Baaghi TV

Tag: حماس

  • حماس کی 34 یرغمالیوں کی رہائی پر رضامندی

    حماس کی 34 یرغمالیوں کی رہائی پر رضامندی

    غزہ میں جنگ بندی معاہدے کی امید، حماس نے 34 یرغمالیوں کی رہائی پر رضامندی ظاہر کر دی

    غیر ملکی خبر ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ حماس نے ممکنہ جنگ بندی معاہدے کے تحت 34 یرغمالیوں کی رہائی پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔ اس اہم پیشرفت کے بارے میں اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ دوحہ میں جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے لیے بات چیت کا عمل دوبارہ شروع ہو چکا ہے، جس میں قطر، مصر اور امریکہ کی ثالثی میں کئی ماہ سے کوششیں جاری ہیں۔خبر ایجنسی کے مطابق حماس کے ایک رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اسرائیل کی جانب سے قیدیوں کے تبادلے کے لیے جو فہرست فراہم کی گئی ہے، اس میں سے 34 یرغمالیوں کی رہائی کے لیے حماس تیار ہے۔ حماس رہنما نے مزید کہا کہ ابتدائی تبادلے میں تمام خواتین، بچے، عمر رسیدہ اور بیمار افراد شامل ہو سکتے ہیں جو غزہ میں اسرائیلی فوج کے قبضے میں ہیں۔حماس رہنما نے یہ بھی کہا کہ یہ ممکن ہے کہ کچھ یرغمالی ہلاک ہو چکے ہوں، لیکن ان کی حالت کا تعین کرنے کے لیے حماس کو مزید وقت درکار ہے۔ ان کے مطابق غزہ میں موجود حماس کے جنگجوؤں سے رابطے اور زندہ یا ہلاک یرغمالیوں کی شناخت کے لیے کم از کم ایک ہفتے کا امن ضروری ہوگا۔

    خبر رساں ایجنسی کے مطابق دوحہ میں فریقین کے نمائندہ وفود کے درمیان بات چیت دوبارہ شروع ہونے کی توقع تھی، جو ہفتے کے اختتام تک جاری رہنی تھی۔ تاہم، حماس رہنما کے بیان کے سوا اس بات چیت کی مزید تفصیل سامنے نہیں آ سکی۔ فرانس کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ فریقین پر معاہدے پر پہنچنے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے تاکہ جنگ بندی اور قیدیوں کی رہائی کے لیے ایک معاہدہ طے پائے۔

    یاد رہے کہ 7 اکتوبر 2023 کو حماس کی جانب سے اسرائیل پر کیے گئے حملے کے نتیجے میں 251 افراد کو یرغمال بنایا گیا تھا۔ بعد میں ایک عارضی معاہدے کے تحت 80 اسرائیلی یرغمالی اور 240 فلسطینی قیدیوں کو اسرائیلی جیلوں سے رہا کر دیا گیا تھا۔ تاہم، اس وقت بھی غزہ میں 96 یرغمالی حماس کے قبضے میں ہیں، جب کہ اسرائیلی فوج کے مطابق 34 یرغمالی ہلاک ہو چکے ہیں۔

    دوسری جانب، غزہ پٹی پر اسرائیلی حملے جاری ہیں اور صرف گزشتہ تین دنوں میں ہونے والے اسرائیلی حملوں میں تقریباً 100 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ غزہ کی وزارت صحت کے مطابق 7 اکتوبر 2023 کے بعد سے غزہ پٹی پر اسرائیلی حملوں میں اب تک 45,805 فلسطینی شہید اور 98,000 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔

    دونوں فریقین کے درمیان جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے لیے مسلسل کوششیں جاری ہیں، تاہم غزہ کی موجودہ صورتحال اور اسرائیلی حملوں کے باعث فوری طور پر امن قائم ہونے کی کوئی واضح امید نظر نہیں آ رہی۔ جنگ بندی کے معاہدے کے کامیاب ہونے کا انحصار فریقین کے درمیان مذاکرات اور عالمی دباؤ پر ہوگا۔

    بھارتی ہیلی کاپٹرز حادثات، فضائی عملے کی صلاحیتوں پر سنگین سوال

    کراچی،تاجر پر حملے کا مقدمہ ترجمان میئر کے خلاف درج

  • اسرائیل میں اتنا دم خم نہیں،وہ  حماس کا مقابلہ نہیں کرسکتا،حافظ نعیم

    اسرائیل میں اتنا دم خم نہیں،وہ حماس کا مقابلہ نہیں کرسکتا،حافظ نعیم

    اسلام آباد: امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحما ن کا کہنا ہے کہ اسرائیل میں اتنا دم خم نہیں ہے، وہ تو حماس کا مقابلہ نہیں کرسکتا،کل 25 دسمبر سے ہم کسانوں کی تحریک شروع کر رہے ہیں اور کسان مارچ منڈی بہاؤالدین سے شروع ہوگا-

    باغی ٹی وی: اسلام آباد کے میلوڈی دفتر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ انٹرنیٹ کا مسئلہ سنگین ہے تو معیشت کیسے بہتر ہوگی، حکومت انٹرنیٹ سلو کرکے ملکی معیشت کو نقصان پہنچا رہی ہے، حکومت فارم 47 کی پیداوار ہے، معلوم نہیں کہ پی ٹی آئی نے مذاکرات میں اس پر کیا سوچا ، حکومت پی ٹی آئی مذاکرات مثبت پیش رفت ہے لیکن مذاکرات میں پی ٹی آئی وفد کو بااختیار ہونا چاہیے اور حکومت کو بھی۔

    انہوں نے کہا کہ کل 25 دسمبر سے ہم کسانوں کی تحریک شروع کر رہے ہیں اور کسان مارچ منڈی بہاؤالدین سے شروع ہوگا جس کے بعد لاہور میں کسان مارچ ہوگا پھر جنوبی پنجاب میں ہوگا، گنے کی قیمت کا تعین نہیں ہو رہا جبکہ شوگر مافیا من مرضی کے ریٹ لگا کر انہیں لوٹ رہے ہیں، اس وقت گنے کی فصل تیار ہےلیکن حکومت نے ابھی تک ریٹ مقرر نہیں کیے پچھلی مرتبہ گندم کی فصل میں ن لیگ کی حکومت نے بہت جھوٹ بولا تھا، چھوٹا کاشت کار پس رہا ہے۔

    حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ 29 دسمبر کو اسلام آباد میں بہت بڑا غزہ مارچ کریں گے جس میں سیاست کو الگ رکھ کر سب شرکت کریں، اسرائیل میں اتنا دم خم نہیں ہے، وہ تو حماس کا مقابلہ نہیں کرسکتا، کل بھی حماس نے پانچ اسرائیلی جہنم واصل کیے، اسرائیل گریٹر گلف کی بات کر رہا ہے اور اسرائیل انسانیت کا دشمن ہے، سب کو فلسطینیوں کی حمایت میں اٹھنا چاہیے، امریکا سب سے بڑا ریاستی دہشتگرد ہے اور ہم چاہتے ہیں اس پر مسلسل آواز بلند کرنی چاہیے، پاکستان نے میزائل ٹیکنالوجی پر کام کیا تو امریکا کی چیخیں نکل رہی ہیں، ہمیں بھرپور ڈٹ کر کام کرنا چاہیے اور مضبوط موقف رکھنا چاہیے۔

    امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ کرم ایجنسی کی صورتحال بہت خراب ہے، جب حکومت اپنی پوری اتھارٹی کے ساتھ کام نہیں کرتی تو لوگوں کا اعتماد حاصل نہیں ہوتا کرم میں زمینوں سے مسئلہ شروع ہوا مگر لڑائی فرقہ واریت میں تبدیل ہوگئی، کرم میں شیعہ سنی لڑائی ہوئی بلوچستان میں بھی حالات ٹھیک نہیں جس کی حکومت ہی سب سے زیادہ ذمہ دار ہے-

  • ہاں اسماعیل ہنیہ کو ہم نے مارا،اسرائیل کا کھل کر اعتراف

    ہاں اسماعیل ہنیہ کو ہم نے مارا،اسرائیل کا کھل کر اعتراف

    اسرائیل نے پہلی بار عوامی طور پر یہ تسلیم کیا ہے کہ حماس کے سابق سربراہ اسماعیل ہنیہ کو مارنے کے پیچھے اس کا ہاتھ تھا۔

    اسرائیل کے وزیر دفاع، اسرائیل کاٹز، نے اس بات کا اعتراف کیا کہ اسماعیل ہنیہ کو 31 جولائی 2023 کو ایران میں مارا گیا تھا۔ وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے اس کارروائی کو کامیابی کے طور پر دیکھا اور اس کے بعد یہ واضح پیغام دیا ہے کہ اسرائیل اپنے مخالفین کو ہدف بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑے گا، چاہے وہ کہیں بھی ہوں۔کاٹز نے اس موقع پر مزید دھمکیاں بھی دیں اور کہا کہ اسرائیل یمن میں حوثی باغیوں کی قیادت کو بھی ختم کرنے کے لیے تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا، "ہم حوثیوں پر سخت حملہ کریں گے اور ان کی قیادت کو پاش پاش کر ڈالیں گے، ٹھیک اسی طرح جیسے ہم نے حماس کے رہنماؤں جیسے اسماعیل ھنیہ، یحییٰ السنوار اور حسن نصراللہ کو تہران، غزہ اور لبنان میں ختم کیا۔” انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل کے خلاف کوئی بھی دشمن اٹھنے کی کوشش کرے گا، اس کا ہاتھ کاٹ دیا جائے گا۔

    اسماعیل ھنیہ کی موت 31 جولائی 2023 کو ایران کے دارالحکومت تہران میں ہوئی تھی۔وہ ایک بم دھماکے کے نتیجے میں جاں بحق ہو گئے تھے جو ایک گیسٹ ہاؤس میں ہوا۔ وہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی حلف برداری تقریب میں شرکت کے لیے تہران آئے تھے،

    ایران کی جانب سے اس دھماکے کے بارے میں مختلف دعوے کیے گئے تھے۔ ایران کے "ویولوشنری گارڈ” نے کہا تھا کہ اسماعیل ھنیہ کو ان کے گھر کے باہر سے لانچ کیے گئے ‘شارٹ رینج پروجیکٹائل’ کے ذریعے مارا گیا۔ ایران نے اسرائیل کے اس آپریشن میں امریکہ کے کردار پر بھی الزامات عائد کیے تھے، اور یہ کہا تھا کہ امریکہ نے اسرائیل کی اس کارروائی کی حمایت کی تھی۔

    اسرائیل کاٹز نے اس موقع پر ایک اور سخت پیغام دیتے ہوئے کہا کہ "جو بھی اسرائیل کے خلاف ہاتھ اٹھائے گا، اسے اس کے کیے کی سزا ضرور ملے گی۔” انہوں نے واضح طور پر کہا کہ اسرائیلی فوج اپنے دشمنوں کی کسی بھی کارروائی سے بچنے نہیں دے گی اور ان کے خلاف بھرپور کارروائی کرے گی۔یہ پہلا موقع ہے کہ اسرائیل نے باضابطہ طور پر اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ اسرائیل اسماعیل ھنیہ کی موت میں ملوث تھا، اس سے قبل اسرائیل کے حکام نے اس بات کو ہمیشہ مسترد کیا تھا اور اس کا انکار کیا تھا۔

    اسرائیل کے وزیر دفاع کی جانب سے اس اعتراف کے بعد عالمی سطح پر اسرائیل کی خارجہ پالیسی اور اس کی مشرق وسطیٰ میں مداخلت پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ اسرائیل کے اس اقدام کو کئی حلقوں میں تنقید کا سامنا ہے، خصوصاً ایران اور یمن میں موجود اتحادیوں کی طرف سے۔ اس کے باوجود اسرائیل نے اپنی پالیسی پر قائم رہنے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ مستقبل میں بھی اپنے دشمنوں کو نشانہ بنائے گا۔اسرائیل کا یہ بیان عالمی سطح پر ایک نیا تنازعہ پیدا کر سکتا ہے کیونکہ اسرائیل کے دشمن ممالک جیسے ایران اور لبنان میں اس کی کارروائیوں کے بارے میں مزید شکوک و شبہات بڑھ سکتے ہیں۔ اس دوران اسرائیل کی طرف سے حوثی باغیوں کو بھی دھمکیاں دی جا رہی ہیں، جس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ اسرائیل مشرق وسطیٰ میں اپنی پوزیشن مزید مستحکم کرنے کے لیے اپنی حکمت عملی کو جاری رکھے گا۔

    اسماعیل ہنیہ کی شہادت کے بعد او آئی سی غیرمعمولی اجلاس”مذمت” پر ختم

    اسماعیل ہنیہ کا قتل ایرانی خودمختاری کی سنگین خلاف ورزی ہے،سعودی عرب

    اسماعیل ہنیہ کی شہادت،عمارت میں مقیم حماس رہنما نے آنکھوں دیکھا حال بتادیا

    اسماعیل ہنیہ پر حملہ،ایران میں تحقیقات کے دوران گرفتاریاں

  • غزہ جنگی بندی معاہدہ، حماس 2 اہم شرائط سے دستبردار

    غزہ جنگی بندی معاہدہ، حماس 2 اہم شرائط سے دستبردار

    قاہرہ میں غزہ جنگ بندی مذاکرات کا سلسلہ جاری ،جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے حوالے سے اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔

    باغی ٹی وی: عرب میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ حماس غزہ پٹی سے اسرائیلی فورسز کے مکمل انخلا اور مکمل جنگ بندی کی شرائط سے دستبردار ہوگئی ہے حماس بیمار، عمر رسیدہ اور خواتین فوجی یرغمالیوں کی رہائی پر رضامند ہوگئی اور حماس نے عمر رسیدہ فلسطینی قیدیوں کی قطر اور ترکیے منتقلی کی بھی حامی بھرلی ہے،حماس نے شمالی غزہ پٹی میں اسرائیلی چیک پوسٹوں کےقیام کی مخالفت کردی ہے۔

    دوسری جانب غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق حماس کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اگر اسرائیل نئی شرائط عائد نہ کرے تو جنگ بندی معاہدہ ہوسکتا ہے،رپورٹ کے مطابق قاہرہ میں غزہ جنگ بندی مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے جبکہ چند دن میں جنگ بندی ہونے کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ غزہ میں 14 ماہ سے زائد عرصے سے جاری اسرائیلی جنگ رکوانے کے لیے مصر اور قطر کی کوششیں جاری ہیں ان دونوں ملکوں کی کوششوں کو اسرائیل کے سب سے بڑے اتحادی اور اسلحہ سپلائر امریکہ بھی حمایت حاصل ہےامریکہ کی مدد سے دونوں ملک جنگ کےآغاز سے ہی جنگ بندی کے لیے کوشش کر رہے ہیں، نئی مذاکراتی نشست دوحا میں جاری ہونے کی اطلاعات ہی جس کے اسرائیلی تکنیکی ٹیم کے دوحا پہنچنے کی ایک روز پہلے خبر آئی تھی۔

  • ہمارے شہریوں کو قتل اور یرغمال بنانے میں ملوث حماس رہنما ہمارے حوالے کئے جائیں،امریکا

    ہمارے شہریوں کو قتل اور یرغمال بنانے میں ملوث حماس رہنما ہمارے حوالے کئے جائیں،امریکا

    واشنگٹن:امریکی ترجمان میتھیو ملر نے کہا ہے کہ حماس امریکی شہریوں کے قتل اور یرغمال بنانے کے جرم میں ملوث ہے اس لیے یہ رہنما جہاں بھی ہوں، ہمارے حوالے کیے جائیں۔

    باغی ٹی وی : عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی ترجمان میتھیو ملر نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ وہ حماس کے رہنماؤں کی قطر سے ترکیہ منتقلی کی تردید کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوں،تاہم امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے حماس رہنماؤں کی قطر سے ترکیہ منتقل ہونے کی خبر کی تصدیق سے بھی گریز کیا۔

    میتھیو ملر نے مزید کہا کہ حماس ایک دہشتگرد تنظیم ہے جس نے کئی امریکیوں کو قتل کیا اور اب بھی 7 امریکیوں کو یرغمال بنایا ہوا ہے تو جہاں تک یہ بات ہے کہ حماس کے رہنما ترکی میں ہیں یا کسی اور ملک میں ہیں تو دیکھیں ان میں سے کئی لوگوں پر امریکا نے فرد جرم عائد کر رکھی ہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ ان لوگوں کو امریکا کے حوالے کیا جانا چاہئیے، امریکا نے ترک حکومت پر واضح کر دیا ہے کہ حماس کے ساتھ مزید اس طرح معاملات نہیں چل سکتے، جیسے چل رہے تھے ہم اس پر یقین نہیں رکھتے کہ ایک دہشتگرد تنظیم کے رہنما کہیں بھی آرام سے رہ رہے ہوں۔

    ہم نے مل کر پولیو جیسے چیلنج کو شکست دینی ہے، وزیراعظم

    دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے غزہ میں حماس کی فوجی طاقت ختم کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں حماس کی فوجی طاقت ختم کردی، جنگ ختم ہونے کے بعد غزہ میں حماس کی حکمرانی نہیں ہوگی ہمارے یرغمالیوں کو نقصان پہنچانے والوں سے بدلہ ضرور لیں گے،نیتن یاہو نے یرغمالیوں کو بحفاظت نکال لانے پر ہر یرغمالی کے عوض 50 لاکھ ڈالر دینے کا اعلان بھی کیا ہے۔

    جو بائیڈن کا یوکرین کو روس کیخلاف اینٹی پرسنل لینڈ مائنز استعمال …

  • امریکی سینیٹ،اسرائیل کو ہتھیاروں کی فروخت روکنے کی قرارداد ،ووٹنگ رواں ہفتے

    امریکی سینیٹ،اسرائیل کو ہتھیاروں کی فروخت روکنے کی قرارداد ،ووٹنگ رواں ہفتے

    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل بدھ کو ایک قرارداد پر ووٹ دینے والی ہے، جس میں غزہ میں فوری، غیر مشروط اور مستقل جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا ہے، اور اس جنگ بندی کو حماس کے زیر حراست یرغمالیوں کی رہائی سے مشروط نہیں کیا گیا۔ امکان ہے کہ امریکہ اس قرارداد کو ویٹو کر دے گا۔

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ مشرق وسطیٰ کے موجودہ بحران نے عالمی طاقتوں کی پالیسیوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی برادری کو غیر جانبداری کے ساتھ انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے، ورنہ صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔امریکہ کی ممکنہ ویٹو پالیسی نہ صرف خطے میں امن قائم کرنے کی کوششوں کو نقصان پہنچائے گی بلکہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو بھی جاری رکھنے کا سبب بن سکتی ہے۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ "غزہ میں انسانی بحران عروج پر ہے۔ بچے، خواتین، اور عام شہری جنگ کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں، اور عالمی برادری اس ظلم پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ اگر امریکہ اس قرارداد کو ویٹو کرتا ہے، تو یہ ایک واضح پیغام ہوگا کہ طاقتور ممالک انسانی حقوق کو صرف اپنے مفادات کے تحت دیکھتے ہیں۔”

    غزہ میں بمباری اور مسلح جھڑپوں کے نتیجے میں ہزاروں جانیں ضائع ہو چکی ہیں، جن میں اکثریت معصوم شہریوں کی ہے۔ اقوام متحدہ کے اداروں کے مطابق، خطے میں انسانی ضروریات کی شدید کمی ہو رہی ہے، اور فوری امداد کی ضرورت ہے۔یورپی ممالک سمیت کئی دیگر طاقتوں نے غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے، لیکن اس قرارداد کے متن پر اختلافات موجود ہیں۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ حماس کے یرغمالیوں کی رہائی کو مذاکرات کا حصہ بنانا ضروری ہے۔ دوسری طرف، مسلم ممالک نے اقوام متحدہ پر زور دیا ہے کہ وہ انسانی بنیادوں پر جنگ بندی کے لیے فوری اقدامات کرے۔

    دوسری جانب امریکی سینیٹ میں اسرائیل کو ہتھیاروں کی فروخت روکنے کی قرارداد پر ووٹنگ رواں ہفتے ہوگی،عرب میڈیا رپورٹ کے مطابق اسرائیل کو 20 ارب ڈالر کے امریکی ہتھیاروں کی فروخت روکنے کی قرارداد امریکی سینیٹ میں پیش کی گئی، امریکی سینیٹر برنی سینڈرز کی قرارداد پر امریکی سینیٹ میں ووٹنگ رواں ہفتے کے آخر میں ہوگی،میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی سینیٹ میں اسرائیلی حمایت کی اکثریت کے باعث قرارداد منظور ہونے کا امکان کم ہے

    علاوہ ازیں اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو ایک سال کی کوشش کے باوجود حماس کے ہاتھوں یرغمالیوں کو چھڑانےمیں کامیاب نہ ہوئے جس کے بعد اب اسرائیلی وزیرِ اعظم نے یرغمالیوں کو رہا کرانے والوں کو 50 لاکھ ڈالرز کا لالچ دے ڈالا، نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ غزہ سے یرغمالیوں کو بحفاظت نکال لانے پر ہر یرغمالی کے عوض 50 لاکھ ڈالرز دیں گے،یرغمالیوں کو رہا کرانے والوں کو اہلِ خانہ سمیت غزہ سے انخلاء کرائیں گے

  • یرغمالیوں کی رہائی کا واحد رستہ جنگ بندی،فوج نے اسرائیلی وزیراعظم کو بتا دیا

    یرغمالیوں کی رہائی کا واحد رستہ جنگ بندی،فوج نے اسرائیلی وزیراعظم کو بتا دیا

    اسرائیلی فوج کے سینئر افسران نے وزیراعظم نیتن یاہو کو خبردار کیا ہے کہ حماس کے قبضے میں موجود یرغمالیوں کی رہائی کے لیے جنگ بندی کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔

    اسرائیلی میڈیا کے مطابق انٹیلی جنس اور سکیورٹی حکام نے بریفنگ میں بتایا کہ یرغمالیوں کی حالت انتہائی نازک ہے۔ غذائی قلت کے باعث ان کے وزن میں واضح کمی ہو چکی ہے، اور موسم سرما کے پیش نظر ان کی زندگی کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔اسرائیلی فوج کے جنرلز نے نشاندہی کی کہ یرغمالیوں کے حالات مزید خراب ہونے کا خدشہ ہے، جس کے باعث جنگ بندی کی ضرورت پہلے سے زیادہ بڑھ گئی ہے۔

    اسی دوران اسرائیل میں یرغمالیوں کی رہائی کے لیے مظاہرے شدت اختیار کرگئے ہیں۔ مظاہرین نے وزیراعظم نیتن یاہو کے گھر پر دھاوا بول دیا، جہاں قیصریہ میں واقع ان کے گھر کے باغ میں دو فلیش بم گرنے کی اطلاعات موصول ہوئیں، تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا کیونکہ نیتن یاہو اور ان کا خاندان اس وقت گھر میں موجود نہیں تھا۔پولیس نے واقعے کے بعد تین افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ اسرائیلی وزیر دفاع نے اس واقعے پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ تمام حدود پار کر لی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ناقابل قبول ہے کہ وزیراعظم، جو پہلے ہی ایران اور دیگر مزاحمتی قوتوں کی جانب سے خطرات کا سامنا کر رہے ہیں، انہیں اپنے گھر پر بھی ایسے واقعات کا سامنا کرنا پڑے۔

  • امریکا کا قطر سے حماس قیادت کو ملک بدر کرنے کا مطالبہ

    امریکا کا قطر سے حماس قیادت کو ملک بدر کرنے کا مطالبہ

    امریکا نے اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی سے متعلق امریکی معاہدہ مسترد کرنے پر قطر سے حماس قیادت کو ملک بدر کرنے کا مطالبہ کردیا۔

    باغی ٹی وی : برطانوی خبر ایجنسی کے مطابق امریکا کی جانب سے قطر کو واضح پیغام دیا گیا ہے کہ دوحا میں حماس قیادت کی موجودگی کو مزید قبول نہیں کیا جائے گا کیونکہ فلسطینی مزاحمتی گروپ نے جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی سے متعلق نئی تجاویز کو بھی مسترد کردیا ہے۔

    سینیئر امریکی عہدیدار نے برطانوی خبر ایجنسی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کئی روز قبل ہی امریکا کی جانب سے حماس کے معاہدے سے متعلق نئی تجاویز مسترد کرنے پر قطر کو یہ پیغام پہنچا دیا گیا تھا کہ وہ حماس کی قیادت کو ملک بدر کردیں، حماس کی جانب سے یرغمالیوں کی رہائی سے متعلق معاہدے کی تجاویز کو بار بار مسترد کرنے کے بعد حماس کے رہنماؤں کو کسی بھی امریکی اتحادی ملک کے دارالحکومت میں برداشت نہیں کیا جا سکتا۔

    امریکی عہدیدار نے بتایا کہ قطر نے تقریباً دس روز قبل حماس کے رہنماؤں سے بھی اس مطالبے کا اظہار کردیا تھا کہ واشنگٹن نے تجاویز مسترد کرنے پر قطر سے کہا ہے کہ اب وقت آگیا ہے، حماس کا سیاسی دفتر بند کردیا جائے۔

    دوسری جانب حماس کے تین رہنماؤں نے قطر کی جانب سے ملک چھوڑنے کے کسی بھی مطالبے کی خبر کو مسترد کردیا ہے جبکہ قطر کی وزارت خارجہ کی جانب سے بھی خبر کی تصدیق یا تبصرے کی درخواست کا کوئی جواب سامنے نہیں آیا۔

    واضح رہے کہ اکتوبر کے وسط میں دوحا میں ہونے والے مذاکرات کا تازہ دور بھی ناکام ہوگیا تھا کیونکہ حماس نے قلیل مدتی جنگ بندی کی تجویز کو مسترد کردیا تھا۔

    یاد رہے کہ گزشتہ برس امریکی وزیر خارجہ نے 7 اکتوبر کے حملے کے بعد قطر سمیت خطے کے دیگر ممالک کو واضح کردیا تھا کہ حماس کے ساتھ معمول کے تعلقات برقرار نہیں رکھے جاسکتے جس پر قطر نے واشنگٹن کو یقین دہانی کروائی تھی کہ غزہ جنگ کے خاتمے کے بعد حماس رہنماؤں کی ملک میں موجودگی پر دوبارہ غور کرنے کیلئے تیار ہیں۔

    دوسری جانب مشرق وسطی میں قیام امن کے لیے سبکدوش ہونے والی بائیڈن انتظامیہ نے بھی رابطے تیز کردئیے ہیں، امریکی وزیرخارجہ انٹونی بلنکن نے سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان اور متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا ہے۔

    سعودی میڈیا کے مطابق فیصل بن فرحان اور انٹونی بلنکن نے علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا اور مشرق وسطی میں قیام امن کے لیے سفارت کاری کے ساتھ آگے بڑھنے پر زور دیا۔

    امریکی حکام کے مطابق حالیہ رابطوں کا مقصد غزہ اور لبنان کے ساتھ اسرائیل کے تنازعات کو ختم کرنے کے معاہدے تک پہنچنا ہے، انٹونی بلنکن تنازعات کے خاتمے کے لیے ڈیل تک پہنچنے کی حتمی کوشش کر رہے ہیں۔

    دوسری جانب غزہ میں مسلسل اسرائیلی بمباری سے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 23 فلسطینی شہید ہوگئےگزشتہ صبح سویرے سے رات گئے تک اسرائیلی فوج نے غزہ سٹی، نصیرات اور بیت لاہیہ کے علاقوں کو نشانہ بنایا، مغربی کنارے میں بھی 2 فلسطینیوں کو شہید کردیا گیا۔

    غزہ میں اسرائیلی بربریت کا نشانہ بننے کر شہید ہونے والوں کی مجموعی تعداد 43 ہزار 508 ہوگئی اقوام متحدہ انسانی حقوق کے مطابق غزہ میں اسرائیلی جارحیت سے شہید ہونے والوں میں 70 فیصد خواتین اور بچے شامل ہیں۔

    ادھر اسرائیلی فوج کے لبنان میں حملوں سے 24 گھنٹوں میں 52 شہری شہید ہوئے، اسرائیلی فوج کی جانب سے لبنان سے فائر کیے گئے 2 ڈرون گرانے کا بھی دعویٰ کیا گیا اسرائیلی فوج کی نباتیہ اور طائر کے علاقوں میں بمباری سے طبی عملے کے رکن سمیت 3 شہری شہید ہوگئے جوابی کارروائی کرتے ہوئے لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ نے اسرائیل کی رمات ڈیوڈ بیس، حیفہ میں نیول بیس اور فوجی ہوائی اڈاے کو نشانہ بنایا۔

  • ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی:حماس نےبیان جاری کر دیا

    ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی:حماس نےبیان جاری کر دیا

    دوحہ: امریکی صدارتی الیکشن میں ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی کے بعد فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے اپنا پہلا ردعمل دیا ہے۔

    باغی ٹی وی : "العربیہ” کے مطابق حماس کے سینئر عہدیدار سمی ابو ذوہری نے کہا کہ ٹرمپ کو ان کے بیانات کے حساب سے جانچا جائیگا کیونکہ انہوں نے کہا تھا وہ بطور امریکی صدر غزہ جنگ کو چند گھنٹوں میں روکیں گے انہوں نے ٹرمپ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ صدر بائیڈن کی غلطیوں سے سیکھیں-

    حماس پولیٹیکل بیورو کے ممبر باسم نعیم نے کہا کہ صیہونی ریاست کی اندھی حمایت ختم ہونی چاہیے کیونکہ یہ حمایت ہمارے لوگوں کے مستقبل اور خطے کے کی قیمت پر آتی ہے۔

    واضح رہے کہ دوسری مرتبہ صدارتی الیکشن جیتنے کے بعد اپنے پہلے خطاب میں ٹرمپ نے کہا کہ وہ نئی جنگیں شروع کرنے کے بجائےجنگوں کو ختم کریں گے، جبکہ وہ اپنی انتخابی مہم کے دوران ٹرمپ یہ کہتے رہے ہیں کہ وہ مشرق وسطیٰ کو حقیقی اور پائیدار امن کی طرف لوٹتے دیکھنا چاہتےہیں اور وہ اس عمل کو اچھے طریقے سے کریں گے تاکہ 5 یا 10 سال بعد دوبارہ سے پرانے حالات واپس نہ آئیں۔

    ٹرمپ کے دوبارہ صدر منتخب ہونے پر روس،ایران کا ردعمل

    ٹرمپ کی فتخ کے تاریخی اعلان کے ساتھ ہی ٹرمپ نے ایک بار پھر امریکہ کی سیاست میں اپنی اہمیت کو ثابت کیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی جیت کے بعد امریکہ کی سیاست میں ایک نئے دور کی شروعات متوقع ہے، جہاں ان کے اقتدار میں مزید سیاسی اور اقتصادی فیصلے ہوں گے جو نہ صرف امریکہ بلکہ عالمی سطح پر بھی اثر انداز ہوں گے-

    ٹرمپ کو برطانوی،بھارتی وزیراعظم،فرانسیسی،یوکرینی صدر و دیگر کی مبارکباد

  • یحییٰ سنوار  نے اپنی شہادت سے 72 گھنٹے پہلے تک کچھ نہیں کھایا تھا،پوسٹ مارٹم رپورٹ

    یحییٰ سنوار نے اپنی شہادت سے 72 گھنٹے پہلے تک کچھ نہیں کھایا تھا،پوسٹ مارٹم رپورٹ

    غزہ: فلسطین کی مزاحمتی تحریک حماس کے شہید سربراہ یحییٰ سنوار کی مبینہ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ انہوں نے اپنی شہادت سے 72 گھنٹے پہلے تک کچھ نہیں کھایا تھا۔

    باغی ٹی وی : 17 اکتوبر 2024 کو اسرائیلی فورسز نے غزہ میں یحییٰ سنوار کو شہید کرنے کا دعویٰ کیاتھا ، جس کی بعد میں حماس نے بھی تصدیق کر دی اسرائیلی ڈاکٹر جنہوں نے یحییٰ سنوار کا پوسٹ مارٹم کیا نے بتایا کہ انہوں نے اس کی تصدیق ڈی این اے اور دیگر معلومات کے ذریعے کی۔

    اسرائیلی فورسز نے یحییٰ سنوار کی شہادت سے قبل ایک ڈرون اس عمارت میں بھیجا جہاں وہ مزاحمتی فورسز کے ساتھ مقابلے میں تھے اس دوران، عمارت میں ایک زخمی شخص نے ڈرون کی جانب ایک چھڑی پھینکی، جو بعد میں معلوم ہوا کہ وہ خود یحییٰ سنوار تھے اسرائیلی فورسز انہیں ایک سال سے تلاش کر رہی تھیں، اور ان کا خیال تھا کہ وہ کسی سرنگ میں چھپے ہوئے ہیں۔

    عوام کے پیسوں سے بنایا جانے والا ایئر لائن شریف خاندان کے لیے استعمال ہوگا،بیرسٹر …

    حماس کے سابق سربراہ کی پوسٹ مارٹم رپورٹ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر زیر بحث ہے، جس میں قدس نیوز نیٹ ورک اور اسرائیلی میڈیا کے حوالے سے کئی سنسنی خیز انکشافات کیے گئے ہیں، اردن کے خبر رساں ادارے البوابہ نے اس رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ یحییٰ سنوار نے شہادت سے 3 دن قبل کوئی خوراک نہیں لی تھی۔

    مئیر کراچی کا براہ راست انتخاب: حافظ نعیم الرحمان و دیگر کی درخواستیں مسترد