Baaghi TV

Tag: روس

  • یوکرین تنازع: امریکا،برطانیہ کے بعد جرمنی ،آسٹریلیا اور جاپان کا روس پر پابندیوں کا اعلان

    یوکرین تنازع: امریکا،برطانیہ کے بعد جرمنی ،آسٹریلیا اور جاپان کا روس پر پابندیوں کا اعلان

    لندن: صدر ولادیمیر پوٹن کی جانب سے یوکرین کے دو صوبوں کو خود مختار ریاستیں تسلیم کرنے اور وہاں اپنی فوج بھیجنے کے اعلان کے بعدامریکا، برطانیہ آسٹریلیا اور جاپان نے روس پر پابندیاں عائد کرنے کا آغاز کردیا ہے۔

    باغی ٹی وی : برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق وزیراعظم بورس جانسن نے تین ارب پتی روسی تاجروں گنیڈی تمشینکو، بورس روٹنبرگ اور ایگو روٹنبرگ کے اثاثے منجمد کرنے کا اعلان کیا ہے وزیر اعظم بورس جانسن نے ان تینوں تاجروں کے برطانیہ میں داخل ہونے پر پابندی عائد کردی جب کہ برطانوی شہریوں اور کمپنیوں کو ان کے ساتھ لین دین سے روک دیا ہے علاوہ ازیں برطانوی وزیراعظم نے 5 بینکوں پر پابندی عائد کی ہے جس کے بعد برطانوی شہری اور کمپنیاں ان بینکوں کے ساتھ لین دین نہیں کرسکیں گے۔

    برطانوی وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ یہ پابندیوں کا آغاز ہے اور مزید پابندیاں بھی عائد کی جا سکتی ہیں تاہم تنازع کے سفارتی حل کے لیے کاوشیں آخری وقت تک جاری رہیں۔

    یوکرینی وزیردفاع کا فوجیوں کو روس سے جنگ کیلئے تیار رہنےکا حکم

    دوسری جانب جرمنی نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ ساڑھے 11 ارب ڈالر سے زائد مالیت کے نارڈ اسٹریم 2 گیس پائپ لائن منصوبے کو معطل کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ یہ پائپ لائن ایک ہزار 230 کلومیٹر پر محیط ہے اور ایک دن میں 15 کروڑ کیوبک میٹر گیس کی ترسیل کرسکتی ہے۔

    روس پر پابندیوں کا اعلان برطانیہ کی جانب سے روسی بینکوں اور اعلیٰ مالیت کے حامل افراد پر پابندیاں عائد کرنے کے بعد امریکا کی جانب سے بھی یہ اقدام سامنے آیا –

    الجزیرہ کے مطابق امریکی صدر جو بائیڈن نے روس کے خلاف پابندیوں کا آغاز کردیا جس میں ملک کو فنانسنگ سے محروم کرنے کے اقدامات بھی شامل ہیں جو بائیڈن نے کہا کہ ہم روس کے قرضوں پر پابندیاں عائد کر رہے ہیں روس کی حکومت اب مغربی فنانسنگ سے منقطع ہوچکی ہے ان اقدامات سے مالیاتی اداروں اور روسی ’اشرافیہ‘ کو بھی نشانہ بنایا جائے گا۔

    تاہم جوبائیڈن کا کہنا تھا کہ ہم یہ واضح کرتے ہیں کہ یہ ہماری طرف سے مکمل طور پر دفاعی اقدام ہیں، ہمارا روس سے لڑنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ ہم ایک غیر متزلزل پیغام دینا چاہتے ہیں کہ امریکا اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر نیٹو کی سرزمین کے ایک ایک انچ کا دفاع کرے گا اور ان وعدوں کی پاسداری کرے گا جو ہم نے نیٹو کے ساتھ کیے ہیں۔

    علاوہ ازیں جاپان نے بھی روس پر پابندیوں کا اعلان کر دیا غیرملکی میڈیا کے مطابق جاپان کے وزیراعظم فومیوکی شی دہ نے پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ جاپان میں روسی بانڈز کے اجرا پرپابندی لگائی جارہی ہے اورکچھ روسی شہریوں کے اثاثے منجمد کئے جارہے ہیں۔

    جاپانی وزیراعظم کا مزید کہنا تھاکہ روس نے یوکرین کی سالمیت کونقصان پہنچا کرعالمی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔جاپان ان اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے روس سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ سفارتی بات چیت کی طرف واپس آئے۔

    دوسری جانب آسٹریلیا نے بھی روس پرپابندیاں لگانے کا اعلان کیا ہے۔ آسٹریلیا کی سیکورٹی کونسل کے ہنگامی اجلاس کےبعد آسٹریلوی وزیراعظم اسکاٹ موریسن نے کہا کہ دیگرممالک کے ساتھ روس کے متنازع اقدامات کیخلاف کھڑے ہیں۔روسی فوجیوں کی مشرقی یوکرین میں نقل وحرکت حملہ ہے۔

    روس جنگ کےلیے تیار:ولادی میرپوتن نے ملک سے باہر فوج استعمال کرنے کیلیے قانونی رائے مانگ لی

    آسڑیلیوی وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ ان تمام افراد پرپابندی لگائی گئی جن پرامریکا نے پابندی عائد کی ہے۔

    دوسری جانب روس نے مغرب کی طرف سے انتقامی اقدامات کو غیر موثر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ روس اس سے قبل بھی پابندیوں کا عادی رہ چکا ہے۔

    قبل ازیں یوکرین کے صدر نے قوم سے خطاب میں مغربی ممالک سے روس کے خلاف مدد طلب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اب پتہ چل جائے گا کون کون ہمارا دوست ہے۔

    واضح رہے کہ مغربی ممالک کی جانب سے روس پر پابندیوں کا اعلان صدر ولادیمیر پوٹن کی جانب سے مشرقی یوکرین کے دو صوبوں کو خودمختار ریاست تسلیم کرنے اور اپنی فوج کو ان علاقوں میں بھیجنے کے بعد کیا گیا ہے۔

    یوکرائن بحران شدید سےشدید تر:روس کا گھیراؤ جاری:برطانیہ نے5 روسی بینکوں…

  • وزیرِ اعظم عمران خان دو روزہ دورۂ روس کیلئے ماسکو روانہ

    وزیرِ اعظم عمران خان دو روزہ دورۂ روس کیلئے ماسکو روانہ

    اسلام آباد: وزیرِ اعظم عمران خان اپنے تاریخی دو روزہ دورۂ روس کیلئے ماسکو روانہ ہو گئے ہیں

    وفاقی وزراء مخدوم شاہ محمود قریشی، فواد چوہدری، اسد عمر، حماد اظہر، مشیرِ تجارت عبدالرزاق داؤد، قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف اور عامر محمود کیانی وزیرِ اعظم کے ہمراہ.ہیں

    وزیراعظم عمران خان روس کےدارلحکومت ماسکو پہنچیں گے وزیراعظم عمران خان کووونکووایئر پورٹ پر گارڈ آف آنر دیا جائے گا وزیراعظم عمران خان اور روسی صدر کی اہم ملاقات 24 فروری کو ہو گی وزیراعظم عمران خان اور روسی ڈپٹی وزیراعظم کی ملاقات بھی شیڈول ہے

    ایک روز قبل وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے جاری اعلامیہ میں بتایا گیا تھا کہ عمران خان 23 فروری کو دو روزہ دورہ پر روس جائیں گے جہاں وہ روسی صدر ولادیمیر پوٹن سے ون آن ون ملاقات کریں گے دونوں ممالک میں باہمی تعاون کے کئی معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط متوقع ہیں دو طرفہ امور خطے اور خصوصاً افغانستان کی صورتحال پر غور ہوگا، ون آن ون ملاقات کے بعد وفود کی سطح کے مذاکرات ہوں گے۔

    وزارت خارجہ نے دورے کے پروگرام کو حتمی شکل دے دی ہے جس میں دونوں ممالک کے درمیان گیس پائپ لائن اور توانائی کے منصوبوں پر مذاکرات ہوں گے اور معاشی تجارتی اور سرمایا کاری کے منصوبوں کاجائزہ لینے کے لیے مشترکہ کمیشن کا اجلاس بھی ہوگا۔

    وزیراعظم اور روسی ڈپٹی وزیراعظم کی ملاقات بھی شیڈول ہے۔ڈپٹی وزیراعظم روس کے ساتھ ملاقات میں توانائی کے شعبہ سے متعلق امور پر گفتگو ہو گی وزیراعظم کرنٹ افئیرزکے معروف روسی اینکر میخائل گسمین کو انٹرویو بھی دیں گے وزیراعظم عمران خان اسلامک سینٹر ماسکو کا دورہ کریں گے۔ روسی فیڈریشن کے گرینڈ مفتی سے ملاقات کریں گے وہ نجی ہوٹل میں روس کی معروف کاروباری شخصیات سے ملاقات بھی کریں گے،وزیراعظم 24 فروری کو وطن واپس روانہ ہوں گے۔

  • روس جنگ کےلیے تیار:ولادی میرپوتن نے ملک سے باہر فوج استعمال کرنے کیلیے قانونی رائے مانگ لی

    روس جنگ کےلیے تیار:ولادی میرپوتن نے ملک سے باہر فوج استعمال کرنے کیلیے قانونی رائے مانگ لی

    ماسکو:روس جنگ کےلیے تیار:ولادی میرپوتن نے ملک سے باہر فوج استعمال کرنے کیلیے قانونی رائے مانگ لی،اطلاعات کے مطابق روس کے صدر ولادی میر پوتن نے روس کے قانون ساز اداروں سے ملک سے باہر فوج کے استعمال کی اجازت مانگنے کی درخواست کر دی۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق روس کی پارلیمنٹ نے روسی صدر کو ملک سے باہر فوج کو استعمال کرنے کی اجازت دے دی ہے۔روسی پارلیمنٹ کے تمام 153 سینیٹرز نے اس فیصلے کی مکمل حمایت کی ہے اور کہا ہے کہ یوکرائن کے علیحدگی پسندوں کی مدد کے لئے ہر ممکن اقدام کیا جائے۔

    واضح رہے کہ آج صبح روس کے وزارت خارجہ کے دفتر سے ایک بیان جاری کیا گیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ وہ یوکرائن میں فوجی دستوں کی بھیجنے کی پلاننگ نہیں کر رہے ہیں۔

    لیکن چند گھنٹوں بعد ہی فیڈریشن کونسل نے روسی صدر کی ملک سے باہر فوج استعمال کرنے کی تحریری درخواست کو من و عن قبول کر لیا ہے۔یوکرائن کے مشرقی حصے میں علیحدگی پسند یوکرائن سے علیحدگی کے لئے 2014 سے مسلح مزاحمت کر رہے ہیں۔

    روسی صدر ولادی میر پیوٹن کی درخواست پر فیڈریشن کونسل کے اجلاس کے دوران نائب وزیر دفاع نکولے پانکوف نے کہا یوکرائن کے ساتھ مذاکرات تعطل کا شکار ہیں اور یوکرائن کی قیادت تشدد اور خونریزی کے راستے پر گامزن ہے۔

  • یوکرینی وزیردفاع کا فوجیوں کو روس سے جنگ کیلئے تیار رہنےکا حکم

    یوکرینی وزیردفاع کا فوجیوں کو روس سے جنگ کیلئے تیار رہنےکا حکم

    ماسکو:یوکرینی وزیردفاع کا فوجیوں کو روس سے جنگ کیلئے تیار رہنےکا حکم،اطلاعات کے مطابق یوکرین کے وزیردفاع نے یوکرینی فوجیوں کو جنگ کے لیے تیار رہنےکا حکم دے دیا۔

    روس کی طرف سے یوکرین کوٹکڑے ٹکڑے کرنے کی سازش کے خلاف یوکرینی وزیردفاع اولیکسی ریزنیکوف نے وزارت دفاع کی ویب سائٹ پر جذباتی پیغام پوسٹ کیا۔ اور کہا کہ روس نے جنگ کی بنیاد رکھ دی ہے

    اولیکسی ریزنیکوف نے اپنے پیغام میں فوجیوں کو کہا کہ وہ جنگ کے لیے تیار رہیں، مشکلات ہوں گی، نقصانات ہوں گے، ہمیں درد کو برداشت کرنا ہوگا، ہمیں خوف اور مایوسی پر قابو پانا ہوگا، روس کے خلاف یقینی فتح ہوگی۔

    یوکرینی وزیردفاع کا کہنا تھا کہ کریملن نے سوویت یونین کی بحالی کے لیے ایک اور قدم اٹھایا ہے،کل پیوٹن نے اپنا اصلی چہرہ دکھایا، مجرم کاچہرہ ، جوپوری آزاد دنیا کویرغمال بنانا چاہتا ہے۔

    خیال رہے کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے مشرقی یوکرین کے دو علیحدگی پسند علاقوں کو آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کے انتظامی آرڈر پر دستخط کردیے ہیں۔

    گذشتہ روز پیوٹن نے قوم سے خطاب میں اعلان کیا کہ انہوں نے یوکرین کے دو علاقوں کو آزاد ریاستوں کے طور پر تسلیم کرنے کے حکم نامے پر دستخط کردیے ہیں اور روسی پارلیمنٹ سے کہا ہے کہ وہ جلد از جلد اس کی توثیق کرے۔پیوٹن نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ ’مجھے امید ہے کہ روسی عوام کی حمایت حاصل ہوگی’۔

    دوسری جانب یوکرین کےصدر ولودی میرزیلنسکی نے روسی اقدام کےجواب میں ‘نورڈ اسٹریم ٹو پراجیکٹ’ فوری طورپرروکنےکامطالبہ کیاہے.

    یوکرین کےصدر کا کہناہے روس سے نیچرل گیس بذریعہ بالٹک سمندر جرمنی بھیجنے کا پراجیکٹ نورڈاسٹریم ٹو فوری طورپر روکا جائے، روس کو مشرقی یوکرین کےدو علاقوں کو آزاد ریاست تسلیم کرنے پر فوری پابندیوں کی سزا کے ساتھ یہ سزا بھی ملنی چاہیے۔

  • یوکرائن بحران شدید سےشدید تر:روس کا گھیراؤ    جاری:برطانیہ نے5 روسی بینکوں پرپابندی لگادی

    یوکرائن بحران شدید سےشدید تر:روس کا گھیراؤ جاری:برطانیہ نے5 روسی بینکوں پرپابندی لگادی

    واشنگتن:لندن:برلن ::برطانوی حکومت نے روس کی پانچ بینکوں پر پابندی لگانے کا اعلان کر دیا ہے جس کا اطلاق جلد ہی کیا جائے گا۔

    برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے کہا ہے ہم ابھی بھی روس اور یوکرین کے مابین تناؤ کو سفارتی سطح پر حل کرنے کے حق میں اور اس کے لئے ہر ممکن قدم اٹھائیں گے۔

    وزیر اعظم جانسن نے کہا کہ انہوں نے یوکرین کے صدر کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ یوکرین کی سیاسی ، سفارتی اور اخلاقی مدد کرتا رہے گا۔

     

    روس پر پابندی کے لئے برطانیہ اپنے آئین کے نئے قوانین کا بھی استعمال کرے گا۔برطانوی وزیر اعظم نے اعلان کیا کہ ابتدائی مرحلے میں روس کی پانچ بینکوں کی برطانوی شاخوں پر پابندی لگائی جائے گی۔

    پابندی کا شکار بننے والی بینکوں میں روشیا ، آئی ایس بینک ، جنرل بینک ، پروم سیویز بینک اور بلیک سی بینک شامل ہیں۔بورس جانسن نے کہا کہ ہمیں اس بحران سے پر امن طریقے سے باہر نکلنے کے راستے تلاش کرنا ہوں گے۔

     

     

    واضح رہے کہ روس کی جانب سے گزشتہ روز یوکرین کے دو صوبوں کو خودمختیار ملک کی حیثیت سے تسلیم کرنے کے اعلان کے بعد برطانیہ اور اس کے اتحادیوں نے روس پر پابندی لگانے کا ارادہ کیا ہے۔ برطانیہ نے روس کو خبردار کیا ہے کہ روسی صدر ولادیمر پیوٹن کی جانب سے یوکرائن کے صوبوں کو آزاد ریاست تسلیم کرکے اپنی فوجیں بھیجنے کے اقدامات پر اُس کے خلاف پابندیاں عائد کر دی جائیں گی۔

     

    برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کا کہنا ہے کہ یہ پابندیاں ان معاشی مفادات کو ہدف بنائیں گی جو روسی جنگی مشینری کی مدد کر رہے ہیں۔

    دوسری جانب روس کے نائب وزیر خارجہ آندرے رودنکو نے کہا ہے کہ اگر ضرورت محسوس کی گئی تو روس باغیوں کے زیرانتظام دونوں ریاستوں میں اپنے فوجی اڈے قائم کرے گا۔

    بڑھتی کشیدگی کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 97 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی۔

    لندن اور ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں مندی دیکھنے میں آئی ہے اور خدشہ ہے کہ امریکا میں بھی یہ رجحان جاری رہے گا۔

    واضح رہے کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے گزشتہ روز ایک صدارتی حکم نامے کے ذریعے مشرقی یوکرائنی صوبوں ڈونیسک اور لوہانسک کو نئی آزاد ریاستیں قرار دے کر روسی افواج کو بطور امن فوج ان دونوں علاقوں کو روانہ کرنے کا حکم دیا تھا۔

    امریکا نے روسی اعلان کو مسترد کرتے ہوئے اسے ’’غیرمعقول‘‘ قرار دیا اور کہا کہ روس جارحیت کے لیے بہانے تلاش کر رہا ہے۔

    امریکا اور دیگر مغربی اتحادی ممالک نے روس پر پابندیاں عائد کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ امریکا آج روس پر نئی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کرسکتا ہے۔

    دوسری جانب اقتصادی ماہرین کہتے ہیں کہ بڑھتی ہوئی کشیدگی اور روس پر پابندیوں کا براہ راست اثر تیل کی قیمتوں پر پڑے گا۔ روس سعودی عرب کے بعد سب سے زیادہ تیل پیدا کرنے والا ملک ہے جبکہ قدرتی گیس پیدا کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔

    عالمی ادارے فیڈلیٹی انٹرنیشنل کے مطابق تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی بڑھ سکتی ہے۔

    آسٹریلیا نے حالات کے پیشِ نظر یوکرائن میں اپنے سفارتی عملے کو رومانیہ اور پولینڈ منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے جہاں سے اُنہیں وطن واپس بھیجا جائے گا۔

    بھارت نے بھی اپنے 20 ہزار سے زائد شہریوں کو یوکرائن سے نکالنے کے لیے آج صبح خصوصی پرواز روانہ کر دی ہے۔

  • روس پر امریکی پابندیوں کی حمایت کے لیے تیار ہیں،جاپان

    روس پر امریکی پابندیوں کی حمایت کے لیے تیار ہیں،جاپان

    جاپانی وزیراعظم نے کہا کہ روسی اقدامات تسلیم نہیں کر سکتے اور اس کی مذمت کرتے ہیں۔

    باغی ٹی وی : روس کی جانب سے یوکرین کی دو علاقوں کو آزاد ریاست تسلیم کیے جانے کے اعلان کے بعد سے یوکرین اور روس کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوگیا ہے جنگ کی صورت میں امریکا نے روس کو سخت پابندیوں کی دھمکی بھی دے رکھی ہے تاہم اب جاپان نے بھی امریکا کی حمایت کر دی ہے-

    جاپانی وزیراعظم فومیو کیشیدا کا کہنا ہے کہ روسی اقدامات تسلیم نہیں کر سکتے اور اس کی مذمت کرتے ہیں روس پر امریکی پابندیوں کی حمایت کے لیے تیار ہیں، روسی اقدامات یوکرین کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی ہے۔

    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس جاری

    دوسری جانب یوکرین تنازعہ پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس جاری ہے، جہاں روسی سفیر کا کہنا ہے کہ مشرقی یوکرین میں فوجی مہم جوئی جاری ہے جس کی اجازت نہیں دےسکتے، خطے میں نئی خونریزی نہیں ہونے دیں گے، بہتری کے لیے کوشش کریں گے، مغربی طاقتیں سوچیں اور یوکرین کے حالات کو مزید خراب نہ کریں یوکرین کی صورتحال پر سلامتی کونسل کی جانب سے اہم فیصلے کیے جاسکتے ہیں ہنگامی اجلاس امریکہ،برطانیہ اور فرانس کے مطالبےپرطلب کیا گیا ہے۔

    یاد رہے کہ سلامتی کونسل کی صدارت روس کے پاس ہے –

    واضح رہے کہروسی صدر ولادیمیر پوٹن نے مشرقی یوکرین کے دو علیحدگی پسند علاقوں کو آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کے انتظامی آرڈر پر دستخط کردیے ہیں یو این سیکریٹری جنرل نے روسی فیصلے کو یوکرین کی علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی قرار دینے پر غور شروع کر دیا ہے انتونیو گوتریس کی جانب سے روسی اقدام کو یو این چارٹر کے اصولوں سے متصادم قرار دینے کا امکان ہے۔

    روس یو کرین تنازع: پوٹن کے خطاب کے بعد عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت میں اضافہ

    روسی ہم منصب کے فیصلے کے ردعمل میں امریکی صدر جو بائیڈن نے مشرقی یوکرین میں باغیوں سے زیر کنٹرول علاقوں کے ساتھ تجارت پر پابندی عائد کر دی ہےصدارتی حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ ان علاقوں میں نئی سرمایہ کاری، تجارت اور امریکی شہریوں کی جانب سے مالی معاونت نہیں کی جائے گی اس حکم کے تحت ایسے افراد پر پابندی لگائی جائے گی جو یوکرین کے ان علاقوں میں کام کرتے ہیں۔

    نیٹو کے سیکریٹری جنرل جینز سٹولٹنبرگ نےروس کے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد آزاد ریاستوں ڈونیسک اور لوہانسک کو تسلیم کرنا قابل مذمت ہے۔

    برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے کہا ہے کہ روس کا قدم یوکرین کی خود مختاری ،سلامتی اور اس کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی قوانین کی بڑی خلاف ورزی ہوگی انہوں نے اسے ایک انتہائی سیاہ علامت قرار دیا ہے۔

  • پاکستان عالمی سطح پر کسی گروپ کا حصہ نہیں بننا چاہتا،وزیراعظم

    پاکستان عالمی سطح پر کسی گروپ کا حصہ نہیں بننا چاہتا،وزیراعظم

    وزیرِ اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ پاکستان عالمی سطح پر کسی گروپ کا حصہ نہیں بننا چاہتا بلکہ پاکستان خطے کے تمام ممالک کے ساتھ تجارتی تعلقات چاہتا ہے-

    باغی ٹی وی : روسی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان روس کےساتھ بہترین تعلقات کے فروغ کا خواہاں ہے، دورہ روس اہمیت کا حامل ہو گا، سب جانتے ہیں کہ روس اور یوکرین تنازعہ شدت اختیار کرگیا تو اس کے نتائج کیا ہوں گے، روس اور یوکرین معاملات کے پرامن طریقے سے حل کے خواہاں ہیں، سمجھتا ہوں کہ کسی بھی تنازعہ کو جنگ سے حل کرنا بڑی بے وقوفی ہوگی۔

    انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر پاکستان اور بھارت کےدرمیان تسلیم شدہ معاملہ ہے جس کا حل ضروری ہے، اقتدار میں آیا تو سب سے پہلے بھارت کو امن کے لیے مذاکرات کی پیشکش کی لیکن بھارت میں انتہا پسند نظریے کی حکومت ہے، کسی بھی ملک پر اپنا نظریہ زبردستی لاگو کرنا کسی بھی قوم کےلیےقابل قبول نہیں ہوتا ہم نے بھارت سے خطےمیں امن کےلیے ملکر چلنے کے لیے ہاتھ بڑھایا تھا، بھارت نے ہماری پیش کش مسترد کردی۔

    وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ بھارت اپنے ملک میں غربت کم کرنے کے لیے اقدام کرے، افغانستان جن حالات سے گزر رہا ہے سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، پاکستان نے ماضی میں افغانستان سے متعلق اہم کردار ادا کیا اور کررہا ہے، پاکستان 30لاکھ سے زائد مہاجرین کی میزبانی کررہا ہے دنیا میں غربت کو ختم کرنے کے لئے توازن برقرار رکھنا ہو گا-

    وزیر اعظم نے کہا کہ انسان کو اپنے وجود کے مقصد سے آگاہ ہونا چاہیے،انسانی رجحان ہمیشہ مادی اور روحانی معاملات کی جانب ہوتا ہے، انسان کو انسان کی بھلائی کی فکر ہونی چاہیے دوسرے انسانوں کی بہتری کے لئے سوچنا ہماری ذمہ داری ہے دنیا میں بھوک وافلاس ،غربت اور دیگر مسائل کی جڑ پیسہ چوری اورمنی لانڈرنگ ہے-

    منی لانڈرنگ اور پیسہ چوری کےخلاف آواز اٹھا نا میرے مقصد کا حصہ ہے، دولت کی غیرمنصفانہ تقسیم سےغربت میں اضافہ ہورہا ہے۔ ترقی پذیرممالک سےپیسےکی منتقلی بڑامسئلہ اور چیلنج ہے حکمرانوں کی کرپشن سے ترقی پذیر ممالک کو مشکلات کا سامنا ہوتا ہے –

    عمران خان نے مزید کہا کہ ماحولیاتی آلودگی کی وجہ سے دنیا متاثر ہوئی ہے، ہمیں صورتحال کی بہتری کے لیے اقداما ت کرنے ہوں گے ، حکمرانوں کی کرپشن سے ادارے تباہ ہوجاتے ہیں۔

  • ائیر فرانس نے  یوکرین کیلئے پروازیں منسوخ کر دیں

    ائیر فرانس نے یوکرین کیلئے پروازیں منسوخ کر دیں

    روس یوکرین تنازع، ائیر فرانس نے بھی سیکورٹی خدشات کے پیش نظر یوکرین کی تمام پروازیں منسوخ کر دیں۔

    باغی ٹی وی : ایئر فرانس کے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پیرس اور کیف کے درمیان کل ہونے والی متوقع پروازوں کو دو طرفہ تعلقات کی بنیاد پر منسوخ کردیا گیا ہے مذکورہ فیصلہ خطے کی علاقائی صورتحال کو پیش نظر رکھ کر حفظ ماتقدم کے طور پر کیا گیا ہے اور صورتحال پر نظر ثانی کی جائے گی۔

    دوسری جانب میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا جارہا ہے کہ اتوار کو متوقع پروازوں کی منسوخی تاحال زیرِ بحث نہیں ہے واضح رہے کہ ایئر فرانس ہفتے میں 2 دن منگل اور اتوار کو پیرس سے کیف پروازیں چلائی جاتی ہیں۔

    ‏روس نے علیحدگی پسندوں کے قبضے میں موجود علاقوں کو تسلیم کرلیا،ڈوناسٹک میں جشن کا سماں

    ایئر فرانس سے پہلے، جرمن کیریئر Lufthansa نے ہفتے کے روز اعلان کیا تھا کہ وہ پیر سے مہینے کے آخر تک کیف اور اوڈیسا کے لیے پروازیں معطل کر رہے ہیں جبکہ ایئر انڈیا نے بھی اعلان کیا کہ وہ یوکرین میں پھنسے ہوئے ہندوستانیوں کو بچانے کے لیے اگلے ہفتے کیف سے تین پروازیں چلائیں گے، جس میں اضافی پروازوں کا منصوبہ بھی شامل ہے-

    روس یو کرین تنازع: پوٹن کے خطاب کے بعد عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت میں اضافہ

    یاد رہے کہ یوکرین کی غیر معمولی صورتحال پر فرانس نے 19 فروری کو اپنے شہریوں کو نکلنے کی ہدایت کی تھی جبکہ سیاحت سے گریز کرنے کا مشورہ دیا ہے اس سے قبل یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے چیف جوزیف بوریل نے کہا ہے کہ روس پر پابندیوں کا پیکج تیار کرلیا گیا ہے اور اب صرف روس کا یوکرین پر پہلے حملے کا انتظار ہے۔

    واضح رہے کہ روسی صدر پوٹن نے یوکرین کے دو علاقوں کو آزاد ریاستوں کے طور پر تسلیم کرنے کے حکم نامے پر دستخط کردیئے ہیں انہوں ںے روس کی پارلیمنٹ سے کہا کہ وہ جلد از جلد اس کی توثیق کرے انہوں نے توقع ظاہر کی کہ روس کے عوام ان کے اقدام کی حمایت کریں گے۔

    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس جاری

  • روس یو کرین تنازع: پوٹن کے خطاب کے بعد عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت میں اضافہ

    روس یو کرین تنازع: پوٹن کے خطاب کے بعد عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت میں اضافہ

    روسی صدر ولادییمیر پوٹن کی جانب سے یوکرین کے دوعلاقوں کو آزاد ریاست تسلیم کیے جانے کے اعلان کے بعدعالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت میں اضافہ ہو گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : عالمی خبررساں ادارے کے مطابق روسی صدر پوٹن کے اہم خطاب کے بعد برینٹ کروڈ کی قیمت ڈھائی فیصد سے زائد بڑھ گئی برینٹ کروڈ کی فی بیرل قیمت 96 ڈالر سے زائد ہوگئی۔

    روسی صدر نے اپنی سیکیورٹی کونسل سے خطاب میں کہا تھا کہ مشرقی یوکرین قدیم روسی سرزمین ہے ماڈرن یوکرین روس نے تخلیق کیا ہے یوکرین روسی تاریخ کا ایک لازمی باب ہے سوویت ریاستوں کو یونین سے نکلنے دنیا بھی پاگل پن تھا یو ایس ایس آر کا خاتمہ کمیونسٹوں کے ضمیر پر بوجھ ہے۔

    پوٹن نے سوویت یونین کے ٹوٹنے کو روس پر ڈاکا قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یوکرین کے رہنما بغیر کسی ذمہ داری روس سے تمام اچھی چیزیں چاہتے تھے انہوں نے یوکرین پر ماضی میں روسی گیس چوری کرنے کا الزام بھی لگایا۔

    روسی صدر کا کہنا ہے کہ یوکرین کے پاس کبھی بھی حقیقی ریاست کا درجہ نہیں تھا یوکرین مستحکم ریاست کا درجہ حاصل کرنے کے قابل نہیں تھا یوکرین کو ہمیشہ امریکا جیسے غیرملکی ممالک پر انحصار کرنا پڑا یوکرین ‘کٹھ پتلی حکومت’ کے ساتھ امریکی کالونی ہے یوکرین کے حکام قوم پرستی اور بدعنوانی میں مبتلا ہو چکے ہیں یوکرین اپنے جوہری ہتھیار بنانے کا ارادہ رکھتا ہے۔

    روس نے یوکرینی شہریوں کی ایک لسٹ تیار کر رکھی ہے جنہیں قتل یا جیلوں میں بھیجا جائے گا ،امریکا

    انہوں نے کہا ہے کہ امریکا اور نیٹو نے بے شرمی سے یوکرین کو جنگ کے تھیٹر میں بدل دیا یوکرین میں موجود امریکی ڈرون مسلسل روس کی جاسوسی کر رہے ہیں یوکرین حالیہ مہینوں میں مغربی ہتھیاروں سے بھر گیا یوکرین کو تباہی پھیلانے والے ہتھیار ملنے کو نظرانداز نہیں کر سکتے۔

    واضح رہے کہ روسی صدر پوٹن نے یوکرین کے دو علاقوں کو آزاد ریاستوں کے طور پر تسلیم کرنے کے حکم نامے پر دستخط کردیئے ہیں انہوں ںے روس کی پارلیمنٹ سے کہا کہ وہ جلد از جلد اس کی توثیق کرے انہوں نے توقع ظاہر کی کہ روس کے عوام ان کے اقدام کی حمایت کریں گے۔

    ‏روس نے علیحدگی پسندوں کے قبضے میں موجود علاقوں کو تسلیم کرلیا،ڈوناسٹک میں جشن کا سماں

  • اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس جاری

    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس جاری

    یوکرین کی صورت حال پرغور کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس جاری ہے۔

    باغی ٹی وی : روس کی جانب سے یوکرین کی دو علاقوں کو آزاد ریاست تسلیم کیے جانے کے اعلان کے بعد سے یوکرین اور روس کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوگیا ہے ہنگامی اجلاس امریکہ،برطانیہ اور فرانس کے مطالبےپرطلب کیا گیا ہے۔

    روس نے یوکرینی شہریوں کی ایک لسٹ تیار کر رکھی ہے جنہیں قتل یا جیلوں میں بھیجا جائے گا ،امریکا

    روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے مشرقی یوکرین کے دو علیحدگی پسند علاقوں کو آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کے انتظامی آرڈر پر دستخط کردیے ہیں یو این سیکریٹری جنرل نے روسی فیصلے کو یوکرین کی علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی قرار دینے پر غور شروع کر دیا ہے انتونیو گوتریس کی جانب سے روسی اقدام کو یو این چارٹر کے اصولوں سے متصادم قرار دینے کا امکان ہے۔

    روسی ہم منصب کے فیصلے کے ردعمل میں امریکی صدر جو بائیڈن نے مشرقی یوکرین میں باغیوں سے زیر کنٹرول علاقوں کے ساتھ تجارت پر پابندی عائد کر دی ہےصدارتی حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ ان علاقوں میں نئی سرمایہ کاری، تجارت اور امریکی شہریوں کی جانب سے مالی معاونت نہیں کی جائے گی۔

    وائٹ ہاؤس کی ترجمان کے مطابق اس حکم کے تحت ایسے افراد پر پابندی لگائی جائے گی جو یوکرین کے ان علاقوں میں کام کرتے ہیں۔

    نیٹو کے سیکریٹری جنرل جینز سٹولٹنبرگ نےروس کے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد آزاد ریاستوں ڈونیسک اور لوہانسک کو تسلیم کرنا قابل مذمت ہے۔

    برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے کہا ہے کہ روس کا قدم یوکرین کی خود مختاری ،سلامتی اور اس کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی قوانین کی بڑی خلاف ورزی ہوگی انہوں نے اسے ایک انتہائی سیاہ علامت قرار دیا ہے۔

    یورپی یونین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کے بعد وہ اپنے ردعمل میں یوکرین کے ساتھ اتحاد اور عزم کا اظہار کریں گے یوکرین کی صورتحال پر سلامتی کونسل کی جانب سے اہم فیصلے کیے جاسکتے ہیں۔ واضح رہے کہ سلامتی کونسل کی صدارت روس کے پاس ہے۔

    سوئس سیکرٹس: مزید بین الاقوامی رہنماؤں اور اہلخانہ کے خفیہ اکاؤنٹس سامنے آگئے