Baaghi TV

Tag: روس

  • روس کے یوکرین پٔرمیزائلوں اور ڈرونز سے حملہ،8 افراد ہلاک ، متعدد زخمی

    روس کے یوکرین پٔرمیزائلوں اور ڈرونز سے حملہ،8 افراد ہلاک ، متعدد زخمی

    روس نے یوکرین پر میزائلوں اور ڈرونز سے حملہ کیا جس کے نتیجے میں مختلف علاقوں میں کم از کم 8 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے-

    میڈیا رپورٹس کے مطابق حملوں میں رہائشی عمارتوں، بنیادی ڈھانچے اور شہری تنصیبات کو بھی نقصان پہنچا،یوکرینی حکام کے مطابق حملوں کا نشانہ کئی شہر بنے جہاں فضائی دفاعی نظام نے متعدد ڈرونز اور میزائل تباہ کیے تاہم کچھ اپنے اہداف تک پہنچ گئے۔ امدادی کارکنوں نے ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے ریسکیو کارروائیاں کیں۔

    روس کی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ حملوں میں فوجی اور دفاعی صنعت سے متعلق اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ یوکرین کا مؤقف ہے کہ زیادہ تر حملوں کا رخ شہری علاقوں کی طرف تھا جس سے عام شہری ہلاک اور زخمی ہوئے۔

    واضح رہے کہ حالیہ ہفتوں میں روس اور یوکرین کے درمیان فضائی حملوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اقوام متحدہ اور بین الاقوامی اداروں نے شہری ہلاکتوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ بین الاقوامی انسانی قانون کے مطابق شہریوں اور شہری تنصیبات کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔

  • یوکرین کا روس پر ڈرونز اور میزائل سے بڑا حملہ،  آئل ریفائنری  میں آگ لگ گئی

    یوکرین کا روس پر ڈرونز اور میزائل سے بڑا حملہ، آئل ریفائنری میں آگ لگ گئی

    یوکرین نے ڈرون حملوں کے ذریعے ماسکو کی ایک اہم آئل ریفائنری کو نشانہ بنایا، جبکہ روس نے بھی یوکرین کے دارالحکومت کیف سمیت مختلف علاقوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں۔

    روسی وزارت دفاع کے مطابق گزشتہ رات یوکرین نے مختلف روسی علاقوں پر سینکڑوں ڈرونز کے ذریعے حملے کیے، وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ روسی فضائی دفاعی نظام نے 555 یوکرینی ڈرونز کو تباہ کیا، جن میں سے تقریباً 200 ڈرون ماسکو کی جانب بڑھ رہے تھے۔

    ماسکو کے میئر سرگئی سوبیانن نے تصدیق کی کہ متعدد ڈرونز ماسکو کی ایک آئل ریفائنری تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے، جس کے باعث وہاں آگ بھڑک اٹھی،ایک شاپنگ سینٹر کو بھی معمولی نقصان پہنچا ہے یہ ایک ہفتے کے دوران ماسکو کی اس اہم آئل ریفائنری پر دوسرا حملہ ہے، ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ریفائنری روسی دارالحکومت کی ایندھن ضروریات کا بڑا حصہ پورا کرتی ہے اور اسے اسٹریٹجک اہمیت حاصل ہے۔

    ادھر ماسکو کے نواحی علاقوں میں بھی ڈرون حملوں کے باعث ایک رہائشی عمارت، صنعتی تنصیبات اور متعدد مکانات کو نقصان پہنچا حملوں کے بعد ماسکو کے مصروف ترین شیرمیتیوو ایئرپورٹ پر پروازیں عارضی طور پر معطل کر دی گئیں اور مسافروں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔

    دوسری جانب یوکرین نے الزام لگایا ہے کہ روس نے کیف پر ایک بار پھر بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے حملہ کیا۔ یوکرینی حکام کے مطابق رات بھر میں 239 ڈرونز اور 7 بیلسٹک میزائل داغے گئے، جن میں سے بیشتر کو فضائی دفاعی نظام نے تباہ کر دیا شمال مشرقی یوکرینی شہر سومی میں ایک ڈرون حملے کے نتیجے میں کم از کم ایک شخص ہلاک ہونے کی بھی اطلاع ہے۔

    روس اور یوکرین کے درمیان چار سال سے زائد عرصے سے جاری جنگ میں حالیہ حملے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ امن مذاکرات کی کوششوں کے باوجود میدان جنگ میں کشیدگی بدستور برقرار ہے۔

  • روسی حکومت اور میڈیا نے پاکستان کو عالمی امن کا ضامن قرار دے دیا

    روسی حکومت اور میڈیا نے پاکستان کو عالمی امن کا ضامن قرار دے دیا

    روسی حکومت اور میڈیا نے امریکا ایران معاہدے میں پاکستان کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے پاکستان کو عالمی امن کا ضامن قرار دے دیا۔

    روسی خبر رساں ایجنسی تاس نے پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کی پیشرفت نے عالمی سطح پر مثبت اثرات مرتب کیے ہیں جبکہ پاکستان امریکا ایران مذاکرات میں ہونے والی پیشرفت کو مستحکم کرنے کی ہر ممکن کوشش کرے گا روسی جریدے اسپوتنک نے کہا کہ امریکا ایران امن معاہدے کیلئے دستخط کہیں بھی ہوں پاکستان ہی مرکزی ثالث رہے گا معاہدے کا سارا کریڈٹ پاکستان کو ہی جاتا ہے۔

    روسی جریدے آر ٹی کے مطابق پاکستان کی مخلصانہ ثالثی کی بدولت امریکا اور ایران دشمنی اور جنگ کے خاتمے تک پہنچے ہیں،ٹاس کے مطابق امریکہ ایران جنگ کے خاتمے کے بعد پاکستان معاشی ترقی کے لیے پُرامید اور پُرعزم ہے جبکہ روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاروف نے پاکستانی قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ وزیرِ اعظم شہباز شریف سمیت پاکستان کی دیگر قیادت بطور ثالث اہم ترین کردار ادا کر رہی ہے۔

  • صدر پیوٹن کے ناقد روسی آرٹسٹ  قتل، 2 بیلاروسی گرفتار

    صدر پیوٹن کے ناقد روسی آرٹسٹ قتل، 2 بیلاروسی گرفتار

    روسی صدر ولادیمیر پیوٹن پر طنزیہ کارٹون بنانے کے لیے مشہور روسی آرٹسٹ کو پولینڈ کے مشرقی علاقے میں گولیاں مار کر قتل کر دیا گیا ہے۔

    وزارتِ استغاثہ کے ترجمان مارسن کوزاک نے صحافیوں کو بتایا کہ 44 سالہ روسی شہری کے قتل کی تحقیقات جاری ہیں، جنہیں میڈیا میں سیمیون اسکریپٹسکی کے نام سے جانا جاتا ہے ان کا اصل نام رابرٹ کوزوفکوف بتایا گیا ہے۔ اس کیس کے سلسلے میں 2 بیلاروسی شہریوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔

    پولیس کے مطابق یہ واقعہ مشرقی پولینڈ کے شہر بیالا پوڈلاسکا میں بیلاروسی قونصل خانے کے قریب پیش آیا تاہم لُبلن پولیس کے ترجمان نائب انسپکٹر آندریج فیولیک نے کہا ہے کہ اصل حملہ آور کی تلاش اب بھی جاری ہے اور ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی گئی ہےنامعلوم مسلح حملہ آور نے فنکار کو پہلے 3 گولیاں ماریں، اور جب وہ زمین پر گر گئے تو قریب جا کر مزید 2 گولیاں چلائی گئیں۔

    پولینڈ حکومت کے ترجمان آدم شلاپکا نے کہا کہ معاملہ انتہائی سنگین ہے اور مذکورہ آرٹسٹ کو پہلے سیکیورٹی فراہم کرنے کی پیشکش کی گئی تھی، جسے انہوں نے قبول نہیں کیا،واقعے کے بعد پولش میڈیا نے رپورٹ کیا کہ مقتول کے اہلِ خانہ کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے ابھی تک کسی پر باضابطہ فردِ جرم عائد نہیں کی گئی، اور گرفتار شدہ دونوں بیلاروسی شہری تفتیشی اداروں کی تحویل میں ہیں،یہ واقعہ پولینڈ اور روس کے درمیان کشید گی کو مزید بڑھا سکتا ہے، جو پہلے ہی گزشتہ سال پولینڈ کی حدود میں ڈرون گرنے کے واقعات کے بعد کشیدہ ہے۔

  • پاکستان اور روس کے درمیان  مثبت پیشرفت نے باہمی اعتماد کو مضبوط کیا ہے،اویس لغاری

    پاکستان اور روس کے درمیان مثبت پیشرفت نے باہمی اعتماد کو مضبوط کیا ہے،اویس لغاری

    وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا ہے کہ عالمی منظرنامے میں پاکستان اور روس کے تعلقات نئی وسعتوں کی جانب گامزن ہیں، اور گزشتہ 2 دہائیوں کے دوران ہونے والی مثبت پیشرفت نے دونوں ممالک کے درمیان باہمی اعتماد کو مزید مضبوط بنایا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق اویس لغاری نے بدلتے ہوئے عالمی نظام کے تناظر میں پاکستان اور روس کے دوطرفہ تعلقات کے ویبینار سے خطاب میں کہا کہ پاکستان اور روس کے درمیان دو دہائیوں پر محیط مثبت پیش رفت نے باہمی اعتماد کو مضبوط کیا ہے-

    انہوں نے کہا کہ پاکستان اور روس کے درمیان تجارت، توانائی، صنعت، تعلیم اور سائنس سمیت مختلف شعبوں میں تعاون فروغ پا رہا ہے، پاکستان بین الا قوامی شمال،جنوب ٹرانسپورٹ کوریڈور میں شمولیت کا خواہاں ہے، گوادر بندرگاہ کو بین الاقوامی شمال،جنوب ٹرانسپورٹ کوریڈور سے جوڑنے کی تجویز خوش آئند ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور روس کے درمیان 2030 تک اقتصادی تعاون کے پروگرام پر اتفاق اہم پیش رفت ہے، دونوں ممالک ادائیگیوں کے نظام سمیت تجارتی رکاوٹوں کے خاتمے کے لیے فعال مشاورت کر رہے ہیں، روس پاکستان ری ایڈمیشن معاہدے سے ویزا سہولتوں، کاروباری روابط اور ثقافتی تبادلوں کو فروغ ملے گا، جبکہ پاکستان روس میں منعقد ہونے والے اہم اقتصادی اور بین الاقوامی فورمز میں باقاعدگی سے شرکت کر رہا ہے۔

    اویس لغاری نے کہا کہ صدر ولادیمیر پیوٹن کی جانب سے پاکستان کو اہم عالمی شراکت دار قرار دینا دونوں ممالک کے تعلقات کی بڑھتی ہوئی اہمیت کا مظہر ہےاسلام آباد اور ماسکو کے درمیان مضبوط ہوتے روابط نہ صرف دوطرفہ مفادات بلکہ وسیع تر یوریشیائی تعاون، علاقائی استحکام اور اقتصادی انضمام کے لیے بھی اہم کردار ادا کریں گے۔

  • روس کا افغانستان میں موجود   ٹی ٹی پی اور داعش خراسان سے لاحق خطرات پر تشویش کا اظہار

    روس کا افغانستان میں موجود ٹی ٹی پی اور داعش خراسان سے لاحق خطرات پر تشویش کا اظہار

    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں افغانستان سے متعلق بریفنگ کے دوران روس نے افغانستان میں موجود دہشتگرد تنظیموں بالخصوص ٹی ٹی پی اور داعش خراسان (ISIS-K) سے لاحق خطرات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    روس کی مستقل نمائندہ برائے اقوام متحدہ نے افغانستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ صورتحال تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی دہشتگرد سرگرمیوں کے پس منظر میں پیدا ہو رہی ہے،انہوں نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں افغانستان میں داعش خراسان کی مسلسل موجودگی کو بھی علاقائی اور بین الاقوامی سلامتی کے لیے ایک اہم چیلنج قرار دیا کہا کہ افغانستان میں سرگرم دہشتگرد عناصر خطے کے امن و استحکام کے لیے بدستور خطرہ بنے ہوئے ہیں۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق روس کے حالیہ ریمارکس پاکستان کے اس مؤقف کی تائید کرتے ہیں کہ افغان سرزمین سے سرگرم دہشتگرد گروہ علاقائی سلامتی کو متاثر کر رہے ہیں، ماہرین کے مطابق افغانستان میں دہشتگرد تنظیموں کی موجودگی اور سرحد پار حملوں کے خدشات خطے کے ممالک کے لیے ایک مشترکہ سیکیورٹی چیلنج بن چکے ہیں، جس سے نمٹنے کے لیے علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر تعاون کی ضرورت ہے۔

    ایران کے ساتھ معاہدہ دو یا تین روز میں طے پا سکتا ہے،ٹرمپ

    مبصرین کا کہنا ہے کہ سلامتی کونسل میں روس کے بیان نے افغانستان کی سیکیورٹی صورتحال اور وہاں موجود شدت پسند دہشتگرد گروہوں کے حوالے سے جاری عالمی بحث کو مزید تقویت دی ہے، روس کی جانب سے ٹی ٹی پی اور داعش خراسان کے خطرات کا ذکر اس معاملے پر بڑھتی ہوئی بین الاقوامی تشو یش کی عکاسی کرتا ہے۔

    کالعدم ایکشن کمیٹی کے کور کمیٹی رکن توصیف جرال خود کو پولیس کے حوالے کردیا

  • روس کے کیف سمیت کئی بڑے شہروں پر  حملے،9 افراد ہلاک 60 زخمی

    روس کے کیف سمیت کئی بڑے شہروں پر حملے،9 افراد ہلاک 60 زخمی

    روس کی جانب سے یوکرین کے دارالحکومت کیف سمیت کئی بڑے شہروں پر شدید فضائی، میزائل اور ڈرون حملوں کے نتیجے میں کم از کم 9 افراد ہلاک اور 60 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔

    یوکرینی حکام کے مطابق منگل کی صبح دارالحکومت کیف سمیت کئی بڑے شہروں پر میزائلوں اور ڈرونز حملوں میں جنوب مشرقی شہر دنیپرو اور شمال مشرقی شہر خارکیف سمیت کئی علاقے نشانہ بنے حملوں سے رہائشی عمارتوں، گاڑیوں اور توانائی تنصیبات سمیت شہری انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا جب کہ ہزاروں افراد جان بچانے کے لیے پناہ گاہوں اور زیرِ زمین میٹرو اسٹیشنوں میں منتقل ہو گئے۔

    دنیپرو کے گورنر اولیکساندر ہانژا نے بتایا کہ میزائل اور ڈرون حملوں میں کم از کم پانچ افراد ہلاک جبکہ 25 زخمی ہوئے تمام زخمیوں کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے اور ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔

    رائٹرز کے مطابق دارالحکومت کیف میں کم از کم چار افراد ہلاک اور 51 زخمی ہوئے، جن میں بچے بھی شامل ہیں کیف کے میئر وٹالی کلچکو کے مطابق ایک 24 منزلہ رہائشی عمارت پر مبینہ میزائل حملے کے بعد عمارت کا ایک حصہ منہدم ہو گیا، جس کے ملبے تلے مزید افراد کے دبے ہونے کا خدشہ ہے۔

    یوکرین کے شمال مشرقی علاقے خارکیف کے میئر کے مطابق، وہاں بھی ڈرون اور میزائل حملوں میں ایک بچے سمیت 10 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    واضح رہے کہ یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے ایک روز قبل ہی اپنے رات گئے ویڈیو خطاب میں انٹیلی جنس الرٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کسی بھی وقت ایک بڑے روسی حملے کا خدشہ ظاہر کیا تھا نٹیلی جنس اداروں کی جانب سے روسی حملوں کے حوالے سے موصول ہونے والی وارننگز برقرار ہیں اور ایک بڑے حملے کا امکان موجود ہے۔

    دوسری جانب روس نے گزشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ وہ کیف میں یوکرین کے فوجی اہداف پر منظم حملے کرے گا روس نے غیر ملکی شہریوں کو بھی کیف چھوڑنے کا مشورہ دیا تھا روس نے ان تازہ حملوں کو گزشتہ ماہ روس کے زیرِ قبضہ علاقے لوہانسک میں ہونے والے اس مبینہ یوکرینی ڈرون حملے کا جواب قرار دیا ہے جس میں 21 افراد مارے گئے تھے، تاہم یوکرین نے اس حملے میں ملوث ہونے کی تردید کی تھی۔

    اُدھر روسی حکام کے مطابق جنوبی علاقے کراسن ودار میں واقع ایلسکی آئل ریفائنری بھی ڈرون حملے کے بعد آگ کی لپیٹ میں آ گئی روس کے زیرِ قبضہ کریمیا میں واقع بحری اڈے سیواستوپول پر بھی ڈرون حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جہاں مقامی حکام کے مطابق فضائی دفاعی نظام حملوں کو روکنے کے لیے متحرک رہا-

  • روس کی کیف میں بڑے حملے کی تیاری

    روس کی کیف میں بڑے حملے کی تیاری

    روس نے یوکرین کے دارالحکومت کیف پر بڑے حملے کی تیاری کرلی ہے۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق روسی وزیر خارجہ نے امریکی سفارتکاروں، شہریوں اور دیگر غیرملکی افراد کو فوری طور پر کیف چھوڑنے کی وارننگ جاری کر دی ہے،روسی وزیر خارجہ نے یوکرینی شہریوں کو بھی ہدایت کی ہے کہ وہ فوجی تنصیبات سے دور رہیں۔

    واضح رہے کہ چند روز قبل روس نے کیف اور اس کے نواحی علاقوں پر ڈرونز اور میزائلوں سے شدید حملے کیے تھے، جن میں اوریشنک ہائپر سونک میزائل بھی استعمال کیا گیا۔ ان حملوں کو گزشتہ 4 برس سے جاری جنگ کے دوران کیف پر ہونے والے شدید ترین حملوں میں شمار کیا جا رہا ہےادھر روس اور امریکا کے وزرائے خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ بھی ہوا، جس میں یوکرین جنگ اور ایران کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

  • روس یوکرین پر جدید ہتھیاروں سےبڑے حملے کی تیاری کر رہا ہے،زیلنسکی

    روس یوکرین پر جدید ہتھیاروں سےبڑے حملے کی تیاری کر رہا ہے،زیلنسکی

    یوکرین کے صدر ولادیمیرزیلسنکی نے دعویٰ کیا ہے کہ روس یوکرین، خصوصاً دارالحکومت کیف پر بڑے حملے کی تیاری کر رہا ہے، جس میں ہائپرسونک ’’اوریشنک ‘‘ بیلسٹک میزائل سمیت مختلف جدید ہتھیار استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

    صدر زیلنسکی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ یہ معلومات یوکرین، امریکا اور یورپی ممالک کی انٹیلیجنس رپورٹس کی بنیاد پر سامنے آئی ہیں روس مشترکہ نوعیت کے حملوں کی منصوبہ بندی کر رہا ہے، جن میں درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے میزائل بھی شامل ہو سکتے ہیں۔

    زیلنسکی نے کہا کہ روس کی جانب سے ایسے ہتھیاروں کا استعمال نہ صرف جنگ کو طول دے رہا ہے بلکہ دنیا بھر میں ممکنہ جارح ممالک کے لیے خطرنا ک مثال بھی قائم کر رہا ہے انہوں نے امریکا اور یورپی اتحادیوں سے مطالبہ کیا کہ وہ بعد از وقوع ردعمل کے بجائے پیشگی اقدامات کریں تاکہ روس کو مزید کشیدگی بڑھانے سے روکا جا سکے۔

    یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایک روز قبل روسی صدر ولادیمیرپیوٹن نے مشرقی یوکرین کے روس کے زیر قبضہ علاقے لوہانسک میں طلبہ کے ہاسٹل پر ڈرون حملے کے بعد جوابی کارروائی کے آپشنز تیار کرنے کا حکم دیا تھا تاہم یوکرینی فوج نے اس حملے میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔

    روس اس سے قبل بھی دو مرتبہ “اوریشنک” ہائپرسونک میزائل استعمال کر چکا ہے روسی صدر پیوٹن اس میزائل کو ناقابلِ روک قرار دے چکے ہیں، کیونکہ اس کی رفتار آواز کی رفتار سے تقریباً دس گنا زیادہ بتائی جاتی ہے روس نے پہلی بار نومبر 2024 میں یوکرین کی ایک فوجی فیکٹری کو نشانہ بنانے کے لیے ’’اوریشنک‘‘ میزائل داغا تھا اس وقت یوکرینی ذرائع نے دعویٰ کیا تھا کہ میزائل میں اصلی دھماکا خیز مواد کے بجائے ڈمی وار ہیڈز نصب تھے، جس کے باعث نقصان محدود رہا،جبکہ دوسرا حملہ جنوری 2026 میں مغربی یوکرین کے علاقے لیف میں کیا گیا تھا۔

    واضح رہے کہ رواں سال جنوری میں فرانس، برطانیہ اور جرمنی کے رہنماؤں نے مغربی یوکرین میں ’’اوریشنک‘‘ میزائل کے استعمال کو ’’اشتعال انگیز اور ناقابل قبول‘‘ قرار دیا تھا۔

  • چین اور روس کے دومیان 20 معاہدوں پر دستخط

    چین اور روس کے دومیان 20 معاہدوں پر دستخط

    چین اور روس نے اپنے دوطرفہ تعلقات کو مزید وسعت دیتے ہوئے تجارت، ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور توانائی سمیت مختلف شعبوں میں متعدد اہم معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔

    روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان ہونے والی اہم ملاقاتوں کے بعد دونوں ممالک نے تقریباً 40 معاہدوں پر اتفاق کیا ہے، جن میں توانائی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون شامل ہے-

    چینی صدر شی جن پنگ نے دونوں ممالک کے تعلقات کو ’جامع اسٹریٹجک شراکت داری کی بلند ترین سطح‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بیجنگ اور ماسکو ایک دوسرے کے لیے مضبوط اسٹریٹجک سہارا بنے رہیں گے، جبکہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے چین کو بلا تعطل تیل اور گیس فراہمی جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے چین اور روس نے اپنے اسٹریٹجک تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے 20 سے زائد معاہدوں پر دستخط کیے ہیں، جن میں تجارت، ٹیکنالوجی، سائنسی تحقیق اور توانائی کے شعبے شامل ہیں۔

    تقریب سے قبل دونوں رہنماؤں نے ملاقات کے آغاز میں مصافحہ کیا، دستاویزات کا تبادلہ کیا اور تصاویر بنوائیں، جس کے بعد دستخطی تقریب منعقد ہوئی۔ سب سے پہلے جس دستاویز پر دستخط کیے گئےوہ “جامع اسٹریٹجک رابطہ کاری” سے متعلق مشترکہ اعلامیہ تھا،، جس میں دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک تعاون کو مزید وسعت دینے اور ہمسایہ و دوستانہ تعلقات کو گہرا کرنے کے عزم کا اظہار کیا گیا،اس کے بعد دونوں ممالک کے حکام نے تجارت، ٹیکنالوجی، دانشورانہ املاک اور سائنسی تحقیق سمیت مختلف شعبوں میں کئی دیگر معاہدوں پر بھی دستخط کیے۔

    روسی صدارتی دفتر کریملن کے مطابق روس اور چین کے درمیان طے پانے والے تقریباً 40 معاہدوں میں سے 20 دستاویزات پر صدر ولادیمیر پیوٹن اور صدر شی جن پنگ کی موجودگی میں دستخط کیے گئے، جبکہ مزید 20 معاہدوں کا الگ سے اعلان کیا جائے گا۔

    کریملن نے تصدیق کی ہے کہ ملاقات میں توانائی کے منصوبے بھی زیر بحث آئے اور دونوں رہنماؤں کے درمیان توانائی کے شعبے میں ایک “اہم معاہدہ” طے پایا ہے، تاہم اس کی تفصیلات فوری طور پر جاری نہیں کی گئیں۔

    مبصرین کے مطابق ٹرمپ کے حالیہ دورۂ بیجنگ کے بعد پیوٹن اور شی جن پنگ کی ملاقات کو عالمی سطح پر خاص توجہ سے دیکھا جا رہا ہے اور دونوں دوروں کے انداز اور نتائج کا تقابل بھی کیا جا رہا ہے۔

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شی جن پنگ نے کہا کہ چین اور روس کے تعلقات مسلسل ترقی کر رہے ہیں اور اب یہ ’جامع اسٹریٹجک شراکت داری کی بلند ترین سطح‘ تک پہنچ چکے ہیں، دونوں ممالک نے ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ برابری اور باہمی احترام کا رویہ اختیار کیا، جس کے باعث دوطرفہ تعلقات ایک ’نئے آغاز‘ میں داخل ہو گئے ہیں، بیجنگ اور ماسکو ایک دوسرے کے لیے مضبوط اسٹریٹجک ستون بنے رہیں گے اور ہر سطح پر رابطوں اور تبادلوں کو مزید فروغ دیا جائے گا۔

    شی جن پنگ نے اس موقع پر مصنوعی ذہانت اور ٹیکنالوجی کے میدان میں تعاون بڑھانے کا بھی اعلان کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ چین اور روس کو ’ذمہ دار عالمی طاقتوں‘ کے طور پر بین الاقوامی انصاف کے تحفظ اور یکطرفہ دباؤ یا ’تاریخ کو الٹنے والے اقدامات‘ کے خلاف مشترکہ کردار ادا کرنا چاہیے۔

    روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ روس چین کو توانائی کی فراہمی جاری رکھنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہےدونوں ممالک کے درمیان تجارت عالمی منڈی کے منفی رجحانات اور بیرونی دباؤ سے محفوظ ہے، جبکہ روس چین کو تیل اور گیس کی بلا تعطل فراہمی جاری رکھے گا۔