Baaghi TV

Tag: روس

  • روسی حملوں کے باعث کیف میں ہلاکتیں 222 اورزخمیوں کی تعداد 889 ہو گئی

    روسی حملوں کے باعث کیف میں ہلاکتیں 222 اورزخمیوں کی تعداد 889 ہو گئی

    کیف: روسی حملوں کے باعث يوکرينی دارالحکومت کیف ميں ہلاکتوں کی تعداد 222 ہو گئی۔

    باغی ٹی وی : عالمی خبررساں ایجنسی کے مطابق يوکرينی حکام نے بتایا کہ دارالحکومت کيف ميں روس کی جانب سے حملوں میں اب تک 4 بچوں سمیت 222 افراد ہلاک ہو چکے ہيں جن ميں 60 شہری شامل ہيں۔

    حکام کے مطابق روسی حملوں کے باعث اب تک زخمی ہونے والوں کی تعداد 889 بنتی ہے ان ميں 241 شہری شامل ہيں۔

    دوسری جانب اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق يوکرين ميں روسی حملے ميں اب تک مجموعی طور پر ہلاک ہونے والوں کی تعداد 780 ہے 1,252 افراد اب تک زخمی بھی ہو ئے ہيں۔

    قبل ازیں جمعرات کو امریکی محکمہ دفاع کے ایک اہلکار نے تصدیق کی تھی کہ روسی افواج اپنے توپ خانے کو دارالحکومت کیف کی طرف منتقل کر رہی ہیں اور اس پر بمباری کی تیاری کی جا رہی ہے۔

    انہوں نے کہا تھا کہ انٹیلی جنس اندازوں کے مطابق بحیرہ اسود میں جنگی بحری جہاز مشرقی یوکرین کے شہر اوڈیسا کے اطراف میں حملے کی تیاری کر رہے ہیں روسی فوجی قافلے ابھی تک کسی ٹھوس نقل و حرکت کے بغیر پھنسے ہوئے ہیں اور وہ دارالحکومت کیف سے 15 سے 25 کلومیٹر کے فاصلے پر ہیں۔

    انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یوکرین کو ملنے والا نیا سامان اسے روسی افواج کا قریبی فاصلے سے مقابلہ کرنے کی سہولت دے گا جیسا کہ خارخیو، کیف اور چرنیف کے آس پاس ہوا تھا۔

    نیٹو اور امریکی ہیلی کاپٹروں‌کی مرمت روسی انجینئرز کریں گے:افغان حکومت کااعلان

    واضح رہے کہ 24 فروری کو روسی فوجی آپریشن کے آغاز کے بعد سے کیف کے اتحادی یورپی ممالک اور امریکا کی سربراہی میں بالعموم نیٹو ممالک نے یوکرین کو بہت سے دفاعی ہتھیار بھیجے ہیں ان میں سے بہت سے ممالک نے یوکرین کی حکومت اور بے گھر افراد کے لیے بھی مالی امداد مختص کی ہے۔

    علاوہ ازیں امریکی صدر جو بائیڈن نے 80 کروڑڈالر کی اضافی حفاظتی امداد مہیا کرنے کی منظوری دینے کا اعلان کیا تھا امریکی صدر نے کہا تھا کہ امریکا اپنے اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ مل کر یوکرین کے لیے امدادی سرگرمیوں کی قیادت کررہا ہےاس کے تحت ہم آج بے پایاں سلامتی اور انسانی امداد مہیا کررہے ہیں ہم آنے والے دنوں اورہفتوں میں مزید کام جاری رکھیں گے ہم پابندیوں کی سزا کے ذریعے صدر ولادیمیرپیوٹن کی معیشت کو کمزورکررہے ہیں، یہ پابندیاں وقت کے ساتھ ساتھ مزید تکلیف دہ ثابت ہوں گی-

    بائیڈن نے بتایا تھا کہ یوکرین کو 800 طیارہ شکن نظام، 9000 اینٹی آرمرسسٹم، 7000 چھوٹے ہتھیار، دوکروڑ گولیاں،گولہ بارود اور ڈرون مہیا کئے جائیں گے-

    امریکہ کا یوکرین کیلئے مزید 80 کروڑ ڈالر،طیارہ شکن ہتھیار،ڈرون اور1 کروڑگولیاں…

  • روسگرام اور انکل وانیاز،میکڈونلڈز اور انسٹاگرام کا روسی متبادل

    روسگرام اور انکل وانیاز،میکڈونلڈز اور انسٹاگرام کا روسی متبادل

    یوکرین میں فوجی آپریشن کے سبب ماسکو پر مغربی ممالک کی پابندیوں کے نتیجے میں بعض عالمی کمپنیوں نے روس میں کاروبار بند کر دیا ہے جس کے بعد ماسکو بظاہر متبادل راستے تلاش کرنے میں مصروف ہے۔

    باغی ٹی وی : برطانوی اخبار "دی انڈیپینڈنٹ” کے مطابق روسی پارلیمنٹ کی جانب سے فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹس کی مقامی کمپنی کو سپورٹ کرنے کا اعلان کیا ہے تا کہ وہ "میک ڈونلڈز” کی جگہ لے سکے واضح رہے کہ کمپنی نے کچھ عرصہ قبل روس میں اپنے مراکز بند کرنے اور ملک سے رخصت ہو جانے کا اعلان کیا تھا۔

    انسٹاگرام اور فیس بک نے ٹک ٹاک پر اپنا کاؤنٹ بنا لیا

    رپورٹ کے مطابق نئی فاسٹ فوڈ چین کا نام Uncle Vanya’s ہے روس کا یہ نیا برانڈ ایک سال کے اندر کام شروع کر دے گا یہ پیش رفت روسی پارلیمنٹ کے اسپیکر کی جانب سے پیش کی گئی تجویز کے تحت عمل میں آئے گی۔

    یوکرین جنگ: میک ڈونلڈز، کوکا کولا اور سٹاربکس نے روس میں کاروبای سرگرمیاں معطل کر…

    مذکورہ نئی فاسٹ فوڈ چین کا لوگو بھی امریکی مکڈونلڈز کے لوگو سے ملتا جلتا ہو گا ماسکو مشہور سوشل میڈیا ویب سائٹ "انسٹاگرام” کی متبادل ایپلی کیشن کی منصوبہ بندی بھی کر رہا ہے اس نئی ایپ کا نام "روسگرام” ہو گا اور اس کا ہدف ملک میں موجود انسٹاگرام کے 8 کروڑ صارفین ہوں گے روسگرام کی نئی ایپلی کیشن رواں سال اپریل میں قابل رسائی ہو گی۔

    روس نے کینیڈین وزیراعظم ، صدر جوبائیڈن سمیت دیگر امریکی حکام پر پابندیاں عائد کر…

    واضح رہے کہ گذشتہ دنوں کے دوران میں متعدد عالمی برانڈز روس سے رخصت ہو چکے ہیں ان میں زارا ، ایچ اینڈ ایم، مینگو، ایڈیڈاس، مکڈونلڈز اور اسٹار بکس وغیرہ شامل ہیں علاوہ ازیں متعدد عالمی کمپنیوں نے روس میں اپنا کام روک دینے کا اعلان کیا ہے۔

    روس نے انسٹاگرام تک رسائی کو محدود کر دیا

    روس دو ہفتوں سے بھی کم عرصے ایران اور شمالی کوریا کو پیچھے چھوڑتے ہوئے دنیا میں سب سے زیادہ پابندیوں کا شکار ملک بن گیا ہے ماسکو پر عائد پابندیوں کی مجموعی تعداد 5530 سے زیادہ ہے۔ بلومبرگ نیوز ایجنسی کے مطابق تہران 3616 پابندیوں کے بعد دوسرے نمبر پر ہے۔

    ٹک ٹاک نے بھی روس میں اپنی سروس معطل کر دی

    جبکہ دنیا کے مختلف ممالک کی جانب سے روزانہ کی بنیاد پر روس پر نئی پابندیاں عائد کیے جانے کا سلسلہ جاری ہے۔

    یوکرین تنازع:برطانیہ کا100 سےزائد روسی تاجروں کے اثاثے منجمد کرنے اور روسی مصنوعات…

  • نیٹو اور امریکی ہیلی کاپٹروں‌کی مرمت روسی انجینئرز کریں گے:افغان حکومت کااعلان

    نیٹو اور امریکی ہیلی کاپٹروں‌کی مرمت روسی انجینئرز کریں گے:افغان حکومت کااعلان

    کابل:نیٹو اور امریکی ہیلی کاپٹروں‌کی مرمت روسی انجینئرز کریں گے:افغان حکومت کااعلان ،اطلاعات کے مطابق طالبان کے نائب ترجمان نے دعویٰ کیا کہ روسی ماہرین نے روسی ہیلی کاپٹروں کی مرمت پر رضامندی ظاہر کی جو اب طالبان کے قبضے میں ہیں اور انہوں نے مولوی عبدالکبیر کو اس بابت تجاویز دی تھیں۔

    روسی ماہرین کے ایک وفد نے کابل میں طالبان رہنماؤں سے عسکری ہیلی کاپٹروں کی مرمت کے بارے میں بات کی ہے۔ 15 مارچ2022 کو طالبان کے نائب ترجمان انعام اللہ سمنگانی نے ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ ورٹیکل ٹی ایئر کمپنی کے سی ای او ولادی میر سکوریخن اور سمال ہیلی کاپٹر کی مرمت کرنے والی کمپنی کے چیئرمین الیگزینڈر کلاچوف نے ایک بیان جاری کیا کہ انہوں نے طالبان کے نائب وزیر اعظم برائے سیاسی امور مولوی عبدالکبیر سے ملاقات کی۔

    طالبان کے نائب ترجمان نے دعویٰ کیا کہ روسی ماہرین نے روسی ہیلی کاپٹروں کی مرمت پر رضامندی ظاہر کی جو اب طالبان کے قبضے میں ہیں اور انہوں نے مولوی عبدالکبیر کو اس بابت تجاویز دی تھیں۔

    بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ مولوی عبدالکبیر نے روسی ماہرین کو یقین دلایا کہ افغانستان میں عالمی سلامتی کو یقینی بنایا گیا ہے اور غیر ملکی کمپنیوں کو سرمایہ کاری کا موقع ملے گا۔ ورٹیکل ٹی ایک روسی فضائی کمپنی ہے جو ہیلی کاپٹر بناتی ہے۔

    یہ کمپنی کئی سالوں سے افغانستان میں سرگرم ہے، جو سابق افغان حکومت کی ملکیت والے روسی ہیلی کاپٹروں کی دیکھ بھال کی خدمات فراہم کرتی ہے۔ کمپنی کے متعدد ہیلی کاپٹر اقوام متحدہ کی ایجنسیوں سمیت بین الاقوامی امدادی ایجنسیوں نے چارٹر کیے ہیں اور افغانستان میں کام کرتے ہیں۔

    اگرچہ روسی ماہرین اور طالبان رہنماؤں کے درمیان ہونے والی بات چیت کے بارے میں مزید کوئی تفصیلات دستیاب نہیں ہیں، لیکن ایسا لگتا ہے کہ طالبان نے سابق افغان حکومت کے چھوڑے گئے ہیلی کاپٹروں کو دوبارہ فعال کرنے کے لیے روسی حکومت اور اس کی ایئر لائنز کی مدد لی ہے۔

    قبل ازیں طالبان کے وزیر خارجہ مولوی امیرخان متقی نے ازبک حکومت سے مزار شریف میں مولانا جلال الدین ہوائی اڈے کی مرمت کرنے میں مدد کی درخواست کی تھی۔ طالبان کے وزیر دفاع ملا محمد یعقوب نے جنوری کے شروع میں کہا تھا کہ انہوں نے غیر ملکی حکومتوں کی امداد اچھی طرح سے لیس فضائیہ بنانے کا منصوبہ بنایا ہے اور اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے سابق افغان حکومت کے متعدد ماہرین کو بلایا جائے گا۔

    انہوں نے ازبکستان اور تاجکستان کو بھی خبردار کیا کہ وہ جلد از جلد افغان فوجی طیارے اور ہیلی کاپٹر طالبان کے حوالے کر دیں۔ گذشتہ سال 15 اگست کی دوپہر کو افغان فضائیہ کے متعدد پائلٹ اور عملہ 46 ہیلی کاپٹروں اور فوجی طیاروں میں تاجکستان اور ازبکستان کے لیے افغانستان سے روانہ ہوئے تھے۔

    ہیلی کاپٹر اور طیارے تاحال تاجکستان اور ازبکستان میں ہیں اور انہیں طالبان کے حوالے کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ طالبان نے پہلی بار مارچ کے شروع میں پنجشیر میں قومی مزاحمتی محاذ کے ٹھکانوں پر حملے کے لیے فوجی ہیلی کاپٹروں کا استعمال کیا تھا۔ طالبان رہنماؤں نے بارہا سابق افغان حکومت کے پائلٹوں اور فضائیہ کے ماہرین کو تعاون کے لیے مدعو کیا ہے۔

    سابق حکومت کے فوجیوں کی ہلاکتوں اور حالیہ برسوں میں اسلامی تحریک کے خلاف لڑنے والوں کے انتقام نے سابق ​​حکومتی افواج کو طالبان کی زیر قیادت ڈھانچے میں کام جاری رکھنے کی بجائے بیرونی ممالک میں پناہ لینے پر مجبور کیا ہے۔

    افغان فضائیہ کے کئی افسران اور پائلٹوں کو پچھلی انتظامیہ میں انخلا کے عمل کے دوران امریکہ اور یورپی ممالک میں منتقل کیا گیا تھا، لیکن کئی افغانستان چھوڑنے میں ناکام بھی رہے اور وہ ملک کے اندر خفیہ طور پر رہنے پر مجبور ہیں۔

  • روس یوکرین جنگ،ہر24 گھنٹے بعد دونوں فریقوں کے نقصانات کی تفصیل جاری

    روس یوکرین جنگ،ہر24 گھنٹے بعد دونوں فریقوں کے نقصانات کی تفصیل جاری

    ماسکو:روس یوکرین جنگ،ہر24 گھنٹے بعد دونوں فریقوں کے نقصانات کی تفصیل جاری ،اطلاعات کے مطابق روس اور یوکرین نے جنگ میں 24 گھنٹوں کے دوران ایک دوسرے کے ہونے والے نقصانات کی تفصیل جاری کی ہے۔

    روسی وزارتِ دفاع نے گزشتہ 24 گھنٹوں میں یوکرین میں 46 فوجی تنصیبات کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

    روسی وزارتِ دفاع کے ترجمان ایگور کوناشینکوف نے دارالحکومت ماسکو میں جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ روس مسلح افواج اور ڈونباس کی علیحدگی پسند انتظامیہ کی یوکرین میں پیش قدمی جاری ہے اور رہائشی عمارتوں کو کنٹرول میں لیا جا رہا ہے۔

    ترجمان کوناشیکوف نے کہا ہے کہ روسی فوج یوکرین میں فوجی تنصیبات پر حملے جاری رکھے ہوئے ہے اور کل یوکرین کے علاقے ریونے کے شہر سرن کی فرنٹ لائن کو میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا ہے۔

    ترجمان ایگور کوناشینکوف نے کہا ہے کہ حالیہ 24 گھنٹوں میں یوکرین کی 46 فوجی تنصیبات، 181 طیاروں اور ہیلی کاپٹروں، 172 ڈرون طیاروں، 170 ملٹی بیرل راکٹ لانچروں، 1379 ٹینکوں اور بکتر بند گاڑیوں، 133 اینٹی ائیر کرافٹ میزائل سسٹمز، 514 ہووِٹزر اور مارٹر توپوں اور 1168 اسپیشل فوجی گاڑیوں کو بھی تباہ کر دیا گیا ہے۔

    دوسری جانب یوکرینی حکام کے مطابق جنگ میں روس کا جانی و مالی نقصان 14 ہزار فوجیوں، 86 طیاروں، 108 ہیلی کاپٹروں اور 444 ٹینکوں تک پہنچ چکا ہے۔

    یوکرین جنرل اسٹاف ہیڈ کوارٹر نے 24 فروری سے آج 17 مارچ تک روسی فوج کے نقصان کے اعداد و شمار جاری کیے ہیں۔

    یوکرین کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق روسی مسلح افواج کے 14 ہزار فوجی ہلاک جبکہ 86 طیارے، 108 ہیلی کاپٹر، 444 ٹینک، 1435 بکتر بند گاڑیاں، 72 راکٹ لانچر سسٹمز اور 43 فضائی دفاعی سسٹمز تباہ کر دیے گئے ہیں۔

    روسی مسلح افواج کو 864 گاڑیوں، 3 لائٹ اسپیڈ ٹینکرز، 60 فیول وہیکلز اور 11 ڈرون طیاروں کا نقصان بھی برداشت کرنا پڑا ہے۔

  • روس کی یوکرین تنازع کے حل کیلئے نئی تجویز،صدر زیلنسکی کا رد عمل

    روس کی یوکرین تنازع کے حل کیلئے نئی تجویز،صدر زیلنسکی کا رد عمل

    ماسکو: روس نے یوکرین تنازع کے حل کے لیے نئی تجویز پیش کردی۔

    باغی ٹی وی :عالمی خبررساں ایجنسی کے مطابق کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ کیف کے ساتھ بات چیت میں سویڈن اور آسٹریا کی طرح ایک غیر جانبدار، آزاد اور اپنی فوج رکھنے والا یوکرین ایک حل ثابت ہو سکتا ہے –

    امریکہ کا یوکرین کیلئے مزید 80 کروڑ ڈالر،طیارہ شکن ہتھیار،ڈرون اور1 کروڑگولیاں…

    روس کی وزارت خارجہ کے مطابق یوکرین کے نیوٹرل سٹیٹس کے حوالے سے سنجیدگی سے بات ہو رہی ہے اور یقینی طور پر یہ سکیورٹی ضمانت کے ساتھ ہی ہو گا۔

    واضح رہے کہ آسٹریا اور سویڈن یورپی یونین کے رکن ہیں تاہم نیٹو کے فوجی اتحاد سے باہر ہیں۔

    یوکرین نے روس کی اس تجویز پر ردعمل دیتے ہوئے یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کہا ہے کہ وہ اپنی سکیورٹی کی بین الاقوامی فورسز کی طرف سے ضمانت چاہتا ہے ان کا ملک بین الاقوامی ضمانتوں کو قبول کر سکتا ہے۔

    ایک ویڈیو خطاب میں انہوں نے کہا بات چیت کے دوران میری ترجیحات بالکل واضح ہیں، جن میں جنگ کا اختتام اور بین الاقوامی ضمانتیں، خود مختاری، ریاستی سالمیت اور ہمارے ملک کی حقیقی حفاظت شامل ہیں۔

    دوسری جانب روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے آر بی سی ٹیلی وژن سے گفتگو میں کہا ہے کہ یوکرین میں جاری تنازعے کے حل میں امریکہ کی کوئی دلچسپی دکھائی نہیں دیتی یوکرین حکام کے نقطہ نظر پر امریکا کا فیصلہ کن اثر ہے مگر آج یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ امریکہ اس مسئلے کے فوری حل میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتا۔

    واضح رہے کہ امریکی صدر نے روسی حملے کا مقابلہ کرنے کے لیے یوکرین کو سکیورٹی امداد کے طور پر 800 ملین ڈالر کی اضافی رقم دینے کی منظوری دے دی ہے اس امداد کے تحت یوکرین کو800 طیارہ شکن نظام، 9000 اینٹی آرمرسسٹم، 7000 چھوٹے ہتھیار، دوکروڑ گولیاں،گولہ بارود اور ڈرون مہیا کئے جائیں دے-

    جوبائیڈن نے کہا تھا کہ ہم یوکرین کو جنگ لڑنے اور اپنا دفاع کرنے کے لیے ہتھیار دے رہے ہیں کیونکہ ابھی اور بھی مشکل دن آنے والے ہیں امریکی صدر نے مزید کہا تھا کہ یہ امداد آزادی کے لیے ہے یہ لوگوں کے اپنے مستقبل کا تعیّن کرنے کے حق کے بارے میں ہے یہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ہے کہ یوکرین میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی فتح کبھی نہیں ہوگی، چاہے وہ میدان جنگ میں کوئی بھی پیش قدمی کرلیں۔

    لائیوٹی وی پریوکرین جنگ کےخلاف احتجاج کرنیوالی روسی صحافی کے ساتھ کیا سلوک ہوا؟

  • روس یوکرین میں آپریشن معطل کرے: عالمی عدالت انصاف کا عبوری حکم

    روس یوکرین میں آپریشن معطل کرے: عالمی عدالت انصاف کا عبوری حکم

    ہیگ : نیدرلینڈز کے دی ہیگ میں واقع بین الاقوامی عدالت انصاف (آئی سی جے) نے بدھ کے روز ایک عارضی اقدام منظور کیا جس میں روسی فیڈریشن کو یوکرین کے علاقے میں فوجی کارروائیوں کو معطل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    متفقہ طور پر یہ اشارہ بھی دیا گیا کہ روس اور یوکرین دونوں کو ایسے کسی بھی اقدام سے گریز کرنا چاہیے جس سے تنازعہ کو عدالتی عدالت کے سامنے بڑھایا جائے یا اسے مزید مشکل بنایا جا سکے۔

    عارضی اقدام کو 2 کے مقابلے13ووٹوں سے منظور کیا گیا۔ آئی سی جے کے ایک ہندوستانی جج جسٹس دلویر بھنڈاری نے عارضی اقدام کے حق میں ووٹ دیا۔

    عدالت نے مزید اشارہ کیا کہ کسی بھی فوجی یا بے قاعدہ مسلح یونٹوں کو جو روس کی طرف سے ہدایت یا حمایت کر سکتے ہیں، نیز کوئی بھی تنظیم اور افراد جو اس کے کنٹرول، سمت یا اثر و رسوخ کے تحت ہوسکتے ہیں، کو فوجی کارروائیوں کی اجازت نہیں ہوگی

    ادھر جو بائیڈن کی طرف سے روسی صدر پوتن کو ”جنگی مجرم” کہنے کو روس نے”ناقابل قبول اور ناقابل معافی” قرار دیا۔ ماسکو نے کہا کہ یہ بیان بازی ایک ایسے ملک کا سربراہ کررہا ہے جس کے بموں سے دنیا میں لاکھوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

    اب جب کہ روس اور یوکرین کی جنگ چوتھے ہفتے میں داخل ہوچکی ہے اور سینکڑوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں، امریکی صدر جو بائیڈن نے اس فوجی کارروائی کے لیے روسی صدر ولادیمیر پوتن کو”جنگی مجرم” قرار دیا ہے۔

    جوبائیڈن بدھ کے روز وائٹ ہاوس میں نامہ نگاروں سے بات چیت کررہے تھے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا پوتن جنگی مجرم ہیں تو پہلے تو انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا اور آگے بڑھ گئے لیکن جب صحافیوں نے ان سے دوبارہ یہی سوال کیا تو بائیڈن نے کہا،”ہاں میرے خیال میں وہ ایک جنگی مجرم ہیں۔”

    بائیڈن نے اپنے بیان کی مزید کوئی وضاحت نہیں کی تاہم وائٹ ہاوس کی ترجمان جین ساکی نے کہا کہ صدر بائیڈن کا بیان یوکرین میں ہسپتالوں سمیت دیگر سویلین عمارتوں پر روسی فوج کے میزائل حملوں کے پس منظر میں ہے۔”ایک غیر ملکی ڈکٹیٹر کے ذریعہ دوسرے ملک میں بربریت اور ہولناک واقعات آپ دیکھ رہے ہیں،جس کی وجہ سے شہریوں کی زندگیاں خطرے میں پڑگئی ہیں۔ ہسپتال تباہ ہورہے ہیں، حاملہ خواتین اور صحافی اور دوسرے لوگ متاثر ہورہے ہیں۔

  • یوکرین نے امریکی مدد سے نیوکلئیر ہتھیاروں کی تیاری شروع کردی،ایٹمی محاذ آرائی ہوسکتی ہے: روس

    یوکرین نے امریکی مدد سے نیوکلئیر ہتھیاروں کی تیاری شروع کردی،ایٹمی محاذ آرائی ہوسکتی ہے: روس

    ماسکو :یوکرین نے امریکی مدد سے نیوکلئیر ہتھیاروں کی تیاری شروع کردی،ایٹمی محاذ آرائی ہوسکتی ہے: روس ،اطلاعات کے مطابق روس نے الزام عائد کیا ہے کہ یوکرین نے امریکا کے ساتھ مل کر نیوکلئیر ہتھیاروں کی تیاری شروع کردی ہے۔

    قبل ازیں روس نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ یوکرین امریکی حمایت یافتہ ریسرچ لیبز میں حیاتیاتی ہتھیار بھی تیار کررہا ہے۔

    روس کی جانب سے ان دعوؤں کی حمایت میں کوئی ثبوت یا وضاحت پیش نہیں کی گئی کہ کس طرح ایک محصور ملک اچانک جوہری ہتھیار تیار کرنا شروع کر سکتا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق روسی فیڈریشن کی سلامتی کونسل کے سکریٹری نکولائی پیٹروشیف کا کہنا ہے کہ “یوکرین کی طرف سے جوہری ہتھیاروں کی تخلیق سے پوری دنیا کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو گا اور یہ جوہری جنگ کا آغاز ہوگا، روس یوکرین کے بے قابو قوم پرستوں کو اپنے پاس رکھنے کی اجازت نہیں دے سکتا”۔

    پیٹروشیف نے منگل کے روز گروزنی میں شمالی قفقاز میں روسی فیڈریشن کی قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے منعقدہ ایک اجلاس میں کہا کہ “یہ واضح ہو گیا ہے کہ یہ امریکی مشیر ہی ہیں جو کیف حکومت کی حوصلہ افزائی اور مدد کرتے ہیں۔”

    انہوں نے مزید کہا کہ “یوکرین کے پاس نیوکلئیر ہتھیار بنانے کے لیے قابلیت، ٹیکنالوجی، خام مال، ترسیل کے ذرائع سمیت سب کچھ ہے۔”

    نیٹو کے سیکرٹری جنرل جینز اسٹولٹن برگ نے منگل کو کہا کہ نیٹو کو خدشہ ہے روس یوکرین پر اپنے حملے کے ایک حصے کے طور پر “فالس فلیگ” حملے میں کیمیائی ہتھیار استعمال کر سکتا ہے۔

    اسٹولٹن برگ نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ہمیں خدشہ ہے ماسکو ممکنہ طور پر کیمیائی ہتھیاروں کے ساتھ یوکرین میں فالس فلیگ آپریشن کر سکتا ہے۔

    امریکا نے 9 مارچ کو ان روسی الزامات کی تردید کی تھی کہ وہ یوکرین میں بائیو وار فیئر لیبز چلا رہا ہے، ان دعوؤں کو “مضحکہ خیز” قرار دیا گیا اور تجویز کیا گای کہ ماسکو خود کیمیائی یا حیاتیاتی ہتھیار استعمال کرنے کی بنیاد رکھ رہا ہے۔

    روس پہلے ہی یوکرین پر دونیتسک میں ایک کیمیکل پلانٹ کو جان بوجھ کر سبوتاژ کرنے کا الزام لگا چکا ہے، اور دعویٰ کیا ہے کہ اس نے قریبی شہری بستیوں میں زہریلی گیس چھوڑی ہے۔

  • یوکرین روس جنگ : پانچ صحافی ہلاک درجنوں زخمی

    یوکرین روس جنگ : پانچ صحافی ہلاک درجنوں زخمی

    کیف: یوکرین روس جنگ : پانچ صحافی ہلاک درجنوں زخمی اطلاعات کے مطابق فوکس نیوز کے صحافی اولیکسانڈرا کرشائینووا اور کیمرہ مین پیئرے زکرزیوسکی منگل کے روز کییف کے نواح میں روسی فوج کی شیلنگ میں ہلاک ہوگئے۔ جنگ شروع ہونے کے بعد سے یوکرین میں اب تک پانچ صحافی مارے جاچکے ہیں۔

    یوکرین کی وزارت دفاع نے فوکس نیوز کے صحافی اولیکسانڈرا کرشائینووا اور کیمرہ مین پیئرے زکرزیوسکی کی ہلاکت کے لیے روسی فوج کے حملے کو مورد الزام ٹھہرایا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ دونوں صحافی روسی فوج کی شیلنگ میں اس وقت ہلاک ہو گئے جب ان کی گاڑی یوکرینی دارالحکومت کییف کے نواحی علاقے ہورنیکا میں پھنس گئی۔

    فوکس نیوز نے اپنی نیوز بلیٹن میں کرشائنیووا اور زکریوسکی کی موت کی اطلاع دیتے ہوئے کہا کہ زکریوسکی کو چینل میں ایک ‘لیجینڈ’ کی حیثیت حاصل تھی۔ ”ان کی موت انتہائی تکلیف دہ ہے۔ وہ ہمارے ساتھ برسوں سے کام کررہے تھے۔انہوں نے عراق، افغانستان اور شام میں جنگ کی رپورٹنگ کی تھی۔

    وہ ہر طرح کے دباو میں بھی کام کرنے کے عادی تھے۔” کرشائنیووا اور زکریوسکی کی ہلاکت کے ساتھ ہی یوکرین پر روسی فوج کے حملے کے بعد سے جنگ کے دوران کم از کم پانچ صحافی ہلاک ہوچکے ہیں۔

    امریکی فلم ساز برینٹ ریناوڈ جنگ کی عکس بندی کے دوران ہفتے کے روز بری طرح زخمی ہوگئے تھے اور بعد میں ان کی موت ہوگئی۔ کرشائنیووا اور زکریوسکی کی ہلاکت کی اطلاع عام کیے جانے سے قبل منگل کے روز ہی یوکرینی پارلیمان میں انسانی حقوق کی سربراہ لدمیلا ڈینیسووا نے بتایا تھا کہ جنگ میں اب تک درجنوں صحافی زخمی اور کم از کم تین ہلاک ہوچکے ہیں۔

    ڈینیسووا نے کہا، "کم از کم 35 صحافی روسی فورسز کے حملے کا شکار ہوچکے ہیں، ان میں سے تین کی موت ہوچکی ہے۔” یوکرین کے ایک پولیس عہدیدار کے مطابق امریکی فلم ساز ریناوڈ کییف کے نواح میں ارپن قصبے میں 13 مار چ کو روسی فورسز کی گولیوں کا شکار ہوگئے۔

    اس سے قبل یوکرینی صحافی ایوگینی ساکن کی کییف ٹیلی ویژن پر روسی فوجی حملے کے دوران موت ہوگئی تھی جبکہ ایک دیگر یوکرینی نامہ نگار وکٹر ڈوڈار، مائیکو لیف شہر کے قریب جنگ کے دوران مارے گئے۔

    فوکس نیوز کے مطابق زکریوسکی کی عمر 55 برس اور کرشائنیووا کی 24برس تھی۔ وہ فوکس کے ایک دیگر نامہ نگار بنجامن ہال کے ساتھ کییف کے نواحی علاقے ہورینکا سے رپورٹنگ کررہے تھے۔ بنجامن ہال بھی اس واقعے میں زخمی ہوگئے اور ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔

    یوکرین کی وزارت دفاع نے ایک بیان میں بتایا کہ بنجامن ہال کے پیر کا ایک حصہ کاٹنا پڑا۔ روس نے تقریباً ایک ماہ تک جاری رہنے والے تعطل کے بعد 24 فروری کو یوکرین پر فوجی حملہ کردیا تھا۔ اس جنگ کے نتیجے میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے روس پر پابندیاں عائد کردیں۔

    اقوام متحدہ کے مطابق جنگ کی وجہ سے تقریباً 30 لاکھ یوکرینی شہریوں کو ملک چھوڑنا پڑا ہے کیونکہ روسی فوج نے متعدد شہروں اور قصبات کا محاصرہ کرلیا ہے اور ان پر بمباری کررہی ہے۔ صحافیوں کی بین الاقوامی تنظیم ‘کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس(سی پی جے)’ نے یوکرین سے جنگ کی رپورٹنگ کرنے والے بین الاقوامی نامہ نگاروں اور میڈیا کارکنوں نیز یوکرینی صحافیوں کو تحفظ فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔ سی پی جے نے یوکرینی صحافیوں کو لازمی فوجی خدمات سے مستشنیٰ رکھنے کی بھی اپیل کی ہے۔

    دریں اثنا متعدد صحافیوں اور صحافتی تنظیموں نے یوکرین میں صحافیوں کی ہلاکت پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔ امریکی کانگریس کے متعدد اراکین نے زکریوسکی کو ایک امریکی صحافی قرار دیتے ہوئے ان کی تعریف کی۔ آئرلینڈ کے وزیر اعظم مائیکل مارٹن نے کہا کہ وہ ایک آئرش شہری تھے۔

    مارٹن نے ٹوئٹر پر لکھا، "آئرش شہری اور صحافی پیئرے زکریوسکی اور ان کے ایک شریک کار کی ہلاکت نے ہمیں غمزدہ اور مایوس کردیا۔ مصیبت کی اس گھڑی میں میں ان کے اہل خانہ، دوستوں اور ساتھی صحافیوں کے ساتھ ہوں۔ ہم یوکرین پر روس کے اس بلاجواز اور غیر اخلاقی جنگ کی مذمت کرتے ہیں۔”

  • پاکستان کسی جنگ میں حصہ دار نہیں ہوگا:بھارت ہمیں چیک نہ کرے:ہمارا ردعمل سخت ہوگا: سیکرٹری خارجہ

    پاکستان کسی جنگ میں حصہ دار نہیں ہوگا:بھارت ہمیں چیک نہ کرے:ہمارا ردعمل سخت ہوگا: سیکرٹری خارجہ

    ںاسلام آباد :پاکستان کسی جنگ میں حصہ دار نہیں ہوگا:بھارت ہمیں چیک نہ کرے:ہمارا ردعمل سخت ہوگا: اطلاعات کے مطابق سیکرٹری خارجہ سہیل محمود نے کہا ہے کہ ہم دنیا کو پیغام دے چکے ہیں کہ پاکستان امن میں ضرور حصے دار ہوگا لیکن کسی جنگ کا حصہ نہیں بنے گا۔

    سینیٹر شیری رحمان کے زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے امور خارجہ کا اجلاس منعقد ہوا جس میں سیکرٹری خارجہ نے کمیٹی کو بریفنگ پیش کی۔

    بریفنگ کے دوران انہوں نے بتایا کہ وزیر اعظم کے دورہ روس کی منصوبہ بندی دو سالوں سے ہورہی تھی جس کے حوالے سے باتیں ہورہی ہیں۔

     

     

    انہوں نے بتایا کہ کے روسی صدر کے ساتھ وزیر اعظم کی ملاقات ساڑھے تین گھنٹے کی تھی جس میں اسلامو فوبیا سمیت توانائی کا معاملہ بات چیت اہم ایجنڈا تھا۔

    ان کا کہنا تھا کہ فروری کے وسط سے یوکرین اور روس کشیدگی میں اضافہ ہوا تھا جس کے متعلق وزیراعظم نے اس معاملے کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا تھا۔

    انہوں نے بتایا کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر دو سی ون تھرٹی امدادی جہاز یوکرین روانہ ہوئے ہیں جس پر یوکرین کے سفیر نے اس پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا جو گزشتہ رات وہاں موجود تھے۔

    انہوں نے مزید بتایا کہ یوکرین سے اب تک 1558 افراد کو نکالا گیا ہے لیکن اس وقت 15 سے 20 افراد یوکرین میں ہیں جن میں سے کچھ جیل میں ہیں۔

    سیکرٹری خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان کی جانب سے یورپی یونین کے سفیروں کی پریس ریلیز پر جواب دیتے ہوئے انہیں بتایا گیا ہے کہ انہوں نے درست نہیں کیا ہے اور دنیا کو بتا دیا ہے کہ پاکستان کسی جنگ میں حصہ دار نہیں ہوگا۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس سے قبل روس پاکستان کے مؤقف کو ویٹو کردیتا تھا لیکن اب ایسا نہیں ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ یوکرین روس تنازعہ کے بعد دنیا افغانستان کے بحران کو بھول گئی ہے، افغانستان میں شدید ترین انسانی بحران اب بھی موجود ہے۔

    انہوں نے بھارتی میزائل کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پی فائیو کے نمائندوں کو اس معاملہ پر بلا کر ان کو بریفنگ دی گئی ہے جبکہ بھارت سمیت دنیا بھر کے دفاعی ماہرین نے بھی اس سوال اٹھایا ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ ہم نے بھارت سے پوچھا کہ روزمرہ کی مینٹیننس کے دوران یہ ہوا یا پھر بھارت کا اس پر کنٹرول نہیں ہے؟ اس معاملے پر بھارت کی نیت کیا تھی اس کی تحقیقات ہونی چاہیے۔

    دوسری جانب بھارتی میزائل کے پاکستانی حدود میں گرنے کے معاملے پر شیری رحمان نے کہا کہ بھارت کی جانب سے میزائل غلطی سے نہیں بلکہ ٹرائل کے تحت چلایا گیا تھا۔

    ان کا کہنا تھا کہ دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان اس طرح کا واقعہ بڑی جنگ کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتا ہے، یہ سنجیدہ معاملہ ہے اور اس طرح کی غلطی بھارت جان بوجھ کر دوبارہ کرسکتا ہے۔

  • روسی صدر پیوٹن عالمی سلامتی کیلئے خطرہ:برطانیہ

    روسی صدر پیوٹن عالمی سلامتی کیلئے خطرہ:برطانیہ

    لندن :روسی صدر پیوٹن عالمی سلامتی کیلئے خطرہ:برطانیہ ،اطلاعات کے مطابق برطانیہ نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو عالمی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے دیا۔

    برطانوی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق برطانوی خارجہ سیکریٹری نے وزیر اعظم بورس جانسن کے خلیج کے دورے کا ذکر کرتے ہوےکہا ہے کہ یہ بالکل درست ہے کہ برطانیہ روس کے لیے تیل اور گیس کے متبادل ذرائع کی طرف دیکھ رہا ہے۔

    خارجہ سیکریٹری نے کہا کہ ولادیمیر پیوٹن نے یوکرین پر حملے میں یورپی سیکیورٹی کو توڑا اور خوفناک طاقت کا استعمال کیا۔ پیوٹن جس طریقے سے اپنے جنگی مشن کو فنڈز فراہم کرتے ہیں وہ تیل اور گیس کی آمدنی کے ذریعے ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ یقیناً میں یہ نہیں کہہ رہی ہوں کہ ہم سعودی عرب یا متحدہ عرب امارات کی ہر ایک پالیسی سے متفق ہیں لیکن ان سے عالمی سلامتی کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔

    خارجہ سیکریٹری نے کہا کہ ہمیں دوسرے ممالک کو بھی برطانیہ کے دائرہ اثر میں لانے اور روس سے دور کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں پیوٹن کو ہر قیمت پر روکنا ہوگا، وہ حقیقی خطرہ ہے جس کا دنیا کو سامنا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ میں مستقبل کے بارے میں پیشگوئیاں نہیں کر سکتی لیکن جو ہم جانتے ہیں وہ یہ ہے کہ پیوٹن کے منصوبے، منصوبوں کے مطابق نہیں چل رہے ہیں۔

    خارجہ سیکریٹری نے مزید کہا کہ پیوٹن پیش رفت نہیں کر رہے ہیں جس کی انہیں امید تھی اور اس کے نتیجے میں وہ زیادہ سے زیادہ انتہائی تکنیکوںاور ہتھیاروں کا سہارا لے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ برطانیہ صدر ولادیمیر زیلنسکی کو تمام تعاون فراہم کرے گا۔