Baaghi TV

Tag: روس

  • معاشی مشکلات میں گھرے ملک سری لنکا نے روس سے تیل خرید لیا

    معاشی مشکلات میں گھرے ملک سری لنکا نے روس سے تیل خرید لیا

    کولمبو:معاشی و سیاسی بحران میں گھرے سری لنکا نے روس سے خام تیل حاصل کیا ہے۔اطلاعات کے مطابق اے ایف پی کے مطابق سری لنکا کو اپنی آزادی سے لے کر اب تک کے بدترین بحران کا سامنا ہے۔ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات سمیت دیگر ضروری اشیا کی کمی ہے۔ حکومتی آئل ریفائنری سیلون پیٹرولیم کارپوریشن مارچ میں فارن ایکسچینج بحران کے باعث بند ہو گئی تھی اور حکومت خام تیل درآمد نہیں کر سکی تھی۔

    سری لنکا کے انرجی منسٹر کنچانا وجیسیکیرا نے کہا کہ روسی تیل ایک مہینے سے کولمبو کی پورٹ پر تھا، لیکن ملک کے پاس ادائیگی کے لیے ساڑھے سات کروڑ ڈالر نہیں تھے۔

    سری لنکا روس پر امریکی پابندیوں کے باوجود ماسکو سے براہ راست خام تیل، کوئلے، ڈیزل اور پٹرول کے حصول کے لیے مذاکرات کر رہا ہے۔ یورپی یونین کے لیڈران تیل سمیت روس پر دیگر پابندیاں لگانے کے لیے پیر کو ملاقات کر رہے ہیں۔

    یاد رہے کہ پاکستان میں بھی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیاہے جبکہ سابق وزیراعظم عمران خان با ربار کہہ رہے ہیں کہ میں روسی صدر سے بات کرچکا تھا کہ پاکستان کو پٹرول سستے داموں ملے لیکن امریکہ کے کہنے پر حکومت ختم کردی گئی

    یاد رہےکہ کل رات پاکستان میں پٹرول، ڈیزل،مٹی کے تیل کی قیمت میں 30 روپے فی لٹر اضافہ کردیا گیامفتاح اسماعیل نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ایک لٹر پٹرول 179.86روپے، ڈیزل 174.15 روپے، لائٹ ڈیزل 148.31 روپے جبکہ مٹی کا تیل 155.56 روپےفی لٹر ہوگا۔

    وزیر خزانہ نے کہا کہ جب تک پٹرول کی قیمت نہیں بڑھائیں گے آئی ایم ایف قرض نہیں دے گا، عمران خان فارمولے پر جاؤں تو ڈیزل 305 روپے کا ہوگا، حکومت نے غریب لوگوں کی پروٹیکشن کا فیصلہ کیا ہے۔مفتاح اسماعیل نے کہا کہ سابق حکومت میں فروری تک پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں اضافہ ہوا، سابق حکومت نے پٹرول کی قیمت کو فکسڈ رکھا۔

    وزیر خزانہ نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کے لیے عوام پر کچھ نہ کچھ بوجھ ڈالنا ناگزیر ہوگیا، پٹرول پر سبسڈی کا امیر اور غریب دونوں فائدہ اٹھا رہے ہیں۔مفتاح اسماعیل نے کہا کہ 15 دن میں 55 ارب روپے کا نقصان برداشت کر چکے ہیں، سابق حکومت کی پالیسیوں کے باعث آج مہنگائی کا سامنا ہے،عمران خان کی حکومت معاشی بارودی سرنگیں بچھا کر گئی ہے۔

    وزیر خزانہ نے کہا کہ پہلے دن سےکہہ رہا تھا کہ عوام پر کچھ نہ کچھ بوجھ ڈالنا ناگزیر ہے، سول حکومت چلانے کا خرچہ 42 ارب اور سبسڈی سوا سو ارب روپے ہے، 15دن میں 55ارب روپے کا نقصان برداشت کرچکے ہیں۔بعد ازاں وزارت خزانہ نے پٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا۔

  • روس  کا ہائپر سونک کروز میزائل کا کامیاب تجربہ

    روس کا ہائپر سونک کروز میزائل کا کامیاب تجربہ

    روس نے ہائپر سونک کروز میزائل ’زرکون‘ کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق روسی وزارت دفاع نے بتایا کہ یہ میزائل بحیرہ بیرنٹس میں تعینات بحری جہاز سے داغا گیا اور اس سے 1 ہزار کلومیٹر دور آرکٹک بحیرہ وائٹ میں موجود ہدف کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے کامیاب تجربے کو ایک “عظیم کارنامہ‘‘ قرار دیا ہے۔

    شمالی کوریانےبیلسٹک میزائلوں کے تین تجربات کردیئے

    رپورٹ کے مطابق ہائپر سونک ہتھیار کا تازہ ترین تجربہ اس وقت ہوا ہے جب روس یوکرائن کے ساتھ جنگ میں مصروف ہے یہ ہتھیار آواز کی رفتار سے پانچ سے دس گنا زیادہ رفتار تک پہنچ سکتا ہے اور اس کی زیادہ سے زیادہ رینج تقریبا 1000 کلومیٹر ہے۔

    واضح رہے کہ حال ہی میں شمالی کوریا نے جنوبی کوریا اور امریکا کی سربراہی ملاقات کے چند روز بعد ہی تین بیلسٹک میزائل کے تجربات کیے تھے غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق جنوبی کوریائی فوج نے کہا تھا کہ شمالی کوریا نے بدھ کی صبح اپنے مشرقی ساحل سے تین بیلسٹک میزائل فائر کیے ہیں۔

    ن کے اہم علاقے لیمان پر روس کا قبضہ ہوگیا

    جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف نے کہا تھا کہ تین بیلسٹک میزائل شمالی کوریا کے دارالحکومت پیانگ یانگ کے سنان علاقے سے ایک گھنٹے سے بھی کم فاصلے پر فائر ہوئے۔

    واضح رہے کہ یہ تجربات ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب جنوبی کوریا اور امریکی رہنماؤں کے درمیان مشترکہ فوجی مشقوں اور امریکی ہتھیاروں کی تعیناتی کو بڑھانے پر چند دن پہلے ہی اتفاق ہوا تھا-

    امریکا، بھارت، جاپان اور آسٹریلیا:روس اورچین کے خلاف ڈٹ گئے

  • یوکرین کے اہم علاقے لیمان پر روس کا قبضہ ہوگیا

    یوکرین کے اہم علاقے لیمان پر روس کا قبضہ ہوگیا

    ماسکو:روس اور یوکرین کے درمیان جنگ میں ابھی تک شدت بڑھتی ہی جارہی ہے اور روسی افواج بڑی حکمت عملی سے آگےبڑھ رہی ہیں ، دوسری طرف یہ بھی روس نے یوکرین کے اہم تزویراتی مشرقی علاقے لیمان پر قبضے کا دعویٰ کیا ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق روسی وزارت دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ لیمان روس اور علیحدگی پسند فورسز کے مکمل کنٹرول میں آچکا ہے، علیحدگی پسندوں اور روسی مسلح افواج کے مشترکہ آپریشن میں لیمان کا قبضہ حاصل کیا گیا۔

    لیمان پر قبضے کی لڑائی کے دوران کتنا جانی و مالی نقصان ہوا ہے اس حوالے سے فی الحال تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔دوسری جانب امریکی صدر جو بائیڈن کا کہنا ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن یوکرین کی شناخت اور کلچر کو مٹانے کے ایجنڈے پر کام کررہے ہیں۔

    یو ایس نیول اکیڈمی میں گریجویشن تقریب سے خطاب کے دوران ان کا کہنا تھا کہ روسی افواج یوکرین میں اسپتالوں، اسکولوں، نرسریز اور عجائب گھروں کو بلاتفریق نشانہ بنارہی ہیں، جس کا مقصد اس کے علاوہ کچھ نہیں کہ یوکرین کی علیحدہ شناخت کو مٹادیا جائے۔

    یاد رہے کہ روس اور یوکرین کی جنگ کو شروع ہوئے اس وقت 3 ماہ سے زائد عرصہ گزر چکا ہے۔جنگ کے دوران یوکرین اور روس کے سیکڑوں فوجی ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ یوکرین میں شہریوں کی ہلاکتوں کی اطلاعات ہیں۔یوکرین پر اُمید تھا کہ اس جنگ میں نیٹو اور امریکا اس کی مدد کریں گے مگر انہوں یوکرین کو روس کے مقابلے کیلئے تنہا چھوڑ دیا۔

  • روس چھوڑنے والی مغربی کمپنیاں کواپنی بقا کا مسئلہ درپیش ہوگیا

    روس چھوڑنے والی مغربی کمپنیاں کواپنی بقا کا مسئلہ درپیش ہوگیا

    ماسکو:روس چھوڑنے والی مغربی کمپنیاں کواپنی بقا کا مسئلہ درپیش ہوگیا ،اطلاعات کے مطابق روس چھوڑنے والی مغربی کمپنیوں سے متعلق سخت ترین فیصلے کرلئے گئے

     

     

    غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق روس ایک نئے قانون کو پاس کرنے پر غور کررہا ہے جس کی مدد سے وہ مغربی کمپنیوں کے مقامی کاروبار کو اپنے کنٹرول میں لے سکا گا جو یوکرین پر ماسکو کے حملے کے بعد وہاں سے نکلنے کا فیصلہ کررہی ہیں۔

     

     

    اس نئے قانون کی وجہ سے روس سے نکلنے کی کوشش کرنے والی مغربی کثیرالقومی کمپنیوں کے لئے خطرہ بڑھ گیا ہے، یہ قانون جو آئندہ ہفتے لاگو ہوسکتا ہے، روس کو مداخلت کے وسیع اختیارات دے گا جہاں مقامی ملازمتوں یا صنعت کو خطرہ ہو۔

     

     

    اس قانون کے بعد مغربی کمپنیوں کے لئے خود کو نقصان سے بچانا مزید مشکل ہوجائے گا جس سے وہ بڑا مالی نقصان اٹھاسکتی ہیں، غیر ملکی سرمایہ کاروں کی جائیدادیں ضبط کرنے کے قانون کی تجویز مغربی کمپنیوں جیسے کہ میکڈونلڈ، اسٹاربکس اور بریور اے بی انبیو کے اخراج کے بعد سامنے آئی ہے۔

     

     

    یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا ہے جب روسی معیشت پر مغربی پابندیوں کی وجہ سے دباؤ بڑھانے کی کوشش کی گئی،گوکہ دنیا کا سب سے بڑا فرنیچر برانڈ آئیکا، فاسٹ فوڈ چین برگر کنگ اور سینکڑوں چھوٹی فرم کا اب بھی روس میں کاروبار جاری ہے، لیکن نئے قانون کی منظوری کے بعد کوئی بھی کمپنی روس چھوڑنے کی کوشش کریگی تو اسے سخت لکیر کا سامنا کرنا پڑے گا۔

     

    ادھر روسی فیصلے کے بعد آئیکا نے روس میں تمام امور کو معطل کردیا ہے، کمپنی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ پابندیوں سے متعلق نئے روسی فیصلے کو قریب سے دیکھا جارہا ہے اور تمام آپشنز پر غور جاری ہے، برگر کنگ نے فوری تبصرے سے انکار کیا ہے۔

  • روس یوکرین جنگ چوتھا مہینہ شروع:جنگ تیز

    روس یوکرین جنگ چوتھا مہینہ شروع:جنگ تیز

    لندن :روس یوکرین جنگ چوتھا مہینہ شروع:جنگ تیز،اطلاعات کے مطابق روس کے یوکرین پر حملے کو اب تک تین ماہ کا عرصہ مکمل ہوچکا ہے، دوسری طرف امریکہ کی جانب سے روس پر مغربی پابندیاں عائد کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔

    تازہ ترین رپورٹ کے مطابق يوکرين پر روسی حملے کو چوتھا ماہ لگ گيا، ڈونباس پر حملے تيز کردیے گئے، روس نے يوکرين کے مشرقی ڈونباس خطے ميں لوہانسک پر بمباری اور حملے تيز کرديے ہيں۔

    لوہانسک کے گورنر نے دعویٰ کيا ہے کہ روس نے پورے خطے پر قبضہ کرنے کے مقصد سے مزيد ہزاروں فوجی طلب کرليے ہيں اور شہريوں کے ليے انخلاء کا وقت اب گزر چکا ہے۔

    يوکرين پر روسی حملے کو شروع ہوئے اب چوتھا ماہ شروع ہوگيا ہے۔ يوکرينی صدر وولودمير زيلنسکی نے بتايا کہ تين ماہ ميں روس نے پندرہ سو ميزائل حملے اور تين ہزار سے زائد فضائی حملے کيے ہيں۔ اس جنگ کی وجہ سے اب تک چھ ملين سے زائد يوکرينی شہری بے گھر ہوچکے ہيں۔

    عالمی اداروں کا کہنا ہے کہ روس پر عائد کی جانے والی پابندیوں سے صرف روس ہی نہیں بلکہ دیگر ممالک بھی متاثر ہوسکتے ہیں۔

    دوسری جانب یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلینسکی نے کہا ہے کہ روس کے ساتھ امن مذاکرات حقیقت پسند‘ لگنے لگے ہیں مگر نتیجے پر پہنچنے کے لیے اب بھی وقت چاہیے۔

  • یوکرین جنگ سے معاشی طور پر متاثرہ ممالک میں پاکستان بھی شامل

    یوکرین جنگ سے معاشی طور پر متاثرہ ممالک میں پاکستان بھی شامل

    اقوام متحدہ نے پاکستان کو یوکرین جنگ میں متاثر ہونے والے ممالک میں شامل کردیا۔

    باغی ٹی وی : رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے معاشی و سماجی کمیشن برائے ایشیا اور پیسیفک (یو این ای ایس سی اے پی) نے خطے کے خصوصی صورتحال والے ممالک میں پاکستان سمیت 12 ممالک کو شامل کرلیا ہے، ان ممالک کو یوکرین سمیت دیگر جاری جنگوں سے متاثر ہونے والے ممالک کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔

    بھارت روس سے کتنا تیل لے رہا؟ تحریک انصاف کے پروپیگنڈے کی حقیقت سامنے آ گئی

    ’یوکرین میں جنگ :اثرات، ایکسپوجر، ایشیا اور پیسیفک میں پالیسی مسائل‘ کے نام سے آن لائن جاری کی گئی رپورٹ کے مطابق 12 ممالک کے معاشی ڈھانچے موجودہ صورتحال کے سبب بُری طرح متاثر ہوئے ہیں۔

    پالیسی رپورٹ کے مطابق ان ممالک کو توانائی اور خوارک کی بُلند قیمتوں، کم بیرونی مالیاتی آمد، مالیاتی لاگت میں اضافے اور کاروباری جذبے میں اچانک تبدیلی نے متاثر کیا ہے۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ ان ممالک میں آرمینیا، کمبوڈیا، جورجیا، قازقستان، کیرباتی، مالدیپ، پاکستان، صومالیہ، ساموا، جزیرہ سلیمان، سری لنکا، تاجکستان اور وانواتو شامل ہیں۔

    توانائی کے حوالے سے پالیسی پیپر کے مطابق توانائی کے حوالے سے کمبوڈیا، پاکستان، جزیرہ سلیمان اور وانواتو کو توانائی کی بڑھتی قیمتوں نے ایشیا پیسیفک کے دیگر ممالک کےمقابلےمیں متاثر کیا ہے، جبکہ پاکستان اور سری لنکا بیرونی قرضوں اور قرضوں کی ادائیگی کے باعث زیادہ بے نقاب ہوئے ہیں پاکستان بیرونی قرضوں اور بینکنگ سیکٹر سے زیادہ متاثر ہے۔

    پیوٹن کی حکمت عملی کامیاب رہی:روسی کرنسی کی قیمت میں ڈالر کےمقابلے میں ریکارڈ…

    ای ایس سی اے پی، ایشیا پیسیفک کے ان ممالک سے رابطے میں ہے جو یوکرین جنگ کے باعث زیادہ متاثر ہوئے ہیں، پاکستان، سری لنکا اورمالدیپ میں خواتین آجروں کو ای کامرس اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ کے حوالے سے ٹریننگ دے رہے ہیں قازقستان اور تاجکستان میں سپلائی چین کنیکٹیویٹی پرکوویڈ 19 وبائی امراض کے اثرات کا جائزہ؛ سری لنکا میں پائیدار مال کی نقل و حمل کے بارے میں پالیسی مشورہ اور پاکستان، قازقستان، سری لنکا، ساموا اور تاجکستان میں مالی وسائل کو بہتر کرنے کے پالیسی آپشنز پر بھی غور کر رہا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق عالمی توانائی اورخوراک کی قیمتوں میں اضافےسے مہنگائی سے غریب گھرانے زیادہ متاثر ہوئے ہیں اسی وقت، بڑھتی ہوئی افراط زر کے درمیان بڑھتی ہوئی شرح سود گھرانوں کی بیلنس شیٹ، سرمایہ کاروں کے اعتماد اور حکومتوں کی قرض کی خدمت کی صلاحیت کو متاثر کر رہی ہے۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ خوراک کی بڑھتی قیمتوں سے غریبوں کو محفوظ رکھنے کے لیے حکومتوں کو سبسڈی دینی چاہیے اور اس بات کو یقینی بنایا جانا چاہیے کہ ان سبسڈی اسکیموں سے ضرورت مندوں کو فائدہ ہوگا، تاہم اس ک لیے مضبوط مالی صورتحال کی ضرورت ہوگی جو کہ عالمی وبا کے بعد ایشیا پیسیفک خطے میں پہلے ہی خراب ہوچکی ہے مالیاتی گنجائش کو بڑھانے اور عوامی قرضوں کی پائیداری کو برقرار رکھنے کے لیے، مختلف مالیاتی اور مالیاتی پالیسی کے اختیارات دستیاب ہیں اور انہیں فوری بنیادوں پر تلاش کیا جانا چاہیے۔

    روس یوکرین تنازع دنیا کی پہلی ’ہائبرڈجنگ‘ ہے، صدر مائیکرو سافٹ

    معاشی غیر یقینی صورتحال میں اضافے کے باعث عالمی سرمایہ کار محفوظ منڈیوں کی جانب منتقل ہو رہے ہیں، جس کے سبب دنیا بھر کے ترقی پذیر ممالک کے خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے ان ٹرانسمیشن چینلز کے ذریعے، جنگ کے نتیجے میں کمزور اقتصادی ترقی، وسیع مالیاتی اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے اور خطے میں زیادہ مالیاتی اخراجات ہوں گے۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ یہ دیکھتے ہوئے کہ ایشیا پیسیفک کے زیادہ تر ملک توانائی اور خوراک کے خالص درآمد کنندگان ہیں، خوراک کا ‘کنزیومر پرائس انڈیکس’ کی باسکٹ میں 40 فیصد حصہ ہے، مارچ 2022 میں خطے میں اوسط مہنگائی بڑھ کر 7 اعشاریہ 3 فیصد ہوگئی تھی۔

    اسی طرح پاکستان میں بھی اپریل 2022 میں مہنگائی کی شرح 13 اعشاریہ 4 فیصد ہوگئی جو مرکزی بینک کے ہدف سے دگنی شرح ہے مجموعی گھریلو استعمال کو کم کرنے کے علاوہ، خوراک اور توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں غریب گھرانوں کو غیر متناسب طور پر متاثر کرے گی۔

    پالیسی کے منتخب اختیارات کی تجویز کرتے ہوئے، پالیسی پیپر میں کہا گیا ہے کہ ممالک کو کم از کم عارضی طور پر، تجارتی لبرلائزیشن اور متاثرہ مصنوعات کے لیے سہولت کاری کے اقدامات کو تجارت اور سرمایہ کاری کےشعبے میں قلیل مدتی پالیسیوں کے طور پرمتعارف کرانا چاہیے۔ درمیانی مدت میں، ممالک ڈیجیٹل تجارتی سہولت کاری کو تیز کر سکتے ہیں جو تجارتی لاگت کو کم کرنے، ترسیل کے اوقات کو کم کرنے اور خراب ہونے والی زرعی مصنوعات کے نقصانات کو کم کرنے میں مدد کر سکتے ہیں۔

    روبل میں لین دین،روسی کرنسی کی قدر میں حیران کن اضافہ

    خطے کے ممالک کو مالی اضافے اور پالیسی کی ساکھ کو بہتر کرنے کے لیے متعدد مالیاتی آپشنز پر کام کرنا ہوگا، یہ ممالک عارضی طور پر اشیائے ضروریہ پر ٹیکس کو کم اور قومی ایمرجنسی مالیاتی میکانزم کی کوریج میں اضافہ کر سکتے ہیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا کہ ایشیا پیسیفک خطے میں برآمدات کی کارکردگی ملی جلی ریکارڈ کی گئی، تاہم برآمدی نمو میں آنے والے مہینوں میں اضافے کی توقع ہے۔ وسیع معنوں میں کمزور برآمدی آمدنی اور کم ہوتی سرمایہ کاری، منفی ‘ٹرمز آف ٹریڈ’ کے ساتھ ادائیگیوں کے توازن پر بڑا دباؤ ڈال سکتی ہے۔

    مزید بتایا گیا کہ کچھ اشاریوں کے مطابق سیاحتی سرگرمیوں کے جذبے کو بھی ٹھیس پہنچی ہے یشیا اور پیسیفک میں سفر سے متعلق متعدد ویب سائٹس پر سماجی بات چیت کی بنیاد پر مارچ اور اپریل 2022 میں سیاحت کے جذبے میں کمی دیکھی گئی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق یوکرین کی جنگ کے سبب عالمی بُلند شرح سود اور معاشی غیر یقینی کی صورتحال سے ایشیا پیسیفک حکومتوں کی مالیاتی لاگت میں اضافہ ہوا ہے۔ اس کے علاوہ جنگ کے باعث خطے کے زیادہ تر معیشتوں میں توانائی اور اشیائے ضروریہ پر بُلند سبسڈی اخراجات اور کم محصولات کے سبب مالیاتی صورتحال کمزور ہوئی ہے خطے میں اوسط مالیاتی خسارے کا جی ڈی پی تناسب میں 2019 میں ایک اعشاریہ 3 فیصد کے مقابلے میں 2020 اور 2021 میں 5 اعشاریہ 3 فیصد تک پہنچنا بھی خطرے کی علامت ہے۔

    خوراک کی شدید قلت کے باعث ہم بھوک سے مرنے والے ہیں، سری لنکن وزیراعظم کی دنیا سے…

  • پیوٹن کی حکمت عملی کامیاب رہی:روسی کرنسی کی قیمت میں ڈالر کےمقابلے میں ریکارڈ اضافہ

    پیوٹن کی حکمت عملی کامیاب رہی:روسی کرنسی کی قیمت میں ڈالر کےمقابلے میں ریکارڈ اضافہ

    ماسکو:روسی صدرامریکی سازشوں کے مقابلے میں ڈٹ کرکھڑے ہوگئے،اطلاعات ہیں کہ روسی صدر ولادی میر پیوٹن کی زبردست حکمت عملی سے روس کی کرنسی روبل کی قیمت میں یورو اور ڈالر کے مقابلے میں تاریخی اضافہ ہوا ہے۔

    درحقیقت روبل کی قیمت میں یہ 5 سال کے دوران ہونے والا سب سے زیادہ اضافہ ہے اور ایسا یورپی کمپنیوں کی جانب سے روسی گیس کی ادائیگی روبل میں کرنے سے ہوا ہے۔

    روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے یکم اپریل سے روسی گیس کی ادائیگی روبل میں کرنے کے احکامات دیتے ہوئے کہا تھا کہ غیرملکی کمپنیوں نے ادائیگیاں نہیں کیں تو معاہدے روک دیے جائیں گے۔

    20 مئی کو روبل کی قیمت میں یورو کے مقابلے میں 9 فیصد جبکہ ڈالر کے مقابلے میں 4 فیصد اضافہ ہوا ، جس کے بعد روسی کرنسی کو 2022 میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی کرنسیوں میں شامل کرلیا گیا ہے۔اب ایک یورو کی قیمت 61.10 روبل ہوگئی ہے اور یہ سطح جون 2015 میں دیکھی گئی تھی جبکہ ایک ڈالر 59.10 روبل کا ہوگیا ۔

    2022 کے دوران ڈالر کے مقابلے میں روبل کی قیمتوں میں 30 فیصد تک اضافہ ہوا ہے اور وہ بھی اس وقت جب روس کو مالیاتی بحران کا سامنا ہے ۔روس نے 19 مئی کو کہا تھا کہ اس کی گیس کمپنی گیس پروم کے 54 صارفین نے گیس پروم بینک میں اکاؤنٹس کھولے ہیں اور یورپین کمپنیوں کی جانب سے گیس سپلائی کے لیے ادائیگیوں کو بروقت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

    روبل پر حکومتی کنٹرول، درآمدات میں کمی اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافے سے روبل کی قیمت میں یوکرین کے حملے بعد سے 20 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

    خیال رہے کہ حال ہی میں جرمنی اور اٹلی نے اپنی کمپنیوں کو روسی گیس کی ادائیگی کے لیے روبل اکاؤنٹس کھولنے کی اجازت دے دی تھی۔جرمنی اور اٹلی نے برسلز سے مشاورت کے بعد اہم تجارتی فیصلہ کیا ہے جس کے بعد دونوں ملکوں کی کمپنیوں کو روسی گیس کی ادائیگی کے لیے روبل اکاؤنٹس کھولنے کی اجازت دی گئی ہے۔

    31 مارچ 2022 کو روبل میں ادائیگیوں کے احکامات جاری کرتے ہوئے روسی صدر نے امریکا پر تنقید کرتے ہوئےکہا کہ امریکا دوسروں کے خرچے پر اپنے مسائل حل کرنے کی کوشش کرے گا اور عالمی عدم استحکام سے منافع کمائےگا۔

    پیوٹن نے کہا کہ روس کے خلاف معاشی جنگ سالوں قبل شروع ہوگئی تھی، روس کے خلاف پابندیوں کا مقصد اس کی ترقی کو نقصان پہنچانا ہے، مغربی پابندیاں پہلے سے تیارکی گئی تھیں اور اب مغرب پابندیوں کی نئی وجوہات تلاش کرنے کی کوشش کرےگا۔

    روس کی جانب سے یوکرین پر حملے کے بعد امریکا اور برطانیہ سمیت متعدد یورپی ممالک روس پر معاشی پابندیوں کا اعلان کر چکے ہیں مگر روس سے گیس کی خریداری میں کوئی کمی نہیں۔گیس پروم کے 50 سے زیادہ بین الاقوامی خریداری میں سے متعدد پہلے ہی روبل اکاؤنٹس کھلو اچکے ہیں ۔

  • ماریوپول میں سترہ سو یوکرینی فوجیوں نے ہتھیار ڈال دیئے:روسی دعویٰ

    ماریوپول میں سترہ سو یوکرینی فوجیوں نے ہتھیار ڈال دیئے:روسی دعویٰ

    ماسکو:روس نے دعوٰی کیا ہے کہ اس کے زیرکنٹرول شہر ماریوپول میں ایک ہفتے کے دوران سترہ سو سے زائد یوکرینی فوجیوں نے ہتھیار ڈال دیے جبکہ دوسری جانب امریکا کیف میں اپنا سفارتخانہ دوبارہ کھولنے جارہا ہے۔غیر ملکی خب رساں ادارے کے مطابق یوکرین نے ماریوپول میں اپنے فوجیوں کو پیچھے ہٹنے کا حکم دیا تھا۔

    روس نواز علیحدگی پسندوں کے سربراہ ڈینس پشلین نے بدھ کو مقامی نیوز ایجنسی ڈی این اے کو بتایا کہ یوکرین کے ٹاپ کمانڈر جنہوں نے اسٹیل فیکٹری کے اندر سے زبردست مزاحمت کی وہ ابھی تک اس کے اندر ہی ہیں۔

    یوکرین کی جانب سے تصدیق کی گئی ہے کہ منگل کو 250 سے زائد فوجیوں نے ہتھیار ڈالے تاہم یہ نہیں بتایا کہ ابھی مزید کتنے فوجی اندر ہیں۔روس نے بدھ کو بتایا کہ مزید 694 فوجیوں نے ہتھیار ڈال دیئے ہیں، جس کے بعد کُل تعداد 959 ہوگئی ہے۔

    ماریوپول کے میئر بوئیچونکوف کا کہنا ہے کہ یوکرینی صدر زیلنسکی، ریڈ کراس اور اقوام متحدہ مذاکرات میں شامل تھے، تاہم انہوں نے مزید کوئی معلومات نہیں دیں۔

    یاد رہے، ماریوپول اب تک کا سب سے بڑا شہر ہے جس پر روس نے قبضہ کیا ہے اور 24 فروری سے شروع ہونیوالی جنگ کے بعد اسی شہر پر قبضے کی وجہ سے صدر پیوٹن نے جزوی فتح کا دعوٰی کیا تھا۔

    امریکی وزیر خارجہ اینٹونی بلنکن کا کہنا ہے کہ روس کے ناجائز حملے کے جواب میں یوکرین کے عوام اپنی سرزمین کا دفاع کررہے ہیں اور اس کی بدولت ہی ایک بار پھر ہماری ایمبیسی فعال ہورہی ہے۔

  • روبل میں لین دین،روسی کرنسی کی قدر میں حیران کن اضافہ

    روبل میں لین دین،روسی کرنسی کی قدر میں حیران کن اضافہ

    روسی کرنسی روبل کی قدر میں سنہ 2015 کے بعد حیران کن اضافہ سامنے آیا ہے۔اطلاعات کے مطابق روس کے اہم سی آئی بینک کے مطابق گیس کی فروخت کی وجہ سے روبل کی قدر میں اضافہ ہوا ہے۔جون سن 2015 کے بعد گزشتہ سات برسوں میں پہلی مرتبہ روسی کرنسی روبل کی ڈالراور یورو کے مقابلے میں قدر میں اضافے نے ماہرین کو ششدر کر دیا ہے۔

    روس کے مطابق یورپ کے چون اہم کسٹمرز نے گیزپروم بینک میں جمعرات انیس مئی کو اکاؤنٹ کھلوائے ہیں۔ان کسٹمرز کو ہدایت دی گئی تھیں کہ وہ گیس کی خریداری کی قیمت روسی کرنسی روبل میں ادا کریں اور اس مناسبت سے ماسکو حکومت کی مہلت بھی ختم ہونے کو ہے۔ان اکاؤنٹس کے کھلوانے کی ایک بڑی وجہ یورپی یونین کے ایگزیکٹیو کی جانب سے رکن ریاستوں کو دی گئی وہ رعایت ہے جس کے تحت وہ روسی گیس کی خریداری کا سلسلہ جاری رکھ سکتی ہیں بشرطیکہ اس عمل سے پابندیوں کی خلاف ورزی نہ ہو۔

    ماہرین کا خیال ہے کہ روبل کی قدر میں اضافے کی سب سے اہم وجہ ماسکو حکومت کا یورپی اقوام کو گیس و تیل کو خریداری پر ادائیگیاں یورو کی بجائے روبل میں کرنے کا فیصلہ ہے۔

    جمعہ بیس نومبر کی صبح یورپی کرنسی یورو کے مقابلے میں روبل کی قدر میں پانچ فیصد سے زیادہ کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ بظاہر ماسکو کے بازارِ حصص کی مجموعی حیثیت عدم استحکام کا شکار دکھائی دیتی ہے۔ امریکی ڈالر کے مقابلے میں روبل کی قدر میں اضافہ چار فیصد بتایا گیا ہے۔

    روبل کی قدر میں اضافہ ایسے وقت میں دیکھا گیا جب روس کو ایک بڑے اقتصادی بحران کا سامنا ہے۔ اس بحران کی اہم ترین وجہ روس کی یوکرین کے خلاف فوج کشی ہے۔ رواں برس اب تک روبل نے ڈالر کے مقابلے میں اپنی قدر میں تیس فیصد اضافہ کیا ہے۔

  • روس کا یوکرین میں جدید ترین لیزر ہتھیار استعمال کرنے کا اعلان

    روس کا یوکرین میں جدید ترین لیزر ہتھیار استعمال کرنے کا اعلان

    ماسکو: روس نے یوکرین میں جدید ترین لیزر ہتھیار استعمال کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔تفصیلات کے مطابق روس کے نائب وزیر خارجہ یوری بوری سوف نے ٹی وی پر اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ روس یوکرین میں زادیرا سسٹم کا استعمال کرنے جا رہا ہے۔

    جدید ترین لیزر ہتھیاروں پر مشتمل زادیرا لیزر سسٹم 5 کلو میٹر کے فاصلے پر اپنے اہداف کو تباہ کرنے، ڈیڑھ ہزار کلومیٹر کی رینج میں نگرانی کرنے والے تمام سیٹلائٹس کو جام کرنے، مختلف قسم کے ڈرون طیاروں کو تباہ کرنے اور مہنگے ترین میزائلوں کو چلنے سے روکنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    یوری بوری سوف نے انٹرویو میں کہا کہ زادیرا سسٹم یوکرین کی سرحدوں پر قائم روسی فوجی اڈوں کے لیے ارسال کیا جا رہا ہے اور ان ہتھیاروں کی فرسٹ جنریشن کا استعمال جلد شروع کر دیا جائے گا۔

    ادھر روس کی قومی سلامتی کونسل کے نائب صدر دمیتری میدودوف نے کہا ہے کہ روس تیسری عالمی جنگ شروع کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔انھوں نے ساروف نامی ایٹمی مرکز کے دورے کے موقع پر کہا ہمارے جدید ترین، قابل اعتماد اور مؤثر ہتھیاروں کے ذخیرے تیسری عالمی جنگ شروع کرنے کا خواب دیکھنے والوں کے عزائم خاک میں ملا دیں گے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل دمیتری میدودوف نے نیٹو کے رکن ممالک کی جانب سے یوکرین کو ہتھیاروں کی فراہمی کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ سلسلہ بھرپور ایٹمی جنگ میں تبدیل ہو سکتا ہے۔

    ادھر روسی فوجیوں کی یوکرین کے شہر لوہانسک میں فائرنگ سے 13 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یوکرین کے صوبے لوہانسک میں باغیوں کی مدد سے روسی فوج کی پیش قدمی جاری ہے اور وہ دو دیگر شہروں کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

    لوہانسک کے گورنر نے بتایا کہ روسی فوج کی پیش قدمی میں یوکرین کے 13 شہری ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے جس کے بعد روسی افواج لیسیچانسک اور سیورودونتسک میں داخل ہوگئیں۔

    ادھر یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے الزام عائد کیا ہے کہ روسی فوج نے دونباس ریجن کو مکمل طور پر تباہ کردیا ہے۔ دونباس خطہ دونیسٹک اور بیسن نامی شہروں سے مل کر بنا ہے۔یوکرین میں انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ روسی حملوں کے نتیجے میں ہونے والی جنگ کے دوران 225 سے زائد بچے ہلاک ہوچکے ہیں۔

    دریں اثناء امریکی صدر نے یوکرین کو 40 ارب ڈالر کی مالی امداد دینے کی منظوری دیدی جب کہ یوکرین کو حال ہی میں ورلڈ بینک کی جانب سے 530 ملین ڈالر کی امداد موصول ہوئی ہے۔