Baaghi TV

Tag: روس

  • مشرق وسطیٰ  صورتحال پر مذاکرات اس وقت خصوصی اہمیت رکھتے ہیں،چینی صدر کی روسی صدر سے گفتگو

    مشرق وسطیٰ صورتحال پر مذاکرات اس وقت خصوصی اہمیت رکھتے ہیں،چینی صدر کی روسی صدر سے گفتگو

    بیجنگ میں چینی صدر اور روسی صدر پیوٹن کے دورن ملاقات ہوئی-

    بیجنگ میں چینی ہم منصب شی جن پنگ سے گفتگو کرتے ہوئے روس کے صدر کا کہنا تھا روس اور چین کے تعلقات غیر معمولی سطح کے ہیں، دونوں مما لک کو ایک دوسرے کی ترقی کی بحالی میں مدد کرنی چاہیے روس اور چین کے درمیان اقتصادی تعلقات مثبت رفتار سے آگے بڑھ رہے ہیں، مشرق وسطیٰ کے بحران کے درمیان روس ایک قابل اعتماد توانائی فراہم کنندہ ہے، روسی اور چینی تعلقات عالمی استحکام میں مددگار ثابت ہو رہے ہیں،چین اور روس کو منصفانہ اور معقول عالمی گورننس سسٹم کی تعمیر کو فروغ دینا چاہیے۔

    چینی صدر شی جن پنگ نے کہا کہ چین روس تعلقات کی کامیابی کی وجہ سیاسی باہمی اعتماد اور اسٹریٹجک تعاون ہے، دنیا جنگل کے قانون کی طرف واپس جانے کے خطرے سے دوچار ہےمشرق وسطیٰ صورتحال پر مذاکرات اس وقت خصوصی اہمیت رکھتے ہیں،لڑائی کو روکنا ضروری ہے، مشرق وسطیٰ جنگ کے خاتمے سے توانائی سپلائی کے استحکام میں مدد ملے گی، جنگ کے خاتمے سےعالمی تجارتی نظام میں رکاوٹیں کم کرنےمیں مدد ملے گی، مشرقِ وسطیٰ میں مزید کشیدگی غیر دانشمندانہ ہو گی۔

    اس موقع پر روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے چینی ہم منصب شی جن پنگ کو اگلے سال روس کے دورے کی دعوت بھی دی-

  • امریکا نے روسی تیل  تک رسائی کے لئے لائسنس جاری کردیا

    امریکا نے روسی تیل تک رسائی کے لئے لائسنس جاری کردیا

    امریکا نے روسی تیل تک رسائی کے لیے 30 دن کا جنرل لائسنس جاری کردیا۔

    امریکی وزیرخزانہ اسکاٹ بیسنٹ کا کہناہے کہ سمندر میں پھنسے روسی تیل تک رسائی کے لیے 30 دن کا جنرل لائسنس جاری کررہے ہیں، ممالک کے ساتھ مل کر ضرورت کے مطابق مخصوص لائسنس دینےکے لیے کام کریں گے جنرل لائسنس خام تیل کی مادی مارکیٹ کو مستحکم کرنے مدد کرے گا، یہ لائسنس توانائی کے لحاظ سے کمزور ممالک تک تیل پہنچانے کو یقینی بنائے گا ابتدائی طورپر یہ سہولت تیل سپلائی اور قیمتوں میں کمی کے لیے دی گئی ہے۔

    چین کی جانب سے سستا روسی تیل ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کم کرنے پر بھی زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موجودہ سپلائی زیادہ ضرورت مند ممالک کی طرف موڑی جائےگی، ایرانی تیل کے لیے ایک بار ملنے والی خصوصی رعایت کی تجدید کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، ایران پر ناکہ بندی برقرار ہے، تہران سے کسی قسم کا تیل باہر نہیں آنے دیا جائے گا، روسی تیل پر پابندیوں میں نرمی کا امریکا کا کوئی ارادہ نہیں ہے، سمندر میں موجود زیادہ تر روسی تیل پہلے ہی فروخت ہو چکا ہے، اس لیے اسے مزید چھوٹ نہیں دی جائے گی۔

    واضح رہے کہ گزشتہ ماہ امریکا نے سمندر میں موجود روسی تیل کی خریداری کی اجازت دی تھی اور کہا تھا کہ روسی تیل کی خریداری پر دی گئی رعایت میں توسیع نہیں کی جائے گی-

  • امریکا کا خفیہ بائیو لیب پروگرام  ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گیا

    امریکا کا خفیہ بائیو لیب پروگرام ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گیا

    امریکا کے خفیہ بائیو لیب پروگرام سے متعلق الزامات ایک بار پھر عالمی سطح پر موضوعِ بحث بن چکے ہیں ، خاص طور پر امریکی ڈائریکٹر نیشنل انٹیلیجنس تلسی گبارڈ کے حالیہ بیان کے بعد،روس اور چین جیسے ممالک مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ امریکا دنیا کے 30 سے زائد ممالک میں ایسی لیبارٹریز فنڈ کر رہا ہے، جو حیاتیاتی ہتھیاروں کی تیاری یا ممنوعہ تحقیق کے لیے استعمال ہو سکتی ہیں۔

    تلسی گبارڈ نے انکشاف کیا کہ امریکی معاونت سے 30 ممالک میں 120 سے زائد بائیولوجیکل لیبارٹریاں قائم ہیں، جن میں سے ایک تہائی سے زیادہ یوکرین میں موجود ہیں امریکی ادارے اب ان لیبارٹریوں، ان میں موجود جراثیم اور وہاں ہونے والی تحقیق کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ خطرناک ’گین آف فنکشن‘ ریسر چ کو روکا جا سکے۔

    روس گزشتہ قریباً ایک دہائی سے امریکا پر الزام عائد کرتا رہا ہے کہ وہ اپنی سرحدوں کے قریب خفیہ حیاتیاتی تحقیق، ممکنہ حیاتیاتی ہتھیاروں کی تیاری اور غیر قانونی تجربات میں ملوث ہے، تاہم امریکا اور مغربی ممالک ان دعوؤں کو مسلسل ’روسی پروپیگنڈا‘ قرار دیتے رہے۔

    یہ الزامات خاص طور پر اس وقت شدت اختیار کر گئے جب یوکرین کے تنازع کے دوران روس نے دعویٰ کیا کہ اس نے امریکی فنڈنگ سے چلنے والی ایسی لیبارٹریوں کے ثبوت اکٹھے کیے ہیں چین نے بھی ان الزامات کی توثیق کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ امریکا کو اپنے ان غیر ملکی منصوبوں پر عالمی برادری کو شفاف جواب دینا چاہیے۔

    یہ معاملہ پہلی بار 2017 میں اس وقت منظرعام پر آیا جب ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ امریکی فضائیہ نے روسی شہریوں کے جینیاتی نمونے حاصل کرنے کے لیے مشتبہ ٹینڈر جاری کیا تھا۔ بعد ازاں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے بھی کہا تھا کہ مختلف نسلی گروہوں کے حیاتیاتی نمونے منظم انداز میں جمع کیے جا رہے ہیں۔

    2018 میں جارجیا کے سابق وزیرِ سلامتی ایگور گیورگادزے نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکی معاونت سے قائم رچرڈ لوگر سینٹر میں مشتبہ حیاتیاتی تجربات کیے گئے، جن کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک ہوئے روسی وزارت دفاع نے ان الزامات کی تحقیقات بھی کیں، تاہم امریکا اور جارجیا نے ان دعوؤں کو بے بنیاد قرار دیا۔

    2022 میں یوکرین جنگ کے آغاز کے بعد روس نے یوکرین میں قائم مختلف لیبارٹریوں سے ہزاروں دستاویزات قبضے میں لینے کا دعویٰ کیا اور کہا کہ امریکا عالمی حیاتیاتی تحفظ کے نام پر دوہرے استعمال کی تحقیق کر رہا تھا، جس میں حیاتیاتی ہتھیاروں کے اجزا بھی شامل تھے۔

    ماضی میں امریکی حکومت، محکمہ دفاع (پینٹاگون) اور اقوام متحدہ میں امریکی نمائندوں نے ان تمام الزامات کو یکسر مسترد کیا ہے واشنگٹن کا اصرار ہے کہ یہ لیبارٹریز عالمی سطح پر صحت کے تحفظ، وبائی امراض کی روک تھام اور پرامن سائنسی تحقیق کے لیے بنائی گئی ہیں اور یہ ‘حیاتیاتی ہتھیاروں کے کنونشن’ (Biological Weapons Convention) کے عین مطابق ہیں۔

    عالمی ادارہ صحت (WHO) اور دیگر غیر جانبدار آزاد سائنسدانوں اور ماہرین نے بھی اب تک ان الزامات کے حق میں کسی ٹھوس ثبوت کی تصدیق نہیں کی۔ آزاد مبصرین کا ماننا ہے کہ یہ سہولیات زیادہ تر خطے کے حیاتیاتی تحفظ اور عوامی صحت کے معیارات کو بہتر بنانے کے لیے کام کر رہی ہیں۔

    یہ تنازع اس لیے بھی عروج پر ہے کیونکہ امریکا کے اندر خود حکومتی سطح پر یہ جائزہ لیا جا رہا ہے کہ بیرونِ ملک چلنے والے ایسے منصوبوں میں کتنی شفافیت اور حفاظتی اقدامات موجود ہیں امریکی اور یورپی حکام نے ان تمام دعوؤں کو بارہا ’پروپیگنڈا‘، ’مضحکہ خیز‘ اور ’غلط معلومات‘ قرار دیا، تاہم تلسی گبارڈ کے حالیہ بیان نے اس تنازع کو دوبارہ عالمی بحث کا موضوع بنا دیا ہے۔

  • روسی بحری جہاز  کی پراسرار حالات میں  غرقابی،عالمی سیاست اور  انٹیلی جنس اداروں میں تشویش

    روسی بحری جہاز کی پراسرار حالات میں غرقابی،عالمی سیاست اور انٹیلی جنس اداروں میں تشویش

    ایک روسی مال بردار بحری جہاز ”اُرسا میجر“جو ممکنہ طور پر آبدوزوں کے لیے دو جوہری ری ایکٹر لے کر جا رہا تھا، ممکنہ طور پر شمالی کوریا کے لیے تھا، اسپین کے ساحل سے تقریباً 60 میل دور بحیرۂ روم کی گہرائی میں ، غیر واضح حالات میں دھماکوں کے ایک سلسلے کا شکار ہوا اور ڈوب گیا جس نے انٹیلی جنس اداروں میں ہلچل مچا دی ہے۔

    امریکی نشریاتی ادار ’سی این این‘ کی ایک حالیہ تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق، یہ جہاز ممکنہ طور پر ایٹمی آبدوزوں میں استعمال ہونے والے دو نیوکلیئر ری ایکٹرز لے کر شمالی کوریا جا رہا تھا، جو پرسرار حالات میں دھماکوں کے بعد ڈوب گیا یہ واقعہ روس اور شمالی کوریا کے بڑھتے ہوئے فوجی تعاون اور اسے روکنے کے لیے مغربی ممالک کی ممکنہ خفیہ کارروائی کی ایک سنگین کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق، یہ جہاز 23 دسمبر 2024 کو ڈوبا، لیکن اس کی کہانی 11 دسمبر کو روس سے روانگی کے وقت ہی مشکوک ہو گئی تھی،اگرچہ جہاز کے کاغذات میں درج تھا کہ وہ روس کے مشرقی شہر ولادی ووستوک جا رہا ہے، لیکن ماہرین نے سوال اٹھایا کہ روس کے وسیع ریلوے نیٹ ورک کے بجائے سمندر کے راستے دنیا کا چکر لگا کر دو کرینیں اور خالی کنٹینر لے جانے کی کیا منطق تھی؟

    ہسپانوی حکام کی تفتیش کے دوران جہاز کے روسی کپتان ایگور انیسیموف نے اعتراف کیا کہ جہاز پر ایٹمی آبدوزوں جیسے ری ایکٹرز کے پرزے موجود تھے، کپتا ن کے بقول، اسے خدشہ تھا کہ جہاز کا رخ موڑ کر اسے شمالی کوریا کی بندرگاہ ’راسن‘ لے جایا جائے گا 22 دسمبر کو اسپین کے قریب جہاز کی رفتار اچانک کم ہوئی، اور اگلے ہی دن دائیں جانب تین زوردار دھماکے ہوئے جس میں عملے کے دو ارکان ہلاک ہو گئے۔

    ہسپانوی تحقیقاتی رپورٹ میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ جہاز کو نشانہ بنانے کے لیے ’باراکوڈا‘ نامی ایک خاص ٹارپیڈو استعمال کیا گیا ہوگا جو بغیر آواز پیدا کیے جہاز کے ڈھانچے میں سوراخ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اس واقعے کے ایک ہفتے بعد، ایک روسی جاسوس جہاز ’ینتار‘ نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور وہاں مزید چار دھماکے سنے گئے، جس کے بارے میں گمان ہے کہ روس نے سمندر کی تہہ میں موجود ملبے سے حساس معلومات یا آلات کو تباہ کرنے کے لیے یہ دھماکے کیے۔

    اس واقعے کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ امریکی فضائیہ کے خاص طیاروں، جنہیں ”نیوکلیئر اسنیفر“ کہا جاتا ہے اور جو فضا میں تابکاری کے ذرات سونگھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، انہوں نے دو بار اس مقام پر پروازیں کیں،یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی جب شمالی کوریا نے حال ہی میں اپنی پہلی ایٹمی آبدوز کی تصاویر جاری کی تھیں، جن کے بارے میں ماہرین کا خیال ہے کہ وہ ابھی تک مکمل طور پر فعال نہیں ہیں۔

    ہسپانوی حکومت نے اس معاملے پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے اور موقف اپنایا ہے کہ جہاز 2500 میٹر کی گہرائی میں ہے جہاں سے اس کا ڈیٹا ریکارڈ نکالنا بہت پرخطر ہے تاہم، حزبِ اختلاف کے سیاست دانوں اور ماہرین نے اس پر شکوک کا اظہار کیا ہے۔

    ہسپانوی قانون ساز جوآن انتونیو روہاس کا کہنا ہے کہ ”جب کوئی آپ کی پوچھی گئی معلومات صاف صاف فراہم نہ کرے، تو شک ہوتا ہے کہ کچھ چھپایا جا رہا ہے، دفاعی تجزیہ کار مائیک پلنکیٹ کا کہنا ہے کہ ”روس کی جانب سے اس طرح کی ایٹمی ٹیکنالوجی کی منتقلی صرف انتہائی قریبی اتحادیوں کے درمیان ہوتی ہے، اور اگر یہ سچ ہے تو یہ ماسکو کا ایک بہت بڑا اور پریشان کن قدم ہے-

  • سعودی عرب اور روس کے درمیان ویزا فری معاہدہ نافذ العمل

    سعودی عرب اور روس کے درمیان ویزا فری معاہدہ نافذ العمل

    سعودی عرب اور روس کے درمیان ویزا فری معاہدہ آج سےنافذ العمل ہوگیا۔

    عرب میڈیا کے مطابق دونوں ممالک کےشہری 90 دن تک ایک دوسرےکے ملک کا سفر کر سکتے ہیں، ویزا استثنا سے سرکاری، سفارتی، عام پاسپورٹ کے حامل افراد فائدہ اٹھا سکتے ہیں، دونوں ممالک کے شہری بغیر ویزے کے سیاحت،کاروبار کےلیے جاسکتے ہیں وزٹ ویزے پر دونوں ملکوں کے شہری ایک دوسرےکے ملکوں میں داخل ہوسکتے ہیں، ویزا استثنا معاہدہ یکم دسمبر 2025 میں سعودی دارالحکومت ریاض میں طے پایاتھا معاہدے پر روسی نائب وزیر اعظم الیگزینڈر نوواک اور سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے دستخط کیے تھے۔

  • ٹرمپ کا روس اور یوکرین کے درمیان 3 روزہ جنگ بندی کا اعلان،قیدیوں کا تبادلہ

    ٹرمپ کا روس اور یوکرین کے درمیان 3 روزہ جنگ بندی کا اعلان،قیدیوں کا تبادلہ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس اور یوکرین کے درمیان 3 روزہ جنگ بندی کا اعلان کیا ہے-

    صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری بیان میں کہا کہ روس میں یوم فتح کی تقریبات منائی جا رہی ہیں جبکہ یوکرین نے بھی دوسری جنگ عظیم میں اہم کردار ادا کیا تھا اسی مناسبت سے یہ جنگ بندی عمل میں لائی جا رہی ہے اس جنگ بندی کے دوران ہر قسم کی عسکری کارروائیاں معطل رہیں گی جبکہ دونوں ممالک ایک، ایک ہزار قیدیوں کا تبادلہ بھی کریں گے،9، 10 اور 11 مئی کو دونوں ممالک کے درمیان عارضی سیز فائر نافذ رہے گا۔

    ٹرمپ نے کہا کہ یہ درخواست انہوں نے براہ راست کی تھی جس پر روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے اتفاق کیا،امید ہے کہیہ پیشرفت ایک طویل، خونریز اور سخت جنگ کے خاتمے کی شروعات ثابت ہوگی اس بڑے تنازع کے مستقل خاتمے کے لیے مذاکرات جاری ہیں اور فریقین ہر گزرتے دن کے ساتھ کسی حل کے قریب پہنچ رہے ہیں،وس یوکرین جنگ دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا کا سب سے بڑا تنازع بن چکی ہے تاہم اب امن کی جانب پیشرفت ممکن دکھائی دے رہی ہے۔

  • روس کا جوہری صلاحیتوں کے حامل میزائلوں کے تجرباتی لانچ کا آغاز

    روس کا جوہری صلاحیتوں کے حامل میزائلوں کے تجرباتی لانچ کا آغاز

    روس میں جوہری صلاحیت کے حامل میزائلوں کے تجرباتی لانچ کا آغاز کر دیا گیا ہے-

    روسی حکام کے مطابق یہ مشقیں کورا ٹریننگ گراؤنڈ میں بدھ کے روز شروع ہوئیں، جو کامتچاتکا کے علاقے میں واقع ایک اہم عسکری مقام ہےیہ مشقیں 10 مئی تک جاری رہیں گی، علاقائی حکومت نے ایک بیان میں مقامی آبادی کو سختی سے ہدایت کی ہے کہ وہ حفاظتی اصولوں پر عمل کریں اور اس دوران تربیتی میدان اور اس کے اطراف کے علاقوں میں جانے سے گریز کریں، بیان میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی قسم کے افراد یا آلات کی نقل و حرکت پر پابندی ہوگی-

    کورا ٹریننگ گراؤنڈ روسی ایرو اسپیس فورسز کے زیرِ انتظام ایک اہم تنصیب ہے، جو پیٹروپاوولوسک شہر سے تقریباً 500 کلومیٹر شمال میں واقع ہے، یہ مقام مختلف اقسام کے میزائل ہتھیاروں کی آزمائش اور ہدفی مشقوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہےسوویت دور سے یہ مقام بین البراعظمی بیلسٹک میزائلوں کے وارہیڈز وصول کرنے کے لیے بھی استعمال ہوتا رہا ہے، جنہیں دیگر مقامات جیسے پلیسٹسک کاسموڈروم اور کاپستین یار ٹریننگ گراؤنڈ سے لانچ کیا جاتا ہے۔

    روسی حکام کے مطابق اس نوعیت کی مشقیں سال میں کئی بار معمول کے مطابق کی جاتی ہیں، جن میں نئے میزائل سسٹمز کی آزمائش اور اسٹریٹیجک میزائل فورسز کی تربیتی سرگرمیاں شامل ہوتی ہیں۔

    واضح رہے کہ گزشتہ ماہ روس نے حال ہی میں ایٹمی توانائی سے چلنے والے "بورے ویسٹنک” (Burevestnik) کروز میزائل کا کامیاب تجربہ کیا ہے، جو لامحدود رینج اور دنیا کے تمام دفاعی سسٹمز کو چکمہ دینے کی صلاحیت رکھتا ہ۔ اس سے قبل، روس نے ‘سرمت’ (Sarmat) بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کا بھی تجربہ کیا تھا، جسے دنیا کا بہترین میزائل قرار دیا گیا ہے۔

    بوریویسٹنک کروز میزائل: یہ ایک ایٹمی توانائی سے چلنے والا میزائل ہے جو طویل فاصلے (تقریباً 14,000 کلومیٹر) تک مار کر سکتا ہے اور اسے روکنا تقریباً ناممکن قرار دیا گیا ہے۔

    سرمت (Sarmat) میزائل: یہ جوہری صلاحیتوں کا حامل بین البراعظمی بیلسٹک میزائل ہے جو امریکہ سمیت دنیا بھر میں اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔

    ان تجربات کا مقصد روس کی عسکری طاقت کا مظاہرہ کرنا اور مغرب بالخصوص امریکہ پر دباؤ بڑھانا ہے، جسے مغربی ممالک ایٹمی اسلحے کی نئی دوڑ قرار دے رہے ہیں،روسی صدر ولادیمیر پوتن نے ان میزائلوں کو ناقابل شکست قرار دیا ہے اور ان کی جلد ہی روسی فوج میں شمولیت کا اعلان کیا ہے۔

  • یو اے ای کی علیحدگی کے باوجود اوپیک پلس متحد رہے گا،روس

    یو اے ای کی علیحدگی کے باوجود اوپیک پلس متحد رہے گا،روس

    روس نے کہا ہے کہ تیل پیدا کرنے والے بڑے ممالک کا اتحاد اوپیک پلس متحد رہے گا-

    روسی خبر رساں اداروں کے مطابق روس کے نائب وزیراعظم الیگزینڈر نوواک نے جمعرات کے روز کہا ہے کہ یو اے ای کے اخراج کے بعد عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کسی پرائس وار کا امکان نہیں کیونکہ اس وقت مارکیٹ میں پہلے ہی سپلائی کی کمی موجود ہے۔

    الیگزینڈر نوواک نے انٹرفیکس خبر رساں ایجنسی سے گفتگو میں کہا کہ موجودہ صورتحال میں قیمتوں کی جنگ کی بات نہیں کی جا سکتی کیونکہ مارکیٹ میں پہلے ہی تیل کی قلت موجود ہے اس وقت صنعت ایک گہرے بحران سے گزر رہی ہے بڑی مقدار میں تیل مارکیٹ تک نہیں پہنچ رہا جبکہ طلب رسد سے کہیں زیادہ ہے، جس کے باعث شدید عدم توازن پیدا ہو گیا ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جغرافیائی کشیدگی اور لاجسٹک رکاوٹیں ہیں، روس 2016 میں قائم ہونے والے اوپیک پلس اتحاد کا حصہ بنا رہے گا اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔

    واضح رہے کہ منگل کے روز متحدہ عرب امارات نے اوپیک سے علیحدگی کا اعلان کیا تھا، جسے توانائی کی عالمی منڈی کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ایران جنگ کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں سپلائی بحران شدت اختیار کر چکا ہے-

  • ٹرمپ نے  ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو سنبھالنےکی روسی پیشکش مسترد کردی

    ٹرمپ نے ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو سنبھالنےکی روسی پیشکش مسترد کردی

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی جانب سے ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو سنبھالنے اور اسے روس منتقل کرنے کی پیشکش کو مسترد کر دیا ہے۔

    پیوٹن نے ایران کے ساتھ جوہری تنازع کو حل کرنے کے لیے یہ تجویز دی تھی، لیکن ٹرمپ نے اسے ٹھکرا دیا اور پیوٹن پر زور دیا کہ وہ اس کے بجائے یوکرین میں جنگ ختم کرنے پر توجہ دیں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیوٹن سے کہا: "میں چاہوں گا کہ آپ یوکرین میں جنگ ختم کرنے میں شامل ہوں، میرے لیے، یہ زیادہ اہم ہو گا”۔

    پیوٹن نے ایران کے 60 فیصد تک افزودہ یورینیم (جسے ٹرمپ اکثر "گرد” یا ‘dust’ کہتے ہیں) کے ذخیرے کو روس منتقل کرنے کی پیشکش کی تھی تاکہ ایران کے ساتھ جوہری بحران کو کم کیا جا سکے۔

    ٹرمپ نے واضح کیا کہ ان کی ترجیح یوکرین کے تنازع کا خاتمہ ہے، نہ کہ ایران کے جوہری مواد کے انتظامات میں روس کی مدد لینا، یہ پیشکش ایک ایسے وقت میں سامنے آئی جب ایران نے 2018ء میں امریکا کے جوہری معاہدے سے نکلنے کے بعد 11 ٹن سے زائد افزودہ یورینیم جمع کر لیا ہے اور 2025ء کے آخر میں ہونے والی فوجی کارروائیوں کے بعد سے کشیدگی جاری ہے۔

    یہ بات چیت میں دونوں رہنماؤں کے درمیان ایک ٹیلی فونک رابطے کے دوران سامنے آئی۔

    روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ایک اہم ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے جس میں مشرقِ وسطیٰ کی جنگ اور یوکرین کے تنازع پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔ کریملن کے معاون یوری اوشاکوف نے صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ یہ کال تقریباً 90 منٹ سے زائد جاری رہی اور دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی گفتگو دو ٹوک اور پیشہ ورانہ نوعیت کی تھی۔ اس گفتگو کے دوران صدور نے خاص طور پر ایران کی صورتحال اور خلیج فارس کے معاملات پر توجہ مرکوز کی۔

    یوری اوشاکوف کے مطابق ولادیمیر پیوٹن نے ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کے ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے کو درست قرار دیتے ہوئے اس کی تعریف کی پیوٹن کا ماننا ہے اس فیصلے سے مذاکرات کو ایک موقع ملے گا اور مجموعی طور پر خطے کی صورتحال کو مستحکم کرنے میں مدد ملے گی۔

    تاہم پیوٹن نے اس خطرے سے بھی آگاہ کیا کہ اگر امریکا اور اسرائیل نے دوبارہ فوجی کارروائی کا راستہ اختیار کیا تو اس کے نتائج نہ صرف ایران اور اس کے پڑوسیوں بلکہ پوری عالمی برادری کے لیے انتہائی تباہ کن ہوں گےانہوں نے واضح کیا کہ روس مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ہر ممکن سفارتی مدد فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے اور یہ رابطہ ماسکو کی پہل پر کیا گیا تھا۔

    دونوں رہنماؤں نے یوکرین کی جنگ پر بھی تبادلہ خیال کیا جو سن 2022 میں روسی حملے کے بعد اب اپنے پانچویں سال میں داخل ہو چکی ہےاوشاکوف نے بتایا کہ ٹرمپ کی درخواست پر ولادیمیر پیوٹن نے فرنٹ لائن کی تازہ صورتحال بیان کی جہاں ان کے بقول روسی افواج اسٹریٹجک برتری حاصل کیے ہوئے ہیں اور دشمن کو پیچھے دھکیل رہی ہیں۔

    یوری اوشاکوف کا کہنا تھا کہ ولادیمیر پیوٹن اور ڈونلڈ ٹرمپ دونوں نے زیلنسکی کی قیادت میں کیف حکومت کے رویے کے بارے میں تقریباً ایک جیسی رائے کا اظہار کیا، جس کے مطابق یورپی ممالک کی حمایت سے اس تنازع کو طول دینے کی پالیسی اپنائی جا رہی ہے۔

    یوکرین میں جاری اس جنگ نے اب تک ہزاروں شہریوں کی جانیں لے لی ہیں اور لاکھوں افراد کو گھر بار چھوڑنے پر مجبور کر دیا ہےگفتگو کے دوران پیوٹن نے ’یومِ فتح‘ کی تقریبات کے موقع پر جنگ بندی کا اعلان کرنے پر آمادگی ظاہر کی، جس کی ٹرمپ نے فعال طور پر حمایت کی۔

    ٹرمپ نے اس بات کو نوٹ کیا کہ یہ دن دونوں ممالک کی مشترکہ فتح کی علامت ہے۔ روس ہر سال 9 مئی کو دوسری عالمی جنگ میں نازی جرمنی کے خلاف سوویت یونین کی فتح کی یاد میں یومِ فتح مناتا ہے، تاہم یوکرین کی جانب سے ممکنہ جوابی کارروائیوں کے خطرے کے پیشِ نظر اس بار ماسکو میں ہونے والی فوجی پریڈ کو محدود رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

  • روس کی 9 مئی کے دن یوکرین کو جنگ بندی کی پیشکش

    روس کی 9 مئی کے دن یوکرین کو جنگ بندی کی پیشکش

    روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے 9 مئی کے دن یوکرین کے ساتھ جنگ بند کرنے کی پیشکش کی ہے۔

    روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے 9 مئی کے موقع پر یوکرین کے ساتھ عارضی جنگ بندی کی پیشکش کی ہے جسے سفارتی حلقوں میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے 9 مئی کو روس نازی جرمنی پر سوویت یونین کی فتح کا دن مناتا ہے-

    فرانسیسی خبر ایجنسی نے روسی صدر کے سفارتی مشیر کے حوالے سے بتایا ہے کہ پیوٹن نے یومِ فتح کی تقریبات کے دوران لڑائی روکنے پر آمادگی ظاہر کی تاکہ اس دن کو پرسکون ماحول میں منایا جا سکے،صدر ٹرمپ سے بات چیت کے دوران پیوٹن نے کہا کہ وہ اس بات پر تیار ہیں کہ روسی یوم فتح کی تقریبات کے دوران جنگ بندی رکھی جائے،امریکی صدر نے پیوٹن کی اس تجویز کی حمایت کی اور کہا کہ نازی جرمنی پر فتح کا دن ہماری مشترکہ فتح کا دن ہے۔

    تاہم اس ممکنہ جنگ بندی کے حوالے سے یوکرین کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

    واضح رہے کہ 9 مئی کو روس میں یوم فتح بھرپور انداز میں منایا جاتا ہے جو دوسری جنگ عظیم میں نازی جرمنی کے خلاف سوویت یونین کی کامیابی کی یاد دلاتا ہے۔