Baaghi TV

Tag: روس

  • روسی افواج نے یوم فتح منانے سے قبل ایک اورحملہ کردیا

    روسی افواج نے یوم فتح منانے سے قبل ایک اورحملہ کردیا

    ماسکو یوکرین جنگ، روسی افواج کی یومِ فتح سے قبل ماریوپول پر مکمل قبضے کی کوششیں جاری ہیں ،اطلاعات کے مطابق روسی افواج نے یوم فتح منانے سے قبل ایک اورحملہ کردیا

    یوکرین کے جنوبی ساحلی شہر ماریوپول کا قبضہ حاصل کرنے کی جنگ اپنے آخری مراحل میں جاری ہے جبکہ روسی افواج کی ہر ممکن کوشش ہے کہ پیر کے روز سے پہلے اسے فتح کر لیا جائے۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق روسی افواج پیر کو وکٹری ڈے یا یومِ فتح سے قبل ماریوپول شہر کا مکمل قبضہ حاصل کرنے کی جدوجہد کر رہی ہیں۔

    واضح رہے کہ 9 مئی کو روس 1945ء میں نازی جرمنی کو شکست دینے کی خوشی میں وکٹری ڈے یا یومِ فتح مناتا ہے۔

    ماریوپول کا مکمل قبضہ حاصل کرنے کی صورت میں روس اس ساحلی شہر اور کریمیا کے درمیان زمینی رابطہ قائم کر سکے گا۔ روس نے سال 2014ء میں کریمیا پر قبضہ کیا تھا جو اب بھی روس نواز علیحدگی پسندوں کے زیر انتظام ہے۔

    دوسری جانب یوکرین کے حکام نے کہا ہے کہ جنوبی ساحلی شہر ماریوپول میں محصور آزوسٹل اسٹیل پلانٹ سے تمام خواتین، بچوں اور عمر رسیدہ افراد کو نکال لیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ، انٹرنیشنل کمیٹی فار ریڈ کراس، روس اور یوکرین کے تعاون سے انخلا کا آپریشن مکمل کیا گیا ہے۔

    خبر رساں اداروں اے ایف پی اور روئٹرز کے مطابق یوکرینی فوجی اب بھی آزوسٹل اسٹیل پلانٹ میں موجود ہیں جبکہ روسی افواج نے اسٹیل پلانٹ کے اردگرد اپنی گرفت مضبوط کی ہوئی ہے۔

    سابق سویت دور کی اسٹیل مل یوکرینی شہر ماریوپول کا واحد حصہ ہے جو یوکرینی فوج کے قبضے میں ہے۔ ماریوپول کئی ہفتوں سے روسی فوج کی شدید بمباری کا نشانہ بنا ہوا ہے۔

  • روس کا جاپانی وزیراعظم پر پابندیاں لگانے کا اعلان

    روس کا جاپانی وزیراعظم پر پابندیاں لگانے کا اعلان

    ماسکو:روس کا جاپانی وزیراعظم پر پابندیاں لگانے کا اعلان،اطلاعات کے مطابق روس نے امریکی اتحادی ملک جاپان کی طرف سے روس پرسخت پابندیوں کی وجہ سے ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے جاپان کے وزیراعظم پرپابندیاں لگانے کا فیصلہ کیا ہے ، روس نے یہ اعلان اس وقت کیا جب امریکہ اور جاپان سمیت دیگراتحادی روس کے خلاف مزید سخت فیصلے کرنے جارہےہیں ،

    ماسکو نے یوکرین کے بحران پر ٹوکیو حکام کے روس میں داخلے پر پابندی لگا دی ہے۔جاپانی وزیر اعظم Fumio Kishida کو روس کی وزارت خارجہ کی جانب سے بدھ کو جاری کردہ پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ وزارت نے بتایا کہ یہ اقدام کشیدا کی انتظامیہ کی زیرقیادت ایک "بے مثال اینٹی روس مہم” کے جواب میں آیا ہے۔

    ماسکو نے 63 حکام اور عوامی شخصیات کو بلیک لسٹ کر دیا ہے جن میں ملک کے وزیر خارجہ، وزیر دفاع، وزیر خزانہ اور انصاف کے وزراء بھی شامل ہیں۔ ان سب پر روس میں داخلے پر پابندی ہے۔

    وزارت خارجہ نے ٹوکیو پر "روسی فیڈریشن کے خلاف ناقابل قبول بیان بازی، جس میں بدنامی اور براہ راست دھمکیاں شامل ہیں” کا الزام لگایا ہے، جسے "عوامی شخصیات، ماہرین اور جاپانی میڈیا کے نمائندوں نے دہرایا ہے، اور ملک کے تئیں مکمل طور پر مغربی تعصب کا نشانہ بنایا گیا ہے”۔

    چونکہ روس نے فروری کے آخر میں یوکرین میں اپنا فوجی آپریشن شروع کیا، جاپان نے ماسکو کے خلاف عائد مغربی پابندیوں کی حمایت کی، جس میں روسی افراد کے اثاثے منجمد کرنا، بعض اشیا کی درآمد پر پابندی لگانا اور کوئلے کی درآمدات کو مرحلہ وار بند کرنا شامل ہے

    روس نے بدھ کے روز جاپانی وزیر اعظم Fumio Kishida اور صحافیوں اور پروفیسروں کے ساتھ ملک کے مختلف سینئر افسران پر پابندی عائد کر دی۔ یہ منتقلی اس وقت ہوئی جب ٹوکیو نے ان اقوام کی فہرست میں شمولیت اختیار کی جنہوں نے یوکرین میں اپنی ‘بحریہ کی مارکیٹنگ مہم’ کے لیے ماسکو کی مخالفت میں تعزیری اقدامات کیے ہیں۔ "F. Kishida کی انتظامیہ نے روس مخالف مارکیٹنگ مہم کا آغاز کیا (اور) بہتان اور براہ راست دھمکیوں کے ساتھ ساتھ، روسی فیڈریشن کے خلاف ناقابل قبول بیان بازی کی اجازت دی،” روس کی بیرون ملک وزارت نے ایک پریس ریلیز میں کہا۔

    جاپان کے بیرون ملک وزیر یوشیماسا ہایاشی اور وزیر دفاع نوبو کیشی بھی روس کی طرف سے ان پابندیوں کے ریکارڈ پر ہیں۔ ماسکو نے کہا کہ پابندیاں توجہ مرکوز کرنے والے افراد کو روس میں غیر معینہ مدت تک داخلے سے روکتی ہیں۔کیف اور اس کے مغربی اتحادی اسے غیر قانونی جدوجہد اور جارحیت کے جھوٹے بہانے کے طور پر مسترد کرتے ہیں۔

    یہ روس کی طرف سے اب تک کی لگائی جانے والی پابندیوں میں سے سب بڑی پابندی کے طور پر جانا جارہا ہے
    روس نے گزشتہ ماہ یوکرین میں کریملن کی ’بحری کارروائیوں‘ پر امریکا کی جانب سے عائد پابندیوں کے جواب میں امریکا کی وائس چیئرمین کملا ہیرس پر سفری پابندی عائد کردی تھی۔

    سفری پابندی میں 27 مختلف امریکی افسران کو شامل کیا، جن میں پینٹاگون کے سینیئر شخصیات، امریکی کاروباری رہنماؤں اور صحافیوں کے ساتھ، روسی وزارت خارجہ کی بنیاد پر، جس نے کہا کہ یہ پابندی ‘ہمیشہ کے لیے عائد رہے گی۔

    سی ای او مارک زکربرگ بھی روسی پابندیوں کی طرف سےمتاثر ہوئے ہیں۔ ایف بی اور انسٹاگرام – زکربرگ کی میٹا بزنس ایمپائرکا ایک حصے پر اس سے قبل روس کی طرف سے پابندی عائد کردی گئی تھی جس نے پلیٹ فارم کو ‘انتہا پسند’ تنظیموں کا نام دیا تھا۔

    اے ایف پی کی خبر کے مطابق، امریکی دفاعی افسران، پینٹاگون کے ترجمان جان کربی اور ڈپٹی سیکرٹری دفاع کیتھلین ہکس روسی پابندیون کا شکارہوسکتی ہیں

    اس سے قبل، برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن – جنہوں نے مسلسل یوکرین کے لیے اپنی مدد کا اظہار کیا ہے – اور برطانیہ کے کئی دیگر وزراء پر یوکرین کی جنگ پر پابندیاں عائد کرنے کے ‘بے مثال معاندانہ اقدامات’ کی وجہ سے پابندی عائد کر دی گئی تھی۔

    ماسکو کی طرف سے جاری کردہ نام نہاد ‘سیز ریکارڈ’ میں ہندوستانی نژاد وزراء – برطانیہ کے چانسلر رشی سنک، رہائشی سکریٹری پریتی پٹیل اور قانونی پیشہ ور بنیادی سویلا بریورمین کے علاوہ برطانیہ کے نائب وزیر اعظم ڈومینک رااب، اوورسیز سکریٹری لِز ٹرس اور دفاع بھی شامل تھے۔ سیکرٹری بین والیس۔
    یاد رہے کہ چند دن پہلی اسی جاپانی وزیراعظم کِشیدا فُومیو نے یوکرائن پر روسی حملے کی شدید مذمت کی تھی۔ انہوں نے یہ اعلان بھی کیا کہ جاپانی حکومت اضافی پابندیاں لگانے اور دیگر اقدامات کرنے جارہی ہے۔

    انہوں نے ان دنوں یہ کہا تھا کہ یہ حملہ بین الاقوامی برادری کی کوششوں کو پس پشت ڈالنے اور موجودہ صورتحال کو یکطرفہ طور پر بزور قوت تبدیل کرنے کی کوشش ہے۔

    وزیراعظم کِشیدا کاکہنا تھا کہ یہ حملہ بین الاقوامی قانون کے صریحاً برعکس ہے، کیونکہ یہ یوکرائن کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے روسی حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے بین الاقوامی نظام کی بنیادوں کو نقصان پہنچا ہے۔

  • روس یوکرین سے مذاکرات کیلئے تیا رہے،پیوٹن

    روس یوکرین سے مذاکرات کیلئے تیا رہے،پیوٹن

    روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے اپنے فرانسیسی ہم منصب عمانوئیل میکرون سے ٹیلی فون پرگفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ماسکو یوکرین کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے۔

    باغی ٹی وی : ” العربیہ ” کے مطابق روس کےسرکاری خبر رساں ادارے تاس کےمطابق صدر پیوٹن نے یوکرینی نمائندوں کے ساتھ مذاکرات کے اصولی طریقوں کا خاکہ پیش کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ کیف کی عدم مطابقت اور سنجیدگی سے کام کرنے کی عدم خواہش کے باوجود روسی فریق اب بھی بات چیت کو تیار ہے۔

    جرمنی میں یوکرینی فوجیوں کی تربیت شروع:روس سخت ناراض

    کریملن نے مزید کہا کہ صدر پیوٹن نے میکرون کو روس کے یوکرین میں ’’خصوصی فوجی آپریشن‘‘ یعنی حملے کی پیش رفت سے بھی آگاہ کیا انہوں نے مغرب سے مطالبہ کیا کہ وہ یوکرین کو ہتھیارمہیا کرنے کا سلسلہ بند کرے-

    روس ور فرانسیسی صدور نے جنگ سے عالمی غذائی سلامتی کو درپیش خطرے پر بھی بات چیت کی ہے اورصدر پیوٹن نے باور کرایا کہ ان کے ملک پر مغرب کی عائد کردہ پابندیوں نے صورت حال کو مزید خراب کردیا ہے۔

    یوکرین میں کسی بھی مغربی ہتھیار کی کھیپ روسی افواج کیلئے ایک جائز ہدف ہو گی،سرگئی…

    واضح رہے کہ گذشتہ ہفتے یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی نے کہا تھا کہ وہ بحران کے خاتمے کے لیے ولادیمیرپیوٹن کے ساتھ بات چیت کو تیار ہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ میں یہ چاہتا ہوں یا نہیں۔ گذشتہ تین سال کے دوران میں جو میرے پاس تھا،جو لوگوں نے مجھے دیا-

    انہوں نے کہا تھا کہ میں روسی صدر سے جنگ کے خاتمے پر بات چیت کرنے کو تیارتھا اب یہ وہی اشارے ہیں (یوکرین کے ساتھ مذاکرات کے بارے میں روس کے بیانات) جو وہ بڑے پیمانے پرحملہ کرنے سے پہلے بھیج رہے تھے مگرمیں ایک بارپھراس بات پر زور دیتا ہوں کہ روس پُرامن تصفیے کے لیے تیارنہیں-

  • تیسری عالمی جنگ کے امکانات بڑھ گئے ہیں :یوکرینی صدر ولودومیر زیلنیسکی

    تیسری عالمی جنگ کے امکانات بڑھ گئے ہیں :یوکرینی صدر ولودومیر زیلنیسکی

    کیف :تیسری عالمی جنگ کے امکانات بڑھ گئے ہیں :اطلاعات کے مطابق روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کے حوالے سے یوکرین کے صدر ولودومیر زیلنیسکی نے دنیا کو تیسری جنگ عظیم کے امکان سے خبردار کیا ہے۔

    عرب ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے یوکرین کے صدر ولودومیر زیلینسکی کا کہنا تھا کہ جنگ فی الحال یوکرین تک محدود ہے اور روس منتقل نہیں ہوئی۔ان کا کہنا تھا کہ یوکرین کی فوج نے اب تک روس کے خلاف فوجی کارروائیوں کا آغاز نہیں کیا ہے، یوکرینی فوج روس پر قبضہ کرنے کی کوئی خواہش نہیں رکھتی، ہماری افواج اپنی سرزمین کا دفاع کر رہی ہیں۔

    ولودومیر زیلینسکی نے کہا کہ ہم روسی فوجیوں کی موجودگی اور مولدووا میں علیحدگی پسندوں سے خوفزدہ نہیں ہیں کیونکہ مولدووا میں علیحدگی پسند غیر تربیت یافتہ اور یوکرینی فوج سے لڑنے سے خوفزدہ ہیں۔

    یوکرین کے صدر نے روسی وزیر خارجہ سرگئی لاؤروف کی جانب سے ہٹلر کے یہودیوں سے تعلق ہونے پر کہنا تھا کہ ان کے بیان سے لگتا ہے کہ روس نے جنگ عظیم دوئم سے سبق نہیں سیکھا۔

    یوکرین کے صدر زیلنسکی کا کہنا ہے کہ یوکرینی فوج نے روس کے خلاف کوئی فوجی کارروائی نہیں کی۔عرب ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے یوکرین کے صدر زیلنسکی کا کہنا تھا کہ جنگ فی الحال یوکرین تک محدود ہے، روس منتقل نہیں ہوئی۔

    یوکرینی صدر نے کہا کہ یوکرین کی فوج نے روس کے خلاف فوجی کارروائی نہیں کی، یوکرینی فوج صرف اپنی سرزمین کادفاع کر رہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ یوکرینی فوج روس پر قبضے کی خواہش نہیں رکھتی۔

    صدر زیلنسکی نے کہا کہ وہ روس کے ساتھ بات چیت کے لیے بھی تیار ہیں، لیکن یہ اسی وقت ممکن ہوگا جب روسی صدر ہم سے ملنے کے لیے تیار ہوں گے۔

    واضح رہے کہ روسی افواج 24 فروری کو یوکرین میں داخل ہوئیں تھیں جسے ایک خصوصی فوجی آپریشن کا نام دیا گیا تھا۔تاہم صدر زیلنسکی کا کہنا ہے کہ یہ جنگ 8 سال پہلے اس وقت شروع ہوئی تھی جب 2014 میں روس نے کریمیا سے الحاق کیا تھا۔

  • پیوٹن کوکینسرہوگیا، اختیارات سابق انٹیلی جنس چیف کو ملنے کا امکان

    پیوٹن کوکینسرہوگیا، اختیارات سابق انٹیلی جنس چیف کو ملنے کا امکان

    لندن :پیوٹن کوکینسرہوگیا، اختیارات سابق انٹیلی جنس چیف کو ملنے کا امکان ،اطلاعات کےمطابق برطانوی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن کی کینسر کی سرجری جلد متوقع ہے اور اس دوران یوکرین جنگ کا اختیار روسی خفیہ ایجنسی کے سابق چیف کو سونپے جانے کا امکان ہے۔

    برطانوی اخبار ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق کریملن کے قریبی ذرائع نے بتایا ہے کہ ولادیمیر پیوٹن کی جلد کینسر کی سرجری متوقع ہے اور چند دنوں کیلئے یوکرین جنگ کے حوالے سے فیصلوں کا اختیار روسی سکیورٹی کونسل کے سربراہ اور خفیہ ایجنسی KGB کے سابق چیف، پیوٹن کے دوست نکولائی پیٹروشیف کو دیا جاسکتا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق ولادیمیر پیوٹن میں 18 ماہ قبل پیٹ کے کینسر اور دماغی بیماری پارکنسنز کی تشخیص ہوئی تھی جبکہ ان میں شیزوفرینیا کی علامات بھی ہیں۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ پیوٹن نے سرجری میں تاخیر کی ہے اور اب سرجری جنگ عظیم دوئم میں روس کی کامیابی کی یاد میں منائے جانے والے وکٹری ڈے کے بعد ہی ممکن ہے۔ وکٹری ڈے 9 مئی کو منایا جاتا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ سرجری اپریل میں ہونی تھی لیکن پیوٹن نے اسے مؤخر کیا لیکن اب ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ مزید تاخیر کرنا خطرناک ہوسکتا ہے۔

    خیال رہے کہ روسی صدارتی محل ہمیشہ سے پیوٹن کی خرابی صحت کے حوالےسے خبروں کی تردید کرتا رہا ہے۔

    پیوٹن کی جانب سے اختیارات نکولائی پیٹروشیف کو سونپے جانے کی اطلاعات پر ناقدین نے تشویش کا اظہار کیا ہے کیوں کہ آئین کے تحت صدر کی غیر موجودگی میں اختیارات وزیراعظم کے پاس جاتے ہیں۔کچھ عرصہ قبل یہ خبریں بھی سامنے آئی تھیں کہ ڈاکٹر نے انہیں مغربی ممالک سے منگوائی جانے والی دوائی شروع کرنے کا کہا تھا۔ ڈیلی میل کے مطابق پیوٹن نے جب یہ دوائی کھانا شروع کی تو ان میں شدید سائیڈ افیکٹس دیکھے گئے اور ان کی کمزوری اور چکر میں اضافہ ہوگیا۔

    رپورٹس کے مطابق جس ڈاکٹر نے دوائی تجویز کی تھی بعد ازاں اسے پیوٹن کے علاج کے عمل سے فارغ کردیا گیا اور غیر دوست ملک سے امپورٹ کی گئی دوا کی بھی جانچ کی گئی۔روس کے ایک جلا وطن صحافی نے حال ہی میں دعویٰ کیا ہے کہ پیوٹن کو تھائیرائیڈ کینسر ہے اور ہر وقت بہترین ڈاکٹرز کی ٹیم ان کے ساتھ رہتی ہے۔

    حال ہی میں کچھ ویڈیوز بھی سامنے آئی تھیں جن میں پیوٹن کے ہاتھ کو لاشعوری طور پر تھرتھراتے ہوئے دیکھا گیا تھا جس سے انہیں پارکنسنز کی بیماری ہونے کی خبروں کو تقویت ملی تھی۔

    ڈیلی میل نے ایک تصویر جاری کی ہے جس میں روسی وزیر دفاع سرگئی شوئیگو کے ساتھ ملاقات میں پیوٹن کو میز کو پکڑ کر بیٹھے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے جبکہ اس میٹنگ کی تصویر میں پیوٹن کے چہرے پر سوجن کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔

  • اگرامریکا اورنیٹویہ چاہتےہیں تویہ کام کریں:روس

    اگرامریکا اورنیٹویہ چاہتےہیں تویہ کام کریں:روس

    ماسکو: اگرامریکا اورنیٹویہ چاہتےہیں تویہ کام کریں:اطلاعات کے مطابق روس نے امریکا اور نیٹو سے یوکرین کو ہتھیاروں کی سپلائی بند کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے شنہوا نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ اگر امریکا اور نیٹو بحران کو حل کرنے میں دل چسپی رکھتے ہیں تو یوکرین کو مسلح کرنا بند کر دیں۔

    چین کے سرکاری میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ روس کے وزیر خارجہ نے ایک بار پھر امریکا اور نیٹو پر زور دیا ہے کہ اگر وہ ‘واقعی یوکرین کے بحران کو حل کرنے میں دل چسپی رکھتے ہیں’ تو انھیں بیدار ہونا چاہیے اور وہ کیف کو ہتھیاروں کی فراہمی بند کر دیں۔

    الجزیرہ کے مطابق امریکا اور کئی یورپی ممالک نے روسی جارحیت کے خلاف جنگ میں یوکرین کو اربوں ڈالر کے ہتھیار فراہم کیے ہیں، امریکی صدر جو بائیڈن نے کانگریس سے یوکرین کی مدد کے لیے 33 ارب ڈالر کی درخواست کی ہے۔

    ماسکو نے بارہا واشنگٹن کو کیف کو فوجی امداد جاری رکھنے کے خلاف خبردار کیا ہے، اور امریکا پر جنگ کے ‘شعلوں پر تیل ڈالنے’ کا الزام لگایا ہے۔ کریملن نے اس سے قبل یوکرین کو مغربی ہتھیاروں کی فراہمی کو یورپی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا تھا۔

    واضح رہے کہ ماسکو کیف پر جلد قبضے کے ہدف میں ناکامی کے بعد اب یوکرین کے مشرقی ڈونباس علاقے میں کارروائیاں تیز کر رہا ہے، تاہم لاوروف نے کہا کہ خصوصی فوجی آپریشن منصوبہ بندی کے مطابق سختی سے جاری ہے۔

    واضح رہے کہ چین نے یوکرین پر روس کے حملے کی مذمت کرنے سے گریز کیا ہے اور ماسکو کے ساتھ اپنی مضبوط دوستی کا دفاع کیا ہے، سرکاری میڈیا پر اکثر جنگ پر روسی مؤقف کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔

  • جرمنی میں یوکرینی فوجیوں کی تربیت شروع:روس سخت ناراض

    جرمنی میں یوکرینی فوجیوں کی تربیت شروع:روس سخت ناراض

    برلن :جرمنی میں یوکرینی فوجیوں کی تربیت شروع:روس سخت ناراض،اطلاعات کے مطابق امریکی افواج جرمنی میں فوجی ساز و سامان کی فراہمی کے ساتھ یوکرینی فوج کو اب تربیت بھی فراہم کر رہی ہیں۔ محکمہ دفاع کے ترجمان جان کربی کا کہنا ہے کہ تربیت کی ذمہ داری فلوریڈا نیشنل گارڈ کو سونپی گئی ہے۔

    امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کے ترجمان جان کربی نے گزشتہ روز ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ امریکا جرمنی میں اپنے فوجی اڈوں پر یوکرین کے فوجیوں کو تربیت فراہم کر رہا ہے اور جدید ہتھیاروں کے نظام کو سیکھنے میں ان کی مدد کر رہا ہے۔

    کربی کا کہنا تھا کہ تربیتی پروگرام جرمن حکومت کے ساتھ ہم آہنگی سے جاری ہے اور امریکا جرمنی کی طرف سے مسلسل حمایت کے لیے شکر گزار ہے۔ اب تک تقریباً 50 یوکرینی اہلکاروں کو طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیار ہوٹزر کی تربیت دی جا چکی ہے۔ یوکرینی فوجیوں کو ریڈار سسٹم اور بکتر بند گاڑیوں کے استعمال کا طریقہ کار بھی سکھایا جائے گا۔

    جان کربی نے بتایا کہ اس تربیت کا بیشتر کام اور ذمہ داری فلوریڈا نیشنل گارڈ کو سونپی گئی ہے۔ اسی امریکی یونٹ نے روسی حملے سے پہلے رواں برس فروری میں یوکرین کی افواج کو تربیت فراہم کی تھی۔

    انہوں نے مزید کہا کہ یوکرینی فوجی واپس جائیں گے اور اپنے دیگر ساتھیوں کو تربیت دیں گے۔ پینٹاگون کے ترجمان نے مزید کہا کہ یوکرینی افواج کی تربیت یورپ کے دیگر حصوں میں بھی ہو رہی ہے تاہم انہوں نے ان مقامات کے بارے میں نہیں بتایا۔

    امریکی صدر جو بائیڈن نے بھی مارچ کے اواخر میں کہا تھا کہ امریکی فوج پولینڈ میں یوکرینی افواج کو تربیت دے رہی ہیں لیکن بعد میں یہ بیان واپس لے لیا گیا تھا۔

    ادھر روس نے یوکرینی افواج کو مسلح کرنے کے خلاف ایک بار پھر مغربی ممالک کو خبردار کیا ہے۔ مارچ میں روس نے مغربی ممالک کو متنبہ کرنے کے لیے پولینڈ کی سرحد کے قریب یوکرین میں ایک تربیتی مرکز پر حملہ کرکے اسے تباہ کر دیا تھا۔

  • گاڑیاں آہستہ چلائیں:روسی ایندھن پرانحصار ختم کرنے کایہی حل ہے:جرمن آٹوکلب

    گاڑیاں آہستہ چلائیں:روسی ایندھن پرانحصار ختم کرنے کایہی حل ہے:جرمن آٹوکلب

    برلن : گاڑیاں آہستہ چلائیں:روسی ایندھن پرانحصار ختم کرنے کایہی حل ہے:اطلاعات کے مطابق جرمن آٹوموبیل ایسوسی ایشن نے اپنے ارکان اور عام شہریوں سے تیل کے استعمال میں کمی لانے کے لیے گاڑیاں آہستہ چلانے کی ہدایت کی ہے۔ اس تنظیم کا ہدف جرمنی میں روسی ایندھن پر انحصار ختم کرنا ہے۔

    جرمن اے ڈی اے سی یورپ میں موٹر گاڑیوں کی سب سے بڑی تنظیم ہے جس نے اپنے 2 کروڑ 10 لاکھ ارکان سے کہا ہے کہ روسی تیل پر انحصار روکنے کے لیے گاڑیوں کا آہستہ رفتار میں اور کم استعمال کریں۔

    اس ایسوسی ایشن نے اپنی ویب سائٹ پر پوسٹ کیے گئے ایک خط میں اپنے ارکان سے یہ بھی کہا کہ وہ ایندھن کی کھپت کو 20 فیصد تک کم کرنے کے لیے گاڑیاں آہستہ رفتار میں چلائیں، صارفین تیل کی کھپت میں کمی کے حوالے سے تجاویز بھی دیں۔

    اس کے علاوہ اے ڈی اے سی نے عوام پر زور دیا کہ وہ اپنی نجی گاڑیوں کے بجائے پیدل چلنے، سائکلنگ اور پبلک ٹرانسپورٹ جیسے متبادل ذرائع استعمال کریں کیونکہ یوکرین پر روسی حملے کے نتیجے میں ذرائع توانائی پر گہرے اثرات پڑ رہے ہیں۔

    جرمن تنظیم کے مطابق یوکرین میں جنگ اور یوکرینی عوام کی ناقابل فہم تکلیف دیکھ کر ہم سب بھی بہت افسردہ ہیں، یہ سب کچھ بے بسی سے دیکھنا ناقابل برداشت ہے۔

    حالیہ ہفتوں کے دوران جرمنی کا توانائی کے شعبے میں روسی درآمدات پر انحصار واضح ہو چکا ہے اس لیے ان درآمدات کو فوری طور پر روکنا ضروری ہے تاکہ ہر فرد اس معاملے میں اپنا حصہ ڈال سکے۔

    جرمن حکومت کا بھی کہنا ہے کہ وہ رواں سال کے آخر تک روس سے ایندھن کی درآمدات سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتی ہے۔ روس کی جانب سے بلغاریہ اور پولینڈ کے لیے گیس کی فراہمی روکنے کے فیصلے کے بعد جرمنی میں کافی بے چینی پائی جاتی ہے۔

  • یوکرین جنگ: اقوام متحدہ کے سیاحتی ادارے نے روس کی رُکنیت معطل کردی

    یوکرین جنگ: اقوام متحدہ کے سیاحتی ادارے نے روس کی رُکنیت معطل کردی

    اقوام متحدہ کی عالمی سیاحتی تنظیم (یو این ڈبلیو ٹی او) نے یوکرین پر حملے کے ردعمل میں روس کی رکنیت فوری طورپرمعطل کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق جارجیا سے تعلق رکھنےوالے یو این ڈبلیو ٹی او کے سیکرٹری جنرل زراب پولولیکا شویلی نے،،رائے شماری کے بعد اپنے ٹوئٹر پر جاری پیغام میں کہا کہ اعمال کے ہمیشہ نتائج ہوں گےامن ایک بنیادی انسانی حق ہے۔سب کو اس کی ضمانت دی جانا چاہیے‘‘۔واضح رہے کہ ان کے آبائی ملک پر 2008 میں روس نے حملہ کیا تھا۔

    287 برطانوی ارکان پارلیمان کی روس میں داخلے پر پابندی عائد


    "روئٹرز” کے مطابق یو این ڈبلیو ٹی او کے 160 رکن ممالک میں سے دو تہائی سے زیادہ نے روس کی رکنیت معطل کرنے کی قرارداد کی حمایت کی ہے۔روس کی جانب سے تنظیم چھوڑنے کے فیصلے کے اعلان سے بہت پہلے رائے شماری کی تاریخ مقرر کی گئی تھی۔اس کے بارے میں یو این ڈبلیو ٹی او نے کہا تھا کہ اسے مکمل ہونے میں ایک سال لگے گا۔


    میڈرڈ میں قائم ادارے کے بدھ کو منعقدہ اس خصوصی اجلاس کی صدارت ہسپانوی وزیرسیاحت ریئس ماروٹو نے کی۔ انھوں نے کہا کہ روس کی یلغارنے اقوام متحدہ کے اساسی اصولوں اور سیاحت کی نمائندگی کرنے والی اقدار مثلاً امن، خوش حالی اور آفاقی احترام کو مجروح کیا ہے۔انھوں نے مخاصمت کے خاتمے پر زور دیا۔


    ہسپانوی حکومت نے ایک بیان میں کہا کہ جب اسمبلی ’’روسی فیڈریشن کی پالیسی میں تبدیلی‘‘کا ادراک کرے گی تورُکنیت معطلی ختم کی جاسکتی ہے۔ اسمبلی کا اگلا اجلاس اب 2023ء میں ہوگا۔

    کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے صحافیوں کو بتایا کہ سیاحت کے فروغ کے لیے تکنیکی معاونت فراہم کرنے والے یو این ڈبلیو ٹی او کو چھوڑنے کے فیصلے سے روس میں سیاحتی شعبے پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

    انھوں نے کہا کہ سیاحت اور خاص طور پراندرونی سیاحت کا شعبہ اپنی ترقی جاری رکھے گا۔انھوں نے وضاحت کیے بغیر کہا کہ سیاحت کے لیے بیرونی رہ نما ہدایات بھی کھلی ہیں جو معیاراورقیمت کے لحاظ سے مسابقت کے سوالات پر زوردیتی ہیں۔

    اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے رواں ماہ کے اوائل میں یوکرین میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی اطلاعات پر روس کی انسانی حقوق کونسل کی رکنیت معطل کرنے کے لیے ووٹ دیا تھا۔اس کے بعد میں ماسکو نے اعلان کیا تھا کہ وہ اس ادارے کو بھی چھوڑ رہا ہے۔

    روس نے یوکرین میں اپنی فوجی کارروائی کے دوران میں حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات کی تردید کی ہے۔وہ یوکرین میں اپنی جنگی مہم کو اس ملک کو غیرمسلح کرنے اور اسے فاشسٹوں سے بچانے کے لیے’’خصوصی آپریشن‘‘ کا نام دیتا ہے۔

    یوکرین اور مغرب کا کہنا ہے کہ روس نے بلااشتعال جارحیت کا ارتکاب کیا ہے اور اب وہ ایک جارحانہ جنگ لڑ رہا ہے۔

    روس اورجرمنی میں اختلافات شدت اختیارکرگئے: 40جرمن سفارت کاروں کوملک چھوڑنےکاحکم

  • روس کے لیے پیغام ہےکہ21 ویں صدی میں کوئی جنگ قابل قبول نہیں:یو این سیکریٹری جنرل

    روس کے لیے پیغام ہےکہ21 ویں صدی میں کوئی جنگ قابل قبول نہیں:یو این سیکریٹری جنرل

    کیف: یو این سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس یوکرین کے دارالحکومت کیف پہنچ گئے۔جہاں انہوں نے کہا ہے کہ روس کے لیے پیغام ہےکہ21 ویں صدی میں کوئی جنگ قابل قبول نہیں

    تفصیلات کے مطابق یو این سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کیف پہنچ گئے ہیں، انھوں نے یوکرین کے مرکزی شہر کیف کے علاقے بورودینکا اور باکا (Bucha) کا دورہ کیا۔ انتونیو گوتریس نے بورودینکا کے دورے کے موقع پر جنگ کو برائی اور مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ 21 ویں صدی میں کوئی جنگ قابل قبول نہیں ہے۔

    واضح رہے کہ یوکرین کے دارالحکومت کیف کے قریب واقع یہ قصبہ روسی قبضے کے دوران تباہ ہو گیا تھا۔

    انھوں نے کہا میں ان گھروں میں سے ایک میں اپنے خاندان کا تصور کرتا ہوں جو اب تباہ اور سیاہ ہو چکے ہیں، میں اپنی پوتیوں کو گھبراہٹ میں بھاگتے ہوئے دیکھتا ہوں، 21 ویں صدی میں جنگ ایک مضحکہ خیز چیز ہے، جنگ بری چیز ہے، جنگ قابل قبول نہیں ہے۔

    گوتریس نے بعد ازاں، باکا قصبے کے دورے کے دوران روس پر بھی زور دیا کہ وہ یوکرین پر حملے کے دوران کیے گئے ممکنہ جنگی جرائم کی تحقیقات کے لیے بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) کے ساتھ تعاون کرے۔انھوں نے کہا میں آئی سی سی کی مکمل حمایت کرتا ہوں اور میں روسی فیڈریشن سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آئی سی سی کے ساتھ تعاون کرے، لیکن جب ہم جنگی جرائم کی بات کرتے ہیں تو ہم یہ نہیں بھول سکتے کہ بدترین جرم خود جنگ ہے۔

    واضح رہے کہ باکا کیف کے باہر ایک قصبہ ہے جہاں روسی فوجیوں کے انخلا کے بعد سینکڑوں مردہ شہری ملے تھے۔