وزیر دفاع خواجہ آصف نے میر رضا کیس میں حکومت سندھ پر تنقید کرتے ہوئے کہا جس طرح کے نتائج سامنے آ رہے ہیں اس سے ثابت ہو رہا ہے کہ پورا سسٹم کمپرومائزڈ تھا۔
سوشل میڈیاسائٹ ایکس پرخواجہ آصف نے لکھا کہ آپ جس طرح اس کیس پر فوکس کر رہے ہیں اس کے نتائج اور حقائق سامنے آرہے ہیں پورا سسٹم کمپرومائزڈ تھا، اب بھی پہرہ دینا ہوگا ورنہ جس طرح پہلے مک مکا ہوا تھا دوبارہ بھی ہو سکتا ہے، جن لوگوں نے معاملے کو چھپانے کی کوشش کی ان کو بھی بے نقاب ہونا ہوگا۔
دوسری جانب حکومت سندھ نے میر رضا قتل کیس کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس حوالے سے وزیر داخلہ سندھ ضیا لنجار کا کہنا تھا حکومت چاہتی ہے کہ میر رضا کی فیملی کو انصاف ملے، معاملے کی تحقیقات کے لیے نئی کمیٹی بھی تشکیل دیدی ہے اور متضاد رپورٹس کےمعاملےکافیصلہ کمیشن یا عدالت پر چھوڑیں گے۔
واضح رہے کہ میر رضا 28 جولائی کو فیروز آباد سے لاپتہ ہوئے تھے اور ان کی لاش انتیس جولائی کو گلستانِ جوہر سے ملی تھی پولیس نے شروع میں اسے خودکشی کا رنگ دینے کی کوشش کی، لیکن مقتول کے والد میر حسین اور ان کے وکیل جبران ناصر نے موجودہ تفتیشی ٹیم پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اسے قتل قرار دیا۔
عدالت کے حکم پر قبر کشائی کے بعد جب آٹھ رکنی میڈیکل بورڈ نے دوسری پوسٹ مارٹم رپورٹ تیار کی، تو اس میں تصدیق ہوئی کہ میر رضا کے جسم پر تشدد کے متعدد نشانات تھے، ان کی پسلیاں، دانت اور کھوپڑی ٹوٹی ہوئی تھی اور گولی پیچھے کی جانب سے لگی تھی۔ اس رپورٹ کے بعد پولیس نے مقدمے میں اغوا کی دفعہ کے ساتھ قتل کی دفعہ 302 بھی شامل کر لی ہے۔
تفتیشی ٹیم اب میر رضا کے موبائل فون کا ریکارڈ بھی چیک کر رہی ہے، جس کے مطابق انہوں نے موت سے قبل علی اور اپنے دوست عبداللہ سے فون پر بات کی تھی اور ان کے فون پر آخری آٹھ پیغامات بھی موصول ہوئے تھے جن کا جواب نہیں دیا گیا تھا۔
