Baaghi TV

Tag: روس

  • روس میں خود کو عیسٰیؑ ظاہر کرنے والے شہری کو 12 سال قید کی سزا

    روس میں خود کو عیسٰیؑ ظاہر کرنے والے شہری کو 12 سال قید کی سزا

    ماسکو: روس میں خود کو حضرت عیسٰی علیہ السلام ظاہر کرنے والے ایک شخص کو عدالت نے 12 سال قید کی سزا سنائی ہے۔

    روسی میڈیا کے مطابق اس شخص کا نام سرگئی ٹوروپ ہے جو خود کو "ویساریون” کہلواتا تھااس نے 1990 کی دہائی میں ایک نیا مذہبی فرقہ قائم کیا تھا، ویساریون نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ حضرت عیسٰیؑ کا "دوسرا جنم” ہےاس نے سائبیریا کے جنگلات میں ایک بڑی روحانی کمیونٹی قائم کی جسے "دی لاسٹ ٹیسٹمنٹ” کہا جاتا ہے، اور اس کے پیروکاروں کی تعداد ہزاروں میں تھی اس کمیونٹی میں، ویساریون کو ایک مذہبی رہنما اور مسیح کی حیثیت دی جاتی تھی.

    تاہم، اس شخص اور اس کے فرقے کے خلاف کئی الزامات سامنے آئے روسی حکام نے 2020 میں اس کو گرفتار کیا اور اس پر بچوں کے استحصال، جسمانی و ذہنی تشدد اور غیرقانونی مذہبی سرگرمیوں کے الزامات عائد کیے عدالت نے حال ہی میں سرئی کو 12 سال کی قید کی سزا سنائی یہ سزا سرگئی سخت قید والے کیمپ میں کاٹے گا۔

    واضح رہے کہ روسی حکام مذہبی فرقوں پر کڑی نظر رکھتے ہیں خاص طور پر ان پر جو لوگوں کو گمراہ کرنے یا ریاستی نظام کے خلاف اُکسانے کا رجحان رکھتے ہیں، ویسار یون کی تنظیم کو "تباہ کن مذہبی فرقہ” قرار دیا گیا ہے۔

    تائیوان میں شدید طوفان ’دناس‘ کے باعث خوفناک تباہی

    دریائے سوات میں مختلف مقامات پر ارلی وارننگ سسٹم نصب کرنے کا فیصلہ

    پی سی بی نے ڈومیسٹک کیلنڈر کا اعلان کردیا

  • روس ایرانی عوام کی مدد کے لیے تیار ہے،پیوٹن

    روس ایرانی عوام کی مدد کے لیے تیار ہے،پیوٹن

    روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا ہے کہ روس ایرانی عوام کی مدد کے لیے تیار ہے۔

    الجزیرہ کے مطابق ماسکو میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کے دوران صدر پیوٹن نے کریملن میں بات چیت کے آغاز پر کہا کہ کہ تہران کے خلاف جارحیت بے بنیاد ہے روس ایرانی عوام کی مدد کے لیے تیار ہے-

    روئٹرز کے مطابق ایران کے خلاف جارحیت مکمل طور پر بلاجواز ہے، روس ایرانی عوام کو مدد فراہم کرنے کے لیے کوششیں کر رہا ہے۔

    ایرانی سپریم لیڈ رنے انہیں روسی صدر کیلئے ایک خط دیاہے جس میں روس کی حمایت کی درخواست کی گئی ہے عباس عراقچی نے ایران پر امریکی حملوں کی مذمت کرنے پر صدر پیوٹن کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ روس تاریخ کے درست جانب کھڑا ہے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ‌ای اور صدر مسعود پزشکیاں نے پیوٹن کے لیے اپنی نیک تمنائیں اور سلام بھیجے ہیں۔

    لڑکی سے مبینہ زیادتی کیس، رجب بٹ نے درخواست واپس لے لی

    ریاستی خبر رساں ایجنسی ٹاس کے مطابق عراقچی نے کہا ہے کہ ایران اور روس مشرق وسطیٰ میں موجودہ کشیدگی کے حوالے سے اپنے مؤقف کو ہم آہنگ کر رہے ہیں۔

    روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایران کے سپریم لیڈر نے اپنے وزیر خارجہ کو ماسکو بھیجا ہے تاکہ صدر ولادیمیر پیوٹن سے امریکا کے حالیہ بڑے حملوں کے بعد مزید مدد کی درخواست کی جا سکے ایک سینئر ذریعے نےبتایا کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی، خامنہ‌ای کا خط پیوٹن تک پہنچائیں گے جس میں روس کی حمایت طلب کی گئی ہے۔

    وزیراعظم سے ایرانی سفیر کی ملاقات ، خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال

    ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ اب تک روس کی حمایت ایران کو کافی نہیں لگی اور تہران چاہتا ہے کہ پیوٹن اسرائیل اور امریکا کے خلاف ایران کی زیادہ کھل کر حمایت کرے، ذرائع نے یہ واضح نہیں کیا کہ ایران کس نوعیت کی مدد چاہتا ہے کریملن کا کہنا ہے کہ امریکا کے تین ایرانی جوہری تنصیبات پر حملے نے تنازع میں شامل فریقین کی تعداد میں اضافہ کر دیا ہے اور ایک نئے اور خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔

    کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے صحافیوں کو بتایا کہ ابھی یہ واضح نہیں کہ ایران کی جوہری تنصیبات کے ساتھ کیا ہوا ہے اور آیا وہاں تابکاری کا کوئی خطرہ موجود ہے یا نہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو حملے سے قبل آگاہ نہیں کیا، اگرچہ دونوں کے درمیان عمومی طور پر امریکی فوجی مدا خلت کے امکانات پر بات چیت ضرور ہوئی تھی،دمتری پیسکوف نے کہا کہ ماسکو نے ثالثی کی پیشکش کی ہے، اور اب یہ اس بات پر منحصر ہے کہ ایران کو کیا درکار ہے۔

    قوم شکر کرے ،پاکستان ایٹمی طاقت ہے،ورنہ کیا ہوتا؟ تجزیہ:شہزاد قریشی

  • روس، چین اور پاکستان کی مشرق وسطیٰ میں جنگ بندی کے لیے سلامتی کونسل میں قرارداد پیش

    روس، چین اور پاکستان کی مشرق وسطیٰ میں جنگ بندی کے لیے سلامتی کونسل میں قرارداد پیش

    روس، چین اور پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیشِ نظر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں فوری اور غیر مشروط جنگ بندی کے مطالبے پر مبنی قرارداد کا مسودہ پیش کر دیا ہے۔

    عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یہ اقدام سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس سے قبل کیا گیا ہے، تاہم فی الحال واضح نہیں کہ اس مسودے پر ووٹنگ کب ہوگی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ تینوں ممالک نے مسودہ سلامتی کونسل کے دیگر ارکان میں تقسیم کر دیا ہے اور پیر کی شام تک ان سے تجاویز و تبصرے طلب کیے گئے ہیں۔

    یاد رہے کہ سلامتی کونسل میں کسی قرارداد کی منظوری کے لیے کم از کم 9 ووٹ درکار ہوتے ہیں، بشرطیکہ مستقل رکن ممالک یعنی امریکا، برطانیہ، فرانس، روس یا چین میں سے کوئی بھی ویٹو کا استعمال نہ کرے. واضح رہے کہ یہ پیشرفت ایران کی درخواست پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس طلب کیے جانے کے بعد سامنے آئی ہے، جو امریکی حملوں کے ردعمل میں بلایا گیا ہے۔

    برٹش ایئرویز کا قطر اور یو اے ای کے لیے پروازیں معطل کرنے کا فیصلہ

    تہران میں امریکی و اسرائیلی حملوں کے خلاف احتجاج، صدر مسعود پزشکیان کی شرکت

    فردو جوہری مرکز، زیرزمین نقصان کا اندازہ ممکن نہیں: آئی اے ای اے

    ملیر جیل سے فرار ہونے والے 225 قیدیوں میں سے 48 اب بھی مفرور

    خواجہ آصف کا امریکی پالیسی پر تضاد کا اعتراف، ٹرمپ کی حمایت پر وضاحت

  • روس کا ایران پر امریکی حملے پر محتاط ردعمل

    روس کا ایران پر امریکی حملے پر محتاط ردعمل

    کریملن نے واضح کیا ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے فوری طور پر بات کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے، تاہم اس اہم معاملے پر جلد ہی فون کال متوقع ہے۔

    جبکہ روسی صدارتی معاون یوری اوشاکوف نے کہا ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے امریکا کے دورے یا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے روس کے دورے فی الحال ایجنڈے میں شامل نہیں ہیں،اوشاکوف نے روسی خبر رساں ادارے ’تاس‘ کے ایک سوال کے جواب میں کہ آیا ایسے دورے ممکن ہیں، جواب دیا ’فی الحال نہیں‘۔

    جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا دونوں رہنماؤں کی ممکنہ ملاقات کسی تیسرے ملک میں ہو سکتی ہے، تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ ابھی واضح نہیں ہے، یہ اس بات پر منحصر ہوگا کہ فریقین کیا طے کرتے ہیں، لیکن فی الحال اس حوالے سے کوئی بات چیت بھی نہیں ہو رہی۔

    سال کے آغاز اور صدر ٹرمپ کی حلف برداری کے بعد سے، روسی اور امریکی صدور کے درمیان 5 بار ٹیلیفونک بات چیت ہو چکی ہے، اپنی پہلی گفتگو کے دوران ہی دونوں رہنماؤں نے براہ راست رابطے برقرار رکھنے اور ذاتی ملاقاتوں کی منصوبہ بندی پر اتفاق کیا تھا۔

    کریملن کی جانب سے زور دیا گیا ہے کہ ایک سربراہی اجلاس ضروری ہوگا تاکہ اعلیٰ سطح کی کوششوں کے ذریعے حاصل شدہ نتائج کو باقاعدہ شکل دی جا سکےجب تک ان نتائج کو واضح طور پر قائم نہ کر لیا جائے، ماسکو کے نزدیک ملاقات کے امکان پر بات کرنا قبل از وقت ہوگا۔

  • ایران اسرائیل کشیدگی:چینی اور روسی صدور کے درمیان  ٹیلیفونک رابطہ

    ایران اسرائیل کشیدگی:چینی اور روسی صدور کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ

    چین کے صدر شی جن پنگ اور روسی ہم منصب ولادیمیر پیوٹن کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے-

    چین کے خبر رساں ادارے ’شہنوا‘ کے مطابق شی جن پنگ نے ولادیمیر پیوٹن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چین مشرق وسطیٰ میں امن کی بحالی کے لیے تمام فریقوں کے ساتھ بات چیت اور ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لیے تیار ہے، اور تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا بین الاقوامی برادری کو ماحول کو ’ٹھنڈا‘ کرنے کے لیے کوششیں کرنی چاہئیں، بات چیت اور مذاکرات ہی مسائل کے حل کا بنیادی راستہ ہیں۔

    صدر شی جن پنگ نے متحارب فریقین پر زور دیا کہ بین الاقوامی قوانین کی سختی سے پابندی کریں اور معصوم شہریوں کو نقصان پہنچانے سے مکمل گریز کریں، ایران-اسرائیل کشیدگی کے دوران شہریوں کی حفاظت اولین ترجیح ہونی چاہیے، متحارب فریقین، خاص طور پر اسرائیل، فوری طور پر جنگ بندی کرے،جنگ بندی کی فوری ضرورت ہے، اور طاقت کا استعمال بین الاقوامی تنازعات کے حل کا درست طریقہ نہیں۔

    روسی صدر نے بھی قیام امن کے لیے چین کے مؤقف کو سراہتے ہوئے اسرائیل اور ایران کے درمیان امن کی کوششوں کی حمایت کی، ’دی ٹیلیگراف‘ کے مطابق روس صدارتی محل کریملن سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ آج ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو میں ولادیمیر پیوٹن اور شی جن پنگ نے ایران پر اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔

    کریملن کے ایک معاون نے صحافیوں کو بتایا کہ دونوں رہنماؤں نے ’اسرائیلی اقدامات کی شدید مذمت کی جو اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کی دیگر دفعات کی خلاف ورزی ہیں،اس بات پر اتفاق پایا گیا کہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق اسرائیلی اور مغربی خدشات کا حل فوجی طریقے سے ممکن نہیں، اور صرف سفارت کاری کے ذریعے ہی کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے،چینی صدر شی جن پنگ نے پیوٹن کو یہ بھی بتایا کہ وہ ایران کے حوالے سے روس کی ثالثی کی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں۔

  • پیوٹن کا ٹرمپ سے ٹیلیفونک رابطہ ، مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر  گفتگو

    پیوٹن کا ٹرمپ سے ٹیلیفونک رابطہ ، مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر گفتگو

    روس کے صدر ولادی میر پیوٹن نے امریکی ہم منصب ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلیفونک رابطہ کیا جس میں مشرق وسطیٰ کی بگڑتی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔

    غیر ملکی خبررساں ادارے روسی صدر نے امریکی صدر 50 منٹ طویل گفتگو کی، دونوں رہنمائوں نے اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی کے خاتمے کے لیے کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔

    کریملن کے ترجمان یوری اوشاکوف نے بتایا کہ پیوٹن نے ایران کے خلاف اسرائیلی فوجی کارروائی کی مذمت کی اور صورتحال کے مزید بگڑنے کے خطرات پر تشویش کا اظہار کیا۔

    دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا سائٹ ’ٹروتھ سوشل‘ پر بتایا کہ اسرائیل ایران جنگ ختم ہونی چاہیے، میں نے روسی صدر کو بتایا کہ یوکرین جنگ بھی ختم ہونی چاہیے۔

    مسلم امہ متحد ہو کر ایران کی سپورٹ کے لیے کھڑی ہے، شہزادہ محمد بن سلمان

    پنجاب اور خیبرپختونخوا کے سرحدی علاقے میں آپریشن، خوارجی دہشتگرد مولوی نذیر ہلاک

    ایران کے اسرائیل پر حملے، امریکا نے یوکرین سے میزائل دفاعی نظام مشرق وسطیٰ منتقل کردیے

  • یوکرین کو روس کیساتھ جنگ میں ہلاک ہونیوالے1200 فوجیوں کی لاشیں موصول

    یوکرین کو روس کیساتھ جنگ میں ہلاک ہونیوالے1200 فوجیوں کی لاشیں موصول

    یوکرین کو روس کے ساتھ جنگ میں ہلاک ہونے والے اپنے یک ہزار 200 فوجیوں کی لاشیں موصول ہوئی ہیں۔

    ’روئٹرز‘ کے مطابق قیدیوں کے تبادلے کی رابطہ کمیٹی نے ٹیلی گرام پر جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ لاشوں کی واپسی یوکرین اور روس کے درمیان اس ماہ کے آغاز میں استنبول میں ہونے والے مذاکرات کے دوران طے پانے والے معاہدوں کا حصہ ہے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل 19 مارچ کو روس اور یوکرین کے درمیان 175 جنگی قیدیوں کا تبادلہ ہوا تھا، روس اور امریکی صدر کے درمیان ٹیلی فون پر رابطے کے بعد قیدیوں کے تبادلے کا اعلان ہوا تھا، جب کہ متحدہ عرب امارات نے روس اور یوکرین کے قیدیوں کے تبادلے میں ثالثی کردار ادا کیا تھا۔

    صحت کے شعبے میں بہتری لانے کیلئے پاکستان کی آبادی کو کنٹرول کرنا ہوگا، مصطفیٰ کمال

    ’روئٹرز‘ نے بتایا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادی میر پیوٹن کے درمیان ٹیلی فون پر بات چیت کے بعد روس اور یوکرین نے 175 جنگی قیدیوں کا تبادلہ کیا تھااس حوالے سے روسی وزارت دفاع نے قیدیوں کے تبادلے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ روس نے 22 زخمی یوکرینی فوجیوں کو بھی رہا کردیا ہے روسی وزارت دفاع کا کہنا تھا کہ ان 22 افراد کو فوری طبی امداد کی ضرورت ہے اور انہیں خیر سگالی کے طور پر واپس بھیج دیا گیا ہے۔

    یوکرین کے صدر ولادی میر زیلینسکی نے سماجی رابطے ک ویب سائٹ ’ایکس‘ پر ایک بیان میں اس تبادلے کو اپنی نوعیت کا سب سے بڑا واقعہ قرار دیا تھا۔

    صحت کے شعبے میں بہتری لانے کیلئے پاکستان کی آبادی کو کنٹرول کرنا ہوگا، مصطفیٰ کمال

  • روس کا خارکیف پر بڑا حملہ، ڈرون، میزائل اور بمباری سے 3 افراد ہلاک، 22 زخمی

    روس کا خارکیف پر بڑا حملہ، ڈرون، میزائل اور بمباری سے 3 افراد ہلاک، 22 زخمی

    روس نے یوکرین کے شہر خارکیف پر ڈرون، میزائل اور گائیڈڈ فضائی بموں سے شدید حملہ کیا، جس کے نتیجے میں کم از کم تین افراد ہلاک اور ایک ڈیڑھ ماہ کے شیر خوار سمیت 22 افراد زخمی ہو گئے۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق خارکیف، جو یوکرین کے بڑے شہروں میں شامل ہے اور روسی سرحد سے چند درجن کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے، جنگ کے آغاز سے اب تک مسلسل روسی حملوں کا نشانہ بنا ہوا ہے۔شہر کے میئر ایہور تیریخوف نے ٹیلیگرام پر جاری بیان میں کہا کہ مکمل جنگ کے آغاز کے بعد خارکیف کو اس وقت سب سے طاقتور حملے کا سامنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ رات بھر درجنوں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں اور روس نے بیک وقت میزائل، ڈرون اور گائیڈڈ بموں سے حملہ کیا۔

    ایہور تیریخوف کے مطابق رہائشی عمارتیں، تعلیمی ادارے اور بنیادی ڈھانچے کی تنصیبات حملوں کی زد میں آئیں۔خارکیو کے گورنر اولیح سینیہوبوف نے کہا کہ شہر کے ایک صنعتی انفرا اسٹرکچر پر 40 ڈرونز، ایک میزائل اور چار گائیڈڈ بم برسائے گئے، جس سے شدید آگ بھڑک اٹھی، اور ملبے تلے اب بھی لوگ موجود ہو سکتے ہیں۔

    یوکرینی فوج کے مطابق روس نے رات بھر یوکرین پر 206 ڈرون، 2 بیلسٹک اور 7 دیگر میزائل داغے۔ فضائی دفاعی نظام نے 87 ڈرونز مار گرائے جبکہ 80 دیگر ضائع ہو گئے۔ رپورٹ کے مطابق دس مختلف مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔

    وفاقی بجٹ 10 اور سندھ کا بجٹ 13 جون کو پیش ہوگا

    عیدالاضحی پر پنجاب کلین اپ آپریشن شروع، آلائشوں کی فوری تلفی اور جدید نگرانی کا نظام فعال

    ایران اور افغان طالبان کی امریکی سفری پابندیوں کی مذمت، فیصلے کو نسل پرستانہ قرار دے دیا

  • روس میں دو پل دھماکوں سے تباہ، ٹرین پٹری سے اتر گئی، 7 ہلاک،71 زخمی

    روس میں دو پل دھماکوں سے تباہ، ٹرین پٹری سے اتر گئی، 7 ہلاک،71 زخمی

    ماسکو: روسی حکام کے مطابق یوکرین سے متصل علاقوں میں دو پل دھماکوں کے نتیجے میں گر گئے جس کے باعث ایک مسافر ٹرین پٹری سے اتر گئی اور کم از کم سات افراد جاں بحق ہو گئے ہیں۔

    بریانسک ریجن میں ہفتہ کی رات ہونے والے ایک دھماکے سے سڑک کا پل ریل کی پٹڑی پر گر گیا، جس سے ماسکو جانے والی ٹرین کا بڑا حصہ تباہ ہو گیا، 71 افراد زخمی ہوئے جن میں سے 44 افراد اسپتال میں داخل ہیں، کرسک ریجن میں بھی اتوار کی صبح ایک مال بردار ٹرین کے نیچے سے پل دھماکے سے تباہ ہو گیا، جس سے ٹرین کے ڈرائیور کو شدید چوٹیں آئیں اور عملے کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا۔

    روس نیٹو پر حملہ کب کرے گا؟ جرمن ڈیفنس چیف کا دعویٰ سامنے آ گیا

    روسی حکام نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور اسے "غیر قانونی مداخلت” اور "دہشت گردی کا واقعہ” قرار دیا ہے۔،روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو تمام صورتحال سے مسلسل آگاہ رکھا گیا۔

    واقعے کے بعد روسی ریلوے نے مرمت کے لیے خصوصی ٹرینیں روانہ کر دی ہیں ادھر استنبول میں روس-یوکرین حکام کی ممکنہ ملاقات سے ایک دن قبل یہ دھماکے کسی بڑی پیشرفت کو سبوتاژ کرنے کی کوشش قرار دیئے جا رہے ہیں۔

    پاکستان کو ایک مستحکم عالمی معیشت بنانے کیلئے پر عزم ہیں،وزیراعظم

  • روس نے ماسکو میں افغان سفیر کی نامزدگی باضابطہ طور پر قبول کر لی

    روس نے ماسکو میں افغان سفیر کی نامزدگی باضابطہ طور پر قبول کر لی

    روس نے افغانستان کی جانب سے ماسکو کے لیے نامزد کردہ سفیر کو سرکاری طور پر قبول کر لیا ہے، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کے ایک نئے مرحلے کا آغاز ہوا ہے۔

    افغان وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق کابل میں تعینات روسی سفیر نے افغان قائم مقام وزیرِ خارجہ امیر خان متقی سے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران روسی سفیر نے ماسکو کے لیے مقرر کیے گئے افغان سفیر کی نامزدگی کی رسمی منظوری (نوٹ وربال) افغان حکام کو پیش کی۔

    افغان وزارتِ خارجہ نے اس پیشرفت کو دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے اعتماد اور تعلقات کا مظہر قرار دیا ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ روس کی جانب سے افغان سفیر کی منظوری اس بات کی علامت ہے کہ عالمی سطح پر امارتِ اسلامی افغانستان کے ساتھ سفارتی روابط میں بتدریج بہتری آ رہی ہے۔

    واضح رہے کہ روس ان چند ممالک میں شامل ہے جنہوں نے کابل میں طالبان حکومت کے ساتھ محدود سطح پر ہی سہی، مگر براہِ راست سفارتی روابط بحال رکھے ہوئے ہیں۔ ماسکو کی جانب سے یہ منظوری نہ صرف افغان سفارتی عملے کی قبولیت کی عکاسی کرتی ہے بلکہ افغانستان کے لیے عالمی منظرنامے میں ایک اہم سفارتی پیشرفت بھی سمجھی جا رہی ہے۔

    کراچی میں زلزلے کے جھٹکے، شہری خوفزدہ ہوکر گھروں سے باہر نکل آئے

    پاک بحریہ کی بندرگاہوں پر دو روزہ مشقیں، اہم بحری تنصیبات کے تحفظ کو مؤثر بنانے پر توجہ

    تونسہ: پولیس اور دہشت گردوں کے درمیان مقابلہ، 4 دہشت گرد ہلاک

    پی پی 52 سیالکوٹ: ضمنی انتخاب کے ووٹوں کی گنتی جاری