Baaghi TV

Tag: خواجہ آصف

  • بانی پی ٹی آئی کے بارےپیغام آیا تو ہینڈل کرسکتے ہیں، خواجہ آصف

    بانی پی ٹی آئی کے بارےپیغام آیا تو ہینڈل کرسکتے ہیں، خواجہ آصف

    وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے حلف اٹھانے کے بعد تعمیری تقریر کی، اگر کسی امریکی نمائندے کا بیان آیا تو پاکستان اسے سنبھالنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ اگر امریکی انتظامیہ کی طرف کوئی ٹویٹ، پیغام یا بیان آگیا تو پاکستان اس پوزیشن میں ہے کہ اس کو ہنیڈل کرسکے، ہمارے وہاں تعلقات ہیں، عمران خان کیلئے کوئی پہاڑ حرکت میں نہیں آئیں گے، ایسی کوئی بات نہیں ہے، ہمارے سیاسی لوگوں نے اپنے دل کی خواہشات امریکا سے وابستہ کرلی ہیں، حالانکہ واشنگٹن کی اپنی ترجیحات اور مفادات ہیں۔ہمیں عمران خان اور امریکا سے متعلق ہر گز کوئی پریشانی نہیں. پی ٹی آئی پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا، آرمی چیف سے بیرسٹر گوہر کی ملاقات میں دہشتگردی کے امور پر گفتگو ہوئی، سپہ سالار نے ان کو کہاکہ سیاسی امور پر سیاستدانوں سے بات کی جائے۔

    واضح رہے کہ امریکا کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صدارت کے عہدے کا حلف اٹھا لیا، اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے جوبائیڈن حکومت کی پالیسیوں پر شدید تنقید کی اور کہاکہ اب ہمارے دور میں امریکا ترقی کرےگا۔دریں اثنا صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے بھی ڈونلڈ ٹرمپ کو عہدہ صدارت سنبھالنے پر مبارکباد پیش کی ہے۔

    ساجد خان نے ثقلین مشتاق اور سعید اجمل کو پیچھے چھوڑ دیا

    صدر ٹرمپ کا جنوبی سرحدوں پر نیشنل ایمرجنسی لگانےکا اعلان

    ایک اور آئی پی پی کے ساتھ پاور معاہدہ ختم

    آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی ایرانی چیف آف جنرل اسٹاف سے ملاقات

    ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کے سب سے معمر صدر بن گئے

  • ملک ریاض مفرور ہے، وہ پاکستان نہیں آتے،خواجہ آصف

    ملک ریاض مفرور ہے، وہ پاکستان نہیں آتے،خواجہ آصف

    وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے سیالکوٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ القادر یونیورسٹی کیس کا فیصلہ آچکا ہے اور اس سے متعلق اہم پیشرفت ہوئی ہے۔

    خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ فرح گوگی جو مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر رقم لے کر بیرونِ ملک فرار ہوئی، اس نے ریاستی وسائل کا غلط استعمال کیا اور چوری کے مال کو ہڑپ کرنے کی کوشش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کبھی بھی ایسا نہیں ہوا کہ ریاستی رقم کسی کے ذاتی اکاؤنٹ میں منتقل کی جائے، اور ایسا عمل پوری قوم کے لیے باعث شرم ہے۔وزیرِ دفاع نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی، عمران خان، جو کہ ہمیشہ مخالفین کو چور اور بدعنوان قرار دیتے رہے، انہوں نے خود ریاست کے وسائل کا غلط استعمال کیا اور عوام کے ساتھ ظلم کیا۔ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف جو کچھ ہوا، وہ سب سامنے آچکا ہے اور ان کی حکومت نے عوام کو صرف دھوکہ دیا۔

    میڈیا والے بتائیں ملک ریاض کا نام کیوں نہیں لیتے؟خواجہ آصف
    خواجہ آصف نے نواز شریف کے بارے میں کہا کہ ان پر کوئی بھی الزام ثابت نہیں ہو سکا، اور مخالفین کے پاس ان کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ہیں۔ مذاکرات میں پی ٹی آئی کی ڈیمانڈ ہے کہ ایگزیکٹو آرڈر کے تحت قیدی رہا کیے جائیں لیکن یہ نہیں ہوگا۔عدالتیں ہی قیدیوں کو رہا کر سکتی ہیں،کسی کوغلط فہمی نہیں ہونی چاہئےکہ القادر کوئی یونیورسٹی نہیں ہے،190 ملین پاؤنڈز پاکستانی عوام اور حکومت کا پیسہ ہے،ٹی وی پر سنا ہے کہ یونیورسٹی سرکاری تحویل میں لی جا رہی ہے، سوکالڈ یونیورسٹی، کسی کو غلط فہمی نہیں ہونی چاہئے،یہ یونیورسٹی نہیں ہے، ملک ریاض مفرور ہے، وہ پاکستان نہیں آتے کیونکہ مقدمے میں سب سامنے آگیا ہے،برطانیہ سے آنے والا پیسہ عمران خان نے ملک ریاض کے اکاؤنٹ میں ڈالا گیا، وہ پیسہ پاکستانی حکومت کا تھا،میڈیا والے بتائیں ملک ریاض کا نام کیوں نہیں لیتے؟ جیو والے بیپ، بیپ کرتے ہیں، جہاں سے مال ملے وہاں کوئی نہیں بولتا،

    عمران خان نجات دہندہ نہیں، نوسرباز فراڈیا ہے،کوئی بزدار ہوتا ہے کوئی گوگی ،نام ہی شریفوں والے نہیں، گوگا، گوگی، کن ٹٹے نام ہیں،خواجہ آصف
    خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ مذاکراتی ٹیم میں کوئی بتادےمیں نےمذاکرات سےمنع کیاہو،پی ٹی آئی والوں نےخودکہاہےفیصلےکامذاکرات پراثرنہیں پڑےگا،اللہ کرے ملک کیلئے خلوص کیساتھ مذاکرات جاری رہیں، عمران خان نجات دہندہ نہیں، نوسرباز فراڈیا ہے، کوئی بزدار ہوتا ہے کوئی گوگی ہوتی ہے، عجیب عجیب نام ہیں،نام ہی شریفوں والے نہیں، گوگا، گوگی، کن ٹٹے نام ہیں،

    واضح رہے کہ احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے اڈیالہ جیل میں القادر یونیورسٹی ٹرسٹ سے جڑے 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کا فیصلہ سناتے ہوئے کرپٹ پریکٹس پر عمران خان کو 14 سال اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو 7 سال قید کی سزا سنائی ہے، عدالت نے عمران خان کو 10 لاکھ روپے اور بشریٰ بی بی کو 5 لاکھ روپے جرمانے کی سزا بھی سنائی گئی احتساب عدالت نے القادر یونیورسٹی کو سرکاری تحویل میں لینے کا حکم بھی دیا۔

    بانی پی ٹی آئی ملکی سیاسی تاریخ کا سب سے بڑا ڈاکو ثابت ہوچکا ،عطا تارڑ

    عمران،بشریٰ کو سزا، پی ٹی آئی کا فیصلہ چیلنج کرنے کا اعلان

    190 ملین پاؤنڈ ریفرنس،عمران کو 14،بشریٰ کو 7 برس قید کی سزا

  • بنی گالہ منتقلی خواہش،حقیقتا ایسا کچھ نہیں،خواجہ آصف

    بنی گالہ منتقلی خواہش،حقیقتا ایسا کچھ نہیں،خواجہ آصف

    وفاقی وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے سیالکوٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انہیں بنی گالہ منتقل ہونے کی پیش کش ہوئی تھی، تاہم خواجہ آصف نے اس بیان کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ صرف بانی پی ٹی آئی کی خواہشات ہیں اور اس میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔

    خواجہ آصف نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی کا معاملہ عدالت کے ساتھ تعلق رکھتا ہے، اس لیے اس بارے میں کوئی بھی فیصلہ صرف عدالت کی جانب سے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی یا گرفتاری کا فیصلہ سیاسی نہیں بلکہ قانونی عمل کے تحت ہوگا۔وزیر دفاع نے ملک کی معیشت کے بارے میں بھی گفتگو کی اور کہا کہ ہماری معیشت بتدریج سنبھل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ملک میں امن قائم ہو جائے تو پاکستان خود کفیل ہو سکتا ہے اور اقتصادی بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

    خواجہ آصف کا یہ بھی کہنا تھا کہ ملک کے اندر سیاسی استحکام اور امن کی صورتحال سے معیشت کی بہتری ممکن ہے اور اس کے لیے تمام اداروں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان میں امن قائم ہو، تو معیشت میں خود کفالت کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔انہوں نے حکومت کی اقتصادی پالیسیوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہ پالیسیوں ملک کی معیشت کی بحالی میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔

    واضح رہے کہ علیمہ خان نے دو روز قبل کہا تھا کہ علی امین گنڈا پور نے عمران خان کو اڈیالہ سے منتقل کرنے کی پیشکش کی تھی، جس کے بعد یہ بات چل رہی تھی کہ عمران خان کو اڈیالہ سے بنی گالہ منتقلی کی بات چیت چل رہی ہے تا ہم اب واضح ہو چکا ہے کہ بنی گالہ منتقلی پی ٹی آئی کی خواہش ہو سکتی ہے، حقیقت میں ایسا کچھ نہیں ہے.

  • سوا چار سال بعد پی آئی اے کی پرواز اسلام آباد سے پیرس کے لیے روانہ

    سوا چار سال بعد پی آئی اے کی پرواز اسلام آباد سے پیرس کے لیے روانہ

    پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) کی پرواز، جو اسلام آباد سے پیرس کے لیے روانہ ہوئی، سوا چار سال کے بعد ایک بڑی کامیابی ہے۔ اس پرواز کا آغاز وزیر دفاع خواجہ آصف کی موجودگی میں ہوا، جنہوں نے مسافروں کو الوداع کرتے ہوئے اس تاریخی موقع پر اہم باتیں کیں۔

    وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے پی آئی اے کی پیرس کے لیے پروازیں دوبارہ شروع کروانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ گزشتہ حکومت کی بیان بازی نے پی آئی اے کو بہت نقصان پہنچایا، اور اس کے باوجود پی آئی اے نے سول ایوی ایشن کے ساتھ مل کر محنت کی اور 4 سال کے دوران کئی سو ارب روپے کا خسارہ اٹھایا۔وزیر ہوابازی خواجہ آصف نے پرواز کو خود بھی وزٹ کیا ،وزیر ہوابازی نے پرواز پی کے 749 کے مسافروں سے بات چیت بھی کی۔

    ترجمان پی آئی اے کے مطابق، پہلی پرواز جو اسلام آباد سے پیرس کے لیے روانہ ہوئی، وہ دن کے بارہ بجے روانہ ہوئی ہے۔ پیرس جانے اور آنے والی پہلی اور دوسری پروازوں کی فلائٹ بکنگ مکمل ہو چکی ہے، جس سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ پی آئی اے کی پروازوں کے لیے عوام میں بڑی دلچسپی ہے۔ترجمان پی آئی اے کے مطابق، وہ پیرس کے لیے ہفتے میں دو براہ راست پروازیں چلائے گی، اور مسافروں کو ان فلائٹ انٹرٹینمنٹ کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی، جس میں موبائل فون، ٹیبلٹ یا لیپ ٹاپ کے ذریعے تفریحی مواد تک رسائی حاصل کی جا سکے گی۔

    یورپ کی فضاﺅں میں ایک بار پھر سبز ہلالی پرچم لہرانا شروع ہو گیا ،خواجہ آصف
    اسلام آباد ایئرپورٹ پر اس پرواز کی روانگی سے قبل ایک تقریب بھی منعقد کی گئی، جس میں وزیر دفاع خواجہ آصف نے خطاب کرتے ہوئے پی آئی اے اور سول ایوی ایشن کی محنت کو سراہا۔ خواجہ آصف نے کہا کہ پی آئی اے کی پروازیں اب یورپ کی فضاؤں میں بھی پرواز کریں گی، اور وہاں سبز ہلالی پرچم لہراے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پی آئی اے برطانیہ میں بھی تین مقامات پر اپنی پروازیں آپریٹ کرے گی۔خواجہ آصف نے اس موقع پر یہ بھی بتایا کہ پی آئی اے پر اس وقت 800 ارب روپے کا قرض ہے، اور اس کے باوجود پی آئی اے نے اپنی خدمات میں بہتری لانے کے لیے بھرپور کوششیں کی ہیں، قومی ایئر لائن پاکستانیوں کی میتیں بغیر کسی چارجز کے مفت لے کر آتی تھی لیکن فلائٹ آپریشن بند ہونے سے اوور سیز پاکستانی اس سہولت سے محروم ہو گئے تھے۔ پورے یورپ کے لئے قومی ایئر لائن کی پروازیں بحال ہو گئی ہیں، یورپ کی فضاﺅں میں ایک بار پھر سبز ہلالی پرچم لہرانا شروع ہو گیا ہے، ایک غیر ذمہ دار بیان نے قومی ایئر لائن کو بہت نقصان پہنچایا، ایسے غیر ذمہ دارانہ بیانات دینے والوں کا احتساب ہونا چاہئے۔

    یہ پرواز پی آئی اے کی بین الاقوامی پروازوں کی دوبارہ بحالی کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہو گی، اور اس کے ذریعے نہ صرف قومی ایئر لائن کی ساکھ میں بہتری آئے گی، بلکہ پاکستانی شہریوں کو بھی بین الاقوامی سفر میں آسانی حاصل ہوگی۔

    وزیرِاعظم کی پی آئی اے کی پیرس کیلئے پہلی پرواز کی روانگی پر عوام کو مبارکباد
    اسلام آباد: وزیرِاعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے پی آئی اے کی یورپ کیلئے پروازوں کی بحالی کے بعد پیرس کیلئے پہلی پرواز کی روانگی پر عوام کو مبارکباد دی۔ وزیرِاعظم نے اس اہم موقع پر اپنے بیان میں کہا کہ پی آئی اے کی یورپ کیلئے پروازوں کی بحالی سے بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو ایک بڑی سہولت حاصل ہوگی، کیونکہ وہ اب براہِ راست پروازوں کے ذریعے اپنے وطن واپس جا سکیں گے اور دیگر اہم مقامات تک بھی آسانی سے سفر کر سکیں گے۔

    وزیرِاعظم نے مزید کہا کہ پی آئی اے کی یورپ کے لئے پروازوں کی بندش سے قومی ایئرلائن کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچا تھا اور اس کی ساکھ بھی متاثر ہوئی تھی۔ تاہم، انہوں نے کہا کہ اللہ کے فضل و کرم سے موجودہ حکومت نے پی آئی اے کا تشخص بحال کیا ہے اور اب یہ قومی ایئرلائن ترقی کی جانب گامزن ہے۔شہباز شریف نے اس کامیابی کے حوالے سے نائب وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ محمد اسحاق ڈار، وزیرِ ہوا بازی و وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف، اور متعلقہ تمام اداروں کے افسران و اہلکاروں کی کوششوں کو سراہا اور انہیں تحسین کے لائق قرار دیا۔ وزیرِاعظم نے کہا کہ ان کی محنت اور عزم کی بدولت پی آئی اے کی یورپ کیلئے پروازوں کی بحالی ممکن ہوئی۔

  • یہ پہلا سیاستدان ہے جو امریکا کی منتیں کر رہا ہے کہ مجھے بچائیں،خواجہ آصف

    یہ پہلا سیاستدان ہے جو امریکا کی منتیں کر رہا ہے کہ مجھے بچائیں،خواجہ آصف

    مسلم لیگ ن کے رہنما، وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ میرے متعلق قیاس ہے کہ میں مذاکرات کے حق میں نہیں، میں مذاکرات کا مخالف نہیں،

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ کئی دفعہ کہا کہ مذاکرات ہونے چاہئیں لیکن کوئی ردعمل نہیں آیا، بدتمیزی کے ساتھ جواب دیا جاتا تھا،میں مذاکرات کے خلاف نہیں لیکن مجھے سمجھائیں اب ایسا کیا ہوا کہ یہ راضی ہو گئے،پچھلے 15 دن میں ایسی کیا چیز ہوئی پی ٹی آئی مذاکرات پر راضی ہوگئی ،وہ بھی ہمارے ساتھ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تو وہ ہر وقت راضی تھی، کوئی مجھے بتائے تو سہی کہ 15 دن میں کیا نسخہ سامنے آیا ہے، کیا کوئی تعویز آیا ہے یا کسی نے پُھونک ماری ہے۔پہلے کہتے تھے ان کی کوئی اوقات نہیں جن کی اوقات ہے، ہم ان سےبات کرینگے ، ن لیگ اور دیگر جماعتوں کے ساتھ اپنے نمائندے بھی بٹھا دیئے،یہ وہ شخص ہے جو 9 سال سے مذاکرات کی دعوت کو ہماری کمزوری سمجھ کر مذاق اڑاتا رہا اور آج مذاکرات کی بھیک مانگ رہا ہے۔مسلم لیگ ن نے مذاکرات کیلئے سب سے پہلے ہاتھ بڑھایا ،سیاست میں مذاکرات ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہوتا ہے،

    خواجہ آصف کا مزید کہنا تھاکہ میں بڑے محتاط انداز میں کہوں گا، مذاکرات ضرور کریں، اللہ کامیاب کریں لیکن خیال رکھنا رُل نہ جانا، ایک شخص(عمران خان) کی تاریخ ہے،کوئی پی ٹی آئی والا ہی بتا دے کہ اُس نے کسی ایک رشتے یا بندے سے وفا کی ہو، جنہوں نے ساری عمر اُس کے ساتھ گزاری، اُن کے جنازے میں نہیں گیا،
    ن لیگ اور پیپلزپارٹی میں بڑی تلخیاں رہیں لیکن دونوں خلوص دل سے ساتھ ہیں،کسی سیاستدان نے امریکا کے ترلے نہیں کیے، بھٹو نے بھی امریکا کو آنکھیں دکھائیں،یہ پہلا سیاستدان ہے جو امریکا کی منتیں کر رہا ہے کہ مجھے بچائیں،طاقت کی پوزیشن میں کوئی مذاکرات کرتا ہے تو اس کے خلوص پر شک نہیں کیا جا سکتا، افغانستان کی جنگ میں جانے کا ہمارا کوئی کام نہیں تھا،پاکستان کے سوا سارے خطے میں امن ہوچکا ہے،بانی پی ٹی آئی کی وجہ سے 40 ہزار بندے افغانستان سے واپس آئے ،

    2018 سے 2022 کے درمیان فوجی عدالتوں سے ہونے والی سزائیں کسی کو یاد نہیں،ایاز صادق
    سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے تقریب سے خطاب میں کہا کہ شہباز شریف نے نواز شریف سے مشاورت کے بعد مذاکراتی کمیٹی بنائی9 مئی کو وہ کیا گیا جو بھارت کی فوج بھی نہ کرسکی ،کیا پہلی بار ملٹری کورٹس سے سزائیں ہوئی ہیں ؟جو باہر بیٹھ کر ٹویٹ کرتے ہیں کیا انہوں نے کبھی کشمیر ، غزہ کی بات کی ؟ معاشرے کو ایسے لوگوں کا بائیکاٹ کرنا چاہیے ،جس جماعت نے پونے 4 سال بات کرنے سے انکار کیا انہوں نے مجھ سے اپیل کی ، 2018 سے 2022 کے درمیان فوجی عدالتوں سے ہونے والی سزائیں کسی کو یاد نہیں،26 آئینی ترمیم پر اپوزیشن نے بحث میں حصہ نہیں لیا، اسمبلی میں اپوزیشن کو بات کرنے کی کوئی روک ٹوک نہیں،اسمبلی میں ایسی بحث ہونی چاہیے جس سے راستہ نکلے

    نو مئی کے تمام ملزمان کیفر کردار کو پہنچیں گے، عطا تارڑ

    زونگ موبائل نیٹ ورک کی درخواست ناقابلِ سماعت ہونے کی بنیاد پر خارج

  • اسرائیل کے حامی ممالک سے عمران خان کی حمایت کیوں؟ خواجہ آصف

    اسرائیل کے حامی ممالک سے عمران خان کی حمایت کیوں؟ خواجہ آصف

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے عمران خان کی بین الاقوامی حمایت کے حوالے سے ایک بیان میں سخت تنقید کی ہے۔

    خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ عمران خان کی حمایت ان تمام ممالک سے آ رہی ہے جو اسرائیل کے کھلے حامی ہیں، اور جن ممالک کی حمایت کی بدولت اسرائیل کا وجود قائم ہے۔ ان ممالک نے فلسطینیوں کی نسل کشی کے خلاف کبھی کوئی آواز بلند نہیں کی بلکہ وہ خود فلسطینیوں کے قتل عام کے سہولت کار ہیں۔ ان ممالک سے جو افراد عمران خان کی حمایت میں آواز اٹھا رہے ہیں، یا تو وہ خود صیہونی ہیں یا پھر اسرائیل کی مسلم دشمن پالیسیوں کے کھلے طور پر حامی ہیں۔خواجہ آصف نے سوال اٹھایا کہ کیا یہ سب محض اتفاق ہے، یا پھر یہ ممالک اور افراد کسی ایسے ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں جس کا مقصد پاکستان کی ایٹمی صلاحیت کو ختم کرنا ہے؟ انہوں نے یہ دعویٰ کیا کہ یہ ممالک اور افراد چاہتے ہیں کہ پاکستان کی ایٹمی قوت کو لپیٹ کر اسے اپنے مالکوں کی ‘کلائنٹ اسٹیٹ’ بنا لیا جائے، جو ان کے مذموم ایجنڈے کی تکمیل کرے۔

    خواجہ آصف نے یہ بھی کہا کہ پاکستان ایک بڑی سازش کا شکار ہو رہا ہے، اور اس سازش کو عملی طور پر مکمل کرنے کی ذمہ داری عمران خان پر عائد کی گئی ہے۔ ان کے مطابق عمران خان اور ان کے حمایتیوں کا رویہ اس بات کا غماز ہے کہ پاکستان میں سیاسی عدم استحکام اور ایٹمی صلاحیت کے خلاف کچھ طاقتیں ایک پیچیدہ کھیل کھیل رہی ہیں۔خواجہ آصف نے عمران خان کے عالمی تعلقات اور ان کی سیاست پر گہرے سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ سب ایک بڑے منصوبے کا حصہ ہو سکتا ہے جس کا مقصد پاکستان کی خودمختاری اور طاقت کو نقصان پہنچانا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی سیاست میں حالیہ جوڑ توڑ صرف داخلی مسائل کا نتیجہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے عالمی سطح پر ایک گہری سازش ہو سکتی ہے، جس میں کچھ بیرونی طاقتیں اپنی مرضی کے مطابق پاکستان کو ایک کمزور ریاست میں بدلنے کے خواہاں ہیں۔عمران خان کی غیر متوقع حمایت میں وہ ممالک اور افراد شامل ہیں جو فلسطین کے مسئلے پر مکمل خاموش ہیں اور جو اسرائیل کے حق میں کھل کر بات کرتے ہیں،

    چین،کار حادثے میں 35 افراد کو کچلنے والے ملزم کو سزائے موت

    بجلی چوری کی روک تھام کے لئے ٹھوس اقدامات لئے جائیں.وزیراعظم

  • عمران خان شوکت خانم ڈونر کے پیسے کھاتا ہے، خواجہ آصف

    عمران خان شوکت خانم ڈونر کے پیسے کھاتا ہے، خواجہ آصف

    وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ عمران خان شوکت خانم ڈونر کے پیسے کھاتا ہے.

    باغی ٹی وی کے مطابق لندن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ نومئی کومنصوبہ بندی کےتحت حملےکیےگئے، ڈیڑھ سال سے یہ چیز لٹک رہی تھی ، نو مئی کو حساس تنصیبات پر حملے کیے گئے ، حملہ کرنے والے تربیت یافتہ افراد تھے۔عمران خان شوکت خانم ڈونر کے پیسے کھاتا ہے یہ قومی نوعیت کا معاملہ تھا جس میں فیصلوں کی فوری ضرورت تھی، فیصلوں میں سب سے بڑی رکاوٹ عدلیہ نے کھڑی کی ۔وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ قوم کی دفاعی فوج کو للکارا گیا ، یہ للکار ہندوستانی فوج کی جانب سے نہیں تھی ، منصوبہ بندی کے تحت پنجاب اور خیبر پختونخوا میں حملے کئے گئے، کسی ملک کی تاریخ میں ایسا نہیں ہوا کہ اس کے دفاع کو چیلنج کیا گیا۔خواجہ آصف نے کہا کہ جن 25افراد کو فوجی عدالتوں سے سزائیں ملیں ان کی ویڈیوز موجود ہیں ، حملہ آواروں کی ویڈیو میں ان کے چہرے اور آوازیں واضح ہیں ، اسی بنیاد پر انہیں سزائیں دی گئیں۔ان کا کہنا تھا کہ پانامہ کیس کا فیصلہ عدلیہ کیلئے باعث شرم ہے، جنرل باجوہ اور دیگر مائنس نوازشریف پر کام کر رہے تھے، نوازشریف کو مائنس کرنے کا اسٹیبلشمنٹ کا پرانا منصوبہ تھا، مجھے ذاتی طور پر اپروچ کیا گیا ، میں قائد ن لیگ کو بتا کر ان سے ملا تھا۔وزیر دفاع نے کہا کہ ان کا مقصد عمران خان کو اقتدار میں لانا تھا جبکہ بانی پی ٹی آئی خود فوج کی سب سے بڑی پیداوار ہیں، جب اقتدار سے الگ ہوئے تو امریکہ کے خلاف ’ایبسلوٹلی ناٹ‘ کا نعرہ لگایا، اب یہ لوگ امریکہ کی حمایت کا اعلان کررہے ہیں اور امریکہ کا کندھا استعمال کرکے اقتدار میں آنا چاہتے ہیں ۔190ملین پاؤنڈ سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ میں آنے چاہیے تھے، عمران خان نے یہ رقم ملک ریاض کو دے دی اور ملک ریاض سے واجبات ایڈجسٹ کرائے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ 2018ء کے الیکشن میں آرٹی ایس سسٹم بیٹھا کر عمران خان کو اقتدار دلوایا گیا، یوٹرن لینے والا کبھی لیڈر نہیں بن سکتا،10روز قبل یہ صرف اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کرنا چاہتے تھے، آج حکومت سے مذاکرات کیلئے رضا مند ہیں ، تحریک انصاف سے مذاکرات کیلئے حکومت نے کمیٹی بنا دی ہے۔

    پاورسیکٹرکیلئے مزید 50 ارب سے زائد سبسڈی کافیصلہ

    انگلینڈ کا چیمپئنز ٹرافی کے لیےاسکواڈ کا اعلان

    انگلینڈ کا چیمپئنز ٹرافی کے لیےاسکواڈ کا اعلان

  • سزائیں پلان پر عمل کرنے والوں کو،منصوبہ سازوں کی بھی جلد باری آئے گی،خواجہ آصف

    سزائیں پلان پر عمل کرنے والوں کو،منصوبہ سازوں کی بھی جلد باری آئے گی،خواجہ آصف

    وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ نومئی بہت بڑا حادثہ تھا ، یہ سزائیں بہت پہلے سنا دینی چاہیئں تھیں

    خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ یہ سزائیں پلان پر عمل کرنے والوں کی دی گئیں ہیں ، شہدا کے مجسوں کو توڑنا ملک دشمنی اور غداری ہے، منصوبہ سازوں کی بھی جلد باری آئے گی، جب تک ہمارا دفاع مضبوط ہے ملک کو خطرہ نہیں،ڈیڑھ برس کے بعد مجرموں کو سزا سنائی گئی اور فیصلہ آیا، یہ بہت بڑا سانحہ تھا، امریکہ، برطانیہ میں ایسا حادثہ ہوا تو راتوں کو بھی عدالتیں کھلی رہیں اور سزائیں ہوئیں ،لیکن پاکستان میں تاخیر ہوئی،میانوالی،مردان، پشاور، لاہور، پنڈی تمام شہروں میں شہدا کے نشانوں کی توہین کی گئی،ملک کو باہر کی بجائے اندر سے خطرے اس طرح کے تھے،اختلاف کرنا حق ہے لیکن سیاست میں یہ چیزیں نہیں ہوتیں، پاکستان کے شہدا کی نشانیوں‌پر حملہ حب الوطنی نہیں ہے،شہدا کے مجسموں کو زمین پر پھینکا گیا، جی ایچ کیو پر حملہ کیا گیا،

    خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ آج سانحہ 9مئی کے 25ملزموں کو سزائیں سنائی گئی ھیں۔ ھونا تو چاہئے تھا کہ امریکہ اور برطانیہ کی طرح فوری انصاف ھوتا۔ اس تاخیر نے ملزموں اور انکے سہولت کاروں کے حوصلے بڑھاۓ۔ ایک تاریک دن کی مذمت سے بھی گریز کیا گیا۔ جس سے شہداء اور غازیوں کی توھین کرنے والوں کو ھییرو بنا یا گیا۔

    واضح رہے کہ سانحہ نومئی، فوجی عدالتوں سے بڑا فیصلہ آ گیا، عدالت نے 25 مجرموں کو سزا سنائی ہے،فوجی عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے 14 مجرموں کو دس سال قید بامشقت کی سزا سنائی ہے،ایک مجرم کو نو سال قید بامشقت، ایک مجرم کو سات سال قید،دو مجرموں کو چھ سال قید با مشقت ،دو مجرموں کو چار سال قید با مشقت ،ایک مجرم کو تین سال قید بامشقت،چار مجرموں کو دو برس قید بامشقت کی سزا سنائی گئی ہے،

    سانحہ نومئی،14 مجرموں کو 10 سال قید،25 سزا یافتہ مجرموں کی تفصیل

    سانحہ نو مئی، فوجی عدالتوں کابڑا فیصلہ، 25 مجرمان کو سزا سنا دی

  • سخت زبان استعمال کروگے تو میں بھی سخت زبان استعمال کرونگا۔خواجہ آصف

    سخت زبان استعمال کروگے تو میں بھی سخت زبان استعمال کرونگا۔خواجہ آصف

    وزیر دفاع خواجہ آصف اور شیر افضل مروت کی پارلیمنٹ ہاؤس میں مختصر ملاقات ہوئی ہے

    خواجہ آصف نے شیر افضل مروت کی نشست کے پاس سے گزرتے ہوئے ان سے مصافحہ کیا،بعد ازاں ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت ابھی تک تحریک انتشار کی ڈالی مشکلات دور کررہی ہے ،تحریک انصاف کے وزیرہوابازی کے ایک بیان نے پی آئی اے کا جو برا حشر کردیا تھا، وہ اب یورپین یونین کی جانب سے بحالی کے بعد پی آئی اے میں بہتری ہونے جارہی ہے، سخت زبان استعمال کروگے تو میں بھی سخت زبان استعمال کرونگا۔میں تسلیم کرتا ہوں، میری زبان زہر اور آگ اُگلتی ہے، آپ بتائیں آپ کی طرف سے کون سے پھول جھڑتے ہیں،دھمکی سے مذاکرات نہیں ہوتے، میرے منہ سے آگ نکلنا چاہتی ہے مگر میں بریک لگا رہا ہوں،شیر افضل مروت کی باتوں سے پہلی بار خوشگوار ٹھنڈی ہوا کا جھونکا آیا ہے،اچھی بات ہے،یہ شروعات کم از کم اس ایوان میں اگر ایسی آوازیں اٹھتی رہیں تو بہت سے مسائل حل ہو سکتے ہیں،

    خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ زہر گھولنے والے کو ہمدرد نہیں سمجھا جاتا نا ہی گلے لگایا جاتا ہے۔ سول نافرمانی کی تحریک کا اعلان کیا گیا ہے، اسکے بعد بات چیت کر لیں گے، آپ بالکل سول نافرمانی کریں، دھمکی سے معاملات حل نہیں ہوتے، سیاستدان سیاسی زبان استعمال کرتے ہیں، بہت سی تلخیوں کا بوجھ ہم اٹھائے ہوئے ہیں، اسد قیصر یہاں بیٹھے ہیں وہ بتا دیں.آج بات ہوتی ہے جیل میں یہ سہولت نہیں، جیل میں 6 ٹمپریچر تھا مجھے کمبل دیدیا گیا، میں جنوری کی 12 راتیں جیل میں سویا، 2018 سے اب تک اس ہاؤس نے بہت تلخی دیکھی، کل بھی تصدیق کی تھی باضابطہ مذاکرات کی شروعات نہیں کی گئی، پہلی بار ادھر سے خوشگوار ٹھنڈی ہوا کا جھونکا آیا ہے۔لیکن سیاسی ذمہ داری آئینی ذمہ داری کے بعد آتی ہے

    خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ پارا چنار میں امن اومان کی صورتحال مخدوش ہے، دونوں سائیڈز سے افہام و تفہیم کی باتیں ہونی چاہئیں، مجھے بتایا گیا کہ کرم میں زمین کا جھگڑا ہے جو شیعہ سنی فساد میں تبدیل ہوگیا، آئین کہتا ہے یہ صوبائی حکومت کی ذمے داری ہے، پارا چنار میں پوری طرح آگ نہیں بجھی، ہم نے حلف لیا ہے پہلی ذمہ داری آئین کی ہے،اسلام آباد پر ضرور حملہ کریں لیکن صوبے کے حالات پر بھی غور کریں،

    خیبر پختونخوا کے بلدیاتی نمائندوں کا گنڈا پور کیخلاف اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج

    قومی اسمبلی اجلاس، رانا تنویر اور اسد قیصر میں لفظی جھڑپ

  • مذاکرات اچھی بات مگر عمران خان کی گارنٹی کون دے گا ،خواجہ آصف

    مذاکرات اچھی بات مگر عمران خان کی گارنٹی کون دے گا ،خواجہ آصف

    اسلام آباد:وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے پی ٹی آئی کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش اور رابطے پر ردعمل دیا ہے-

    سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر اپنے ایک بیان میں انہوں نے لکھا کہ ‏پی ٹی آئی نے 24 نومبر کے حوالے سے ہلاکتوں کی تعداد 12 سے لے کر 278 تک بتائی اور کوئی ثبوت بھی فراہم نہیں کیے،پی ٹی آئی نے رینجرز اور پولیس کی شہادتوں کا اعتراف یا ذکر تک نہیں کیا، دوغلا پن اور دہرا معیار تحریک انصاف کی شناخت و کلچر ہے۔

    خواجہ آصف نے کہا کہ ‏مذاکرت چند دن پہلے تک صرف اسٹیبلشمنٹ تک حلال تھے اور حکومت سے مذاکرات حرام تھے، یہ بھی زمانے کے انقلاب ہیں، ‏مذاکرات اچھی بات مگر عمران خان کی گارنٹی کون دے گا کیونکہ وہ تو دن میں کئی رنگ بدل لیتے ہیں،کوئی زمانہ تھا جب جنرل باجوہ اور فیض ضامن ہوتے تھے یہ تب کی بات ہے جب محبت جوان تھی۔

    واضح رہے کہ وفاقی حکومت اور پاکستان تحریک انصاف نے مذاکرات کے لیے پارلیمنٹ کا پلیٹ فارم استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے،اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق سے پی ٹی آئی رہنماؤں نے اسپیکر ہاؤس میں ملاقات کی جس میں بیرسٹر گوہر، عمر ایوب، صاحبزادہ حامد رضا اور وزیر قانون و پارلیمانی امور اعظم نذیر تارڑ بھی موجود تھے مذاکرات کے لیے پارلیمنٹ کا پلیٹ فارم استعمال کرنے کا فیصلہ کیا گیا،مذاکرات کے لیے پارلیمنٹ کا فورم استعمال کرنے کی تجویز اسپیکر نے دی، ان کی تجویز کو پی ٹی آئی اور حکومت دونوں نے تسلیم کر لیا۔

    دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما علی محمد خان نے کہا ہے کہ مذاکرات ہماری نہیں بلکہ پاکستان کی ضرورت ہیں، بانی پی ٹی آئی نے ہمیشہ معنی خیز مذاکرات کی بات کی ہے، 9 مئی اور 26 نومبر کے لئے جوڈیشل کمیشن بنانا چاہیے،میں نے پہلے بھی مفاہمت کی بات کی تھی، ہم چاہتے ہیں کہ بانی پی ٹی آئی جیل سے باہر آئیں، جیل جانے سے بانی پی ٹی آئی کا قد مزید بڑھا ہے، ہم بانی پی ٹی آئی سمیت تمام پارٹی اسیران کی فوری رہائی چاہتے ہیں، حکومتی لڑائی سے پوری قوم کا نقصان ہورہا ہےسیاسی کیسز واپس لینا حکومت کے بائیں ہاتھ کا کام ہوتا ہے، آخر اس معاملے میں دیر کیوں ہو رہی ہے۔