Baaghi TV

Tag: روس

  • روس نے ویزا فری انٹری دینے کا اعلان کر دیا

    روس نے ویزا فری انٹری دینے کا اعلان کر دیا

    روس نے 2025 سے بھارتیوں کو بغیر ویزا انٹری کی سہولت دینے کا اعلان کیا ہے۔

    غیر ملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق بھارتی شہری اگست 2023 سے روس کے لیے ای-ویزا کے بھی اہل ہیں، جس کے اجرا میں تقریباً چار دن لگتے ہیں۔ روس اور ہندوستان کے درمیان دوستانہ تعلقات کو مزید مستحکم کرتے ہوئے روس نے بھارتی شہریوں کو ویزے کے بغیر انٹری دینے کی اجازت دے دی ہے۔جون 2023 میں دونوں ممالک نے ویزا پابندیوں میں کمی کے حوالے سے بات چیت کی تھی، تاہم اب روس کے نئے ویزا قوانین نافذ ہونے کے بعد بھارتی شہری بغیر ویزا روس کا سفر کر سکیں گے۔دی انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق 2023 میں روس نے بھارتیوں کو 9,500 ای-ویزا جاری کیے، اس برس 60 ہزار سے زیادہ بھارتیوں نے ماسکو کا سفر کیا، جو 2022 کے مقابلے میں 26 فی صد زیادہ ہے۔واضح رہے کہ اس وقت روس ویزا فری انٹری کی سہولت صرف چین اور ایران کے مسافروں کو دیتا ہے، تاہم بھارت کے ساتھ بھی اس سہولت پر غور کیا جا رہا ہے، اور امکان ہے کہ 2025 سے اس کا آغاز ہو جائے گا۔ روس کے ساتھ بھارت کے ان قریبی روابط پر امریکا ہمیشہ تحفظات کا اظہار کرتا رہا ہے۔

    کالعدم تنظیم کی فنڈنگ، سہولت کاری میں ملوث ملزم گرفتار

    شہریت کی تصدیق،حمیدہ بانو 22 برس بعد بھارت روانہ

    تنگوانی: دو افراد دن دہاڑے اغوا، پولیس خاموش تماشائی

    کراچی پولیس نے ہفتہ وار کارروائیوں کی رپورٹ جاری کردی

  • بشار کا تحتہ الٹنےکے بعد روس نے شام کی گندم فراہمی روک دی

    بشار کا تحتہ الٹنےکے بعد روس نے شام کی گندم فراہمی روک دی

    بشارالاسد کے ماسکو فرار ہونے کے بعد روس نے شام کو گندم کی سپلائی معطل کردی۔

    روسی اور شامی ذرائع نے رائٹرز نیوز ایجنسی کو بتایا کہ شام کو روسی گندم کی سپلائی نئی حکومت کے بارے میں غیریقینی صورتحال اور ادائیگی میں تاخیر کی وجہ سے معطل کر دی گئی ہے۔شام کے لیے روسی گندم لے جانے والے دو جہاز اپنی منزلوں تک نہیں پہنچ سکے۔روس، دنیا کا سب سے بڑا گندم برآمد کرنے والا ملک اور بشار الاسد کا کٹر حامی تھا اور اس نے شام اور روس دونوں پر عائد مغربی پابندیوں کو ناکام بناتے ہوئے پیچیدہ مالیاتی اور لاجسٹک انتظامات کے ذریعے شام کو گندم فراہم کی تھی۔حکومت کے قریبی ایک روسی ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ شام کو سپلائی معطل کر دی گئی ہے کیونکہ برآمد کنندگان اس بات پر غیر یقینی صورتحال سے پریشان ہیں کہ دمشق میں اقتدار کی تبدیلی کے بعد شام کی جانب سے گندم کی درآمد کا انتظام کون کرے گا۔شپنگ ڈیٹا سے پتہ چلتا ہے کہ ایک بحری جہاز، میخائل نیناشیف، شام کے ساحل پر لنگر انداز ہے، جب کہ دوسرا، الفا ہرمیس، کئی دنوں تک شام کے ساحل سے دور رہنے کے بعد مصری بندرگاہ اسکندریہ کی طرف بڑھ رہا ہے۔

    بجلی صارفین پر نیا بوجھ ڈالنے کا منصوبہ سامنے آ گیا

    بجلی صارفین پر نیا بوجھ ڈالنے کا منصوبہ سامنے آ گیا

    کراچی فراہمی و نکاسی آب کیلئے 24 کروڑ ڈالر منظور

    محض شک کے بنا پرشوہر نے حاملہ بیوی کو نہر میں پھینک دیا

  • یوکرین نے روس کے اہم میزائل سائنسدان کوقتل کر دیا

    یوکرین نے روس کے اہم میزائل سائنسدان کوقتل کر دیا

    ماسکو: روس کے اہم میزائل سائنسدان کو ماسکو کے ایک پارک میں قتل کر دیا گیا ۔

    باغی ٹی وی : برطانوی اخبارکے مطابق یہ سائنسدان، جو ایک ایسوسی ایٹ پروفیسر بھی تھے، روسی Kh-59 کروز میزائل کو اپگریڈ کرنے پر کام کر رہے تھے فوری طور پر قیاس آرائی کی گئی کہ انہیں یوکرین کی فوجی انٹیلیجنس نے قتل کیا ہے۔

    جلاوطن روسی صحافی الیگزینڈر نیو زوروف نے کہا کہآج ماسکو میں جی یو آر فورسز نے ایک خاص مجرم، میخائل شاتسکی، کو ختم کر دیا، جو مارس ڈیزائن بیورو کے ڈپٹی جنرل ڈیزائنر اور سافٹ ویئر ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ تھے وہ Kh-59 کروز میزائل کو Kh-69 سطح پر اپگریڈ کرنے، نئے ڈرونز متعارف کرانے میں ملوث تھے اور ہزاروں بے گناہ یوکرینیوں کی ہلاکت کے ذمہ دار ہیں۔

    روسی اے پی این نیوز ایجنسی نے بتایا کہ 11 دسمبر کو کوتیلنیکی میں ہونے والی فائرنگ کے نتیجے میں مارس ڈیزائن بیورو کے سافٹ ویئر ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ میخائل شاتسکی کو قتل کر دیا گیا وہ کروز میزائل کی اپ گریڈیشن اور جدید فوجی ڈرونز کی تیاری میں مصروف تھے، یوکرینی قوم پرستوں نے اس قتل کی ذمہ داری قبول کی ہے، میخائل شاتسکی کو روس کے صدارتی محل کریملن سے آٹھ میل دور ایک نامعلوم قاتل نے کوزمینسکی فارسٹ پارک کوتیلنیکی میں قتل کیا۔

    فوری طور پر کوئی سرکاری روسی بیان سامنے نہیں آیا، یوکرین کے عوامی نشریاتی ادارے "سسپیلنے” نے کہا کہ انہیں یوکرینی "خصوصی خدمات” سے تصدیق ملی ہے کہ شاتسکی کو "ختم” کر دیا گیا ہے۔

  • اسرائیل کے شامی فوجی اہداف  پر 48 گھنٹوں میں 480 حملے

    اسرائیل کے شامی فوجی اہداف پر 48 گھنٹوں میں 480 حملے

    اسرائیل کی جانب سے شام پر حملوں کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے جس میں شامی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

    غیر ملکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، اسرائیلی جنگی طیاروں نے گزشتہ 48 گھنٹوں میں شام میں مختلف اسٹریٹیجک فوجی مقامات پر 480 فضائی حملے کیے ہیں، جس کے نتیجے میں کئی اہم فوجی تنصیبات کو تباہ کر دیا گیا ہے۔رپورٹس کے مطابق اسرائیل نے شام میں اپنی فضائی کارروائیوں کو مزید تیز کرتے ہوئے شامی فوجی اثاثوں کو نشانہ بنایا ہے۔ ان حملوں میں اسرائیل نے خاص طور پر اسٹریٹیجک فوجی مقامات کو نشانہ بنایا، جس میں زیر قبضہ گولان کی پہاڑیوں کے مشرق میں واقع بفر زون میں فوجی کارروائیاں شامل ہیں۔ اسرائیلی فوج نے اس بفر زون میں اپنے فوجی بھیج کر شام کے 70 سے 80 فیصد اسٹریٹیجک فوجی اثاثوں کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

    اسرائیل نے شام کے ساحلی شہر البیضا اور لطاکیہ بندرگاہ پر بھی حملے کیے ہیں، جہاں 15 بحری جہازوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، اسرائیلی فوج نے دمشق اور دیگر اہم شہروں میں ہتھیاروں کی تیاری کے مقامات کو بھی فضائی حملوں کا نشانہ بنایا ہے، جس سے شام کی عسکری صلاحیتوں پر مزید ضرب لگائی گئی ہے۔اسرائیلی میڈیا کے مطابق، اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو غزہ سے لے کر شمالی شام تک ایک "گریٹر اسرائیل” منصوبے پر عمل پیرا ہیں۔ اسرائیل کی موجودہ کارروائیاں اس بات کا اشارہ دیتی ہیں کہ وہ اپنی پوزیشن کو مستحکم کرنے اور شام میں ایران کے اثر و رسوخ کو کم کرنے کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔

    دوسری جانب روس نے اسرائیلی حملوں کو شام-اسرائیل امن معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ روسی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ اسرائیل کے حملے شام کی خودمختاری اور سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں اور یہ کہ ان حملوں کی شدت سے شام کے ساتھ موجود امن معاہدوں کی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔روسی حکومت نے بین الاقوامی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ اسرائیل کی اس کارروائی پر تشویش کا اظہار کرے اور شام میں جاری جنگ کی شدت کو کم کرنے کے لیے اقدامات کرے۔پاکستان سمیت دیگر عرب ممالک نے بھی اسرائیل کی اس کارروائی پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور شامی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ عالمی سطح پر اس حملے کی مذمت کی جا رہی ہے اور مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ اسرائیل اپنے جارحانہ رویے کو فوری طور پر روکنے اور علاقائی امن کو فروغ دینے کے لیے اقدامات کرے۔

    اسرائیل کے شدید حملوں میں شام کی اہم دفاعی تنصیبات مکمل تباہ

    شام میں جو ہوا وہ امریکہ و اسرائیل کا منصوبہ تھا،ایرانی سپریم لیڈر

    اسرائیلی بکتر بند گاڑیاں شام کے بفر زون میں دیکھی گئیں

    بشار الاسد کا تختہ الٹنے کا کریڈٹ اسرائیل نے لے لیا

  • عالمی برادری غزہ میں انسانی بحران کے خاتمے کیلیے کردار ادا کرے،سحر کامران

    عالمی برادری غزہ میں انسانی بحران کے خاتمے کیلیے کردار ادا کرے،سحر کامران

    پاکستان کی معروف سیاستدان اور پارلیمنٹ کی رکن،پیپلز پارٹی کی رہنما سحر کامران نے کوالالمپور میں "اسٹرٹیجک ویژن گروپ رشیا اسلامک ورلڈ کے اجلاس میں شرکت کی اور خطاب کیا،

    اجلاس میں اس موقع پر ملائشیا کے وزیرِ اعظم ، تاتارستان کے صدر اور دیگر اہم عالمی شخصیات بھی موجود تھیں۔سحرکامران نے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ "یہ وقت ہے کہ ہم عالمی سطح پر روس اور اسلامی دنیا کے درمیان پائیدار اور مضبوط تعلقات کو فروغ دیں تاکہ دونوں طرف کے عوام کو امن، استحکام اور خوشحالی حاصل ہو۔ عالمی سیاست میں نئے چیلنجز اور مواقع سامنے آ رہے ہیں، اور ہمیں ان کا مقابلہ کرنے کے لیے یکجہتی کی ضرورت ہے۔”انہوں نے اس موقع پر فلسطین میں جاری اسرائیلی جارحیت اور غیر قانونی قبضے کی سخت مذمت کی۔ ان کا کہنا تھا: "ہم فلسطینی عوام کے حقوق کے لیے متحد ہیں، اور عالمی برادری سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ غزہ میں انسانی بحران کے خاتمے کے لیے فوری اقدامات کرے۔” سحرکامران نے اجلاس کے شرکاء کی توجہ اس بات پر دلائی کہ اسرائیلی جارحیت نے نہ صرف فلسطینیوں کی زندگی کو متاثر کیا ہے بلکہ پورے خطے کی سلامتی کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے۔

    اجلاس میں روس اور اسلامی دنیا کے درمیان مشترکہ مسائل پر بھی تفصیل سے بحث کی گئی۔ اسٹرٹیجک ویژن گروپ نے عالمی سطح پر مل کر کام کرنے کی ضرورت پر زور دیا، تاکہ مختلف بین الاقوامی مسائل بشمول دہشت گردی، ماحولیاتی تبدیلی، اور انسانی حقوق کے مسائل کو حل کیا جا سکے۔اجلاس کے اختتام پر ایک گروپ فوٹوگرافی کی گئی جس میں سحر کامران، وزیرِ اعظم ملائشیا، تاتارستان کے صدر، اور دیگر شرکاء شامل تھے۔ اس موقع پر تمام شرکاء نے عالمی سطح پر امن، استحکام اور ترقی کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔

    سحرکامران کی اسٹریٹجک ویژن گروپ،روس اسلامک ولڈ کے اجلاس میں شرکت

    یو اے ای کی ترقی،عالمی سطح پر کامیاب حکمرانی ایک مثال ہے، سحر کامران

    پی آئی اے پروازوں کی بحالی پاکستان کے لئے بڑی کامیابی ہے،سحر کامران

    پیپلز پارٹی ایک طاقتور سیاسی قوت کے طور پر موجود ہے۔سحر کامران

    بشریٰ بی بی کو لانچ کرنا تھا تو بہتر طریقہ اختیار کرتے،سحر کامران

    حا لات بہتر کرنے کا واحد راستہ مذاکرت اور مفاہمت ہے۔سحر کامران

    امریکی سفیر کا استقبالیہ، پیپلز پارٹی رہنما سحر کامران کی شرکت

    خواتین قانون سازوں کا فیصلوں میں کردار اب بھی محدود ہے،سحر کامران

    احتجاج اور انتشار میں تفریق کرنی ہو گی، سحر کامران

    کم عمری کی شادیاں بچوں کو ذہنی اور جسمانی نقصان پہنچاتی ہیں،سحر کامران

    پیپلز پارٹی کسانوں ،محنت کشوں کے حقوق کا تحفظ کر رہی ہے،سحر کامران

    ایوان میں وزرا کی مسلسل غیر حاضری،غلط جوابات،سحر کامران پھٹ پڑیں

    پاک عراق پارلیمانی فرینڈشپ گروپ کا سحرکامران کی زیر صدارت اجلاس

    پاکستان اور روس کے کثیرالجہتی تعلقات مثبت راستے پر گامزن ہیں: سحرکامران

  • بشارالاسد کے ملک چھوڑنے کی روس نے تفصیل بتا دی

    بشارالاسد کے ملک چھوڑنے کی روس نے تفصیل بتا دی

    شام میں صدر بشارالاسد کے ملک سے فرار ہونے اور حزب اختلاف کی فوج کا قبضہ کرنے پر روس کا اہم بیان آگیا۔

    روسی وزارت خارجہ نے شام میں پیدا ہونے والی صورتحال پر کہا ہے کہ بشارالاسد نے اقتدر کی پُرامن منتقلی کے احکامات دے کر عہدہ اور ملک چھوڑا۔روس نے صدر بشارالاسد کی روس میں موجودگی بھی کنفرم کردی ہے.واضح رہے کہ باغی مسلح گروپوں کے دمشق پر قابض ہونے کے بعد شامی صدر بشار الاسد آج ایک طیارے میں سوار ہو کر ملک سے فرار ہوئے ہیں۔برطانوی میڈیا کا کہنا تھا کہ اسد طیارے میں سوار ہو کر نامعلوم مقام پر روانہ ہوئے تھے۔روسی وزارت خارجہ کے مطابق شام میں موجود روس کے فوجی اڈےہائی الرٹ ہیں اور انہیں کوئی خطرہ نہیں، شام میں حیات تحریرالشام سے رابطے میں ہیں اور تمام فریق تحمل کا مظاہرہ کریں اور تشدد سے باز رہیں۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق شامی وزیر اعظم محمد غازی الجلالی نے بشار الاسد کے فرار کے بعد اعلان کیا ہے کہ وہ دمشق میں اپنی جگہ نہیں چھوڑیں گے۔محمد غازی الجلالی نے کہا سب لوگوں کو مل کر ملک کی بحالی کے لیے سوچنا ہوگا، ملک کی بہتری کے لیے ہم اپوزیشن کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہیں، امید ہے حکومت مخالف فورسز کسی شہری کو نقصان نہیں پہنچائیں گی۔شامی وزیر اعظم نے مظاہرین سے اپیل کی کہ سرکاری املاک کو نقصان نہ پہنچائیں، انھوں نے کہا حکومت اپوزیشن کی طرف ’اپنا ہاتھ پھیلانے‘ اور اپنی ذمہ داریاں عبوری حکومت کے حوالے کرنے کے لیے تیار ہے۔جلیلی نے ایک ویڈیو بیان میں کہا ’’میں اپنے گھر میں ہوں اور میں نے ملک نہیں چھوڑا، اور یہ اس ملک سے میرا تعلق ہونے کی وجہ سے ہے۔‘‘ انھوں نے کہا کہ وہ صبح کام جاری رکھنے کے لیے اپنے دفتر جائیں گے، اور شہریوں سے عوامی املاک کو نقصان نہ پہنچانے کی اپیل ہے۔

    صورتحال سے فائدہ ،اسرائیل نے شام کے اہم علاقے پر قبضہ کر لیا

    بشار الاسد کا تختہ الٹنے کا کریڈٹ اسرائیل نے لے لیا

    دینی مدارس میں سرکار کی مداخلت نہیں مانتے،مولانا فضل الرحمان

    عمران خان نے حکومت سے مذاکرات کیلیے کمیٹی بنا دی

    گورنر سندھ سے اٹلی کی سفیراور وزارت دفاع کے مشیرکی ملاقات

  • روس کا ایران کے راستے پاکستان تک ٹرین سروس شروع کرنے پر غور

    روس کا ایران کے راستے پاکستان تک ٹرین سروس شروع کرنے پر غور

    روس کی جانب سے ایران کے راستے پاکستان تک ٹرین سروس شروع کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔

    باغی ٹی وی: پاکستان ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ تفتان کوئٹہ ریلوے کی حالت مخدوش ہے جس کے باعث مال بردار ٹرینیں 30سے 40 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلتی ہیں، کوئٹہ تفتان ریلوے سیکشن کواپ گریڈ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، اپ گریڈ یشن پر 700ملین ڈالر لاگت کا تخمینہ ہے۔

    روسی ٹیلی ویژن رشیا ٹوڈے کو دیئے جانے والے انٹرویو میں وزیر توانائی اویس احمد خان لغاری کا کہنا تھا کہ اگلے برس مارچ تک روس سے ایک مال بردار ٹرین چلانے کی آزمائش کی جائے گی جو آذربائیجان اور ایران کے راستے پاکستان آئے گی مغرب سے شمال کی جانب چلائی جانے والی اس آزمائشی ٹرین سے لاجسٹکس اور مختلف اشیا پاکستان لائی جائیں گی۔

    انہوں نے بتایا کہ پاکستان اور روس کے درمیان انسانی وسائل کے تربیتی پروگرام کو وسعت دینے، چینی اداروں کے نئی سٹیل بنانے کے تکنیکی اور مالیاتی امکانات کا جائزہ لینے پر بات کی جا رہی ہے جو سوویت یونین کے دور میں پاکستانی میں بنائی گئی تھی اور اب اس نے اپنی زندگی پوری کر لی ہے اور ہم پاکستان اور روس کے درمیان فضائی سروس شروع کرنے پر بھی غور کر رہے ہیں جس سے فضائی سفر آسان ہوگا اور دونوں ممالک کے لوگ آپس میں ایک دوسرے سے ملیں گے اور کاروبار مواقع تلاش کر سکیں گے۔

    اویس لغاری کا کہنا تھا کہ اس سے کاروبار میں آسانی ہوگی، دو بدو رابطہ کاری آسان ہوگی، دونوں جانب کے شہری ایک دوسرے سے ملیں گے، کھیلوں کو فروغ ملے گا، اس کے سیاسی اور معاشی پہلو بھی ہیں جو دونوں ممالک کے درمیان کچھ عرصے کے دوران نہیں دیکھے گیے تھے۔

    اویس لغاری کا کہنا تھا کہ برکس ممالک کے اتحاد میں شمولیت کے لیے پاکستان کو روس اور چین کی حمایت حاصل ہے البتہ شاید ایک ملک ’اس پر زیادہ خوش نہ ہو‘ اور پاکستان برکس میں شمولیت پر بہت زیادہ حصہ ڈال سکتا ہے پاکستان برکس میں شامل ہوکر کافی معاشی اور تجارتی تعاون حاصل کرسکتا ہے اور ان ہی شعبوں میں ممبر ممالک کو بہت سے فوائد پہنچا سکتا ہے۔

    روس کے ساتھ تعاون میں چیلنجز کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے اویس لغاری کا کہنا تھا کہ پاکستانی تاجروں کو امریکی اور چینی مارکیٹوں کا روسی مارکیٹ کے مقابلے میں زیادہ اندازہ ہے لہذا فی الحال سب بڑا چیلنج یہ ہے کہ دونوں ممالک کے لوگ اور تاجر ایک دوسرے کو جانیں پہچانیں۔

    پاکستان کی روس سے قربت بڑھنے پر مغرب سے دباؤ کے تحفظات کےبارے باتے کرتے ہوئے توانائی اویس لغاری کا کہنا تھا کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے اور جیسے ہم تعلقات آگے بڑھا رہے ہیں ہم دنیا کو بتا رہے ہیں کہ یہ کسی کے خلاف یا حمایت میں نہیں بلکہ ہمارے اپنے مفاد میں ہیں اور اس حد تک ہیں جہاں تک ہمارے مفادات مشترکہ ہوں۔

    مغرب کی پابندیوں کا روس اور پاکستان کے تعلقات پر فرق پڑنے کے سوال پر اویس لغاری کا کہنا تھا کہ ہاں ہم اس طرح تجارت اور معیشت میں تعاون نہیں کر پا رہے جس طرح ہم کر سکتے ہیں، وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ جوہری توانائی کے شعبے میں تعاون کے بارے میں ابھی تک کوئی بات نہیں ہوئی ہے، جوہری توانائی کی پیداوار کا ہماری کل پیداوار میں بڑا حصہ ہے جو کلین اور افیشنٹ ہے، آئی جی سی کی سطح پر دونوں ممالک کے ورکنگ گروپ جب بھی اس بارے میں دلچسپی ظاہر کی گئی چاہے ہماری جانب سے یا پھر روس کی جانب سے تو اس پر بات ہو سکتی ہے۔

  • دنیا "تیسرے جوہری دور” میں داخل ہو چکی ہے،برطانوی فوج کے سربراہ

    دنیا "تیسرے جوہری دور” میں داخل ہو چکی ہے،برطانوی فوج کے سربراہ

    لندن: برطانیہ کے چیف آف دی ڈیفنس سٹاف ایڈمرل سر ٹونی ریڈاکن نے دعویٰ کیا ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن تیسری عالمی جنگ میں "مغلوب” ہوں گے اور شکست کا سامنا کریں گے۔

    باغی ٹی وی : ڈیلی سٹار کے مطابق برطانیہ کے چیف آف دی ڈیفنس سٹاف ایڈمرل سر ٹونی ریڈاکن نے روسی انسٹیٹیوٹ آف سٹریٹیجک سٹڈیز کانفرنس میں کہا کہ برطانیہ اور روس کے درمیان کسی بڑے تصادم کے امکانات "انتہائی کم” ہیں اور روس جانتا ہے کہ برطانیہ کا ردعمل روایتی یا جوہری، ہر لحاظ سے زبردست ہوگا۔

    برطانیہ کے فوجی سربراہ سر ٹونی نے یہ بھی کہا کہ دنیا "تیسرے جوہری دور” میں داخل ہو چکی ہے، جہاں ماسکو "غیر منطقی دھمکیاں” دے رہا ہے، چین اپنے جوہری ہتھیاروں کے ذخیرے کو بڑھا رہا ہے، ایران جوہری بم بنانے کی کوشش کر رہا ہے، اور شمالی کوریا اپنے غیر متوقع میزائل پروگرام کو بہتر بنا رہا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ روس کی جانب سے برطانیہ پر کسی بڑے حملے یا جارحیت کے امکانات انتہائی کم ہیں، اور نیٹو کے لیے بھی یہی صورتحال ہے، روس جانتا ہے کہ ردعمل زبردست ہوگا، چاہے وہ روایتی ہو یا جوہری نیٹو کی حکمت عملی کام کر رہی ہے اور اسے مضبوط رکھنے کی ضرورت ہے تاکہ روس کے خطرات کا مقابلہ کیا جا سکے۔

    سر ٹونی کے بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب برطانوی وزیرِ دفاع نے دعویٰ کیا کہ اگر برطانوی فوج کسی بڑے تنازع میں ملوث ہوئی تو چھ ماہ کے اندر شدید کمزوری کا شکار ہو سکتی ہے ایلسٹر کارنز نے کہا کہ اگر برطانوی فوج یوکرین پر روسی حملے جیسی شرح سے جانی نقصان اٹھائے، تو یہ چھ سے 12 ماہ کے اندر ختم ہو سکتی ہے۔

  • جرمن ہیلی کاپٹر پر روسی جہاز کی فائرنگ

    جرمن ہیلی کاپٹر پر روسی جہاز کی فائرنگ

    برلن: ایک جرمن ہیلی کاپٹر پر ایک روسی جہاز کی جانب سے فائرنگ کی گئی ہے-

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق بالٹک سمندر میں یہ واقعہ روس اور مغرب کے درمیان بڑھتے ہوئے تنازعات کے پس منظر میں پیش آیا ہے جرمن پریس ایجنسی کے مطابق بنڈس ویر کا ہیلی کاپٹر ایک جاسوسی مشن پر تھا جب روسی جہاز کے عملے نے مبینہ طور پر سگنل گولہ بارود کا استعمال کرتے ہوئے فائرنگ کی۔

    یہ واقعہ جرمن وزیر خارجہ انالینا بیربوک کی جانب سے نیٹو کے ایک اجلاس میں ذکر کیا گیا تھا، تاہم اس وقت اس کی مزید تفصیلات نہیں دی گئیں، بتایا جا رہا ہےکہ یہ گولہ بارود صرف ہنگامی صورت حال میں استعمال کیا جاتا ہے بالٹک سمندر اکثر ان جہازوں کے ذریعے استعمال کیا جاتا ہے جو یوکرین پر روسی حملے کے بعد عائد پابندیوں سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں مذکورہ جہاز ایک قسم کا ٹینکر بتایا جا رہا ہے۔

  • روس نے امریکا کو نیوکلیئر ہتھیاروں کی جنگ  کے تباہ کن اثرات سے خبردار کردیا

    روس نے امریکا کو نیوکلیئر ہتھیاروں کی جنگ کے تباہ کن اثرات سے خبردار کردیا

    امریکا کے پاس مہلک ترین بی 83 جوہری ہتھیار ہے، اگر یہ طاقتور ترین نیوکلیئر بم روس، چین اور شمالی کوریا کے دارلحکومتوں پر پھینکا گیا تو ہولناک تباہی ہوگی-

    باغی ٹی وی: امریکی جریدے نیوز ویک نے بی 83 نیو کلیئر بم سے تباہی کا تخمینہ پیش کردیا، جریدے کے مطابق امریکا کا طاقتور ترین نیوکلیئر ہتھیار بی 83 ہے، اس نیوکلیئر بم سے جو شعلہ بلند ہوگا وہ 4 اسکوائر کلومیٹر رقبے پر محیط ہوگا اور تباہی اس قدر ہوگی کہ 175 اسکوائر کلومیٹر رقبے میں عمارتیں تباہ یا جل جائیں گی۔

    امریکی جریدے کا کہنا ہے کہ اگر امریکا کا طاقتور ترین نیوکلیئر بم روس، چین اور شمالی کوریا کے دارلحکومتوں پر پھینکا گیا تو ہولناک تباہی ہوگی، اگر اسے ماسکو پر پھینکا گیا تو 14 لاکھ افراد ہلاک اور 37 لاکھ زخمی ہوں گے،نیوکلیئر بم بیجنگ پر پھینکا گیا تو 15 لاکھ افراد ہلاک اور 37 لاکھ زخمی ہوں گے، اسی طرح اگر یہ بم پیانگ یانگ پر پھینکا گیا تو 13 لاکھ شہری ہلاک اور 11 لاکھ زخمی ہوں گے۔

    جریدے کا کہنا ہے کہ دھماکے کے 211 مربع میل کے اندر موجود افراد جل جائیں گے، دھماکا کئی افراد کی معذوری کا سبب بن سکتا ہے، دھماکے کے 535 مربع میل کے فاصلے پر موجود عمارتوں میں لگے شیشے ٹوٹ سکتے ہیں اور لوگ زخمی ہوسکتے ہیں، امریکا نادانستہ طور پر اپنے اتحادیوں کی پشت پناہی کرنے کے لیے دنیا بھر میں متعدد تنازعات میں ملوث ہے، چین کے ساتھ تجارت سمیت متعدد مسائل پر تناؤ کا بھی سامنا ہے۔

    دوسری جانب روس نے امریکا کو نیوکلیئر ہتھیاروں کی جنگ کے خدشے کے تباہ کن اثرات سے خبردار کردیا اور واضح کیا ہے کہ نیوکلیئر ہتھیاروں کی آزمائش بحال کیے جانے پر غور کیا جا رہا ہے۔

    روس کے نائب وزیر خارجہ سرگئی ریابکوف نے یہ بات امریکی جریدے کی جانب سے روس پر ممکنہ نیوکلیئر حملے سے تباہی کے تخمینے پر ردعمل میں کہی یہ پہلی بار نہیں کہ ایسے واقعات کو ماڈل کیا گیا ہے، یہ خدشات موجود ہیں لیکن روس ہر ممکن کوشش کرے گا کہ ایسی تباہ کن صورتحال سے گریز کیا جائے۔

    نائب وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ہر چیز کا انحصار روس پر نہیں، اصل سوال یہ ہے کہ ہمارا دشمن کیسے برتاؤ کرتا ہے، اگر وہ اُس صورتحال کی طرف بڑھتے ہیں جس کا روسی نیوکلیئر ڈاکٹرائن میں ذکر کیا گیا ہے تو یہ دشمن پر منحصر ہوگا،اب پہلی بار نیوکلیئر ہتھیاروں کی آزمائش کرنے پر غور کررہا ہے؟ سوال پر نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ یہی سوال اس وقت درپیش ہے اور صورتحال کافی مشکل ہے،اس پر مستقل طور پر غور کیا جارہا ہے۔