Baaghi TV

Tag: روس

  • یورپ دوہری مصیبت میں پھنس گیا:شدید سردی میں روس نےگیس سپلائی بھی کم کردی

    یورپ دوہری مصیبت میں پھنس گیا:شدید سردی میں روس نےگیس سپلائی بھی کم کردی

    ماسکو:روس کی گیس پروم کمپنی کے منیجنگ ڈائریکٹر نے اعلان کیا ہے کہ دو ہزار بائیس میں یورپ کے لئے روسی گیس کی سپلائی میں ریکارڈ توڑ کمی واقع ہوئی ہے۔

    روس کی گیس پروم کمپنی کے منیجنگ ڈائریکٹر الیکسی میلر کے اعلان کے مطابق روان ماہ دسمبر کے اختتام تک یورپ کے لئے روس کی گیس کی برآمدات، کم ہو کر سو ارب نو سو ملین میٹر مکعب تک پہنچ جائے گی۔

    کراچی:دوران ڈکیتی مزاحمت پرڈاکوؤں کی فائرنگ سےخاتون زخمی

    انھوں نے کہا کہ گیس پروم کمپنی کی قدرتی گیس کی پیداوار دو ہزار اکیس میں پانچ سو چودہ ارب آٹھ سو ملین میٹر مکعب سے کم ہو کر دو ہزار بائیس میں چار سو بارہ ارب چھے سو ملین میٹر مکعب تک ہوگئی ہے۔

    روس نے اس کمی کا ازالہ کرنے کے لئے اپنی گیس کی قیمت میں اضافہ کر دیا ہے جیسا کہ رواں سال کے دس ماہ میں روس کے تیل اور گیس کی فروخت میں تیس فیصد سے زائد کا اضافہ ہوا ہے۔روس کی جانب سے گیس کی سپلائی میں کمی لانے کا اقدام بعض ممالک کی جانب سے روسی کرنسی میں قیمت ادا کئے جانے سے گریز کی بنا پر کیا گیا ہے۔

    2011 کے بعد پہلی مرتبہ شام، ترکی اور روس کے وزرائے دفاع کی پہلی ملاقات،مذاکرات

    روسی صدر ولادیمیر پوتین نے مارچ میں مغرب کی عائد کردہ پابندیوں کے مقابلے میں اپنی برآمد کردہ گیس کی قیمت روسی کرنسی میں وصول کئے جانے کی ہدایات جاری کی تھیں۔

  • یورپ اور مغرب ایک بات ذہن نشین کرلیں کہ جوہری جنگ سب کو تباہ کرکے رکھ دے گی:روس

    یورپ اور مغرب ایک بات ذہن نشین کرلیں کہ جوہری جنگ سب کو تباہ کرکے رکھ دے گی:روس

    ماسکو:یورپ اور مغرب دنیا کو عالمی جنگ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے تاس خبر رساں ایجنسی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یورپ کو حساس جوہری مسئلہ پر دانشمندی اور صبر و تحمل سے کام لینے کا مشورہ دیا ہے۔روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے تاس خبر رساں ایجنسی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یورپ کو حساس جوہری مسئلہ پر صبر و تحمل سے کام لینے کا مشورہ دیا ہے۔

    روسی رکن پارلیمنٹ اور صدر پیوٹن کے نقاد کی بھارت میں پراسرار ہلاکت

     

    سرگئی لاوروف نے کہا کہ یورپ کو جوہری جنگ کے غیر قابل قبول ہونے پر مبنی اپنے وعدے کا لحاظ کرنا ہو گا اس لئے کہ جوہری ہتھیار رکھنے والے 5 بڑے ممالک نے 3 جنوری 2022 کو اپنے مشترکہ بیان میں ہر قسم کی جوہری جنگ سے اجتناب کرنے پر تاکید کی تھی۔

    روس کے غنائی شاعر سرگیئی الیکساندرووچ یسینن کا یوم وفات

    روسی وزیر خارجہ سر گئی لاوروف نے اپنے حالیہ بیان میں یوکرین کو الٹی میٹم دیا ہے کہ وہ روس کے مطالبات پورے کرے ورنہ روسی فوج ہی اس معاملے کا فیصلہ کرے گی۔سرگئی لاوروف نے کہا کہ یوکرین حکومت کے زیر کنٹرول علاقوں کو فوج سے آزاد کرنے، وہاں سے روس کی سلامتی کو درپیش خطرات کے خاتمے کی ہماری تجاویز کا دشمن کو اچھی طرح علم ہے۔

    روس نے مذاکرات کی یوکرین کی شرائط مسترد کردیں

    انہوں نے مزید کہا کہ نکتہ سادہ سا ہے اور وہ یہ کہ یوکرین ان مطالبات کو اپنی بھلائی کے لیے پورا کرے، ورنہ اس معاملے کا فیصلہ روسی فوج کرے گی۔رپورٹس کے مطابق روس کا ایک مطالبہ یہ بھی ہے کہ یوکرین اُس کے زیر قبضہ علاقے میں ہتھیار ڈال دے اور کی ایف ملک کے پانچویں حصے پر اِس کی فتح کو تسلیم کرے۔

  • کریملن کو’بڑا دھچکا دینےوالےوار‘کی ہدایت اصل میں امریکا کی روسی صدرپیوٹن کو قتل کرنےکی کوشش ہے،روسی وزیرکارجہ

    کریملن کو’بڑا دھچکا دینےوالےوار‘کی ہدایت اصل میں امریکا کی روسی صدرپیوٹن کو قتل کرنےکی کوشش ہے،روسی وزیرکارجہ

    روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے منگل کے روز کہا ہے کہ پینٹاگون کی طرف سے امریکی حکام کے کریملن کو ’’بڑا دھچکا دینے والے وار‘‘ کی ہدایت اصل میں روسی صدرپیوٹن کو قتل کرنے کی کوشش ہے۔

    باغی ٹی وی : روسی خبر رساں ایجنسی "ٹی اے ایس ایس ” کی رپورٹ کے مطابق لاوروف نے کہا ہے کہ واشنگٹن باقی سب سے آگے نکل گیا ہےپینٹاگون کے کچھ اہلکاروں نےکریملن کے سربراہ پرحملہ کرنےکی جو دھمکی دی تھی درحقیقت یہ دھمکی روسی ریاست کے سربراہ کو جسمانی طور پر ختم کرنے کی تھی۔

    یوکرین نے روس کو فروری میں مشروط امن مذاکرات کی پیشکش کر دی

    لاوروف نے خبردار کیا کہ اگر کوئی ایسے خیالات کی سرپرستی کرتا ہے تو اس طرح کے منصوبوں کے ممکنہ نتائج کے بارے میں احتیاط سے سوچنا چاہیے۔

    لاوروف نے مغربی حکام کو ان کے اقدامات اور جوہری تصادم کے حوالے سے ان کے بیانات بھی یاد دلائے لاروف نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ انہوں نے حکمت عملی کو مکمل طور پر ترک کر دیا ہے۔

    یاد رہے کہ سابق برطانوی وزیر اعظم لِز ٹیرس نے ایک الیکشن مباحثہ کے دوران اعلان کیا تھا کہ وہ ایٹمی حملے کا حکم جاری کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔

    ایلون مسک امریکا کے صدر بنیں گے، روس کی قومی سلامتی کے نائب سربراہ کی نئے سال کے…

    روسی وزیر خارجہ نے یوکرین میں حکومت کی طرف سے کی جانے والی اشتعال انگیزیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کیف حکومت کی غیر منطقی اشتعال انگیزیوں کو بھی یاد رکھا جائے کہ صدر زیلنسکی نے نیٹو ممالک سے روس پر قبل از وقت جوہری حملے شروع کرنے کے لئے کہا ہے یہ قابل قبول حد سے باہر ہے۔

    یاد رہے روسی صدر پیوٹن نے 24 فروری کو یوکرین میں فوجی آپریشن کا آغاز کیا، جس کا مقصد یوکرین میں "نازی ازم” کو ختم کرنا اور اسے غیر مسلح کرنا تھا۔ روس کا کہنا تھا کہ یہ روس کیلئے خطرہ ہے۔ کیف اور اس کے مغربی اتحادیوں کا کہنا ہے کہ روسی حملہ ایک نوآبادیاتی زمین پر قبضہ ہے۔

    لاوروف نے اس بات کا اعادہ کیا کہ روس اور امریکہ کے درمیان معمول کے تعلقات نہیں ہو سکتے انہوں نے کہا کہ معروضی زاویے سے بائیڈن انتظامیہ کے ساتھ معمول کے روابط قائم کرنا ممکن نہیں کیونکہ بائیڈن انتظامیہ یہ اعلان کرتی ہے کہ اس کا ایک مقصد ہمارے ملک کو اسٹریٹجک شکست دینا ہے۔

    نیٹوکےارادے بتا رہےہیں کہ روس کےخلاف بڑی جنگ لڑی جانےوالی ہے:روس

  • نیٹوکےارادے بتا رہےہیں کہ روس کےخلاف بڑی جنگ لڑی جانےوالی ہے:روس

    نیٹوکےارادے بتا رہےہیں کہ روس کےخلاف بڑی جنگ لڑی جانےوالی ہے:روس

    ماسکو:نیٹوکےارادے بتا رہےہیں کہ روس کےخلاف بڑی جنگ لڑی جانےوالی ہے:اس حوالے سے روسی نیشنل سیکیورٹی کے نائب سربراہ نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی سیاسی شکست کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ماسکو ایٹمی تباہی اور تیسری عالمی جنگ سے دنیا کو بچانے کے لئے ہر کام کرے گا۔روسی نیشنل سیکیورٹی کے نائب سربراہ دیمیتری مدودف نے اخبار روسیسکا گازتا میں لکھتے ہوئے کہا ہے کہ مغرب کی نیٹو کے پھیلاؤ کی تیاری کا معنیٰ ماسکو کے ساتھ جنگ کی تیاری ہے۔

    یوکرین نے روس کو فروری میں مشروط امن مذاکرات کی پیشکش کر دی

    مدودف نے اپنے مقالے میں لکھا کہ ابھی واضح ہو گیا ہے کہ موجودہ صورتحال میں اینگلوساکسن ممالک کے ساتھ دنیا کے آزاد ممالک کے تعلقات میں اعتماد، شراکت داری، شائستگی کی امید اور خود انہی کی زبان اور اصولوں کے لحاظ سے بات کرنا اب بے معنی باتیں ہیں اور اس موضوع پر تو اب بات نہیں ہوسکتی، اب روس کے پاس ایسا کوئی عنوان اور موضوع نہیں کہ جس کی وجہ سے وہ مغربی ممالک سے مذاکرات کرنا چاہے اور اس کی کوئی دلیل بھی موجودنہیں ہے۔

    مدودف نے مزید لکھا کہ آج روس اور مغربی ممالک کے درمیان اتحاد کے بجائے دوری ہے۔ گزشتہ سال اس حوالے سے بہت اہم تھا اور اس میں جو واقعات ہوئے، ان کی وجہ سے باہمی اعتماد اور احترام کی گفتگو اور مذاکرات کا موقع ختم ہو گیا ہے، مغربی ممالک کے سابقہ اور موجودہ سربراہوں کے کردار اور اعمال سے ان کی مایوسی دیکھنے والی ہے، وہ ایک خونی جنگ کی شروعات کی تیاری کر چکے تھے۔

    سیاحت کی ترقی کیلئے سعودی عرب کے 10 نئے ضوابط جاری

    سابق روسی صدر نے روس اور مغربی ممالک کے درمیان اعتماد کی کم ترین سطح کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مغربی ممالک پر اعتماد کا بحران اب آشکار ہو گیا ہے جو روسی اپنے ممالک میں روسی املاک پر قبضہ کر رہے ہیں اور اس پر نئی پابندیاں لگا رہے ہیں، شاید آنے والی کئی دہائیوں تک ہم مغربی ممالک کے ساتھ معمول کے مطابق تعلقات کی بحالی کو فراموش کردیں اور یہ ہمارا انتخاب نہیں ہے۔

    انہوں نے مزید لکھا کہ مغربی ممالک کا ایک قطبی دنیا کا خواب پورا نہیں ہو سکا جس میں ایک شخص حکومت اور اپنی ارادہ دوسروں پر تھونپ سکتا ہے۔ جدید حالات میں اب مغرب کے پاس کوئی نیا آئیڈیا بھی نہیں ہے جو وہ دنیا کے سامنے پیش کرکے انسانیت کو ترقی کی راہ پر گامزن کرسکے اور اس طریقے سے دنیا کی مشکلات اور اجتماعی امن و امان کے مسئلے کو حل کر سکے۔

    شہباز شریف کا عمران خان کیخلاف 10 ارب ہرجانے کا دعوی،سماعت ملتوی

    سابق روسی صدر نے کہا کہ روس دنیا کو ایٹمی تباہی اور تیسری عالمی جنگ سے بچانے کے لئے ہر کام کرے گا، اگر ہمیں روس کے امن و امان کی ضمانت نہ ملی تو کشیدگی غیرمعینہ مدت کے لئے جاری رہے گی اور دنیا تیسری عالمی جنگ اور ایٹمی تباہی کی جانب بڑھتی چلی جائے گی۔اس سے پہلے روسی وزیر خارجہ نے کرنسی لین دین میں ڈالر کے خاتمے کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ جلد ہی مغربی ممالک اپنی اقتصاد کو کنٹرول کرنے اور اس میدان میں دنیا کی رہبری کرنے کے قابل نہیں رہیں گے۔

  • یوکرین نے روس کو فروری میں مشروط امن مذاکرات کی پیشکش کر دی

    یوکرین نے روس کو فروری میں مشروط امن مذاکرات کی پیشکش کر دی

    یوکرین نے روس کو فروری میں مشروط امن مذاکرات کی پیشکش کر دی ۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یوکرینی وزیرخارجہ کا کہنا ہے کہ امن مذاکرات کیلئے اقوام متحدہ میں سربراہی اجلاس بلایا جائےجبکہ سیکرٹری جنرل انتونیوگوتریس ثالث بن سکتے ہیں۔

    یوکرین کا مطالبہ ہے کہ مذاکرات سے پہلے روس عالمی عدالت انصاف میں جنگی جرائم کا سامنا کرے۔

    دوسری جانب روسی وزیر خا رجہ نے کہا ہے کہ یوکرین اور روس میں شامل 4 نئے علاقے غیر فوجی ہوں اور نازیوں سے پاک کیا جائے اور روس کی سلامتی کو لاحق خطرات ختم کیے جائیں۔

    غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے روس یوکرین جنگ میں ثالث بننے پر آمادگی کا اظہار کیا ہے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کہہ چکے ہیں کہ یوکرین تنازع پر روس تمام فریقین سے بات چیت کے لیے تیار ہے، روس نے کبھی امن مذاکرات سے انکار نہیں کیا، یوکرین اور مغربی ممالک ہی بات چیت سے پیچھے ہٹتے رہے ہیں۔

    صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا تھا کہ یوکرین کے معاملے پر تمام فریقوں کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہیں لیکن مغربی ممالک مذاکرات سے انکار کررہے ہیں ولادیمیر پیوٹن نے یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی کو تنقید کا نشان بناتے ہوئے کہا تھا کہ زیلنسکی بھی اپنے مغربی اتحادی ممالک کی طرح مذاکرات کے لیے تیار نہیں۔

    صدر پیوٹن نے مزید کہا تھا کہ روس یوکرین جنگ میں شامل تمام فریقوں کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہے لیکن ہمیں مثبت ردعمل دیکھنے کو نہیں ملا اس کے باوجود ہم جنگ کے خاتمے کے قابل قبول حل کے لیے تیار ہیں۔

    امریکا کی جانب سے یوکرین کو جدید فضائی سسٹم پیٹریاٹ کی فراہمی کے فیصلے پر کڑی تنقید کرتے ہوئے روسی صدر نے کہا تھا کہ مجھے 100 فیصد یقین ہے کہ روسی افواج پینٹاگون کے جدید ترین فضائی دفاعی نظام کو تباہ کر دیں گی۔

  • ایلون مسک امریکا کے صدر بنیں گے، روس کی قومی سلامتی کے نائب سربراہ کی نئے سال کے حوالے سے پیشگوئیاں

    ایلون مسک امریکا کے صدر بنیں گے، روس کی قومی سلامتی کے نائب سربراہ کی نئے سال کے حوالے سے پیشگوئیاں

    پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما منظور وسان کی طرح روس کی قومی سلامتی کے نائب سربراہ کو خواب آنے لگے۔

    باغی ٹی وی : روس کی قومی سلامتی کونسل کے نائب سربراہ دیمتری میدودیف نے سوشل میڈیا پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ سال نو پر ہر شخص مفروضے پیش کرتا ہے،کیوں نہ میں بھی ان میں شامل ہوجاؤں۔


    دیمتری میدودیف کی جانب سے 10 پیشگوئیاں کی گئیں ہیں۔


    روس کی قومی سلامتی کونسل کے نائب سربراہ کا کہنا ہے کہ اگلے برس پیٹرول کی قیمتیں 150 ڈالر فی بیرل تک بڑھ جائیں گی اور گیس کی قیمت 5 ہزارڈالر فی ایک ہزار کیوبک میٹر ہو جائے گی۔


    دیمتری میدودیف کے مطابق برطانیہ ایک بار پھر یورپی یونین کا حصہ بن جائےگا برطانیہ کی واپسی کے بعد یورپی یونین ٹوٹ جائے گی۔ یورو سابق EU کرنسی کے طور پر استعمال سے باہر ہو جائے گا۔


    اس کے علاوہ یوکرین کے مغربی علاقوں پر پولینڈ،ہنگری قابض ہو جائیں گے جبکہ جرمنی پر دائیں بازو کے انتہا پسند حکمرانی حاصل کر لیں گے یعنی پولینڈ، بالٹک ریاستیں، چیکیا، سلوواکیہ، جمہوریہ کیف وغیرہ-

    فرانس اور جرمنی کے درمیان جنگ چھڑ جائے گی۔ یورپ تقسیم ہو جائے گا، پولینڈ اس عمل میں تقسیم ہو جائے گا، شمالی آئرلینڈ برطانیہ سے الگ ہو کر جمہوریہ آئرلینڈ میں شامل ہو جائے گا۔


    امریکہ، کیلیفورنیا میں خانہ جنگی چھڑ جائے گی۔ اور اس کے نتیجے میں ٹیکساس آزاد ریاست بن رہا ہے۔ ٹیکساس اور میکسیکو ایک اتحادی ریاست بنائیں گے۔ ایلون مسک کئی ریاستوں میں صدارتی انتخاب جیتیں گے جو کہ نئی خانہ جنگی کے خاتمے کے بعد جی او پی کو دے دی جائیں گی۔


    تمام بڑی اسٹاک مارکیٹیں اور مالیاتی سرگرمیاں امریکہ اور یورپ کو چھوڑ کر ایشیا میں چلی جائیں گی بریٹن ووڈزکامانیٹری مینجمنٹ سسٹم منہدم ہو جائے گا، جس سے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کریش ہو جائیں گے۔ یورو اور ڈالر عالمی ریزرو کرنسیوں کے طور پر گردش کرنا بند کر دیں گے۔ اس کی بجائے ڈیجیٹل فیاٹ کرنسیوں کو فعال طور پر استعمال کیا جائے گا۔


    ان کے مطابق امریکی ریاستیں کیلیفورنیا اور ٹیکساس آزاد ممالک بن جائیں گی جبکہ ایلون مسک امریکا کے صدر بننے میں کامیاب ہو جائیں گے اور یورو اور ڈالر کو عالمی سطح پر مسترد کر دیا جائے گا۔


    دمیتری کی پیشگوئیوں پر ایلون مسک نے حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب ایک سال میں ہوگا-

  • روس  ایران کو 24 جنگی طیارے فراہم کرنے کی تیاری کر رہا ہے،مغربی انٹیلی جنس

    روس ایران کو 24 جنگی طیارے فراہم کرنے کی تیاری کر رہا ہے،مغربی انٹیلی جنس

    مغربی انٹیلی جنس حکام کے حوالے سے اسرائیلی میڈیا کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ روس مستقبل قریب میں ایران کو سخوئی ایس یو 35 لڑاکا طیارے فراہم کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔

    باغی ٹی وی : ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق اسرائیلی چینل 12 کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس معاہدے میں 24 طیارے شامل ہو سکتے ہیں جو اصل میں مصر کے لیے تھے۔ تاہم اس معاہدے کو امریکہ نے ناکام بنا دیا تھا۔

    رپورٹ کے مطابق مصر کے ساتھ معاہدے کی ناکامی کے بعد ماسکو نے ایک نئے ممکنہ خریدار کی تلاش کی اور اب اسے ان طیاروں کیلئے تہران مل گیا ہے۔

    یہ رپورٹ ستمبر میں ایرانی میڈیا کی اس رپورٹ کے بعد سامنے آئی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ تہران ایسی خریداری پر غور کر رہا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ انٹیلی جنس معلومات نے تفصیلات میں جائے بغیر بتایا گیا کہ ظاہر ہوتا ہے کہ ایرانی پائلٹ طیارے کو تربیت کے لیے استعمال کر تے رہے ہیں۔

    یوکرین سے روس کی ک جنگ :مغربی ممالک نے مذاکرات کی روسی پیشکش ٹھکرا دی

    فروری میں روسی افواج کے یوکرین پر حملے کے بعد واشنگٹن نے ایران اور روس کے درمیان وسیع تعلقات کے بارے میں خبردار کیا تھا جس میں نجی فوجی ساز و سامان کے تبادلے کی بات بھی کی گئی تھی۔جوہری پروگرام کے باعث ایران اور یوکرین پر جنگ مسلط کرنے کی وجہ سے روس سخت پابندیوں کا شکار ہے۔

    ہفتے کے روز یوکرین کے ایک سینئر اہلکار نے روس کے لیے ہتھیار تیار کرنے والی ایرانی فیکٹریوں کی لیکویڈیشن اور سپلائی کرنے والوں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا تھا۔

    رپورٹس بتاتی ہیں کہ تہران اب تک روسی افواج کو تقریباً 17 سو ڈرون فراہم کر چکا ہے اور مستقبل قریب میں مزید 300 ڈرون دینے کا خواہاں ہے۔

    یوکرین جنگ پرمذاکرات چاہتے ہیں، لیکن مغربی ممالک انکار کر رہے ہیں،روسی صدر

  • پاکستان اور افغانستان کو طویل مدت کے لیے قدرتی گیس فراہم کی جا سکتی ہے،روسی نائب وزیراعظم

    پاکستان اور افغانستان کو طویل مدت کے لیے قدرتی گیس فراہم کی جا سکتی ہے،روسی نائب وزیراعظم

    ماسکو: روسی نائب وزیراعظم الیگزینڈر نوواک نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کو طویل مدت کے لیے قدرتی گیس فراہم کی جا سکتی ہے۔

    باغی ٹی وی: روس کی سرکاری خبر رساں ایجنسی تاس کو دیئے گئے انٹرویو میں روسی نائب وزیراعظم نے کہا کہ مغرب کو یامل- یورپ گیس پائپ لائن کے ذریعے گیس فراہم کرنے لیے تیار ہیں جبکہ پاکستان اور افغانستان کو بھی طویل مدت کے لیے گیس فراہم کی جا سکتی ہے۔

    جنوبی کوریا کا شہری پیرا گلائیڈنگ کےدوران 50 فٹ کی بلندی سےگرکرہلاک

    نائب وزیراعظم کی جانب سے یہ بات ایک ایسے وقت میں کہی گئی ہے کہ جب پاکستان کو گیس کی شدید قلت کا سامنا ہے اور ملک میں توانائی کا بحران محسوس کیا جا رہا ہے۔

    الیگزینڈر نوواک نے کہا کہ گیس کی قلت کے باعث یورپی مارکیٹ بہت اہم ہے اور ہمارے پاس گیس کی دوبارہ سپلائی کا بھرپور موقع ہے، گیس کی فراہمی کی مثال یامل –یورپ پائپ لائن ہے جو سیاسی اسباب کے باعث بند کئی گئی تھی۔

    روس کے نائب وزیراعظم نے کہا کہ ترکیہ میں مرکز بنانے کے بعد اس کے ذریعے اضافی گیس فراہم کرنے کے لیے بھی روس کی بات چیت جاری ہے، توقع ہے 2022 میں یورپ کو 21 ارب کیوبک میٹر ایل این جی گیس فراہم کی گئی ہو گی۔

    انہوں نے کہا کہ رواں سال ہم نے یورپ کو گیس کی سپلائی بڑھائی ہے، گزشتہ گیارہ ماہ میں 19 ارب 4 کروڑ کیوبک میٹر گیس سپلائی کی گئی جو اس ماہ کے اختتام پر 21 ارب کیوبک میٹر تک پہنچ جائے گی۔

    نائب وزیراعظم الیگزینڈر نوواک نے کہا کہ روس طویل مدت کے لیے افغانستان اور پاکستان کی مارکیٹس کو بھی وسطی ایشیا اور یا پھر ایران کے ذریعے قدرتی گیس فراہم کر سکتا ہے، گھریلو استعمال کے لیے گیس کے استعمال کو بڑھانے کے لیے روس اور آذربائیجان کے درمیان بھی معاہدہ طے پایا گیا ہے۔

    یوکرین جنگ پرمذاکرات چاہتے ہیں، لیکن مغربی ممالک انکار کر رہے ہیں،روسی صدر

    انہوں نے کہا کہ مستقبل میں جب آذربائیجان گیس کی پیداوار میں اضافہ کرے گا تو ہم تبادلے پر بات کر سکیں گے، ماسکو کی جانب سے کازکستان اور ازبکستان کو بھی بڑی مقدار میں گیس سپلائی کرنے کے لیے بات چیت ہو رہی ہے۔

    خیال رہے کہ یامال۔یورپ پائپ لائن مغرب سے جاتی ہے لیکن پولینڈ کی طرف سے جرمنی میں ذخیرہ شدہ گیس پر ڈرائنگ کے حق میں روس سے گیس کی خریداری سے منہ موڑنے کے باعث دسمبر 2021 کے بعد سے اس گیس پائپ لائن کے ذریعے سپلائی منقطع ہے۔

    روسی گیس سپلائر کمپنی گیز پروم نے سپلائی منقطع کرتے ہوئے کہا تھا کہ ماسکو کی جانب سے یامل۔یورپ پائپ لائن کے پولش سیکشن کے خلاف پابندیاں عائد کرنے کے بعد وہ پولینڈ کے راستے سے گیس سپلائی نہیں کر سکتے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ دنوں پاکستان کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے وفاقی وزیر مملکت سینیٹر ڈاکٹر مصدق ملک کی سربراہی میں ماسکو کا دورہ کیا تھا جس کے دوران روس سے پیٹرول خریدنے کے حوالے سے گفت و شنید ہوئی تھی وفاقی وزیر مملکت برائے پیٹرولیم نے اپنے دورہ روس کو کامیاب قرار دیا تھا جبکہ اس سے قبل پاکستان نے روس سے گندم خریدنے کی بھی منظوری دی تھی۔

    خواتین کے فلاحی تنظیموں میں کام کرنے پر پابندی افغان عوام کیلئے تباہ کن ہو سکتا…

  • یوکرین جنگ پرمذاکرات چاہتے ہیں، لیکن مغربی ممالک انکار کر رہے ہیں،روسی صدر

    یوکرین جنگ پرمذاکرات چاہتے ہیں، لیکن مغربی ممالک انکار کر رہے ہیں،روسی صدر

    ماسکو: روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا ہے کہ یوکرین کے معاملے پر تمام فریقوں کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہیں لیکن مغربی ممالک مذاکرات سے انکار کررہے ہیں۔

    باغی ٹی وی : عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی کو تنقید کا نشان بناتے ہوئے کہا کہ زیلنسکی بھی اپنے مغربی اتحادی ممالک کی طرح مذاکرات کے لیے تیار نہیں۔

    روس کے تازہ حملے میں یوکرین کو بڑے پیمانے پرجانی ومالی نقصان

    صدر پیوٹن نے مزید کہا کہ روس یوکرین جنگ میں شامل تمام فریقوں کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہے لیکن ہمیں مثبت ردعمل دیکھنے کو نہیں ملا اس کے باوجود ہم جنگ کے خاتمے کے قابل قبول حل کے لیے تیار ہیں۔

    امریکا کی جانب سے یوکرین کو جدید فضائی سسٹم پیٹریاٹ کی فراہمی کے فیصلے پر کڑی تنقید کرتے ہوئے روسی صدر نے کہا کہ مجھے 100 فیصد یقین ہے کہ روسی افواج پینٹاگون کے جدید ترین فضائی دفاعی نظام کو تباہ کر دیں گی۔

    صدر پیوٹن نے الزام عائد کیا کہ امریکا کی سربراہی میں مغربی ممالک روس کو دنیا میں تنہا کرنا چاہتے ہیں اپنے ملک اور شہریوں کے مفادات کے دفاع کے لیے ہماری سمت درست ہے۔

    یوکرینی صدر کا کامیاب دورہ امریکہ:مزید 45 ارب ڈالر اور میزائل ملیں گے

    دوسری جانب یوکرین کے شہرکھیرسن پرہفتے کے روز روسی فوج کےحملےمیں کم سے کم 10 افراد ہلاک اور58 زخمی ہوگئے ہیں حملے کے بعد شاہراہوں پر خون آلود لاشیں بکھری پڑی تھیں۔

    یوکرینی صدر ولودی میرزیلنسکی نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پرایسی تصاویر شائع کی ہیں جن میں سڑکوں پر جلتی ہوئی کاروں اورکھڑکیوں اورلاشوں کونکالتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

    انہوں نے ساتھ لکھا ہے کہ سوشل نیٹ ورکس زیادہ ترممکنہ طورپران تصاویر کو ‘حساس مواد’ کے طور پر نشان زد کریں گے لیکن یہ حساس مواد نہیں بلکہ یہ یوکرین اور یوکرینیوں کی حقیقی زندگی ہے یہ فوجی تنصیبات نہیں ہیں … یہ دہشت گردی ہے، یہ ڈرانے دھمکانے اور خوشی کی خاطر قتل ہے-

    روس: اولڈ ہوم میں لگنے والی خوفناک آگ میں 20 معمر افراد ہلاک

    علاقائی کونسل کے نائب سربراہ یوری سوبولوسکی نے کہا کہ ایک میزائل شہر کے فریڈم اسکوائر کے قریب ایک سپرمارکیٹ کے باہرگرا ہے۔

    ماسکو کی جانب سے اس حملے سے متعلق کوئی بیان سامنے نہیں آیا جہاں صدرولادی میرپوتین کا کہنا تھا کہ ان کی فوجیں یوکرین میں فاشزم کے خلاف لڑرہی ہیں اور روس کی سلامتی کے لیے مغربی خطرے کے خلاف مزاحمت کررہی ہیں۔

    یاد رہے کہ روس نے رواں برس 24 فروری کو یوکرین پر فوج کشی کی تھی جس کے لیے امریکا سمیت عالمی قوتوں روس کو خبردار کرتی آئی تھیں تاہم روسی صدر ان دھمکیوں کو خاطر میں نہ لائے تھے۔

    یوکرین پر حملے کے بعد روس نے اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ اپنے مقاصد کے حصول تک لڑیں گے جس پر یوکرین نے کہا تھا کہ اس وقت تک آرام سے نہیں بیٹھیں گے جب تک کہ آخری روسی فوجی کو اپنے علاقوں سے نہیں نکال لیتے۔

    امریکا میں موسم سرما کا بڑا طوفان، 10 لاکھ سے زیادہ افراد بجلی سے محروم،سینکڑوں…

  • روس کے تازہ حملے میں یوکرین کو بڑے پیمانے پرجانی ومالی نقصان

    روس کے تازہ حملے میں یوکرین کو بڑے پیمانے پرجانی ومالی نقصان

    ماسکو:روس کی وزارت دفاع نے اعلان کیا ہے کہ گذشتہ چند گھنٹے کے دوران یوکرینی افواج کو بھاری نقصان پہنچایا گیا ہے ۔ روس کی وزارت دفاع کے ترجمان ایگور کوناشنکوف نے کہا ہے کہ اس دوران کوبیانسک پر روس کے فوجیوں کے حملے میں یوکرین کے تیس فوجی ہلاک اور چار بکتر بند گاڑیوں اور دو ٹینکوں کو تباہ کردیا گیا۔

    اس بات میں کوئی شک نہیں کہ امریکہ یوکرین روس جنگ میں‌ اب براہ راست شریک ہوچکا:روس

    رپورٹ کے مطابق، کراسنی لیمان مورچے پر مزید چالیس یوکرینی فوجیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ۔ روسی جیٹ فائٹروں نے بھی باخموت میں واقع یوکرین کے فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ اس حملے میں اسّی سے زیادہ یوکرینی فوجی ہلاک ہوگئے۔ کیف کے پینتالیس فوجیوں کو دونیسک کے جنوبی محاذ پر بھی موت سے ہمکنار کیا گیا اور ان کی چار بکتر بند اور تین فوجی گاڑیوں کو تباہ کردیا گیا۔

    فرانس میں کرد ثقافتی مرکز پر حملہ،کرد کمیونٹی کا احتجاج، مظاہرین کا جلاؤ گھیراؤ

    روسی افواج نے گذشتہ چند گھنٹے کے دوران، ستاسی علاقوں پر بھی حملہ کرکے ترسٹھ توپخانون اور یوکرینی فوجی اڈوں کا صفایا کیا ہے ۔ بتایا گیا ہے کہ روس کے حملوں میں ایم سات سو ستتر نوعیت کی دو امریکی توپیں اور دو گراڈ میزائیل لانچر تباہ ہوئے۔ روسی فوجیوں کا کہنا ہے کہ ان کے حملوں میں یوکرین کی فوج کا ایک سوخو پچیس جیٹ فائٹر، مل آٹھ نوعیت کا ایک جنگی ہیلی کاپٹر، دس ڈرون طیارے اور دو ہمارس میزائل بھی نذر آتش ہوئےہیں ۔

    امریکہ اور ترکیہ کےدرمیان حالات کشیدہ ،امریکہ کی سنگین دھمکیاں

    دریں اثنا روس کی وزارت خارجہ کے ایک اعلی عہدیدار ایلگزینڈر دارچیف نے کہا ہے کہ یوکرین کی جنگ امریکی فوجی صنعت کے فروغ کا باعث بنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگ یوکرین کے بارے میں امریکہ کے سیاسی اور فوجی حلقوں میں کافی اختلافات پائے جاتے ہیں لیکن تمام امریکیوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اس جنگ نے امریکی ہتھیاروں کی صنعت میں چار چاند لگا دیئے ہیں ۔ ایلگزینڈر دارچیف نے کہا کہ امریکی یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ یوکرین کی جنگ امریکی سلامتی کے لئے سرمایہ کاری کا بہترین ذریعہ ہے ۔ دارچیف نے کہا کہ کسی امریکی کو بھی اس بات کا اندازہ نہیں کہ یوکرین کی جنگ میں امریکہ کے حد سے زیادہ ملوث ہونے کا انجام کیا ہوسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ڈیموکریٹ اور ری پبلکن دونوں پارٹیوں کے رہنماؤں نے ثابت کردیا ہے کہ تمام امریکی سیاستدان، عقل سلیم سے محروم ہیں۔