Baaghi TV

Tag: حکومت

  • پی ٹی آئی اور حکومت کے مابین مذاکرات کا پہلا دور اختتام پذیر

    پی ٹی آئی اور حکومت کے مابین مذاکرات کا پہلا دور اختتام پذیر

    حکومت اور اپوزیشن کی کمیٹیوں کے درمیان پارلیمنٹ ہاؤس میں مذاکرات آج ہوئے

    حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کی پہلی نشست اختتام پذیر ہو گئی ،سپیکر ایاز صادق کی صدارت میں دونوں کمیٹیوں کے ارکان نے اجلاس میں شرکت کی،آئندہ اجلاس دو جنوری کو ہوگا۔فریقین آئندہ نشست میں اپنا موقف پیش کریں گے،اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کا کہنا تھا کہ با ت چیت جمہوریت کا حسن، حکومت اور اپوزیشن کا مذاکراتی کمیٹیاں تشکیل دینا خوش آئند ہے۔ عوام کو منتخب نمائندوں سے بہت امیدیں وابستہ ہیں۔۔ملک کی موجودہ صورتحال ہم آہنگی کے فروغ کی متقاضی ہے،

    دوران اجلاس اسحاق ڈار نے کہا کہ حکومت جب مذاکرات کی بات کرتی ہےدوسری طرف سے ٹوئٹ آ جاتا ہے،اسد قیصر نے کہا کہ ہم متفق ہیں اپنی کور کمیٹی میں اس ایشو پر تفصیلی بات کی ہے ، اس عمل کی مذمت کرتے ہیں،حکومت اور اپوزیشن نےمذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا،کمیٹی کا اجلاس آئندہ 2جنوری کو ہوگا ،آئندہ اجلاس میں اپوزیشن مطالبات کی فہرست پیش کریگی

    مذاکراتی اجلاس میں شہیدہونے والوں کو خراج عقیدت پیش
    حکومت اور اپوزیشن کمیٹیوں کے اجلاس کی پہلی نشست کااعلامیہ جاری کر دیا گیا،حکومت اور اپوزیشن کی مذکراتی کمیٹیوں کا اعلامیہ سینیٹرعرفان صدیقی نے پڑھ کرسنایا.اعلامیہ میں کہا گیا کہ پارلیمنٹ ہاؤس میں مذاکرات کی پہلی نشست ہوئی.نائب وزیراعظم اسحاق ڈار،راناثنااللہ ،نویدقمر،فاروق ستارشریک ہوئے.دونوں کمیٹیوں نے مذاکرات کو مثبت عمل قراردیا.اپوزیشن کمیٹی نے ابتدائی مطالبات کا خاکہ پیش کیا.آئندہ اجلاس میں اپوزیشن کمیٹی تحریری طور پر مطالبات پیش کرے گی.اجلاس میں دہشت گردی کی جنگ میں شہیدہونے والوں کو خراج عقیدت پیش کیاگیا.اپوزیشن کی جانب سے اسدقیصر،حامدرضااور علامہ ناصرعباس شریک ہوئے.دونوں مذاکراتی کمیٹیوں نےا سپیکرایاز صادق سے اظہارتشکر کیا،مذاکراتی عمل جاری رکھنے پر اتفاق ہواہے،

    قبل ازیں حکومت اور اپوزیشن کی مذاکراتی کمیٹیوں میں مذاکرات ہوئے،سپیکر ایاز صادق نے اجلاس کی صدارت کی ،اپوزیشن کی جانب سے اسد قیصر ،صاحب زادہ حامد رضا علامہ ناصر عباس اجلاس میں شریک ہیں،

    اس سے قبل حکومتی کمیٹی کا اجلاس اسپیکر کی زیر صدارت اسپیکر چیمبر میں ہوا، اجلاس میں سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق،رانا ثناء اللہ،خالد مقبول صدیقی،اسحاق ڈار، فاروق ستار،عرفان صدیقی و دیگر شامل تھے،حکومتی کمیٹی کے اراکین کا کہنا ہے کہ بڑے دل اور کھلے دماغ کیساتھ اچھی توقعات لیکر مذاکرات کیلئے جارہے ہیں،

    علامہ راجہ ناصر عباس مذاکرات میں شرکت کے لیے پارلیمنٹ ہاوس پہنچ گئے ہیں،صاحبزادہ حامد رضا بھی پہنچ گئے اور کہا کہ پی ٹی آئی کھلے دل کے ساتھ حکومت سے مذاکرات کرے گی لیکن ہم اپنے مطالبات سے پیچھے نہیں ہٹیں گے،ہمارے دو مطالبات ہیں ایک نو مئی اور 26 نومبر کی جوڈیشل انکوائری اور دوسرا قیدیوں کی رہائی،اگر پی ٹی آئی پر ٹی ٹی پی سے مذاکرات کا الزام عائد کیا جاتا ہے تو بتائیں کیا ریاستی اداروں کی مرضی کے بغیر ایسا ہوسکتا تھا؟

    آج مذاکرات کا پہلا مرحلہ ، نیت چیک کریں گے، عمر ایوب
    اپوزیشن لیڈر عمرایوب کا کہنا ہے کہ حکومت کے ساتھ آج مذاکرات کا پہلا مرحلہ ہے، نیت چیک کریں گے، پانی کا درجہ حرارت چیک کریں، پھر کچھ کہا جا سکتا ہے، وزیرِ اعلیٰ کے پی اچھی طرح صوبے کے معاملات سنبھال رہے ہیں،پارٹی میں کسی قسم کے اختلافات نہیں ہیں، نام نہاد یا فارم 47 جو بھی ہیں، مذاکرات ان سے ہی کرنے ہیں، فارم 47 حکومت کا رویہ دیکھ کر مذاکرات کا فیصلہ کریں گے، 5 دسمبر کو بانی پی ٹی آئی سے ملاقات ہوئی تھی، اس دن مذاکراتی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی اور اسی دن حکومت نے مجھے گرفتار کیا تھا،

    ہمیشہ کہتا ہوں جو حکمرانی کر رہے ہیں، اُن سے مذاکرات کریں،عارف علوی
    پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے میڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امید ہے 190ملین پاؤنڈ میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بریت ہوگی۔سرکاری گواہ تسلیم کرچکے ہیں کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کا کوئی تعلق نہیں ،سابق صدر عارف علوی کا کہنا ہے کہ میرے دُکھ درد بہت طویل ہیں، ہمیشہ کہتا ہوں جو حکمرانی کر رہے ہیں، اُن سے مذاکرات کریں، سیاست ہی ملک کو بچائے گی.

    اتوار کو وزیراعظم کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق مذاکراتی کمیٹی میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، رانا ثنا اللہ خان اور سینیٹرعرفان صدیقی شامل ہیں،حکومت کی جانب سے مذاکراتی کمیٹی میں اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں کو بھی شامل کیا گیا ہے،کمیٹی میں راجہ پرویز اشرف، نوید قمر، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، علیم خان اور چوہدری سالک حسین شامل ہوں گے جبکہ پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے عمر ایوب، اسد قیصر، سلمان اکرم راجہ، علی امین خان گنڈا پور اور صاحبزادہ حامد رضا مذاکراتی کمیٹی کا حصہ ہیں۔

    ٹرین میں سوئی ہوئی خاتون کو ایک شخص نے زندہ جلا دیا

    پولیس کا آپریشن”لٹیری دلہن”شوہروں پر الزامات لگا کر لوٹنے والی دلہن گرفتار

    آگ کی بھٹی سے گزر چکی، گالی دے دو، نعرہ لگا دو، مجھ پر کچھ اثر نہیں کرتا،مریم نواز

  • وزیراعظم کی زیر صدارت محصولات میں بہتری کے لئے اقدامات پرجائزہ اجلاس

    وزیراعظم کی زیر صدارت محصولات میں بہتری کے لئے اقدامات پرجائزہ اجلاس

    اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت محصولات میں بہتری کے لیے اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا جس میں مختلف اقدامات کی تفصیلات پر بات چیت کی گئی۔

    اجلاس میں شوگر انڈسٹری میں ویڈیو اینالیٹکس کی تنصیب اور نگرانی کے حوالے سے بھی بریفنگ دی گئی۔ وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے ایف بی آر کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ ایف بی آر کی ڈیجیٹائزیشن اور ویڈیو اینالیٹکس کے استعمال سے نہ صرف محصولات کی وصولی میں بہتری آئے گی بلکہ ٹیکس نیٹ کو بھی وسعت دی جا سکے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’ٹیکنالوجی کے استعمال سے قومی خزانے کو اربوں روپے کا فائدہ پہنچے گا اور ٹیکس کے عمل کو زیادہ شفاف بنایا جا سکے گا۔‘‘وزیراعظم نے شوگر انڈسٹری میں ویڈیو اینالیٹکس کی تنصیب کی اہمیت پر بھی بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے چینی کی ذخیرہ اندوزی پر قابو پانے اور قیمتوں میں توازن قائم کرنے میں مدد ملے گی۔ وزیراعظم نے کہا، ’’ہماری بھرپور کوشش ہے کہ عوام کو سستے داموں چینی کی فراہمی یقینی بنائی جائے اور اس کے لیے چینی کے اسٹاک کی باقاعدہ نگرانی کی جائے تاکہ سپلائی چین متاثر نہ ہو۔‘‘وزیراعظم نے شوگر ملوں میں ٹیکس چوری اور کم ٹیکس دینے والی ملوں کے خلاف سخت اور بلا امتیاز کارروائی کی ہدایت بھی دی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’ٹیکس نادہندگان کو ٹیکس نیٹ میں لانا ہماری اولین ترجیح ہے اور اس کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں گے۔‘‘اجلاس میں وزیراعظم نے ایف بی آر کی ویلیو چین کی مکمل ڈیجیٹائزیشن کے کام کو جلد مکمل کرنے کی ہدایت دی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’ایف بی آر کی ڈیجیٹائزیشن کے عمل سے نہ صرف ٹیکس کے نظام میں شفافیت آئے گی بلکہ ٹیکس کی وصولی میں بھی نمایاں بہتری ہو گی۔‘‘وزیراعظم نے سیمنٹ اور ٹوبیکو انڈسٹری میں بھی ویڈیو اینالیٹکس کے استعمال پر زور دیا اور اس کے لیے اقدامات جلد مکمل کرنے کی ہدایت دی۔

    اس اہم اجلاس میں وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، وزیر مملکت خزانہ علی پرویز ملک اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔وزیراعظم نے اس موقع پر کہا کہ حکومت ملک کے محصولات میں بہتری لانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کر رہی ہے تاکہ قومی خزانے کی حالت مضبوط ہو سکے اور عوام کو فائدہ پہنچایا جا سکے۔وزیراعظم کے اس اقدامات سے مجموعی طور پر حکومت کی ٹیکس پالیسی میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو گی جس سے نہ صرف اقتصادی استحکام آئے گا بلکہ عوام کو سستی اور معیاری اشیاء کی فراہمی میں بھی مدد ملے گی۔

    پاکستان کا میزائل ، ایٹمی پروگرام امن اور تحفظ کی ضمانت ہے،تابش قیوم

    پاکستان کا میزائل ، ایٹمی پروگرام امن اور تحفظ کی ضمانت ہے،تابش قیوم

    آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کا ممکنہ شیڈول

  • بیرسٹر سیف کا مذاکرات کا مشورہ،حکومت دلچسپی نہیں دکھا رہی،عمر ایوب

    بیرسٹر سیف کا مذاکرات کا مشورہ،حکومت دلچسپی نہیں دکھا رہی،عمر ایوب

    پشاور: خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات بیرسٹر محمد علی سیف نے اپنی جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے آمادہ کرنے کی تجویز دی ہے۔

    بیرسٹر سیف نے کہا کہ ابھی تک پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان باضابطہ مذاکرات کا آغاز نہیں ہو سکا، اور اس بات پر زور دیا کہ پی ٹی آئی کو حکومت کے بجائے اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔بیرسٹر سیف کا کہنا تھا کہ وہ پارٹی کو بار بار مشورہ دے چکے ہیں کہ حکومت کے بجائے اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کیے جائیں، اور پارلیمنٹ کے اندر اور باہر اپوزیشن جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر لایا جائے۔ ان کے مطابق، اگر اپوزیشن جماعتوں کو ایک جگہ جمع کیا جائے تو حکومت خود ہی مذاکرات کے لیے آمادہ ہو جائے گی۔مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا نے سول نافرمانی کی تحریک کے بارے میں بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے قائد عمران خان نے پارٹی رہنماؤں کی رائے کے بعد اس تحریک کو مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ تاہم، انہوں نے یہ بھی کہا کہ تحریک کا سلسلہ جاری ہے اور سول نافرمانی کی تحریک جلد شروع ہو گی۔بیرسٹر سیف نے مزید کہا کہ اگر وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کو بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کرانے کی اجازت نہ دی گئی تو وہ اس معاملے کو عدالت میں لے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی ایک سیاسی جماعت ہے جو کبھی مفاہمت اور کبھی مزاحمت کرتی ہے، اور اگر مخالفین کی ہٹ دھرمی برقرار رہے تو مزاحمتی سیاست کے سوا کوئی اور آپشن نہیں بچتا۔

    دوسری جانب، پی ٹی آئی کے رہنما اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کی طرف سے مذاکرات کے لیے کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، مگر حکومت کو ان مذاکرات میں کوئی دلچسپی دکھائی نہیں دے رہی۔ پشاور ہائیکورٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے، عمر ایوب نے کہا کہ پی ٹی آئی کے کارکنان کو بے جا طور پر جیلوں میں رکھا گیا ہے، اور پی ٹی آئی کسی سے نہیں ڈرتی۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے مذاکرات کے لیے کمیٹی تشکیل دی ہے، مگر اب تک حکومت کی جانب سے کوئی سنجیدہ پیشرفت نہیں ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت مذاکرات کرنا چاہتی ہے تو کرے، ورنہ پی ٹی آئی کسی کے پاس نہیں جائے گی۔

    پی ٹی آئی کے سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر شبلی فراز نے کہا کہ پی ٹی آئی مذاکرات کی بھیک نہیں مانگے گی اور حکومت کو ہی پہل کرنی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے مفاد میں ہے کہ وہ باضابطہ مذاکرات کی پیشکش کرے، کیونکہ اگر بات چیت سے کوئی حل نکلتا ہے تو یہ ملک کے لیے بہتر ہو گا۔ شبلی فراز نے کہا کہ عمران خان نے سول نافرمانی کی تحریک کو مؤخر کیا ہے، اور پی ٹی آئی کے مذاکراتی کمیٹی کے ارکان کو بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہیں کرائی جا رہی، جس سے کمیٹی کی حدود کا تعین کرنا مشکل ہو رہا ہے۔شبلی فراز نے مزید کہا کہ جب حکومت اپوزیشن کو سنبھال نہ سکے تو ملک کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں سیاسی استحکام کی ضرورت ہے، کیونکہ معاشی استحکام اسی سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی نے پھر سر اٹھا لیا ہے، اور امن و امان کے مسائل کو حکومت اکیلے حل نہیں کر سکتی۔

    واضح رہے کہ گزشتہ کچھ دنوں سے حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات کی خبریں زیر گردش ہیں، لیکن ابھی تک کسی بھی فریق کی جانب سے باضابطہ مذاکرات کا آغاز نہیں کیا گیا۔ اس حوالے سے وزیراعظم کے مشیر رانا ثنااللہ نے کہا تھا کہ اگر پی ٹی آئی سنجیدہ ہے تو انہیں حکومت کو مثبت پیغام دینا چاہیے، اور پی ٹی آئی کی کمیٹی مذاکرات کے لیے حکومت سے رابطہ کرے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ اسپیکر قومی اسمبلی کو بھی کہیں گے کہ وہ وزیر اعظم سے بات چیت کریں۔اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان مذاکرات کا آغاز ہوتا ہے یا ملک میں سیاسی بحران مزید بڑھتا ہے۔

  • ملک کی تمام خرابیوں کی صرف  ایک وجہ  "الیکشن چوری”،شاہد خاقان عباسی

    ملک کی تمام خرابیوں کی صرف ایک وجہ "الیکشن چوری”،شاہد خاقان عباسی

    عوام پاکستان پارٹی کے رہنما،سابق وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ ملک کی تمام خرابیوں کی صرف ایک وجہ ہے اور وہ ہے "الیکشن چوری”۔ جب تک عوامی رائے کا احترام نہیں کیا جائے گا اور انتخابات شفاف نہیں ہوں گے، ملک کی ترقی ممکن نہیں۔

    فیصل آباد کے ڈسٹرکٹ بار میں وکلاء کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ "میں وکلاء کا مشکور ہوں کہ مجھے یہاں مدعو کیا گیا اور جو سوالات آپ لوگ یہاں اٹھا رہے ہیں، وہی سوالات سارا پاکستان کر رہا ہے۔” ان کا کہنا تھا کہ ملک میں آئینی اور قانونی نظام کی مکمل عدم موجودگی کے باعث حالات بہتر نہیں ہو رہے۔انہوں نے مزید کہا کہ "آج پاکستان میں کچھ لوگ امیر ہو رہے ہیں، لیکن وہ ممالک جو اپنے نظام میں تبدیلی نہیں لاتے، وہ ترقی نہیں کر پاتے۔ ہمارے ملک میں آئین اور قانون کی کوئی حقیقت نہیں رہی، اور جب تک رول آف لاء (قانون کی حکمرانی) قائم نہیں ہوتی، ملک کی معیشت کبھی ترقی نہیں کر سکتی۔”

    شاہد خاقان عباسی نے اپنے خطاب میں سابق مشرقی پاکستان (آج کا بنگلہ دیش) کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ "ہم نے 53 سال پہلے اپنا آدھا ملک کھو دیا تھا کیونکہ ایسٹ پاکستان کے مینڈیٹ کا احترام نہیں کیا گیا تھا۔” انہوں نے کہا کہ ایک ملک میں جہاں انتخابات چوری ہوں اور عوام کی رائے کا کوئی احترام نہ ہو، وہاں ترقی ممکن نہیں۔سابق وزیرِ اعظم نے مزید کہا کہ "آج کل رات کے اندھیرے میں آئینی ترامیم کی جاتی ہیں، جو نہ صرف قانون کی حکمرانی کو کمزور کرتی ہیں بلکہ قوم کے اعتماد کو بھی مجروح کرتی ہیں۔”

    شاہد خاقان عباسی نے اس بات پر زور دیا کہ ملک کی خرابی کی اصل وجہ اس کا سیاسی نظام ہے، جہاں انتخابات کا عمل شفاف نہیں اور قانون کی حکمرانی مفقود ہے۔ انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عوامی رائے کا احترام کئے بغیر ترقی کا خواب دیکھنا محض ایک سراب ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کے عوام کو اس وقت سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ ہے قانون کی حکمرانی اور ایک ایسا نظام جس میں ہر شہری کو برابر کے حقوق ملیں۔

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی گھوٹکی آمد،صحافی نصراللہ گڈانی کے ورثا کا احتجاج

    نومئی مقدمے، زرتاج گل پر فرد جرم عائد

  • مذاکرات، ایاز صادق کی حکومت و اپوزیشن کو پیشکش

    مذاکرات، ایاز صادق کی حکومت و اپوزیشن کو پیشکش

    پاکستان کی سیاسی صورتحال میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کی اہمیت بڑھتی جارہی ہے۔ اس معاملے پر سپیکر قومی اسمبلی، ایاز صادق نے اپنی خدمات پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بات چیت کے لیے ہر وقت دستیاب ہیں۔

    ایاز صادق کا کہنا تھا کہ وہ مذاکرات کے ذریعے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان تلخیوں کو ختم کرنے کے لیے تیار ہیں اور اس حوالے سے ان کا دفتر اور گھر دونوں ہر وقت کھلے ہیں۔ایاز صادق نے مزید کہا کہ "سیاسی ایشوز سمیت کسی بھی معاملے پر مذاکرات میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہوں، اور کل ایوان میں ہونے والی بحث بھی خوش آئند تھی۔” ان کا کہنا تھا کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بہتر بات چیت سے ہی ملک کے سیاسی مسائل کا حل ممکن ہے۔میں کچھ مصروف تھا ،کل بھی ہاؤس نہیں جا سکا، مختصر وقت کے لئے گیا تھا، کل شیر افضل مروت،رانا ثناء اللہ، خواجہ آصف نے جو بات چیت کی وہ میں نے دیکھی، سپیکر کا دفتر سب کا گھر ہوتا ہے، سپیکر کے دروازے ہر وقت ممبران کے لیے کھلے ہوتے ہیں،اپوزیشن و حکومت دونوں کے لئے چوبیس گھنٹے میرا دفتر ،گھر کھلا ہے اگر مذاکرات کی بات کرنا چاہیں، مل بیٹھ کر تلخی ختم کرنا چاہیں، ملکی مفاد پر مبنی چیزوں کو سامنے رکھ کر بات کرنا چاہیں، بے شمار اور چیزیں ہیں، موسمیاتی تبدیلی، امن و امان، صوبوں کی خود مختاری ان پر بھی بات چیت ہو سکتی ہے، میرے لئے حکومت و اپوزیشن کے تمام اراکین قابل احترام ہیں.

    اس سے قبل، مسلم لیگ ن نے قومی اسمبلی کے فلور پر پی ٹی آئی کو مذاکرات کی مشروط پیشکش کی تھی۔ ن لیگ کے سینئر رہنما رانا ثناء اللہ نے اس موقع پر اسپیکر آفس کا رستہ دکھاتے ہوئے کہا تھا کہ "اگر آپ سنجیدہ ہیں تو کم از کم حکومت کو مذاکرات کا پیغام تو بھیجیں۔” رانا ثناء اللہ کا یہ بیان حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بات چیت کے امکانات کو مزید بڑھاتا ہے۔پی ٹی آئی رہنما شیر افضل مروت نے بھی اس موقع پر کہا کہ "سیاسی قائدین کو مل بیٹھنا چاہیے، کیونکہ جب تک تمام سیاسی قوتیں ایک ہو کر نہیں بیٹھیں گی، مذاکرات کامیاب نہیں ہو سکتے۔” ان کا کہنا تھا کہ تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو ایک میز پر آ کر مسائل کا حل تلاش کرنا چاہیے۔

    اس موقع پر ایاز صادق نے اپنے مثبت ردعمل کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مکالمت کو فروغ دینے کے لیے تیار ہیں تاکہ ملک کی سیاسی صورتحال میں بہتری لائی جا سکے۔

    پاکستان کی سیاست میں اس وقت تناؤ کی صورتحال ہے اور ایسے میں مذاکرات کی ضرورت شدت اختیار کر چکی ہے۔ حکومت اور اپوزیشن دونوں کے رہنماؤں کی جانب سے اس معاملے پر اپنی اپنی تجاویز دی جا رہی ہیں، جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ سیاسی اختلافات کے باوجود بات چیت کا دروازہ کھلا رکھا جا رہا ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا حکومت اور اپوزیشن مذاکرات کی اس پیشکش پر سنجیدگی سے عمل درآمد کرتی ہیں اور کیا ایاز صادق کی کوششیں اس بات چیت کے لیے زمین ہموار کر سکیں گی۔

  • حکومت واپوزیشن  عوامی مسائل پر توجہ دیں ،خالد مسعود سندھو

    حکومت واپوزیشن عوامی مسائل پر توجہ دیں ،خالد مسعود سندھو

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے مرکزی صدر خالد مسعود سندھو نے کہا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن اپنی بقاء کی جنگ کی بجائے عوامی مسائل پر توجہ دیں تاکہ ملک میں بڑھتی ہوئی افراتفری، انتشار اور دہشتگردی سے ملک پاکستان کو نجات مل سکےموجودہ حالات میں عام آدمی کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے مہنگائی اور بیروزگاری کے مسائل بڑھ رہے ہیں جن پر قابو پانے کیلئے تمام پارٹیوں کو باہمی سیاسی رنجشیں ختم کر کے مشترکہ طور پر فیصلے کرنے ہوں گے تعلیم یافتہ نوجوان نوکریوں کے حصول کیلئے دربدر ہو رہے ہیں بجلی اور گیس کے بلوں نے عوام کی روزمرہ زندگی مشکل میں ڈال دی ہے مرکزی مسلم لیگ ان حالات میں عوام کی خدمت کیلئے شانہ بشانہ ہے سستے سبزی بازار ، تندور اور دستر خوان لگا کر اپنا حصہ شامل کر رہی ہے۔

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے مرکزی مسلم لیگ کے ضلعی سیکریٹریٹ میں پریس کا نفرنس کرتے ہوئے کیا اس موقع پر ان کے ہمرا ہ ضلعی صدر شہباز راجپوت ایڈوکیٹ، جنرل سیکرٹری انجینئر مبین صدیقی، سینئر نائب صدر نثار خان، نائب صدر ملک شہریارکھوکھر، نائب صدرو عمر جنجوعہ، عبدالواحد، شیخ عبدالحنان ویگر بھی موجود تھےدریں اثناء نہوں نے ضلع راولپنڈی کی تنظیم کا باقاعدہ اعلان کی.ا پر یس کا نفرنس میں 16 دسمبر اے پی ایس واقعہ میں شہید ہونے والے بچوں کیلئے دعائے مغفرت کی گئی .خالد مسعود سندھو نے کہا کہ مرکزی مسلم لیگ جمہوریت، شخصی آزادی اور مساوات اور شہریوں کے حقوق کے تحفظ پر یقین رکھتی ہے ، سیاسی کردار کےذریعے پاکستان کے تمام طبقات میں اتحاد و یکجہتی کے لیے کوشاں ہیں، ہمارا منشور شہریوں کو تعلیم ، صحت ، روز گار اور انصاف کے بلا تفریق مواقع فراہم کرنے کیلئے کوشش کرنا ہے۔

    سرکاری اسپتالوں سے چوری کی گئی لاکھوں روپے مالیت کی ادویات برآمد

    ماسکو،دھماکے میں جنرل اور انکا معاون ہلاک

    شانگلہ: چکیسر میں پولیس چوکی پر دہشتگردوں کا حملہ، 2 اہلکار شہید

  • مذاکرات کا طریقہ غلط ،ایسے لگ رہا ہم بھیک مانگ رہے ہیں،علی ظفر

    مذاکرات کا طریقہ غلط ،ایسے لگ رہا ہم بھیک مانگ رہے ہیں،علی ظفر

    پی ٹی آئی حکومت سے مذاکرات کرنا چاہتی ہے اور اس ضمن میں عمران خان نے کمیٹی بھی تشکیل دے دی ہے تا ہم حکومت کی جانب سے ابھی تک پی ٹی آئی سے مذاکرات بارے کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہو سکا، مذاکرات کے حوالہ سے پی ٹی آئی قیادت میں بھی اختلافات دیکھنے کو ملے ہیں

    مذاکرات کے حوالے سے پی ٹی آئی رہنما بیرسٹر علی ظفر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کا مذاکرات کا طریقہ غلط ہے اس سے یہ ظاہر ہو رہا ہے کہ ہم بھیک مانگ رہے ہیں کہ مذاکرات کریں،میں نے عمران خان سے بات کی انہوں نے کہا یہ کوئی طریقہ نہیں ہے بات چیت کا ،اس طریقہ کار سے عمران خان بہت غصے میں ہیں،ہم پر الزام تھا کہ بات چیت کے دروازے بند کیے ہوئے ہیں ہم نے صرف مذاکرات کیلئے کمیٹی بنائی ہے ،ہم نے مذاکرات بھی شرائط کے ساتھ رکھے ہیں،میری خواہش ہے کہ اگر مزاکرات ہوتے ہیں تو اس کا آغاز پارلیمنٹ سے ہو ،پارلیمنٹ کی خصوصی کمیٹی کے اندر بات چیت کا آغاز کیا جائے،ہم ہمیشہ کہتے ہیں کہ مزاکرات ان سے ہونے چاہیے جو بااختیار ہو ،حکومت کو شاید ابھی تک کوئی اشارہ نہیں ملا اس لیے وہ مزاکرات شروع نہیں کر رہے ۔

    دوسری جانب پی ٹی آئی شیر افضل مروت نے کہا ہے کہ مذاکرات شروع نہیں ہوئے، ابھی تو صرف سلام دعا ہوئی ہے، 15 دسمبر سے پہلے پہلے بات ہو جائے تو ملک کے لیے اچھا ہے، 15 دسمبر کو بانی نے ترسیلات زر سے متعلق کال دی ہوئی ہے، حالات جوں کے توں رہے تو کال پر عمل درآمد ہو گا۔

    پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر و تحریکِ انصاف کے رہنما احمد خان بھچر کا کہنا ہے کہ بااختیار لوگوں سے مذاکرات چاہتے ہیں، بااختیار حکومت نہیں اسٹیبلشمنٹ ہے، جب اسٹیبلشمنٹ کی مرضی ہو گی تب مذاکرات ہوں گے، 26 نومبر کو جو ہوا اس کے ذمے دار شہباز شریف ہیں ،24 سے 26 نومبر تک جو کچھ ہوا اس کی ذمے دار پنجاب حکومت ہے۔

    سینیٹر علامہ راجہ عباس ناصر کا کہنا ہے کہ مذاکرات کی کامیابی حکومت کی نیت پر منحصر ہے، کیا وہ چاہتے ہیں کہ پاکستان کے حالات ٹھیک ہوں اور قانون کی حکمرانی ہو، آئین کی سپرمیسی ہو، عوام کی بات سنی جائے، عوام کو حقوق ملیں ،اختیار حکومت کے پاس ہے، ہم تو اپوزیشن میں ہیں احتجاج کر رہے ہیں، ہم پر دہشت گردی کے پرچے کاٹے جا رہے ہیں.

  • احتجاج ،طے کر لیا،اسلام آباد جانا پڑا تو جائیں گے،مولانا فضل الرحمان

    احتجاج ،طے کر لیا،اسلام آباد جانا پڑا تو جائیں گے،مولانا فضل الرحمان

    جمعیت علما اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ہم نے طےکرلیا احتجاج کرینگے، اسلام آباد جانا پڑا تو جائیں گے،

    پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ مدرسوں کی تنظیم یا علما سے کوئی اختلاف نہیں، شکایت صرف اور صرف صدر مملکت سے ہے،صدر مملکت نے آئینی مدت میں مدارس بل پر دستخط نہیں کیے، صدر دستخط نہ کرے تو دس دن بعد بل قانون بن جاتا ھے، بالکل ویسے ہی جیسے صدر علوی نے ایک بار جب دستخط نہ کئے تو حکومت نے نوٹیفکیشن جاری کر دیا تھا۔ ہماری رائے میں ایکٹ پاس ہوچکا، نوٹیفیکیشن جاری کیا جائے۔ مدارس رجسٹریشن کو غیر ضروری گھمبیر بنایا جا رہا ہے،مدارس بل پر عدالت جانا پڑا تو جائیں گے، احتجاج کرنا پڑا تو کریں گے‘آئینی ترمیم کے بعد بل پر دستخط کیوں روکا گیا؟ لاہور میں نواز شریف اور شہباز شریف سے گفتگو میں اتفاق رائے ہوا ،آصف زرداری اور بلاول بھٹو سے بھی مشاورت ہوئی،جنہوں نے علماء کو بلایا وہی تنازع کے ذمہ دار ہیں،بل کی تیاری میں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی دونوں شامل تھیں،مدارس اور تعلیمی ادارے 1860 کے ایکٹ کے تحت رجسٹر ہوتے ہیں،

    مولانا فضل الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ ریاست،ذمہ دار لوگ ملک کو بحرانوں کی طرف دھکیل رہے ہیں، 16 دسمبر کو ہمارا اجلاس ہو رہا ہے، اگر ہمیں عدالت بھی جانا پڑا تو جائیں گے، علما سے گزارش ہےکہ جنہوں نے آپ کو اکسایا یہی اس معاملے کے ذمہ دار ہیں ،یہ ملک، آئین اور پارلیمنٹ کا بھی مذاق بنا رہے ہیں، جب سرکار اس طرح کے ہتھکنڈے استعمال کرے گی تو عوام میں جانے کے علاوہ راستہ نہیں،نواز شریف،آصف زرداری اس وقت دونوں ایک پیج پر دکھائی دے رہے ہیں، مثال موجود ہے جب سابق صدرعارف علوی نے دستخط نہیں کیے تو اس وقت حکومت نے نوٹیفکیشن جاری کر دیا تھا، اس سے زیادہ اس حکومت کی کوئی حیثیت نہیں ہے،

    حکومت اور پی ٹی آئی کے مذاکرات ہو رہے ہیں تو یہ اچھی بات ہے، مولانا فضل الرحمان
    مولانا فضل الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ کرم میں قتل عام ہو رہا ہے، جنوبی اضلاع میں سورج غروب ہونے کے بعد لوگ گھروں سے نہیں نکلتے، تمام مکاتب فکر نے ہمارے موقف کی بھرپور حمایت اور تائید کی ہے، مذاکرات کرنا اچھی بات ہے۔ مسائل حل ہو تے ہیں تو بہتر ہے، اگر حکومت اور پی ٹی آئی کے مذاکرات ہو رہے ہیں تو یہ اچھی بات ہے،

    مدارس پرکسی قسم کی مداخلت قبول نہیں،طاہر اشرفی

    دینی مدارس کی رجسٹریشن،حکومت نے نیا مسوودہ جے یوآئی کو دے دیا

    مدارس رجسٹریشن بل کو قانونی شکل دینے میں کچھ وقت درکار ہے،وزیر برائے مذہبی امور

    مدارس رجسٹریشن بل،صدر مملکت کا اعتراض،واپس بھجوا دیا

  • مذاکرات یا "مذاق رات”پی ٹی آئی تیار،حکومتی جواب،چل کیا رہا؟

    مذاکرات یا "مذاق رات”پی ٹی آئی تیار،حکومتی جواب،چل کیا رہا؟

    پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور ممبر قومی اسمبلی سردار نبیل گبول نے وفاقی حکومت اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے درمیان مذاکرات کا امکان ظاہر کیا ہے۔

    نبیل گبول نے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی اور حکومت میں آج سے مذاکرات شروع ہونے کا امکان ہے اور فریقین میں ایک بریک تھرو کی صورتحال بن سکتی ہے۔حکومت کی شرط یہ ہے کہ مذاکرات پی ٹی آئی کے وکیلوں سے کیے جائیں گے، پشاور والوں سے نہیں، تاہم پشاور کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ مذاکرات ان سے ہونے چاہئیں۔ موجودہ صورتحال میں دونوں فریقین کی طرف سے مذاکرات کے لیے راستے کھلے ہیں لیکن حکومت کی ترجیحات کچھ مختلف ہیں۔

    دوسری جانب پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر کا کہنا ہے کہ حکومت سے ابھی تک کوئی مزاکرات شروع نہیں ہوئے ،مزاکرات جب بھی ہوں گے، اوپن ہوں گے ،سب کے سامنے ہوں گے،مزاکرات کیسے ہوں گے اس کی تفصیلا ت میں جائیں ،مزاکرات خفیہ نہیں کریں گے لوگوں کے سامنے ہوگا ،ابھی مزاکرات کے حوالے سے قوائدو ضوابط طے ہورہے ہیں،

    پی ٹی آئی رہنما عمر ایوب کا کہنا تھا کہ ابھی مزاکرات شروع نہیں ہوئے تاہم.ہم سب کے ساتھ مزاکرات کرنے کو تیار ہیں ،بانی پی ٹی ْآئی نے کمیٹی بنادی ہے، کمیٹی کے نام بھی بتادئیے ہیں، ہم کمیٹی کے ارکان اب مزاکرات کے لئے دستیاب ہیں ،اسپیکر سے مزاکرات کے حوالے سے کوئی بات نہیں ہوئی،اسپیکر سے میں اور عامر ڈوگر نے گزشتہ روز انکی ہمشیرہ کے انتقال پر تعزیت کی تھی ،گزشتہ رات اسد قیصر اور سلمان اکرم راجہ نے بھی اسپیکر سے تعزیت کرنے گئے تھے

    اگر پی ٹی آئی چوروں سےبات کرنے کو تیار ہے تو پھر راستے کھلے ہیں۔عرفان صدیقی
    ن لیگی رہنما عرفان صدیقی کہتے ہیں کہ اگر پی ٹی آئی چوروں سےبات کرنے کو تیار ہے تو پھر راستے کھلے ہیں۔ پی ٹی آئی ہر جگہ سے بے بس اور لاچارہوگئی تو مذاکرات کیلئے تیارہوگئی۔ سول نافرمانی کی تلوار ہماری گردنوں میں لٹکا کر مذکرات کی طرف نہ آئیں ۔مذاکرات میں شرائط ہوتی ہیں، جیلوں میں ایک لاکھ قیدی کسی نہ کسی جرم میں پڑے، حکومت کیسے قیدی چھوڑ دے، یا تو وہ کہہ دیں کہ ہمارے سارے راستے بند ہو چکے ، عدالتوں سے انصاف کی توقع ہے ہم مجبور بے بس لاچار ہوچکے ہیں ہم سے بات کرو، پھر بات ہو جائے گی، سول نافرمانی کی تلوار لٹکی ہو گی تو بات نہیں ہو گی، ڈاکوؤں سے ہاتھ ملانے کو تیار ہیں تو بات ہو جائے گی

    پی ٹی آئی رہنما زرتاج گل کہتی ہیں کہ ہم ملک کی خاطر مذاکرات کرتے ہیں, ہمیں لوگوں نے وٹ دیا، یہ تو نہیں ہو سکتا کہ ظلم بھی ہم پر ہوں اور جھوٹے کیسز میں بھی ہم کورٹس کے چکر لگاتے رہے ، مذاکرات کا کل پہلا دن تھا،عمران خان نے سیاسی کمیٹی بنائی ہے جس کومذاکرات کا مکمل اختیار ہے، مذاکرات میں جو پیشرفت ہو گی شئیر کی جائے گی

    سینیٹر عون عباس کہتے ہیں کہ حکومت مذاکرات کے موقع سے فائدہ نہیں اٹھاتی تو پھر سول نافرمانی کی تحریک اور ڈی چوک پر دوبارہ احتجاج کی ذمہ دار حکومت وقت ہوگی،

    ایم کیو ایم کی مذاکرات کے لئے کردار کی پیشکش
    علاوہ ازیں ایم کیو ایم پاکستان نے پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان مذاکرات میں ثالثی کے لئے خدمات فراہم کرنے کی پیشکش کر دی، ایم کیو ایم رہنما فاروق ستار کا کہنا تھا کہ دنیا میں مسئلے کا حل مذاکرات سے ہی نکلتا ہے،ہمارے سیاسی بحران سے معاشی بحران جڑا ہو ا ہے، لوگ مہنگائی بے روزگاری کی چکی میں پسے ہوئے ہیں ، مذاکرات نتیجہ خیز ہونے چاہئے،فریقین کو ایک دوسرے کے قریب لانے کے لئے ایم کیو ایم کے اراکین اور سیاسی رہنما کردار ادا کرکے نوابزادہ نصراللہ کی یاد تازہ کر سکتے ہیں بشرطیکہ فریقین مانیں،

    گزشتہ روز بھی یہ خبر سامنے آئی تھی کہ پی ٹی آئی کے ایک وفد نے اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق سے ملاقات کی تھی، جس میں پارلیمنٹ کے فورم کو استعمال کرتے ہوئے مذاکرات کرنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔ تاہم بعد ازاں وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات کے امکانات کی تردید کر دی تھی۔

    گزشتہ روز پارلیمنٹ میں پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی خطاب کیا تھا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ پی ٹی آئی نے ایک کمیٹی اس لیے بنائی ہے تاکہ پارٹی کی غلطیوں کو درست کیا جا سکے اور اس کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اب 9 مئی کے واقعات کی تحقیقات کے لیے ایک کمیشن بنانا چاہیے تاکہ اس معاملے کا صحیح سے جائزہ لیا جا سکے۔

    عطا تارڑ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے پی ٹی آئی کے رہنما علی محمد خان نے کہا کہ جب مذاکرات ہوں گے تو یہ اوپر کی سطح پر ہوں گے اور ان مذاکرات میں عطا تارڑ کو شریک نہیں کیا جائے گا۔ علی محمد خان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کسی بھی صورت میں مذاکرات کے لیے اپنے موقف پر ثابت قدم رہے گی اور حکومت کو اس کی ذمہ داری پوری کرنی ہوگی۔

    پاکستان کے سیاسی منظرنامے میں پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان مذاکرات کی باتیں تیزی سے گردش کر رہی ہیں، اور دونوں طرف سے اس پر مختلف ردعمل آ رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے رہنما نبیل گبول نے حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان بات چیت کی امید ظاہر کی ہے، جبکہ پی ٹی آئی کے رہنما بھی اپنی حیثیت کو برقرار رکھتے ہوئے مذاکرات کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں۔ تاہم، اس وقت تک مذاکرات کی صورت میں کوئی حتمی پیش رفت نہیں ہوئی ہے اور یہ دیکھنا باقی ہے کہ حکومت اور پی ٹی آئی اس معاملے پر کس حد تک آگے بڑھتے ہیں۔

    آئیے ہاتھ بڑھائیے

    افواج کے خلاف ہونےوالوں کا کوئی مسقبل نہیں ہوتا، شرمیلا فاروقی

    مریم کی دستک: جدید سہولیات پنجاب کےعوام کی دہلیز پر

  • مدارس رجسٹریشن ،کل لائحہ عمل دیں گے،مولانا فضل الرحمان

    مدارس رجسٹریشن ،کل لائحہ عمل دیں گے،مولانا فضل الرحمان

    جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ اگر حکومت مدارس رجسٹریشن پر سیدھی نہیں ہوتی تو کل لائحہ عمل دیں گے،

    نوشہرہ میں‌مولانا فضل الرحمان نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سے اتفاق ہوا تھا کہ مدارس جس صوبے میں چاہیں رجسٹر ہو سکتے ہیں، اب ایوان صدر سے اعتراض آ رہے ہیں، آصف زرداری خود لاہور اجلاس میں موجود تھے جب بلاول کے ساتھ اس پر اتفاق ہوا تھا،اب ان کے اعتراض کو میں ہاتھ لگانا تو کیا چمٹے سے بھی پکڑنے کو تیار نہیں ہوں ،میرے مدرسے کا طالب علم کالج یونیورسٹی کے نصاب کا امتحان دیتا ہے، اسکی شرح نکالی جائے کہ ہمارا کتنا نوجوان عصری علوم حاصل کر رہا ہے، ہماری شرح بہت زیادہ ہے، اگر بیٹے کے لئے انگریزی پڑھانا مفید سمجھتا ہوں تو امت کے بچوں کے لئے کیوں مفید نہیں سمجھوں گا، کیا دارالعلوم دیوبند نے عصری علوم کا کبھی انکار کیا، تاریخ بھی تو پڑھیے گا، مدرسہ کیوں وجود میں آیا، جو مدرسہ برصغیر میں ہے وہ 1857 سے پہلے کیوں برصغیر میں نہ تھا، اس پر سوچنا چاہیے، اسلام ،علما ہر جگہ ہیں، آج بھی کہنا چاہتا ہوں میری بیوروکریسی جتنی بھی خوش نما، خوبصورت اور معصوم الفاظ میں ہمدردی کے الفاظ استعمال کریں کہ مدارس کو مین سٹریم میں لانا چاہتے ہیں، فضلا کو روزگار دلانا چاہتے ہیں ،یہ وہ زہر ہیں جو آپ ہمیں دینا چاہ رہے، ہمیں آپ پر کوئی اعتماد نہیں، یہ الیکشن دھاندلی کا الیکشن ہے اور یہ حکومت قانونی اور آئینی نہیں ہے، بس ایک زبردستی والی حکومت ہے، اگر خیبرپختونخوا میں کوئی تبدیلی آئےگی تو ہم اس کا حصہ نہیں ہونگے،مدارس کو رجسٹرڈ کروانا چاہتے ہیں لیکن ریاست سے تصادم نہیں چاہتے ،دینی مدارس کو حکومت کے اثرورسوخ سے آزاد رکھنا چاہتے ہیں ،

    جے یو آئی کی 8 دسمبر کے بعد اسلام آباد کا رخ کرنے کی دھمکی،وزیراعظم کا مولانا سے رابطہ

    مولانا سے بلاول کی ملاقات،ملکی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال

    پاکستان کے فیصلے ٹرمپ نہیں کرے گا،مولانا فضل الرحمان

    ہم اس ملک میں غلامی کی زندگی گزار رہے ہیں، مولانا فضل الرحمان