Baaghi TV

Tag: روس

  • چین جو مرضی کرلےتائیوان کی مدد جاری رکھی جائے:امریکی کانگریس کا حکومت کوپیغآم

    چین جو مرضی کرلےتائیوان کی مدد جاری رکھی جائے:امریکی کانگریس کا حکومت کوپیغآم

    واشنگٹن :چین جو مرضی کرلےتائیوان کی مدد جاری رکھی جائے:امریکی کانگریس کا حکومت کوپیغآم،اطلاعات کے مطابق امریکی سینیٹ کی خارجہ تعلقات کی کمیٹی کے ڈیموکریٹک اور ریپبلکن سربراہوں نے جمعے کو قانون سازی متعارف کرائی جو تائیوان کے حوالے سے امریکی پالیسی میں بڑے پیمانے پر تبدیلی کی تجویز کرے گی۔

    اس سلسلے میں بتایا گیا ہے کہ سینس باب مینینڈیز اور لنڈسے گراہم کی طرف سے متعارف کرایا گیا یہ قانون تائیوان کو اگلے چار سالوں میں تقریباً 4.5 بلین ڈالر کی سکیورٹی امداد فراہم کرے گا اور تائیوان کو ایک بڑے غیر نیٹو اتحادی کے طور پر قبول کرے گا۔اس سے پہلے تائیوان کو پہلے ہی امریکی قانون کے تحت ایک بڑے غیر نیٹو اتحادی کے طور پر سمجھا جاتا ہے، لیکن اسے باضابطہ طور پر نامزد نہیں کیا گیا ہے۔

    یوکرینی افواج کو روس سے لڑنے کےلیے برطانیہ فوجی تربیت دے گا

    یہ ایکٹ بین الاقوامی تنظیموں اور تجارتی بلاکس میں تائیوان کی شمولیت کے لیے اضافی امریکی حمایت میں مزید اضافہ کرے گا۔

    "تائیوان پالیسی ایکٹ 2022، بیجنگ کے فوجی، اقتصادی اور سفارتی خطرات کے پیش نظر تائیوان اور ان تمام لوگوں کے ساتھ کھڑے ہونے کے لیے ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے مکمل عزم کا ایک بنیادی بیان پیش کرتا ہے جو ہند بحر الکاہل میں ہمارے مفادات اور ہماری اقدار کا اشتراک کرتے ہیں۔

    روس یوکرین میں جنگ ہارچکا:برطانوی آرمی چیف کا اعلان

    انہوں نے مزید کہا کہ "جیسا کہ بیجنگ تائیوان کو مجبور کرنے اور الگ تھلگ کرنے کی کوشش کر رہا ہے، تائیوان کے عوام اور ان کی جمہوریت کے ساتھ کھڑے ہونے کے ہمارے عزم کی گہرائی اور طاقت کے بارے میں کوئی شک یا ابہام نہیں ہونا چاہیے۔”

    روس کےخلاف یورپی اتحادی سربراہوں کا یوکرین میں اہم اجلاس

    سینیٹرز نے آخری بار اپریل 2022 میں ایشیا پیسیفک کے علاقائی دورے کے ایک حصے کے طور پر تائیوان کا دورہ کیا تھا جس میں وہ تائیوان کے صدر تسائی انگ وین اور تائیوان کے دیگر سینئر حکام کے ساتھ بیٹھے تھے۔

    یاد رہے کہ چین تائیوان کو ایک "تقسیم شدہ صوبہ” سمجھتا ہے، لیکن تائی پے نے 1949 سے اپنی آزادی برقرار رکھی ہے۔

  • یوکرینی افواج کو روس سے لڑنے کےلیے برطانیہ فوجی تربیت دے گا

    یوکرینی افواج کو روس سے لڑنے کےلیے برطانیہ فوجی تربیت دے گا

    لندن:یوکرینی افواج کو روس سے لڑنے کےلیے برطانیہ فوجی تربیت دے گا،اطلاعات کے مطابق برطانیہ نے روس کے خلاف لڑنے کے لیے یوکرینی فوج کی جنگی بنیادوں پر ٹرینگ دینے کافیصلہ کیاہے ،ادھر یوکرینی ذرائع نے بھی تصدیق کی ہے کہ برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے روس کے حملے کے بعد یوکرین کے دوسرے دورے کے موقع پر صدر ولادیمیر زیلنسکی سے ملاقات میں یوکرین کی افواج کے لیے فوجی تربیتی پروگرام شروع کرنے کی پیشکش کی ہے۔

    بورس جانسن کو زیلنسکی نے ایک ’عظیم دوست‘ کے طور پر خوش آمدید کہا اور اس کے بعدبورس جانسن نے یوکرینی صدر کے ساتھ اپنی ایک تصویر ٹوئٹر پر پوسٹ کی جس میں کہا گیا تھا کہ محترم صدر ولادیمیر، کیف میں دوبارہ آ کر اچھا لگ رہا ہے۔برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے ملاقات میں یوکرین کی افواج کے لیے ایک بڑا تربیتی فوجی پروگرام شروع کرنے کی پیشکش کی ہے جس میں 120 دن میں 10ہزار فوجیوں کو تربیت دینے کی صلاحیت موجود ہے۔

    برطانوی ویر اعظم نے کہا کہ آج میرا اس جنگ کے دوران دورے کا مقصد یوکرین کے عوام کو ایک واضح اور سادہ پیغام دینا ہے، برطانیہ آپ کے ساتھ ہے اور جب تک کہ آپ غالب نہیں آتے ہم آپ کے ساتھ رہیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ اسی لیے میں نے صدر ولادمیر زیلنسکی کو ایک نئے فوجی تربیتی پروگرام کی پیشکش کی ہے جو اس جنگ کی صورتحال کو تبدیل کر سکتا ہے اور کہا کہ جیت کے لیے سب سے زیادہ طاقت ور چیز یوکرین کے عوام کی جیت کا عزم ہے۔

    روس کے یوکرین پر حملے کے بعد برطانوی وزیراعظم کا غیر اعلانیہ دورہ یوکرین اور ولادمیر زیلنسکی کی حمایت کے حوالے سے بورس جانسن کے عزم کا تازہ ترین مظہر ہے۔انہوں نے یہ دورہ فرانس، جرمنی، اٹلی اور رومانیہ کے رہنماؤں کے کیف کے سفر کے ایک دن بعد کیا گیا جنہوں نے یوکرین کی یورپی یونین میں شمولیت اور رکنیت کے امیدوار کی حیثیت کی توثیق کی۔

    ولادمیر زیلنسکی نے مزید کہا کہ اس جنگ کے متعدد ایام نے ثابت کیا ہے کہ یوکرین کے لیے برطانیہ کی حمایت پختہ اور پرعزم ہے، ہمارے ملک کے عظیم دوست بورس جانسن کو دوبارہ کیف میں دیکھ کر ہمیں خوشی ہوئی۔

    یوکرین کے صدر نے مختصر بیان میں کہا کہ انہوں نے محاذ جنگ پر صورتحال اور بھاری ہتھیاروں کی ترسیل میں اضافے اور یوکرین کے فضائی دفاع کو بڑھانے کی ضرورت پر تبادلہ خیال کیا۔ان کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس ایک مشترکہ نقطہ نظر ہے کہ کس طرح فتح کی طرف بڑھنا ہے کیونکہ یوکرین کو بالکل اسی کی ضرورت ہے کہ ہماری ریاست کیسے فتح حاصل کرتی ہے۔

  • روس یوکرین میں جنگ ہارچکا:برطانوی آرمی چیف کا اعلان

    روس یوکرین میں جنگ ہارچکا:برطانوی آرمی چیف کا اعلان

    لندن:برطانوی مسلح افواج کے سربراہ ٹونی ریڈیکن کا کہنا ہے کہ روس یوکرین میں جنگ ہار چکا ہے۔اطلاعات کے مطابق برطانوی مسلح افواج کے سربراہ ٹونی ریڈیکن نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ روس یوکرین کے خلاف جنگ اسٹریٹیجک سطح پر ہار چکا ہے۔روس کی یہ صریح غلطی تھی۔ روس کبھی یوکرین پر قبضہ نہیں کر سکتا۔ اس سے روس کی قوت مزید کم ہو گئی ہے۔اسٹریٹیجک حوالے سے دیکھیں، تو روس یہ جنگ ہار چکا ہے۔ اس جنگ کی وجہ سے نیٹو اتحاد مزید مضبوط ہوا ہے اور اب فن لینڈ اور سویڈن بھی نیٹو میں شمولیت کے خواہاں ہیں۔

    روس کےخلاف یورپی اتحادی سربراہوں کا یوکرین میں اہم اجلاس

    برطانوی مسلح افواج کے سربراہ ٹونی ریڈیکن کہتے ہیں کہ روسی صدر پیوٹن آئندہ چند ہفتوں میں کچھ ٹیکٹیکل کامیابیاں حاصل کرتو سکتے ہیں تاہم، ملک کی ایک چوتھائی فوجی طاقت استعمال کرنے کے بعد یہ کامیابیاں انتہائی چھوٹی ہیں کیوں کہ وہ ہائی ٹیک میزائل اور فوجی دستوں کی کمی کا شکار ہیں۔

    روس اپنےآپ کوتنہا نہ سمجھے،ہرمشکل میں ہمیں ساتھ پائےگا:چین کا اعلان

    ان کا مزید کہنا تھا کہ روس کی کمزوریاں ہمارے سامنے ہیں۔ روس افراد کی کمی ہائی ٹیک میزائلوں کا شکار ہے۔ روسی صدر ملک کی پچیس فیصد فوجی قوت استعمال کر کے فقط ایک چھوٹے سے علاقے پر ہی قبضہ کر پائے ہیں، جب کہ ان کے پچاس ہزار فوجی ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں۔ یہ واضح طور پر روس کی ناکامی ہے۔

    علاوہ ازیں، ریڈیکن نے یوکرینی عوام کے جذبے اور بہادری کو خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ برطانیہ طویل المدتی بنیادوں پر مزید ہتھیاروں کی فراہمی کے ذریعے کیف حکومت کی مدد کرتا رہے گا۔

    دوسری جانب ماسکو حکومت نے مغربی ممالک کو خبردار کیا ہے کہ وہ یوکرین کو ہتھیاروں کی فراہمی سے باز رہیں۔

    ہتھیارڈال دیں ورنہ !! روس کی یوکرینی فوج کو آخری وارننگ:سیورو دونیسک شہرمیں لڑائی…

    کریملن ترجمان دیمتری پیسکوف نے یورپی رہنماؤں کے دورہ یوکرین کے تناظر میں کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ یوکرین کو ہتھیاروں کے ذریعے مزید معاونت فراہم کرنے پر توجہ نہیں دی جائے گی کیوں کہ یہ بالکل فضول اقدام ہو گا اور اس سے اس ملک کو مزید نقصان ہو گا۔

  • روس کےخلاف یورپی اتحادی سربراہوں کا یوکرین میں اہم اجلاس

    روس کےخلاف یورپی اتحادی سربراہوں کا یوکرین میں اہم اجلاس

    کیف:روس کےخلاف یورپی اتحادی سربراہوں کا یوکرین میں اہم اجلاس،اطلاعات کے مطابق روس کے خلاف یورپی اتحاد بڑا سرگرم دکھائی دیتا ہے اور شاید یہی وجہ ہےکہ جرمن چانسلر اولاف شولز، فرانسیسی صدر میکرون سمیت اطالوی وزیراعظم ماریو دراگی بذریعہ ٹرین یوکرینی دارالحکومت کیف پہنچ گئے ہیں۔ روس یوکرین جنگ کے تناظر میں ان رہنماؤں کے اقدامات پر یوکرینی صدر تنقید کرتے آئے ہیں۔

    یوکرینی دارالحکومت کیف میں تعینات فرانسیسی سفیر نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر ایک تصویر شائع کی ہے۔ اس تصویر میں تینوں یورپی رہنما ایک ٹرین میں موجود ہیں۔ تصویر کے کیپشن میں یہ لکھا گیا ہے کہ یہ رہنما کیف جارہے ہیں۔ بعدازاں، فرانسیسی صدارتی دفتر نے بھی اس کی تصدیق کی ہے کہ یہ رہنما گزشتہ رات کی ٹرین سے یوکرینی دارالحکومت کے لیے روانہ ہوئے تھے۔

    یوکرین میں جاری جنگ اور سلامتی کی صورتحال کے باعث اس دورے کی تفصیلات ابھی تک منظر عام پر نہیں آئی ہیں۔

    30 فیصد کم قیمت پر روس سے تیل خریدنے کا معاہدہ کر رہے تھے،عمران خان

    مذکورہ بالا تینوں یورپی رہنماؤں کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے کہ جب یوکرین نے ایک بار پھر جنوب اور مشرق میں روس کی پیشقدمی کو روکنے کے لیے مزید ہتھیاروں کی فراہمی کے لیے درخواست کی ہے۔

    اس تناظر میں یوکرینی افواج کی قیادت کرنے والے میجر جنرل دمیترو مارچینکو نے کہا ہے کہ اگر انہیں صحیح ہتھیار بروقت فراہم کیے جائیں تو یوکرینی فوج روس کے خلاف فتح حاصل کر سکتی ہے۔

    روس اور چین کے خلاف بھارت امریکہ مزاکرات

    تینوں یورپی رہنماؤں کے دورہ کیف کا انتظام کرنے میں کئی ہفتے لگے ہیں کیوںکہ یوکرین میں ان پر شدید تنقید کی جاتی ہے۔ تنقید کی وجہ ان کا یوکرین جنگ کے جواب میں فوری طور پر وہ دوستانہ ردعمل ظاہر نہیں کیا جو امریکہ کا یوکرین کے لیے تھا۔

    روس اپنےآپ کوتنہا نہ سمجھے،ہرمشکل میں ہمیں ساتھ پائےگا:چین کا اعلان

  • روس اپنےآپ کوتنہا نہ سمجھے،ہرمشکل میں ہمیں ساتھ پائےگا:چین کا اعلان

    روس اپنےآپ کوتنہا نہ سمجھے،ہرمشکل میں ہمیں ساتھ پائےگا:چین کا اعلان

    بیجنگ :روس اپنے آپ کوتنہا نہ سمجھے،ہرمشکل میں ہمیں ساتھ پائے گا:چین کا اعلان ،اطلاعات کے مطابق روس کے خلاف مغربی اورنیٹواتحاد کی سازشوں پراپنا ردعمل دیتے ہوئے چین کے صدر شی جن پنگ نےآج روس کے مخالفین پرواضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ چین "خودمختاری اور سلامتی” پر روس کی حمایت جاری رکھے گا،

    چینی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، ژی نے اپنے روسی ہم منصب ولادیمیر پوتن کو فون کال کرتےہوئے تسلی دی کہ روس کے ساتھ ہرمحاذ پرکھڑے ہیں اورچین اور روس کے درمیان تعلقات پہلے سے بہترہوں گے ،چینی صدر نے کہا ہے کہ "چین بنیادی مفادات اور خودمختاری اور سلامتی کے بارے میں روس کی تشویش کو سمجھتا ہے اورچین کبھی بھی روس کو تنہا نہیں چھوڑے گا

    یاد رہے کہ 24 فروری کو روس نے یوکرین کے خلاف اپنی جنگ شروع کرنے کے بعد سے یہ جوڑے کی دوسری فون پر بات چیت تھی، جسے ماسکو "خصوصی فوجی آپریشن” کا نام دیتا ہے۔

    یہ بھی یاد رہے کہ روس اس وقت مغربی ممالک اور یورپی یونین کے زیرعتاب ہے اوریورپی یونین اور امریکہ کی قیادت میں مغربی ممالک نے روس پر تنقید اور سزاؤں کی بارش کر دی ہے، جس سے وہ اس وقت دنیا کا سب سے زیادہ پابندیوں والا ملک بن گیا ہے۔

    تاہم، بیجنگ نے ماسکو کے یوکرین پرحملے پرروس کی مذمت سے نہ صرف انکار کیا ہے بلکہ یہ واضح کردیا ہے کہ یہ روس کا اندرونی معاملہ ہے جس پربیرونی قوتوں کومداخلت کا کوئی حق نہیں پہنچتا ، چین نے امریکہ اوردیگرامریکی اتحادیوں کے پرزورمطالبے کے باوجود تنازع کے حل کے لیے بات چیت اور سفارتی اقدامات کواختیارکرنے کی اہمیت پرزوردیا ہے

    سرکاری روزنامہ گلوبل ٹائمزکے مطابق چینی صدر نے اس بات کی تصدیق کی کہ چین نے "ہمیشہ خود اس معاملے کی تاریخ اور خوبیوں کی بنیاد پر آزادانہ فیصلے کیے ہیں،” انہوں نے "تمام فریقوں سے یوکرین کے بحران کے مناسب حل کے لیے ذمہ داری کے ساتھ زور دینے کے لیے اپنے مطالبے کا اعادہ کیا،” اور مزید کہا کہ بیجنگ "اس سلسلے میں اپنا مناسب کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔”

    رپورٹ میں کہا گیا کہ انہوں نے پوتن کو یہ بھی بتایا کہ چین اقوام متحدہ، برکس اور شنگھائی تعاون تنظیم سمیت کثیرالجہتی فورمز پر "ہم آہنگی بڑھانے کے لیے تیار ہے”۔

  • ہتھیارڈال دیں ورنہ !! روس کی یوکرینی فوج کو آخری وارننگ:سیورو دونیسک شہرمیں لڑائی جاری

    ہتھیارڈال دیں ورنہ !! روس کی یوکرینی فوج کو آخری وارننگ:سیورو دونیسک شہرمیں لڑائی جاری

    ماسکو :روسی افواج بڑی حکمت عملی سے آگے بڑھ رہی ہیں اور اب تو روس یوکرین کے ایک بڑے شہرپرقبضہ کرنے کی پوزیشن میں آگیا ہے ، اس حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جس میں یوکرین کے ایک شہر میں فوجی پسپا پوگئے جن کو روسی فوج کی جانب سے آخری وارننگ دی گئی ہے۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق روسی فوج نے سیورو دونیسک شہر میں محصور یوکرینی فوجیوں کو آخری انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ہتھیار ڈال دیں۔روسی افواج بڑے بڑے اسپیکروں کے ذریعے شہر کے مختلف حصوں میں آوازیں دے رہے ہیں ، ادھر یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ روسی افواج نے سیورو دونیسک کے صنعتی مرکز میں بچ جانے والے یوکرینی فوجیوں کا رابطہ منقطع کرنے کیلئے شہر کے تینوں پلوں کو تباہ کردیا ہے۔

    یوکرینی حکام نے بھی تصدیق کی ہے کہ اس علاقے میں روس کی فوج نے یوکرین کے فوجیوں کو آخری انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ہتھیار ڈال کر دیں۔

    یوکرین کی فوج نے اپنے فیس بک اکاؤنٹ کے پیج میں بھی اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ اس کے فوجی سیورو دونیسک شہر سے پسپا ہوگئے ہیں اور تقریبا 500 سے زائد یوکرینی شہری آزوت کیمیائی کارخانے میں محصور ہوگئے ہیں۔علاوہ ازیں روسی افواج نے سیورو دونیسک کے صنعتی مرکز میں بچ جانے والے یوکرینی فوجیوں کا رابطہ منقطع کرنے کی کوششیں تیز کرتے ہوئے شہر کے تینوں پلوں کو تباہ کردیا ہے۔

    دوسری طرف عالمی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے ایک ویڈیو بیان میں قوم سے خطاب کے دوران کہا ہے کہ وہ روس کے تباہ کن حملوں کے سامنے ڈٹے رہیں گے اورکبھی بھی ہتھیار نہیں‌ڈالیں گے ۔یوکرینی صدر نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ مشرقی خطے میں ہونے والی لڑائی آنے والے چند ہفتوں میں باقاعدہ جنگ کا رخ طے کرے گی۔

  • روس اور چین کے خلاف بھارت امریکہ مزاکرات

    روس اور چین کے خلاف بھارت امریکہ مزاکرات

    اپریل میں بھارت اور امریکہ کے درمیان اعلیٰ سطحی مزاکرات اور اہم ملاقاتیں ہو ئیں – وزیراعظم مودی اور صدر بائیڈن نے بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر، وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ اور ان کے امریکی ہم منصبوں کے درمیان مزاکرات سے پہلے ایک حیرت انگیز ورچوئل سمٹ کا اعلان کیا گیا جو ( سمٹ فارمیٹ ڈائیلاگ )یوکرین میں جوہری جنگ کے بڑھتے ہوئے خطرے کے درمیان ہوا ہے۔

    بھارت اور امریکہ کے درمیان واشنگٹن میں ہونے والی مزاکرات کے دوران یوکرینکے معاملے پر اتفاق نہ ہو سکا جبکہ دیگر معاملات پربھارت امریکہ معاہدوںپر اتفاق کیا گیا اور معاندوں کا بھی اعلان کیا گیا ۔جو گزشتہ سال بھارت میں امریکی دفاع اور خارجہ سکریٹریز کے مزاکرات کے تیسرے دور میں کیا گیا. امریکی صدر بائیڈن کے اقتدار سنبھالنے کے بعد پہلی بار بھارت امریکہ 2+2 وزارتی اجلاس بلایا گیا ہے۔ا

    بھارت امریکہ مزاکرات کوخطے کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں اہم قرار دیا جارہا ہے کیونکہ بھارت نے یوکرین میں روسی جارحیت کی مذمت کے لیے مغربی اور امریکی دباؤ کے سامنے جھکنے سے انکار کر دیا ہے۔ بھارتی حکومت نے روسی تیل کی درآمد روکنے کی امریکی درخواست کو بھی مسترد کر دیا۔ اور تو اور بھارت نے امریکی اور یورپی یونین کی پابندیوں کی توثیق کرنے سے بھی انکار کر دیا تھا، تاہم بھارتی اقدامات نے روس پر مزید اقتصادی دباؤ ڈالنے کی مغربی کوششوں کو شدید نقصان پہنچایا۔

    امریکی محکمہ خارجہ کی اہلکار وینڈی شرمین کا کہنا ہے کہ واشنگٹن چاہے گا کہ بھارت، روس کے ساتھ اپنی شراکت داری سے الگ ہو جائےجبکہ امریکی وزیر تجارت جینا ریمنڈو نے کہا کہ وہ بھارت کی جانب سے روس سے تیل خریدنے کے فیصلے پر سخت مایوس ہیں، نائب صدر NSA دلیپ سنگھ جب بھارت آئے اور آکر بتایا کہبھارت کی جانب سے پابندیوں کی خلاف ورزی کے نتائج برآمد ہوں گے، وائٹ ہاؤس کی نیشنل اکنامک کونسل کے ڈائریکٹر برائن ڈیز نے کہا کہ سنگھ نے بتایا ہےکہ ماسکو کے ساتھ زیادہ واضح اسٹریٹجک صف بندی کے نتائج اہم اور طویل مدتی ہوں گے۔

    بھارت امریکہ 2+2 وزارتیمزاکرات، روس کا یوکرین پر حملہ اور بھارت کی سخت پوزیشن لینے میں عدم دلچسپیی اخبارات کی زینت بنا رہا۔ لیکن اصل دورے سے پہلے کے دنوں میں امریکی پالیسی سازوں نے بھارت امریکہ تعلقات کے حوالے سےمنفی پہلو کو اجاگر کرتے رہے. ایشیائی سلامتی کے مستقبل کے بارے میں امریکہ نے اپنے خدشات کا اظہار بھی کیا ہے.۔امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ انٹونی بلنکن نے 11 اپریلکے مزاکرات کے دوران بھارت میں انسانی حقوق کا مسئلہ اٹھانے کا فیصلہ کیا۔ امرکہ بھارت مذاکرات کے کے دوران اہم اعلانات کے باوجود علاقے میں کشیدگی برقرار ہے۔

    سب سے اہم بات یہ ہے کہ امریکہ نے کاؤنٹرنگ امریکنز ایڈورسریز تھرو سینکشنز ایکٹ (CAATSA) کے تحت بھارت کے خلاف پابندیوں کے ممکنہ اطلاق پر آگے کا راستہ واضح نہیں کیا۔ یہ بھارت کے روسی ساختہ S-400 میزائل دفاعی نظام کی طویل عرصے سے زیر التوا ء خریداری کے ردعمل میں ہے۔اگرچہ یہ خریداری روس کے یوکرین پر حملے سے پہلے کی ہے، لیکن یہ حملہ پابندیوں بھارتے پر پابندیاں لگانے کی راہ ہموار کر رہا ہے .

    دونوں فریقوں نے سہ فریقی فوجی مشق، ٹائیگر ٹرمف کو دوبارہ شروع کرنے کے منصوبے کا اعلان بھی نہیں کیا۔ یہ مشق پہلی بار 2019 میں بڑے دھوم دھام سے شروع کی گئی تھی لیکن اس کے بعد سے اس کا انعقاد نہیں ہوا۔ اس کے علاوہ بھارت امریکہ مزاکرات کے مشترکہ اعلامیے میں امریکہ اور بھارت کے درمیان دیرینہ تجارتی تنازعات کا ذکر نہیں کیا گیا۔ اگرچہ 2+2 وزارتی ڈائیلاگ کا مقصد روزمرہ کے تجارتی مسائل کو ہینڈل کرنا نہیں ہے، لیکن دونوں ممالک کی کاروباری برادریوں کو تشویش ہے کہ تجارتی تنازعات کی فہرست میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

    خطے کی حالیہ جیوسٹریٹیجک صورتحال کے نتیجے میں، پاکستان کو روس کے ساتھ 2+2 فارمیٹ کے مذاکرات میں مزید اختلافات کو دور کرنے اور ان کی اقتصادی اور سٹریٹجک شراکت داری کو مضبوط بنانے کا موقع ملا ہے جو کہ اب علاقائی انضمام کی کلید ہے۔ پاکستان اور روس دونوں ہی کچھ بنیادی سٹریٹجک شعبوں میں مفادات میں ہم آہنگی رکھتے ہیں، جو دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعاون کے مزید امکانات فراہم کرے گا۔اسی طرح حال ہی میں ختم ہونے والے بھارت امریکہ ٹو پلس ٹو ڈائیلاگ نے بھی واشنگٹن کی متعصبانہ پالیسیوں کو بے نقاب کیا ہے.

    حال ہی میں بھارت نے واضح طور پر روس کے خلاف کارروائی میں امریکہ اور مغربی ریاستوں کو پابند کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ بھارت نے UNGA اور UNSC میں روس کے خلاف ووٹ نہیں دیا۔ امریکی درخواستوں کو مسترد کرنے کے ان جرات مندانہ اقدامات کے باوجود، بائیڈن انتظامیہ CAATSA کے تحت ہندوستان پر پابندی عائد کرنے میں ناکام رہی ہے۔

    دوسری طرف، امریکہ اور مغربی ریاستیں دوسری ریاستوں پر سخت دباؤ ڈال رہی ہیں جو روس کا ساتھ دے رہی ہیں یا غیر جانبدار ریاستوں کے طور پر کام کر رہی ہیں۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ترقی پذیر ممالک کے خلاف مغربی اور امریکی اقدامات عروج پر ہیں۔ جبکہ چھوٹی اور کم ترقی یافتہ ریاستیں تیزی سے ان کے مخالفانہ اور امتیازی روش کا شکار ہو رہی ہیں۔نتیجتاً، پاکستان کو اپنے اقتصادی مقاصد کی تکمیل کے لیے روس، چین اور ترکی کے ساتھ اپنے تعلقات کو بڑھانا ہوگا کیونکہ امریکہ کی قیادت میں مغربی بلاک اب تک پاکستان کے اہم کردار، افغانستان امن عمل میں اس کے مثبت اور قائدانہ کردار اور اس کی قربانیوں کو تسلیم کرنے میں ناکام رہا ہے۔

    امریکہ کی قیادت میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے حوالے سے حالیہ امریکی پالیسی نے ہمیں اقتصادی، سیاسی اور سٹریٹجک تعاون کے لیے مغربی کیمپ سے باہر دیکھنے کا کافی موقع فراہم کیا ہے۔ روس کے ساتھ سٹریٹجک تعلقات میں اضافہ پاکستان کو بھارت کے ساتھ دیرینہ تنازعات کو حل کرنے میں مدد دے گا کیونکہ ماسکو کے بھارت کے ساتھ مضبوط تعلقات بھی ہیں۔ کیونکہ بھارت امریکہ ٹو پلس ٹو ڈائیلاگ کا واحد مقصد روس اور چین پر دباؤ ڈالنا اور خطے میں ان کی اقتصادی پیش رفت کو روکنا ہے۔

  • 30 فیصد کم قیمت پر روس سے تیل خریدنے کا معاہدہ کر رہے تھے،عمران خان

    30 فیصد کم قیمت پر روس سے تیل خریدنے کا معاہدہ کر رہے تھے،عمران خان

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کا دبائو ہم پر بھی تھا لیکن ہم نے عوام کے حق میں فیصلے کئے،

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ دنیا نے کورونا پر قابو پانے کے لیے لاک ڈاون لگایا، پاکستان میں بھی لاک ڈاون لگانے کے لیے مجھ پر دباو ڈالا گیا اگر لاک ڈاون لگاتا تو مزدور کیا کرتا،دباو ڈالنے والوں سے پوچھا لاک ڈاون لگایا تو غریب کھانا کہاں سے کھائےگا؟چین نے جہاں لاک ڈاون لگایا وہاں گھروں میں کھانا پہنچایا گیا،کہا گیا عمران خان لاک ڈاون نہیں لگارہا اس پر مقدمہ درج کراو،دنیا اعتراف کررہی ہے کہ ہم نے بہتر اقدامات کیے،بھارت نے لاک ڈاون لگایا تو بیروزگاری اور غربت میں اضافہ ہوا کورونا کے دوران ہم نے انڈسٹری کو چلنے دیا، کورونا کے دوران عوام کو احساس کیش پروگرام کے تحت رقم فراہم کی گئی،پہلے یہ ایک دوسرے کیخلاف لڑتے تھے ایک دوسرے کو چو رکہتے تھے، صحت کارڈ پر مزدور بھی مہنگے اسپتال لاہور کے ڈاکٹرز اسپتال میں علاج کراسکتا تھا

    عمران خان کا کہنا تھا کہ جس حکومت کو نااہل کہتے تھے اس نے معیشت اور غریبوں کو بچایا ہم 30 فیصد کم قیمت پر روس سے تیل خریدنے کا معاہدہ کر رہے تھے، امریکا نے ان کو ہم پر مسلط کیا ہے،ہم نے بجلی بھی 4 روپے فی یونٹ سستی کی، آئی ایم ایف کا ہم پر بھی پریشر تھا،ہماری حکومت نے غریب لوگوں کو ہیلتھ کارڈ دیئے، موجودہ حکومت نے 2 ماہ میں ہمارے ساڑھے 3 سال سے زیادہ مہنگائی کر دی،جب 60روپے 3مہینے میں پیٹرول کی قیمت بڑھائی تو ان کی حقیقت سامنے آئی،اب اور مہنگائی آنے والی ہے، ابھی پٹرولیم مصنوعات اور بجلی کی قیمتیں مزید بڑھیں گی،انہیں عوام کی نہیں امریکا کی فکر ہے، اپنے حقوق کیلئے پرامن احتجاج کی تیاری کریں، حکومت غریب طبقے کو ہماری طرح 12 ہزار روپے دے، چوروں کے ٹولے کو ہمارے اوپر مسلط کیا گیا ہے،بلاول اور فضل الرحمان نے لانگ مارچ کیا ہم نے کوئی پکڑ دھکڑ نہیں کی میں نے تو انہیں کھانا اور کنٹینر دینے کی پیشکش بھی کی، جب راجہ ریاض اپوزیشن لیڈر ہےتو پارلیمنٹ ختم،یہ جب سے اقتدار میں آئے ہیں ملک کا سارا نظام تباہ کر رہے ہیں، یہ اقتدار میں رہ گئے تو ملک کو وہ نقصان پہنچائیں گے جو دشمن بھی نہیں پہنچا سکتا

    بحریہ ٹاؤن کے چئیرمین ملک ریاض کی ایک اور آڈیو لیک ہو گئی-

    ملک ریاض کی ’عمران خان‘ کا پیغام سابق صدر آصف زرداری کو پہنچانے کی مبینہ آڈیو سامنے آگئی

    کرپشن ثابت:برطانیہ نے ملک ریاض کا 10 سالہ ویزہ منسوخ کردیا

    جعلی چیک دینے پر ملک ریاض کے بیٹے پرمقدمہ درج

    شادی شدہ کامیاب مرد سے پیسے کی خاطر جسمانی تعلق رکھنا عورت کی تذلیل ہے۔ فرح سعدیہ

    ‏خواتین کو جب اعتکاف کی مبارکباد دینے جائیں تو صرف مٹھائی لے کر جائیں. شفاعت علی

  • روسی سستےتیل کا بھارت دنیا میں بڑا دوسرا خریدار بن گیا

    روسی سستےتیل کا بھارت دنیا میں بڑا دوسرا خریدار بن گیا

    لاہور:روسی سستےتیل کا بھارت دنیا میں بڑا دوسرا خریدار بن گیا،اطلاعات کے مطابق ایک طرف جہاں روس اور یوکرین کے درمیان جنگ جاری ہے اور اس دوران امریکہ اور نیٹو ممالک کی طرف سے سخت اقتصادی پابندیوں‌کی وجہ سے روس کی منڈیوں میں ایک بحرانی کیفیت سے پیدا ہوگئی تھی وہاں روس کے تیل کے ذخائرسے بھارت نے بہت زیادہ فائدہ اٹھایا اور عالمی معاشی حالات کی درجہ بندی کرنے والے اداروں نے رپورٹ کیا ہے کہ پچھلے ماہ یعنی مئی میں روس بھارت کو دوسرا سب سے بڑا خام تیل فراہم کرنے والا بن گیا،

    رپورٹ کے مطابق، ہندوستانی ریفائنرز نے گزشتہ ماہ روسی تیل کے تقریباً 819,000 بیرل روزانہ حاصل کیے، جبکہ اپریل میں یہ تعداد 277,000 تھی۔جبکہ اس کے ساتھ ساتھ عراق نے ہندوستان کو تیل فراہم کرنے والے سب سے بڑے ملک کے طور پر اپنی پوزیشن برقرار رکھی ہے، جبکہ سعودی عرب جو پہلے دوسرے نمبر پر تھا، تیسرے نمبر پر آ گیا ہے۔

     

    روس نے یوکرین سے جنگ کے پہلے 100 دنوں میں پیٹرول سے 93 بلین ڈالر کمائے

    عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق مجموعی طور پرمئی میں ہندوستان کی تیل کی درآمدات 4.98 ملین بیرل یومیہ رہیں، جو پچھلے مہینے سے 5.6 فیصد اور سال بہ سال تقریباً 19 فیصد زیادہ ہے، کیونکہ گھریلو ریفائنرز بڑھتی ہوئی طلب کے درمیان پیداوار بڑھانے پر مجبور تھے۔

    روس کا یوکرین میں امریکی ہتھیاروں کی کھیپ تباہ کرنے کا دعویٰ

    فروری کے آخر میں شروع ہونے والے یوکرین میں روس کے فوجی آپریشن کے جواب میں مغربی پابندیوں کی وجہ سے تیل کے بہت سے خریداروں نے روسی تیل کولینے سے انکار کردیا تھا ۔ برطانیہ اور امریکہ نے روسی تیل پر پابندیاں لگانے کے لیے اس حد تک آگے بڑھے، یورپی یونین نے بھی چند مہینوں میں اس اقدام کی منصوبہ بندی کی۔ روس، بدلے میں، خریداروں کو راغب کرنے کے لیے اپنے تیل پر ریکارڈ رعایت کی پیشکش کرتا ہے، جس سے چین اور بھارت نے اپنی خریداری میں اضافہ کیا۔

    دنیا ہم سےسستے داموں گندم اوراناج لینےکےلیےعالمی منڈیوں تک رسائی دے:روس

    روس کے ساتھ تعلقات منقطع کرنے کے مطالبات کے باوجود، بھارت نے اعلان کیا کہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے سے بچنے کے لیے اضافی تیل کی سپلائی کی ضرورت ہے، اور نوٹ کیا کہ اس کی روسی درآمدات ملک کی تیل کی مجموعی ضروریات کا محض ایک حصہ ہے۔

  • روس نے یوکرین سے جنگ کے پہلے 100 دنوں میں پیٹرول سے 93 بلین ڈالر کمائے

    روس نے یوکرین سے جنگ کے پہلے 100 دنوں میں پیٹرول سے 93 بلین ڈالر کمائے

    ماسکو: روس نے یوکرین سے جنگ کے پہلے 100 دنوں میں ایندھن کی برآمدات سے 93 بلین ڈالر کمائے۔

    باغی ٹی وی :عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق روس نے یوکرین کے خلاف اپنی جنگ کے پہلے سو دنوں میں معدنی ایندھن کی برآمدات سے 93 بلین ڈالر کمائے امریکی پابندیوں کے باوجود روس سے سب سے زیادہ پیٹرول یورپی یونین کے رکن ممالک نے خریدا۔

    گستاخانہ بیانات،چین کا ردعمل بھی سامنے آگیا

    دنیا بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی برآمدات پر نظرکھنے والے فن لینڈ کے ادارے سینٹر فار ریسرچ آن انرجی اینڈ کلین ایئر نے یہ رپورٹ ایک ایسے وقت پر شائع کی ہے جب یوکرینی حکومت مغربی ممالک سے ماسکو کے ساتھ تجارتی روابط ختم کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے-

    دورہ سعودی عرب میں توانائی پر بات چیت سے زیادہ اہم امور پرتوجہ مرکوزکی جائے گی،جوبائیڈن

    رواں ماہ کے آغاز میں یورپی یونین نے روسی تیل کی درآمد بند کرنے کا اکثریتی فیصلہ کرلیا تھارپورٹ کے مطابق یورپی یونین نے یوکرین کی جنگ کے پہلے 100 دنوں میں روسی ایندھن کی کل برآمدات کا61 فیصد حصہ درآمد کیااس ایندھن کا سب سےبڑا غیر یورپی درآمد کنندہ ملک چین تھا اسی طرح بھارت نے بھی روس سے سستے داموں پیٹرول درآمد کیا ہے جس پر امریکا نے بھارت کو تنبیہ بھی کی تھی۔

    خیال رہے کہ امریکا کی تیل کی خریداری پر پابندی کے بعد سے روس نے ردعمل میں پیٹرول خریدنے والے ممالک کو رعایتی قیمتوں پر ایندھن کی پیشکش کر رکھی ہے۔

    روس کا یوکرین میں امریکی ہتھیاروں کی کھیپ تباہ کرنے کا دعویٰ