Baaghi TV

Tag: روس

  • روس یوکرین جنگ،ہر24 گھنٹے بعد دونوں فریقوں کے نقصانات کی تفصیل جاری

    روس یوکرین جنگ،ہر24 گھنٹے بعد دونوں فریقوں کے نقصانات کی تفصیل جاری

    ماسکو:روس یوکرین جنگ،ہر24 گھنٹے بعد دونوں فریقوں کے نقصانات کی تفصیل جاری ،اطلاعات کے مطابق روس اور یوکرین نے جنگ میں 24 گھنٹوں کے دوران ایک دوسرے کے ہونے والے نقصانات کی تفصیل جاری کی ہے۔

    روسی وزارتِ دفاع نے گزشتہ 24 گھنٹوں میں یوکرین میں 46 فوجی تنصیبات کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

    روسی وزارتِ دفاع کے ترجمان ایگور کوناشینکوف نے دارالحکومت ماسکو میں جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ روس مسلح افواج اور ڈونباس کی علیحدگی پسند انتظامیہ کی یوکرین میں پیش قدمی جاری ہے اور رہائشی عمارتوں کو کنٹرول میں لیا جا رہا ہے۔

    ترجمان کوناشیکوف نے کہا ہے کہ روسی فوج یوکرین میں فوجی تنصیبات پر حملے جاری رکھے ہوئے ہے اور کل یوکرین کے علاقے ریونے کے شہر سرن کی فرنٹ لائن کو میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا ہے۔

    ترجمان ایگور کوناشینکوف نے کہا ہے کہ حالیہ 24 گھنٹوں میں یوکرین کی 46 فوجی تنصیبات، 181 طیاروں اور ہیلی کاپٹروں، 172 ڈرون طیاروں، 170 ملٹی بیرل راکٹ لانچروں، 1379 ٹینکوں اور بکتر بند گاڑیوں، 133 اینٹی ائیر کرافٹ میزائل سسٹمز، 514 ہووِٹزر اور مارٹر توپوں اور 1168 اسپیشل فوجی گاڑیوں کو بھی تباہ کر دیا گیا ہے۔

    دوسری جانب یوکرینی حکام کے مطابق جنگ میں روس کا جانی و مالی نقصان 14 ہزار فوجیوں، 86 طیاروں، 108 ہیلی کاپٹروں اور 444 ٹینکوں تک پہنچ چکا ہے۔

    یوکرین جنرل اسٹاف ہیڈ کوارٹر نے 24 فروری سے آج 17 مارچ تک روسی فوج کے نقصان کے اعداد و شمار جاری کیے ہیں۔

    یوکرین کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق روسی مسلح افواج کے 14 ہزار فوجی ہلاک جبکہ 86 طیارے، 108 ہیلی کاپٹر، 444 ٹینک، 1435 بکتر بند گاڑیاں، 72 راکٹ لانچر سسٹمز اور 43 فضائی دفاعی سسٹمز تباہ کر دیے گئے ہیں۔

    روسی مسلح افواج کو 864 گاڑیوں، 3 لائٹ اسپیڈ ٹینکرز، 60 فیول وہیکلز اور 11 ڈرون طیاروں کا نقصان بھی برداشت کرنا پڑا ہے۔

  • روس کی یوکرین تنازع کے حل کیلئے نئی تجویز،صدر زیلنسکی کا رد عمل

    روس کی یوکرین تنازع کے حل کیلئے نئی تجویز،صدر زیلنسکی کا رد عمل

    ماسکو: روس نے یوکرین تنازع کے حل کے لیے نئی تجویز پیش کردی۔

    باغی ٹی وی :عالمی خبررساں ایجنسی کے مطابق کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ کیف کے ساتھ بات چیت میں سویڈن اور آسٹریا کی طرح ایک غیر جانبدار، آزاد اور اپنی فوج رکھنے والا یوکرین ایک حل ثابت ہو سکتا ہے –

    امریکہ کا یوکرین کیلئے مزید 80 کروڑ ڈالر،طیارہ شکن ہتھیار،ڈرون اور1 کروڑگولیاں…

    روس کی وزارت خارجہ کے مطابق یوکرین کے نیوٹرل سٹیٹس کے حوالے سے سنجیدگی سے بات ہو رہی ہے اور یقینی طور پر یہ سکیورٹی ضمانت کے ساتھ ہی ہو گا۔

    واضح رہے کہ آسٹریا اور سویڈن یورپی یونین کے رکن ہیں تاہم نیٹو کے فوجی اتحاد سے باہر ہیں۔

    یوکرین نے روس کی اس تجویز پر ردعمل دیتے ہوئے یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کہا ہے کہ وہ اپنی سکیورٹی کی بین الاقوامی فورسز کی طرف سے ضمانت چاہتا ہے ان کا ملک بین الاقوامی ضمانتوں کو قبول کر سکتا ہے۔

    ایک ویڈیو خطاب میں انہوں نے کہا بات چیت کے دوران میری ترجیحات بالکل واضح ہیں، جن میں جنگ کا اختتام اور بین الاقوامی ضمانتیں، خود مختاری، ریاستی سالمیت اور ہمارے ملک کی حقیقی حفاظت شامل ہیں۔

    دوسری جانب روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے آر بی سی ٹیلی وژن سے گفتگو میں کہا ہے کہ یوکرین میں جاری تنازعے کے حل میں امریکہ کی کوئی دلچسپی دکھائی نہیں دیتی یوکرین حکام کے نقطہ نظر پر امریکا کا فیصلہ کن اثر ہے مگر آج یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ امریکہ اس مسئلے کے فوری حل میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتا۔

    واضح رہے کہ امریکی صدر نے روسی حملے کا مقابلہ کرنے کے لیے یوکرین کو سکیورٹی امداد کے طور پر 800 ملین ڈالر کی اضافی رقم دینے کی منظوری دے دی ہے اس امداد کے تحت یوکرین کو800 طیارہ شکن نظام، 9000 اینٹی آرمرسسٹم، 7000 چھوٹے ہتھیار، دوکروڑ گولیاں،گولہ بارود اور ڈرون مہیا کئے جائیں دے-

    جوبائیڈن نے کہا تھا کہ ہم یوکرین کو جنگ لڑنے اور اپنا دفاع کرنے کے لیے ہتھیار دے رہے ہیں کیونکہ ابھی اور بھی مشکل دن آنے والے ہیں امریکی صدر نے مزید کہا تھا کہ یہ امداد آزادی کے لیے ہے یہ لوگوں کے اپنے مستقبل کا تعیّن کرنے کے حق کے بارے میں ہے یہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ہے کہ یوکرین میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی فتح کبھی نہیں ہوگی، چاہے وہ میدان جنگ میں کوئی بھی پیش قدمی کرلیں۔

    لائیوٹی وی پریوکرین جنگ کےخلاف احتجاج کرنیوالی روسی صحافی کے ساتھ کیا سلوک ہوا؟

  • روس یوکرین میں آپریشن معطل کرے: عالمی عدالت انصاف کا عبوری حکم

    روس یوکرین میں آپریشن معطل کرے: عالمی عدالت انصاف کا عبوری حکم

    ہیگ : نیدرلینڈز کے دی ہیگ میں واقع بین الاقوامی عدالت انصاف (آئی سی جے) نے بدھ کے روز ایک عارضی اقدام منظور کیا جس میں روسی فیڈریشن کو یوکرین کے علاقے میں فوجی کارروائیوں کو معطل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    متفقہ طور پر یہ اشارہ بھی دیا گیا کہ روس اور یوکرین دونوں کو ایسے کسی بھی اقدام سے گریز کرنا چاہیے جس سے تنازعہ کو عدالتی عدالت کے سامنے بڑھایا جائے یا اسے مزید مشکل بنایا جا سکے۔

    عارضی اقدام کو 2 کے مقابلے13ووٹوں سے منظور کیا گیا۔ آئی سی جے کے ایک ہندوستانی جج جسٹس دلویر بھنڈاری نے عارضی اقدام کے حق میں ووٹ دیا۔

    عدالت نے مزید اشارہ کیا کہ کسی بھی فوجی یا بے قاعدہ مسلح یونٹوں کو جو روس کی طرف سے ہدایت یا حمایت کر سکتے ہیں، نیز کوئی بھی تنظیم اور افراد جو اس کے کنٹرول، سمت یا اثر و رسوخ کے تحت ہوسکتے ہیں، کو فوجی کارروائیوں کی اجازت نہیں ہوگی

    ادھر جو بائیڈن کی طرف سے روسی صدر پوتن کو ”جنگی مجرم” کہنے کو روس نے”ناقابل قبول اور ناقابل معافی” قرار دیا۔ ماسکو نے کہا کہ یہ بیان بازی ایک ایسے ملک کا سربراہ کررہا ہے جس کے بموں سے دنیا میں لاکھوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

    اب جب کہ روس اور یوکرین کی جنگ چوتھے ہفتے میں داخل ہوچکی ہے اور سینکڑوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں، امریکی صدر جو بائیڈن نے اس فوجی کارروائی کے لیے روسی صدر ولادیمیر پوتن کو”جنگی مجرم” قرار دیا ہے۔

    جوبائیڈن بدھ کے روز وائٹ ہاوس میں نامہ نگاروں سے بات چیت کررہے تھے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا پوتن جنگی مجرم ہیں تو پہلے تو انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا اور آگے بڑھ گئے لیکن جب صحافیوں نے ان سے دوبارہ یہی سوال کیا تو بائیڈن نے کہا،”ہاں میرے خیال میں وہ ایک جنگی مجرم ہیں۔”

    بائیڈن نے اپنے بیان کی مزید کوئی وضاحت نہیں کی تاہم وائٹ ہاوس کی ترجمان جین ساکی نے کہا کہ صدر بائیڈن کا بیان یوکرین میں ہسپتالوں سمیت دیگر سویلین عمارتوں پر روسی فوج کے میزائل حملوں کے پس منظر میں ہے۔”ایک غیر ملکی ڈکٹیٹر کے ذریعہ دوسرے ملک میں بربریت اور ہولناک واقعات آپ دیکھ رہے ہیں،جس کی وجہ سے شہریوں کی زندگیاں خطرے میں پڑگئی ہیں۔ ہسپتال تباہ ہورہے ہیں، حاملہ خواتین اور صحافی اور دوسرے لوگ متاثر ہورہے ہیں۔

  • یوکرین نے امریکی مدد سے نیوکلئیر ہتھیاروں کی تیاری شروع کردی،ایٹمی محاذ آرائی ہوسکتی ہے: روس

    یوکرین نے امریکی مدد سے نیوکلئیر ہتھیاروں کی تیاری شروع کردی،ایٹمی محاذ آرائی ہوسکتی ہے: روس

    ماسکو :یوکرین نے امریکی مدد سے نیوکلئیر ہتھیاروں کی تیاری شروع کردی،ایٹمی محاذ آرائی ہوسکتی ہے: روس ،اطلاعات کے مطابق روس نے الزام عائد کیا ہے کہ یوکرین نے امریکا کے ساتھ مل کر نیوکلئیر ہتھیاروں کی تیاری شروع کردی ہے۔

    قبل ازیں روس نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ یوکرین امریکی حمایت یافتہ ریسرچ لیبز میں حیاتیاتی ہتھیار بھی تیار کررہا ہے۔

    روس کی جانب سے ان دعوؤں کی حمایت میں کوئی ثبوت یا وضاحت پیش نہیں کی گئی کہ کس طرح ایک محصور ملک اچانک جوہری ہتھیار تیار کرنا شروع کر سکتا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق روسی فیڈریشن کی سلامتی کونسل کے سکریٹری نکولائی پیٹروشیف کا کہنا ہے کہ “یوکرین کی طرف سے جوہری ہتھیاروں کی تخلیق سے پوری دنیا کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو گا اور یہ جوہری جنگ کا آغاز ہوگا، روس یوکرین کے بے قابو قوم پرستوں کو اپنے پاس رکھنے کی اجازت نہیں دے سکتا”۔

    پیٹروشیف نے منگل کے روز گروزنی میں شمالی قفقاز میں روسی فیڈریشن کی قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے منعقدہ ایک اجلاس میں کہا کہ “یہ واضح ہو گیا ہے کہ یہ امریکی مشیر ہی ہیں جو کیف حکومت کی حوصلہ افزائی اور مدد کرتے ہیں۔”

    انہوں نے مزید کہا کہ “یوکرین کے پاس نیوکلئیر ہتھیار بنانے کے لیے قابلیت، ٹیکنالوجی، خام مال، ترسیل کے ذرائع سمیت سب کچھ ہے۔”

    نیٹو کے سیکرٹری جنرل جینز اسٹولٹن برگ نے منگل کو کہا کہ نیٹو کو خدشہ ہے روس یوکرین پر اپنے حملے کے ایک حصے کے طور پر “فالس فلیگ” حملے میں کیمیائی ہتھیار استعمال کر سکتا ہے۔

    اسٹولٹن برگ نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ہمیں خدشہ ہے ماسکو ممکنہ طور پر کیمیائی ہتھیاروں کے ساتھ یوکرین میں فالس فلیگ آپریشن کر سکتا ہے۔

    امریکا نے 9 مارچ کو ان روسی الزامات کی تردید کی تھی کہ وہ یوکرین میں بائیو وار فیئر لیبز چلا رہا ہے، ان دعوؤں کو “مضحکہ خیز” قرار دیا گیا اور تجویز کیا گای کہ ماسکو خود کیمیائی یا حیاتیاتی ہتھیار استعمال کرنے کی بنیاد رکھ رہا ہے۔

    روس پہلے ہی یوکرین پر دونیتسک میں ایک کیمیکل پلانٹ کو جان بوجھ کر سبوتاژ کرنے کا الزام لگا چکا ہے، اور دعویٰ کیا ہے کہ اس نے قریبی شہری بستیوں میں زہریلی گیس چھوڑی ہے۔

  • یوکرین روس جنگ : پانچ صحافی ہلاک درجنوں زخمی

    یوکرین روس جنگ : پانچ صحافی ہلاک درجنوں زخمی

    کیف: یوکرین روس جنگ : پانچ صحافی ہلاک درجنوں زخمی اطلاعات کے مطابق فوکس نیوز کے صحافی اولیکسانڈرا کرشائینووا اور کیمرہ مین پیئرے زکرزیوسکی منگل کے روز کییف کے نواح میں روسی فوج کی شیلنگ میں ہلاک ہوگئے۔ جنگ شروع ہونے کے بعد سے یوکرین میں اب تک پانچ صحافی مارے جاچکے ہیں۔

    یوکرین کی وزارت دفاع نے فوکس نیوز کے صحافی اولیکسانڈرا کرشائینووا اور کیمرہ مین پیئرے زکرزیوسکی کی ہلاکت کے لیے روسی فوج کے حملے کو مورد الزام ٹھہرایا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ دونوں صحافی روسی فوج کی شیلنگ میں اس وقت ہلاک ہو گئے جب ان کی گاڑی یوکرینی دارالحکومت کییف کے نواحی علاقے ہورنیکا میں پھنس گئی۔

    فوکس نیوز نے اپنی نیوز بلیٹن میں کرشائنیووا اور زکریوسکی کی موت کی اطلاع دیتے ہوئے کہا کہ زکریوسکی کو چینل میں ایک ‘لیجینڈ’ کی حیثیت حاصل تھی۔ ”ان کی موت انتہائی تکلیف دہ ہے۔ وہ ہمارے ساتھ برسوں سے کام کررہے تھے۔انہوں نے عراق، افغانستان اور شام میں جنگ کی رپورٹنگ کی تھی۔

    وہ ہر طرح کے دباو میں بھی کام کرنے کے عادی تھے۔” کرشائنیووا اور زکریوسکی کی ہلاکت کے ساتھ ہی یوکرین پر روسی فوج کے حملے کے بعد سے جنگ کے دوران کم از کم پانچ صحافی ہلاک ہوچکے ہیں۔

    امریکی فلم ساز برینٹ ریناوڈ جنگ کی عکس بندی کے دوران ہفتے کے روز بری طرح زخمی ہوگئے تھے اور بعد میں ان کی موت ہوگئی۔ کرشائنیووا اور زکریوسکی کی ہلاکت کی اطلاع عام کیے جانے سے قبل منگل کے روز ہی یوکرینی پارلیمان میں انسانی حقوق کی سربراہ لدمیلا ڈینیسووا نے بتایا تھا کہ جنگ میں اب تک درجنوں صحافی زخمی اور کم از کم تین ہلاک ہوچکے ہیں۔

    ڈینیسووا نے کہا، "کم از کم 35 صحافی روسی فورسز کے حملے کا شکار ہوچکے ہیں، ان میں سے تین کی موت ہوچکی ہے۔” یوکرین کے ایک پولیس عہدیدار کے مطابق امریکی فلم ساز ریناوڈ کییف کے نواح میں ارپن قصبے میں 13 مار چ کو روسی فورسز کی گولیوں کا شکار ہوگئے۔

    اس سے قبل یوکرینی صحافی ایوگینی ساکن کی کییف ٹیلی ویژن پر روسی فوجی حملے کے دوران موت ہوگئی تھی جبکہ ایک دیگر یوکرینی نامہ نگار وکٹر ڈوڈار، مائیکو لیف شہر کے قریب جنگ کے دوران مارے گئے۔

    فوکس نیوز کے مطابق زکریوسکی کی عمر 55 برس اور کرشائنیووا کی 24برس تھی۔ وہ فوکس کے ایک دیگر نامہ نگار بنجامن ہال کے ساتھ کییف کے نواحی علاقے ہورینکا سے رپورٹنگ کررہے تھے۔ بنجامن ہال بھی اس واقعے میں زخمی ہوگئے اور ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔

    یوکرین کی وزارت دفاع نے ایک بیان میں بتایا کہ بنجامن ہال کے پیر کا ایک حصہ کاٹنا پڑا۔ روس نے تقریباً ایک ماہ تک جاری رہنے والے تعطل کے بعد 24 فروری کو یوکرین پر فوجی حملہ کردیا تھا۔ اس جنگ کے نتیجے میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے روس پر پابندیاں عائد کردیں۔

    اقوام متحدہ کے مطابق جنگ کی وجہ سے تقریباً 30 لاکھ یوکرینی شہریوں کو ملک چھوڑنا پڑا ہے کیونکہ روسی فوج نے متعدد شہروں اور قصبات کا محاصرہ کرلیا ہے اور ان پر بمباری کررہی ہے۔ صحافیوں کی بین الاقوامی تنظیم ‘کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس(سی پی جے)’ نے یوکرین سے جنگ کی رپورٹنگ کرنے والے بین الاقوامی نامہ نگاروں اور میڈیا کارکنوں نیز یوکرینی صحافیوں کو تحفظ فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔ سی پی جے نے یوکرینی صحافیوں کو لازمی فوجی خدمات سے مستشنیٰ رکھنے کی بھی اپیل کی ہے۔

    دریں اثنا متعدد صحافیوں اور صحافتی تنظیموں نے یوکرین میں صحافیوں کی ہلاکت پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔ امریکی کانگریس کے متعدد اراکین نے زکریوسکی کو ایک امریکی صحافی قرار دیتے ہوئے ان کی تعریف کی۔ آئرلینڈ کے وزیر اعظم مائیکل مارٹن نے کہا کہ وہ ایک آئرش شہری تھے۔

    مارٹن نے ٹوئٹر پر لکھا، "آئرش شہری اور صحافی پیئرے زکریوسکی اور ان کے ایک شریک کار کی ہلاکت نے ہمیں غمزدہ اور مایوس کردیا۔ مصیبت کی اس گھڑی میں میں ان کے اہل خانہ، دوستوں اور ساتھی صحافیوں کے ساتھ ہوں۔ ہم یوکرین پر روس کے اس بلاجواز اور غیر اخلاقی جنگ کی مذمت کرتے ہیں۔”

  • پاکستان کسی جنگ میں حصہ دار نہیں ہوگا:بھارت ہمیں چیک نہ کرے:ہمارا ردعمل سخت ہوگا: سیکرٹری خارجہ

    پاکستان کسی جنگ میں حصہ دار نہیں ہوگا:بھارت ہمیں چیک نہ کرے:ہمارا ردعمل سخت ہوگا: سیکرٹری خارجہ

    ںاسلام آباد :پاکستان کسی جنگ میں حصہ دار نہیں ہوگا:بھارت ہمیں چیک نہ کرے:ہمارا ردعمل سخت ہوگا: اطلاعات کے مطابق سیکرٹری خارجہ سہیل محمود نے کہا ہے کہ ہم دنیا کو پیغام دے چکے ہیں کہ پاکستان امن میں ضرور حصے دار ہوگا لیکن کسی جنگ کا حصہ نہیں بنے گا۔

    سینیٹر شیری رحمان کے زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے امور خارجہ کا اجلاس منعقد ہوا جس میں سیکرٹری خارجہ نے کمیٹی کو بریفنگ پیش کی۔

    بریفنگ کے دوران انہوں نے بتایا کہ وزیر اعظم کے دورہ روس کی منصوبہ بندی دو سالوں سے ہورہی تھی جس کے حوالے سے باتیں ہورہی ہیں۔

     

     

    انہوں نے بتایا کہ کے روسی صدر کے ساتھ وزیر اعظم کی ملاقات ساڑھے تین گھنٹے کی تھی جس میں اسلامو فوبیا سمیت توانائی کا معاملہ بات چیت اہم ایجنڈا تھا۔

    ان کا کہنا تھا کہ فروری کے وسط سے یوکرین اور روس کشیدگی میں اضافہ ہوا تھا جس کے متعلق وزیراعظم نے اس معاملے کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا تھا۔

    انہوں نے بتایا کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر دو سی ون تھرٹی امدادی جہاز یوکرین روانہ ہوئے ہیں جس پر یوکرین کے سفیر نے اس پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا جو گزشتہ رات وہاں موجود تھے۔

    انہوں نے مزید بتایا کہ یوکرین سے اب تک 1558 افراد کو نکالا گیا ہے لیکن اس وقت 15 سے 20 افراد یوکرین میں ہیں جن میں سے کچھ جیل میں ہیں۔

    سیکرٹری خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان کی جانب سے یورپی یونین کے سفیروں کی پریس ریلیز پر جواب دیتے ہوئے انہیں بتایا گیا ہے کہ انہوں نے درست نہیں کیا ہے اور دنیا کو بتا دیا ہے کہ پاکستان کسی جنگ میں حصہ دار نہیں ہوگا۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس سے قبل روس پاکستان کے مؤقف کو ویٹو کردیتا تھا لیکن اب ایسا نہیں ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ یوکرین روس تنازعہ کے بعد دنیا افغانستان کے بحران کو بھول گئی ہے، افغانستان میں شدید ترین انسانی بحران اب بھی موجود ہے۔

    انہوں نے بھارتی میزائل کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پی فائیو کے نمائندوں کو اس معاملہ پر بلا کر ان کو بریفنگ دی گئی ہے جبکہ بھارت سمیت دنیا بھر کے دفاعی ماہرین نے بھی اس سوال اٹھایا ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ ہم نے بھارت سے پوچھا کہ روزمرہ کی مینٹیننس کے دوران یہ ہوا یا پھر بھارت کا اس پر کنٹرول نہیں ہے؟ اس معاملے پر بھارت کی نیت کیا تھی اس کی تحقیقات ہونی چاہیے۔

    دوسری جانب بھارتی میزائل کے پاکستانی حدود میں گرنے کے معاملے پر شیری رحمان نے کہا کہ بھارت کی جانب سے میزائل غلطی سے نہیں بلکہ ٹرائل کے تحت چلایا گیا تھا۔

    ان کا کہنا تھا کہ دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان اس طرح کا واقعہ بڑی جنگ کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتا ہے، یہ سنجیدہ معاملہ ہے اور اس طرح کی غلطی بھارت جان بوجھ کر دوبارہ کرسکتا ہے۔

  • روسی صدر پیوٹن عالمی سلامتی کیلئے خطرہ:برطانیہ

    روسی صدر پیوٹن عالمی سلامتی کیلئے خطرہ:برطانیہ

    لندن :روسی صدر پیوٹن عالمی سلامتی کیلئے خطرہ:برطانیہ ،اطلاعات کے مطابق برطانیہ نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو عالمی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے دیا۔

    برطانوی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق برطانوی خارجہ سیکریٹری نے وزیر اعظم بورس جانسن کے خلیج کے دورے کا ذکر کرتے ہوےکہا ہے کہ یہ بالکل درست ہے کہ برطانیہ روس کے لیے تیل اور گیس کے متبادل ذرائع کی طرف دیکھ رہا ہے۔

    خارجہ سیکریٹری نے کہا کہ ولادیمیر پیوٹن نے یوکرین پر حملے میں یورپی سیکیورٹی کو توڑا اور خوفناک طاقت کا استعمال کیا۔ پیوٹن جس طریقے سے اپنے جنگی مشن کو فنڈز فراہم کرتے ہیں وہ تیل اور گیس کی آمدنی کے ذریعے ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ یقیناً میں یہ نہیں کہہ رہی ہوں کہ ہم سعودی عرب یا متحدہ عرب امارات کی ہر ایک پالیسی سے متفق ہیں لیکن ان سے عالمی سلامتی کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔

    خارجہ سیکریٹری نے کہا کہ ہمیں دوسرے ممالک کو بھی برطانیہ کے دائرہ اثر میں لانے اور روس سے دور کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں پیوٹن کو ہر قیمت پر روکنا ہوگا، وہ حقیقی خطرہ ہے جس کا دنیا کو سامنا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ میں مستقبل کے بارے میں پیشگوئیاں نہیں کر سکتی لیکن جو ہم جانتے ہیں وہ یہ ہے کہ پیوٹن کے منصوبے، منصوبوں کے مطابق نہیں چل رہے ہیں۔

    خارجہ سیکریٹری نے مزید کہا کہ پیوٹن پیش رفت نہیں کر رہے ہیں جس کی انہیں امید تھی اور اس کے نتیجے میں وہ زیادہ سے زیادہ انتہائی تکنیکوںاور ہتھیاروں کا سہارا لے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ برطانیہ صدر ولادیمیر زیلنسکی کو تمام تعاون فراہم کرے گا۔

  • یوکرین روس جنگ :دارالحکومت کیف، اوڈیسا اور زپوریزیا میں روسی فوج کی بمباری،سخت مزاحمت کا سامنا

    یوکرین روس جنگ :دارالحکومت کیف، اوڈیسا اور زپوریزیا میں روسی فوج کی بمباری،سخت مزاحمت کا سامنا

    خارکیف :یوکرین روس جنگ :دارالحکومت کیف، اوڈیسا اور زپوریزیا میں روسی فوج کی بمباری،سخت مزاحمت کا سامنا،اطلاعات کے مطابق آج یوکرین جنگ کا 21 واں دن ہے یعنی جنگ شروع ہوئے 3 ہفتے ہو چکے ہیں۔ آج بھی دارالحکومت کیف کی صبح سائرن کی آواز سے ہوئی۔

    اطلاعات کے مطابق آج صبح یوکرین کے دارالحکومت کیف میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں اور روسی افواج کی جانب سے دو عمارتوں پر بمباری کی گئی ہے۔

    شہر کی ایمرجنسی سروسز کے مطابق شیوچینکو ڈسٹرکٹ میں صبح چھ بجے ایک 12 منزلہ عمارت پر بمباری کی گئی اور حکام کے مطابق بمباری کے نتیجے میں قریب موجود ایک 9 منزلہ عمارت کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

    سوشل میڈیا پر گردش کرتی وڈیوز میں دونوں عمارتوں سے دھوئیں کے بادل اڑتے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں۔یوکرین کے دارالحکومت کیف میں کرفیو نافذ ہوئے 35 گھنٹے گزر چکے ہیں جبکہ گزشتہ روز شہر میں ہونے والی بمباری میں پانچ لوگ ہلاک ہوئے تھے۔

    یوکرینی حکام نے خبردار کیا ہے کہ یہ وقت دارالحکومت کے لیے مشکل اور خطرناک ہے۔یوکرین کے جنوبی شہروں اوڈیسا اور زپوریزیا سے بھی دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

    برطانوی اخبار دی اکانومسٹ کے رپورٹر اولیور کیرول نے ٹویٹ کی کہ انہوں نے اوڈیسا میں بہت تیز شور سنا جیسے دفاعی نظام نے میزائل مار گرائے ہوں۔

    زپوریزیا سٹی کونسل کے سیکرٹری نے ٹیلی گرام پر لکھا کہ ایک ریلوے اسٹیشن پر دھماکا ہوا ہے۔یوکرین کے شہر ماریوپول کے میئر کا دعویٰ ہے کہ روسی فوجیوں نے 400 ڈاکٹروں اور مریضوں کو یرغمال بنا رکھا ہے۔

    یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ روس کے ساتھ امن مذاکرات حقیقت پسند لگنے لگے ہیں مگر نتیجے پر پہنچنے کے لیے مزید وقت چاہیے۔

    روس کا مطالبہ ہے کہ یوکرین باقاعدہ اعلان کرے کہ وہ کبھی بھی نیٹو میں شامل نہیں ہوگا۔ اس کے علاوہ یوکرین ڈونیسک، لوہانسک اور کرائمیا کے صوبوں کی نیم خود مختار حیثیت بھی قبول کرے۔ روس یوکرین مذاکرات آج بھی جاری رہیں گے۔

  • روس نے کینیڈین وزیراعظم ، صدر جوبائیڈن سمیت دیگر امریکی حکام پر پابندیاں عائد کر دیں

    روس نے کینیڈین وزیراعظم ، صدر جوبائیڈن سمیت دیگر امریکی حکام پر پابندیاں عائد کر دیں

    ماسکو: یوکرین پرحملے کے بعد عالمی پابندیوں کا سامنا کرنے والے روسی حکام نے کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو اور امریکی صدر جوبائیڈن اور ان کے بیٹے سمیت دیگر اعلیٰ حکومتی عہدیداران پر جوابی پابندی عائد کردی۔

    باغی ٹی وی : عالمی خبررساں ادارے سی این این کے مطابق روس کی وزارت خارجہ نے منگل کو ایک بیان میں کہا کہ روس نے امریکی صدر جو بائیڈن، ان کے بیٹے، وزیر خارجہ انٹونی بلنکن، دیگر امریکی حکام اور "ان سے وابستہ افراد” کے خلاف پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

    یوکرین میں ایک اور امریکی صحافی ہلاک،برطانوی صحافی زخمی

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ ماسکو حکومت نے جسٹن ٹروڈو، جوبائیڈن اور دیگر امریکی اعلیٰ حکومتی اہلکاروں پر روس میں داخلے پر پابندی عائد کرنے کے ساتھ موجودہ اثاثے بھی منجمد کردیےروسی پابندی کے شکار ہونے والوں کی فہرست میں امریکی وزیر دفاع لیوڈ آسٹن، سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی(سی آئی اے) کے چیف ولیم برنس اور قومی سلامتی کے میشر جیک سولیون کے ساتھ ساتھ کئی محکموں کے سربراہان اور ممتاز امریکی شخصیات بھی شامل ہیں۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ روس کے یوکرین پر حملے کے بعد امریکا سمیت دیگر ممالک نے ماسکو حکومت پر پابندیاں عائد کیں جس کے جواب میں روسی حکومت نے مذکورہ پابندیوں کا اعلان کیا ہے۔

    ماسکو حکومت کی جانب سئ جاری بیان میں مزید کہا گیا کہ اس کے ساتھ ساتھ، اگر وہ ہمارے قومی مفادات کو پورا کرتے ہیں تو ہم سرکاری تعلقات برقرار رکھنے سے انکار نہیں کرتے، اور اگر ضروری ہو تو، ہم ‘بلیک لسٹ’ میں شامل افراد کی حیثیت سے پیدا ہونے والے مسائل کو حل کریں گے تاکہ اعلیٰ سطحی تنظیموں کو منظم کیا جا سکے-

    یوکرین کے دارالحکومت کیف میں 35 گھنٹے کا کرفیو نافذ

    وائٹ ہاؤس کی پریس سکریٹری جین ساکی نے منگل کے روز اعلیٰ امریکی حکام کے خلاف روس کی حالیہ پابندیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ان پابندیوں کا ان کے مطلوبہ اہداف پر زیادہ اثر نہیں پڑے گا۔

    وائٹ ہاؤس کی پریس بریفنگ میں جب ان سے پابندیوں کے اثرات کے بارے میں پوچھا گیا تو جین ساکی نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ "(میں) آپ میں سے کسی کو حیران نہیں کروں گی کہ ہم میں سے کوئی بھی روس کے سیاحتی سفر کا منصوبہ نہیں بنا رہا ہے، ہم میں سے کسی کے پاس ایسے بینک اکاؤنٹ نہیں ہیں جن تک ہم رسائی حاصل نہیں کر سکیں گے، اس لیے ہم آگے بڑھیں گے۔”

    روس کی جانب سے لگائی گئی پابندیوں میں "ٹاپ لسٹ” میں شامل لوگوں کی فہرست یہ ہے:

    امریکہ کی یوکرین کیلئے 13 ارب 60 کروڑ ڈالر کی امداد کی منظوری

    امریکی صدر جو بائیڈن،سیکریٹری آف اسٹیٹ انٹونی بلنکن، وزیر دفاع لائیڈ آسٹن، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل مارک ملی، قومی سلامتی کے مشیر جیکب سلیوان، سی آئی اے کے ڈائریکٹر ولیم برنز، وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری جین ساکی،دلیپ سنگھ، بین الاقوامی اقتصادیات کے لیے بائیڈن کے قومی سلامتی کے نائب مشیر، ریاستہائے متحدہ کی ایجنسی برائے بین الاقوامی ترقی کی منتظم سامنتھا پاور
    ،صدر بائیڈن کے بیٹے ہنٹر بائیڈن، سابق وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن، ڈپٹی ٹریژری سیکرٹری والی ایڈیمو،ریٹا جو لیوس، ایکسپورٹ امپورٹ بینک کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے صدر اور چیئرمین بھی شامل ہیں-

    روس کی جانب سے جاری کے گئے بیان میں اعلان کیا گیا ہے کہ "اعلیٰ امریکی حکام، فوجی حکام، قانون سازوں، تاجروں، ماہرین اور میڈیا کے لوگ جو روسو فوبک ہیں یا روس کے خلاف نفرت کو ہوا دینے اور پابندیوں کے اقدامات متعارف کرانے میں کردار ادا کرتے ہیں” کو شامل کر کے اس فہرست میں توسیع کے لیے مزید پابندیاں لگائی جائیں گی۔

    ماسکو حکومت نے مزید کہا کہ روسی حکومت اور اس کے بینکنگ اور دیگر ادارے ان پابندیوں کو اجتماعی طور پر نافذ کریں گے۔

    اسلاموفوبیا قرارداد منظور ہونے پر بھارت کا شدید ردعمل

  • امریکہ کی یوکرین کیلئے 13 ارب 60 کروڑ ڈالر کی امداد کی منظوری

    امریکہ کی یوکرین کیلئے 13 ارب 60 کروڑ ڈالر کی امداد کی منظوری

    امریکہ نے یوکرین کے لیے 13 ارب 60 کروڑ ڈالر کی امداد کی منظوری دے دی.

    باغی ٹی وی : عالمی خبررساں ایجنسی کے مطابق امریکی صدر جوبائیڈن نے یوکرین کے لیے امداد کے بل پر دستخط کردئیے۔امریکی امداد یوکرینی مہاجرین اور دفاعی ضروریات کے لیے استعمال ہوگی۔

    امریکی صدر جوبائیڈن کا کہنا ہے کہ ملک کے دفاع کے لیے ہم یوکرینی عوام کے ساتھ ہیں،ہم یوکرین کی ہر طرح سے مدد جاری رکھیں گے۔

    اعداد و شمار کے حوالے سے عالمی خبر رساں ایجنسی کا کہنا ہے کہ شدید بمباری کی وجہ سے شہر کے تقریباً چار لاکھ افراد کے پاس نہ پینے کا صاف پانی ہے اور نہ ہی حرارت کا مناسب بندوبست ہے۔ شہریوں کو خوراک کی قلت کا بھی سامنا ہے۔

    یوکرین کے دارالحکومت کیف میں 35 گھنٹے کا کرفیو نافذ

    میڈیا رپورٹس کے مطابق شہری حکام کا کہنا ہے کہ روسی حملے کے بعد سے اب تک کل 21 سو افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں 2 امریکی صحافی بھی شامل ہیں-

    یوکرین کے دارالحکومت کیف کے میئر نے تسلسل کے ساتھ ہونے والی روسی بمباری کے باعث شہر میں 36 گھنٹے کے کرفیو کا اعلان کردیا ہے۔

    دوسری جانب روسی افواج کے محاصرے میں موجود یوکرینی شہر ماریوپول کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ تقریباً دو ہزار شہریوں کی گاڑیاں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر قائم روٹ سے باہر نکلنے میں کامیاب ہوئی ہیں جب کہ مزید دو ہزار گاڑیاں نکلنے کی منتظر ہیں روسی افواج کی جانب سے کیے جانے والے محاصرے کے بعد یہ پہلا کامیاب انسانی انخلا ہے۔

    یوکرین میں ایک اور امریکی صحافی ہلاک،برطانوی صحافی زخمی