Baaghi TV

Tag: روس

  • روس میں 6.6 شدت کا زلزلہ

    روس میں 6.6 شدت کا زلزلہ

    ایران کے بعد روس بھی زلزلے سے لرز اٹھا جس کے باعث شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

    جرمن ریسرچ سینٹر فار جیوسائنسز (GFZ) کے مطابق، روس کے مشرق بعید میں کامچاٹکا کے ساحل کے قریب اتوار کے روز 6.6 شدت کا زلزلہ آیا جرمن ریسرچ سینٹر فار جیوسائنسز نے بتایا کہ زلزلے کی گہرائی 10 کلومیٹر (6.21 میل) تھی بتدائی طور پر زلزلے کی شدت 6.2 بتائی تھی، جسے بعد میں 6.6 کر دیا گیا۔

    واضح رہے آج بروز اتوار شمالی ایران میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے جن کی شدت ریکٹر اسکیل پر 5.4 ریکارڈ کی گئی زلزلہ زمین کی 10 کلومیٹر گہرائی میں آیا، جب کہ اس کا مرکز قریہ قرن‌آباد کے مشرق میں 31 کلومیٹر اور شہر گرگان سے 46 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع تھا گرگان کی آبادی 2 لاکھ 44 ہزار سے زائد ہے ماہرین نے آفٹر شاکس کا خدشہ ظاہر کیا ہے-

  • یوکرین کا ماسکو اور دیگر روسی علاقوں پر حملہ

    یوکرین کا ماسکو اور دیگر روسی علاقوں پر حملہ

    روسی حکام نے جمعرات کے روز بتایا ہے کہ فضائی دفاعی یونٹس نے گزشتہ رات 122 یوکرینی ڈرونز تباہ کئے جو دارالحکومت ماسکو اور دیگر متعدد روسی علاقوں کو نشانہ بنا رہے تھے، اس دوران کم از کم ایک شخص زخمی ہوا۔

    روسی وزارت دفاع نے ٹیلیگرام پر جاری بیان میں کہا کہ ان ڈرونز میں سے آدھے سے زیادہ کو بیلگورود، کورسک اور بریانسک کے سرحدی علاقوں میں مار گرایا گیا، جو یوکرین سے ملحق ہیں، تین ڈرونز کو ماسکو کے علاقے میں تباہ کیا گیا۔

    اسمولینسک ریجن (جو بیلاروس کی سرحد سے متصل ہے) کے گورنر واسیلی انوخن نے ٹیلیگرام پر بتایا کہ ایک شہری ہلکا زخمی ہوا جبکہ ایک سول تنصیب کو معمولی نقصان پہنچا۔

    مسافر ٹرینوں کے کرایوں میں دوسری بار اضافہ

    اس سے ایک روز قبل بدھ کے روز یوکرینی ڈرون حملے میں بیلگورود ریجن میں تین افراد ہلاک اور کم از کم 17 زخمی ہوئے، جیسا کہ علاقائی گورنر ویاچیسلاو گلاڈکوف نے بتایایوکرین کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔روس اور یوکرین ایک دوسرے پر شہریوں کو نشانہ بنانے کے الزامات عائد کرتے ہیں، تاہم دونوں فریق ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔ جنگ اب اپنے چوتھے سال میں داخل ہو چکی ہے۔

    بہادری کا مظاہرہ کرنیوالے 71 افراد کو سول ایوارڈ دینے کی منظوری

  • بھارت سمیت کسی بھی ملک نے روس سے تیل خریدا تو پابندیاں لگیں گی، نیٹو چیف

    بھارت سمیت کسی بھی ملک نے روس سے تیل خریدا تو پابندیاں لگیں گی، نیٹو چیف

    نیٹو کے نئے سیکریٹری جنرل مارک روٹے نے کہا ہے کہ اگر بھارت سمیت کسی بھی ملک نے روس کے ساتھ تیل و گیس کی تجارت جاری رکھی تو ان پر ثانوی پابندیاں عائد کی جائیں گی، امریکی کانگریس میں ارکان سے ملاقات کے دوران مارک روٹے نے ان ممالک کو سخت لہجے میں متنبہ کیا کہ وہ روسی صدر ولادیمیر پوتن کو امن معاہدے کو سنجیدگی سے لینے پر آمادہ کریں۔

    مارک روٹے نے امریکی سینیٹرز سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ چین کے صدر، بھارت کے وزیر اعظم یا برازیل کے صدر ہیں، اور آپ روس کے ساتھ تجارت جاری رکھتے ہیں، تو آپ جان لیں اگر پیوٹن امن مذاکرات کو سنجیدگی سے نہ لے، تو ہم مکمل معاشی پابندیاں لگائیں گے،پوتن کو فون کریں اور کہیں کہ وہ امن مذاکرات کو سنجیدگی سے لیں، کیونکہ اگر ایسا نہ ہوا تو اس کے سنگین اثرات برازیل، بھارت اور چین پر پڑیں گے۔

    کرکٹ اور فٹبال کے میدانوں کی نیلامی،اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم آ گیا

    نیٹو چیف نے یہ بھی کہا کہ یورپ، امن مذاکرات سے پہلے یوکرین کو سب سے مضبوط پوزیشن میں لانے کے لیے ہر ممکن معاشی مدد دے گا انہوں نے بتایا کہ ٹرمپ کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے تحت اب امریکہ یوکرین کو بڑی تعدادمیں ہتھیار فراہم کرے گا، اور ان ہتھیاروں کی فراہمی کے اخراجات یورپی ممالک برداشت کریں گے۔

    جب ان سے (مارک روٹے) پوچھا گیا کہ کیا یوکرین کو طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل بھی دیے جائیں گے، تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ صرف دفاعی نہیں بلکہ جارحانہ بھی ہے اس میں ہر طرح کے ہتھیار شامل ہیں، لیکن اس پر ابھی تفصیلی بات چیت نہیں ہوئی اس پر اب پینٹاگون، یورپ میں سپریم الائیڈ کمانڈر، اور یوکرینی قیادت مل کر کام کر رہے ہیں۔

    پُل گرنے کے واقعات میں اضافہ،مہاراشٹرا کے نائب وزیر اعلیٰ کی مود ی سرکار پر تنقید

    یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین کو ہتھیاروں کی ایک نئی کھیپ دینے کا اعلان کیا ہے، اور ساتھ ہی خبردار کیا ہے کہ اگر 50 دنوں کے اندر امن معاہدہ نہیں ہوا تو روس سے سامان خریدنے والوں پر 100 فیصد تک سیکنڈری ٹیرف عائد کیے جائیں گے۔

  • صدر ٹرمپ  یوکرین کو روس پر حملوں کیلئے اکسانے لگے

    صدر ٹرمپ یوکرین کو روس پر حملوں کیلئے اکسانے لگے

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین کو روسی علاقے میں حملے کرنے کی ترغیب دی ہے-

    روئٹرز کے مطابق فنانشل ٹائمز نے منگل کو رپورٹ کیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نجی طور پر یوکرین کو روسی علاقے میں حملے کرنے کی ترغیب دی ہے، یہاں تک کہ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی سے بھی پوچھا ہے کہ کیا وہ ماسکو کو نشانہ بنا سکتے ہیں اگر امریکہ نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیار فراہم کیے-

    اخبار نے گفتگو سے واقف دو افراد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ نے روسی صدر ولادیمیر پوٹن سے بات کرنے کے ایک دن بعد 4 جولائی کو اپنے یوکرائنی ہم منصب سے ایک کال میں بات کی،ٹرمپ نے یوکرین کو امریکی ساختہ ATACMS میزائل بھیجنے پر بھی تبادلہ خیال کیا-

    جمشید دستی نااہل قرار، تعلیمی اسناد جعلی نکلیں

    وائٹ ہاؤس نے فوری طور پر تبصرہ کے لیے رائٹرز کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔ رائٹرز اس رپورٹ کی تصدیق نہیں کر سکے،ٹرمپ نے اس وقت کہا تھا کہ وہ پیوٹن کے ساتھ کال سے مایوس ہوئے ہیں کیونکہ ایسا نہیں لگتا کہ روسی رہنما یوکرین کے خلاف روس کی جنگ کو روکنے کے خواہاں ہیں۔

    واضح رہےکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس سے کہا ہے کہ وہ یوکرین جنگ 50 دن کے اندر ختم کرے ورنہ اسے بڑے پیمانے پر نئی اقتصادی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا، ٹرمپ نے کیف کے لیے نئے ہتھیاروں کی فراہمی کے منصوبوں کا بھی اعلان کیا ہے، وائٹ ہاؤس میں نیٹو کے سربراہ مارک روٹے کے ساتھ ملاقات کے دوران ٹرمپ نے صحافیوں کو بتایا کہ’ ہم روس سے بہت زیادہ ناخوش ہیں۔’

    امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’ اگر 50 دنوں میں کوئی معاہدہ نہیں ہوتا تو ہم بہت سخت ٹیرف لگائیں گے، تقریباً 100 فیصد ٹیرف۔’ انہوں نے مزید کہا کہ یہ ’ ثانوی ٹیرف’ ہوں گے جن کا نشانہ روس کے باقی ماندہ تجارتی شراکت دار ہوں گے، اس طرح ماسکو کی پہلے سے عائد مغربی پابندیوں کے باوجود بچنے کی صلاحیت کو مفلوج کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

    کانگریسی رہنما پہلگام حملے کا الزام پاکستان پر عائد کرنے پر بھارتی میڈیا پر برس پڑیں

    جنوری میں اپنی دوسری مدت صدارت کا آغاز کرنے کے فوراً بعد، ٹرمپ نے پیوٹن کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوشش شروع کی تھی، کیونکہ انہوں نے اپنی انتخابی مہم کے اس وعدے کو پورا کرنے کی کوشش کی تھی کہ یوکرین جنگ کو 24 گھنٹوں میں ختم کر دیں گے۔

    پیوٹن کی طرف ان کے اس جھکاؤ نے کیف میں خدشات پیدا کردیے تھے، ان خدشات کو فروری میں اس وقت تقویت ملی تھی، جب اوول آفس میں ٹرمپ اور ان کی ٹیم نے یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کی سرزنش کی تھی۔

    لیکن ٹرمپ نے حالیہ ہفتوں میں پیوٹن پر بڑھتے ہوئے غصے اور مایوسی کا اظہار کیا، کیونکہ روسی رہنما نے تین سالہ جاری جنگ کو ختم کرنےکے بجائے یوکرین حملے تیز کردیے ہیں ٹرمپ نے پیر کو پیوٹن کے بارے میں مزید کہا کہ’ میں یہ نہیں کہنا چاہتا کہ وہ قاتل ہے، لیکن وہ ایک سخت آدمی ہے۔’

    پچھلے ہفتے، ٹرمپ نے پیر کو روس کے بارے میں ایک اعلان کا اشارہ دیا تھا، پھر انہوں نے اتوار کو اعلان کیا کہ وہ یوکرین کو اہم پیٹریاٹ فضائی دفاعی نظام بھیجیں گے تاکہ اسے روسی حملوں کی بڑھتی ہوئی شدت سے بچنے میں مدد مل سکے واشنگٹن نے بھی اس ماہ کے اوائل میں کیے گئے اس اعلان سے یو ٹرن لے لیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ وہ کیف کو کچھ ہتھیاروں کی ترسیل روک دے گا۔

  • پاکستان اور روس کے درمیان آئندہ ماہ مال بردار ٹرین چلانے کا اعلان

    پاکستان اور روس کے درمیان آئندہ ماہ مال بردار ٹرین چلانے کا اعلان

    پاکستان اور روس کے درمیان مال بردار ٹرین آئندہ ماہ چلائی جائے گی، مال بردار ٹرین لاہور سے روس تک چلائی جائے گی۔

    دفتر خارجہ حکام کے مطابق مال بردار ٹرین کا پائلٹ پراجیکٹ اگست میں شروع کیا جائے گا، پہلی مال بردار ٹرین 16 بوگیوں پر مشتمل ہو گی جو ایران ، ترکمانستان اور قازقستان سے ہوتے ہوئے روس پہنچے گی،مال بردار ریل گاڑی سے مختلف اشیا روس، ترکمانستان اور قازقستان سے پاکستان پہنچیں گی ، اس اقدام سے جنوبی ایشیا اور وسطی ایشیا کے درمیان تجارت کو مزید فروغ ملے گا اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔

    واضح ر ہے کہ چند دن پہلے وزیر اعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی نے روس کا دورہ کیا تھا جس میں پاکستان اور روس نے پاکستان اسٹیل ملز کی بحالی کے پروٹوکول پر دستخط بھی کیے تھے۔

    24 اور 26 نومبر کے 14 مقدمات میں عمر ایوب کی ضمانت خارج ، گرفتار کرنیکا حکم

    سانحہ سوات : رپورٹ پشاور ہائیکورٹ میں جمع ، حکومتی اقدامات اور نظام میں خامیوں کا انکشاف

    عمر ایوب کے اثاثوں سے متعلق کیس واپس لینے کی استدعا مسترد

  • امریکی صدر  کا روس پر 100 فیصد ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی

    امریکی صدر کا روس پر 100 فیصد ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی

    واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس یوکرین جنگ بندی نہ ہونے کی صورت میں روس پر سخت ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی دے دی۔

    غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ 50 دن میں جنگ بندی معاہدہ نہ ہوا تو روس پر بہت سخت ٹیرف نافذ کریں گے اور یوکرین کو ہتھیاروں کی ترسیل نیٹو کی معاونت سے ہو گی، صدر ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر 50 روز میں امن معاہدہ نہ ہوا تو روس پر اضافی 100 فیصد ٹیرف عائد کریں گے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بات نیٹو کے سیکرٹری جنرل مارک روٹے سے اوول آفس میں ملاقات کے بعد میڈیا سےگفتگو کے دوران کہی۔

    صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ روسی صدر ولادیمیرپیوٹن سے خوش نہیں کیونکہ صدر پیوٹن کو یوکرین سے 2 ماہ قبل ہی امن معاہدہ کرلینا چاہیےتھا لیکن روسی صدر نے ایسا نہیں کیا وہ روس کو یوکرین سے امن معاہدے کےلیے 50 دن کا وقت دے رہے ہیں، اگر روس معاہدہ کرنے میں ناکام رہا تو سخت ٹیرف عائد کریں گے۔

    انہوں نے کہا کہ نیٹو کو بہترین ساز و سامان بھیجنے والے ہیں جبکہ تجارت جنگیں ختم کرانے کے لیے بہترین طریقہ ہے اربوں ڈالر کا فوجی سازوسامان فوری طور پر تقسیم کیا جائے گا،ثانوی ٹیرف بہت سخت ہوں گے آج یوکرین کو ہتھیار بھیجنے کا معاہدہ کیا ہے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین کو پیٹریاٹ میزائل دفاعی سسٹم فراہم کرنے کا بھی اعلان کردیا کہا کہ وہ یوکرین کو پیٹریاٹ میزائل سسٹم فراہم کریں گے تاکہ یوکرین روس کے خلاف جنگ میں اپنا دفاع کرسکے تجارت جنگوں کے خاتمے کا بہترین ذریعہ ہے، ہم نے پاکستان بھارت کے درمیان جنگ رُکوائی، دونوں ممالک تیزی سے جوہری جنگ کی طرف جا رہے تھےتجارتی ٹیکسوں میں اضافے پر یورپی یونین اور دیگر ممالک سے بات چیت کے لیے تیار ہیں اور اس حوالے سے یورپی یونین حکام بات چیت کے لیے آرہے ہیں۔

    دوسری جانب سیکرٹری جنرل نیٹو نے کہا کہ یورپی ممالک آگے بڑھ رہے ہیں، اور یہ پہلا مرحلہ ہے جب مزید اقدامات کیے جائیں گے۔

    واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2 روز قبل یورپی یونین اور میکسیکو پر 30 فیصد تجارتی ٹیکس عائد کرنے کا اعلان کیاتھا، کہا تھا کہ یکم اگست سے یورپی یونین کی مصنوعات اور میکسیکو سے درآمد کی جانے والی اشیا پر 30 فیصد ٹیکس نافذ ہوگا۔

  • روس یوکرین جنگ: شمالی کوریا کا روس کی غیر مشروط حمایت کا اعلان

    روس یوکرین جنگ: شمالی کوریا کا روس کی غیر مشروط حمایت کا اعلان

    سئیول: شمالی کوریا نے یوکرین جنگ کے معاملے پر روس کی مکمل اور غیر مشروط حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔

    یہ بیان روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف کے دورہ شمالی کوریا کے دوران سامنے آیا، جہاں ان کی ملاقات وونسن شہر میں کم جونگ اُن سے ہوئی،ملاقات میں کم جونگ نے کہا کہ روس کی پوزیشن اور اقدامات پر انہیں مکمل اعتماد ہے اور شمالی کوریا ہر ممکن تعاون فراہم کرے گا۔

    سرکاری میڈیا نے اتوار کو رپورٹ کیا کہ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف شمالی کوریا کے تین روزہ دورے پر ہیں، یہ ماسکو کے اعلیٰ حکام کے دوروں کے سلسلے میں تازہ ترین ہے کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان فوجی اور سیاسی تعلقات مزید گہرے ہیں۔

    پنجاب اسمبلی میں پی ٹی آئی ارکان کی نا اہلی، حکومت اور اپوزیشن کے پارلیمانی مذاکرات آج

    شمالی کوریا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی KCNA نے رپورٹ کیا کہ کم اور لاوروف کی ملاقات ہفتے کے روز "پرتپاک دوستانہ اعتماد سے بھرپور ماحول” میں ہوئی۔ کم نے لاوروف کو کہا کہ شمالی کوریا "یوکرائنی بحران کی بنیادی وجہ سے نمٹنے کے سلسلے میں روسی قیادت کے تمام اقدامات کی غیر مشروط حمایت اور حوصلہ افزائی کے لیے تیار ہے۔

    روس نے بھی واضح کیا کہ وہ شمالی کوریا کی سلامتی اور خودمختاری کو نقصان پہنچانے کی کسی بھی کوشش کی سخت مخالفت کرے گا دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹیجک شراکت داری کو مزید وسعت دی جائے گی۔

    حسینہ واجد کی بیٹی پر کرپشن کے الزامات،عالمی ادارہ صحت کا بڑا فیصلہ

    دونوں ممالک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ ایک دوسرے کی علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھیں گے۔

  • پیوٹن کی جانب سے برطرفی کے چند گھنٹوں بعد روسی وزیر کی گولی لگی لاش برآمد

    پیوٹن کی جانب سے برطرفی کے چند گھنٹوں بعد روسی وزیر کی گولی لگی لاش برآمد

    روس کی تحقیقاتی کمیٹی نے انکشاف کیا ہے کہ سابق وزیرِ ٹرانسپورٹ رومن ستارووئت نے پیر کے روز خودکشی کر لی، یہ واقعہ صدر ولادیمیر پیوٹن کی جانب سے ان کی سرکاری برطرفی کے چند گھنٹوں بعد پیش آیا۔

    ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ ستارووئت کی لاش ماسکو کے نواحی علاقے میں ملی، جہاں ان کی موت کی ممکنہ وجہ خودکشی قرار دی جا رہی ہے 53 سالہ رومن ستارووئت مئی 2024 سے روس کے وزیرِ ٹرانسپورٹ کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے، اس سے قبل وہ کورسک علاقے کے گورنر تھے، جہاں روس کو یوکرینی حملے کا سامنا رہا تھا۔

    روسی سرکاری میڈیا نے یہ قیاس آرائی بھی کی کہ ان کی برطرفی کورسک میں کرپشن اور سرحدی علاقے میں قلعہ بندیوں کے لیے مختص فنڈز کی خوردبرد سے متعلق ممکنہ مجرمانہ مقدمے سے جڑی ہو سکتی ہے،تحقیقاتی کمیٹی کا کہنا ہے کہ رومن ستارووئت کار میں مردہ حالت میں پائے گئے، جسم پر گولی کا نشان تھا۔

    چاروں ہائیکورٹس کے چیف جسٹسز کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری

    تحقیقاتی کمیٹی نے اپنے بیان میں کہا کہ آج سابق وزیرِ ٹرانسپورٹ رومن ستارووئت کی لاش ان کی نجی کار سے گولی کے زخم کے ساتھ اوڈنتسووو ضلع میں ملی ہے، اسے خودکشی کا کیس سمجھا جا رہا ہے۔

    اگرچہ روسی سرکاری میڈیا اور خبر رساں اداروں نے بتایا کہ ستارووئت نے خود کو گولی ماری، لیکن یہ واضح نہیں کہ ان کی موت کب ہوئی،چند گھنٹے پہلے ہی کریملن نے صدر پیوٹن کے دستخط شدہ حکم نامے کے ذریعے ستارووئت کو ان کے عہدے سے برطرف کرنے کا اعلان کیا تھا اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ رومن ستارووئت کو وزیرِ ٹرانسپورٹ کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔

    رومن ستارووئت کی برطرفی ایسے وقت پر ہوئی، جب یوکرینی ڈرون حملوں کے بعد روسی ہوائی اڈوں پر سفری نظام درہم برہم ہو گیا تھا،اگرچہ روسی سرکاری میڈیا نے ان کی برطرفی کو کرپشن اور ممکنہ مقدمے سے جوڑا، تاہم کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا کہ برطرفی’اعتماد کے خاتمے’ سے متعلق نہیں تھی۔

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کا سلسلہ برقرار

    کریملن کی جانب سے ستارووئت کی برطرفی کے اعلان کے فوراً بعد صدر پیوٹن نے ان کے نائب آندرے نکیتن سے ملاقات کی اور انہیں قائم مقام وزیرِ ٹرانسپورٹ مقرر کر دیا۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ رومن اعتارووئت نے تقریباً پانچ سال تک روس کے کرُسک (Kursk) خطے کے گورنر کے طور پر خدمات انجام دیں، اس کے بعد مئی 2024 میں وہ وزیر ٹرانسپورٹ بنے۔ گورنر کے طور پر ان کے دور میں 2022 میں یوکرین کی سرحد پر دفاعی اقدامات کے لیے تقریباً 19.4 ارب روبل (تقریباً 246 ملین امریکی ڈالر) مختص کیے گئے تھے۔

    اس کیس نے اس وقت زور پکڑا جب ان کے جانشین اور سابق نائب، الیکسی سمرنوف کو رواں سال کے آغاز میں گرفتار کیا گیا اور ان پر دفاعی فنڈز میں خردبرد کے الزامات عائد کیے گئے۔ پیر کو روسی میڈیا نے اطلاع دی کہ سمرنوف نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ استررووئت بھی اس کرپشن میں ملوث تھے تاہم، سمرنوف کے وکیل نے اس پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کیا، اور استارووئت کے خلاف باضابطہ طور پر کوئی الزامات عائد نہیں کیے گئے تھے۔

    امریکا کی حزب اللّٰہ کو غیر مسلح کرنے کی سفارتی کوششیں، بیروت میں ملاقاتیں

    ٹرانسپورٹ انڈسٹری کے ایک ذرائع نے خبر رساں ایجنسی روئٹرز سے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ استارووئت کا عہدہ کئی مہینوں سے نگرانی میں تھا استارووئت کا نام خاص طور پر کرُسک بارڈر پر حملے کے بعد بار بار سامنے آ رہا تھا، بہت سے لوگ یہ سوال اٹھانے لگے تھے کہ اتنی بھاری فنڈنگ کے باوجود ایسی کمزوری کیسے ممکن ہوئی؟

    رپورٹ کے مطابق استارووئت طلاق یافتہ تھے اور ان کی دو بیٹیاں تھیں۔

  • روس میں خود کو عیسٰیؑ ظاہر کرنے والے شہری کو 12 سال قید کی سزا

    روس میں خود کو عیسٰیؑ ظاہر کرنے والے شہری کو 12 سال قید کی سزا

    ماسکو: روس میں خود کو حضرت عیسٰی علیہ السلام ظاہر کرنے والے ایک شخص کو عدالت نے 12 سال قید کی سزا سنائی ہے۔

    روسی میڈیا کے مطابق اس شخص کا نام سرگئی ٹوروپ ہے جو خود کو "ویساریون” کہلواتا تھااس نے 1990 کی دہائی میں ایک نیا مذہبی فرقہ قائم کیا تھا، ویساریون نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ حضرت عیسٰیؑ کا "دوسرا جنم” ہےاس نے سائبیریا کے جنگلات میں ایک بڑی روحانی کمیونٹی قائم کی جسے "دی لاسٹ ٹیسٹمنٹ” کہا جاتا ہے، اور اس کے پیروکاروں کی تعداد ہزاروں میں تھی اس کمیونٹی میں، ویساریون کو ایک مذہبی رہنما اور مسیح کی حیثیت دی جاتی تھی.

    تاہم، اس شخص اور اس کے فرقے کے خلاف کئی الزامات سامنے آئے روسی حکام نے 2020 میں اس کو گرفتار کیا اور اس پر بچوں کے استحصال، جسمانی و ذہنی تشدد اور غیرقانونی مذہبی سرگرمیوں کے الزامات عائد کیے عدالت نے حال ہی میں سرئی کو 12 سال کی قید کی سزا سنائی یہ سزا سرگئی سخت قید والے کیمپ میں کاٹے گا۔

    واضح رہے کہ روسی حکام مذہبی فرقوں پر کڑی نظر رکھتے ہیں خاص طور پر ان پر جو لوگوں کو گمراہ کرنے یا ریاستی نظام کے خلاف اُکسانے کا رجحان رکھتے ہیں، ویسار یون کی تنظیم کو "تباہ کن مذہبی فرقہ” قرار دیا گیا ہے۔

    تائیوان میں شدید طوفان ’دناس‘ کے باعث خوفناک تباہی

    دریائے سوات میں مختلف مقامات پر ارلی وارننگ سسٹم نصب کرنے کا فیصلہ

    پی سی بی نے ڈومیسٹک کیلنڈر کا اعلان کردیا

  • روس ایرانی عوام کی مدد کے لیے تیار ہے،پیوٹن

    روس ایرانی عوام کی مدد کے لیے تیار ہے،پیوٹن

    روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا ہے کہ روس ایرانی عوام کی مدد کے لیے تیار ہے۔

    الجزیرہ کے مطابق ماسکو میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کے دوران صدر پیوٹن نے کریملن میں بات چیت کے آغاز پر کہا کہ کہ تہران کے خلاف جارحیت بے بنیاد ہے روس ایرانی عوام کی مدد کے لیے تیار ہے-

    روئٹرز کے مطابق ایران کے خلاف جارحیت مکمل طور پر بلاجواز ہے، روس ایرانی عوام کو مدد فراہم کرنے کے لیے کوششیں کر رہا ہے۔

    ایرانی سپریم لیڈ رنے انہیں روسی صدر کیلئے ایک خط دیاہے جس میں روس کی حمایت کی درخواست کی گئی ہے عباس عراقچی نے ایران پر امریکی حملوں کی مذمت کرنے پر صدر پیوٹن کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ روس تاریخ کے درست جانب کھڑا ہے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ‌ای اور صدر مسعود پزشکیاں نے پیوٹن کے لیے اپنی نیک تمنائیں اور سلام بھیجے ہیں۔

    لڑکی سے مبینہ زیادتی کیس، رجب بٹ نے درخواست واپس لے لی

    ریاستی خبر رساں ایجنسی ٹاس کے مطابق عراقچی نے کہا ہے کہ ایران اور روس مشرق وسطیٰ میں موجودہ کشیدگی کے حوالے سے اپنے مؤقف کو ہم آہنگ کر رہے ہیں۔

    روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایران کے سپریم لیڈر نے اپنے وزیر خارجہ کو ماسکو بھیجا ہے تاکہ صدر ولادیمیر پیوٹن سے امریکا کے حالیہ بڑے حملوں کے بعد مزید مدد کی درخواست کی جا سکے ایک سینئر ذریعے نےبتایا کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی، خامنہ‌ای کا خط پیوٹن تک پہنچائیں گے جس میں روس کی حمایت طلب کی گئی ہے۔

    وزیراعظم سے ایرانی سفیر کی ملاقات ، خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال

    ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ اب تک روس کی حمایت ایران کو کافی نہیں لگی اور تہران چاہتا ہے کہ پیوٹن اسرائیل اور امریکا کے خلاف ایران کی زیادہ کھل کر حمایت کرے، ذرائع نے یہ واضح نہیں کیا کہ ایران کس نوعیت کی مدد چاہتا ہے کریملن کا کہنا ہے کہ امریکا کے تین ایرانی جوہری تنصیبات پر حملے نے تنازع میں شامل فریقین کی تعداد میں اضافہ کر دیا ہے اور ایک نئے اور خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔

    کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے صحافیوں کو بتایا کہ ابھی یہ واضح نہیں کہ ایران کی جوہری تنصیبات کے ساتھ کیا ہوا ہے اور آیا وہاں تابکاری کا کوئی خطرہ موجود ہے یا نہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو حملے سے قبل آگاہ نہیں کیا، اگرچہ دونوں کے درمیان عمومی طور پر امریکی فوجی مدا خلت کے امکانات پر بات چیت ضرور ہوئی تھی،دمتری پیسکوف نے کہا کہ ماسکو نے ثالثی کی پیشکش کی ہے، اور اب یہ اس بات پر منحصر ہے کہ ایران کو کیا درکار ہے۔

    قوم شکر کرے ،پاکستان ایٹمی طاقت ہے،ورنہ کیا ہوتا؟ تجزیہ:شہزاد قریشی