Baaghi TV

Tag: حکومت

  • پیپلزپارٹی، حکمران جماعت ن لیگ سے ایک بار پھر ناراض

    پیپلزپارٹی، حکمران جماعت ن لیگ سے ایک بار پھر ناراض

    حکومت کی جانب سے یکسر نظر انداز کرنے پر پیپلزپارٹی، ن لیگ سے ایک بار پھر ناراض ہوگئی۔

    پی پی ذرائع کے مطابق پیپلزپارٹی حکومت کی جانب سے یکسر نظر انداز کرنے پر ناراض ہے، قومی اسمبلی میں کورم توڑنے کا مقصد ناراضگی کا اظہار تھا جب کہ پیپلزپارٹی اہم معاملات پر مشاورت نہ ہونے پر شدید برہم ہے۔ حکومت اہم معاملات پر پیپلزپارٹی کو اعتماد میں نہیں لے رہی، دریائے سندھ سے لنک کینال کے معاملے پر مشاورت نہیں ہوئی اور پی ٹی آئی سے مذاکرات پر بھی پیپلزپارٹی کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔

    پی پی ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی سے مذاکرات شروع کرنے پر پی پی سے مشاورت نہیں ہوئی جب کہ ن لیگ سے زیادہ مذاکرات کا تجربہ رکھنے والی جماعت پیپلزپارٹی ہے لہذا پی ٹی آئی سے مذاکرات پر اعتماد میں لینے پر معاملات زیادہ بہتر ہوتے۔ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ پی پی قیادت پر موجودہ صورت حال میں پارٹی کا شدید دباؤ ہے۔ پیپلزپارٹی کے سینیٹرز اور ایم این ایز شدید بد دلی کا شکار ہیں جب کہ پیپلزپارٹی کی قیادت وزیراعظم سے ملاقات کی خواہش مند ہے۔ذرائع نے مزید بتایا کہ بلاول بھٹو اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کی خواہش لے کر اسلام آباد پہنچے ہیں، بلاول بھٹو کی رواں ہفتے اسلام آباد میں اہم ملاقاتوں کا امکان ہے۔

    افغانستان سے بڑے پیمانے پر اسلحہ اسمگل کرنے کی کوشش ناکام

    ٹرمپ حلف برداری،روسی صدر کا چینی ہم منصب سےٹیلفونک رابطہ

    بھارتی لابی متحرک، ٹرمپ اور مودی ملاقات اگلے ماہ کروانے کی کوششیں

    امداد کی61 گاڑیوں پر مشتمل قافلہ کرم پہنچ گیا

  • ایک اور آئی پی پی کے ساتھ  پاور معاہدہ ختم

    ایک اور آئی پی پی کے ساتھ پاور معاہدہ ختم

    حکومت اور انڈپنڈنٹ پاور کمپنیوں کی جانب سے تصفیوں کے ساتھ معاہدے ختم کرنے کا سلسلہ جاری ہے، حکومت کے ساتھ ایک اور آئی پی پی نے سیٹلمنٹ ایگریمنٹ کے تحت پاور معاہدہ ختم کردیا ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق میسرز روش پاکستان پاور لمیٹڈ نے حکومت سے پاور پرچیز معاہدہ ختم کرنے کی اطلاع سے پاکستان اسٹاک ایکس چینج کی انتظامیہ کو آگاہ کردیا ہے۔پی ایس ایکس کو بھیجے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ میسرز روش پاکستان پاور کمپنی، آلٹرن انرجی لمیٹڈ کے ماتحت کام کرتی ہے۔خط کے مطابق حکومت اور صدر پاکستان کی فراہم کردہ گارنٹی پر کمپنی نے معاہدہ ختم کیا ہے۔خط میں کہا گیا ہے کہ حکومت کی سینٹرل پاور پرجیزنگ ایجنسی سے تمام واجبات کمپنی نے وصول کرلیے ہیں، پاور کمپلیکس کو حکومت کے زیر انتظام نیشنل پاور پارکس مینجمنٹ کمپنی کے حوالے کردیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ 13 دسمبر کو مطابق وفاقی حکومت نے مزید 6 آئی پی پیز کے ساتھ بجلی خریدنے کے معاہدے ختم کرنےکا فیصلہ کرلیا تھا، ذرائع کا کہنا تھا کہ آئی پی پیز کے ساتھ معاہدے ختم کرنے سے مزید 300 ارب روپے کی بچت متوقع ہے۔اس سے قبل 10 اکتوبر کو 5 آئی پی پیز کے ساتھ معاہدے ختم کرنے کا اعلان کیا گیا تھا، وزیراعظم شہباز شریف نے کہا تھا کہ ان معاہدوں کے خاتمے سے عوام کو سالانہ 60 ارب روپے کا فائدہ پہنچے گا اور قومی خزانے کو 411 ارب روپے کی بچت ہو گی۔

    انہوں نے کہا تھا کہ عوام کو بجا طور پر شکوہ ہے کہ گزرے سالوں میں جو آئی پی پیز سے معاہدے ہوئے وہ ناصرف اپنے منافع کما چکے ہیں اور سرمایہ کاری واپس حاصل کر چکے ہیں بلکہ اس سے کہیں زیادہ منافع بھی حاصل کر چکے ہیں تو اب عوام کو کیا مل رہا ہے، یہ عام آدمی کا بالکل جائز سوال ہے۔ہ آئی پی پیز کے حوالے سے ہماری حکومت مسلسل کوششیں کرتی رہی، اس سلسلے میں اویس لغاری کی سربراہی میں ٹاسک فورس بنی اور میں قوم کو بنانا چاہتا ہوں کہ پہلے مرحلے میں ہم پانچ آئی پی پیز سے بجلی کی خریداری کے معاہدے منسوخ کررہے ہیں۔

    آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی ایرانی چیف آف جنرل اسٹاف سے ملاقات

    روسی صدر پوتن نے ڈونلڈ ٹرمپ کو مبارکباد دیدی

    کے فور منصوبہ جولائی 2026 تک مکمل کرلیا جائے گا،سعید غنی

    سنہرے دور کا آج سے آغاز ہو گیا ہے،ٹرمپ کا خطاب

    کراچی انٹر بورڈ میں غنڈہ عناصر سرگرم، طلبا سے رقم لیکر کام کرانے لگے،

  • مذاکرات،پی ٹی آئی کے تحریری مطالبات  کمیٹی میں پیش

    مذاکرات،پی ٹی آئی کے تحریری مطالبات کمیٹی میں پیش

    حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کا تیسرا دور شروع ہو گیا ہے

    پارلیمنٹ ہاؤس میں مذاکرات کا تیسرا دور ہو رہا ہے جس میں حکومتی اور پی ٹی آئی اراکین شریک ہیں،اسپیکر ایاز صادق کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی تحریری مطالبات دیدے گی، مذاکرات کی کامیابی کے حوالے سے کہہ سکتا ہوں اُمید پر دنیا قائم ہے،میں نے یہ بھی پوچھنا ہے کہ وہ کیا چاہتے ہیں، خلوص نیت سے کروں یا نہیں،

    پی ٹی آئی نے تحریری مطالبات حکومتی مذاکراتی کمیٹی کو پیش کردیئے، اسپیکر چیمبر میں مطالبات پر پی ٹی آئی مذاکراتی ٹیم سے دستخط کروائے گئے،حکومتی کمیٹی میں عرفان صدیقی، رانا ثنا اللہ، خالد مقبول صدیقی، فاروق ستار شامل ہیں جبکہ پی ٹی آئی کی جانب سے عمر ایوب، اسد قیصر، علی امین گنڈا پور، علامہ راجہ ناصر عباس اور صاحبزادہ حامد رضا کمیٹی کا حصہ ہیں۔تحریک انصاف کی مذاکراتی کمیٹی نے اپنے تحریری مطالبات حکومت کو پیش کر دیے ہیں جس میں پی ٹی آئی رہنماؤں اور دیگر اسیران کی رہائی کے علاوہ 9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات پر جوڈیشل کمیشن کی تشکیل شامل ہے۔

    مذاکرات، پی ٹی آئی کے تحریری مطالبات کے نکات سامنے آ گئے
    پی ٹی آئی رہنما عمر ایوب نے تحریری مطالبات اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کو پیش کیے، پی ٹی آئی کے مطالبات کے مسودے پر 6 اراکین کمیٹی کےدستخط ہیں، مسودے پر عمرایوب ، علی امین گنڈاپور ، سلمان اکرم راجہ، صاحبزادہ حامد رضا کے دستخط موجود ہیں۔پی ٹی آئی نے تحریری مطالبات میں کہا ہے کہ وفاقی حکومت چیف جسٹس یا سپریم کورٹ کے 3 ججز پر مشتمل دو کمیشن آف انکوائری تشکیل دے، کمیشن وفاقی حکومت کمیشن آف انکوائری ایکٹ 2017 کے تحت قائم کیا جائے، کمیشن کے ججز کی تعیناتی تحریک انصاف اور حکومت کی باہمی رضا مندی کے ساتھ 7 روز میں کی جائے،کمیشن بانی پی ٹی آئی کی 9 مئی سے متعلق گرفتاری کی انکوائری کرے، اسلام آباد ہائیکورٹ میں رینجرز اور پولیس کے داخل ہونے کی انکوائری کی جائے، بانی پی ٹی آئی کی گرفتاری کے بعد 9 مئی واقعات کی سی سی ٹی وی ویڈیو کی تحقیقات کی جائے، کیا 9 مئی سے متعلق میڈیا پر سنسر شپ لگائی گئی اور صحافیوں کو ہراساں کیا گیا؟ کمیشن ملک بھر انٹرنیٹ شٹ ڈاون کی تحقیقات کرے اور ذمہ داروں کا تعین کرے، دوسرا کمیشن 24 سے 27 نومبر، 2024 کے واقعات کی تحقیقات کرے، کمیشن اسلام آباد میں مظاہرین پر فائرنگ اور طاقت کے استعمال کا حکم دینے والوں کی شناخت کرے، کمیشن شہداء اور زخمیوں کی تعداد پر اسپتالوں اور میڈیکل سہولیات کی سی سی ٹی وی ریکارڈنگ کی جانچ کرے، کمیشن مظاہرین کے خلاف طاقت کے زیادہ استعمال کے ذمہ داران کی شناخت کرے، کمیشن ایف آئی آرز کے اندراج میں درپیش مشکلات کی تحقیقات کرے، کمیشن میڈیا سنسر شپ کے واقعات کی تحقیقات کرے،وفاقی اور پنجاب حکومت سمیت سندھ اور بلوچستان کی حکومتیں تمام سیاسی قیدیوں کی ضمانت یا سزاوں کی معطلی کے احکامات جاری کریں، دونوں کمیشن کی کارروائی عوام اور میڈیا کے لیے کھلی ہونی چاہیے۔

    تحریک انصاف جواب سے مطمئن ہوئی تو مذاکرات آگے چلیں گے، عرفان صدیقی
    حکومتی کمیٹی کے ترجمان سینیٹر عرفان صدیقی کا کہنا ہے کہ حکومت بھی تحریک انصاف کی کمیٹی کے تحریری مطالبات کا جواب تحریری صورت میں دیگی،پی ٹی آئی کی مذاکراتی کمیٹی سے ملاقات کے لیے پارلیمنٹ ہاؤس پہنچنے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عرفان صدیقی کا کہنا تھا تحریک انصاف آج اپنے تحریری مطالبات پیش کرے گی،تحریری مطالبات تمام اتحادی اپنے پارٹی سربراہان کے سامنے پیش کریں گے، حکومت کی جانب سے بھی تحریک انصاف کو تحریری جواب دیا جائے گا،تحریک انصاف جواب سے مطمئن ہوئی تو مذاکرات آگے چلیں گے، 31 جنوری کی ڈیڈ لائن سے آگے بھی جایا جا سکتا ہے، 31 جنوری سے قبل تحریک انصاف کو حکومتی کمیٹی جواب دے گی۔

    پہلا مطالبہ اسیران کی قانون کے مطابق رہائی ہے،نہ ہمیں ڈیل چاہیے نہ ڈھیل چاہیے، عمر ایوب
    پاکستان تحریک انصاف کی مذاکراتی کمیٹی کے رکن اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کا کہنا ہے ہمارے حکومت کے ساتھ مذاکرات کامیاب نہ ہو سکے تو احتجاج اوو سے آگے جائے گا،ہمارے تحریری مطالبات تیار ہیں، پہلا مطالبہ اسیران کی قانون کے مطابق رہائی ہے،نہ ہمیں ڈیل چاہیے نہ ڈھیل چاہیے، اسیران کی رہائی، 26 نومبر اور 9 مئی پر جوڈیشل کمیشن ہمارے مطالبے ہیں، بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کی رہائی بھی ہمارا مطالبہ ہے، ہمارے تمام اراکین کی رہائی آئین اور قانون کے مطابق کی جائے، ایگزیکٹو آرڈر سے یہ معاملات حل ہو نہیں سکتے، امپائر صحیح ہونا چاہیے، حکومت کمیشن بنائے دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جائے گا، ہمارے مذاکرات کامیاب نہ ہوسکے تو احتجاج اوو سے آگے جائے گا۔

    صاحبزادہ حامد رضا کا کہنا تھا کہ جنہوں نے مذاکرات کیخلاف گفتگو کی انہیں اسی لہجے میں جواب بھی مل گیا، بیرسٹر گوہر کی آرمی چیف سے وزیر اعلی کیساتھ سیکیورٹی میٹنگ میں ملاقات ہوئی، ون آن ون ملاقات نہیں ہوئی،جو مطالبات ہیں تحریری آج دے دیں گے،

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا کہ جب کسی لیول پر بیٹھتے ہیں تو سوچ کر بیٹھتے ہیں، کسی راستے کیلئے ہی بیٹھتے ہیں،جب مذاکرات کے لیے بیٹھے ہیں تو مقصد بات چیت ہی ہے، اگر ہمیں مذاکرات پر شک و شبہ ہوتا تو یہاں نا آتے، بیک ڈور کی ضرورت نہیں کیونکہ سب اوپن ہو رہا ہے،

    قبل ازیں تحریک انصاف نے حکومت سے مذاکرات کے لیے مطالبات کا ڈرافٹ تیار کر لیا۔اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کے لیٹر پیڈ پر ڈرافٹ تیار کیا گیا،پی ٹی آئی کے مطالباتی ڈرافٹ تین صفحات پر مشتمل ہے،اپوزیشن لیڈر چیمبر میں پی ٹی آئی مذاکراتی کمیٹی کے اراکین سے دستخط کرائے گئے،تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے بھی مطالباتی ڈرافٹ پر دستخط کیے،پاکستان تحریک انصاف نے 3 صفحات پر مشتمل دو مطالبات پیش کیے ،9 مئی اور 26 نومبر پر جوڈیشل کمیشن کا قیام، بانی تحریک انصاف اور کارکنان کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا ہے

    مریم نواز نے کیا "آسان کاروبار فنانس” اور "آسان کاروبار کارڈ” پروگرام کا افتتاح

    حکومت معاشی استحکام کے بعد ملکی ترقی کیلیے مکمل طور پر متحرک ہے، وزیراعظم

  • مذاکرات،کل تحریری مطالبات دے دیں گے،بیرسٹر گوہر

    مذاکرات،کل تحریری مطالبات دے دیں گے،بیرسٹر گوہر

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ کل حکومت کے ساتھ مذاکرات کا تیسرا سیشن ہو گا، جس میں پارٹی اپنے مطالبات تحریری طور پر حکومت کے سامنے رکھے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت نیک نیتی اور سنجیدگی کے ساتھ مذاکرات میں شریک ہو، تو مسائل کا حل ممکن ہے۔

    اسلام آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے، بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ آج کی کمپلینٹ ایک پرائیویٹ کمپلینٹ ہے جس کا طریقہ کار مختلف ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پی ٹی آئی نے اپنے 12 شہدا اور 49 زخمیوں کا ذکر کیا تھا، جن میں سے مزید دو افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جن کا ڈیٹا بھی عدالت میں جمع کرانا ہے۔ اس کے بعد اس کمپلینٹ پر مزید کارروائی کی جائے گی۔بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ سیاسی استحکام اور جمہوریت کے لیے ضروری ہے کہ سیاسی قیدیوں کو رہائی ملے اور انہیں ریلیف فراہم کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے عمل میں جلد تکمیل کی امید ہے اور امکان ہے کہ اس کا نتیجہ خوشخبری کی صورت میں نکلے گا۔

    چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ پارٹی کے بانی اور رہنما کے خلاف جتنے بھی کیسز بنائے گئے ہیں، وہ سیاسی نوعیت کے ہیں اور ان میں سزا یافتہ افراد کو فوری طور پر رہائی ملنی چاہیے تاکہ جمہوریت کا استحکام قائم رہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت کی طرف سے جلد مثبت اقدامات اٹھائے جائیں گے تاکہ ملک میں سیاسی صورتحال میں بہتری آئے۔

    دوسری جانب سلمان اکرم راجہ نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ کل ہم اپنے مطالبات تحریری طور پر پیش کر دیں گے،پھر حکومت کی مرضی ہے وہ مذاکرات کو چلانا چاہتی ہے یا نہیں،ہمارے کمیشن کے قیام کے مطالبے پر حکومت آگے بڑھنا چاہتی ہے یا نہیں چاہتی،تا کہ تحقیق ہو کہ سچ کیا ہے، مذاکرات کا مستقبل ان باتوں پر منحصر ہے، ہم اپنے کسی اصولی مؤقف سے نہیں ہٹیں گے، عوام کے ووٹ پر ڈاکا ڈالا گیا،ہم اس پر پیچھےنہیں ہٹیں گے.

    جنوبی کوریا کے معزول صدر یون سک یول گرفتار

    بھارتی بحریہ کا اسرائیلی تعاون سے تیار’درشٹی 10 ‘ ڈرون ٹیسٹنگ کے دوران حادثے کا شکار

  • ووٹ لوگ ایک امیدوار کو دیتے ہیں، بکسی سے کچھ اور نکلتا ہے،مولانا فضل الرحمان

    ووٹ لوگ ایک امیدوار کو دیتے ہیں، بکسی سے کچھ اور نکلتا ہے،مولانا فضل الرحمان

    جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ فرقوں کو حکومت لڑاتی ہے ان کے درمیان اشتعال انگیزی حکومت پیدا کرتی ہیں اور پھر اس کے ذمہ دار ہم کو ٹھکراتے ہیں

    26 ویں آئینی ترمیم میں قائد جمعیت مولانا فضل الرحمان کی شاندار کارکردگی، اور دینی مدارس کے تحفظ کے لیے قائدانہ کردار ادا کرنے کے اعزاز میں جمعیت علمائے اسلام خیبر پختونخوا کے زیر اہتمام عظیم الشان "استقبالیہ تقریب” کا انعقاد کیا گیا، مولانا فضل الرحمن ، مرکزی جنرل سیکریٹری مولانا عبدالغفور حیدری ،مولانا امجد خان ودیگر قائدین اسٹیج پر موجود تھے، اس موقع پر مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ووٹ لوگ ایک امیدوار کو دیتے ہیں، اور بکسی سے کچھ اور نکلتا ہے ،ابھی کل الیکشن ہوا ہے 15 پولنگ سٹیشن پر ،تو ہمارے امیدوار کے پہلے بھی فارم 45 پر جمعیت علمائے اسلام پاکستان جیتے تھے اور کل بھی لیکن نتائج پھر بھی دوسرے امیدوار کے حق میں دیا،پاکستان کی جمہوریت اور پارلیمانی سیاست معیاری نہیں اور عوام کو مسلسل غلط فہمی کا شکار کیا جا رہا ہے۔مولانا فضل الرحمٰن نے کہا، "ہمیں پیغام دیا جاتا ہے کہ آپ کون ہوتے ہیں جو کرم کے مسئلے کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کرتے ہیں؟” ان کا اشارہ کرم ایجنسی میں جاری فرقہ وارانہ فسادات کی طرف تھا، جس پر انہوں نے افسوس کا اظہار کیا۔

    مولانا فضل الرحمان نے کرم کے علاقے میں ہونے والے فسادات کے حوالے سے کہا کہ "کب تک آپ معاشرے کو غلط فہمی کا شکار کرتے رہیں گے؟” انہوں نے بتایا کہ ان کے پاس دونوں فریقین کے وفود آئے تھے اور انہوں نے مسئلے کے حل کے لیے کوششیں کی تھیں، لیکن اگلے دن ہی فسادات کا آغاز ہوگیا ۔” میرے پاس پرسوں ایک سفیر بھی آئے، جنہوں نے مختلف مسائل پر بات کی اور کرم کے فساد کا ذکر بھی کیا۔ میں نے انہیں بتایا کہ آپ یہ سننا چاہتے ہیں کہ یہ شیعہ سنی فساد ہے، لیکن ہمیں اس مسئلے کا حل بخوبی معلوم ہے اور ہم اس پر کام کر رہے ہیں۔” مولانا فضل الرحمٰن نے مزید کہا کہ کرم کے مسائل حل کرنے کے لیے حکومت کو سنجیدہ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

    ے یو آئی (ف) کے سربراہ نے اس موقع پر پاکستان کے اسلامی ریاست کے قیام میں اکابرین کے پارلیمانی کردار کو بھی اجاگر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو ایک اسلامی ریاست بنانے میں ہمارے اکابرین نے پارلیمنٹ میں اہم کردار ادا کیا، اور ہم اسی راستے پر چلتے ہوئے ملک کی بہتری کے لیے کام کر رہے ہیں۔ولانا نے مزید کہا کہ "حالات بدلتے رہتے ہیں اور ہمیں ان حالات کے مطابق چلنا پڑتا ہے۔” انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ملک کی سیاست میں مسلسل تبدیلیوں کے باوجود، ہمیں اپنے اصولوں پر قائم رہ کر قوم کے لیے بہتر فیصلے کرنے ہوں گے۔

    مولانا فضل الرحمٰن کا یہ خطاب ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال، کرم کے علاقے میں فرقہ وارانہ فسادات اور امدادی سرگرمیوں کی تاخیر کے حوالے سے اہمیت رکھتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت اور پارلیمنٹ دونوں کو سنجیدہ اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ عوام کو مسائل سے نجات مل سکے اور امن قائم ہو سکے۔

    مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل جمعیت علمإ اسلام پاکستان جناب مولانا امجد خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے والے جمعیت علما اسلام کے سیلاب میں بہہ گئے، مستقبل نوجوانوں کا ہے، مولانا جب بات کرتے ہیں تو بڑوں بڑوں کو سر جھکانا پڑتا ہے، 26 ویں آئیں ترمیم میں وہی ہوا جو مولانا نے چاہا،مدارس کی ترمیم بارے مولاناکی خواہش کے مطابق کام ہوا، مولانا نے کہا تھا کہ مدرسوں کے نظام کے راستے میں کوئی رکاوٹ قبول نہیں ہو گی، حکمرانوں نے ہماری قیادت کے فیصلے کو تسلیم کیاہماری قیادت نے مدرسہ، مسجد کی جنگ لڑی اور کامیابی ملی، ہم مولانا فضل الرحمان کی قیادت میں پاکستان میں اسلامی نظام لا کر دم لیں گے.

    بہاولپور: نادرا آفس کی ملازمہ نے شوہر سے جھگڑے کے بعد خودکشی کر لی

    شادی کے اخراجات سے گھبرانے والوں کیلئے حکومت کا بڑا اقدام

  • ڈی سی کرم پر فائرنگ کرنے والے دو مبینہ شرپسند گرفتار

    ڈی سی کرم پر فائرنگ کرنے والے دو مبینہ شرپسند گرفتار

    کرام (خیبر پختونخوا) میں 4 جنوری کو ڈی سی کرم سمیت 7 افراد پر حملے میں ملوث دو مبینہ شرپسندوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق گرفتار ملزمان کو ایف آئی آر میں نامزد کیا گیا ہے اور انہیں تفتیش کے لیے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

    4 جنوری کو لوئر کرم کے علاقے بگن میں نامعلوم شرپسندوں نے فائرنگ کر کے ڈی سی کرم سمیت 7 افراد کو زخمی کر دیا تھا۔ اس فائرنگ کے نتیجے میں علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا تھا۔ زخمی ہونے والوں میں سکیورٹی فورسز کے اہلکار بھی شامل تھے، جنہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔اس حملے کے بعد، کوہاٹ میں ہونے والے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ 4 جنوری کے مجرموں کی حوصلہ افزائی کرنے والے افراد کے خلاف دہشت گردی کے مقدمات درج کیے جائیں گے۔ خیبر پختونخوا حکومت نے اس بات کا اعلان کیا ہے کہ فرقہ ورانہ انتشار کی حمایت کرنے والے سرکاری افسران کے خلاف بھی سخت کارروائی کی جائے گی۔

    اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ اگر کسی بھی فریق کی جانب سے مجرموں کی حوالگی میں عدم تعاون کیا گیا تو اس کے خلاف کلیئرنس آپریشن کیا جائے گا۔ اس دوران، مقامی آبادی کو عارضی طور پر دوسری جگہوں پر منتقل کرنے کی بھی تجویز دی گئی ہے تاکہ کارروائی کے دوران شہریوں کی زندگی کو محفوظ بنایا جا سکے۔خیبر پختونخوا حکومت نے اعلان کیا ہے کہ مختلف خوارج (دہشت گرد) کے سر کی قیمت بھی مقرر کی جائے گی تاکہ ان کے خلاف مزید کارروائیاں کی جا سکیں۔ یہ اقدام علاقے میں قانون کی بالادستی اور امن قائم کرنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔

    دوسری جانب، 4 جنوری کے حملے کے بعد کرم کے علاقے میں ایک قافلہ جو تین ماہ بعد علاقے میں کھانے پینے کا سامان لے کر آ رہا تھا، اسے روک دیا گیا۔ اس قافلے میں شامل افراد اور سامان کی حفاظت کے لیے انتظامات کیے جا رہے ہیں تاکہ علاقے کے عوام کو درپیش مشکلات کا حل نکالا جا سکے۔حکومت نے اس واقعے کو سنجیدگی سے لیا ہے اور دہشت گردوں کے خلاف موثر اقدامات کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے تاکہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔

    190 ملین پاؤنڈ کیس، فیصلے کی نئی تاریخ مل گئی

    پاک فوج اور فرنٹیئر کور نارتھ، وادی تیراہ میں امن کو یقینی بنانے کے لئے کوشاں

  • مذاکرات کا دوسرا دور ختم، پی ٹی آئی نے تحریری مطالبات پر عمران خان سے مشاورت کیلئے وقت مانگ لیا

    مذاکرات کا دوسرا دور ختم، پی ٹی آئی نے تحریری مطالبات پر عمران خان سے مشاورت کیلئے وقت مانگ لیا

    اسلام آباد: حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور ختم ہوگیا، پی ٹی آئی نے تحریری مطالبات پر عمران خان سے مشاورت کے لیے مزید وقت مانگ لیا۔

    باغی ٹی وی :اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیر صدارت حکومت اور اپوزیشن کی مذاکراتی کمیٹیوں کا اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا اجلاس میں حکومت کی جانب سے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، راناثنا اللہ، فاروق ستار، علیم خان،عرفان صدیقی نوید قمر، راجہ پرویز، خالدمگسی، اعجازالحق شریک تھے-

    اپوزیشن (پی ٹی آئی) کی جانب سے قائد حزب اختلاف عمر ایوب، رکن قومی اسمبلی اسد قیصر، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور، پی ٹی آئی کے جنرل سیکریٹری سلمان اکرم راجہ، مجلس وحدت المسلمین (ایم ڈبلیو ایم) کے سربراہ علامہ راجا ناصر عباس، سنی اتحاد کونسل (ایس ٹی آئی) کے چیئرمین صاحبزادہ حامد رضا مذاکراتی کمیٹی میں شامل ہوئے –

    حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے رکن سینیٹر عرفان صدیقی نے مشترکہ اعلامیہ پڑھ کر سنایا۔

    اعلامیہ کے مطابق پی ٹی آئی کمیٹی کے سربراہ عمر ایوب خان صاحب اور دیگر اراکین نے تفصیل سے اپنا نکتہ نظر پیش کیا۔ انہوں نے پی ٹی آئی کے بانی چیئر مین عمران خان صاحب سمیت پارٹی کے لیڈرز اور کارکنوں کی رہائی کا مطالبہ کیا۔

    انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت کو ضمانتوں کے حصول میں حائل نہیں ہونا چاہیئے، انہوں نے 9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات پر جوڈیشنل کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا تا کہ حقائق پوری طرح سامنے آسکیں۔

    پی ٹی آئی کمیٹی نے آگاہ کیا کہ تحریری طور پر چارٹر آف ڈیمانڈ ز پیش کرنے کے لئے ہمیں اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی عمران خان صاحب سے ملاقات ، مشاورت اور رہنمائی حاصل کرنے کا موقع فراہم کیا جائے۔

    انہوں نے کہا کہ عمران خان صاحب نے یہ مذاکراتی عمل شروع کرنے کی اجازت دی ہے لہٰذا اسے مثبت طریقے سے جاری کرنے کے لئے ان کی ہدایات بہت ضروری ہیں۔

    پی ٹی آئی کمیٹی نے مزید کہا کہ عمران خان صاحب سے مشاورت اور رہنمائی کے بعد اگلی میٹنگ میں چارٹر آف ڈیمانڈ باقاعدہ تحریری شکل میں پیش کر دیا جائے گا۔

    حکومتی پارلیمانی کمیٹی کی طرف سے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ گزشتہ میٹنگ میں کیے گئے فیصلے کے تحت ہمیں توقع تھی کہ آج پی ٹی آئی تحریری طور پر اپنے مطالبات پیش کرے گی تاکہ مذاکرات کا کا عمل آگے بڑھایا جا سکے۔

    اسحاق ڈار نے کہا کہ ہمیں کوئی اعتراض نہیں کہ پی ٹی آئی کمیٹی عمران خان صاحب سے رہنمائی حاصل کرنے کے بعد اپنا چارٹر آف ڈیمانڈ ز لائے تا کہ دونوں کمیٹیاں معاملات کو خوش اسلوبی سے آگے بڑھا سکیں۔

    جاری اعلامیے کے مطابق طے پایا کہ پی ٹی آئی کمیٹی کی عمران خان صاحب سے ملاقات کے بعد اگلے ہفتے دونوں کمیٹیوں کی تیسری نشست کی تاریخ کا تعین کیا جائے گا۔

    4 جنوری تک بارش اور برفباری کی پیشگوئی

    حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے بتایا کہ حکومت اور تحریک انصاف بات چیت جاری رکھیں گے، پی ٹی آئی نے عمران خان سے مشاورت کے لیے مزید وقت مانگا ہے، تیسری میٹنگ اگلے ہفتے ہوگی، آج ہونے والی بات چیت خوشگوار ماحول میں ہوئی۔

    ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف نے حکومت کے سامنے 2 مطالبات رکھ دیے، اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کی جانب سے مطالبات کمیٹی کے سامنے رکھے گئے پی ٹی آئی کا پہلا مطالبہ ہے کہ 9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات کی تحقیقات پر جوڈیشل کمیشن قائم کیا جائے جبکہ دوسرے مطالبہ میں بانی پی ٹی آئی عمران خان سمیت تمام سیاسی قیدیوں کی رہائی ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی نے حکومت کو سیاسی قیدیوں پر مزید کیس قائم نہ کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے پی ٹی آئی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ جو کیس موجود ہیں ان پر عدالتی فیصلوں کے مطابق عمل درآمد ہونا چاہیئے، بانی پی ٹی آئی عمران خان سمیت تمام سیاسی قیدیوں پر مزید نئے کیس نہ بنائے جائیں۔

    دہشت گردی کا سرکچلے بغیر پاکستان آگے نہیں بڑھ سکتا، وزیراعظم

    مذاکرات کے بعد مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور مذاکراتی کمیٹی کے ترجمان عرفان صدیقی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی رہنماؤں نے جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا ہے، ہم توقع کررہے تھے کہ پاکستان تحریک انصاف تحریری طور پر نکات لے کر آئیں گے جن کی روشنی میں بات کی جاسکے۔

    عرفان صدیقی نے کہا کہ پی ٹی آئی نے عمران خان سے ملاقات کے لیے سہولت کا مطالبہ کیا ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ وہ اس عمل کے لیے بانی سے رہنمائی لیتے رہیں۔

    انہوں نے کہا کہ ہمیں پی ٹی آئی رہنماؤں کی عمران خان سے ملاقات اور سہولت لینے پر کوئی اعتراض نہیں، تحریک انصاف نے ایک ہفتے کا مزید وقت مانگا ہے جس کے بعد بات چیت کا تیسرا دور آئندہ ہفتے ہوگا، اپوزیشن کے مطالبات اگر تحریری شکل میں آئیں گے تو ہم دیکھیں گے وہ کیا چاہتے ہیں۔

    سینیٹر کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی رہنماؤں نے ملک میں جمہوری استحکام کی بات کی ہے، اپوزیشن کا لہجہ سخت نہیں اور بہت سی چیزوں کو ان کی جانب سے سراہا گیا ہے، بات چیت کا خوشگوار ماحول میں ہونا بھی ایک مثبت پیش رفت ہے۔

    عمران خان کو 190 ملین پاؤنڈ کیس میں سزا سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ مذاکرات سے قبل ہم نے طے کیا تھا کہ اجلاس کے باہر ہونے والے تمام تر بیانات، واقعات کو اہمیت نہیں دی جائے گی، 6 جنوری کو جو بھی نتیجہ آئے گا ہماری طرف سے اس نتیجے کی بنیاد پر مذاکرات کے تسلسل میں کوئی رکاوٹ نہیں آئے گی۔

    مذاکرات سے قبل حکومت اور پی ٹی آئی رہنماؤں کی اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق سے مشاورت ہوئی، ملاقات میں پی ٹی آئی کے عمر ایوب، اسد قیصر اور شیر افضل مروت جبکہ حکومت کی جانب سے رانا ثنا اللہ، طارق فضل چوہدری اور نوید قمر شامل تھے۔

    سردار ایازصادق کا کہنا تھا کہ دونوں طرف سے مثبت فیڈ بیک آرہا ہے، کوئی بہترحل نکلے گا، مذاکرات سے تلخیاں کم ہوں گی۔

    سڈنی ٹیسٹ:روہت شرما اگلے میچ میں ٹیم سے باہر،کپتان کون ہو گا؟

    قبل ازیں پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے حکومتی کمیٹی کے ترجمان سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ میڈیا کے ذریعے پی ٹی آئی کے 2 بڑے مطالبات سامنے آرہے ہیں ہمارے سامنےتحریری مطالبات آئیں تو دیکھیں گے وہ کیا چاہتےہیں۔

    افریقی ملک کے ایک گاؤں میں خلائی کچرا آکر گر گیا

    عرفان صدیقی نے کہا کہ اگر ان کے یہ 2 مطالبات تحریری طور پر سامنے آئے تو ہم ان سے پوچھیں گے یہ کیسے ممکن ہے ہم ان سے پوچھیں گے آپ بھی اتنی ہی تاریخ جانتے ہیں جتنی ہم تو بتائیں قیدیوں کی رہائی کیسےممکن ہے ہمیں یقین ہے کہ پی ٹی آئی والے جو مطالبات لے کر آئیں گے اس پر ہمیں گائیڈ بھی کریں گے، پی ٹی آئی والے ہمیں بتائیں گے کہ آئین اور قانون یہ راستے دیتے ہیں، اگر وہ ہمیں اس پر قائل کردیں گے تو ہم خوش دلی سے ان کے مطالبوں پر غور کریں گے۔

    مریم نواز مساوی بنیادوں پر ترقیاتی منصوبوں پر عمل کرا رہی ہیں،مریم اورنگزیب

  • غلط ہے توحکومت 9 سال سے ہم سے انٹرنیٹ کیوں بند کرواتی ہے، چیئرمین پی ٹی اے

    غلط ہے توحکومت 9 سال سے ہم سے انٹرنیٹ کیوں بند کرواتی ہے، چیئرمین پی ٹی اے

    پاکستان ٹیلی کمیونیکشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے چیئرمین حفیظ الرحمان نے کہا ہے کہ آج پہلی بار پتہ چلا کہ انٹرنیٹ کی بندش غلط ہوتی ہے۔

    سینیٹر پلوشہ خان کی زیرِ صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کا اجلاس ہوا، اجلاس میں وزارت آئی ٹی اور پی ٹی اے نے انٹرنیٹ کی بندش اور اس سے متعلق مسائل پر بریفنگ دی۔چیئرمین پی ٹی اے نے مزید بتایا کہ پی ٹی اے کو روزانہ سوشل میڈیا پر مواد کی 500 شکایات موصول ہوتی ہیں، جس پر پی ٹی اے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو مواد بلاک کرنے کی درخواست کرتا ہے۔ تاہم، اجلاس کے دوران مختلف سینیٹرز نے انٹرنیٹ کی بندش کے قانونی پہلوؤں پر سوالات اٹھائے اور اس حوالے سے پی ٹی اے کے موقف کو چیلنج کیا۔

    سینیٹر کامران مرتضیٰ نے اجلاس کے دوران کہا کہ "ایکٹ میں کہاں لکھا ہے کہ کسی خاص علاقے میں انٹرنیٹ بلاک کرنا ہے؟” اس پر ممبر لیگل وزارت آئی ٹی نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ایکٹ میں کسی خاص علاقے میں انٹرنیٹ بند کرنے کا ذکر نہیں ہے۔ اس کے بعد چیئرمین پی ٹی اے حفیظ الرحمان نے وضاحت دی کہ رولز میں یہ ذکر کیا گیا ہے کہ وزارت داخلہ پی ٹی اے کو انٹرنیٹ کی بندش کی ہدایت دے سکتی ہے۔

    سینیٹر کامران مرتضیٰ نے سوال اٹھایا کہ اگر ایکٹ میں انٹرنیٹ بند کرنے کا جواز نہیں دیا گیا تو پی ٹی اے اس عمل کو کیسے قانونی بنا سکتا ہے؟ جس پر چیئرمین پی ٹی اے نے جواب دیا کہ اگر یہ غلط ہوتا تو حکومت نو سال سے پی ٹی اے کو انٹرنیٹ بند کرنے کی ہدایت کیوں دیتی۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ تاریخ اور وقت بتا سکتے ہیں جب انٹرنیٹ بند کیا گیا تھا۔سینیٹر ہمایوں مہمند نے اس بات پر زور دیا کہ رولز میں صرف سوشل میڈیا پر مواد کے حوالے سے بات کی گئی ہے، تاہم انٹرنیٹ کی بندش کے بارے میں کسی واضح ذکر کا فقدان ہے۔ اس پر چیئرمین پی ٹی اے نے کہا کہ اس حوالے سے حتمی قانونی رائے وزارت قانون اور وزارت داخلہ دے سکتی ہے۔چیئرمین پی ٹی اے نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے حکم پر کئی بار سوشل میڈیا ایپس بند کی گئی ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا 8 فروری کو ہونے والے الیکشن کے دوران انٹرنیٹ کی بندش بھی غلط تھی ، سپریم کورٹ کے حکم پر انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا ایپس کو بند کیا گیا۔بلوچستان میں ڈیجیٹل ہائی وے بنانا پڑے گا،انٹرنیٹ کی فراہمی کے لئے ڈیجیٹل ہائی وے بنانے پڑیں گے جب تک ڈیجیٹل ہائی وے نہیں بنائیں گے انٹرنیٹ ٹھیک نہیں ہوگا،صوبائی حکومتوں سے درخواست کریں کہ سہولت فراہم کریں یہاں تو کام شروع کرتے ہیں لوگ عدالت میں چلے جاتے ہیں

    سینیٹر کامران مرتضیٰ نے سوال کیا کہ کیا رولز ایکٹ سے آگے جا سکتے ہیں؟ اگر سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے تو کیا وزارت نے اس پر نظرثانی دائر کی ہے؟ اس پر سیکریٹری آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام نے بتایا کہ رولز کئی سال پہلے بنے تھے اور ان میں انٹرنیٹ کی بندش کے حوالے سے کسی نئی ترمیم یا نظرثانی کی ضرورت ہو سکتی ہے۔

    اس اجلاس میں مختلف سینیٹرز اور حکومتی اداروں کے نمائندگان کے درمیان بحث کا محور انٹرنیٹ کی بندش کے حوالے سے قانون، حکومت کی ہدایات اور سپریم کورٹ کے فیصلوں کے اثرات تھے۔ اس بات پر اتفاق ہوا کہ اس معاملے پر مزید قانونی وضاحت کی ضرورت ہے، جس کے لیے وزارت قانون اور وزارت داخلہ کی مشاورت ضروری ہو گی۔یہ اجلاس اس بات کا غماز ہے کہ انٹرنیٹ کی بندش اور سوشل میڈیا پر مواد کی نگرانی ایک پیچیدہ قانونی اور انتظامی مسئلہ ہے جسے واضح قوانین اور ضوابط کی ضرورت ہے تاکہ اس حوالے سے آئندہ میں کسی قسم کی ابہام کی صورتحال پیدا نہ ہو۔

    قومی اسمبلی اجلاس،پیپلز پارٹی اراکین کی سست انٹرنیٹ پر حکومت پر سخت تنقید

    انٹرنیٹ اہم ضرورت لیکن پاکستان میں اس کی اسپیڈ کم ہے،شزہ فاطمہ

    انٹرنیٹ کی بندش،سست رفتاری نے پاکستانیوں کو پریشان کر دیا

    انٹرنیٹ کی سست رفتاری کا اثر فری لانسرز پر، کام میں 70 فیصد کمی

  • حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور 2 جنوری کو ہوگا ،نوٹیفکیشن جاری

    حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور 2 جنوری کو ہوگا ،نوٹیفکیشن جاری

    اسلام آباد: حکومت اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی مذاکراتی کمیٹیوں کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور 2 جنوری کو ہوگا جس کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا۔

    باغی ٹی وی : حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور 2 جنوری کو ہو گا جس کا باضابطہ طور پر نوٹیفکیشن قومی اسمبلی سیکریٹریٹ نے جاری کر دیا۔

    جاری اعلامیے کے مطابق مذاکراتی کمیٹی کا اجلاس 2 جنوری کو صبح ساڑھے گیارہ بجے طلب کیا گیا ہے، حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیا ن مذاکراتی کمیٹی کا اجلاس ان کیمرہ ہوگا جس کی صدارت اسپیکر ایاز صادق کریں گے، 2 جنوری کو ہونے والے مذاکراتی اجلاس میں پا کستان تحریک انصاف اپنا چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کرے گی۔

    واضح رہے کہ 23 دسمبر کو پاکستان تحریک انصاف اور حکومتی کمیٹیوں کے درمیان ہونے والی پہلی ملاقات میں مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔

    اگرضرورت پڑی تو پارا چنارجانے کیلئے تیار ہیں،علامہ طاہر اشرفی

    صدر کا 6 بینکوں کو متاثرین کو رقم واپس کرنے کا حکم

    آئی سی سی ٹیسٹ کرکٹر آف دی ایئر کی نامزدگیوں کا اعلان

  • مذاکرات کو حکومت کی کمزوری نہ سمجھا جائے، احسن اقبال

    مذاکرات کو حکومت کی کمزوری نہ سمجھا جائے، احسن اقبال

    وفاقی وزیرمنصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی سے مذاکرات آئین و قانون کے دائرے میں ہوں گے اسے حکومت کی کمزوری نہ سمجھا جائے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق اپنے بیان میں احسن اقبال نے کہا کہ ملک میں سیاسی استحکام اور پالیسیوں کا تسلسل ضروری ہے،سیاسی درجہ حرارت میں کمی ہمارے معاشی اور اقتصادی ایجنڈے کا حصہ ہے۔ مضبوط معیشت مضبوط پاکستان ،کمزور معیشت سے کمزور پاکستان ہوگا۔دوسری جانب وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ میرے حوالے سے تاثر ہے کہ میں مذاکرات کے حق میں نہیں ہوں،میں کبھی بھی مذاکرات کیخلاف نہیں ہوں،سیاست میں مذاکرات ہی آگے بڑھنے کاواحد راستہ ہے۔خواجہ محمد رفیق کی برسی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پچھلے 15دن میں ایسا کیا ہوا کہ پی ٹی آئی مذاکرات کے لیے راضی ہوئی ہے،کہا جاتا تھاکہ حکومت اس قابل نہیں کہ ان سے مذاکرات کیے جائیں۔نوازشریف خود چل کر ان کے گھر گئے،شہبازشریف جب اپوزیشن لیڈر تھے تب بھی مذاکرات کی حمایت کی،ہم جب پاور میں آئے تب بھی کہا کہ مذاکرات ہونے چاہئیں،سب نے اعادہ کیا کہ مذاکرات ہونے چاہئیں،قومی مباحثہ ہوناچاہیے۔دوڈھائی سال میں یہی کہا گیا کہ ہم تو اسٹیبلشمنٹ سے ہی مذاکرات کریں گے،مسلم لیگ ن نے ہمیشہ مذاکرات کی حمایت کی،ایک شخص کی تاریخ ہے کہ اس نے کسی سے وفا نہیں کی۔

    ایکسچینج کمپنیوں کیلئے نئے ریگولیٹری فریم ورک کا اعلان

    کراچی کیلئے بجلی سستی ہونے کا امکان

    کراچی میں آج بھی احتجاج، شہریوں کو شدید مشکلات