 فلسطینی قیدیوں کے نام جاری کردیے گئے ہیں۔ آج رہا کیے جانے والے فلسطینی قیدیوں میں 69 خواتین اور 21 بچے شامل ہیں۔

    قطری نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کے مطابق معاہدے کے تحت رہائی پانے والے فلسطینی قیدیوں کے استقبال کے لیے ریڈ کراس کا ایک وفد سخت سیکیورٹی کے درمیان اوفر جیل میں موجود ہے۔غزہ میں قید 3 اسرائیلی قیدیوں کے بدلے 90 فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا جائے گا، آج رہا کیے جانے والے فلسطینی قیدیوں میں 69 خواتین اور 21 بچے شامل ہیں، اسرائیل کی جانب سے فلسطینی قیدیوں کو ریڈ کراس کے حوالے کیا جائے گا۔اس سے قبل، فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس کی جانب سے ٹیلی گرام پر ایک ’پوسٹ‘ میں کہا کہ حماس نے غزہ میں جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد کے پہلے دن رہا کیے جانے والے 3 اسرائیلی قیدیوں کے نام جاری کر دیے ہیں۔

    حماس کے مسلح ونگ قاسم بریگیڈ کے ترجمان ابو عبیدہ کے مطابق قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے تحت ہم نے 24 سالہ رومی گونن، 28 سالہ ایملی داماری اور 31 سالہ ڈورون شتنبر خیر کو رہا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔واضح رہے کہ اسرائیل اورحماس کے درمیان 6 ہفتوں پر محیط جنگ بندی کے ابتدائی مرحلے میں وسطی غزہ سے اسرائیلی افواج کا بتدریج انخلا اور بے گھر فلسطینیوں کی شمالی غزہ میں واپسی شامل ہے۔اس معاہدے کے تحت غزہ میں جنگ بندی کے بعد روزانہ 600 ٹرک انسانی امداد کی اجازت دی جائے گی، 50 ٹرک ایندھن لے کر جائیں گے جبکہ 300 ٹرک شمال کی جانب مختص کیے جائیں گے، جہاں شہریوں کے لیے حالات خاص طور پر سخت ہیں۔

    نہ خدا ہی ملا نہ وصالِ صنم.تحریر:اعجازالحق عثمانی

    یورو اسٹار کی اجارہ داری ختم ، 500 ملین پاؤنڈ کا تیز رفتار ٹرین منصوبہ منظرعام پر آ گیا

    کام نہیں کررہے کہنے والے تعصب کی عینک اتار کر دیکھیں، مئیر کراچی

    وزیراعظم یوتھ پروگرام بیروزگاری کے خاتمے کا بڑا ذریعہ ہے،رانا مشہود خان

  • حماس یرغمالیوں کےنام جاری نہیں کر دیتی،غزہ میں جنگ بندی نہ کریں،اسرائیلی وزیراعظم کا فوج کو حکم

    حماس یرغمالیوں کےنام جاری نہیں کر دیتی،غزہ میں جنگ بندی نہ کریں،اسرائیلی وزیراعظم کا فوج کو حکم

    تل ابیب: اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے اسرائیلی فوج کو حکم دیا کہ وہ غزہ میں جنگ بندی نہ کرے جب تک کہ حماس یرغمالیوں کے نام جاری نہیں کر دیتی۔

    باغی ٹی وی: الجزیرہ عربی نے اپنی اپنی تازہ ترین اپ ڈیٹس میں رپورٹ کیا کہ اسرائیلی فورسز نے مقبوضہ مغربی کنارے کے شہروں اور قصبوں میں چھاپہ مار کارروائیاں تیز کردیں،نابلس میں اسرائیلی فورسز نے متعدد علاقوں کے ساتھ ساتھ شرفی مارکیٹ میں واقع جامع مسجد پر بھی دھاوا بول دیا۔

    اسرائیلی فورسز نے مختلف علاقوں میں چھاپہ مار کارروائیاں کیں اور اس دوران فائرنگ بھی کی گئی لیکن کسی شخص کی گرفتاری یا زخمی ہونے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی،تمون کے علاقے میں اسرائیلی افواج نے نئی فوجی چوکیاں بھی قائم کرلیں۔

    دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں لاہور ایک بار پھر پہلے نمبر پر

    الجزیرہ عربی نے بتایا کہ اسرائیلی فوج نے وسطی اور جنوبی غزہ پر حملے شروع کر دیئے، غزہ کی پٹی کے جنوب میں رفح کے شمالی اور مغربی علاقوں پر 4 چھاپے مارے گئےفلسطینی میڈیا نے وسطی شہر دیر البلاح کے ساتھ ساتھ خان یونس شہر کے قریب اباسان کے جنوبی قصبے میں ایک گودام پر اسرائیلی فضائی حملے کی بھی اطلاع دی، جانی نقصان کے بارے میں فوری طور پر کو ئی اطلاع سامنے نہیں آئی۔

    دوسری جانب سے کچھ دیر قبل روئٹرز نے رپورٹ کیا کہ اسرائیلی فورسز نے رفح کے علاقوں سے انخلا شروع کردیااسرائیلی افواج نے رفح کے علاقوں سے مصر اور غزہ کی سرحد کے ساتھ واقع فلاڈیلفی کوریڈور کی طرف انخلا شروع کر دیا ہےاسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے اسرائیلی فوج کو حکم دیا ہے کہ وہ غزہ میں جنگ بندی نہ کرے جب تک کہ حماس یرغمالیوں کے نام جاری نہیں کر دیتی۔

    امریکا میں ٹک ٹاک بند،ایپل اور گوگل ایپ اسٹورز سے ہٹا دیا گیا

    وزیراعظم کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا کہ وزیراعظم نے آئی ڈی ایف کو ہدایت کی ہے کہ جنگ بندی جو کہ مقامی وقت کے مطابق صبح 8 بج کر 30 منٹ پر نافذ ہونی ہے، اس وقت تک نہیں ہو گی جب تک کہ اسرائیل کو رہائی پانے والوں کی فہرست نہیں مل جاتی جو حماس نے فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

    دوسری جانب حماس نے معاملے پر رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ یرغمالیوں کی فہرست میں تاخیر کی وجہ تکنیکی مسائل ہیں، اسرائیلی میڈیا کے مطابق حماس نے اب تک 3 اسرائیلی یرغمالی خواتین کی فہرست جاری نہیں کی، غزہ میں جنگ بندی کا طے شدہ وقت گزرگیا۔

    القادر ٹرسٹ کیس:عمران خان اوراہلیہ بشریٰ بی بی کی اپیل تیار کرلی گئی

    واضح رہے کہ 15 ماہ سے جاری اسرائیلی جارحیت کے بعد اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ آج سے نافذ ہو گا، جس سے غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی رکنے کی امید پیدا ہو گئی ہے اسرائیل کابینہ نے جنگ بندی معاہدے کی توثیق کے بعد غزہ میں اس بات کی تصدیق کر دی کہ معاہدہ مکمل طور پر عمل میں آئے گا۔

    اسرائیلی وزیراعظم آفس نے بتایا کہ حکومت نے یرغمالیوں کی واپسی کے منصوبے کی منظوری بھی دے دی ہے، اور اس بات کی تصدیق کی کہ اسرائیل اپنے ثابت قدم مؤقف کی بدولت امن کے متلاشی فلسطینیوں کی نسل کشی کو روکنے کے قریب پہنچ چکا ہے۔

    غزہ معاہدہ : 6ہفتوں کی جنگ بندی پر عمل درآمد 3 مراحل میں کیا جائے گا،قطری وزیر اعظم

    جنگ بندی معاہدے کے بعد اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے اپنے پہلے خطاب میں کہا کہ ہم نے مشرقِ وسطیٰ کا چہرہ بدل دیا ہے۔ ہمارے بہن، بھائی اپنے گھروں کو واپس آ رہے ہیں، اور ان میں سے اکثریت زندہ ہے، یہ سب اسرائیل کے ثابت قدم مؤقف کے سبب ممکن ہوا ہے۔

    نیتن یاہو نے اس بات کا اعادہ کیا کہ جنگ بندی معاہدے پر عمل اس وقت تک نہیں کیا جائے گا جب تک یرغمالیوں کی فہرست کی مکمل معلومات اسرائیل کے حوالے نہیں کی جاتیں اسرائیل کو 33 یرغمالیوں کی فہرست موصول ہونے تک معاہدہ آگے نہیں بڑھے گا۔

    فلسطینی طلبا کی فیسیں معاف ،وظیفے دینے کا اعلان

    انہوں نے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو اسرائیل لڑائی دوبارہ شروع کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہےیہ جنگ بندی معاہدہ فلسطین میں کئی ماہ سے جاری خونریزی کے خاتمے کی ایک اہم کوشش ہے، جس سے نہ صرف اسرائیل بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے حوا لے سے بھی نئے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں-

  • غزہ معاہدہ : 6ہفتوں کی جنگ بندی پر عمل درآمد 3 مراحل میں کیا جائے گا،قطری وزیر اعظم

    غزہ معاہدہ : 6ہفتوں کی جنگ بندی پر عمل درآمد 3 مراحل میں کیا جائے گا،قطری وزیر اعظم

    دوحہ: قطری وزیر اعظم نے غزہ جنگ بندی معاہدہ طے پانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی کااطلاق آج 19 جنوری سے ہوگا-

    باغی ٹی وی : 6ہفتوں کی جنگ بندی پر عمل درآمد 3 مراحل میں کیا جائے گا،مرحلہ وار سویلین قیدیوں کا تبادلہ اور جنگ کے خاتمے پر مذاکرات ہوں گے دوسرے مرحلے میں اسرائیلی فورس کے قیدی حماس رہا کرے گی اور غزہ کے عوامی مقامات سے اسرائیلی فوج کا انخلا ہوگاتیسرے مرحلے میں اسرائیلی فورسز کا غزہ سے مکمل انخلا اور غزہ کی تعمیر نو پر کام کیا جائے گا۔

    قطری وزیر اعظم محمد بن عبد الرحمان بن جاسم الثانی نے کہا ہے کہ جنگ بندی معاہدہ کروانے کے لیے قطر، مصر اور امریکا کی کوششیں کامیاب ہوگئی ہیں، جنگ بندی کااطلاق19 جنوری سے ہوگا، حماس اور اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی کے مراحل پر عمل درآمد کے حوالے سے کام جاری ہے۔

    شدید دھند ، موٹرویز کئی مقامات سے ٹریفک کیلئے بند

    قطری وزیر اعظم محمد بن عبد الرحمان بن جاسم الثانی نے جنگ بندی جنگ کے آغاز تک غزہ میں قیام امن پر زور دیا ہے کہا کہ معاہدہ اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کا باعث بنے گا، یہ معاہدہ غزہ کے لیے انسانی امداد میں اضافے کا بھی باعث بنے گاہم غزہ میں اپنے بھائیوں کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔توقع ہے کہ معاہدہ اتوار سے نافذ العمل ہو جائے گا،وقت کا اعلان بعد میں ہوگا۔

    انہوں نے بتایا کہ معاہدے کے پہلے مرحلے میں اسرائیلی یرغمالیوں اور فلسطینی قیدیوں کی رہائی ہوگی۔ معاہدے کے پہلے مرحلے میں بے گھر افراد کی گھروں کو واپسی شامل ہےپہلے مرحلے میں غزہ کی پٹی سے زخمیوں کو علاج کے لیے نکالنا بھی شامل ہے۔ ہم تمام فریقین پر اپنے وعدوں کو پورا کرنے پر زور دیتے ہیں۔

    پاک بحریہ سے کمبائنڈ ٹاسک فورس کی کمان رائل نیوزی لینڈ نیوی کو منتقل

    دوسری جانب حماس رہنما سامی ابو زہری نے غیر ملکی خبررساں ایجنسی سے بات کرتے ہوئے جنگ بندی معاہدے کو اہم کامیابی قرار دیا ہےانہوں نے کہا کہ یہ اس بات کا اظہار بھی ہے کہ اسرائیلی فوج اپنے کسی ہدف کو حاصل نہیں کرسکی۔

    حماس کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ جنگ بندی کا معاہدہ فلسطینی عوام کی عظمت اور غزہ میں مزاحمت کے بے مثال جذبے کا غماز ہے جو پچھلے 15 ماہ سے زائد عرصے سے جاری ہے۔

    یو اے ای نے آن لائن ویزا سروس متعارف کروادی

    حماس نے قرار دیا کہ یہ معاہدہ فلسطینی عوام، ان کی مزاحمت، امت مسلمہ اور عالمی سطح پر آزادی پسندوں کی ایک مشترکہ کامیابی ہے اور یہ ہماری جدوجہد کے سفر میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے غزہ کے صابر اور شجاعت سے بھرپور عوام کی حمایت اور دفاع ہمارا فرض ہے، اسرائیلی جارحیت اور نسل کشی کو ختم کرنا اولین ترجیح ہے۔

    حماس نے غزہ کے مظلوموں کی حمایت اور یکجہتی کا اظہار کرنے پر دنیا بھر کے لوگوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ہم اب سب کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے غزہ کے لوگوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا، ہمارے حق میں آواز بلند کی اور عالمی سطح پر اسرائیلی جارحیت کو بے نقاب کرنے میں اپنا کردار ادا کیا۔

    مہنگےپیکج لینے والے عازمین کا حج سیکیورٹی کلیئرنس سے مشروط

    غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی کابینہ امن معاہدے کی منظوری آج دے گی۔

    غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کی ممکنہ تفصیلات بھی سامنے آگئی ہیں۔

    عرب میڈیا کے مطابق غزہ جنگ بندی معاہدہ 3 مراحلے پر مشتمل ہوگا، معاہدے کا پہلا مرحلہ 6 ہفتوں پر مشتمل ہوگاپہلے مرحلے کے دوران اسرائیلی فوج غزہ کی سرحد کے اندر 700 میٹر تک خود کو محدود کرلے گی جنگ بندی کے اس مرحلے میں اسرائیل تقریباً 2000 فلسطینی قیدیوں کو رہا کرے گا جن میں عمر قید کے 250 قیدی بھی شامل ہوں گےاس مرحلے میں غزہ میں موجود 33 اسرائیلی مغویوں کو بھی رہا کیا جائے گا۔

    سیالکوٹ: تھانہ اگوکی پولیس کی کارروائی، منشیات فروش گرفتار

    پہلے مرحلے میں اسرائیل زخمیوں کو علاج کے لیے غزہ سے باہر سفر کی اجازت دے گااس مرحلے کے آغاز کے 7 روز بعد اسرائیل مصر کے ساتھ رفح کراسنگ کھول دے گااس دوران اسرائیلی فوج مصر کے ساتھ سرحد جسے فلاڈیلفی راہداری کہا جاتا ہے، سے پیچھے ہٹ جائے گی اور آئندہ مراحل میں اس علاقے سے واپس چلی جائے گی۔

    واضح رہے کہ اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ فلسطین کے علاقے غزہ میں 15 ماہ سے جارحیت جاری ہے اور حملوں میں 46 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوئے جن میں بچوں اور عورتوں کی بڑی تعداد شامل ہے،اس دوران غزہ کی مکمل آبادی نقل مکانی پر مجبور ہوئی اور ہزاروں افراد زخمی بھی ہوئے۔

    پی ٹی آئی کا کور کمیٹی کا اجلاس آج رات 10 بجے طلب

  • قابض افواج کبھی بھی ہمارے عوام اور مزاحمت کو شکست نہیں دے سکتی،ڈاکٹر خلیل الحیہ

    قابض افواج کبھی بھی ہمارے عوام اور مزاحمت کو شکست نہیں دے سکتی،ڈاکٹر خلیل الحیہ

    قطر: غزہ میں حماس اور مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر خلیل الحیہ نے جنگ بندی معاہدے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم تمام مزاحمتی گروپس کے مجاہدین کو سلام پیش کرتے ہیں، خاص طور پر القدس بریگیڈ کے مجاہدین کو جو اسلامی جہاد کی صف اول کے ساتھی ہیں۔

    باغی ٹی وی : قطر کے دارالحکومت دوحہ میں وزیر اعظم محمد بن عبد الرحمان بن جاسم الثانی نے غزہ جنگ بندی معاہدہ طے پانے کا اعلا ن کیا اور کہا ہے کہ جنگ بندی معاہدہ کروانے کے لیے قطر، مصر اور امریکا کی کوششیں کامیاب ہوگئی ہیں،جنگ بندی کا اطلاق19 جنور ی سے ہوگا، حماس اور اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی کے مراحل پر عمل درآمد کے حوالے سے کام جاری ہے۔

    جنگ بندی معاہدے کے اعلان کے بعد غزہ میں حماس اور مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر خلیل الحیہ نے اپنے تفصیلی بیان میں کہا کہ اس تاریخی لمحے میں، جو ہمارے عوام کی جدو جہد اور مسلسل صبر کا نتیجہ ہے جو دہائیوں سے جاری ہے اور جس کے بعد ایک نیا دور شروع ہوگا ، ہم غزہ کے عظیم عوام کو فخر اور عظمت کے تمام الفاظ پیش کرتے ہیں۔

    کراچی: فائرنگ کے مختلف واقعات میں دو افراد زخمی

    انہوں نے کہا کہ اے اہل غزہ، اے عظمت کے حامل لوگو، اے شہداء، زخمیوں، اسیران اور مفقودین کے اہل خانہ، جنہوں نے وعدہ سچ ثابت کیا، صبر کیا، اور وہ تکالیف برداشت کیں جن کا کسی نے بھی پہلے سامنا نہ کیا اور آپ نے وہ سب کچھ جھیلا جو کسی اور نے نہ جھیلا۔ آپ صبر کے ہر موقع پر ثابت قدم رہے، جہاد کے میدان میں لڑے اور اللہ کے حکم سے عظیم ترین عزت حاصل کی۔

    ڈاکٹر خلیل الحیہ کا کہنا تھا کہ خوشی ہے کہ آپ کے عزم، جدو جہد، صبر، قربانیوں اور آپ کی بے شمار خدمات کا صلہ ملے گا، ہم اس لمحے میں عظیم شہداء کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں، جن میں بچے، خواتین، بزرگ، علماء، مجاہدین، ڈاکٹرز، صحافی، دفاعی اہلکار، حکومت اور پولیس کے ارکان، اور قبائلی افراد شامل ہیں ہم ان تمام افراد کو سلام پیش کرتے ہیں جو اس عظیم اور مقدس لڑائی میں شریک ہوئے اور ان کو خاص طور پر سلام پیش کرتے ہیں جو ان کے بعد عہد پر ثابت قدم رہے اور اس راہ کو جاری رکھا اور اس پرچم کو ان کے بعد اٹھایا۔

    غزہ میں حماس اور مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ نے کہا کہ ہم ان عظیم شہداء کے ساتھ کھڑے ہیں جن کے جسموں کے ٹکڑے اس معرکہ میں بکھر گئے، جیسے شہید اسماعیل ہنیہ ابو العبد، شہید یحییٰ السنوار ابو ابراہیم، شہید صالح العاروری ابو محمد، اور غزہ میں تحریک کی سیاسی و فوجی قیادت کے دیگر ارکان،ہم تمام مزاحمتی اور مجاہدانہ فصائل کے شہداء کے سامنے بھی احترام سے سر جھکاتے ہیں اور ان سے اور ہمارے عوام سے کہتے ہیں کہ ہمارے قائدین اور شہداء کی تجارت اللہ کے ساتھ ہے، یہ تجارت کبھی ضائع نہیں ہوگی ہم ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے یا تو فتح پائیں گے یا شہادت کی دولت سے نوازے جائیں گے، ان شاء اللہ۔

    خیبر پختونخوا میں امن وامان اور حکومت نام کی کوئی چیز نہیں، مولانا فضل الرحمٰن

    ڈاکٹر خلیل الحیہ کا کہنا تھا کہ طوفان الاقصیٰ کی جنگ ہمارے مسئلے اور ہمارے عوام کی مزاحمت کی تاریخ میں ایک اہم موڑ ثابت ہوئی ہے اور اس جنگ کے اثرات کا تسلسل جاری رہے گا، یہ جنگ ختم ہونے کے بعد بھی نہیں رکے گی7 اکتوبر کو جو معجزہ اور عسکری و سکیورٹی کامیابی عمل میں آئی تھی، جو کہ حماس کی القسام بریگیڈ کے منتخب دستوں نے انجام دی، وہ ہمارے عوام اور ہماری مزاحمت کے لیے ہمیشہ فخر کا باعث رہے گی، جو نسل در نسل منتقل ہوگی، یہ حملہ دشمن کے لیے کاری ضرب ثابت ہوا اور یہ قابض دشمن عنقریب ہمارے وطن، قدس اور ہمارے مقدس مقامات سے رخصت ہو جائے گا، ان شاء اللہ۔

    انہوں نے کہا کہ قابض افواج اور ان کے حامیوں کی طرف سے کی گئی وحشیانہ نسل کشی، نازی جنگی جرائم اور انسانیت دشمن اقدامات، جو 467 دنوں تک جاری رہے، ہمیشہ ہمارے عوام اور دنیا کی یادوں میں محفوظ رہیں گے یہ جدید دور کی سب سے بھیانک نسل کشی ہوگی، جس میں تکالیف، اذیتیں اور مصائب کے تمام رنگ شامل تھےنسل کشی کی جنگ کے وہ فصول ہمیشہ انسانیت کے ماتھے پر ایک دھبہ بن کر رہیں گے اور دنیا کے خاموش اور کمزور کردار کی علامت ہوں گے ہمارے عوام کبھی نہیں بھولیں گے کہ کس نے اس نسل کشی میں حصہ لیا، چاہے وہ سیاسی اور میڈیا سطح پر اس کے لیے پردہ ڈالنے والے ہوں، یا وہ جنہوں نے ہزاروں ٹن بموں اور بارودی مواد کو غزہ کے معصوم عوام پر گرا دیا ہم یہ بات یقین سے کہتے ہیں کہ یہ تمام مجرم اپنے کیے کی سزا پائیں گے، چاہے اس میں وقت لگے۔

    شدید دھند ، موٹرویز کئی مقامات سے ٹریفک کیلئے بند

    ڈاکٹر خلیل الحیہ کا کہنا تھا کہ یتیموں، بچوں، بیواؤں، تباہ حال گھروں کے مالکان، شہداء، زخمیوں اور غمزدہ افراد کے نام پر اور ہر اس فرد کی طرف سے جس کا خون بہا، یا جس کی آنکھوں سے آنسو بہے،ہم ان کی طرف سے یہ کہتے ہیں کہ ہم نہ بھولیں گے، نہ معاف کریں گے ، ہاں، ہم نہ بھولیں گے، نہ معاف کریں گے،قابض افواج نے حملے کے آغاز سے ہی کئی اہداف حاصل کرنے کی کوشش کی، کچھ کو کھلے عام بیان کیا اور کچھ کو چھپایا۔ انہوں نے صاف طور پر کہا کہ ان کا مقصد مزاحمت کا خاتمہ، حماس کا صفایا، اور اسیران کو فوجی طاقت سے بازیاب کرنا تھا، اور علاقے کی شکل بدلنا تھا-

    غزہ میں حماس اور مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ نے کہا کہ ان کا چھپا ہوا مقصد فلسطینی مسئلہ ختم کرنا، غزہ کو تباہ کرنا، غزہ کے عوام سے انتقام لینا، اور ہمارے عوام کی آزادی کی خواہش کو مٹا دینا تھا، ساتھ ہی 7 اکتوبر کی جرات مندانہ کامیابی کے اثرات کو ختم کرنا تھا تاہم، قابض افواج کو ہمارے عوام کی پختہ عزم اور اپنی سرزمین سے محبت کا سامنا کرنا پڑا اور وہ اپنے کسی بھی اعلان شدہ یا پوشیدہ مقصد کو حاصل کرنے میں ناکام رہے ہمارے عوام نے اپنی سرزمین پر ڈٹے رہ کر ثابت کر دیا کہ وہ نہ ہجرت کریں گے، نہ پیچھے ہٹیں گے اور انہوں نے مزاحمت کا مضبوط ترین حصار بن کر دشمن کا مقابلہ کیا۔

    اسرائیلی مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ کرنا چاہئے، حافظ نعیم الرحمان

    ڈاکٹر خلیل الحیہ نے کہا کہ ہمارے مجاہدین، خاص طور پر القسام بریگیڈ کے بہادر سپاہیوں نے، جنہوں نے اپنی جرات مندانہ کارروائیوں اور بے مثال بہادری سے دنیا کو حیران کن حد تک متاثر کیا، اس جنگ کے آخری لمحے تک محاذ پر ڈٹے رہے انہوں نے اپنے عزم و حوصلے سے دفاع و حملے کے دوران بے مثال کارنامے انجام دیے، جیسے بارودی سرنگیں نصب کرنا، گولہ بارود فائر کرنا، گھات لگانا، اور صفر نقطے سے لڑنا، اور دشمن پر اتنا اثر ڈالا کہ قابض افواج کے جنگی آلات جل کر تباہ ہوگئے۔

    انہوں نے کہا کہ ہم تمام مزاحمتی گروپس کے مجاہدین کو سلام پیش کرتے ہیں، خاص طور پر القدس بریگیڈ کے مجاہدین کو جو اسلامی جہاد کی صف اول کے ساتھی ہیں۔ انہوں نے آزادی کے لیے اپنی جانیں قربان کیں اور اپنے وطن و عوام کے دفاع میں عظیم مثال قائم کی ہم آج یہ ثابت کرتے ہیں کہ قابض افواج کبھی بھی ہمارے عوام اور مزاحمت کو شکست نہیں دے سکتی، اللہ کی مدد سے، جو اس نے ہمیں عطا کی ہے۔ قابض افواج نے ہمارے عوام کے خلاف جو تباہی، خونریزی اور قتل عام کیا، وہ صرف ایک بات کی تصدیق کرتا ہے کہ انہوں نے ہمارے اسیران کو بھی مزاحمت کے ساتھ جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے ذریعے واپس لیا۔

    منڈی بہاءالدین: شہریوں کے مسائل کے حل کے لیے کھلی کچہری کا انعقاد

    غزہ میں حماس کے سربراہ و مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر خلیل الحیہ کا کہنا تھا کہ ہم خاص طور پر لبنان کے عزیز بھائیوں کا ذکر کرتے ہیں، خاص طور پر حزب اللہ کے مجاہدین، جنہوں نے القدس کی آزادی کے لیے سیکڑوں شہداء دیئے، اور ان کی قیادت، جن کی سرپرستی میں یہ کارنامے انجام پائے، جن میں سید حسن نصر اللہ اور ان کے ساتھی شامل ہیں۔ہم اسلامی جماعتوں کے بھائیوں کی مدد کو بھی یاد کرتے ہیں اور لبنان کے عوام کی عظیم مزاحمت اور قربانیوں کا ذکر کرتے ہیں، جنہوں نے ہمارے فلسطینی عوام کے دفاع میں بڑی ثابت قدمی دکھائی اور انہیں بے شمار مشکلات میں معاونت فراہم کی انہوں نے قابض افواج کی زندگی کو عذاب اور بربادی میں بدل دیا، اور اس میں اسلامی اور عربی بھائی چارے کی حقیقی مثال پیش کی۔

    انہوں نے کہا کہ ہم یمن کے بھائیوں، انصار اللہ، کو بھی یاد کرتے ہیں، جو جغرافیائی فاصلے کو عبور کر کے جنگ کے میدان میں نئی حقیقتیں لائے اور قابض دشمن کے قلب پر میزائل اور ڈرون حملے کر کے اسے بحیرہ احمر میں محصور کر دیا۔ہم اسلامی جمہوریہ ایران کے بھائیوں کا بھی شکر ادا کرتے ہیں، جنہوں نے ہماری مزاحمت اور عوام کی مدد کی، جنگ میں حصہ لیا اور "وعدہ صادق” (1) اور (2) آپریشنز میں دشمن کے قلب کو نشانہ بنایا، نیز عراقی مزاحمت نے تمام رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے فلسطین اور اس کی مزاحمت کی مدد کی اور اس کی میزائلیں اور ڈرونز ہمارے مقبوضہ علاقوں تک پہنچ گئے۔

    کراچی: فائرنگ کے مختلف واقعات میں دو افراد زخمی

    ڈاکٹر خلیل الحیہ نے کہا کہ ہم ان تمام ممالک کو بھی یاد کرتے ہیں جو مختلف میدانوں میں ہمارے ساتھ کھڑے ہوئے: جیسے ترکیہ، جنوبی افریقا، الجزائر، روس، چین، ملیشیا، انڈونیشیا، بیلجیئم، اسپین، آئرلینڈ اور دنیا کے تمام باضمیر انسان، ہم اُن تمام افراد کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے ہماری حمایت قلم، تصویر، مظاہروں، بائیکاٹ کے ہتھیار اور سیاسی، سفارتی اور قانونی جدوجہد کے ذریعے کی ان تمام باضمیر انسانوں کا شکریہ جو خاموشی کی سازش کو توڑتے ہوئے قابض دشمن کی انسانیت سوز جرائم کو بے نقاب کرنے کے لیے کھڑے ہوئے۔

    انہوں نے کہا کہ آج ہم ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں، یہ تعمیر، دلجوئی اور غزہ کی تعمیر نو کا مرحلہ ہے۔ یہ یکجہتی اور ہم دردی کا مرحلہ ہے، جس کے ذریعے ہم دنیا کو بتائیں گے کہ ہم ایک آزاد قوم ہیں، جو تعمیر کرتی ہے، تخریب نہیں۔ ہم وہ سب کچھ دوبارہ تعمیر کریں گے جو قابض افواج نے برباد کیا ہے۔

    جنگ بندی معاہدہ:اسرائیل نے95 فلسطینی قیدیوں کی فہرست جاری کردی

    ڈاکٹر خلیل الحیہ کا کہنا تھا کہ اے اہلِ غزہ، جس طرح آپ جنگ میں مردانگی اور جرات کا مظاہرہ کر چکے ہیں، اسی طرح جنگ کے بعد بھی اپنے عظیم کردار کو جاری رکھیں گے۔ ہم ایک دوسرے پر رحم کریں گے اور متحد رہیں گے۔ بے شک، جو دکھ اور تکلیف ہم نے جھیلی ہے، وہ بہت بڑی ہے، لیکن اس قوم کی عظمت اور اس کے اخلاق اس سے بھی زیادہ عظیم ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ ہم اللہ کے فضل سے اور اپنے بھائیوں، دوستوں، اور ہمدردوں کی مدد سے غزہ کو دوبارہ تعمیر کرنے کے قابل ہیں ہم اپنے زخموں پر مرہم رکھیں گے، یتیموں کے سروں پر دستِ شفقت رکھیں گے، غم زدہ دلوں کے آنسو پونچھیں گے، اور ان لبوں پر مسکراہٹیں واپس لائیں گے جنہیں جنگ نے چھین لیا تھا۔ ہمارے بہادر قیدی بھی آزادی کے ایک روشن صبح کے منتظر ہیں، ان شاء اللہ۔

    چیمپئنز ٹرافی:بھارت نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کردیا

  • غزہ جنگ بندی معاہدے کے اہم نکات سامنے آ گئے

    غزہ جنگ بندی معاہدے کے اہم نکات سامنے آ گئے

    غزہ میں فریق قیدیوں اور یرغمالیوں کے تبادلے کے ایک معاہدے پر پہنچ گئے ہیں اور فریقین نے مستقل جنگ بندی کی امید پر معاہدے کیا ہے۔

    رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل اور حماس کے معاہدے میں 6 ہفتوں کی ابتدائی جنگ بندی کا خاکہ پیش کیا تھا، اس کے تحت وسطی غزہ سے اسرائیلی افواج کا بتدریج انخلا اور شمالی غزہ میں بے گھر فلسطینیوں کی واپسی شامل ہے۔معاہدے کے تحت حماس تمام خواتین (فوجی اور عام شہری) بچوں، اور 50 سال سے زیادہ عمر کے 33 اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کرے گی۔معاہدے کے تحت غزہ میں ہر روز انسانی امداد کے 600 ٹرکس کی اجازت دی جائے گی، ان میں سے 50 ایندھن لے کر جائیں گے اور 300 ٹرک شمال کے لیے مختص کیے جائیں گے۔

    معاہدے کے مطابق اسرائیل ہر یرغمال شہری کے بدلے 30 فلسطینی قیدیوں کو رہا کرے گا اور ہر اسرائیلی خاتون فوجی کی رہائی کے بدلے 50 فلسطینی قیدیوں کو رہا کرے گا۔حماس 6 ہفتوں کے دوران یرغمالیوں کو رہا کرے گی، اس دوران ہر ہفتے 3 یرغمالی رہا کیا جائیں گے اور بچ جانے والی یرغمالی اس مدت کے اختتام سے پہلے چھوڑ دیے جائیں گے۔تمام زندہ یرغمالیوں کو پہلے رہا کیا جائے گا اور اس کے بعد مردہ یرغمالیوں کی باقیات حوالے کردی جائیں گی۔معاہدے پر عمل درآمد کی ضمانت قطر، مصر اور امریکا دیں گے۔

    خیال رہے کہ گزشتہ روز امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا تھا کہ غزہ معاہدے کے حوالے سے گیند حماس کے کورٹ میں ہے۔واشنگٹن میں اٹلانٹک کونسل کے تھنک ٹینک سے خطاب کرتے ہوئے انٹونی بلنکن نے کہا تھا کہ ایران کی حمایت یافتہ عسکری تنظیم حزب اللہ سب کچھ گنوانے کے بعد ماضی کا قصہ بن چکی ہے۔انہوں نے کہا تھا کہ حزب اللہ کے خاتمے کے بعد ایران کی اہم سپلائی لائن تباہ ہوگئی، خطے میں امن، استحکام کے لیے ایران کو سبق سکھانے کی ضرورت ہے۔امریکی وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ غزہ میں جنگ بندی پر مہر لگانا حماس پر منحصر ہے جب کہ حتمی تجویز قطر میں مذاکرات کی میز پر ہے، گیند اب حماس کے کورٹ میں ہے۔

    کراچی کیلیے بجلی کی قیمت میں کمی کا امکان

    جنوبی افریقہ کو جھٹکا، فاسٹ بولر اینرچ نورکیا چیمپئنز ٹرافی سے باہر

    پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ

    حماس نے جنگ بندی معاہدے کی منظوری دیدی

    کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو پہلا جھٹکا، کوچ نےمعذرت کر لی

  • حماس  نے جنگ بندی معاہدے کی منظوری دیدی

    حماس نے جنگ بندی معاہدے کی منظوری دیدی

    حماس نے عرب میڈیا کو بتایا ہے کہ اس نے جنگ بندی کی تجویز کو منظور کر لیا ہے۔

    فلسطینی گروپ حماس نے عرب میڈیا کو بتایا کہ خلیل الحیا کی قیادت میں ایک وفد نے حماس کی مجوزہ جنگ بندی اور قیدیوں کے معاہدے کی منظوری قطر اور مصر کے ثالثوں کے حوالے کردی ہے۔دوسری جانب اسرائیلی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حکومت جمعرات کوغزہ جنگ بندی معاہدے پر ووٹنگ کر سکتی ہے۔اسرائیل کے وزیر خارجہ گیڈون سار نے کہا کہ وہ اپنا دورہ یورپ مختصر کر رہے ہیں تاکہ وہ غزہ کے قیدیوں کی رہائی اور جنگ بندی کے معاہدے پر سکیورٹی کابینہ اور حکومتی ووٹنگ میں حصہ لے سکیں۔ادھر فلسطینی سول ڈیفنس نے رہائشیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ کے ان علاقوں سے دور رہیں جہاں اسرائیلی فوج موجود ہے جب تک کہ ممکنہ جنگ بندی کی تفصیلات معلوم نہیں ہو جاتیں اور اس پر عمل درآمد نہیں ہو جاتا۔

    کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو پہلا جھٹکا، کوچ نےمعذرت کر لی

    پولیس لائنز قلعہ گجر سنگھ میں اینٹی ریپ ایکٹ آگاہی اور ٹریننگ سیمینار

    بیورو کریٹس وائس چانسلر ،سندھ کی سرکاری جامعات میں ہڑتال کا اعلان

    2024 میں بیرون ملک جانے والے پاکستانیوں میں نمایاں کمی

  • اسرائیل نے یحیٰی سنوار کی لاش حماس کے حوالے کرنے سے انکار کردیا

    اسرائیل نے یحیٰی سنوار کی لاش حماس کے حوالے کرنے سے انکار کردیا

    حماس نے جنگ بندی مسودہ قبول کرتے ہوئے جنگ بندی کے معاہدے کی باضابطہ منظوری دے دی-

    باغی ٹی وی: میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیل پہلے مرحلے میں 33 یرغمالیوں کے بدلے ایک ہزار فلسطینیوں کو رہا کرے گا، تاہم اسرائیل نے یحیٰی سنوار کی لاش حوالے کرنے سے انکار کردیا ہے قطری وزارت خارجہ کے مطابق غزہ میں 24 گھنٹوں میں جنگ بندی کی امید ہے۔

    اسرائیلی میڈیا کے مطابق حماس نے جنگ بندی معاہدے کی باضابطہ منظوری دیدی ہے، حماس کی منظوری کے بعد اب دستخط کا عمل شروع ہو جائے گا، جنگ بندی جمعرات کو ہونے کا امکان ہے۔

    اپوزیشن سیاست کررہی ہے، عوامی مسائل پرتوجہ نہیں دے رہی، ایازصادق

    قبل ازیں اسرائیل اور فلسطینی تنظیم حماس کے درمیان جاری مذاکرات میں شامل 2 عہدیداروں نے منگل کو امریکی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ حماس نے غزہ کی پٹی میں جنگ بندی اور درجنوں مغویوں کی رہائی کے معاہدے کے مسودے کو قبول کر لیا ہے۔

    مذاکرات کے ثالثوں میں شامل قطر نے کہا کہ اسرائیل اور فلسطینی عسکریت پسند گروپ معاہدے کو منظور کرنے کے اب تک کے قریب ترین مقام پر ہیں،معاہدہ فریقین کو 15 ماہ سے جاری تباہ کن جنگ کے خاتمے کے ایک قدم قریب لے آئے گا۔

    ارکان قومی وصوبائی اسمبلی اور سینٹرزکےگوشوارے جمع کرانےکی ڈیڈلائن ختم

    دوسری طرف ایک اسرائیلی اہلکار نے کہا کہ پیش رفت ہوچکی ہے، تاہم تفصیلات کو حتمی شکل دی جا رہی ہے تین مرحلوں پر مشتمل اس جنگ بندی اور یرغمالوں کی رہائی کے منصوبے کو حتمی منظوری کیلئے اسرائیلی کابینہ میں پیش کرنا ہوگا۔

    رپورٹ کے مطابق غزہ کے اندر تقریباً 100 یرغمالی اب بھی قید ہیں اور اسرائیلی فوج کا خیال ہے کہ کم از کم ایک تہائی ہلاک ہو چکے ہیں،حماس نے سات اکتوبر کو 250 کے قریب لوگوں کو یرغمال بنایا تھا جبکہ اسرائیلی حکام کے مطابق جنگجوؤں کے حملوں میں 1200 کے لگ بھگ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

    لاس اینجلس میں آتشزدگی کے دوران "بیٹ مین” کے گھر پر ایف بی آئی کا چھاپہ

    صدر جو بائیڈن نے پیر کو کہا تھا کہ ان کا تجویز کردہ معاہدہ حقیت بننے والا ہےجبکہ خطے کے حکام کا کہنا ہے کہ وہ 20 جنوری کو نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حلف برداری سے پہلے ایک معاہدہ کر سکتے ہیں،ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ کے ایلچی بھی ان مذاکرات میں شرکت کر رہے ہیں۔

  • ہم حماس کو غزہ میں دوبارہ اقتدار میں آنے سے روکیں گے،امریکا

    ہم حماس کو غزہ میں دوبارہ اقتدار میں آنے سے روکیں گے،امریکا

    واشنگٹن: امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نےکہا ہے کہ ہم ایک ایسی فلسطینی ریاست کے لیے راستہ بنانا چاہتے ہیں جو اسرائیل کے شانہ بشانہ رہے تاہم غزہ کے لوگوں کی جبری نقل مکانی کو بھی مسترد کرتے ہیں-

    باغی ٹی وی : جنگ بندی معاہدے کے تحت غزہ میں امریکی شہریت رکھنے والے یرغمالیوں کی محفوظ مقامات پر منتقلی کی تیاری شروع کر دی گئی، امریکی وزیر خارجہ انٹونئی بلنکن نے بتایا کہ حماس کی قید میں اسرائیلی یرغمالیوں میں، سب سے پہلے امریکیوں کی رہائی سے غزہ جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد کا آغاز ہوگا۔

    "العربیہ” کے مطابق حماس نے بھی جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد کی تیاری کے لیے یرغمالیوں کو گروپوں میں تقسیم کرنا شروع کر دیا ہے حماس نے معاہدے کے ثالثوں سے اسرائیل کی جانب سے معاہدے پر مکمل عمل درآمد کی ضمانت مانگی ہےیرغمالیوں کی وصولی کے لیے ثالثوں اور ریڈ کراس کے درمیان بھی بات چیت شروع ہوگئی۔

    بھارت دہشتگردی میں اپنے ملوث ہونے کی دستاویزی حقیقتوں کو تسلیم کرے،دفتر خارجہ

    امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا کہ بالآخر حماس نے معاہدے کو مکمل کرنے کی ضرورت کو سمجھ لیا ہے ہم ایک ایسی فلسطینی ریاست کے لیے راستہ بنانا چاہتے ہیں جو اسرائیل کے شانہ بشانہ رہے تاہم غزہ کے لوگوں کی جبری نقل مکانی کو بھی مسترد کرتے ہیں۔

    امریکی وزیر خارجہ نے فلسطینیوں پر غزہ میں ایک عبوری حکومت کی تشکیل میں تعاون کرنے پر زور دیتے ہوئے فلسطینی اتھارٹی سے غزہ میں حکومت کے قیام میں حصہ لینے کا مطالبہ بھی کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ "ہم حماس کو غزہ میں دوبارہ اقتدار میں آنے سے روکیں گے،انہوں نے نشاندہی کی کہ واشنگٹن "غزہ میں سیکورٹی فورسز کو تربیت دینے اور تیار کرنے کے لیے ایک اقدام” شروع کرے گا۔

    لاس اینجلس آگ بابا وانگا کی 2025 کے حوالے سے تباہ کن پیشگوئیوں کا آغاز ہے؟

    ادھر قطری وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ کے بعد غزہ کی تعمیر نو کے لیے ایک منصوبہ پیش کر رہے ہیں۔

    اس سے قبل امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا تھا کہ غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کا معاہدہ حقیقت بننے والا ہے پیر کے روز بائیڈن نے کہا کہ غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کا معاہدہ حقیقت بننے والا ہے۔ انہوں نے ایک تقریر میں مزید کہا کہ ثالث ایک معاہدے تک پہنچنے اور غزہ میں یرغمالیوں کی رہائی کے لیے تیزی سے کام کر رہے ہیں،اپنی طرف سے امریکی نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی کہ غزہ معاہدہ ہفتے کے آخر تک مکمل ہو سکتا ہے۔

    بھارتی آرمی چیف کی پریس کانفرنس پر پاک فوج کا ردعمل

  • حماس کے ساتھ جھڑپ میں  5 اسرائیلی فوجی ہلاک,10 زخمی

    حماس کے ساتھ جھڑپ میں 5 اسرائیلی فوجی ہلاک,10 زخمی

    غزہ کی شمالی پٹی میں حماس کے ساتھ جھڑپ کے دوران 5 اسرائیلی فوجی ہلاک ہوگئے، جس کی اسرائیل حکام نے بھی تصدیق کردی۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق غزہ کی شمالی پٹی میں 5 اسرائیلی فوجی ہلاک اور 10 زخمی ہوئے، جن میں سے 8 کی حالت تشویشناک قرار دی گئی ہےاسرائیلی فوج کے مطابق آج صبح غزہ کی شمالی پٹی میں ایک حملے میں 5 فوجی ہلاک اور 10 دیگر زخمی ہوگئے ہلاک ہونے والے فوجیوں میں ایک کیپٹن اور 4 سارجنٹ شامل ہیں، ہلاک ہونے والے تمام فوجی نحال بریگیڈ کے ریکی یونٹ میں تعینات تھے۔

    ہلاک ہونے والے اسرائیلی فوجیوں کی شناخت معلوت ترشیحہ سے 23 سالہ کیپٹن یائر یاکوو شوشان، 20 سالہ اسٹاف سارجنٹ یاہاو حدر، 20 سالہ اسٹاف سارجنٹ گائے کارمیل، گیڈرا سے 19 سالہ اسٹاف سارجنٹ یاؤو فیفر اور 20 سالہ اسٹاف سارجنٹ ایویل وائزمین کے ناموں سے ہوئی۔

    توشہ خانہ ٹو،عمران ،بشریٰ سے تحقیقات کیلیے جے آئی ٹی تشکیل

    اسرائیلی میڈیا کے مطابق پیر کی شام اسرائیلی فوج نے اپنی ابتدائی تحقیقات کے نتائج ان 5 فوجیوں کے اہل خانہ کے ساتھ شیئر کیےتحقیقات کے مطابق نہال بریگیڈ کے ریکنسنس یونٹ کے فوجیوں کی ٹیم پیر کی صبح بیت ہنون کے علاقے میں ایک مشن پر روانہ ہوئی تھی۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز بھی حماس اور اسرائیلی فوج کے درمیان ہونے والی جھڑپوں کے دوران 4 اسرائیلی فوجی مارے گئے تھے۔

    ریٹائرمنٹ کا فیصلہ فرنچائزز اور دنیا کی خودغرضی کی وجہ سے کیا، احسان اللہ خان

  • غزہ جنگ بندی معاہدہ :قطر نے حتمی مسودہ حماس اور اسرائیل کو بھجوادیا

    غزہ جنگ بندی معاہدہ :قطر نے حتمی مسودہ حماس اور اسرائیل کو بھجوادیا

    دوحہ: قطر نے مذاکرات میں بریک تھرو کے بعد غزہ جنگ بندی کے معاہدے کا حتمی مسودہ حماس اور اسرائیل کو بھجوادیا۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق قطر کے دارالحکومت دوحہ میں غزہ جنگ بندی اور اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے لیے جاری مذاکرات میں رات گئے مثبت پیش رفت ہوئی جس کے بعد قطر نے معاہدے کا فائنل ڈرافٹ اسرائیلی حکام اور حماس کے حوالے کردیا۔

    دوحہ میں جاری مذاکرات میں قطر کے وزیراعظم، اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد اور شن بیٹ کے سربراہان اور نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایلچی سمیت موجودہ امریکی حکومت کے نمائندے بھی شریک تھے۔

    دوسری جانب اسرائیلی حکام نے نیوز ایجنسی کی رپورٹ پر جاری بیان میں جنگ بندی معاہدے سے متعلق حتمی مسودہ ملنے کی نفی کردی،اسرائیلی حکام نے کہا کہ انہیں اب تک مسودہ نہیں ملا تاہم معاہدے کا خاکہ واضح ہے اور اگر حماس جلد جواب دیتی ہے تو باقی چیزیں بھی جلد فائنل ہوجائیں گی۔

    اس حوالے سے اسرائیلی وزیر خارجہ نے اپنے تازہ بیان میں کہا کہ جنگ بندی سے متعلق بات چیت میں پیش رفت ہوئی ہےجو پہلے سے بہتر ہےاور مجھے امید ہے جلد ہی ہم کچھ چیزیں ہوتے دیکھیں گے۔

    اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈون ساعر نے تصدیق کی کہ قیدیوں کے معاہدے میں واقعی پیش رفت ہوئی ہےانہوں نے اپنے برطانوی ہم منصب ڈیوڈ لیمی سے بات کرتے ہوئے مزید کہا کہ اسرائیل ایک معاہدے تک پہنچنے میں دلچسپی رکھتا ہے اور اسے حاصل کرنے کے لیے کام کر رہا ہے۔ جلد ہی معلوم ہو جائے گا کہ آیا حماس بھی اس میں دلچسپی رکھتی ہے یا نہیں؟ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ رہائی کے معاہدے کو محفوظ بنانے کے لیے اب "گہری” کوششیں جاری ہیں۔

    برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی نے القدس میں اسرائیلی وزیر خارجہ سے ملاقات کی فریقین نے ایران، شام اور لبنان سمیت متعدد علاقائی مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔

    اس کے برعکس حماس نے آج پیر کو اعلان کیا کہ وہ جلد ہی قیدیوں کی آزادی کی تاریخ طے کرے گی۔

    دوسری جانب اسرائیلی وزیر خزانہ بزلیل سموٹرچ نے اس پیش رفت پر تنقید کی، جب یہ خبریں گردش کر رہی تھیں کہ قطر میں غزہ میں لڑائی روکنے اور قیدیوں کی واپسی کے لیے کام ہو رہا ہے،اسرائیلی وزیر نے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے اسے "ہتھیار ڈالنے” کا سودا سمجھا جانا چاہیے،جس معاہدے پر کام کیا جا رہا ہے وہ اسرائیل کی قومی سلامتی کے لیے تباہی ہے۔