Baaghi TV

Tag: خواجہ آصف

  • زیک  گولڈ اسمتھ کے اسرائیل حامی بیان پر حامد میر اور خواجہ آصف کا شدید ردعمل

    زیک گولڈ اسمتھ کے اسرائیل حامی بیان پر حامد میر اور خواجہ آصف کا شدید ردعمل

    اسلام آباد: بانی پی ٹی آئی عمران خان کی سابقہ اہلیہ جمائما کے بھائی زیک گولڈ اسمتھ کے اسرائیل حامی بیان پر پاکستانی صحافی حامد میر اور لیگی رہنما خواجہ آصف نے شدید ردعمل دیا ہے-

    باغی ٹی وی : جمائما کے بھائی زیک گولڈ استمھ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اسرائیل کی حمایت میں ایک ٹوئٹ کیا جس پر انہیں غیر متوقع جواب ملا، انہوں نے کہا کہ اسرائیل اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے، اور اس کی یہ جنگ آمرانہ، متشدد، اور جابرانہ حکومت کے اتحاد کے خلاف ہے،اسرائیل دنیا کے انتہائی تاریکی حصے میں ایک اُمید کی کرن ہے، ہم سب کے لیے اسرائیل کا جتنا بہت ضروری ہے۔
    zak

    لبنان میں داخل ہونیوالی اسرائیلی فوج کو حزب اللہ نے پیچھے ہٹنے پر مجبور کردیا

    جس پر پاکستانی سینئر صحافی حامد میر نے زیک گولڈ استمھ کی ٹوئٹ کو ری ٹوئٹ کرتے ہوئے جواب دیا کہ آپ کی اس کرن (اسرائیل) نے فلسطین کے معاملے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی تمام قراردادوں کی دھجیاں اڑادی ہیں، اسرائیل اقوام متحدہ سے اٹھنے والی معمولی امید کی کرن کو قبول کرنے کے لیے کیوں تیار نہیں ہوتی؟
    zak
    زیک سمتھ کی ٹوئٹ پر وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے ری ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ ’عمران خان نے پاکستانی نژاد برطانوی صادق خان کے مخالف امیدوار زیک گولڈ استمھ کے حق میں لندن میئرشپ کے لیے سیاسی مہم چلائی،صادق خان جیت گیا اور مسلسل جیت رہا رہے، اس صیہونی یہودی خاندان کے پاس عمران خان کی بیٹی اور دو بیٹے پرورش پا رہے ہیں،اس ٹویٹ میں کہا جا رہا اسرائیل دنیا کے تاریک ترین خطہ جو اسلامی ممالک پہ مشتمل ہے واحد روشنی ہے اولاد انسان کا عزیز ترین اثاثہ ہوتی ہے عمران خان کا یہ اثاثہ اسلام اور مسلم دشمن قوتوں کے پاس ڈیپازٹ ہےعمران خان خود ان صدیوں سے اسلام دشمنوں قوتوں کا اثاثہ ہے‘۔

    ایرانی میزائل موساد کے ہیڈکوارٹر سے صرف ایک کلومیٹر سے بھی کم فاصلے پر …

  • سیکیورٹی مسائل نئی نسل اور مستقبل کے لیے خطرہ ہیں،خواجہ آصف

    سیکیورٹی مسائل نئی نسل اور مستقبل کے لیے خطرہ ہیں،خواجہ آصف

    نیویارک:وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی مسائل نئی نسل اور مستقبل کے لیے خطرہ ہیں، مل کر کام کرنے سے خوشحال مستقبل حاصل کر سکتے ہیں۔

    باغی ٹی وی : امریکا کے شہر نیویارک میں منعقد ہونے والی کاسمٹ آف دی فیوچر سے وزیر دفاع خواجہ آصف نے خطاب میں کہا کہ غزہ جیسے سانحات حل کیے بغیر پائیدار ترقی نہیں ہوسکتی، خودمختار قرضہ نظام کا جائزہ لے کر اسے مزید منصفانہ بنانا ہو گا اور منصفانہ ڈیٹا گورننس کو یقینی بنانا چاہیے،سیکیورٹی مسائل نئی نسل اور مستقبل کے لیے خطرہ ہیں، مل کر کام کرنے سے خوشحال مستقبل حاصل کر سکتے ہیں۔

    وزیر دفاع نے کہا کہ 4 ہزار ارب ڈالر کا ایس ڈی جی فنانسنگ فرق پُر کرنے کے لیے اقدامات ناگزیر ہیں اور ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی پاکستان گلوبل ڈیجیٹل آؤٹ کم کو خوش آمدید کہتا ہوں، گلوبل ڈیجیٹل آؤٹ کم اور مصنوعی ذہانت کی طاقت کنٹرول کرنا ضروری ہے، مساوی مستبقل کے لیے ڈیجیٹل تقسیم ختم کرنا ہو گی۔

    جسٹس منصور علی شاہ کا خط حق بجانب ہے، چیف جسٹس کا رویہ نامناسب ہے: …

    انہوں نے کہا کہ فیوچر پیکٹ 100 سے زائد ممالک کیلئے ترقی، عالمی مالیاتی نظام میں اصلاحات کا موقع فراہم کرتا ہے یہ معاہدہ تب ہی تبدیلی کا باعث بنے گا جب اس میں کئے گئے وعدے پورے کئے جائیں، ترقی پذیر ممالک کیلئے قرض کے اخراجات کم کرنا ہوں گے، عالمی مالیاتی اداروں میں ترقی پذیر ممالک کی نمائندگی بہتر کرنا ہوگی۔

    اسرائیل نے لبنان کے موبائل فون نیٹ ورکس ہیک کر لیے

    عالمی مالیاتی نظام میں عدم مساوات کو دورکیا جائے،پاکستان نے 4 ٹریلین ڈالر کے SDG مالیاتی خلا کو پُر کرنے کے لیے عملی اقدامات کا مطالبہ کیا اور کہا کہ ڈیجیٹل خلا کو پُر کرنا ترقی پذیر دنیا کے لیے کلیدی چیلنج ہے۔دنیا میں کوئی بھی ترقی اس وقت ممکن نہیں جب تک غزہ میں جاری مظالم ترقی یافتہ ممالک کی جانب سے برقرار رکھے جائیں گے،جموں و کشمیر سمیت نئے اور پرانے تنازعات حل کرنے کے لیے اقوام متحدہ کے چارٹر میں بیان کردہ اقدامات کو فعال کیا جانا چاہیے،اقوام متحدہ اپنی عالمگیر رکنیت اور مینڈیٹ کی وجہ سے ان وعدوں پر عملدرآمد کو آگے بڑھانے اور نگرانی کرنے کے لیے ایک ناگزیر پلیٹ فارم ہے

    وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ انڈیا اور اس کے اتحادیوں کے مطالبے کے مطابق مزید مستقل ارکان کو شامل کرنے سے اس کے مفلوج ہونے کے امکانات میں اضافہ ہوگا،اس کے بجائے کونسل کو مناسب طور پر وسعت دی جانی چاہیے اور کونسل میں مزید غیر مستقل اور منتخب ارکان کو شامل کرکے مزید نمائندہ بنایا جانا چاہیے،اقوام متحدہ کے چارٹر میں تصور کردہ عالمی نظام کے ڈھانچے کو غیر ریاستی اداروں کے ساتھ ریاستوں کے مساوات سے ختم نہیں کیا جانا چاہیے یہ صرف ریاستوں کے فیصلوں اور اقدامات کے ذریعے ہی ہے کہ ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ آنے والی نسلیں امن، ترقی اور خوشحالی کے مستقبل سے فائدہ اٹھا سکیں،

    قبل ازیں وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف اپنے پانچ روزہ سرکاری دورے پر وفد کے ہمراہ نیویارک پہنچ گئے. وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف، وزیرِ اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، وزیرِ وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت خالد مقبول صدیقی اور معاون خصوصی طارق فاطمی وزیرِ اعظم کے ہمراہ وفد میں شریک ہیں. وزیرِ اعظم آج نیویارک میں مصروف دن گزاریں گے. وزیرِ اعظم سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ انتونیو گوتریس کی جانب سے رکن ممالک کے سربراہان کیلئے دیئے گئے استقبالیے میں شرکت کریں گے جہاں وزیرِ اعظم کی مختلف ممالک کے سربراہاں کے ساتھ غیر رسمی ملاقات ہوگی. وزیرِ اعظم اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے اجلاس 2024 کی افتتاحی تقریب میں شرکت کریں گے. وزیرِ اعظم کی مالیپ کے صدر محمد معیزو سے ملاقات ہوگی جس میں دونوں ممالک کے مابین دوطرفہ تعاون کے فروغ کے حوالے سے گفتگو ہوگی.

  • قومی اسمبلی اجلاس ملتوی،آئینی ترامیم پر حکومت کی وضاحتیں،اتحادی بھی نالاں

    قومی اسمبلی اجلاس ملتوی،آئینی ترامیم پر حکومت کی وضاحتیں،اتحادی بھی نالاں

    سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا

    وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ چند دنوں سے ایک ترامیم کے ڈرافٹ کی بات ہورہی ہے،آئین ہمیں اجازت دیتا ہے کہ قانون سازی کریں،جب اس مسودے پر اتفاق رائے آجائے گا تو ایوان میں پیش کیا جائے گا،2006میں نوازشریف اور بینظیربھٹو نے میثاق جمہوریت کیا،حکومتی اتحاد کی دانست میں ترامیم آئین میں عدم توازن درست کرنے کاذریعہ ہے،بطور رکن پارلیمنٹ قانو ن سازی اور آئین کاتحفظ ہمارا فرض ہے،بہت سے جمہوری ممالک میں آئینی عدالتیں موجود ہیں،پارلیمنٹ 24کروڑ عوام کی امنگوں کامظہر ہے، آئینی عدالت سے متعلق تجویز بھی چارٹرآف ڈیموکریسی کاحصہ ہے،عدلیہ کابوجھ کم کرنے کے لیے ترامیم لارہے ہیں،کسی کاکوئی ذاتی مفاد نہیں جو ووٹ ڈالا جائے اسے گنا جائے تو اس میں کیا سیاسی مفاد ہوسکتا ہے؟کسی ادارے کی حدود توڑنا نہیں چاہتے،پارلیمان کی اہمیت قائم کرنا چاہتے ہیں،ہم چاہتے ہیں آئینی ترامیم پر اتفاق راے پیدا ہوجائے،عدلیہ بحالی تحریک کے بعد ججز کی تعیناتی کاپراسیس طے پایا،

    خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ پچھلے چند دنوں ایک ڈرافٹ آئینی ترامیم کا زیر گردش ہے،یہ ڈرافٹ پارلیمانی پریکٹسز کو درست کر نے کی کوشش تھی، ہمارا حق جو آئین ہمیں دیتا یے کہ 25 کروڑ عوام اور ادارے کی سربلندی کو طاقتور کرنا ہے، اس کا بنیادی ڈاکیومینٹ جمہوریت ہے، اس سارے پراسس میں کوئی سیاست نہیں تھی جبکہ اس کو سیاسی رنگ دیا گیا

    وزیر قانون اور حکومت کے کسی نمائندے کے پاس ڈرافٹ نہیں تھا تو یہ بتائیں یہ ڈرافٹ اور نسخہ کیمیا کہاں سےآیا؟اسد قیصر
    تحریک انصاف کے رہنما اسد قیصر نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سب سے پہلے میں آپکا شکریہ ادا کروں گا آپ نے ہمارے 10 اراکین جن پر ناجائز کیس بنایا گیا ان کے پروڈکشن آرڈر جاری کئے، میں اس پر شکریہ ادا کرتا ہوں، مجھے آج اس بات پر بہت افسوس ہے کہ جس طرح اس پارلیمنٹ کی بے توقیری کی گئی، ربڑ سٹمپ کے طور پر استعمال کرنے کی کوششش کی گئی، مذمت کرتا ہوں، ہمارے جو ایم این ایز ہیں انکی بہادری کو سلام کرتا ہوں، مولانا فضل الرحمان کو سلام پیش کرتا ہوں جنہوں نے بہادری سے حالات کا مقابلہ کیا، خواجہ آصف نے نقطہ نظر سامنے رکھا وزیر قانون بیٹھے ہیں، یہ خود فرما رہے تھے کہ میرے پاس کوئی ڈاکومنٹ نہیں ہیں، کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق، اگر لا منسٹر کو نہیں پتہ تو بتائیں یہ نسخہ،ڈرافٹ کہاں سے آیا،مجھے سب سے زیادہ افسوس پیپلز پارٹی پر ہے، انکو سب علم ہے، انکے پاس پورا ڈرافٹ تھا، کیا آرٹیکل 8 اور آرٹیکل 99 انہوں نے ترامیم میں قبول نہیں کیا، یہ بنیادی حقوق کو صلب کرنا چاہتے ہیں، ہم کیا اس ملک کے دشمن ہیں، ہم چاہتے ہیں ریفارم آئے، لوگوں کو سہولت ملے، ہم چاہتے ہیں ترمیم لائیں، بحث کریں، آئینی ترامیم جو یہ لا رہے، یہ سب پر اثر انداز ہوتا ہے، رات کی تاریکی میں ، چھٹی کے دن چوری کی طرح ڈاکہ زنی کرتے ہوئے یہ ترامیم پاس کرنی تھیں،جب قانون سازی کرنی ہے تو سب سے پہلے اسکو سامنے لائیں،بحث کروائیں، سب کو اعتماد میں لیں،، چھپکے سے قانون سازی کوچوری کہتے ہیں، ہمارے 7 لوگوں کواغوا کیا گیا انہیں پنجاب ہاؤس میں رکھا ہے، اس ظلم کے ذریعے پارلیمنٹ میں قانون سازی سے بہترموت ہے،ہم اس ترامیم کے خلاف رستوں چوک چوراہوں سپریم کورٹ عدالتوں میں لڑیں گے۔

    ملک کے انتظامی معاملات عدالتوں نے نہیں ہم نے طے کرنے ہیں۔وفاقی وزیر قانون
    وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ جنہوں نے جیل میں 8 سال گزارے وہ واپس کس نے دینے ہیں؟ جس پر شیر افضل مروت نے کہا کہ ہم نے 8 دن گزارے ہیں،وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ میں حاضر ہوں، 8 دنوں کی تلافی اسپیکر نے پونے چار دن کردیا، آپ ہمارے ساتھ ہنستے کھیلتے رہے ہیں،وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا مزید کہنا تھا کہ قاضی فائز عیسیٰ کا نام آپ اس لئے زیادہ لے رہے ہیں، کیونکہ وہ زیادہ آپ کو خواب میں آتے ہیں،ہم نے بھی بھگتا ہے جوآپ کے کندھوں پر ڈیم بنانے کے علاوہ ہمیں ہی ہانکتے رہتے تھے یہ کس سے انصاف لیں گے، جو آئینی حق ہے ، ہم اپنے سیاسی مقدمات ایک ساتھ بیٹھ کر حل نہیں کرتے، ہم چاہتے ہیں ہمارے مقدمات بھی دیوار کی دوسری طرف سے جائیں ،کچھ دنوں سے ماحول بہتر ہونا شروع ہوا ہے، ہم اس امید کے ساتھ آگے چلیں گے،کہ مفاہمت ہو ،کچھ چیزیں حقائق پوچھنے کے لئے سامنے آئیں، اسد قیصر محترم ہیں، سپیکر رہے، اس ایوان کا رکن ہونا اعزاز ہے، مجھے یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ ڈرافٹ اس وقت آئے جب بل سامنے آئے، حکومتی بل ہے تو سب سے پہلے حکومتی حلقوں میں مشاورت ہوتی ہے پھر ڈرافٹ بل کابینہ کے سامنے، کابینہ منظوری دیتی ہے پھر کابینہ کمیٹی میں اچھی طرح دیکھا جاتا ہے، اس کمیٹی میں سب کی نمائندگی ہوتی ہے،پھر کابینہ کہتی ہے کہ اسے پارلیمنٹ میں لے جایا جائے،ابھی یہ بل مسودہ بن کر کابینہ میں نہیں گیا کچھ عرصے سے مشاورت جاری تھی، موجودہ الیکشن کے بعد حکومتی اتحاد تشکیل پا رہا تھا تو پہلے دو جماعتوں نے کمیٹیاں بنائیں، ن لیگ اور پیپلز پارٹی، پھر مشاورت ایم کیو ایم سے ہوئی، آئی پی پی سے ہوئی، بلوچستان عوامی پارٹی سے بات ہوئی،اعجاز الحق سے بات ہوئی، اے این پی سے ،ڈاکٹر مالک بلوچ سے بات ہوئی، مولانا فضل الرحمن سے بھی رابطے ہوئے، یہ سیاست کا حسن ہے، حکومت جب بن رہی تھی تو پیپلز پارٹی اور ن کی میٹنگ کے دوران یہ بات سامنے آئی تھی کہ میثاق جمہوریت کے پارٹ پر کام کیا جائے گا، آئینی عدالت کا قیام، 19 ویں ترمیم،1973 سے لے کر 2008 تک جو جو کھلواڑ آئیں کے ساتھ کئے گئے اس پر اٹھارہویں ترمیم پاس کی گئی،جس کی وجہ سے ہم اکٹھے کھڑے ہیں، ہم چاہتے ہیں پاکستان آگے بڑھے، وفاق مضبوط ہو،اعتزاز احسن سے پوچھیے گا، نوید قمر ،خواجہ آصف سے پوچھیں کہ کون سی طاقت تھی جس نے کہا آئینی عدالت نہیں بنے گی،قاضی فائز عیسی اور شوکت صدیقی کے ساتھ کیا کچھ ہوا،ان ریفرنسز کو کس ڈھٹائی کے ساتھ اپ سپورٹ کرتے رہے،عدالت نے دونوں ریفرنسز منہ پہ مارے،ایسی باتیں نا کریں کوئی ڈاکہ نہیں کوئی چوری نہیں ہے،کوئی رات کا اندھیرا نہیں ہے،بلاول بھٹو کا شکریہ جنہوں نے آئینی ترامیم کے معاملے پر بہت مثبت کردار ادا اور کہا کہ میرے بڑوں کی وراثت ہے کہ پارلیمنٹ کو بالادست ہونا چاہئے ،میں نے قتل کے مقدمے کے دو ملزمان کی اپیل 16 سال قبل سپریم کورٹ میں دائر کی مگر ابھی تک زیرالتوا ہے چند دن قبل دونوں ملزمان عمر قید کاٹ کر میرے پاس آئے اور کہا کہ آپ کا شکریہ ہم سزا بھگت کر باہر آگئے ہیں یہ تو حال ہے عدلیہ کا. اسد قیصر کو چیلنج کرتا ہوں اس آئینی پیکچ کی کوئی بار کونسل مخالف نہیں کرے گی،

    جو ڈرافٹ میڈیا پر ہے، یہ متفقہ نہیں ،اس میں کئی شقوں پر ہمیں اعتراض ہے،نوید قمر
    پیپلز پارٹی کے رہنما نوید قمر نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ جو ڈرافٹ میڈیا پر ہے، یہ متفقہ ڈرافٹ نہیں ہے،اس میں کئی شقوں پر ہمیں اعتراض ہے، ڈرافٹ حکومت دے گی تو مشاورت ہو گی، کابینہ منظوری کے بعد ایوان میں آئے گا، جو ترامیم سامنے آئی ہیں،کمیٹی میں ایجنڈا رکھا گیا ،

    اپوزیشن کو تو ڈرافٹ نہیں ملا لیکن ہمارا گلہ ہے کہ ہمیں سنجیدگی سے نہیں لیا جارہا،فاروق ستار
    ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کو تو ڈرافٹ نہیں ملا لیکن ہمارا گلہ ہے کہ ہمیں سنجیدگی سے نہیں لیا جارہا، جب ہم توجہ دلاتے ہیں تواسحاق ڈار اور اعظم نذیر تارڑ آتے ہیں اور ہمارے ساتھیو ں سے بات کرتے ہیں، اگر طریقہ کار کو صحیح نہیں کریں گے تو اہم اصلاحات،یہ کیسے ہوں گے، میں نے کمیٹی کی میٹنگ میں محسوس کیا کہ پی ٹی آئی کی اراکین بھی مین اصلاحات کے ایجنڈے سے اختلافات نہیں کر رہے تھے، صرف طریقہ کار سے اختلاف ہو رہا تھا.ہم ن لیگ کے اتحادی ہیں مگر ہماری اپنی شناخت ہے،ہمارے ساتھ رانا ثنا اللہ مصالحت کار ہیں مگر انہوں نے ہم سے ایک بار بھی رابطہ نہیں کیا،ہم نے اگر مسائل پہ سنجیدگی سے غور کیا ہوتا تو مشرقی پاکستان کبھی ہم سے الگ نہ ہوتا،ہم نے بار بار مسائل وزیراعظم کے ساتھ اٹھائے لیکن اسکے باوجود کوئی بات چیت نہیں ہوئی، اپوزیشن کو بھی موقع دیں کہ جو طریقہ اپنایا جاتا ہے وہ ٹھیک ہو مشاورت کریں اور سب کو موقع دیں،

    علاوہ ازیں تحریک انصاف کے رہنما بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ ابھی جو مسودہ لیک ہوا ہے اس کے مطابق تو کوئی بھی ان سے اتفاق نہیں کر سکتا،ہمارے ساتھ آئینی ترامیم کا مسودہ شیئر نہیں کیا گیا، ہمیں صرف انفارمیشن دی گئی تھی اور اسی کے مطابق ہم غور کر رہے تھے، ہمارا مطالبہ تھا کہ مسودہ دے دیں، پہلے ہم اسے دیکھیں اور بحث کریں گے، اگر آپ کے پاس ڈرافٹ ہی نہیں تو ہم نے ڈسکس کس چیز پر کرنا ہے،اس کا مطلب ہے کہ ججز کو جب چاہے ٹرانسفر کر دو، اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج کو کوئٹہ بھیج دیں گے اور نہیں جاتے تو استعفیٰ لے لیں گے،اس طرح عدلیہ پر بہت بڑی قدغن آجائے گی، جس طرح سے نئی عدالت بنا رہے ہیں، سپریم کورٹ کے سارے اختیارات لے لیں گے،میں نہیں سمجھتا کہ یہ آئینی ترامیم ہیں، یہ صرف غلط فہمی ہو رہی ہے۔

    آئینی ترامیم میں کیا ہے؟مسودہ باغی ٹی وی نے حاصل کر لیا

    آئینی ترامیم،قومی اسمبلی،سینیٹ اجلاس آج،مولانا فضل الرحمان اہمیت اختیار کر گئے

    عمران خان نے اشارہ کیا تو بنگلہ دیش کو بھول جاؤ گے،بیرسٹر گوہر کی دھمکی

    ہوسکتا ہے جنرل فیض حمید اندر یہ گانا گا رہے ہوں کہ آ جا بالما تیرا انتظار ہے، خواجہ آصف

    بل پیش کرنے سے پہلے کابینہ سے منظوری لازمی ہے،بیرسٹر گوہر

    وفاقی حکومت کا علیحدہ آئینی عدالت کے قیام کا منصوبہ

    پارلیمنٹ کو کوئی بھی آئینی ترمیم کرنے کا اختیار ہے،احسن بھون

    لاہور:پاکستان کوکلئیر ویلفیئر آرگنائزیشن کا پہلا باضابطہ اجلاس،اہم فیصلے کئے گئے

    پیدائشی سماعت سے محروم بچوں کے کامیاب آپریشن کے بعد”پاکستان زندہ باد” کے نعرے

  • ہوسکتا ہے جنرل فیض حمید اندر یہ گانا گا رہے ہوں کہ آ جا بالما تیرا انتظار ہے، خواجہ آصف

    ہوسکتا ہے جنرل فیض حمید اندر یہ گانا گا رہے ہوں کہ آ جا بالما تیرا انتظار ہے، خواجہ آصف

    وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی اجلاس کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان نے جو ٹویٹ کیا اس کے بعد کوئی شک رہ گیا، لیکن اب بھی ڈبل گیم ہو رہی ہے

    خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ اب ڈبل گیم علی امین کے ذریعے ہو رہی ہے، عمران خان کا قبلہ جی ایچ کیو ہے،پنڈی ہے، وزیراعلی خیبرپختونخواہ علی امین گنڈاپور کو زبردستی نہیں لے جایا گیا تھا وہ اپنے مرضی سے وہاں گئے اور آٹھ گھنٹے رہے۔ عمران خان انکو اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہتے ہیں تاکہ انکے رابطے بحال رہیں۔ یہ عمران خان کی دوغلی پالیسی کے تحت ہے،بلاول بھٹو کی تجویز پر ایک کمیٹی بنائی گئی ہے، جو پیش گوئی تھی وہ سچ ثابت ہوئی،ہو سکتا ہے جنرل فیض حمید گانا گا رہے ہو آجائے میرے بالما تیرا انتظار ہے۔ عمران خان علی امین کو اپنے ہاتھوں میں رکھنا چاہتے ہیں۔ یہ آرمی چیف کےپاؤں گرنا چاہتے ہیں اور ساتھ ٹویٹ بھی کرتے ہیں ،پاکستان کی سیاست میں بڑی دونمبری ہوئی لیکن ان سے بڑا کوئی دو نمبر نہیں، میثاق پارلیمنٹ کمیٹی کا اب کوئی جواز باقی نہیں رہا، اِس کے ذمے دار عمران خان اور اُن کے فالوورز ہیں،عمر ایوب جو اب اور جتنے جوش سے تقریر کررہے ہوتے ہیں جب یہ نواز شریف کیساتھ تھے تب بھی جب یہ مشرف کیساتھ تھے تب بھی اور کسی اور جماعت کیساتھ تھے تب بھی ایسی اور ایسے ہی جوش کیساتھ کرتے تھے، مجھے بھی کوئی ایسا آرٹ سکھا دے۔

    خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ جنرل عاصم منیر اسٹیبلشمنٹ کے ھیڈ ھیں ایک طرف ان کو گالی نکالتے ھیں دوسری طرف ان کے پیر پڑتے ھیں،پھر قاضی فائز عیسی کے خلاف ریفرنس بھیجا پھر اس پر معافی مانگی،جنرل فیض حمید جس کی ایما پر یہ سب ھوتا تھا وہ اندر معلوم نہیں کونسا گانا گارھا ھوگا۔میڈیا سے معافی مانگ لی کیونکہ انکی آپ کو ضرورت ہے، پاکستان مخالف بیانیہ کو تقویت دینا چاہتے ہیں، عمران خان کے پی میں آگ کو بھڑکارہا ہے، وہاں یہ علیحدگی کی تحریک چلانا چاہتے ہیں، جلسے میں بھی تلخ زبان استعمال کی گئی، پنجاب میں سب قومیں بستی ہیں، یہاں کوئی غیر محفوظ نہیں ہے،

    آئینی ترمیم کے لیے نمبر پورے نہیں، مخالفت کریں گے،عمر ایوب

    قومی اسمبلی اجلاس شروع،بلاول کا خطاب،اپوزیشن کی ہنگامہ آرائی

    بل پیش کرنے سے پہلے کابینہ سے منظوری لازمی ہے،بیرسٹر گوہر

  • ساری رات گنڈا پور کوہسار کمپلیکس میں معافیاں مانگتا رہا،خواجہ آصف

    ساری رات گنڈا پور کوہسار کمپلیکس میں معافیاں مانگتا رہا،خواجہ آصف

    وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ بلاول بھٹو نے پارلیمنٹ کی کاروائی کے لیے کمیٹی بنانے کی بہترین تجویز دی،

    قومی اسمبلی اجلاس کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ سپیکر نے کمیٹی تشکیل دی تا کہ کاروائی کو بہتر چلایا جا سکے،ہاوس کے تقدس کو بہتر بنانا مقصد تھا، لیکن یہ کمیٹی میں ایسا لگا کہ تحریک انصاف کے تحفظات کے لیے بنائی گئی ہے،دو روز قبل واقعے کی مذمت بھی کی اور یکجہتی کا ثبوت بھی دیا، پارلیمنٹ پر حملے کی کسی شخص نے بھی ایوان میں حمایت نہیں کی، تحفظات سے متعلق بھی بے شک کمیٹی بنا دی جائے،میں نے وہاں بھی احتجاج کیا اور پارٹی کو کہہ دیا کہ میں کمیٹی کا حصہ نہیں رہ سکتا، یہ کمیٹی ہاوس کی عزت اور وقار میں اضافے کے لیے بنائی گئی،کمیٹی ہاوس اور قانون سازی کے تحفظ کے لیے بنائی گئی تھی، ان کےتحفظات اور شکایات کے لیے کمیٹی بے شک تشکیل دے دی جائے،نواز شریف اپنی اہلیہ کی بیماری کے دوران بات کروانے کی درخواست کرتے رہے، لیکن بات نہ کروائی گئی اور نواز شریف کی اہلیہ وفات پا گئی،ماضی میں ہمیں انتقامی کاروائی کا نشانہ بنایا گیا،کیا آپ لوگ اس کی مذمت کریں گے؟ ہمارے دور میں کسی شخص کے خلاف نیب کو استعمال نہیں کیا گیا،

    خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ ہاتھ جوڑ کر کہتا ہوں علی امین گنڈاپور دو نمبر آدمی ہے، اس پر بھروسہ نہ کریں، ایوان کمزور نہیں تھا، آپ نے ایوان اسٹیبلشمنٹ کے پاس گروی رکھا تھا، ساری رات گنڈا پور کوہسار کمپلیکس میں معافیاں مانگتا رہا-ہم نہیں پوچھتے یہ خود ہی پوچھ لیں وہ کیا کرتے رہے ساری رات وہاں کیاکرتا رہا،

    زلفی بخاری کی شیخ رشید پر تنقید ،کہا کئی کشتیوں کے سواروں کے ساتھ یہی ہوتا

    زلفی بخاری میری بیٹیوں کو کالز کرتا ہے، خاور مانیکا عدالت میں پھٹ پڑے

    عمران خان، فرح گوگی،زلفی بخاری،ملک ریاض کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی سفارش

    بشریٰ ،زلفی بخاری آڈیو لیک،بشریٰ بی بی نے درخواست دائر کر دی

  • چیف جسٹس کیخلاف شرانگیز گفتگو  ،قانون پوری قوت سے حرکت میں آئے گا: وزیر دفاع

    چیف جسٹس کیخلاف شرانگیز گفتگو ،قانون پوری قوت سے حرکت میں آئے گا: وزیر دفاع

    وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر قاضی صاحب کیخلاف مہم چلائی جاتی ہے،اس ملک میں آپ کی مرضی کا کوئی فیصلہ دے دیں تو زندہ باد کے نعرے،مرضی کا فیصلہ نہ دیں تو گالیاں دیتے ہیں،یہ ٹرینڈ ختم ہو گا،

    وفاقی وزیر احسن اقبال کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ چیف جسٹس کے خلاف شرانگیز پروپیگنڈا جاری ہے ،چیف جسٹس سے متعلق شرانگیز گفتگو کی جارہی ہے ،ریاست کسی کو اجازت نہیں دے سکتی کہ قتل کےفتوے جاری کرے،کچھ لوگ سیاسی عزائم اور بیرونی آقاؤں کی ہدایت پرشرانگیز پروپیگنڈا کررہے ہیں،ایسی باتوں کی اجازت دی گئی تو ریاست کا شیرازہ بکھرجائےگا،سوشل میڈیا پر لوگوں کو اکسانے کی کوشش کی جارہی ہے،چیف جسٹس کا اس طرح کے فیصلے سے کوئی تعلق نہیں،چیف جسٹس کو ایک عرصے سے ٹارگٹ کیا جارہا ہے،ایسے عناصر کیخلاف قانون پوری قوت کیساتھ حرکت میں آئے گا، کسی پر بے بنیاد الزام نہیں لگا سکتے، ملک میں آئین کی حکمرانی ہونی چاہیے ،چیف جسٹس کو دھمکی دینا آئین سےکھلی بغاوت ہے،ریاست کسی بھی مذہبی جماعت یا مذہبی شخص کی ڈکٹیشن قبول نہیں کرے گی،سپریم کورٹ کی وضاحت کے باوجود چیف جسٹس کےخلاف پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے چیف جسٹس کو حیلے بہانوں سے ٹارگٹ کیا جارہا ہے سب جانتے ہیں انہیں کیوں ٹارگٹ کیا جا رہا ہے۔مغربی اور سیاسی مفادات کیلئے اس معاملے کو ہوا دی جا رہی ہے مذہب کے نام پر خون خرابے کی کوشش کی جا رہی ہے

    کسی کو یہ اجازت نہیں کہ وہ کسی کےقتل کے فتوے جاری کرے،احسن اقبال
    وفاقی وزیر احسن اقبال کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس عدلیہ کے سربراہ ہیں ،عدلیہ ریاست کا بنیادی ستون ہے،ملک میں آئین اور عدالتیں ہیں،یہ وہ طبقہ ہے جنہیں سیاسی ایجنڈے کے تحت کھڑا کیا گیاتھا،ریاست میں سزا اور جزا کا اختیار صرف عدالت کے پاس ہوتاہے،دہشت گردی،خودکش حملے اور فتوے بازی کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ،پیغام پاکستان کی صورت میں جید علما کا فتویٰ موجودہے ،ریاست کسی گروہ کی ڈکٹیشن قبول نہیں کرے گی،بطور مسلمان ہمارا عقیدہ سب پر واضح ہے،لوگوں کے ایمان پر فتویٰ جاری کرنے والا کسی سے مخلص نہیں،جتھوں کو اگر اختیار دے دیں تو ریاستی عملداری کبھی قائم نہیں ہوسکتی،حکومت اس طرح کے رویوں کوپنپنے کی اجازت نہیں دے گی،کسی کو یہ اجازت نہیں کہ وہ کسی کےقتل کے فتوے جاری کرے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کے خلاف مذہب کارڈ کے استعمال اور تحریک لبیک کے رہنما سید ظہیر الحسن شاہ بخاری کی جانب سے چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کا سر قلم کرنے پر ایک کروڑ انعام کا اعلان کے بعدحکومتی وزرا نے پریس کانفرنس کی ہے، گزشتہ روز تحریک لبیک کے رہنما نے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف اعلان کیا تھا جو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا تھا،

    یہ دھرنا پاکستان کی تاریخ کو تبدیل کر دے گا۔ ہم حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیں گے.حافظ نعیم الرحمان

    جب جمہوری آزادی نہ ہو، پارلیمنٹ کام نہ کرے، تو پرامن مزاحمت ہی واحد راستہ ہے.حافظ نعیم الرحمان

    دھرنا حکومت گرانے کی تحریک بھی بن سکتی ہے،حافظ نعیم الرحمان

    جماعت اسلامی پی ٹی آئی کا متبادل،کامیاب دھرنے کے بعد نئی بحث

    جماعت اسلامی کا دھرنا دوسرے روز میں داخل،کارکنان کے جذبےپرجوش

    کسی بھی وقت احتجاج کو آگے بڑھانے کا حکم دے سکتے ہیں،حافظ نعیم الرحمٰن

    تنخواہ دار طبقے پر بوجھ کم کیا جائے ، بجلی کی قیمیتں کم جائیں اور عوام کو ریلیف دیا جائے۔ حافظ نعیم الر حمن

    جماعت اسلامی کا دھرنا، ریڈ زون سیل، فیض آباد بند،گرفتاریاں

    فارم 47 کی نہیں فارم 45 کی حکومت بنائی جائے۔ حافظ نعیم الرحمان

    جماعت اسلامی کی 26 اپریل کو اسلام آباد میں دھرنا کی تیاریاں عروج پر

    عمران خان اور پی ٹی آئی نے ملک دشمنی میں تمام حدیں پار کر دیں

    14 سال سے خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی سرکار،اربوں بجٹ وصول،کارکردگی زیرو

    عمران پر جیل میں تشدد ہوا،مجھے مرد اہلکار نے…بشریٰ بی بی نے سنگین الزام عائد کر دیا

    عبوری ضمانت "معصوم” فرد کا حق ہے،نومئی مقدمے،عمران کی ضمانت مسترد ہونے کا فیصلہ

  • پی ٹی آئی پر پابندی کے فیصلے پر اتحادیوں کو اعتماد میں لیں گے،خواجہ آصف

    پی ٹی آئی پر پابندی کے فیصلے پر اتحادیوں کو اعتماد میں لیں گے،خواجہ آصف

    وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی ملکی سالمیت کیخلاف جارہی ہے،پی ٹی آئی پر پابندی کے فیصلے پر اتحادیوں کو اعتماد میں لیں گے،

    سیالکوٹ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کا مقصد صرف اور صرف اقتدار کا حصول ہے،ہم نے اقتدار کی نہیں پاکستان کے وجود کی بات کی ہے، پارلیمنٹ کو تحلیل کرنے والوں کیخلاف کروائی ہونا لازمی ہے ، یہ اکتوبر نومبر کا انتظار کر رہے ہیں اس کے بعد الیکشن پر بھی حملہ کریں گے، توہین عدالت ہمیشہ صرف سیاست دانوں پر لگتی ہے، جو سائل ہی نہیں تھا اس کے حق میں فیصلہ دے دیا گیا، 9 مئی کو جو کچھ ہوا براہ راست پاکستان کے وجود پر حملہ تھا، آئین کے تحفظ کا ہم نے حلف اُٹھایا ہے،آرٹیکل 6 ان لوگوں پر لگتا ہے جو چند منٹ میں 52 بل پاس کریں،آئین کی خلاف ورزی کرنے والوں پر آرٹیکل6 لگتا ہے، سپریم کورٹ کا فیصلہ موجود ہے جو میرے مؤقف کی تائید کرتا ہے،

    سیاست،سیاست کھیلنےسےملک کا نقصان ہورہا،سیاستدانوں کو کمزور نہ سمجھاجائے،وزیر دفاع
    خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ توہین وہاں پر ہوتی ہے جہاں پر کسی کی عزت و آبرو ہو، اگر کسی ادارے نے اپنی عزت و آبرو ہی نہ سنبھالی ہو تو وہاں توہین کیسی، عزت و آبرو کا تحفظ کیا جائے تو توہین ہوتی ہے، اگر ایک ادارے کو یہ حق حاصل ہے تو باقی اداروں کو بھی حق حاصل ہونا چاہئے، پاکستان کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں، عدلیہ نے کیسے کیسے فیصلے کئے ہیں ،میری تنخواہ 2 لاکھ روپے ہے،کوئی سپریم کورٹ کے جج کی تنخواہ نہیں پوچھتا، ایک سپریم کورٹ کا ریٹائرڈجج 4 تنخواہیں لے رہا ہے، کوئی پوچھنے والا نہیں،جاکر جیلوں میں پانچ دس دن گزاریں پتہ چلے وہاں کتنے لوگ اپیلوں کے انتظار میں بیٹھے ہیں،امریکا نے پی ٹی آئی پر پابندی پر تشویش کا اظہار کیا، امریکا سے درخواست ہے کہ غزہ پر بھی تشویش کا اظہار کرے،آئین میں تمام اداروں کی حدوداوراختیارمتعین ہے، سیاست،سیاست کھیلنےسےملک کا نقصان ہورہاہے،سیاستدانوں کو اتنا کمزور نہ سمجھاجائے،9 مئی کو شہداء کی قربانیوں کی توہین کی گئی، عدلیہ کو سیاسی فیصلے نہیں دینے چاہئے، آئین کے مطابق فیصلے ہونے چاہیے،یہ ایک ایجنڈا ہے جو فالو کیا جا رہا ہے، جب نواز شریف پر ظلم ٹوٹ رہے تھے تو یہ جج صاحب کوئی ہائیکورٹ،کوئی سپریم کورٹ بیٹھے ہوئے تھے، جج مانیٹرنگ جج بن گئے ،کیا اس وقت انصاف پامال نہیں ہو رہا تھا، عوام شہادت دیں گے کہ ہمیں انصاف نہیں ملتا تھا، ضمانتیں ہماری ہوتی تھیں، بینچ ٹوٹ جاتے تھے، کیا اس وقت مداخلت نظر نہیں آتی تھی، اس وقت سجدہ ریز ہوتے تھے،ہم نہیں چاہتے کہ سپریم کورٹ یا کسی اور عدالت کے بارے کوئی بات کریں لیکن یہ ضرور کہیں گے کہ سیاستدانوں کو کمزور نہ سمجھا جائے کہ ہر قسم کی قانون سازی کا حق بھی ان سے لے لیا جائے، آئین آپ کو اس بات کی اجازت نہیں دیتا،

    عمران نےبھی ایک جماعت پر پابندی لگائی اسوقت تو تشویش کااظہارنہیں کیا،جاوید لطیف

    ہر نئے ریلیف کے بعد اک نیا کیس،عمران خان کی رہائی ناممکن

    سری لنکن کپتان مستعفی،ہمارے والے اب بھی لابنگ میں مصروف

    عمران خان نے آخری کارڈ کھیل دیا،نواز شریف بھی سرگرم

    پی ٹی آئی کی ڈیجیٹل دہشت گردی کا سیاہ جال،بیرون ملک سے مالی معاونت

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

    اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے بالآخر گھٹنے ٹیک دیئے

    "بھولے بابا” کا عام آدمی سے خود ساختہ بابا بننے کا سفر ،اربوں کے اثاثے

    اصلی ولن آئی ایم ایف یا حکومت،بے حس اشرافیہ نے عوام پر بجلی گرا دی

    کرکٹ میں سٹے بازی اور سپاٹ فکسنگ،پاک بھارت میچ میں‌کتنے کا جوا؟

    لڑائی شروع،کیا ایمرجنسی لگ سکتی؟جمعہ پھر بھاری،کپتان جیت گیا

    مخصوص نشستوں پر سپریم کورٹ کا فیصلہ،ملک ایک اور آئینی بحران سے دوچار

    حکومت کو کوئی خطرہ نہیں،معاملہ تشریح سے آگے نکل گیا،وفاقی وزیر قانون

    سپریم کورٹ کا فیصلہ، سیاسی جماعتوں کا ردعمل،پی ٹی آئی خوش،حکومتی اتحاد پریشان

  • پی ٹی آئی پر من سلویٰ اُترا ہے،ردعمل آئین و قانون کیمطابق ہو گا، خواجہ آصف

    پی ٹی آئی پر من سلویٰ اُترا ہے،ردعمل آئین و قانون کیمطابق ہو گا، خواجہ آصف

    وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ عدلیہ کا کام آئین کی تشریح ہے دوبارہ لکھنا نہیں،آئین کے آرٹیکل 151اور106کو دوبارہ لکھا گیا،آئین بنانا پارلیمنٹ کا کام ہے ،قانون سازی پارلیمنٹ کا استحقاق ہے ،

    سیالکوٹ میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی پر من سلویٰ اُترا ہے،نظر ثانی کی اپیل میں جانے یانہ جانے کا فیصلہ پیر کوکریں گے، حکومت اپنے اتحادیوں سے مشاورت کرے گی ،نظر ثانی کی اپیل میں جانے یانہ جانے کا پارلیمنٹ میں فیصلہ کریں گے ،عدالتی فیصلے سے بڑا پنڈوراباکس کھل گیا ہے،سُنی اتحاد کونسل کے اراکین کے بیان حلفی واپس نہیں ہوسکتے، فوری طور پر الیکشن میں جانے کا کوئی سلسلہ نظر نہیں آرہا

    خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ فیصلہ ایک شخص کی دہلیز تک پہنچایا جو سائل ہی نہیں تھا، مخصوص نشستوں کے کیس میں فیصلہ کی ہوم ڈیلیوری کی گئی، آئین میں اداروں کی ذمے داریاں طے ہیں، دو ملین سے زیادہ سائل ہیں جو عدلیہ کے سامنے ہیں جنہیں انصاف نہیں مل رہا، آئین کی سر بلندی کے لیے کردار ادا کرتے رہیں گے،لوگ پھانسی لگ گئے اور انصاف نہیں ملا، عدلیہ کو 134 واں نمبر بین الاقوامی سطح پر ملا ہے، اعلیٰ ترین عدلیہ کے بارے میں غیرضروری بیانات سے گریز کرتا ہوں،

    خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ قومی مستبقل کے لیے یہ اچھی بات نہیں، کل ہم کس ادارے سے کہیں گے کہ آپ نے غیر آئینی کام کیا ہے، الیکشن کمیشن بھی آئینی ادارہ ہے، پارلیمنٹ بھی آئینی ادارہ ہے، ہمارے اس وقت بھی 209 ممبرز ہیں،آئین کی بہت سی شقوں کی وائلیشن ہوئی ہے، بہتر فیصلے وہ ہوتے ہیں جو عام فہم ہوں اور لب کشائی نہ کی جائے، اس وقت ہزاروں ارب کا بوجھ پینشن کی صورت میں ہمارے خزانے پر ہے، دو دو، تین تین نسلوں سے لوگ انصاف کے منتظر ہیں، فیصلے پر آگے کیا ردعمل دینا ہے اس کا فیصلہ آئین اور قانون کے مطابق ہو گا، آئین اور قانون پامال ہوگا تو سب اپنی حدود پار کر جائیں گے،

    دوسری جانب ن لیگی رہنما، رکن قومی اسمبلی حنیف عباسی کا کہنا ہے کہ اعتراضات کے باوجود مخصوص نشستوں کے فیصلے کو تسلیم کرتے ہیں،حکومت کو مخصوص نشستوں کے فیصلے سے کوئی خطرہ نہیں، گالم گلوچ کی سیاست کو پروان چڑھایا جا رہا ہے، اس وقت پارلیمنٹ دیکھ رہی ہے کہ ہم نے اپنا کام کرنا ہے یا نہیں، سوشل میڈیا کا منفی زہر معاشرے میں پھیل رہا ہے، فیصلے پر عدالت میں جانے سے متعلق کابینہ میں مشاورت ہوگی، آئین کو تبدیل کرنے کا اختیار پارلیمنٹ کے پاس ہے

    فیصلے سے ثابت ہوا کہ لاڈلہ ازم آج تک برقرار ہے ، شرجیل انعام میمن

    سپریم کورٹ فیصلے کے بعد پی ٹی آئی کا چیف الیکشن کمشنر کیخلاف کاروائی کا مطالبہ

    سپریم کورٹ،مخصوص نشستیں،پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار

    سپریم کورٹ،مخصوص نشستیں، سنی اتحاد کونسل کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    کچھ ججز دانا ہوں گے، میں اتنا دانا نہیں، پاکستان کو ایک بار آئین کے راستے پر چلنے دیں، چیف جسٹس

    نشان نہ ملنے پر کسی امیدوار کا کیسے کسی پارٹی سے تعلق ٹوٹ سکتا؟ چیف جسٹس

    انتخابات بارے کیا کیا شکایات تھیں الیکشن کمیشن مکمل ریکارڈ دے، جسٹس اطہر من اللہ

    سنی اتحادکونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق اپیل پر سماعت 24 جون تک ملتوی

    سپریم کورٹ، سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ ملنے کیخلاف کیس کی سماعت ملتوی

    مخصوص نشستوں پر سپریم کورٹ کا فیصلہ،ملک ایک اور آئینی بحران سے دوچار

    حکومت کو کوئی خطرہ نہیں،معاملہ تشریح سے آگے نکل گیا،وفاقی وزیر قانون

    سپریم کورٹ کا فیصلہ، سیاسی جماعتوں کا ردعمل،پی ٹی آئی خوش،حکومتی اتحاد پریشان

  • عمران خان کی رہائی سے کوئی خطرہ نہیں،خواجہ آصف کی پھر مذاکرات کی پیشکش

    عمران خان کی رہائی سے کوئی خطرہ نہیں،خواجہ آصف کی پھر مذاکرات کی پیشکش

    وزیردفاع خواجہ آصف نے عمران خان کو ایک بار پھر بات چیت کی پیشکش کی ہے
    برطانوی نشریاتی ادارے کو انٹرویو میں وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہناتھا کہ عمران خان کی رہائی سے کوئی خطرہ نہیں، سیاست میں اپ ڈاؤن آتے رہتے ہیں انہیں خطرہ نہیں سمجھنا چاہیے،وہ نہیں سمجھتے کہ بانی پی ٹی آئی وزیراعظم کی بات چیت کی پیشکش کو سنجیدہ لیں گے، لیکن حکومت بات چیت کیلئے تیار ہے، اگر سیاسی طاقتیں مل کر ملک کے لیے بہتری کا راستہ نکالنا چاہتی ہیں تو اسٹیبلشمنٹ کو کیا اعتراض ہوگا۔

    وزیر دفاع خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ آپریشن عزم استحکام فوج نہیں، حکومت کی ضرورت ہے، دہشت گردی کے بڑھتے واقعات کے پیش نظر ضروری تھاکہ ہم از سر نو صف آرائی کرتے، نیشنل ایکشن پلان کی اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے آپریشن عزم استحکام پر کوئی اعتراض نہیں کیا، خیبر پختونخوا کے عوام کی اکثریت آپریشن کی حمایت کرے گی، پچھلی حکومت میں 4 سے 5 ہزار افراد کو افغانستان سے لا کر بسایا گیا، جس سے افغانستان میں موجود عناصر کو محفوظ ٹھکانے ملے وہ آکر ان کے گھروں میں رہتے اور کارروائیاں کرتے رہے، انہیں لڑنے، لوگوں کو مارنے اور دہشت گردی کے سوا کچھ نہیں آتا، ماضی میں فاٹا کےلیے جو ایجنڈہ طے ہوا لیکن اس کا فالو اپ نہیں ہوا۔

    امریکی ایوان نمائندگان میں قرارداد،پاکستان کے خلاف آپریشن گولڈ اسمتھ کی ایک کڑی

    آپریشن گولڈ سمتھ کے حوالہ سے سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے ایک وی لاگ میں انکشافات کیے تھے اور کہا تھا کہ اب آپریشن گولڈ سمتھ جو ہے چڑیل کی خبر کے مطابق وہ لانج ہو گیا ہے

    امریکی قرارداد پاکستان کے سیاسی حالات سے ناواقفیت پر مبنی ہے،ترجمان دفتر خارجہ

    گولڈسمتھ 2.0 کے حصے کے طور پر قرارداد 901 پاکستان کو کمزور کرنے کی کوشش

    امریکی قرارداد مسترد، وزیر خارجہ کا مقابلے میں قرارداد لانے کا اعلان

    قراردار پر پاکستان نے امریکا کو اپنے تحفظات سے آگاہ کردیا ہے،ترجمان دفتر خارجہ

  • معاشی مشکلات کی وجہ سے  آپریشن عزم استحکام کا فیصلہ کیا گیا ہے، خواجہ آصف

    معاشی مشکلات کی وجہ سے آپریشن عزم استحکام کا فیصلہ کیا گیا ہے، خواجہ آصف

    اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ آپریشن عزم استحکام کے تحت سرحد پار موجود دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کو بھی نشانہ بنایا جاسکتا ہے،ہ ہم آپریشن عزم استحکام کو کامیاب بنانے کیلئے چاہتے ہیں کہ اپوزیشن اور تمام سیاسی جماعتوں سے بات کی جائے اور اس کے خدوخال سے اُن کو آگاہ کریں-

    امریکی خبررساں ادارے ”وائس آف امریکا“ کو دئیے گئے ایک انٹرویو میں وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ آپریشن عزم استحکام کا فیصلہ جلد بازی میں نہیں ہوا، تاہم ملک میں ایسا سیاسی ماحول موجود ہے کہ سیاسی جماعتیں اپنے مفادات کے آگے حکومتی فیصلوں کو جگہ نہیں دینا چاہتیں، آپریشن کے حوالے سے سیاسی جماعتوں کے جو بھی تحفظات ہیں انہیں دور کیا جائے گا اور حکومت اس معاملے کو اسمبلی میں بھی لے کر آئے گی، تاکہ اراکین کے سوالات اور تحفظات کا جواب دے کر انہیں اعتماد میں لیا جاسکے۔

    کالعدم دہشتگرد تنظیم ٹی ٹی پی سے مذاکرات کے سوال پر انہوں نے کہا کہ ایسا کوئی گراؤنڈ موجود ہی نہیں جس کی بنیاد پر بات چیت کی جائے پچھلے تمام آپریشن کامیاب ہوئے اور کسی قسم کی کوئی ناکامی کا سامنا نہیں کرنا پڑا، اُس وقت بھی اور آج بھی افواج پاکستان سب سے بڑی اسٹیک ہولڈرز ہیں، اُس وقت آپریشن کے بعد سویلین حکومتوں کو جس طرح سے کردار ادا کرنا چاہیے تھا اُس میں تمام حکومتیں ناکام رہی ہیں۔

    وزیر دفاع نے کہا کہ ہم آپریشن عزم استحکام کو کامیاب بنانے کیلئے چاہتے ہیں کہ اپوزیشن اور تمام سیاسی جماعتوں سے بات کی جائے اور اس کے خدوخال سے اُن کو آگاہ کریں، کابینہ نے اس کی منظوری دے دی ہے، وہ چاہیں تو اسمبلی میں یا پھر آل پارٹیز کانفرنس میں اس حوالے سے بات کی جاسکتی ہے۔

    ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ جہاں تک میرا مشاہدہ ہے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے اب تک کسی بھی اسٹیج پر آپریشن عزم استحکام کی مخالفت نہیں کی،معاشی مشکلات کی وجہ سے ہی آپریشن عزم استحکام کا فیصلہ کیا گیا ہے اور اس میں ٹی ٹی پی کی سرحد پار پناہ گاہوں کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے، کیونکہ ملکی سالمیت سے بڑی کوئی چیز نہیں۔

    انہوں نےواضح کیا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کونشانہ بنانا عالمی قوانین کیخلاف ورزی نہیں کیونکہ وہاں سے پاکستان میں دہشت گردی ایکسپورٹ ہورہی ہے اور اُن کے سلیپر سیل کے چار ہزار وہ اراکین جو عمران خان کے حکم پر واپس لائے گئے وہ پاکستان میں بدامنی پھیلا رہے ہیں۔