Baaghi TV

Tag: روس

  • روبل میں لین دین،روسی کرنسی کی قدر میں حیران کن اضافہ

    روبل میں لین دین،روسی کرنسی کی قدر میں حیران کن اضافہ

    روسی کرنسی روبل کی قدر میں سنہ 2015 کے بعد حیران کن اضافہ سامنے آیا ہے۔اطلاعات کے مطابق روس کے اہم سی آئی بینک کے مطابق گیس کی فروخت کی وجہ سے روبل کی قدر میں اضافہ ہوا ہے۔جون سن 2015 کے بعد گزشتہ سات برسوں میں پہلی مرتبہ روسی کرنسی روبل کی ڈالراور یورو کے مقابلے میں قدر میں اضافے نے ماہرین کو ششدر کر دیا ہے۔

    روس کے مطابق یورپ کے چون اہم کسٹمرز نے گیزپروم بینک میں جمعرات انیس مئی کو اکاؤنٹ کھلوائے ہیں۔ان کسٹمرز کو ہدایت دی گئی تھیں کہ وہ گیس کی خریداری کی قیمت روسی کرنسی روبل میں ادا کریں اور اس مناسبت سے ماسکو حکومت کی مہلت بھی ختم ہونے کو ہے۔ان اکاؤنٹس کے کھلوانے کی ایک بڑی وجہ یورپی یونین کے ایگزیکٹیو کی جانب سے رکن ریاستوں کو دی گئی وہ رعایت ہے جس کے تحت وہ روسی گیس کی خریداری کا سلسلہ جاری رکھ سکتی ہیں بشرطیکہ اس عمل سے پابندیوں کی خلاف ورزی نہ ہو۔

    ماہرین کا خیال ہے کہ روبل کی قدر میں اضافے کی سب سے اہم وجہ ماسکو حکومت کا یورپی اقوام کو گیس و تیل کو خریداری پر ادائیگیاں یورو کی بجائے روبل میں کرنے کا فیصلہ ہے۔

    جمعہ بیس نومبر کی صبح یورپی کرنسی یورو کے مقابلے میں روبل کی قدر میں پانچ فیصد سے زیادہ کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ بظاہر ماسکو کے بازارِ حصص کی مجموعی حیثیت عدم استحکام کا شکار دکھائی دیتی ہے۔ امریکی ڈالر کے مقابلے میں روبل کی قدر میں اضافہ چار فیصد بتایا گیا ہے۔

    روبل کی قدر میں اضافہ ایسے وقت میں دیکھا گیا جب روس کو ایک بڑے اقتصادی بحران کا سامنا ہے۔ اس بحران کی اہم ترین وجہ روس کی یوکرین کے خلاف فوج کشی ہے۔ رواں برس اب تک روبل نے ڈالر کے مقابلے میں اپنی قدر میں تیس فیصد اضافہ کیا ہے۔

  • روس کا یوکرین میں جدید ترین لیزر ہتھیار استعمال کرنے کا اعلان

    روس کا یوکرین میں جدید ترین لیزر ہتھیار استعمال کرنے کا اعلان

    ماسکو: روس نے یوکرین میں جدید ترین لیزر ہتھیار استعمال کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔تفصیلات کے مطابق روس کے نائب وزیر خارجہ یوری بوری سوف نے ٹی وی پر اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ روس یوکرین میں زادیرا سسٹم کا استعمال کرنے جا رہا ہے۔

    جدید ترین لیزر ہتھیاروں پر مشتمل زادیرا لیزر سسٹم 5 کلو میٹر کے فاصلے پر اپنے اہداف کو تباہ کرنے، ڈیڑھ ہزار کلومیٹر کی رینج میں نگرانی کرنے والے تمام سیٹلائٹس کو جام کرنے، مختلف قسم کے ڈرون طیاروں کو تباہ کرنے اور مہنگے ترین میزائلوں کو چلنے سے روکنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    یوری بوری سوف نے انٹرویو میں کہا کہ زادیرا سسٹم یوکرین کی سرحدوں پر قائم روسی فوجی اڈوں کے لیے ارسال کیا جا رہا ہے اور ان ہتھیاروں کی فرسٹ جنریشن کا استعمال جلد شروع کر دیا جائے گا۔

    ادھر روس کی قومی سلامتی کونسل کے نائب صدر دمیتری میدودوف نے کہا ہے کہ روس تیسری عالمی جنگ شروع کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔انھوں نے ساروف نامی ایٹمی مرکز کے دورے کے موقع پر کہا ہمارے جدید ترین، قابل اعتماد اور مؤثر ہتھیاروں کے ذخیرے تیسری عالمی جنگ شروع کرنے کا خواب دیکھنے والوں کے عزائم خاک میں ملا دیں گے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل دمیتری میدودوف نے نیٹو کے رکن ممالک کی جانب سے یوکرین کو ہتھیاروں کی فراہمی کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ سلسلہ بھرپور ایٹمی جنگ میں تبدیل ہو سکتا ہے۔

    ادھر روسی فوجیوں کی یوکرین کے شہر لوہانسک میں فائرنگ سے 13 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یوکرین کے صوبے لوہانسک میں باغیوں کی مدد سے روسی فوج کی پیش قدمی جاری ہے اور وہ دو دیگر شہروں کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

    لوہانسک کے گورنر نے بتایا کہ روسی فوج کی پیش قدمی میں یوکرین کے 13 شہری ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے جس کے بعد روسی افواج لیسیچانسک اور سیورودونتسک میں داخل ہوگئیں۔

    ادھر یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے الزام عائد کیا ہے کہ روسی فوج نے دونباس ریجن کو مکمل طور پر تباہ کردیا ہے۔ دونباس خطہ دونیسٹک اور بیسن نامی شہروں سے مل کر بنا ہے۔یوکرین میں انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ روسی حملوں کے نتیجے میں ہونے والی جنگ کے دوران 225 سے زائد بچے ہلاک ہوچکے ہیں۔

    دریں اثناء امریکی صدر نے یوکرین کو 40 ارب ڈالر کی مالی امداد دینے کی منظوری دیدی جب کہ یوکرین کو حال ہی میں ورلڈ بینک کی جانب سے 530 ملین ڈالر کی امداد موصول ہوئی ہے۔

  • یورپی ممالک کےفیصلےامریکا کےاشاروں پرکیےجاتےہیں:روس

    یورپی ممالک کےفیصلےامریکا کےاشاروں پرکیےجاتےہیں:روس

    ماسکو روس نے یورپی یونین اور امریکا پر کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی ممالک کے فیصلے امریکا کے اشاروں پر کیے جاتے ہیں۔

    آج بروزبدھ روس کے ریڈیو اسپٹنک کو دیے گئے ایک انٹرویو میں وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماریا زخاروف نے کہا کہ یورپ کے فیصلوں اور بیانات کا انتظامی مرکز درحقیقت یورپی اتحاد کے رکن ممالک کی سرزمین پر نہیں ہے۔

    ترجمان وزارتِ خارجہ ماریا زخاروف کا کہنا تھا کہ یورپی یونین کے ذمے داران کے بیانات امریکی ہدایات کے زیر اثر ہوتے ہیں اور اس بات کا جاننا بہت دشوار ہو گیا ہے کہ یورپی یونین کے کون سے فیصلے خود مختار اور آزاد حیثیت سے کیے جاتے ہیں۔

    یورپی ممالک کے فیصلوں کے حوالے سے روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا کا کہنا تھا کہ ان کی حکمت عملی کیا ہے، وہ کیا چاہتے ہیں اور کس چیز کے لیے کوشاں ہیں، ان باتوں کو کوئی نہیں سمجھ سکتا۔

    رواں سال 24 فروری کو یوکرین میں روس کے فوجی آپریشن کے آغاز کے بعد سے مغربی اتحادی ممالک جن میں امریکا، برطانیہ، کینیڈا اور فرانس سرفہرست ہیں، یوکرین کے ساتھ کھڑے ہو گئے اور اس دوران روس پر کئی طرح کی کڑی پابندیاں عائد کر دی گئیں۔

    واضح رہے کہ 27 رکن ممالک پر مشتمل یورپی ممالک کے اتحاد یورپی یونین میں شامل اکثر ممالک نے مشرقی یورپی ملک یوکرین پر زور دیا ہے کہ وہ یورپی یونین اور نیٹو اتحاد میں شمولیت اختیار کر لے تاہم روس کے نزدیک یہ سرخ لکیر کے مترادف ہے۔

  • روس کا پیمانہ صبرجواب دے گیا:فن لینڈ کی بجلی بند کرنےکا اعلان

    روس کا پیمانہ صبرجواب دے گیا:فن لینڈ کی بجلی بند کرنےکا اعلان

    ماسکو: روس نے فن لینڈ کی بجلی بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ فن لینڈ کی بجلی ادائیگیوں میں مشکلات کے باعث معطل کی جائے گی۔

    غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق فن لینڈ کی گرڈ کمپنی کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ روسی آر اے او یوٹیلیٹی انٹر آج سے فن لینڈ کو بجلی برآمد بند کرے دے گی۔جب کہ روس کا کہنا ہے کہ ہم آج سے شروع ہونے والی بجلی کی فراہمی بند کرنے پر مجبور ہیں۔

    روس کے فن لینڈ میں قائم آر اے او کے ذیلی ادارے کے مطابق روس سے درآمد شدہ بجلی کی ادائیگی کرنے کے قابل نہیں ہے۔

    فنگرڈ کی نائب صدر ریما پاؤینن نے کہا کہ فن لینڈ میں بجلی کی وافر مقدار کو کوئی خطرہ نہیں ہے، یہ بتاتے ہوئے کہ روس سے بجلی فن لینڈ کی فل کھپت کا صرف 10 فیصد ہے۔انہوں نے کہا کہ کم سپلائی کی تلافی سویڈن سے بڑھتی ہوئی درآمدات کے ساتھ ساتھ جزوی طور پر گھریلو پیداوار سے کی جا سکتی ہے۔

    اطلاعات ہیں کہ روس نیٹو میں شامل ہونے کی وجہ سے فن لینڈ کو قدرتی گیس کی فراہمی بھی بند کر سکتا ہے۔

  • جرمن چانسلر نے برطانیہ پرجوہری حملے کی دھمکی کوروسی پاگل پن کا مظہر قرار دے دیا

    جرمن چانسلر نے برطانیہ پرجوہری حملے کی دھمکی کوروسی پاگل پن کا مظہر قرار دے دیا

    جرمن چانسلر نے روسی مؤقف کو پاگل پن کا مظہر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ روس کا برطانیہ پرجوہری حملے کی دھمکی اگرپاگل پن نہ کہیں تو کیا کہیں‌،ادھراطلاعات کے مطابق جرمن چانسلر کا کہنا ہے کہ یوکرینی جنگ کے حوالے سے روسی مؤقف میں کوئی لچک دیکھائی نہیں دے رہی ہے۔ ادھر روس نے خبردار کر دیا ہے کہ اگر نیٹو روسی سرحدوں کے قریب جوہری ہتھیار نصب کرے گا تو جوابی کارروائی کی جائے گی۔

    غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق جرمن چانسلر اولاف شولز نے یوکرین جنگ کو’پاگل پن‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ گیارہ ماہ گزرنے کے بعد بھی روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے مؤقف میں کوئی تبدیلی نظر نہیں آ رہی ہے۔

    جرمن چانسلر کا مزید کہنا تھا کہ نیٹو فورسز پیچھے نہیں ہٹی ہیں بلکہ مشرقی سرحدوں پر واقع اتحادی ممالک میں اس کی توجہ زیادہ ہو گئی ہے۔ ان کے بقول یوکرین جنگ کی وجہ سے نیٹو اتحاد میں ایک نئی توانائی آئی ہے۔

    اپنے تازہ انٹرویو میں شولس کا یہ بھی کہنا تھا کہ یوکرین جنگ میں روسی افواج کو ہونے والا نقصان بہت زیادہ ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ سوویت یونین اور افغانستان کی ایک دہائی سے زیادہ عرصے تک جاری رہنے والی جنگ میں اسے اتنا نقصان نہیں ہوا تھا جتنا روس کو ان گیارہ مہینوں میں ہو چکا ہے۔

    دوسری جانب، مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے وزرائے خارجہ برلن میں ایک ملاقات کر رہے ہیں، جس میں وہ یوکرین جنگ کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کریں گے۔ اختتام ہفتہ پر ہونے والی ملاقات میں اس جنگ کی حکمت عملی کے علاوہ فن لینڈ اور سویڈن کے اس عسکری اتحاد میں شمولیت کے حوالے سے بھی گفتگو کی جائے گی۔

    تاہم روس نے بالخصوص ہمسایہ ملک فن لینڈ کے اس اتحاد کا ممبر بننے کی خواہش پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔

    روس نے خبردار کیا ہے کہ روسی سرحدوں کے قریب جوہری ہتھیار لانے کے نتیجے میں ماسکو حکومت مناسب احتیاطی تدابیر اختیار کرے گی۔ روسی نائب وزیر خارجہ کے ایک بیان کے مطابق سویڈن اور فن لینڈ کے خلاف روس کا کوئی مخالفانہ رویہ نہیں ہے اور یوں اس میں کوئی منطق نظر نہیں آتا کہ یہ ممالک نیٹو کی رکنیت اختیار کریں۔

    یاد رہے، روس کا کہنا ہے کہ اس کی سرحدوں کے قریب نیٹو فورسز کی تعیناتی اس کی قومی سلامتی کے منافی ہے۔ روس کا کہنا ہے کہ یورپ کی مشرقی سرحدوں کی طرف نیٹو کی توسیع برداشت نہیں کی جائے گی۔

  • انسانی حقوق کونسل نے روس کے ممکنہ جنگی جرائم کی تحقیقات کی منظوری دیدی

    انسانی حقوق کونسل نے روس کے ممکنہ جنگی جرائم کی تحقیقات کی منظوری دیدی

    اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے یوکرین میں روسی فوج کے ممکنہ جنگی جرائم کی تحقیقات کی منظوری دے دی۔اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں یوکرین میں روسی فوج کے ممکنہ جنگی جرائم کی تحقیقات کے لیے پیش کی گئی قرارداد کو 33 ووٹ ملے۔

    کونسل میں پیش کی گئی قرارداد میں یوکرین کے دارالحکومت سمیت مختلف علاقوں میں روسی افواج کی کارروائیوں پر تحقیقات کے لیے کمیشن بنانے کا کہا گیا ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق چین اور مشرقی افریقی ملک نے قرار داد کے خلاف ووٹ دیا جب کہ کیوبا، قازقستان، بھارت، پاکستان، ازبکستان اور وینزویلا کے ممبران نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔انسانی حقوق کونسل نے فوری طور روس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ رضاکاروں کو یوکرین میں عام شہریوں تک رسائی دے۔

    اقوام متحدہ میں روس کے سفیر نے کونسل کے اس فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں پیدا بحران کو حل کرنے اور حقیقی وجوہات پر گفتگو کے بجائے مغرب مجموعی طور پر روس کو کچلنے ایک اور راستہ بنارہا ہے۔
    چین کے سفیر نے بھی قرارداد پر کونسل کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ یہ قرارداد آگ پر تیل کا کام کرے گی۔

  • یومِ فتح پر روسی صدر کی تقریرطاقت، دھمکی اور جنگ کا اظہار تھی:فرانس

    یومِ فتح پر روسی صدر کی تقریرطاقت، دھمکی اور جنگ کا اظہار تھی:فرانس

    پیرس:فرانس کے دوبارہ منتخب ہونے والے صدر ایمانوئیل میکرون نے دوسری عالمی جنگ میں نازی افواج کی شکست کی 77 ویں سالگرہ کے موقع پر منائے گئے روس کے یومِ فتح پر صدر ولادیمیر پیوٹن کی جانب سے کی گئی تقریر کو طاقت، دھمکی اور جنگ جیسے مؤقف کا مظاہرہ قرار دیا ہے۔

    صدر ایمانوئیل میکرون نے کہا کہ یورپ کو اپنے ماضی سے سبق لیتے ہوئے اس امر کو یقینی بنانا چاہیے کہ اگر روس اور یوکرین امن مذاکرات کرتے ہیں تو کسی فریق کی تذلیل نہ کی جائے۔

    فرانسیسی صدر کے مطابق 9 مئی کو دو مختلف تصورات پیش کیے گئے۔ ایک طرف روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے طاقت کا مظاہرہ کرنے، ڈرانے دھمکانے اور جنگ جیسے مؤقف کا اظہار کیا تو دوسری طرف یورپی یونین عوام کی قیادت میں امن کو مستحکم کرنے کے لیے کام کر رہا ہے۔

    صدر ایمانوئیل میکرون نے مزید کہا کہ اُنہیں یقین ہے کہ امن، استحکام اور خوشحالی کا یہ منصوبہ ہمیں جاری رکھنا چاہیے تاکہ ہم زیادہ جمہوری، زیادہ متحد اور زیادہ خود مختار رہ سکیں۔

    صدر ایمانوئیل میکرون کا کہنا تھا کہ مستقبل میں ہمیں امن قائم کرنا ہوگا، ہمیں اس بات کو کبھی بھی نہیں بھولنا چاہیے۔ پہلے ہمیں یہ کام یوکرین اور روس دونوں کے ساتھ کرنا ہوگا کہ وہ مذاکرات کی میز پر بیٹھیں۔ اس بات چیت کی شرائط بھی یوکرین اور روس کو ہی طے کرنا ہوں گی۔

    فرانسیسی صدر کا کہنا تھا کہ یورپ اپنے ماضی سے سبق سیکھے۔ امن ان میں سے کسی ایک یا دوسرے کو نظرانداز کرنے یا خارج کرنے یا کسی کی تذلیل سے نہیں ہوگا جیسا کہ 1918ء میں جرمنی کے ساتھ ہوا تھا۔

  • روسی گيس کی اچانک بندش:یورپ میں مندی کا سبب بنے گی:رپورٹ

    روسی گيس کی اچانک بندش:یورپ میں مندی کا سبب بنے گی:رپورٹ

    پیرس :يورپی بينک برائے تعمیر نو و ترقیات (يورپی بينک فار ری کنسٹرکشن اینڈ ڈيولپمنٹ) نے آج بروز منگل ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں روس کی جانب سے کسی ممکنہ گیس برآمدات کی بندش کے اثرات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔

    بینک نے جاری کردہ اپنی رپورٹ ميں خبردار کيا ہے کہ اگر روس نے گيس کی برآمدات اچانک روک دیں تو اس اقدام کی وجہ سے يورپ، وسطی ايشيا اور شمالی افريقا کے کئی ممالک کی معيشتيں کورونا کی عالمی وبا کے دور جيسی ہو سکتی ہيں۔

    بينک کے مطابق ايسے کسی ممکنہ روسی اقدام سے ان ممالک کی مجموعی قومی پيداوار میں رواں سال دو اعشاريہ تين فيصد اور آئندہ برس دو فيصد کمی واقع ہو سکتی ہے۔

    واضح رہے کہ يورپی بينک برائے تعمیر نو و ترقیات (يورپی بينک فار ری کنسٹرکشن اینڈ ڈيولپمنٹ) کے آپريشنز چاليس ممالک تک پھيلے ہوئے ہيں۔ بینک کے مطابق پچھلے سال بيشتر ملکوں ميں 6.7 کی اقتصادی نمو ديکھی گئی۔

    ادھر امریکی صدر جو بائیڈن کا کہنا ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پوٹن ایک ایسی جنگ میں پھنس گئے ہیں جس سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ہے لیکن امریکا اپنے اتحادیوں سے اس مسئلے کے حل کے لیے صلاح و مشورے کر رہا ہے۔

    امریکی صدر جو بائیڈن نے واشنگٹن کے نواح میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس بات سے خاصے فکر مند ہیں کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے پاس یوکرین کی جنگ سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔ صدر بائیڈن نے کہا کہ وہ صدر پیوٹن کے لیے کوئی راستہ نکالنے کے مقصد سے امریکی اتحادیوں کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں,

  • حالات بتارہے ہیں کہ روس یوکرین سے نہیں نکلے گا:جوبائیڈن

    حالات بتارہے ہیں کہ روس یوکرین سے نہیں نکلے گا:جوبائیڈن

    واشنگٹن :حالات بتارہے ہیں کہ روس یوکرین سے نہیں نکلے گا:اطلاعات کے مطابق امریکی صدر جوبائیڈن نے یہ خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ولادیمیر پوٹن کےیوکرین سے اب واپس نہیں جائے گا ، یا پھر یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ روس کے پاس اب واپسی کا کوئی راستہ نہیں بچا

    امریکی صدر نے روسی رہنما کو "بہت حساب کتاب کرنے والا آدمی” قرار دیا جس نے غلطی سے یہ سمجھا کہ جنگ نیٹو اور یورپی یونین کو تقسیم کر دے گی۔لیکن امریکیی صدرجوبائیڈن کا کہنا تھا کہ حملے نے امریکہ اور اس کے یورپی اتحادیوں کو ایک دوسرے کے قریب کردیا ہے

    بائیڈن نے اعتراف کیا کہ وہ "یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ہم کیا کرتے ہیں” مسٹر پوتن کے باہر نکلنے کے منصوبے کے اشارے نہیں مل رہے

    یہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی کانگریس روس کے خلاف جنگ لڑنے کے لیے مزید اربوں ڈالرز یوکرین کو دینےکے لیے تیار ہے – ڈیموکریٹس فوجی اور انسانی امداد کے لیے $40 بلین (£32 بلین) کی تیاری کر رہے ہیں۔

    یہ سب کچھ روسی صدر ولادیمیر پوتن کے لیے جوابی پیغام کے طور پر کام کرتا ہے، جس نے یومِ یورپ پر قبضہ کیا ہے – 1945 میں جرمنی کے غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کی سالگرہ اور روس کی سب سے بڑی حب الوطنی کی چھٹی – اس حملے کے پیچھے اپنے لوگوں کو اکٹھا کرنے کے لیے بہت کام کیا ہے

  • یوکرین جنگ : ہزاروں لوگوں کی جان بچانے والے کتے کیلئے صدارتی اعزاز

    یوکرین جنگ : ہزاروں لوگوں کی جان بچانے والے کتے کیلئے صدارتی اعزاز

    یوکرین میں جاری جنگ میں ہزاروں لوگوں کی جان بچانے والے کتے کو صدارتی اعزاز سے نوازا گیا۔

    باغی ٹی وی : یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے دارالحکومت کیئو میں ایک تقریب میں پیٹرن نامی کتے کو 200 سے زیادہ بارودی سرنگوں کا سراغ لگانے پر صدارتی اعزاز سے نوازا جبکہ خصوصی تقریب میں کینیڈین صدر بھی موجود تھے۔

    روسی افواج نے یوم فتح منانے سے قبل ایک اورحملہ کردیا

    پیٹرن کو یوکرین میں روس کے خلاف مذاحمت کی علامت کا درجہ دیا گیا ہے، جس کی عمر صرف ڈھائی سال ہے، صدر نے میڈل کی تقریب میں بتایا کہ پیٹرن نہ صرف دھماکہ خیز مواد کو بے اثر کرنے میں مدد کر رہا ہے، بلکہ بچوں کو بارودی سرنگوں والے علاقوں میں ضروری حفاظتی اصول بھی سکھاتا ہے-


    ٹیریر، جس کے نام کا مطلب یوکرین میں "بارود” ہے، شمال مشرقی شہر چرنی ہیو میں روسی بارودی سرنگوں اور دھماکہ خیز مواد کو سونگھتا ہے اور ملک کی ریاستی ایمرجنسی سروس کے شوبنکر کے طور پر کام کرتا ہے۔

    روس کے مقابلےکے لیے امریکہ کی یوکرین کے لیے بڑی امداد کا اعلان

    وہ روس کے خلاف یوکرین کی مزاحمت کی قومی علامت بن گیا ہے یوکرینی سوشل میڈیا روزانہ کی بنیاد پر پیٹرن کے کارنامے پوسٹ کرتے ہیں، اور لوگوں کو بتاتے ہیں کہ ایک دن اس ننھے کتے کی بہادری پر فلم بنائی جائے گی۔


    زیلنسکی نے کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو کے ساتھ ایک نیوز کانفرنس میں پیٹرن اور اس کے مالک میخائیلو ایلیف کو ان کے ایوارڈز پیش کیے، جنہوں نے اتوار کو ملک کا اچانک دورہ کیا۔ جیسے ہی پیٹرن کو اس کا ایوارڈ پیش کیا گیا، ٹروڈو نے اپنی جیبوں کو اس طرح تھپتھپا کر کتے کو خراج تحسین پیش کیا-


    تقریب میں موجود کینیڈین صدر جسٹن ٹروڈو نے اعلان کیا کہ کینیڈا یوکرین کو مزید اسلحہ اور آلات مہیا کرے گا۔

    روس کا جاپانی وزیراعظم پر پابندیاں لگانے کا اعلان