Baaghi TV

Tag: روس

  • روس جنگی جرائم میں ملوث ہے:سخت سزا کیلیےتیاررہے:امریکہ

    روس جنگی جرائم میں ملوث ہے:سخت سزا کیلیےتیاررہے:امریکہ

    واشنگٹن : روس جنگی جرائم میں ملوث ہے:سخت سزا کیلیےتیاررہے:اطلاعات کے مطابق امریکی وزیر نے کہا ہے کہ آج میں یہ اعلان کرسکتا ہوں کہ دستیاب معلومات کے تحت امریکی حکومت اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ روسی افواج کے ممبران نے یوکرین میں جنگی جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی وزیر کا کہنا ہے کہ یہ نتیجہ احتیاط کے ساتھ عوامی اور خفیہ ذرائع سے حاصل معلومات کو جانچنے کے بعد اخذ کیا گیا ہے۔جیسا کہ ہر مبینہ جرم پر ایک قانونی عدالت جس کا دائرہ کار اس جرم پر ہو وہ حتمی طور پر ذمہ دار ہے کہ مخصوص مقدمات میں صحتِ جرم کا تعین کرے۔

    گذشتہ ہفتے امریکی صدر جو بائیڈن نے تبصرہ کرتے ہوئے روسی صدر پوتن کو جنگی مجرم قرار دیا تھا۔

    روسی وزارت خارجہ کی جانب سے پیر کو جاری ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ امریکی صدر کی جانب سے ایسے بیانات اعلیٰ سرکاری عہدیدار کو زیب نہیں دیتے جس سے روس اور امریکہ کے تعلقات ختم ہونے کے دہانے پر آگئے ہیں۔

    امریکی وزیر خارجہ بلنکن کا کہنا ہے کہ روسی افواج نے گھر کی عمارتیں، سکول، ہسپتال، اہم تنصیبات، سولین گاڑیوں، خریداری کے مراکزاور ایمبولینسوں کو تباہ کیا ہے جس سے ہزاروں معصوم سولین مارے گئے ہیں یا زخمی ہیں۔انہوں نے روس پر ایسی عمارتوں کو نشانہ بنانے کا الزام لگایا جو واضح طور پر شہری عمارتوں کے طور پر پہچانی جا سکتی تھیں۔

    بلنکن کا مزید کہنا تھا کہ پیوٹن کی افواج نے یہی طرز عمل گروزنی، چیچنیا، الیپو اور شام میں بھی اپنایا تھا جہاں انگوں نے لوگوں کی ہمت توڑنے کے لیے شہروں میں بمباری تیز کر دی تھی۔

    ہیومن رائٹس واچ کے اسلحہ ڈویژن کی سینئر ریسرچر بونی ڈوچرٹی نے گذشتہ ہفتے کانگرس میں اپنا تحریری بیان جمع کروایا ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ روس نے کلسٹر بم استعمال کیے ہیں اور وسیع علاقے پر اثر کرنے والے دھماکہ خیز ہتھیار استعمال کیے جن کے یوکرین میں سولین اور سول تعمیرات پر تباہ کن اثرات پڑے ہیں۔

    انہوں نے اپنے بیان میں مزید لکھا ہے کہ براہ راست اور دیر پا اثرات کے دستاویزی خاکے دیکھتے ہوئے گنجان آباد علاقوں میں وسیع علاقے پر اثر کرنے والے ہتھیاروں کا استعمال اس پریشانی کو بڑھاوا دیتا ہے کہ ایسے حملے اندھا دھند اور غیر متناسب طور پر کیے گئے جو کہ غیر قانونی تھے۔ وہ افراد جنھوں نے ایسے حملے مجرمانہ نیت سے کیے وہ جنگی جرائم کے ذمہ داری ہیں۔

  • جی سیون ممالک کا روس پرمکمل معاشی پابندیوں کےحوالےسےمشاورت

    جی سیون ممالک کا روس پرمکمل معاشی پابندیوں کےحوالےسےمشاورت

    برسلز:جی سیون ممالک کا روس پر مکمل معاشی پابندیوں کے حوالےسے مشاورت ،اطلاعات کے مطابق جی سیون ممالک کے رہنماؤں نے روس کے خلاف اقتصادی اور مالی پابندیوں کو مکمل طور پر نافذ کرنے کا عندیہ دے دیا ہے۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق بیلجیئم کے دارالحکومت برسلز میں منعقدہ سربراہی اجلاس کے بعد جی سیون ممالک کے رہنماؤں نے مشترکہ بیان جاری کیا۔

    بیان میں رہنماؤں کا کہنا تھا کہ ہم روس پر زور دیتے ہیں کہ وہ یوکرین کے تمام علاقوں سے اپنی فوجی افواج اور ساز و سامان واپس لے۔

    ہسپتالوں اور سکولوں سمیت شہروں کے بنیادی ڈھانچے پر تباہ کن حملوں کی مذمت کرتے ہوئے بیان میں کہا گیا ہے کہ روسی افواج کو حملے سے قبل آبادی کے انخلاء کے لیے محفوظ راستہ فراہم کرنا چاہیے تھا۔

    جارحیت کے معماروں اور حامیوں بشمول روسی صدر پوتن اور بیلاروس کے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو کی حکومت کو ان کے اقدامات کے لیے جوابدہ ٹھہرانے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی جائیگی اور اس مقصد کے لیے اتحادیوں کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔

    بیان میں روس کو خبردار کیا گیا کہ ایسی تمام سرگرمیوں سے روس کو باز رہنا چاہیے جس سے جوہری تنصیبات کو خطرہ لاحق ہو۔ کیمیائی، حیاتیاتی اور جوہری ہتھیاروں یا متعلقہ مواد کا استعمال نہ کیا جائے۔

    رہنماؤں کا مزید کہنا تھا کہ صورتحال پر گہری نظر رکھی جائے گی اور خوراک کے بحران کو روکنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔یاد رہے، جی سیون گروپ جرمنی، امریکہ ، برطانیہ، کینیڈا، فرانس، اٹلی اور جاپان، اور یورپی یونین پر مشتمل ہے۔

  • روس یوکرین جنگ:امریکہ کاروس کوجی20سےنکالنے کا مطالبہ:روس سخت غُصّےمیں‌ آگیا

    روس یوکرین جنگ:امریکہ کاروس کوجی20سےنکالنے کا مطالبہ:روس سخت غُصّےمیں‌ آگیا

    امریکی صدر جو بائیڈن کا کہنا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ روس کو جی 20 کی بڑی معیشتوں کے گروپ سے نکال دینا چاہیے۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق بائیڈن نے برسلز میں جاری عالمی رہنماؤں کی ملاقات کے دوران ایک سوال کے جواب میں کہا ہے کہ روس کو جی 20 نکال دینا چاہیے تاہم، یہ جی 20 پر منحصر ہےلیکن اگر انڈونیشیا اور دیگر ممالک روس کو ہٹانے پر متفق نہیں ہیں تو ان کے خیال میں یوکرین کو اجلاسوں میں شرکت کی اجازت دی جانی چاہیے۔

    دوسری جانب یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ یوکرینیوں کو امن حاصل کرنے اور روسی بمباری کو روکنے کی ضرورت ہے جس نے لاکھوں افراد کو پولینڈ جیسے ملک میں نقل مکانی کرنے پر مجبور کیا ہے جہاں امریکی صدر جو بائیڈن دورہ کر کے بحران کا مشاہدہ کرنے والے ہیں۔

    جمعرات کو برسلز میں نئی ​​فوجی اور انسانی امداد کے اعلان کرنے کے بعد مغربی رہنماؤں نے روس کے حملے کو وحشیانہ قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی جبکہ امریکہ اور برطانیہ نے روس پر پابندیوں کو نئے اہداف تک بڑھادیا۔

    قبل ازیں، واشنگٹن نے درجنوں روسی دفاعی کمپنیوں، پارلیمنٹ کے سینکڑوں ارکان اور ملک کے سب سے بڑے بینک کے چیف ایگزیکٹو پر نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔انتظامیہ کے ایک سینیئر اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پربتایا کہ ہمارا مقصد ان مراعات اور فوائد کو ختم کرنا ہے جو روس نے کبھی بین الاقوامی اقتصادی نظام میں حصہ لینے والے کے طور پر حاصل کیےتھے۔

    اقوام متحدہ کے مطابق روسی حملے جسے صدر ولادیمیر پوتن ایک خصوصی آپریشن کہتے ہیں، نے ہزاروں افراد کو ہلاک کیا جبکہ 36 لاکھ افراد کو ملک چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔

     

  • نیٹو کا روسی سرحد سے متصل ممالک میں افواج بھیجنے کااعلان:روس کی طرف سے سخت جواب دینے کا پلان

    نیٹو کا روسی سرحد سے متصل ممالک میں افواج بھیجنے کااعلان:روس کی طرف سے سخت جواب دینے کا پلان

    برسلز:نیٹو رہنماؤں نے چار نئے فوجی گروپوں کو سلوواکیہ، ہنگری، رومانیہ اور بلغاریہ میں تعینات کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ ان فوجیوں کی تعداد عام طور پر ایک ہزار سے 13 سو فوجیوں کے درمیان تک ہوتی ہے جبکہ چار دیگر گروپ بالٹک ریاستوں اور پولینڈ میں پہلے سے ہی تعینات ہیں۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق جینز سٹولٹن برگ نے کہا کہ جمعرات کو سربراہی اجلاس میں نیٹو رہنماؤں نے یوکرین کو کیمیائی ہتھیاروں کے حملے سے بچانے میں مدد فراہم کرنے کے لیے سامان بھیجنے پر رضا مندی بھی ظاہر کی۔

    نیٹو کے سیکریٹری جنرل جینز سٹولٹن برگ نے کہا ہے کہ فوجی اتحاد کیمیائی اور جوہری ہتھیاروں کے خلاف اپنے دفاع کو تیز کر رہا ہے کیونکہ روس کے یوکرین میں ایسے ہتھیار استعمال کرنے کے حوالے سے تشویش بڑھ گئی ہے۔

    انہوں نے برسلز میں میٹنگ کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ اس میں شناخت کرنے کا سامان، تحفظ، اور طبی امداد کے ساتھ ساتھ آلودگی سے پاک کرنے اور بحران سے نمٹنے کی تربیت شامل ہو سکتی ہے۔جینز سٹولٹن برگ کے مطابق نیٹو کے 30 اتحادی بھی اپنی تیاریاں بڑھا رہے ہیں۔

    نیٹو ممالک کو تشویش ہے کہ روس کی جانب سے ان پر یوکرین میں کیمیائی یا حیاتیاتی ہتھیاروں پر کام کرنے کا جھوٹا الزام لگانے کی کوشش ماسکو کی طرف سے خود اس طرح کے ہتھیاروں کے استعمال کا بہانہ بنانے کی سازش کا حصہ ہے۔

    دوسری جانب برطانیہ یوکرین پر روسی حملے کے خلاف مزید 65 کمپنیوں اور افراد پر پابندیاں لگا رہا ہے۔پابندیوں کا نشانہ بننے والوں میں روس کا سب سے بڑا نجی بینک اور ایک خاتون شامل ہیں جس کے حوالے سے برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ روسی وزیر خارجہ کی سوتیلی بیٹی ہیں۔

  • یوکرین جنگ:ایک ماہ میں روس کے15ہزارفوجی ہلاک ہوئے،نیٹو:حقائق درست نہیں:روس

    یوکرین جنگ:ایک ماہ میں روس کے15ہزارفوجی ہلاک ہوئے،نیٹو:حقائق درست نہیں:روس

    برسلز:یوکرین جنگ:ایک ماہ میں روس کے15ہزارفوجی ہلاک ہوئے،اطلاعات کے مطابق مغربی دفاعی اتحاد نیٹو نے دعویٰ کیا ہے کہ یوکرین جنگ کے ایک ماہ کے دوران روس کے 15 ہزار تک فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔

    ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ میں یوکرین میں روسی فوجیوں کی ہلاکتوں کا موازنہ افغانستان کے ساتھ کیا گیا ہے جہاں 10 سال میں تقریباً 15 ہزار فوجی ہلاک ہوئے تھے۔

     

    نیٹو کے ایک سینیئر فوجی افسر نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرتے ہوئے بتایا کہ فوجیوں کی ہلاکتوں کا اندازہ یوکرین کے حکام کی جانب سے دی جانے والی اطلاعات پر مبنی ہے۔یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے دو ہفتے قبل کہا تھا کہ ان کے تقریباً 13 سو فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔

    یوکرینی صدر روسی حملے کے بعد مسلسل متحرک ہیں اور دنیا کی توجہ حاصل کیے ہوئے ہیں۔ انہوں نے دنیا بھر کے ممالک کے عوام سے اپیل کی کہ وہ آج یوکرین کی حمایت میں باہر نکلیں۔

    نیٹو کے فوجی افسر کا مزید کہنا تھا کہ ایسا لگ رہا ہے کہ روسی فوجیں اب دارالحکومت کیف میں آگے نہیں بڑھنا نہیں چاہتیں جبکہ کیف کے مشرقی علاقوں میں یوکرین کی فوجوں نے روسی فوج کو پیچھے دھکیل دیا ہے۔

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ روسی فوجوں کی ترجیح ڈونباس کے علاقے لوہانسک، ڈونیسک ہیں اور ان کی کوشش ہے کہ یوکرینی فوجوں کو ان کی طرف بڑھنے سے روکا جائے۔

     

    انہوں نے یہ بھی بتایا کہ امریکا کو بحیرہ ازوف میں روس کے بحری جہاز بھی متحرک دکھائی دیے ہیں جن کے ذریعے مختلف سامانِ رسد فوجوں کو پہنچایا جا رہا ہے۔

    نیٹو کے پراپیگنڈے کا جواب دیتے ہوئے روس کا کہنا ہے کہ ایسی کوئی بات نہیں‌ ہلاکتیں ہوئی ہیں لیکن ہزاروں میں نہیں سیکڑوں میں ہوئی ہیں ، مغربی میڈیا جان بوجھ کرحقائق توڑمروڑ کر پیش کررہا ہے

    دوسری جانب مغربی ممالک روس پر دباؤ بڑھانے کے لیے ایک اور قدم اٹھانے جا رہے ہیں۔ برسلز میں آج پہلی بار ایک سربراہی اجلاس منعقد ہو رہا ہے جس میں نیٹو، جی سیون اور یورپی یونین کے رکن ممالک شریک ہوں گے جبکہ امریکی صدد جو بائیڈن بھی اس میں شرکت کریں گے۔

  • روس نے امریکی سفارتکاروں کو ملک بدر کر دیا

    روس نے امریکی سفارتکاروں کو ملک بدر کر دیا

    ماسکو: روس نے امریکی سفارتکاروں کو ملک بدر کر دیا ہے۔

    باغی ٹی وی : روسی وزارت خارجہ کے مطابق فیصلہ اقوام متحدہ میں روسی سفارت کاروں کی بے دخلی کے بعد کیا گیا، امریکہ کی ہر کارروائی کا مناسب جواب دیا جائے گا، امریکہ نے رواں ماہ اقوام متحدہ میں روسی مشن کے 12 اہلکاروں کو ملک بدر کیا تھا۔

    پولینڈ نےجاسوسی کےالزام میں 45 روسی سفارتکاروں کو ملک بدرکردیا

    24 فروری کو یوکرین پر حملے بعد سے روس کا یہ اقدام واشنگٹن اور ماسکو کے درمیان تیزی سے بگڑتے تعلقات کے لیے تازہ ترین دھچکا ہے۔

    دوسری جانب پولینڈ نے 45 روسی سفارتکاروں کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا ہے، پولش وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ روسی سفارتکاروں پر جاسوسی کا الزام ہے، روسی سفارتکاروں کو ملک چھوڑنے کے لیے 5 دن کا وقت دیا گیا ہے، جبکہ روس نے پولینڈ کو یوکرین سے دور رہنے کا مشورہ دیا ہے، روس کا کہنا ہے کہ یوکرین میں کسی نیٹو ملک کی فوج سے سامنا ہوا تو سنگین نتائج نکلیں گے۔

    سلامتی کونسل اجلاس میں روس کی قرارداد مسترد ہو گئی ہے، روس نے یوکرین میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کی قرارداد پیش کی تھی روس اور چین نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا، سلامتی کونسل کے دیگر 13 ممالک نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔

    روسی صحافی کا یوکرینی پناہ گزینوں کیلئے اپنا نوبیل انعام فروخت کرنے کا فیصلہ

    یوکرین کی صورتحال پر نیٹو کا اجلاس آج ہو گا، نیٹو چیف کا کہنا ہے کہ یوکرین کی رکنیت نیٹو سربراہ کانفرنس کے ایجنڈے پر نہیں ہے۔

    الجزیرہ کے مطابق روسی فوجیوں نے کھیرسن میں تھیٹر کے ڈائریکٹر کو ’اغوا‘ کر لیا ہے، خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے حوالے سے عینی شاہدین نے بتایا کہ بدھ کی صبح نو روسی فوجی گاڑیاں 62 سالہ اولیکسینڈر کنیگا کے گھر پہنچیں اور انہیں باہر لے گئیں۔

    دوسری جانب یوکرین کے نائب وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ کیف لڑائی میں ہلاک ہونے والے روسی فوجیوں کی لاشوں کی شناخت کے لیے چہرے کی شناخت کے سافٹ ویئر استعمال کیا جا رہا ہے، جس سے ان کے اہل خانہ کو ان کی موت کی اطلاع دی جائے گی۔

    اقوام متحدہ روس اور یوکرین کے درمیان جنگ بندی کرائے ورنہ ایٹمی ہوگی:دنیا بھرسے…

    ادھر یورپی یونین نے یوکرین کے ساتھ سیٹلائٹ انٹیلی جنس شیئر کرنے کا فیصلہ کرلیا جبکہ روس یورپی یونین کے اس فیصلے کی شدید مذمت کی ہے-

    روسی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق یورپی یونین نے یوکرین کے ساتھ ایک معاہدے کی منظوری دی ہے جس کے تحت وہ کیف کو خفیہ معلومات فراہم کر سکیں گے۔میڈیا رپورٹ میں میں کہا گیا ہے کہ انٹیلی جنس شیئر نگ میں سیٹلائٹ تصاویر شیئر کی جائیں گی یورپی یونین کے سفیروں کو گزشتہ روز ایک میٹنگ کے دوران اس بارے میں آگاہ کیا گیا ہے۔ معاہدہ ایک سال تک جاری رہے گا اور ضرورت پڑنے پر اس کی تجدید کی جا سکتی ہے۔

    تاہم یہ بات واضح نہیں ہے کہ آیا یہ معاہدہ صرف یورپی یونین کے ارکان کی اپنی انٹیلی جنس کا احاطہ کرے گا یا انہیں امریکا جیسے کسی تیسرے فریق سے موصول ہونے والی معلومات بھی شیئر کرنے کی اجازت دے گا۔

    واضح رہے کہ یورپی یونین روس کے خلاف جنگ میں یوکرین کی حمایت کر رہی ہے۔

    یورپی یونین کا یوکرین کے ساتھ سیٹلائٹ انٹیلی جنس شیئر کرنے کا فیصلہ:روس غُصے میں آگیا

  • روس کا مغربی مخالفت کے باوجود جی-20 کے سربراہی اجلاس میں شرکت کا ارادہ

    روس کا مغربی مخالفت کے باوجود جی-20 کے سربراہی اجلاس میں شرکت کا ارادہ

    جکارتہ: انڈونیشیا میں روسی سفیر نے کہا ہے کہ صدر ولادیمیر پیوٹن جی-20 کے سربراہی اجلاس میں شرکت کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جس کی میزبانی اس سال انڈونیشیا کر رہا ہے۔

    باغی ٹی وی : بین الاقوامی میڈیا کے مطابق انڈونیشیا میں روسی سفیر لیوڈملا ووروبیفا نے کہا کہ پیوٹن کی جی-20 میں شرک کا انحصار بہت سی چیزوں پر ہوگا بشمول کورونا کی صورتحال جو کہ بہتر ہو رہی ہے تاہم اجلاس میں شرکت کے حوالے سے اب تک ان کا ارادہ مصمم ہے۔

    یورپی یونین کا یوکرین کے ساتھ سیٹلائٹ انٹیلی جنس شیئر کرنے کا فیصلہ:روس غُصے میں آگیا

    روسی سفیر کا یہ بھی کہنا تھا کہ صرف G-20 ہی نہیں، بہت سی مغربی تنظیمیں اب روس کو ہر پلیٹ فارم سے بےدخل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں مغرب کا یہ ردعمل بالکل غیرمنصفانہ ہے روس کو اقتصادی فورم سے نکالنے سے عالمی معاشی مسائل اور پیچیدہ ہوجائیں گے۔

    ووروبیفا نے انڈونیشیا کی “مضبوط اور غیرجانبدارانہ پوزیشن” کی بھی تعریف کی اور اس بات پر زور دیا کہ انڈونیشیا ہرگز مغربی دباؤ میں نہ آئے۔

    واضح رہے کہ انڈونیشیا کے روس کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں اور انڈونیشیا کے صدر جوکو ویدوڈو نے حال ہی میں ایک جاپانی نیوز میگزین نکی ایشیا کو بتایا کہ وہ جنگ بندی کی حمایت کرتے ہیں تاہم روس پر اقتصادی پابندیوں کو ایک غیرموثر تدبیر کے طور پر دیکھتے ہیں۔

    روسی صحافی کا یوکرینی پناہ گزینوں کیلئے اپنا نوبیل انعام فروخت کرنے کا فیصلہ

    دوسری جانب نیٹو کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ روس کے یوکرین پرحملے کوایک ماہ ہوچکے ہیں اوراس دوران روس کے 7 ہزارسے15ہزارفوجی ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ سیکڑوں زخمی ہیں۔

    روس نے مارچ میں اپنے 500فوجیوں کے ہلاک ہونے کا اعلان کیا تھا تاہم اس کے بعد کوئی اعداد وشمارجاری نہیں کئے یوکرین کے صدر نے 2 ہفتے قبل 13 سویوکرینی فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی۔

    دوسری جانب یوکرین کے دارالحکومت کیف پرروسی بمباری سے روسی صحافی ہلاک ہوگئیں خاتون صحافی اپنے ادارے کی جانب سے روسی حملے کی کوریج کے لئے کیف میں موجود تھیں۔

    پولینڈ نےجاسوسی کےالزام میں 45 روسی سفارتکاروں کو ملک بدرکردیا

    امریکا کی جانب سے روسی سفارتکاروں کا نکالے جانے کے ردعمل میں روس نے متعدد امریکی سفارتکاروں کوملک سے بے دخل کرنے کا اعلان کیا ہے تاہم کتنے امریکی سفارتکاروں کوروس بدرکیا جائے گا ان کی تعداد نہیں بتائی۔

    ادھر امریکی اخبارکی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے امریکا روس کی جانب سے یوکرین میں جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی صورت میں جوابی کارروائی کی تیاریاں کررہا ہے امریکی قومی سلامتی کے مشیروں کی ٹیم جس کا نام ’ٹائیگرٹیم‘ ہے روس کی جانب سے ممکنہ طور پرجوہری ،کیمیائی یا بائیولوجیکل ہتھیاروں کے استعمال کے بعد جوابی حملے کی تیاری کررہی ہے۔

    رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ٹائیگرٹیم نے روس کے متوقع جوہری حملوں کے بعد مختلف جوابی کارروائیوں کی اورردعمل کی مشقیں بھی کیں ٹائیگرٹیم اس سلسلے میں متعدد خفیہ میٹنگز بھی کرچکی ہے۔ وائٹ ہاؤس کی ’ٹائیگرٹیم‘ گزشتہ سال اکتوبرمیں بنائی گئی تھی۔

    ہیکرز نے یوزر نیمز اور پاس ورڈز چوری کرنے کےلیے ایک نیا طریقہ ڈھونڈ لیا

  • روسی صدرولادی میر پوتن کی رہائش گاہ پربموں سے حملہ ہوگیا

    روسی صدرولادی میر پوتن کی رہائش گاہ پربموں سے حملہ ہوگیا

    ماسکو:روسی صدرولادی میر پوتن کی رہائش گاہ پربموں سے حملہ ہوگیا،اطلاعات کے مطابق روسی صدر ولادی میر پیوٹن کی رہائش گاہ مولوٹوو کاک ٹیل (پیٹرول بم) سے حملے کی اطلاعات ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ کریملن بھی اب حملے کی زد میں ہے۔

    ٹک ٹاک پر پوسٹ کی گئی ویڈیو میں ماسکو میں قلعہ بند سرکاری عمارت کی دیواروں پر ایک شخص کو دیسی ساختہ دھماکہ خیز مواد پھینکتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

    ایک ٹک ٹاک صارف نے چلتی گاڑی کے اندر سے بنائی گئی ایک شخص کی ویڈیو کلپ کو اپ لوڈ کیا، جس میں ایک نامعلوم حملہ آور کو روسی صدر کی رہائش گاہ پر مولوٹوو کاک ٹیل مارتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔

    خیال رہے کہ ولادی میر پیوٹن اس عمارت میں رہتے اور دیگر سرکاری امور انجام دیتے ہیں۔حملے کے بعد کریملن کی دیواروں کی بنیاد پر کم درجے کی آگ بھی دیکھی جا سکتی ہے۔اس حملے کو مقامی خبر رساں اداروں بشمول بیلاروسی میڈیا چینل نیکٹا لائیو نے بھی شیئر کیا۔

    دوسری جانب یوکرین میں ایک ٹک ٹاکر کو روسی فوج کی سہولت کاری کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔یہ گرفتاری ٹک ٹاکر کی جانب سے ایک ویڈیو پوسٹ کرنے کے بعد عمل میں آئی جس میں کیف میں ایک شاپنگ مال کے پاس کھڑی یوکرینی فوجی گاڑیوں کے بیڑے کو دکھایا گیا تھا۔

    جس کے فوراً بعد عمارت کو روسی فضائی حملے سے نشانہ بنایا گیا۔اتوار کو ہونے والی اس فضائی کارروائی میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک ہوئے۔

    روسی وزارت دفاع کے ترجمان ایگور کوناشینکوف نے بتایا کہ یوکرینی شاپنگ مال کو اعلیٰ درستگی کے ساتھ طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیاروں سے نشانہ بنایا گیا تھا۔

    مذکورہ ٹک ٹاکر کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب اس نے یوکرینی فوج کا مقام دکھا کر “دشمن کے لیے سہولت کار کے طور پر کام کیا”۔

    یوکرینی سیکیورٹی سروس نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ “ایک ٹک ٹاکر نے حال ہی میں کیف میں یوکرینی فوج کے مقام کے بارے میں انٹرنیٹ پر پوسٹ کیا۔“بعد میں، شاپنگ سینٹر، جہاں ہمارے محافظ تھے، روسی قابضین کی طرف سے ایک طاقتور میزائل حملے کا نشانہ بنے۔

    “جانے انجانے میں اس شخص نے دشمن کے لیے سہولت کار کا کام کیا، اس کی تحقیقات کی جائیں گی۔”

    بعد ازاں، ایک ویڈیو میں اس شخص نے معافی مانگتے ہوئے دوسرے یوکرین کے باشندوں کو متنبہ کیا کہ وہ ایسی ٹک ٹاک ویڈیوز پوسٹ نہ کریں جو روسی افواج کو اسٹریٹجک معلومات فراہم کر سکتی ہیں۔

    کیف کے میئر وٹالی کلِٹسکو نے بھی اس حوالے سے کہا کہ یوکرینی باشندوں کو “فوجی سازوسامان، چوکیوں، اسٹریٹجک اشیاء کی نقل و حرکت” سے متعلق کسی بھی چیز کی فلم بندی یا تصویر کھینچنے سے گریز کرنا چاہیے۔

  • یورپی یونین کا یوکرین کے ساتھ سیٹلائٹ انٹیلی جنس شیئر کرنے کا فیصلہ:روس غُصے میں آگیا

    یورپی یونین کا یوکرین کے ساتھ سیٹلائٹ انٹیلی جنس شیئر کرنے کا فیصلہ:روس غُصے میں آگیا

    برسلز:یورپی یونین کا یوکرین کے ساتھ سیٹلائٹ انٹیلی جنس شیئر کرنے کا فیصلہ:روس غُصے میں آگیا ،اطلاعات کے مطابق یورپی یونین نے یوکرین کے ساتھ سیٹلائٹ انٹیلی جنس شیئر کرنے کا فیصلہ کرلیا ۔دوسری طرف روس یورپی یونین کے اس فیصلے کی شدید مذمت کی ہے

    روسی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق یورپی یونین نے یوکرین کے ساتھ ایک معاہدے کی منظوری دی ہے جس کے تحت وہ کیف کو خفیہ معلومات فراہم کر سکیں گے۔میڈیا رپورٹ میں میں کہا گیا ہے کہ انٹیلی جنس شیئر نگ میں سیٹلائٹ تصاویر شیئر کی جائیں گی۔

    رپورٹ کے مطابق یورپی یونین کے سفیروں کو گزشتہ روز ایک میٹنگ کے دوران اس بارے میں آگاہ کیا گیا ہے۔ معاہدہ ایک سال تک جاری رہے گا اور ضرورت پڑنے پر اس کی تجدید کی جا سکتی ہے۔

    تاہم یہ بات واضح نہیں ہے کہ آیا یہ معاہدہ صرف یورپی یونین کے ارکان کی اپنی انٹیلی جنس کا احاطہ کرے گا یا انہیں امریکا جیسے کسی تیسرے فریق سے موصول ہونے والی معلومات بھی شیئر کرنے کی اجازت دے گا۔

    واضح رہے کہ یورپی یونین روس کے خلاف جنگ میں یوکرین کی حمایت کر رہی ہے۔

    مغربی ممالک نے روس کے خلاف سخت اقتصادی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں لیکن یوکرین کے تحفظ کے لیے فوجی طاقت کے استعمال سے انکار کر دیا ہے۔

    یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے یوکرین پر حملہ کرنے والے روسی جنگی طیاروں کو مار گرانے سے انکار کرنے پر نیٹو کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

    امریکی قیادت والے اتحاد نے یہ کہہ کر یوکرین کی فوجی امداد سے انکار کردیا کہ وہ اس تنازعے کو عالمی جنگ میں تبدیل کرنے کا خطرہ مول نہیں لینا چاہتے۔

  • ملکی بقا کو خطرات لاحق ہوئے توجوہری ہتھیاروں کا استعمال کریں گے، روس کی دھمکی

    ملکی بقا کو خطرات لاحق ہوئے توجوہری ہتھیاروں کا استعمال کریں گے، روس کی دھمکی

    ماسکو:ملکی بقا کو خطرات لاحق ہوئے تو ہی جوہری ہتھیاروں کا استعمال کریں گے، روس کی دھمکی ،اطلاعات کے مطابق روس نے کہا ہے کہ یوکرین تنازع میں ملکی بقا کو خطرہ لاحق ہونے کی صورت میں ہی وہ جوہری ہتھیاروں کا استعمال کرے گا۔

    خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا کہ ہم ملکی سلامتی کا تصور رکھتے ہیں اور یہ عوامی سطح پر سب کے سامنے ہے، آپ جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی تمام وجوہات جان سکتے ہیں لہٰذا اگر ہمارے ملک کے لیے وجود کو خطرہ لاحق ہوتا ہے تو اسے ہمارے تصور کے مطابق استعمال کیا جا سکتا ہے۔

    انہوں نے یہ بات اس وقت کہی جب انٹرویو لینے والے کرسٹیئن امان پور نے ان سے سوال کیا کہ کیا انہیں ’یقین یا اعتماد‘ ہے کہ صدر ولادمیر پیوٹن یوکرین کے تناظر میں جوہری آپشن کا استعمال نہیں کریں گے۔

    روسی فوجیوں کے یوکرین پر حملہ کرنے کے چند دن بعد پیوٹن نے 28 فروری کو اعلان کیا تھا کہ انہوں نے ملک کی اسٹریٹیجک نیوکلیئر فورسز کو ہائی الرٹ پر رکھ دیا ہے جس سے عالمی سطح پر خطرے کی گھنٹی بج گئی تھی۔

    پینٹاگون کے ترجمان جان کربی نے جوہری ہتھیاروں کے ممکنہ استعمال کے حوالے سے ماسکو کی بیان بازی کو خطرناک قرار دیا ہے۔انہوں نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ ایک ذمہ دار جوہری طاقت کو اس طرح کام نہیں کرنا چاہیے۔

    جان کربی نے زور دیتے ہوئے کہا کہ پینٹاگون کے حکام نے کوئی ایسی چیز نہیں دیکھی جس سے ہم اس نتیجے پر پہنچیں کہ ہمیں اپنے اسٹریٹجک مزاحمتی پوزیشن کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم ہر روز اس کی بہترین نگرانی کرتے ہیں۔

    روس جوہری ہتھیاروں کا دنیا کا سب سے بڑا ذخیرہ رکھتا ہے اور اپنے سابق سوویت پڑوسی ملک پر حملے کے حوالے سے اسے چین کے سوا دنیا بھر کی عالمی طاقتوں کی تنقید اور دباؤ کا سامنا ہے۔

    مغربی دفاعی حکام نے پیوٹن کے فروری کے اعلان کے بعد کہا تھا کہ انہوں نے روس کی جوہری قوتوں، اسٹریٹیجک بمباروں، میزائلوں اور آبدوزوں کے متحرک ہونے کی کوئی خاص علامت نہیں دیکھی۔

    البتہ روس نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا اور نیٹو کے اتحادیوں نے یوکرین کو لڑاکا طیارے فراہم کیے تو یہ جنگ وسیع تر ہو سکتی ہے اور اس سے ممکنہ طور پر روس کو مغرب میں جوہری ہتھیاروں سے لیس حریفوں کے ساتھ براہ راست تصادم کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    رواں ماہ کے اوائل میں جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کی عالمی مہم کی سربراہی کرنے والی بیٹریس فیہن نے خبردار کیا تھا کہ پیوٹن جوہری ہتھیاروں کو بلیک میلنگ کے لیے استعمال کررہے ہیں تاکہ بین الاقوامی برادری کو یوکرین پر حملے میں مداخلت سے روکا جا سکے۔

    یوکرین میں روس کے حملے کے بارے میں مزید سوال کرنے پر پیسکوف نے کہا کہ ان کا اپنے پڑوسی ملک پر قبضے کا کوئی ارادہ نہیں ہے اور ان کا ملک شہریوں پر حملے بھی نہیں کر رہا۔انہوں نے کہا کہ آپریشن کے بنیادی اہداف یوکرین کی فوجی صلاحیت سے چھٹکارے کا حصول ہے۔انہوں نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ ہماری فوج یوکرین کی سرزمین پر شہری نہیں بلکہ صرف فوجی اہداف اور تنصیبات کو نشانہ بنا رہی ہے۔

    البتہ روسی دعووں کے برعکس وسیع پیمانے پر دستیاب تصاویر اور ویڈیو ثبوت انسانی حقوق گروپوں کے ان الزامات کی تصدیق کرتے ہیں کہ روس نے شہری آبادیوں کو نشانہ بنایا ہے۔