Baaghi TV

Tag: حماس

  • حماس نے مزید 3 اسرائیلی قیدیوں کو رہا کردیا

    حماس نے مزید 3 اسرائیلی قیدیوں کو رہا کردیا

    فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے مزید 3 اسرائیلی قیدیوں کو رہا کردیا۔

    باغی ٹی وی: عرب میڈیا کے مطابق حماس نے جنگ بندی معاہدے کے تحت یرغمالیوں کی رہائی کے پانچویں مرحلے میں 3 اسرا ئیلی قیدیوں کو رہا کیا جن کی رہائی دیر البلاح شہر سے کی گئی ہے حماس کے عسکری ونگ کے ترجمان ابو عبیدہ نے اپنے ٹیلی گرام پیج پر بتایا کہ آج 56 سالہ اوہاد بن ایمی، 52 سالہ ایلی شرابی اور 34 سالہ اور لیو ی کو رہا کیا جنہیں دیر البلاح میں بنائے گئے اسٹیج پر لایا گیا جس کے بعد انہیں ریڈ کراس کی کمیٹی کے سپرد کیا گیا۔

    رپورٹس کے مطابق حماس کی جانب سے اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے بعد اب پانچویں مرحلے میں 183 فلسطینی قیدیوں کی رہائی متو قع ہے حماس نے اعلان کیا کہ اسرائیل کل 183 فلسطینی قیدیوں کو رہا کرے گا جن میں سے 18 کو عمر قید، 54 قیدیوں کو بڑی سزائیں سنا ئی گئی ہیں، ان میں غزہ کی پٹی کے 111 ایسے قیدی بھی شامل ہیں جنہیں 7 اکتوبر 2023 کو حملے کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔

    چاہت فتح علی خان ایک بار پھر تنقید کی زد میں آگئے

    واضح رہے کہ حماس نے جنگ بندی معاہدے کے تحت پہلے مرحلے میں 3 اسرائیلی خواتین کو رہا کیا تھا جس کے بدلے میں اسرائیل سے 90 فلسطینیوں کو رہا کیا گیا تھا دوسرے مرحلے میں حماس نے 4 اسرائیلی خواتین کو جب کہ اسرائیلی نے 120 فلسطینیوں کو رہا کیا تھا، تیسرے مرحلے میں حماس نے 5 تھائی خواتین سمیت 8 یرغمالیوں کو رہا کیا گیا اورچوتھے مرحلے میں یرغمالیوں کی رہائی کے معاہدے کے تحت حماس نے 2 اسرائیلی یرغمالیوں کو خان یونس میں ریڈ کراس کے سپرد کیا جس کے بعد اسرائیل سے 183 فلسطینی رہا کیے گئے۔

    امریکی اداکارہ کا شادی کے 16 سال بعد طلاق کیلئے عدالت سے رجوع

    تین مرحلوں پر مشتمل جنگ بندی کے معاہدے میں لڑائی کے خاتمے اور آبادی والے علاقوں سے اسرائیل کا انخلا طے کیا گیا تھا۔ پہلا مرحلہ چھ ہفتوں تک جاری ہے۔ اس میں غزہ سے 33 یرغمالیوں کی رہائی کے بدلے تقریباً 1,900 فلسطینی قیدیوں کو رہا کرنے کی بات کی گئی ہے۔

    امریکی اداکارہ کا شادی کے 16 سال بعد طلاق کیلئے عدالت سے رجوع

  • حماس نے آج رہا کیے جانے والے 3 اسرائیلی یرغمالیوں کے نام جاری کر دئیے

    حماس نے آج رہا کیے جانے والے 3 اسرائیلی یرغمالیوں کے نام جاری کر دئیے

    حماس نے اسرائیل پر غزہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیوں کا الزام لگاتے ہوئے آج ہفتے کورہا ہونے والے اسرائیلی یرغمالیوں کے نام جاری کرنے میں تاخیر کی، تاہم حماس نے 3 اسرائیلی قیدیوں کے نام جاری کر دیئے-

    باغی ٹی وی: غزہ کے سرکاری میڈیا آفس کے سربراہ سلامہ معروف کے مطابق حماس ہلاک ہونیوالے اسرائیلی یرغمالیوں کی باقیات کے حوالے کرنے کے اپنے وعدے کو پورا نہیں کر سکے گی کیونکہ وہ غزہ میں ملبے تلے دبی فلسطینیوں کی 12 ہزار لاشوں میں شامل ہیں اور اسرائیل ملبے ہٹانے والی بھاری مشینری کو غزہ پٹی میں داخل ہونے سے روک رہا ہے۔

    اسرائیل نے گزشتہ 20 روز میں ضرورت کے مطابق 12 ہزار کی بجائے 8500 امدادی ٹرک غزہ میں داخل ہونے دئیے، اقوام متحدہ نے عالمی قوتوں سے غزہ میں امداد کی سپلائی بڑھانے کا مطالبہ کردیا ہے۔

    گھی کی قیمتیں کم نا ہو سکیں ،شہری پریشان،نوٹس کی اپیل

    دوسر ی جانب حماس کی جانب سے آج رہا کیے جانے والے 3 اسرائیلی یرغمالیوں کے نام جاری کردیئے گئے ہیں۔

    خبرایجنسی کے مطابق اسرائیل آج 3 یرغمالیوں کے بدلے 183 فلسطینی قیدیوں کو رہا کرے گا،3 اسرائیلی قیدی ایلی شارابی، لیوی اور اوہد بن آمی کے نام اسرائیل کو بھجوا دیئے گئے،رپورٹ میں بتایا گیا کہ 15 اسرائیلی اور 5 تھائی باشندوں کے بدلے اب تک 300 فلسطینیوں کو رہا کیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ اسرائیل حماس کے درمیان جنگ بندی معاہدہ 19 جنوری سے نافذ ہے اور مرحلہ وار قیدیوں کا تبادلہ کیا جا رہا ہے-

    ٹک ٹاک کا پاکستان کری ایٹر ایوارڈز 2024 کی نامزدگیوں کا اعلان

  • پاکستان اسرائیل سے رہا ہونیوالے فلسطینی قیدیوں کی میزبانی کر ے گا،حماس

    پاکستان اسرائیل سے رہا ہونیوالے فلسطینی قیدیوں کی میزبانی کر ے گا،حماس

    فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کا کہنا ہے کہ پاکستان نے اسرائیلی جیلوں سے رہا ہونے والے 15 فلسطینی قیدیوں کی میزبانی پر آمادگی ظاہر کی ہے۔

    باغی ٹی وی:عرب میڈیا نے حماس ترجمان خالد قدومی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ جنگ بندی معاہدے کے تحت اسرائیل نے جن فلسطینیوں کو رہا کیا ہے ان میں سے کچھ مصر پہنچے ہیں مصر کے علاوہ ترکیہ، الجزائر، ملائیشیا، پاکستان اور انڈونیشیا نے بھی رہا ہونے والے قیدیوں کی میزبانی پر آمادگی ظاہر کی تھی۔

    کراچی رینج کے 649 ہیڈ کانسٹیبلز کی اے ایس آئی کے عہدے پر ترقی

    عرب میڈیا کے مطابق حماس ترجمان نے کہا کہ انہیں باضابطہ طور پر تصدیق کردی گئی ہے کہ پاکستان 15 فلسطینی قیدیوں کی میزبانی کر ے گا، اس بات پر ہم پاکستانی حکومت، پاکستانی عوام اور پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کا شکریہ ادا کرتے ہیں یہ اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ پاکستان صرف بھائی نہیں بلکہ بڑا بھائی ہے جس کا ہمارے ساتھ روحانی تعلق ہے جو ہمیشہ القدس کے ساتھ کھڑا ہوا ہے۔

    بیرون ملک مقیم پاکستانی ملک کے سفیر ہیں،وزیراعظم

    واضح رہے کہ پاکستان نے رہا ہونے والے فلسطینی قیدیوں کی میزبانی کی اب تک سرکاری سطح پر تصدیق نہیں کی ہے۔

  • اسرائیل سے تاخیر کے بعد 110فلسطینی قیدی رہا

    اسرائیل سے تاخیر کے بعد 110فلسطینی قیدی رہا

    حماس اور اسرائیل کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے تحت اسرائیل نے تاخیر کے بعد 110 فلسطینی شہریوں کو رہا کر دیے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل حماس نے 2 خواتین سمیت مزید 3 اسرائیلیوں اور 5 تھائی شہریوں کو خان یونس میں ریڈ کراس کے حوالے کیا تھا۔ اسرائیلی حکومت کی جانب سے تاخیر کے بعد 110 فلسطینی قیدیوں کو رہا کر دیا گیا، یہ پیشرفت اسرائیلی فوج کی طرف سے غزہ کی پٹی میں قید سے 3 اسرائیلیوں اور 5 تھائی شہریوں کی رہائی کی تصدیق کے بعد سامنے آئی۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ نے اپنے صحافی کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ اس نے مقبوضہ مغربی کنارے کی اوفر جیل سے قیدیوں کو لے جانے والی 2 بسوں کو دیکھا، جبکہ صہیونی ریاست کا کہنا تھا کہ اسے مستقبل کے اسرائیلی قیدیوں کی ’محفوظ رہائی‘ کے حوالے سے ثالثوں کی طرف سے یقین دہانی مل گئی ہے۔قبل ازیں، اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے کہا تھا کہ قیدیوں کی رہائی اس وقت تک معطل رہے گی جب تک انہیں یقین دہانیاں نہیں مل جاتیں۔ادھر، اسرائیل نے دھمکی آمیز پیغامات دیے کہ فلسطینی قیدیوں کی رہائی کا جشن نہ منایاجائے۔فلسطینی صحافیوں کی جانب سے انسٹاگرام پر پوسٹ کی گئی ویڈیو میں اوفر جیل سے رہائی پانے والے قیدیوں سے بھری ریڈ کراس بس کی مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر رام اللہ میں حامیوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔

    واضح رہے کہ اس سے چند گھنٹے قبل حماس نے 2 خواتین سمیت مزید 3 اسرائیلی اور 5 تھائی شہریوں کو خان یونس میں ریڈ کراس کے حوالے کردیا تھا۔ صہیونی فوج نے حماس کی جانب سے 8 قیدیوں کو ریڈ کراس کے حوالے کرنے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ’3 اسرائیلی شہریوں میں ایک مرد اور 2 خواتین ہیں۔ دوسری طرف اسرائیلی پولیس نے فلسطینی قیدیوں کی رہائی کے بعد جشن منانے پر مقبوضہ مشرقی یروشلم کے ایک محلے میں 12 فلسطینیوں کو گرفتار کر لیا۔ایک بیان میں پولیس کا کہنا تھا کہ کہ گرفتار کیے گئے افراد ’حماس کے حامی تھے، جنہوں نے رہائی پانے والے قیدی کی حمایت کی۔

    سرفراز احمد پھر پاکستان کی نمائندگی کیلیے تیار

    محبت میں پاکستان آئی امریکی خاتون نامعلوم مقام پرروانہ

    القسام بریگیڈ کے سربراہ محمد الضیف کی شہادت کی تصدیق

    پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا امکان

  • القسام بریگیڈ کے سربراہ محمد الضیف کی شہادت کی تصدیق

    القسام بریگیڈ کے سربراہ محمد الضیف کی شہادت کی تصدیق

    فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے اپنے مسلح ونگ القسام بریگیڈ کے سربراہ محمد الضیف کی شہادت کی تصدیق کردی۔

    غیر ملکی خبرساں ادارے ے مطابق حماس کے مسلح ونگ القسام بریگیڈ کی جانب سے تصدیق کی گئی ہے کہ غزہ میں اسرائیل کی جانب سے 15 ماہ تک جاری جارحیت کے دوران ان کے سربراہ محمد الضیف شہید ہوگئے ہیں۔القسام بریگیڈ کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ محمد الضیف گذشتہ برس غزہ میں ایک فضائی حملے میں شہید ہوگئے تھے اور ان کے ہمراہ ڈپٹی ملٹری کمانڈر مروان عیسیٰ بھی شہید ہوئے تھے۔یاد رہے کہ گزشتہ سال اگست میں اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ کے علاقے خان یونس میں ایک فضائی حملے میں محمد الضیف کی موت کا دعویٰ کیا گیا تھا تاہم حماس کی جانب سے اپنے عسکری ونگ کے سربراہ کی شہادت کی تصدیق نہیں کی گئی تھی۔

    واضح رہے کہ صہیونی ریاست نے گزشتہ سال مارچ میں یہ اعلان کیا تھا کہ محمد الضیف اور مروان عیسیٰ 7 اکتوبر 2023 کو جنوبی اسرائیل پر حملے کے ماسٹر مائنڈ تھے۔محمد الضیف گزشتہ دو دہائیوں سے اسرائیل کو مطلوب افراد کی فہرست میں شامل تھے اور اسرائیل انہیں ’دی گھوسٹ بھی کہتے تھے کیوں کہ ان کی زیادہ تر زندگی گمنامی میں ہی گزری اور ان کا فلسطینی گروپ میں ایک طویل اور خفیہ کیریئر تھا۔اس سے قبل، عوامی سطح پر ان کا چہرہ بھی کبھی نہیں دیکھا گیا تھا، حماس نے آج پہلی بار ان کی تصویر جاری کی ہے۔القسام بریگیڈ کے ترجمان ابو عبیدہ کی جانب سے جاری بیان میں جنرل ملٹری کونسل کے دیگر 3 سینئر ارکان کی شہادت کا بھی اعلان کیا۔

    خدیجہ شاہ کو کسی بھی مقدمے میں گرفتار نہ کرنے کا حکم

    پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا امکان

    بچت سکیموں پر منافع کی شرح کم ہو گئی

    ڈی جی آئی ایس پی آر کی کراچی کے طلبا و طالبات کے ساتھ خصوصی نشست

    حوالہ ہنڈی ،غیر قانونی کرنسی ایکسچینج کا نیٹ ورک بے نقاب؛ 3 ملزمان گرفتار

  • حماس نے مزید ایک اور اسرائیلی خاتون فوجی کو رہا کردیا

    حماس نے مزید ایک اور اسرائیلی خاتون فوجی کو رہا کردیا

    غزہ: حماس نے مزید ایک اور اسرائیلی خاتون فوجی کو رہا کردیا۔

    باغی ٹی وی: عرب میڈیا کے مطابق فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے جنگ بندی معاہدے کے تحت مزید ایک اسرائیلی یرغمالی خاتون کو رہا کردیا اسرائیلی خاتون فوجی اگم برگر کو جبالیہ میں حما س کے شہید رہنما یحییٰ سنوار کے گھر کے قریب سے رہا کیا گیا اور خاتون کو فلاحی تنظیم ریڈکراس کے حوالے کیا گیا جو انہیں اسرائیلی حکام تک لے جائیں گے۔

    غزہ جنگ بندی معاہدےکے تحت آج 110فلسطینی قیدیوں کی رہائی کے بدلےمیں 8 یرغمالیوں کو رہا کیا جانا ہےغزہ کی پٹی میں سات اکتوبر 2023 سے یرغمال افراد میں 3 اسرائیلی اور 5 تھائی شہریوں کی آزادی متوقع ہے اس کے مقابل اسرائیلی جیلوں میں قید 110 فلسطینی رہا کیے جائیں گے۔

    واشنگٹن طیارہ حادثہ،سیاہ رات،شدید سردی،پانی میں برف،ایک ایک انچ کی تلاشی

    اسرائیلی حکام کے مطابق جن تین اسرائیلیوں کو رہا کیا جائے گا ان میں اربیل یہود (29 سالہ) ، اگام بیرگر (20 سالہ) اور گادی موزیز (80 سالہ) شامل ہیں۔

    ادھر یہ سوالات بھی جنم لے رہے ہیں کہ آیا فتح موومنٹ سے تعلق رکھنے والے فسلطینی رہنما مروان البرغوثی اور "عوامی محاذ برائے آزادی فلسطین” کے سربراہ احمد سعدات کے اس دفعہ کی کھیپ میں یا معاہدے کے دوسرے مرحلے میں شامل ہونے کا امکان ہے۔

    بھارتی کرکٹر محمد سراج اور اداکارہ ماہرہ شرما کی دوستی کے چرچے

    ایک اسرائیلی ذریعے نے بتایا تھا کہ حماس تنظٰیم نے البرغوثی اور سعدات کے گھرانوں سے دوسرے مرحلے میں ان افراد کی رہائی کا وعدہ کیا ہے یہ بات اسرائیلی نشریاتی ادارے نے بتائی حماس تنظیم ایک تزویراتی منصوبہ تیار کر رہی ہے جس کا مقصد صدر محمود عباس کے اپنے منصب سے رخصت ہونے کے بعد مغربی کنارے میں فلسطینی اتھارٹی پر کنٹرول حاصل کرنا ہے۔

    البتہ اسرائیلی ذریعے نے البرغوثی کی رہائی کو خارج از امکان قرار دیا ذریعے نے واضح کیا کہ اگر حماس تنظٰیم البرغوثی کی رہائی کو یقینی بناتی ہے تو فتح موومنٹ کے رہنما اپنی آزادی کے حوالے سے حماس کے قرض دار رہیں گے۔

    بھارتی کرکٹر محمد سراج اور اداکارہ ماہرہ شرما کی دوستی کے چرچے

    واضح رہے کہ اسرائیل نے سعدات اور البرغوثی کو 2002 میں گرفتار کیا تھا جب دوسری انتفاضہ تحریک اپنے زوروں پر تھی احمد سعدات (72 سالہ) کو 2008 میں 30 برس قید کی سزا سنائی گئی تھی ان پر 2001 میں اسرائیل کے وزیر سیاحت رعبعام زئیفی کو ہلاک کرنے کی منصوبہ بندی کا الزام تھا مروان البرغوثی (64 سالہ) کو 2004 میں عمر قید کی پانچ سزائیں سنائی گئی تھیں ان پر دوسری انتفا ضہ تحریک کے دوران میں تین حملوں کی منصوبہ بندی کا الزام تھا ان حملوں میں پانچ اسرائیلی ہلاک ہو گئے تھے۔

    یاد رہے کہ ابھی تک غزہ معاہدے کے تحت سات اسرائیلیوں اور ان کے مقابل 290 فلسطینیوں کی آزادی عمل میں آ چکی ہے-

    سدھو نے 5 ماہ سے بھی کم عرصے میں 33 کلو وزن کیسےکم کیا؟

  • ٹرمپ انتظامیہ حماس کے ہمدردوں کے پیچے پڑ گئی،ویزے منسوخ

    ٹرمپ انتظامیہ حماس کے ہمدردوں کے پیچے پڑ گئی،ویزے منسوخ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حماس سے ہمدردی رکھنے والے غیر ملکی طلبہ کے ویزے منسوخ کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سام دشمنی کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کریں گے، جس کے تحت فلسطینیوں کے حامی مظاہروں میں حصہ لینے والے غیر ملکی کالج کے طلبہ اور دیگر غیر ملکیوں کو ملک بدر کیا جائے گا۔ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ تمام غیر ملکی جنہوں نے حماس کی حمایت میں جاری مظاہروں میں شرکت کی تھی، ہم آپ کو ڈھونڈیں گے اور ملک بدر کریں گے۔اس آرڈر میں کہا گیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ محکمہ انصاف کو حکم دیں کہ امریکی یہودیوں کے خلاف دہشت گردانہ دھمکی، توڑ پھوڑ اور تشدد پر جارحانہ بنیادوں پر کارروائی کریں۔ٹرمپ نے کہا کہ میں کالج کیمپس میں حماس کے تمام ہمدردوں کے اسٹوڈنٹ ویزے بھی فوری طور پر منسوخ کر دوں گا، جو بنیاد پرستی سے متاثر ہوئے۔

    واضح رہے کہ امریکا کی متعدد یونیورسٹیز میں فلسیطن کی حمایت میں طلبہ نے احتجاج کیا تھا جبکہ جامعات کی انتظامیہ اور فلسطین کی حمایت میں احتجاج کرنے والے طلبہ کے درمیان تناؤ کی فضا بھی رہی تھی، اس کے علاوہ مظاہرین کو گرفتار بھی کیا گیا تھا۔احتجاج کولمبیا یونیورسٹی سے شروع ہوئے تھے، جہاں بڑی تعداد میں مظاہرین نے جامعات کے میدانوں میں ’غزہ یکجہتی کیمپ‘ قائم کیے تھے اور یہ سلسلہ یالے، ایم آئی ٹی اور دیگر میں پھیل گیا تھا۔یاد رہے کہ غزہ میں 15 ماہ سے جاری لڑائی کے بعد 16 جنوری کو اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی، یرغمالیوں اور قیدیوں کے تبادلے کا معاہدہ طے پا گیا تھا۔

    اسرائیل اورحماس کے درمیان 6 ہفتوں پر محیط جنگ بندی کے ابتدائی مرحلے میں وسطی غزہ سے اسرائیلی افواج کا بتدریج انخلا اور بے گھر فلسطینیوں کی شمالی غزہ میں واپسی شامل ہے۔اس معاہدے کے تحت غزہ میں جنگ بندی کے بعد روزانہ 600 ٹرک انسانی امداد کی اجازت دی جائے گی، 50 ٹرک ایندھن لے کر جائیں گے جبکہ 300 ٹرک شمال کی جانب مختص کیے جائیں گے، جہاں شہریوں کے لیے حالات خاص طور پر سخت ہیں۔

    ملک میں گھی اور کوکنگ آئل کی قلت کا خدشہ

    دبئی دنیا کا سب سے صاف ترین شہر قرار

    صارم قتل کیس: مجرم اب تک کیوں نہیں پکڑا جاسکا ؟ اب تک کی پیش رفت

    سول اسپتال کراچی بجلی سے محروم، متعدد آپریشن ملتوی

    سندھ ہائیکورٹ کے12 نئے ایڈیشنل ججز نےعہدے کا حلف اٹھا لیا

  • حافظ نعیم کی حماس کے سربراہ  سے ملاقات

    حافظ نعیم کی حماس کے سربراہ سے ملاقات

    دوحہ: جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے حماس کے سربراہ احمد درویش اور خالد مشعل سے ملاقات کی –

    باغی ٹی وی : جماعت اسلامی پاکستان کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں حماس کی قیادت سے ملاقات کی حافظ نعیم الرحمان نے دوحہ میں حماس کے سربراہ حسن درویش اورسابق سربراہ خالد مشعل سے ملاقات کی اور کہا کہ 15 ماہ ثابت قدمی سے مزاحمت پر اہل غزہ اور حماس کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ جنگ بندی معاہدہ حماس کی فتح ہے، اسرائیل جنگی اہداف کے حصول میں ناکام رہا اور پاکستان کے عوام غزہ کی تعمیرنو میں اپنا فرض ادا کریں گے،ہم اس اہم موڑ پر اہل پاکستان کی جانب سے اظہار یک جہتی کے لیے حاضر ہوئے ہیں۔

    پی ایف یوجےکی پیکا ایکٹ 2016 میں ترامیم کی مذمت

    اس موقع پر حماس کے سربراہ حسن درویش نے کہا کہ اہل فلسطین کی جانب سے پاکستانیوں اور جماعت اسلامی کا شکریہ ادا کرتے ہیں، پاکستان نے امت کے مسائل کے حل کے لیے قائدانہ کردارادا کیا ہے بحالی اور تعمیر نو میں پاکستان کی حکومت اور عوام سے تعاون کی امید ر کھتے ہیں۔

    دوسری جانب غزہ میں جنگ بندی کے بعد تباہ شدہ علاقوں میں عمارتوں کے ملبے سے فلسطینیوں کی لاشیں ملنے کا سلسلہ جاری ہے جہاں سے 3 دنوں میں اب تک 120 لاشیں اسپتال منتقل کی جاچکی ہیں۔

    2025 کے پہلے پولیو وائرس کیس کی تصدیق

    بین الاقوامی میڈیا کے مطابق گزشتہ روز غزہ پٹی کے اسپتالوں میں 97 فلسطینیوں کی لاشیں لائی گئیں جن میں سے 68 لاشیں تباہ شدہ عمارتوں کے ملبوں اور میدانوں سے اٹھائی گئی تھیں، تباہ شدہ عمارتوں کے ملبوں اور میدانوں سے اٹھائی گئی لاشوں کی تعداد اب 120 تک پہنچ گئی ہے جبکہ اسپتالوں میں 56 فلسطینیوں کو زخمی حالت میں بھی لایا گیا تھا۔

    فلسطین سول ڈیفنس کے مطابق اکتوبر 2023 سے اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں غزہ پٹی میں 47 ہزار107فلسطینی شہید اور زخمیوں کی تعداد ایک لاکھ11ہزار سے تجاوز کرگئی ہے۔

    خواجہ آصف نے جوڈیشل کمیشن سے متعلق بڑی پیشکش کردی

  • حماس کی قید سے رہا اسرائیلی قیدیوں کے ابتدائی بیانات سامنے آگئے

    حماس کی قید سے رہا اسرائیلی قیدیوں کے ابتدائی بیانات سامنے آگئے

    تل ابیب: غزہ میں جنگ بندی کے پہلے روز معاہدے کے تحت حماس کی قید سے رہا ہونے والی اسرائیلی خواتین کے ابتدائی بیانات سامنے آگئے۔

    باغی ٹی وی: فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کی جانب سے اتوار کے روز جنگ بندی معاہدے کے تحت 3 اسرائیلی خواتین کو رہا گیا تھا جن کے بدلے اسرائیل نے 90 فلسطینی خواتین اور بچوں کو رہا کیا تھاحماس کی جانب سے رہا کی جانے والی خواتین میں 24 سالہ رومی گونین، 28 سالہ ایملی دماری اور 31 سالہ ڈورون اسٹائن بریچر شامل تھیں۔

    اسرائیلی میڈیا کی جانب سے اب ان خواتین قیدیوں کے ابتدائی بیانات کے کچھ حصے جاری کیے گئے ہیں اسرائیلی میڈیا کے مطابق رہا ہونے والی قیدیوں کے بیانات کے وہ حصے نشر کیے گئے ہیں جن کو نشر کرنے کی حکومت کی جانب سے اجازت دی گئی ہے۔

    ترکیہ کے ایک ہوٹل میں خوفناک آتشزدگی،10 افراد ہلاک

    اسرائیلی میڈیا کے مطابق رہا ہونے والی خواتین نے بتایا کہ انہیں رہا کیے جانے سے چند گھنٹے قبل ہی رہائی کے بارے میں بتایا گیا تھا انہیں قید میں اکیلے نہیں رکھا گیا اور انہیں غزہ میں مختلف مقامات پر منتقل کیا جاتا رہا تھاانہیں 15 ماہ کی قید کے دوران زیادہ عرصہ زیر زمین ہی رکھا گیا، ان کا کہنا تھا قید کے دوران انہیں ضرورت پڑنے پر ادویات بھی فراہم کی گئیں انہیں وقتاً فوقتاً ٹی وی اور ریڈیو کی خبروں تک بھی رسائی دی گئی اور انہوں نے اپنی رہائی کے لیے ہونے والے مظاہروں کی خبریں بھی دیکھیں۔

    مراکش کشتی حادثہ : انٹر پول نے 15 انسانی سمگلرز کیخلاف ریڈ نوٹسز جاری کردیئے

    واضح رہے کہ غزہ میں 19 جنوری سے جنگ بندی کے پہلے مرحلے کا آغاز ہوگیا ہے جس میں حماس کی جانب سے مجموعی طور پر 30 اسرائیلی قیدیوں کو رہا کیا جائے گا جبکہ اسرائیل تقریباً 2 ہزار فلسطینیوں کو رہا کرے گا۔

  • جنگ بندی،اسرائیل نے90 فلسطینی قیدی رہا کر دیئے

    جنگ بندی،اسرائیل نے90 فلسطینی قیدی رہا کر دیئے

    غزہ میں 15 ماہ سے جاری اسرائیلی جارحیت کے بعد اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی معاہدہ طے پایا ہے، جس کے بعد دونوں طرف کی میڈیا رپورٹس نے مختلف پہلوؤں پر تبصرہ کیا ہے۔

    اسرائیلی میڈیا میں اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ اسرائیلی فوج نے حماس کی 20 بٹالینز کو مکمل طور پر ختم کرنے کا دعویٰ کیا، لیکن یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یہ بٹالینز کس حد تک تباہ ہوئیں۔ دوسری جانب فلسطینی اور حماس کے میڈیا نے جنگ بندی کو حماس کی فتح کے طور پر پیش کیا ہے اور غزہ میں حماس کے کنٹرول کے قیام کی اطلاعات بھی سامنے آ رہی ہیں۔حماس کے عسکری ونگ "القسام بریگیڈ” کے ترجمان ابو عبیدہ نے جنگ بندی معاہدے پر اپنے موقف کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حماس اس معاہدے کا احترام کرنے کے لیے پُرعزم ہے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس معاہدے کی کامیابی کا انحصار اسرائیل کے عمل پر ہے۔ ابو عبیدہ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ بھی معاہدے کا احترام کرے، کیونکہ اسرائیل کی طرف سے کسی بھی قسم کی خلاف ورزی پورے معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ غزہ پر اسرائیلی قبضہ تمام برائیوں کی جڑ ہے اور حماس اس قبضے کو ختم کرنے کے لیے اپنی تمام تر طاقت کے ساتھ مزاحمت جاری رکھے گی۔ ان کے مطابق، غزہ پر اسرائیل کا قبضہ ہی فلسطینی عوام کی مشکلات کی وجہ ہے، اور حماس اس قبضے کے خاتمے کے لیے مسلسل جدوجہد کرے گی۔

    قیدیوں کا تبادلہ: حماس اور اسرائیل کے اقدامات
    جنگ بندی کے تحت دونوں فریقوں نے قیدیوں کا تبادلہ کیا۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، حماس نے 3 اسرائیلی خواتین قیدیوں کو ریڈ کراس کے حوالے کیا، جنہیں اسرائیلی فوج کے خصوصی یونٹ تک پہنچایا گیا اور پھر اسرائیلی فوجی اسپتال میں منتقل کیا گیا۔ اس کے بعد اسرائیل نے جنگ بندی معاہدے کے تحت اپنے جیلوں سے 90 فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا، جن میں 69 خواتین اور 21 بچے شامل تھے۔یہ قیدی اسرائیلی جیلوں میں طویل عرصے سے قید تھے، اور ان کی رہائی کے بعد مغربی کنارے میں ان کا والہانہ استقبال کیا گیا۔ رہائی پانے والے فلسطینی قیدیوں کا قافلہ دو بسوں میں مغربی کنارے کے شہر بیتونیہ پہنچا، جہاں ان کا فلسطینی عوام کی جانب سے استقبال کیا گیا۔ ایک فلسطینی طالبہ نے جو ان قیدیوں میں شامل تھی، بتایا کہ اسرائیلی حراست کے دوران انہیں خوراک اور پانی کی کمی کا سامنا تھا، اور حالات انتہائی خوفناک تھے۔حماس نے یہ اعلان بھی کیا ہے کہ قیدیوں کا اگلا تبادلہ 25 جنوری کو ہوگا، جس میں غزہ سے 4 اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کی جائے گی۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق، اس تبادلے میں حماس سے رہائی پانے والے 4 اسرائیلی یرغمالی ہوں گے۔

    جنگ بندی کے بعد اسرائیلی میڈیا نے غزہ کی صورتحال پر اپنی رپورٹس میں کہا ہے کہ حماس کے کارکن سڑکوں پر دوبارہ سرگرم نظر آ رہے ہیں، اور یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ حماس نے غزہ میں اپنا کنٹرول دوبارہ قائم کر لیا ہے۔ اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ حماس کی پولیس دوبارہ منظم ہو رہی ہے اور غزہ کا انتظام سنبھال رہی ہے۔ غزہ میں امن و امان کی بحالی میں حماس کی پولیس آگے نظر آ رہی ہے۔اسرائیلی میڈیا نے اس بات کا بھی ذکر کیا ہے کہ حماس نے غزہ میں سرنگوں سے نکل کر اپنی موجودگی کو دوبارہ ظاہر کیا ہے، اور اس کی مزاحمتی فورسز ٹرکوں میں گشت کرتی نظر آ رہی ہیں۔ اسرائیلی اخبار نے کہا کہ فلسطینی میڈیا جنگ بندی کو حماس کی فتح کے طور پر پیش کر رہا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ حماس نے غزہ پر اپنے کنٹرول کو برقرار رکھنے کی حکمت عملی اختیار کی ہے۔اسرائیل نے اپنی جنگی حکمت عملی میں دعویٰ کیا کہ اس نے حماس کی 20 بٹالینز کو مکمل طور پر ختم کر دیا ہے۔ تاہم اسرائیلی میڈیا نے واضح کیا کہ یہ بٹالینز تباہ نہیں ہوئیں بلکہ ان کے آپریشنل اثرات کو کم کیا گیا ہے۔ اس کے باوجود، حماس نے غزہ میں اپنی حکمت عملی کو برقرار رکھا ہے اور جنگ بندی کے دوران بھی غزہ کے انتظام میں اہم کردار ادا کیا ہے۔حماس کی مزاحمتی فورسز اب بھی غزہ کے مختلف علاقوں میں گشت کرتی نظر آ رہی ہیں اور اس کا عزم ظاہر کر رہی ہیں کہ وہ اسرائیل کی جارحیت کے خلاف مزاحمت جاری رکھیں گے۔

    غزہ پر اسرائیل کی جارحیت گزشتہ 15 ماہ سے جاری تھی جس میں ہزاروں فلسطینی شہید اور زخمی ہوئے۔ فلسطینی محکمہ صحت کے مطابق، اسرائیل کی کارروائیوں میں 47,899 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں بچے اور خواتین شامل ہیں۔ ایک لاکھ 10 ہزار سے زائد فلسطینی زخمی ہوئے ہیں اور ہزاروں افراد لاپتا ہیں۔ اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں غزہ میں وسیع پیمانے پر تباہی ہوئی اور شہری انفراسٹرکچر بھی شدید متاثر ہوا۔ جنگ بندی معاہدہ اس طویل اور تباہ کن جنگ کا خاتمہ کرنے کی کوشش ہے، لیکن اس کی کامیابی کا دارومدار دونوں طرف کی سیاسی اور عسکری حکمت عملیوں پر ہے۔

    غزہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی معاہدہ ایک اہم موڑ ہے، لیکن اس کے بعد کی صورتحال پیچیدہ اور غیر یقینی نظر آ رہی ہے۔ حماس نے اپنی مزاحمت اور غزہ پر کنٹرول کو دوبارہ مضبوط کرنے کی کوشش کی ہے، جبکہ اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے حماس کی عسکری طاقت کو کمزور کیا ہے۔ دونوں فریقوں کی جانب سے اپنے موقف اور اقدامات کا سلسلہ جاری ہے، اور یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا یہ جنگ بندی معاہدہ پائیدار امن کا باعث بنے گا یا نہیں۔