Baaghi TV

Tag: روس

  • روس ہی یوکرین کی علاقائی سالمیت کا واحد ضامن ہو سکتا ہے،پیوٹن

    روس ہی یوکرین کی علاقائی سالمیت کا واحد ضامن ہو سکتا ہے،پیوٹن

    روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا ہے کہ ایٹمی جنگ کا خطرہ ضرور بڑھ رہا ہے لیکن روس کبھی بھی ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے میں پہل نہیں کرے گا۔

    باغی ٹی وی: سی این این کے مطابق روس کے ہیومن رائٹس کونسل کے سالانہ اجلاس میں بات کرتے ہوئے روسی صدر نے کہا کہ ایٹمی جنگ کا خطرہ بڑھ رہا ہے لیکن ہم کبھی ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے میں پہل نہیں کریں گے۔

    بین الاقوامی دہشتگرد افغانستان میں دوبارہ منظم ہوئے تو کارروائی کریں گے،امریکا

    روسی صدر نے اصرار کیا کہ روس صرف دوسرے ملک کی جانب سے کیے جانے والے حملے کے جواب میں ایٹمی ہتھیار استعمال کرے گا، انہوں نے یہ بھی کہا کہ یوکرین میں جنگ ایک طویل عمل ہو سکتا ہے۔

    روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا کہ ہم پاگل نہیں ہوئے، ہمیں احساس ہے کہ ایٹمی ہتھیار کیا ہیں۔ ہمارے پاس یہ ذرائع کسی بھی دوسرے ایٹمی ملک کے مقابلے زیادہ جدید اور جدید شکل میں موجود ہیں، یہ ایک واضح حقیقت ہے۔ لیکن ہم اس ہتھیار کو استرا کی طرح پھیلاتے ہوئے پوری دنیا میں بھاگنے والے نہیں ہیں۔

    یوکرینی صدر ولادیمیر زیلینسکی 2022 کی بہترین شخصیت قرار

    انہوں نے یہ دعویٰ کیا کہ روس ہی یوکرین کی علاقائی سالمیت کا واحد ضامن ہو سکتا ہے یہ یوکرین کے نئے رہنماؤں پر منحصر ہے۔

    رواں سال فروری میں یوکرین میں جنگ شروع کرنے کے بعد روس کی جانب سے ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے کا خدشہ بڑھ گیا تھا۔

    تاہم ایٹمی جنگ کے امکان کے بارے میں بات کرتے ہوئے پیوٹن نے کہا کہ اس کا خطرہ بڑھ رہا ہے، اسے چھپانا غلط ہوگا لیکن روس کسی بھی حالت میں پہلے ایٹمی ہتھیاروں کا استعمال نہیں کرے گا اور اپنے جوہری ہتھیاروں سے کسی کو دھمکی نہیں دے گا۔

    اس بات کی تردید کی کہ روسی فوجی میدان جنگ سے بڑے پیمانے پر نکل رہے ہیں، اور دعویٰ کیا کہ روسی فوج کو مزید فوجیوں کو جمع کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی، ایک ایسا عمل جس نے کافی ہلچل مچا دی ہے-

  • روس کے دو فضائی اڈوں پر دھماکوں سے 3 افراد ہلاک اور 8 زخمی

    روس کے دو فضائی اڈوں پر دھماکوں سے 3 افراد ہلاک اور 8 زخمی

    روس کے دو فضائی اڈوں پر دھماکوں سے 3 افراد ہلاک اور 8 زخمی ہوگئے۔

    با غی ٹی وی : روسی خبر ایجنسی کے مطابق روسی حکام نے فضائی اڈوں پر دھماکوں کی تصدیق کی ہے، دونوں روسی شہر یوکرین سے کئی سو میل کےفاصلےپرہیں ایک دھماکا روسی شہر ریازان کے فضائی اڈے پر واقع فیول ٹینکر پھٹنے سے ہوا جب کہ دوسرا دھماکا روسی شہر سراتوف کے بمبار طیاروں کے فضائی اڈے میں ہوا جس کی وجہ معلوم نہیں ہوسکی۔

    انڈونیشیا میں غیرازدواجی تعلقات پر ایک سال قید کی سزا پر غور

    ریازان کے فضائی اڈے پر واقع فیول ٹینکر پھٹنے سے 3 افراد ہلاک اور 6 زخمی ہوئے جب کہ سراتوف کے بمبار طیاروں کے فضائی اڈے میں 2 افراد کے زخمی ہونےکی اطلاع ہے۔

    روسی حکام کا کہنا ہے کہ فضائی اڈوں میں دھماکوں سے شہری علاقوں کو کوئی خطرہ نہیں، قانون نافذ کرنے والے ادارے فوجی تنصیبات میں دھماکوں کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

    ادھر بی بی سی کے مطابق روس نے پیر کے روز کہا کہ روسی فضائی دفاع نے روس کے دو فوجی ہوائی اڈوں پر یوکرین کے ڈرون کو روکا، جو دونوں ممالک کی سرحد سے سینکڑوں کلومیٹر دور ہے۔

    وزارت دفاع کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ بغیر پائلٹ گاڑیوں کے ملبے کے گرنے سے دو طیاروں کو ہلکا نقصان پہنچا ریازان اور ساراتوف علاقوں میں ہونے والے واقعات میں تین روسی فوجی ہلاک اور چار زخمی ہوئے۔

    نائجیریا : مسلح افراد کا مسجد پر حملہ،پیش امام زخمی ،19 نمازی اغوا

    خیال کیا جاتا ہے کہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے اسٹریٹجک بمبار ہوائی اڈوں پر موجود ہیں۔

    اس سے قبل سراتوف میں اینگلز ایئربیس اور ریازان میں دیاجیلیوو ایئربیس پر بڑے دھماکوں کی اطلاع ملی تھی، لیکن ان کی وجہ کے بارے میں کوئی سرکاری تبصرہ نہیں کیا گیا تھا۔

    گھنٹوں بعد، روس نے یوکرین کے آس پاس کے اہداف پر میزائلوں کی ایک لہر شروع کی، حالانکہ کیف کا کہنا ہے کہ اس نے ان میں سے بیشتر کو مار گرایا۔

    یوکرین نے سرکاری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ تاہم، صدارتی مشیر میخائیلو پوڈولیاک نے ایک ٹویٹ میں رپورٹ شدہ واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ گر کسی چیز کو (کسی) دوسرے ملک کی فضائی حدود میں لانچ کیا جاتا ہے، تو جلد یا بدیر نامعلوم اڑن اشیاء روانگی کے مقام پر واپس آجائیں گی۔

    روس یوکرین پر اس سے پہلے بھی اس کی سرزمین پر حملے کا الزام لگاتا رہا ہے لیکن یہ مبینہ حملے پچھلے حملوں کے مقابلے روس میں زیادہ گہرے ہیں۔

    سابق برطانوی رکن پارلیمنٹ عمران احمد خان کی جنسی زیادتی پر سزا کے خلاف اپیل مسترد

    اتوار کو لی گئی سیٹلائٹ تصاویر میں اینگلز ایئربیس پر روسی بھاری بمبار طیاروں کے ایک بڑے بیڑے کو دکھایا گیا ہے Tu-160 اور Tu-95 اسٹریٹجک بمبار ہیں، جو کروز میزائل فائر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں – یوکرین پر حملوں میں استعمال ہونے والے ہتھیاروں میں سے ایک ہیں-

    گزشتہ ہفتے جاری کی گئی دیگر سیٹلائٹ تصاویر میں اسی ایئربیس پر فوجی طیاروں کی بڑھتی ہوئی سرگرمی دکھائی دیتی ہے۔

    کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا کہ روسی صدر ولادیمیر پوٹن کو رپورٹ کردہ دو واقعات کے بارے میں مطلع کر دیا گیا ہے۔

    یاد رہےکہ رواں برس اگست میں روس سے الحاق کرنے والے یوکرینی علاقےکریمیا میں روسی فضائی اڈے میں دھماکے سے7 لڑاکا طیارے تباہ ہوگئے تھے۔

    ایشین فٹبال کپ 2027 کی میزبانی سعودی عرب کو ملنے کا امکان

  • ہم تیل کی قیمت کی حد مقرر کرنے کے فیصلے کو کبھی قبول نہیں کریں گے،روس

    ہم تیل کی قیمت کی حد مقرر کرنے کے فیصلے کو کبھی قبول نہیں کریں گے،روس

    روس نے یورپی ممالک کی جانب سے روسی تیل کی قیمت کی حد مقرر کرنے کے اقدامات کو مسترد کر دیا۔

    باغی ٹی وی : یورپی یونین کے بعد جی سیون ممالک نے بھی روسی تیل کی قیمت 60 ڈالر فی بیرل تک محدود کرنے پر اتفاق کیا تھا مغربی ممالک کے اتحاد نے فیصلہ کیا کہ اس سے زیادہ قیمت پر خریدنے والے ممالک کو اس خریداری سے روکنا ہوگا۔

    قیمت کی اس حد کو مقرر کرنے کا مقصد روس کو خام تیل کی خریداری سے حاصل ہونے والے منافع کو کم سے کم رکھنا ہےمغربی اتحادی ممالک سمجھتے ہیں کہ زیادہ قیمتوں سے روس کی آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے اور پیوٹن اس آمدنی کو یوکرین میں جارحیت پر استعمال کرتے ہیں –

    یورپی ممالک کی جانب سے یوکرین میں جاری جنگ میں روس کیلئے بنیادی مالی وسیلے کی حیثیت رکھنے والے روسی تیل کی قیمتوں کی حد مقرر کرنے والے اقدامات کے جواب میں روس نے بیان جاری کیا ہے کہ روس اپنے تیل کی قیمت کی حد مقرر کیے جانے کے فیصلے کو قبول نہیں کرے گا، معاملات کا جائزہ لینے کے بعد مناسب جواب دیا جائے گا۔

    روسی میڈیا کے مطابق کریملن کے ترجمان دمیتری پاسکوف نے کہا ہے کہ روس نے جی سیون، یورپین یونین اور آسٹریلیا کی جانب سے پرائس کیپ کے اعلان کا بھرپور جواب دینے کی تیاری کر لی ہے۔

    روسی تیل کی قیمت کی حد مقررکرکے پوٹن کے جنگی عزائم کو روکیں گے:امریکا

    دمیتری پاسکوف نے کہا ہے کہ ہم روسی تیل کی قیمت کی حد مقرر کرنے کے فیصلے کو کبھی قبول نہیں کریں گے، روس کی جانب سے معاملات کا جائزہ لینے کے بعد اس اعلان کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

    غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق ویانا کی عالمی تنظیم کیلئے روسی سفیر میخائیل الینوف کی جانب سے ایک بار پھر روسی موقف کو دہرایا گیا ہے کہ روس اپنے تیل پر قیمت کی حد کی پابندی لاگو کرنے والے ممالک کو تیل کی فروخت معطل کر دے گا آئندہ سال کے آغاز سے یورپ کو روسی تیل کے بغیر جینا ہوگا۔

    واضح رہے کہ روسی سمندری خام تیل کی قیمت کی حد مقرر کرنے کی تجویز رواں برس ستمبر میں صنعتی ممالک کے G7 گروپ کے اجلاس میں رکھی گئی تھی۔ اس گروپ میں بڑے صنعتی ممالک امریکا، کینیڈا، برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی، جاپان اور یورپی یونین شامل ہیں۔

    تاہم اب پیر کے روز سے اس قیمت کو نافذ العمل کردیا جائے گا جس کا مقصد روس پر دباؤ بڑھانا ہے تاکہ وہ یوکرین میں جنگ کے خاتمے کے لیے مذکرات کی میز پر آجائے۔

    یورپی یونین کےبعد جی سیون ممالک اورآسٹریلیا کا بھی روسی تیل کی قیمتیں 60 ڈالر فی…

  • یورپی یونین قیمتوں کی حد کو مقرر کرکے اپنی توانائی کی سلامتی کو خطرے میں ڈال رہی ہے،روس

    یورپی یونین قیمتوں کی حد کو مقرر کرکے اپنی توانائی کی سلامتی کو خطرے میں ڈال رہی ہے،روس

    روس نے دھمکی دی ہے کہ یورپی یونین قیمتوں کی حد کو مقرر کرکے اپنی توانائی کی سلامتی کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔

    باغی ٹی وی : عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق مغربی ممالک کے اتحاد نے فیصلہ کیا ہے کہ سمندری روسی خام تیل کے ایک بیرل کی زیادہ سے زیادہ قیمت $60 ہونی چاہیئے اور اس سے زیادہ قیمت پر خریدنے والے ممالک کو اس خریداری سے روکنا ہوگا۔

    قیمت کی اس حد کو مقرر کرنے کا مقصد روس کو خام تیل کی خریداری سے حاصل ہونے والے منافع کو کم سے کم رکھنا ہےمغربی اتحادی ممالک سمجھتے ہیں کہ زیادہ قیمتوں سے روس کی آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے اور پیوٹن اس آمدنی کو یوکرین میں جارحیت پر استعمال کرتے ہیں –

    روسی سمندری خام تیل کی قیمت کی حد مقرر کرنے کی تجویز رواں برس ستمبر میں صنعتی ممالک کے G7 گروپ کے اجلاس میں رکھی گئی تھی۔ اس گروپ میں بڑے صنعتی ممالک امریکا، کینیڈا، برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی، جاپان اور یورپی یونین شامل ہیں۔

    تاہم اب پیر کے روز سے اس قیمت کو نافذ العمل کردیا جائے گا جس کا مقصد روس پر دباؤ بڑھانا ہے تاکہ وہ یوکرین میں جنگ کے خاتمے کے لیے مذکرات کی میز پر آجائے۔

    امریکہ جو کہ آزادی اظہار رائے علمبرداربھی اور پامالی کا ذمہ دار بھی

    ادھر روس نے گی بیرل خام تیل کی خریداری کی زیادہ سے زیادہ قیمت کی حد مقرر کرنے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس قیمت کو نافذ کرنے والے ممالک کو تیل فراہم نہیں کرے گا۔

    دوسری جانب یوکرین کا کہنا کہ مغرب ممالک کی تجویز کردہ روسی تیل کی خریداری کی زیادہ سے زیادہ قیمت 60 ڈالر نہیں بلکہ اس کی نصف ہونی چاہیئے تھی جس سے روس کی معیشت کو دھچکہ پہنچایا جا سکتا تھا۔

    مغربی ممالک کے اتحادیوں کا یہ بھی منصوبہ ہے کہ وہ ان ٹینکرز کی انشورنس سے انکار کر دیں گے جو اس مقرر کردہ حد سے زیادہ قیمت پر خریدنے والے ممالک کو تیل کی سپلائی پر مامور ہوں گے۔

    اس پر سینئر روسی سیاست دان لیونیڈ سلٹسکی نے ٹاس نیوز سے گفتگو میں دھمکی دی ہے کہ یورپی یونین قیمتوں کی حد کو مقرر کرکے اپنی توانائی کی سلامتی کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔

    خیال رہے کہ وہ ممالک جو G7 کی قیادت والی پالیسی پردستخط کرتے ہیں انہیں صرف سمندر کے راستے منتقل ہونے والے تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی خریداری کی اجازت ہوگی تاہم قیمت کی حد زیادہ سے زیادہ 60 ڈالر فی بیرل سے کم یا اس سے کم ہونی چاہیئے۔

    زیادتی کا شکارخاتون نے انصاف نہ ملنے پرعدالت کے سامنے خود کو آگ لگا لی

    ماہرین کا کہنا ہے کہ مغربی اتحاد کے روس کے خلاف ان اقدامات سے جزوی فرق پڑے گا کیوں کہ بھارت اور چین جیسی بڑی منڈیاں روس سے تیل خرید رہی ہیں اور جی-7 کے دستخط کنندہ ہونے کی وجہ سے وہ اس پابندی کی زد میں بھی نہیں ہیں۔

  • امریکی صدر کے بیان کے بعد روس کی یوکرین سے مذاکرات پر مشروط آمادگی

    امریکی صدر کے بیان کے بعد روس کی یوکرین سے مذاکرات پر مشروط آمادگی

    ماسکو: روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے کہا ہے کہ یوکرین کے ساتھ مذکرات کے لیے تیار ہیں لیکن اس سے قبل مغرب کو ہمارے مطالبات تسلیم کرنا ہوں گے۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر جوبائیڈن نے فرانسیسی صدر سے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ یوکرین جنگ پر روس سے بات چیت کے لیے تیار ہیں۔

    امریکی صدر نے مزید کہا تھا کہ روس سے بات چیت صرف اسی صورت میں ہوسکتی ہے جب وہ جنگ ختم کرنے سے متعلق کوئی فیصلہ کرنے میں دلچسپی بھی رکھتا ہوں۔

    عالمی سطح پر پہلی مرتبہ پاکستان کی آواز سنی گئی:وزیراعظم

    امریکی صدر کی اس پیشکش پر روسی ہم منصب نے کہا کہ یوکرین جنگ پر بات چیت کے لیے تیار ہیں تاہم اس کے لیے مغربی ممالک کو پہلے ہمارے مطالبات تسلیم کرنا ہوں گے۔

    خیال رہے کہ 24 فروری کو یوکرین پر حملے کے بعد سے امریکی صدر جوبائیڈن کی روسی ہم منصب سے براہ راست بات نہیں ہوسکی ہے بلکہ مارچ میں جوبائیڈن نے صدر پوٹن کو قصائی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ زیادہ دیر اقتدار میں نہیں رہ سکتے۔

     

    بے نظیرانکم سپورٹ پروگرام میں خواجہ سراؤں کو شامل کرنے کی منظوری

    جس پر روس نے شدید اعتراض کرتے ہوئے اسے اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دیا تھا۔ روسی صدر نے کہا تھا کہ انھیں یوکرین پر حملہ کرنے پر کوئی افسوس نہیں۔ یہ ہماری سلامتی کا معاملہ ہے۔ادھر مغربی ممالک کے اتحاد نیٹو نے بھی یوکرین کی مدد جاری رکھنے کا عندیہ دیا ہے۔

  • مغرب اپنی لاقانونیت کی پردہ پوشی کرنےکی کوشش کررہا ہے:روس

    مغرب اپنی لاقانونیت کی پردہ پوشی کرنےکی کوشش کررہا ہے:روس

    جنیوا: اقوام متحدہ میں روس کے مستقل مندوب نے نامہ نگاروں سے گفتگو میں کہا ہے کہ یورپی ممالک نے روس مخالف اتنے زیادہ منصوبے تیار کئے ہیں کہ ان پر عمل کرنا خود ان ممالک کے لئے مشکل ہو گیا ہے۔ انھوں نے تاکید کی کہ یورپی ممالک خود قانون بنا کر اسے اقوام متحدہ کے اختیارات میں شامل کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔

    واسیلی نبنزیا نے کہا کہ یورپی ممالک کا یہ اقدام اپنے خود ساختہ قوانین پر مبنی نئے بین الاقوامی نظام کا ایک نمونہ ہے۔ یوکرین جنگ کے آغاز کے بعد امریکہ اور یورپی ممالک نے اپنے اقدامات کے ذریعے اس جنگ کی آگ کے شعلوں کو مزید بھڑکا دیا اور وہ روسی اثاثے منجمد کر کے ان کو قبضانے کی کوشش کر رہے ہیں ۔

    یورپی کمیشن کی چیئرمین نے ایک بیان میں کہا ہے کہ یورپی کمیشن یوکرین میں روس کے اقدامات کا جائزہ لینے کے لئے اقوام متحدہ کی حمایت سے ایک خصوصی عدالت قائم کئے جانے کے منصوبے پر غور کر رہا ہے۔

    اقوام متحدہ میں روس کے نمائندے نے یورپی کمیشن کے روس مخالف منصوبے پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی ممالک اس قسم کے منصوبے تیار کر کے روس کے مقابلے میں اپنے غیر قانونی اقدامات کا جواز فراہم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    ویڈیو بنا کر ہراساں کرنے کے ملزم کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ

    ناکے پر کیوں نہیں رکے؟ پولیس اہلکار نے شہری پر گولیاں چلا دیں

    بارہ سالہ بچی کی نازیبا ویڈیو بنانے والا ملزم گرفتار

  • روس پر تنقید کے بعد یورپی پارلیمنٹ پر سائبر حملہ

    روس پر تنقید کے بعد یورپی پارلیمنٹ پر سائبر حملہ

    روس کو ’دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والی ریاست‘ قرار دینے کے بعد یورپی پارلیمنٹ سائبر حملے کی زد میں آ گئی ہے۔

    باگی ٹی وی : بدھ کو یورپی پارلیمنٹ کے صدر، روبرٹا میٹسولا نے کہا کہ پارلیمنٹ ایک سنگین سائبر حملے کی زد میں ہے کریملن کے حامی ایک گروپ نے اس سائبر حملے کی ذمہ داری بھی قبول کرلی ہے۔

    گوگل نے رواں سال سب سے زیادہ سرچ کی جانے والی اشیا کی فہرست جاری کردی

    میٹسولا نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر مزید کہا کہ پارلیمنٹ کے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ماہرین سائبر حملے سے نمٹ رہے ہیں اور نظام کی حفاظت کے لیے کام میں مصروف ہیں۔

    یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب یورپی پارلیمان نے اعلان کیا تھا کہ اس نے یوکرین میں جنگ کی وجہ سے روس کو "دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والے ریاست” کے طور پر فہرست میں شامل کر لیا ہے۔

    یورپی پارلیمنٹ نے کہا ہے کہ یوکرین میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے، ہسپتالوں، سکولوں اور پناہ گاہوں جیسے شہری اہداف پر ماسکو کے فوجی حملے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں۔

    یوکرین پر روسی حملے ، تنصیبات سمیت پاور اسٹیشزتباہ، 6 افراد ہلاک ،بیشترعلاقوں میں بجلی کی فراہمی…

    یورپی پارلیمنٹ کے چیف ترجمان جاوم ڈچ نے کسی ممکنہ مجرم کا نام لیے بغیر کہا کہ یہ بندش بیرونی نیٹ ورک ٹریفک کی اعلیٰ سطح کی وجہ سے ہے،یہ ٹریفک ڈی ڈی او ایس حملے (سروس کی تقسیم سے انکار) کے واقعہ سے متعلق ہے۔

    ہیکرز نقصان دہ DDoS حملوں کو سیلاب کے نیٹ ورکس پر استعمال کرتے ہیں جس میں ڈیٹا کی زیادہ مقدار ہوتی ہے جسے وہ سنبھال نہیں سکتے، جس کے نتیجے میں عام ٹریفک میں خلل پڑتا ہے یا نیٹ ورک مکمل طور پر مفلوج ہو جاتا ہے۔

    کینیا کے اولکاریا میں، Hell’s Gate National Park کے کنارے، پانچ پاور پلانٹس ہیں جو تقریباً 800MW توانائی پیدا کرتے ہیں ، جو کہ ایک سال میں چالیس لاکھ سے زیادہ گھروں کو بجلی فراہم کرنے کے لیے کافی ہے۔

    بندش کی کل مدت واضح نہیں تھی، لیکن اس کا سب سے پہلے روسی ووٹنگ کے بعد پتہ چلا، جو دوپہر کے اوائل میں ہوا15:30 CET تک، ویب سائٹ قابل رسائی ہو گئی لیکن 16:00 CET تک، یہ دوبارہ نیچے چلی گئی۔

    پارلیمنٹ کا ملٹی میڈیا سنٹر، جو ایک الگ سائٹ کے طور پر کام کرتا ہے، متاثر نہیں ہوا قانون سازوں نے تیزی سے ٹویٹر پر سائبر حملے کی مذمت کی اور الزام روس پر ڈالا۔

    کرد جنگجوؤں کے خلاف آپریشن فضائی کارروائی تک محدود نہیں رہے گا،ترک صدر

    لبرل سیاسی گروپ رینیو یورپ نے ایک بیان میں کہا کہ ہمارے آزاد ادارے پر آج کا سائبر حملہ ظاہر کرتا ہے کہ جمہوریت کے لیے روس کی توہین اس کی اپنی سرحدوں سے باہر ہے۔ پوتن کے ہیکرز ہمیں خاموش نہیں کریں گے اور نہ ہی ہمارے کام میں مداخلت کریں گے۔

    گرینز گروپ کے شریک چیئر ٹیری رینٹکے نے کہا، جمہوریت مخالف ایک جمہوری ادارے کی فیصلہ سازی میں خلل ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہم اپنا اجلاس جاری رکھیں گے اور یوکرین کے ساتھ کھڑے ہیں۔

    یورپی کنزرویٹو اینڈ ریفارمسٹ (ای سی آر) گروپ نے کہا، "پوتن کی ہائبرڈ جنگ جاری ہے یورپی کمیشن نے بھی اس حملے پر تنقید کی۔

    فرانس میں تاجر کے گھر پرانسپکشن کے لیے آیا ٹیکس انسپکٹر قتل

    واضح رہے کہ یورپی پارلیمنٹ کی طرف سے روس کو دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والے ریاست کے طور پر نامزد کرنا بڑی حد تک علامتی ہے کیونکہ یورپی یونین کے پاس اپنے موقف کی حمایت کے لیے کوئی قانونی ڈھانچہ موجود نہیں ہے۔

    سٹراسبرگ میں روس کو دہشت گردی کی سرپرست ریاست بیان کرنے والے بل کی منظوری کے حق میں 191 ووٹ آئے۔ 58 نے مخالفت میں ووٹ دئیے اور 44 ارکان غیر حاضر رہے۔

    دوسری طرف یوکرین کے صدر زیلنسکی نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر کہا روس کو دہشت گردی کے ریاستی سرپرست کے طور پر درجہ بندی کرنے کے یورپی پارلیمنٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ روس کو جوابدہ ٹھہرایا جائے اور اسے ہر سطح پر الگ تھلگ کر دیا جائے۔

    روسی زبان بولنے والے ہیکرز کی خلیجی خطوں اور سعودی عرب میں ہیکنگ کی کارروائیاں تیز

  • یوکرین پر روسی حملے ،  تنصیبات سمیت پاور اسٹیشزتباہ، 6 افراد ہلاک ،بیشترعلاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل

    یوکرین پر روسی حملے ، تنصیبات سمیت پاور اسٹیشزتباہ، 6 افراد ہلاک ،بیشترعلاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل

    یوکرین پر روس کی جانب سے پے در پے میزائل حملوں کے نتیجے میں 6 افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ ملک کے بیشتر علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی ہے۔

    باغی ٹی وی : غیرملکی میڈیا کےمطابق گذشتہ ایک ہفتے کے دوران روس کی جانب سے لگاتار میزائل حملوں میں اہم یوکرینی تنصیبات سمیت پاور اسٹیشز کو خاص طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے، حالیہ حملوں کے نتیجے میں دارالخلافہ کیف سمیت کئی اہم یوکرینی شہر بجلی سے محروم ہو گئے ہیں ویشارڈ میں اپارٹمنٹ بلاک تباہ ہو گیا ہےجہاں فائر فائٹرز اور امدادی رضاکاروں کی جانب سے متاثرین کے ریسکیو کرنے کی کوششیں جا ری ہیں۔

    کرد جنگجوؤں کے خلاف آپریشن فضائی کارروائی تک محدود نہیں رہے گا،ترک صدر

    یوکرینی نیشنل پولیس کا کہنا ہے کہ یوکرین کے مختلف شہروں پر آج ہونے والے روسی حملوں کے نتیجے میں 6 افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ 36 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں حملوں کے نتیجے میں 16 اہم تنصیبات اور رہائشی عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا ہے جبکہ یوکرین کے کئی علاقے اندھیرے میں ڈوب گئے ہیں۔

    یوکرینی ائیر فورس کا کہنا ہے کہ روس کی جانب سے داغے گئے 70 کروز میزائلوں میں سے 50 کو تباہ کر دیا گیا تھا۔

    روسی زبان بولنے والے ہیکرز کی خلیجی خطوں اور سعودی عرب میں ہیکنگ کی کارروائیاں تیز

    یوکرین کے ڈپٹی وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ روسی حملوں کے نتیجے میں مالدووا کے اطراف میں آدھے سے زیادہ علاقے بجلے سے محروم ہو گئے ہیں جبکہ تین یوکرینی پاور اسٹیشنز، بجلی کے قومی نیٹورک سے کٹ گئے ہیں روس کی جانب سے پورے ملک پر ایک ساتھ حملہ کر دیا گیا ہے-

    یوکرین کے ڈپٹی ہیلتھ منسٹر کا کہنا ہے کہ آج پورا ملک حملے کی زد میں ہے اور پہلے بھی ہم دارالخلافہ کیف اور دیگر شہروں پر حملے دیکھ چکے ہیں حملوں کا سلسلہ ابھی تک تھما نہیں ہے اس لیے ہونے والے نقصانات کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا تاہم کچھ گھنٹوں میں صورتحال واضح ہو جائے گی۔

    یوکرینی ڈپٹی ہیلتھ منسٹر کا کہنا تھا کہ اب تک تمام زخمیوں کو اسپتال پہنچا دیا گیا ہے جبکہ ساتھ ہی خصوصی ایمرجنسی ٹیمیں بھی تشکیل دی گئی ہیں تاکہ زاپروژیا شہر کی دیگر اسپتالوں میں بھی زخمیوں کی منتقلی کو یقینی بنایا جا سکے ملک میں روسی حملوں کے نتیجے میں1000 سے زائد طبی مراکز کو نقصان پہنچا ہے جبکہ 143 طبی مراکز مکمل تباہ ہو گئے ہیں۔

    امریکہ روس کےخلاف یوکرین کوجدید ڈرون فراہم کرے:امریکی سینیٹرز

  • امریکہ روس کےخلاف یوکرین کوجدید ڈرون فراہم کرے:امریکی سینیٹرز

    امریکہ روس کےخلاف یوکرین کوجدید ڈرون فراہم کرے:امریکی سینیٹرز

    واشنگٹن:16 امریکی سینیٹرز کے ایک دو طرفہ گروپ نے صدر جو بائیڈن انتظامیہ سے کہا ہے کہ وہ یوکرین کو روسی افواج سے لڑنے کے لیے جدید ترین ڈرون دینے پر غور کرے۔

    وال سٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق سیکرٹری دفاع لائیڈ آسٹن کو منگل کے روز لکھے گئے خط میں، دستخط کنندگان، بشمول سینیٹ آرمڈ سروسز کمیٹی کے ممبران، نے سیکرٹری پر زور دیا کہ وہ یوکرین کو MQ-1C، جسے گرےایگل، ڈرون بھی کہا جاتا ہے، فراہم کرے۔

    قانون سازوں نے خط میں لکھا، "یوکرین کو MQ-1C فراہم کرنے کا طویل مدتی فائدہ اہم ہے اور اس میں یوکرین کے حق میں جنگ کے اسٹریٹجک راستے کو چلانے کی صلاحیت ہے۔”انہوں نے لکھا، "یوکرین کے دفاع کو مستحکم کرنے اور مستقبل کی روسی جارحیت کے خلاف طویل مدتی مزاحمت کے قابل بنانے کے لیے مؤثر مہلک امداد کی بروقت فراہمی ضروری ہے۔”

    قانون سازوں نے آسٹن سے 30 نومبر تک وضاحت کرنے کو کہا کہ پینٹاگون نے اب تک یوکرین کو MQ-1C ڈرون فراہم کرنے سے انکار کیوں کیا ہے۔

    دستخط کرنے والوں میں سین. جونی ارنسٹ ، سین جیمز انہوف ، جو سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی میں سبکدوش ہونے والے ریپبلکن ہیں، سین ٹم کین ، سین جو منچن اور سین. مارک کیلی

    بائیڈن انتظامیہ کیف کو MQ-1C فراہم کرنے کی مخالفت کر رہی ہے اس خدشے کے پیش نظر کہ روسی ایک یا زیادہ ڈرون پکڑ سکتے ہیں اور ہوائی جہاز میں استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں۔اپنے خط میں سینیٹرزنے پینٹاگون پر زور دیا کہ وہ اس موقف پر نظر ثانی کرے۔

    خط میں دعویٰ کیا گیا کہ یوکرین کی افواج کو امریکی MQ-1C ڈرونز کی ضرورت ہے، جو کہ جنرل ایٹمکس کے ذریعے تیار کیے گئے ہیں، تاکہ روسی ڈرونز کے حملوں کا مقابلہ کیا جا سکے جو یوکرائنی اہداف کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

    سابق چیئرمین FBR شبر زیدی نے کہا ہے کہ پاکستان دیوالیہ ہو گیا ہے

    دیوالیہ پن سے بچاؤ کے لئے فلپائن ایئر لائن امریکی عدالت پہنچ گئی

  • کیف روسی شہر ہے،ہم اسے واپس لیں گے، سابق روسی صدر

    کیف روسی شہر ہے،ہم اسے واپس لیں گے، سابق روسی صدر

    ماسکو: سابق روسی صدر اور روسی سلامتی کونسل کے نائب سربراہ، دمتری میدویدیف نے کہا کہ یوکرین کا دارالحکومت کیف ایک روسی شہر ہے جسے بحال کیا جائے گا۔

    باغی ٹی وی : عالمی خبررساں ادارے کے مطابق سابق روسی صدر اور روسی سلامتی کونسل کے نائب سربراہ نے "ٹیلی گرام” ایپ پر جاری بیان میں کہا کہ یف قدیم روس کا دارالحکومت ہے، دوسرا یہ ہے کیف روسی سلطنت کے دور میں بڑے روسی شہروں میں سے ایک ہے، تیسری بات یہ ہے کہ کیف سوویت یونین کی جمہوریہ میں سے ایک کا دارالحکومت ہے۔

    انڈونیشیا؛ ہولناک زلزلے میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 255 ہوگئی

    دمتری میدویدیف نے مزید کہا کیف صرف ایک روسی شہر ہے جس کے باشندوں نے ہمیشہ روسی زبان میں سوچا اور بات کی ہے، سب کچھ بالکل واضح ہونا چاہیےاس بارے میں کہ کیا واپس کیا جانا چاہیے اور اسے کیسے بحال کیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ سابق روسی صدر کی جانب سے یہ بیان ملک کے جنوب میں واقع خیرسن سے روسی انخلاء کے بعد "کریمیا” کو بحال کرنے کے لیے یوکرین کی دھمکیوں کے جواب میں سامنے آیا۔

    یاد ر ہے کہ گزشتہ ہفتے یوکرین کی فوج کے خیرسن علاقے کا کچھ حصہ دوبارہ حاصل کیا تھا، اس کے بعد ایسا لگ رہا ہے کہ کیف اور ماسکو موسم سرما کے قریب اپنی پوزیشن مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔

    2014 میں کریمیا کے الحاق کے بعد سےماسکوجزیرہ نما کواپنی سرزمین کا حصہ سمجھتا ہےجسے عالمی برادری تسلیم نہیں کرتی یوکرین نے حالیہ مہینوں میں کریمیا کو دوبارہ حاصل کرنے کے اپنے ارادے پر بار بار زور دیا ہے۔

    دوسری جانب عالمی ادارہ صحت ( ڈبلیو ایچ او) نے یوکرین میں موسم سرما کے باعث لاکھوں افراد کی زندگیوں کو لاحق خدشے سے آگاہ کردیا۔

    فیفا ورلڈکپ2022: افتتاحی تقریب براہ راست نشر نہ کرنے پر بی بی سی کو تنقید کا سامنا

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق عالمی ادارہ صحت اور یورپ کے ریجنل ڈائریکٹر ڈاکٹر ہنس کلوگ کا کہنا ہے کہ یوکرین میں موسم سرما کا آغاز ہوگیا ہے جہاں کچھ علاقوں میں منفی 20 ڈگری تک درجہ حرارت گرنے کا امکان ہےایسےمیں یوکرین کی توانائی کا آدھا انفرااسٹرکچر تباہ حالی کا شکار ہے جس کی وجہ سے ایک کروڑ لوگ سرد موسم میں بجلی سے محروم ہیں۔

    ڈبلیو ایچ او کے اندازے کے مطابق روس نے یوکرین کے صحت کے مراکز سمیت توانائی کے انفرااسٹرکچر پر بھی 703 حملے کیے ہیں جس کی وجہ سے اسپتال ناصرف بجلی سے محروم ہیں بلکہ وہاں صحت کی سہولیات بھی موجود نہیں ہیں موسم سرما میں لاکھوں لوگ اپنے گھروں کو چھوڑ کو محفوظ مقامات پر پناہ حاصل کرنے کے لیے روانہ ہوگئے ہیں۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ ہفتے بھی روس نے یوکرین کے بجلی گھروں اور رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنایا ہے۔

    110 سال قبل ڈوبنے والے ٹائی ٹینک جہاز سے ملنی والی گھڑی 98 ہزار پاؤنڈز میں نیلام