Baaghi TV

Tag: روس

  • آئی ٹی ڈپلومیسی سے آپکے موبائل کی جاسوسی تک از طہ منیب

    آئی ٹی ڈپلومیسی سے آپکے موبائل کی جاسوسی تک از طہ منیب

    ہم خود اجازت دیتے ہیں جب بھی ہم کوئی ایپ انسٹال کرتے ہیں، اگر ہم اسکی اجازت نا دیں تو ہم اس ایپ سے درست فائدہ ہی نہیں اٹھا سکتے ، جیسا کہ گیلری، آڈیو، کیمرہ تک ایکسس اور اس سے وہ ہمارا سب کہا ، دیکھا، بولا سنتے ریکارڈ کرتے اور اسکے مطابق اسکی بنیاد پر ہمیں گائیڈ یا ڈکٹیٹ کرتے ہیں۔ مزید جب بھی کسی ایپ کو انسٹال کرنا ہوتا ہے تو وہ ایک صفحہ سامنے لاتے ہیں جس پر انکی جانب سے اصول و ضوابط لکھے ہوتے ہیں جسے ٹک کیے بغیر آپ آگے بڑھ ہی نہیں سکتے اور جسے ہم ہمیشہ آنکھیں بند کر کے جلدی میں اسے پڑھے بغیر ہی ٹک کر کے انسٹال کے بٹن پر کلک کر کے ہی دم لیتے ہیں، اگر اسے ہم پڑھ لیں تب شروع میں ہی ہم محتاط ہو جائیں یا شاید باز آجائیں لیکن ایسا ہوتا نہیں ہے کیونکہ یہ ہمارے مزاج میں شامل نہیں ہے۔

    یہ ٹیکنالوجی میں خود مختار ممالک کا باقیماندہ دنیا پر اسی طرح کا استحصال ہے جیسا کہ وہ کمزور معیشتوں سے تعاون کے نام پر قرضوں کے بعد انکی خودمختاری گروی رکھوا لیتے ہیں اور داخلی خارجی معاملات پر کنٹرول کر لیتے ہیں۔

    بالکل اسی طرز پر انہیں بڑے ممالک کی ٹیکنالوجی میں برتری نے خطرناک حد تک دنیا کے ہر شخص کا ہر طرح کا بائیو ڈیٹا انکی گود میں ڈال دیا ہے جس سے اس شخص کو چلانا اسکی پسند نا پسند اسکی نفسیات غرض سب کچھ ان کے ہاتھ چلا گیا ہے، اور آپکی میری ہم سب کی مجبوری ہے اگر دنیا کے ساتھ چلنا ہے تو ” یہ تو ہو گا”۔ ٹیکنالوجی کا کنٹرول معاشی کنٹرول سے سو گنا بڑھ کر ہے کیونکہ یہاں چند ڈکٹیٹرز حکمرانوں یا ملکی سطح کے مرکزی اداروں تک انکی ڈکٹیشن نہیں ہوتی بلکہ اس کا دائرہ کار ہر فرد تک پہنچ جاتا ہے ۔ آپ یہ دیکھیں کہ صرف فیس بک کے ڈاؤنلوڈز پانچ سے چھ ارب کے درمیان ہیں جو دنیا کی کل آبادی کا نوے فیصد ہیں، تقریباً یہی اعداد و شمار باقی بڑی ویب سائٹس و ایپس کے بھی ہیں۔

    ٹیکنالوجی میں خود مختار دنیا کے بڑے ملکوں کی جنگیں پالیسیاں اب اسی طرز پر ہوتی ہیں جیسا کہ آپ نے دیکھا چند ماہ پہلے امریکہ نے چینی کمپنی ہواوے کو بین کیا ، روسی ایپس پہلے سے بین تھیں، روس و چائنہ میں امریکی ایپس بین ہیں۔ اور تو اور لداخ میں چین سے پڑنے والی مار کا جواب بھارت نے 59 چینی ایپس کو بین کر کے دیا ہے۔

    فی الحال پاکستان جیسے معاشی اعتبار سے کمزور ملک کے بس کی بات نہیں کہ ٹیکنالوجی کے اس میدان میں خود کوئی بڑی ایجادات کرے یا ان کمپینوں سے اپنا کچھ منوا سکے ۔ تقریباً دو ماہ حکومت پاکستان نے تقریباً ان تمام بڑی ایپس کو کچھ اصول و ضوابط پر پابند کرنے کی کوشش کی جس پر ان سب نے پاکستان سے اپنے تمام آپریشنز کو بند کرنے کی دھمکی دی اور تاحال حکومت اس پر کسی قسم کی معمولی شرائط نہیں منوا سکی، بلکہ چند ہفتے قبل پاکستان میں ٹویٹر ڈاؤن پر یہ شبہ کیا گیا تھا کہ یہ پاکستان کو ٹریلر دیکھایا گیا ہے کہ ہمارے سے اپنی سروسز کو بند کرنا کوئی بڑا سودا نہیں۔

    بہرحال ٹیکنالوجی ایک ایسا وسیع موضوع ہے جسے ایک فیس بک پوسٹ یا تحریر میں مکمل کرنا ناممکن ہے، کوشش ہوگی کہ مستقبل میں اس کے دفاعی، معاشی، معاشرتی، ثقافتی، نفسیاتی اثرات پر بات کروں ، فی الوقت اتنا ہی۔

  • بھارت اور متحدہ عرب امارات کا گٹھ جوڑ وجہ کیا ہے؟؟؟؟  محمد عبداللہ

    بھارت اور متحدہ عرب امارات کا گٹھ جوڑ وجہ کیا ہے؟؟؟؟ محمد عبداللہ

    سب سے پہلی بات کہ دنیا مفادات پر چلتی ہے وہ اسلامی ممالک ہوں یا اہل کفار کے ممالک سبھی تعلقات قائم کرتے وقت اپنے اپنے قومی مفادات کو ہی مقدم رکھتے ہیں. ایسا نہیں ہے کہ ہم.نے کبھی قومی مفادات کو ملی مفادات پر ترجیح نہ دی ہو. ماضی میں بے شمار مثالیں آپ کو ملیں گی جس سے اندازہ ہوگا کہ پاکستان نے بھی بارہا قومی مفادات کی وجہ سے ملی مفادات کو ٹھیس پہنچائی، اگرچہ پاکستان کا رویہ اور عام پاکستان کے جذبات باقی اسلامی ممالک کی وجہ سے امت کے درد میں زیادہ دلگیر ہوجاتا ہے. جدید نیشن اسٹیٹس میں خارجہ پالیسی کا یہی اصول ہے کہ فقط اپنے ہی قومی مفادات کو ترجیح دو. ایسے میں ہمیں بھی سینہ فراخ کرنا پڑے گا کہ جن اسلامی ممالک کے تجارتی مفادات دوسرے ممالک سے وابستہ ہیں ان سے وہ تعلقات قائم کرسکیں. (گزشتہ بلاگ میں ہی ہم نے ذکر کیا تھا) ہم کوئی بین الاقوامی منڈی نہیں ہیں، ہم بائیس کروڑ ہیں جبکہ بھارت 1.339 بلین آبادی والا ملک ہے جو انڈسٹری اور ٹیکنالوجی میں پاکستان سے بہت آگے ہے. ایسے میں عرب یا دیگر ممالک کا پاکستان کی نسبت بھارت کے ساتھ تجارتی معاہدوں کا حجم بہت زیادہ ہوگا تو وہ خیال بھی اسی کا رکھیں گے جہاں ان کے پیسے زیادہ لگے ہونگے.
    مزید پڑھیں مسئلہ کشمیر فقط زمین کے ٹکڑے کی لڑائی یا کچھ اور؟؟؟ تحریر: محمد عبداللہ

    دوسری بات جو بہت اہم بھی ہے اور جو سمجھ میں آنے والی بھی ہے کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ سی پیک اور بالخصوص پاکستان کی عظیم بندرگاہ گوادر کے آپریشنل ہوجانے سے جہاں بھارتی اور ایرانی بندگاہوں کو خطرات لاحق ہونا شروع ہوگئے تھے وہیں یہ پشین گوئیاں شروع ہوچکی تھیں کہ گوادر کے آپریشنل ہوتے ہی دوبئی کی رونقیں اجڑ جائیں گی اور اگر ایسا ہوجاتا ہے تو متحدہ عرب امارات کی ساری شان و شوکت، رعب و دبدبہ اور شامیں ماند پڑجائیں گی. کیونکہ گوادر تجارتی مرکز بن جائے گا. کیونکہ اسی گوادر اور سے ملحقہ سی پیک سے ہی چین، وسط ایشیائی ریاستوں اور روس تک کی امیدیں وابستہ ہیں اور چین کا تو دارومدار ہی اس سی پیک پر ہے.ساری دنیا جانتی ہے کہ درآمدات و برآمدات کے حوالے سے چین اور روس دنیا میں کیا مقام رکھتے ہیں.اسی طرح وسط ایشیائی ریاستیں بھی کسی سے کم نہیں ہیں مگر کسی طرف کا رستہ نہ ہونے کی وجہ سے وہ ریاستیں ایک عرصہ سے اگنور ہوتی چلی آ رہی تھیں اب اگر ان سب کو گوادر کی شکل میں تجارتی سنٹر ملتا ہے تو باقی تجارتی مراکز کی حیثیت اس کے سامنے بہت کم ہوجائے گی، گزشتہ دنوں ایران اور بھارت کے گٹھ جوڑ کا مقصد بھی یہی تھا کہ چاہ بہار کی رونقیں جاتی نظر آرہی تھیں. کچھ ماہ قبل کی بات ہے کراچی میں آئل وغیرہ سے وابستہ پاکستانی تاجروں کی ایک مجلس میں بیٹھے تھے تو وہاں پر بات چلی تو ان سب کا کہنا تھا کہ دوبئی کی نسبت اگر گوادر سے سلسلہ شروع ہوجاتا ہے تو پھر دوبئی کی ساری دکانداری ختم ہوجاتی ہے. سی پیک اور گوادر کا وہ پلان جس کو پاکستان اور چین نے گیم چینجر پلان کہا تھا کہیں ایسا تو نہیں کہ اس گیم چینجر سے متاثر ہونے والے سبھی ممالک نے گٹھ جوڑ کرلیا ہو اور ان سب کے پیچھے شیاطین کا مائی باپ امریکہ ہو کیونکہ چین و روس کی ترقی سے زیادہ مسئلہ امریکہ کو ہی ہوسکتا ہے. امریکہ افغانستان سے نکلنے کے لیے پاکستان کا محتاج ہے اور کہیں ایسا تو نہیں کہ اس نے بندوق مودی کے کندھے پر رکھی ہو کیونکہ یہی پاکستان کا مشکل ترین وقت تھا جس میں پاکستان کو قابو کرنا آسان تھا وگرنہ پاکستان ان ممالک کی پہنچ سے بہت آگے جانکلتا.

    مزید پڑھیں کیا بھارت کشمیر کو آزاد کرکے پاکستان کی بقاء ممکن بنائے گا؟؟؟ محمد عبداللہ
    اس خدشے کو تقویت کچھ اس طرح بھی ملتی ہے کہ پاکستان کو ایک طرف ایف اے ٹی ایف اور آئی ایم ایف کے چنگل میں ڈال کر، دوسری طرف پاکستان کو کشمیر ایشو اور مشرقی بارڈر پر مسلسل الجھا کر سی پیک اور گوادر کی تکمیل میں رکاوٹیں کھڑی کی گئی ہیں جس کا نتیجہ ہے کہ ان منصوبوں پر کام ایک حساب سے عملاً رک چکا ہے اور فی الوقت جو کچھ ہو رہا ہے وہ فقط کاغذوں کی حد تک ہو رہا ہے. کیونکہ ساری دنیا کو پتا ہے کہ پاکستان کشمیر کو نہیں چھوڑ سکتا کہ کشمیر بھی پاکستان کی بقاء کا مسئلہ ہے. کڑی سے کڑی ملائیں تو مقبوضہ وادی اور لداخ پر بھارتی شکنجے کی مضبوطی سے بھی یہ بات سمجھ آتی ہے کہ بھارت ایک طرف تو پاکستان کو پانی سے محروم کرنا چاہتا ہے اور دوسری سی پیک پر اثر انداز ہونا چاہتا ہے. اس کے لیے وہ متحدہ عرب امارات کی طرف التفات اور دیگر سبھی حربے استعمال کرے گا لہذا اب پاکستان کو اپنی ترجیحات واضح کرنا ہونگی اور اپنے قدم بڑے سوچ سمجھ کر اٹھانا ہونگے کہ کوئی چھوٹی سی غلطی بھی بڑا نقصان پہنچا سکتی ہے.

    Muhammad Abdullah
  • پیٹر دی گریٹ ۔۔۔ زین اللہ خٹک

    پیٹر دی گریٹ ۔۔۔ زین اللہ خٹک

    پیٹر دی گریٹ سترھویں صدی کے عظیم روسی سربراہ مملکت گزرے ہیں۔ آپ نے روس کو جدید خطوط پر یورپ کا ترقی یافتہ ملک بنا دیا۔ پیٹر دی گریٹ سے پہلے روس ہر لحاظ سے یورپ کا پسماندہ ترین ملک تھا۔ مذہبی طبقہ نے اقتدار کی ایوانوں میں پنجے گاڑھ رکھے تھے۔ علاقائی "ارباب” کی بدمعاشی قائم تھی۔ تاجر طبقے نے عوام کے ناک میں دم کر رکھا تھا۔ ملک داخلی اور خارجی سطح پر عدم استحکام کا شکار تھا۔ ان حالات میں پیٹر دی گریٹ نے عقلمندی اور شعور سے کام لیتے ہوئے ملک میں اصلاحات کا عمل شروع کیا۔ کسی بھی ملک میں اصلاحات کے لیے مضبوط فوج کی ضرورت ہوتی ہے۔ کیونکہ اگر فوج کمزور ہو تو اصلاحات ایک خواب رہ جاتی ہے۔ افغانستان کے امیر امان اللہ خان کمزور فوج کی وجہ سے اصلاحات کا عمل ادھورا چھوڑ کر بھاگ گئے۔ پیٹر دی گریٹ نے سب سے پہلے فوج کو مضبوط اور ہمنوا کیا۔ تاکہ اصلاحات کے عمل میں کوئی خلل نہ پڑے۔ مضبوط فوج کی موجودگی میں پیٹر ہر شعبہ زندگی میں اصلاحات لانے کے عمل میں کامیابی سے ہمکنار ہوئے۔ آپ نے پہلی بار روس میں اخبار شروع کیا۔کیونکہ کسی نظریے اور اصلاحات کی ترویج کے لیے اخبار کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔ روسی کلچر کو پروموٹ کیا۔ تعلیمی اصلاحات نافذ کیں۔ جدید خطوط پر نظام تعلیم کو استوار کیا۔ سائنس کو اہمیت دی۔ معاشی نظام کو بہتر کیا۔ تاجروں پر ٹیکس لگایا۔ مذہبی طبقہ کو محدود کیا۔غریبوں کے لیے وظائف مقرر کیے۔ پیٹر برگ کے نام سے جدید شہر آباد کیا۔ جس کو بعد میں دارالحکومت کا درجہ دیا گیا۔ یہ شہر اپنی خوبصورتی اور طرز تعمیر سے جدیدیت کا بے نظیر نمونہ پیش کر رہا ہے۔ پیٹر دی گریٹ نے مختصر عرصے میں اصلاحات کی بدولت پسماندہ ترین روس کو یورپ کا جدید ترین ملک بنا دیا۔ کسی ملک میں اصلاحات اور تبدیلی کے لیے مضبوط فوج، باعمل حکمران اور سوچ و جذبہ کار فرما ہونا بہت ضروری اور لازمی ہے۔

  • کرکٹ بھی کوئی کھیل ہے ؟ روس نے کرکٹ کو کھیل ماننے سے انکار کردیا

    کرکٹ بھی کوئی کھیل ہے ؟ روس نے کرکٹ کو کھیل ماننے سے انکار کردیا

    ماسکو:روس نے کرکٹ کو یہ کہ کر کھیل ماننے سے انکار کردیا کہ یہ بھی کوئی کھیل ہے. دنیا میں‌کرکٹ کو فٹبال کے بعد دنیا کا سب سے بڑا کھیل مانا جاتا ہے لیکن روس کی حکومت یہ حقیقت ماننے سے انکاری ہے اور انہوں نے کرکٹ کو سرے سے کھیل ہی ماننے سے انکار کردیا ہے۔

    یاد رہے کہ انٹرنیشنل اولمپکس کمیٹی کی جانب سے بھی کرکٹ کو تسلیم جا چکا ہے لیکن 1900 کے بعد سے اولمپکس میں اس کھیل کو نہیں کھیلا گیا۔15جولائی کو روس میں حکم نامہ جاری کیا گیا جس میں تسلیم شدہ کھیلوں کے نام درج تھے لیکن اس فہرست میں کرکٹ شامل نہیں تھا ۔

    روس کی جانب سے سرکاری سطح پر جن کھیلوں کو تسلیم کیا گیا ہے ان میں منی گالف اور ڈراف جیسے کھیل بھی شامل ہیں لیکن کرکٹ کو کھیل ماننے سے ہی انکار کردیا گیا ہے۔

    کرکٹ کے شائقین غمگین نہ ہوں کہ شاید کرکٹ کے روس میں کھیلنے پر پابندی ہے ،ایسا ہرگز نہیں . کھیل کو تسلیم نہ کیے جانے کا یہ مطلب نہیں روس میں اس کھیل کو کھیلا نہیں جا سکے گا بلکہ اس کے بجائے حکومت کی جانب سے اس کھیل کو کھیلنے کے لیے کسی بھی قسم کی معاونت یا مالی مدد نہیں کی جائے گی۔

    ماسکو کرکٹ اسپورٹس فیڈریشن کے رکن الیگزینڈر سوروکن نے کہا کہ کرکٹ کو تسلیم نہ کیے جانے کی وجہ وزارت کھیل میں جمع کرائی گئی درخواست میں غلطیاں تھیں۔انہوں نے کہا کہ فیڈریشن اگلے سال پھر درخواست دائر کرے گی اور اس اس مرتبہ ہم کامیابی کے لیے پرامید ہیں۔اس کے ساتھ روسی حکام نے تھائی باکسنگ کو بھی کھیل ماننے سے انکار کردیا ہے۔

    یاد رہے کہ روسی حکومت کا یہ فیصلہ ایک ایسے موقع پر سامنے آیا تھا جب ایک دن قبل 14جولائی کو انگلینڈ نے ورلڈ کپ جیت کر پہلی مرتبہ چیمپیئن بننے کا اعلان کردیا۔بعض مبصرین کا خیال ہے کہ روس کے اس نظریے کے پیچھے مغرب سے دوری اور روایتی دشمنی ہے

  • ماسکو:روسی فضائیہ نے ایٹمی اسلحہ لیجانے کی صلاحیت کے حامل امریکی طیارے کی روسی حدود میں مداخلت ناکام بنا دی

    ماسکو:روسی فضائیہ نے ایٹمی اسلحہ لیجانے کی صلاحیت کے حامل امریکی طیارے کی روسی حدود میں مداخلت ناکام بنا دی

    ماسکو:روسی میڈیانےروس کے نیشنل ڈیفنس مینیجمنٹ سینٹر کے ترجمان کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکی فضائیہ کا لڑاکا طیارہ سمندروں کی جانب سے ہماری سرحدوں کی طرف محو پرواز تھا، امریکی طیاروں کو دو مرتبہ روسی طیاروں کی مداخلت کا سامنا کرنا پڑا۔جوہری میزائل و دیگر اسلحہ لے جانے کی صلاحیت کے حامل امریکی ایئرفورس کے بمبار طیارے کی روسی سرحد کے قریب پرواز نے روس کی فضائیہ اور وزارت دفاع کو چوکنا کردیا۔ روس کی فضائیہ کے زیر استعمال ایس یو-57 طیارے نے امریکی فضائیہ کے طیارے کے راستے میں مداخلت کرکے اس کو آگے بڑھنے سے روک دیا۔ حیرت انگیز طور پر تاحال عالمی ذرائع ابلاغ میں یہ موضوع حل طلب تصور کیا جارہا ہے کہ امریکی طیارے نے ایک مرتبہ روسی سرحد کے قریب جانے کی کوشش کی یا دو مرتبہ؟ یہاں یہ سوال بھی اہمیت کا حامل گردانا جارہا ہے کہ کیا یہ ایک محض اتفاقی واقعہ تھا اور یا یہ کہ اس کے پس پردہ مقاصد کچھ اور تھے؟۔ خبررساں ایجنسی تاس نے روسی محکمہ دفاع کے حوالے سے بتایا ہے کہ روسی ساختہ ایس یو-57 طیارہ کومبیٹ ڈیوٹی پر تھا کہ اس نے امریکی فضائیہ کے طیارے کو اپنی سرحد کے قریب آتے دیکھا توراستے میں مداخلت کرکے اسے بین الاقوامی سرحد سے دور کردیا۔

    خبررساں ایجنسی کے مطابق روس کی وزارت دفاع نے یہ واضح نہیں کیا کہ امریکی طیاروں کا مقابلہ کرنے کے لیے کتنے روسی طیاروں نے حصہ لیا؟ لیکن اس بات کا اعتراف کیا کہ روسی طیاروں کو دو مرتبہ امریکی طیاروں کے راستے میں مداخلت کرنا پڑی۔ ماضی میں بھی دونوں ممالک کے درمیان اس حوالے سے کئی مرتبہ تناؤ پیدا ہوا ہے اور ایک دوسرے پر الزام تراشی بھی کی گئی ہے لیکن یہ بات درست ہے کہ موجودہ صورتحال میں امریکی طیاروں کی روسی سرحد کے قریب پروازوں نے پہلے سے موجود کشیدگی میں اضافہ ضرور کیا ہے۔

  • اردو ہے جس کا نام:روس کے تین اعلیٰ اداروں میں سیکھائی جانے لگی

    اردو ہے جس کا نام:روس کے تین اعلیٰ اداروں میں سیکھائی جانے لگی

    اردو زبان کی چاشنی اور حسن کے اب روس کے تعلیمی اداروں میں چرچے اور مقبولیت .روس کے اعلیٰ اداروں میں اردو زبان کو سیکھایا جانے لگا .اس وقت اردو زبان ماسکو کے تین اعلیٰ اداروں میں سکھائ جاتی ہے یعنی ماسکو ریاستی یونیورسٹی کے تحت ایشیائ اور افریقی ملکوں کے انسٹی ٹیوٹ، بین الاقوامی تعلقات کے انسٹی ٹیوٹ اور روسی ہیومینٹیرین یونیورسٹی میں جہاں اردو اسی سال 2007 میں پڑھائ جانے لگی-

    دلچسپ بات ہے کہ خواہش مند نوجوان سینٹ پیٹرزبرگ کی یونیورسٹی، سائبریا اور مشرق بعید کے چند اعلیٰ تعلیمی اداروں سے بھی اردو سیکھ سکتے ہیں- تاہم علم شرقیات کا سب سے مشہور اور باوقار روسی اعلیٰ تعلیمی ادارہ ماسکو ریاستی یونیورسٹی کے تحت ایشیا اور افریقہ کے ملکوں کا انسٹی ٹیوٹ ہے- ویسے تو ریڈیو "صداۓ روس” کے شعبۂ اردو کے زیادہ تر آناؤنسر اور مترجم اسی انسٹی ٹیوٹ کے فارغ التحصیل ہیں- مطلب یہ کہ آپ ہمارے پروگرام سنتے ہوۓ اس انسٹی ٹیوٹ کی تعلیم کے معیار کا اندازہ لگا سکتے ہیں-

    افریقی اور ایشیائی ملکوں کا انسٹی ٹیوٹ 50 سے زیادہ سال پہلے قائم کیا گیا- یہ ایک انوکھا تعلیمی ادارہ ہے، جہاں اسلام شناسی، ہندوستان شناسی، چین شناسی اور دوسرے علوم کے مطالعہ کی روسی روایات برقرار رکھی جاتی ہیں- ایشیائ اور افریقی ملکوں کا انسٹی ٹیوٹ ماسکو یونیورسٹی کا ایک شعبہ سمجھا جاتا ہے اس لیے وہاں طلباء کو ہمہ گیر معلومات فراہم کی جاتی ہیں- مگر اہمترین مقام علم شرقیات کو حاصل ہے