وزیر دفاع خواجہ آصف نے گمراہ کن دعویٰ پر فتنہ الخوارج کے اوچھے ہتھکنڈوں کو بے نقاب کر دیا۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے فتنہ الخوارج کی جانب سے گروپ کیپٹن عاصم کی شہادت پر جھوٹے پراپیگنڈے پر سخت تنقید کی ہے،انہوں نے ایکس پر فتنہ الخوارج کا دعویٰ بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد میں گروپ کیپٹن عاصم طارق کے ایک بہیمانہ قتل کی ذمہ داری طالبان قبول کر رہے ہیں ، فتنہ الخوارج کا کوئی اعتبار نہیں، کل کو شاید پاکستان میں چوری، ڈکیتی اور عام جرائم کا کریڈٹ بھی لینا شروع کر دیں،فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کا مقصد صرف کریڈٹ لینا ہے، حقیقت، اخلاقیات اور ذمہ داری سے انہیں کوئی غرض نہیں۔
واضح رہے کہ اتوار کے روز ائیرفورس کے بہادر گروپ کیپٹن عاصم خاتون کو بچاتے ہوئے شہید ہوگئے تھے ، واقعہ اسلام آباد کے نائنتھ ایوینیو پر پیش آیاگروپ کیپٹن عاصم نےموٹرسائیکل پرسوار شخص کو ایک خاتون کا ہاتھ کھینچتے دیکھا،گروپ کیپٹن عاصم موٹرسائیکل کے قریب رکے تو خاتون گاڑی کی دوسری طر ف بھاگ گئی-
اسی دوران مبینہ ملزم نے گروپ کیپٹن عاصم سے بدکلامی کی اور ان پر فائرنگ کر دی،گروپ کیپٹن عاصم زخموں کی تاب نہ لاتے ہو ئے شہید ہوگئے، ملزم موقع سے فرار ہوگیا،خاتون کےمطابق ملزم ان کادفتری ساتھی ہےجس نےساتھ کام پرجانےکی پیشکش کی تھی،ملزم راستہ بدل کراسےکہیں اور لے جانا چاہتا تھا،گروپ کیپٹن عاصم نے بروقت مداخلت کر کے مجھے بچایا،گروپ کیپٹن عاصم شہید نے سوگواران میں بیوہ، بیٹی اور بیٹا چھوڑے۔
بعدازاں آئی جی اسلام آباد نے پریس کانفرنس کر کے اعلان کیا کہ گروپ کیپٹن عاصم طارق شہید کے قاتل کو واقعے کے بعد 9 گھنٹے میں گرفتار کر لیا گیا اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے گروپ کیپٹن عاصم طارق قتل کیس میں گرفتار ملزم کو شناختی پریڈ کے لیے 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم جاری کردیا۔
