Baaghi TV

Tag: روس

  • روس نے یوکرین پر حملے سے متعلق سلامتی کونسل کی قرارداد ویٹو کر دی:روس میں جنگ کے خلاف مظاہرے

    روس نے یوکرین پر حملے سے متعلق سلامتی کونسل کی قرارداد ویٹو کر دی:روس میں جنگ کے خلاف مظاہرے

    ماسکو:روس نے یوکرین پر حملے سے متعلق سلامتی کونسل کی قرارداد ویٹو کر دی:روس میں جنگ کے خلاف مظاہرے ،اطلاعات کے مطابق روس نے یوکرین پر حملے سے متعلق سلامتی کونسل کی مذمتی قرارداد کو ویٹو کر دیا۔

    غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق چین نے سلامتی کونسل میں یوکرین پر حملے سے متعلق مذمتی قرار داد کی ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔چین کے علاوہ بھارت اور متحدہ عرب امارات نے بھی ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔

    دوسری جانب سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ انتونیو گوٹریس کا کہنا ہے کہ روسی فوجیوں کو بیرکس میں واپس جانے کی ضرورت ہے۔انتونیو گوٹریس کا کہنا ہے کہ ہمیں ہمت نہیں ہارنی چاہیے اور امن کو ایک اور موقع دینا چاہیے۔ادھر یورپی یونین کے بعد کینیڈا اور برطانیہ نے بھی روس کے صدر اور وزیر خارجہ پر پابندیاں لگانے کا اعلان کر دیا ہے۔

    دوسری طرف یوکرین پر روس کی فوجی کارروائیوں کے خلاف 24 فروری کو میڈیا رپورٹس کے مطابق روس کے 54 قصبوں اور شہروں میں مظاہرے کیے گئے۔ اس روز سب سے بڑا مظاہرہ ماسکو کے مرکزی چوک پشکن اسکوائر پر ہوا جس میں کئی ہزار افراد شریک ہوئے۔اس موقع پر کارروائی کرتے ہوئے پولیس نے سینکڑوں افراد کو گرفتار کر لیا۔

    ماسکو سٹی کورٹ نے 25 فروری کو کہا کہ تقریباً 200 مظاہرین پر غیر منظور شدہ عوامی تقریبات میں حصہ لینے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

    آرایف ای آر ایل کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ انسانی حقوق کی معروف روسی راہنما مارینا لیٹوینووچ پر 25 فروری کو یوکرین پر روس کے حملے کے خلاف ماسکو میں حکام سے اجازت حاصل کیے بغیر ریلی منظم کرنے کی کوشش پر جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔

    لیٹوینووچ کے وکیل فیوڈور سروش نے بتایا کہ ماسکو کی ایک ضلعی عدالت نے ان کی مؤکل پر 30 ہزار روبل یعنی 350 ڈالر جرمانہ عائد کیا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل کریں گے۔

    لیٹوینووچ کو ایک روز قبل اس وقت حراست میں لیا گیا تھا جب انہوں نے روسیوں سے یوکرین پر حملے کے خلاف اپنے شہروں اور قصبوں میں مظاہرے کرنے کی اپیل کی تھی ۔

    ایک اور خبر کے مطابق 250 روسی اسکالرز نے ایک کھلے خط پر دستخط کیے ہیں جس میں یوکرین میں جنگ روکنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ میڈیا رپورٹس کے مطابق سینکڑوں روسی صحافیوں، گلوکاروں، مصنفین اور دیگر شعبوں کی مشہور شخصیات نے جنگ کی مذمت میں بیانات جاری کیے ہیں۔

    روس سے روسی اور یوکرینی زبانوں میں شائع ہونے والے اخبار "نووایاگازیٹا” میں 25 فروری کو یہ وضاحت شائع کی گئی ہے کہ "اخبار کا عملہ یوکرینی کو دشمن کی زبان نہیں سمجھتا”۔

    اخبار کے چیف ایڈیٹر، دمتری موراتوف نے، جو نوبیل انعام یافتہ ہیں، اپنے ایک اداریے میں لکھا ہے کہ "صرف روسی شہریوں کی جنگ مخالف تحریک ہی اس کرہ ارض پر انسانی ہلاکتوں کو بچا سکتی ہے۔”روس کی ایک معروف گلوکارہ ویلری میلادزے نے اپنی ایک ویڈیو پوسٹ میں جنگ بند کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ” آج جو کچھ ہوا،وہ کبھی بھی نہیں ہونا چاہیے تھا”۔

    برطانیہ کے اخبار گارڈین نے اپنی 25 فروری کی اشاعت میں روس کے اندر بڑے پیمانے پر مظاہروں کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ پولیس نے ملک بھر میں مظاہرین کے خلاف کارروائیوں میں 1700 سے زائد افراد کو حراست میں لیا۔

    اخبار کا کہنا ہےکہ پولیس نے جمعرات کی شام تک روس کے 53 شہروں میں غیرقانونی مظاہروں کو منتشر کرتے ہوئے کم ازکم 1702 گرفتاریاں کیں تھیں۔زیادہ تر گرفتاریاں ماسکو اور روس کے ایک اور بڑے شہر سینٹ پیٹربرگ میں کی گئیں۔جمعرات کو ایک آزاد ادارے لیواڈا سینٹر کے تحت کرائے جانے والے سروے کے مطابق یوکرین پر کریملن کے حملے کو صرف 45 فی صد روسیوں کی حمایت حاصل ہے۔

    ماسکو کے کارنیگی سینٹر کے سیاسی تجزیہ کار الیگزینڈر بونوف کہتے ہیں کہ ” پوٹن سڑکوں پر عوامی منظوری سے لاتعلق دکھائی دیتے ہیں۔ وہ ایک ایسے سیاست دان نہیں جنہیں عوامی حمایت کی ضرورت ہوتی ہے، بلکہ وہ قومی تاریخ کی کتابوں کی ایک ایسی شخصیت جیسے ہیں جو صرف مستقبل کے مورخین اور قارئین کی منظوری کا خیال کرتے ہیں”

  • یورپ روس سے جنگ کرنے کےلیےتیار:سخت اقدامات،حالات تیسری عالمی جنگ کی طرف گامزن

    یورپ روس سے جنگ کرنے کےلیےتیار:سخت اقدامات،حالات تیسری عالمی جنگ کی طرف گامزن

    پیرس : یورپ روس سے جنگ کرنے کےلیےتیار:سخت اقدامات،حالات تیسری عالمی جنگ کی طرف گامزن،اطلاعات کے مطابق یورپی یونین نے روسی صدراور وزیرخارجہ کے اثاثے منجمد کرنے پر اتفاق کرلیا

    روس کی جانب سے یوکرین پر حملے کے بعد یوکرین کے دارالحکومت کیف سمیت مختلف شہروں میں جنگی طیاروں کے حملے، ٹینکوں کی گولا باری کا سلسلہ جاری ہے۔خبرایجنسی کے مطابق امریکا، برطانیہ اور یورپ نے روس پر مالی پابندیاں عائد کردی ہیں لیکن اب یورپی یونین نے روسی صدر اور وزیر خارجہ پر پابندیاں لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔

    خبر ایجنسی کے مطابق یورپی یونین نے ولادیمیر پیوٹن اور وزیرخارجہ سرگئی لاوروف کے اثاثے منجمد کرنے پر اتفاق کرلیا ہے۔رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ یورپ میں پیوٹن اورلاوروف سے وابستہ اثاثے منجمد کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔

    اس حوالے سے لٹویا کے وزیر خارجہ کا کہنا تھاکہ یورپی یونین روس پر پابندیوں کا ایک اور منصوبہ تیار کر رہا ہے اور جلد ہی اس کا اعلان کیا جائے گا۔

    اب جب روس نے یوکرین پر حملہ کردیا تو یوکرین کے آس پاس موجود ممالک میں بھی عدم تحفظ کی لہر دوڑ گئی۔ان ہی میں ایک ملک فن لینڈ بھی ہے جو شمالی یورپ کا ملک ہے جو یورپی یونین کا بھی حصہ ہے اور اس کی سرحدیں، روس، ناروے اور سوئیڈن کے ساتھ ملتی ہیں۔

    یوکرین پر حملے کے بعد فن لینڈ کی خاتون وزیراعظم سنا مارین نے اپنے بیان میں کہا کہ اگر ان کے ملک کی سلامتی پر بات آئی تو وہ بھی مغربی دفاعی اتحاد نیٹو میں شمولیت کیلئے تیار ہیں۔

    پارلیمنٹ میں گفتگو کرتے ہوئے سنا مارین نے کہا کہ اگر قومی سلامتی کو خطرہ لاحق ہونے کی صورت میں فن لینڈ نیٹو کی رکنیت کیلئے درخواست دینے کو تیار ہے۔

    فن لینڈ کی وزیراعظم کے اس بیان پر روس نے سخت ردعمل دیا ہے کیوں کہ اس کی سرحد فن لینڈ کے ساتھ ملتی ہے اور وہ نیٹو کی وسعت کیخلاف ہے اور اسے اپنی قومی سلامتی کیخلاف قرار دیتا ہے۔

    روسی وزارت خارجہ نے فن لینڈ کی وزیراعظم کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے تڑی لگائی ہے کہ فن لینڈ کی نیٹو میں شمولیت کے سنگین عسکری اور سیاسی نتائج ہوں گے۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’ہم فن لینڈ کی حکومت کے عسکری طورپر غیر جانب دار رہنے کی پالیسی کا احترام کرتے ہیں اور اسے شمالی یورپ میں استحکام اور سلامتی کو برقرار رکھنے میں ایک ایک عنصر بھی سمجھتے ہیں البتہ فن لینڈ کی نیٹو میں شمولیت کے سنگین عسکری اور سیاسی نتائج ہوں گے۔‘

  • روس اور بیلاروس کے خلاف طبل جنگ بج گیا

    روس اور بیلاروس کے خلاف طبل جنگ بج گیا

    لندن : روس اور بیلاروس کے خلاف طبل جنگ بج گیا،اطلاعات کے مطابق کھیلوں کی دنیا کی سب سے بڑی تنظیم انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی نے روس اور بیلاروس میں ہونے والے تمام کھیلوں کی سرگرمیاں معطل کرنے کا حکم دے ہے۔

    بین الاقوامی اولمپک کمیٹی نے کل جمعہ کو دنیا بھر کے ممالک کی کھیلوں کی فیڈریشنز پر زور دیا کہ وہ روس اور بیلاروس میں منعقد ہونے والے تمام ایونٹس کو منسوخ یا منتقل کریں، اور ممالک کے جھنڈوں اور قومی ترانے کا استعمال بند کریں۔

    انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کی جانب سے یہ درخواست چیمپیئنز لیگ کے فائنل کو سینٹ پیٹرزبرگ سے پیرس کے مضافاتی علاقے میں منتقل کرنے اور اسکیئنگ اور فارمولا ون کی گورننگ باڈی کے روس سے آنے والی ریسوں کو معطل کرنے کے بعد سامنے آئی ہے۔

    والی بال اور شوٹنگ دونوں کی عالمی چیمپئن شپ روس میں ہونے والی ہے۔ ماسکو میں 24 مارچ کو پولینڈ کے خلاف ورلڈ کپ کوالیفائنگ پلے آف میچ بھی شیڈول ہے۔

    آئی او سی نے کہا ہے کہ اسپورٹس کی گورننگ باڈیز کو روسی اور بیلاروس کی حکومتوں کی طرف سے اولمپک معاہدے کی خلاف ورزی کو مدنظر رکھنا چاہیے اور کھلاڑیوں کی حفاظت اور حفاظت کو مکمل ترجیح دینی چاہیے۔

  • اسرائیل نے روس اور یوکرین میں ثالثی کی پیشکش کردی

    اسرائیل نے روس اور یوکرین میں ثالثی کی پیشکش کردی

    تل ابیب:اسرائیل نے روس اور یوکرین میں ثالثی کی پیشکش کردی ،اطلاعات کے مطابق اسرائیلی حکومت کی طرف سے بیان جاری کیاگیا ہے کہ اگر روس اور یوکرین پسند کریں تو اسرائیل ان دونوں ملکوں کے درمیان ثالثی کرانے کےلیے تیار ہے

    ذرائع کےمطابق اس حوالے سے اسرائیلی وزیراعظم نے اعلان کیا ہےکہ وہ تیار ہیں کہ یہ دونوں ملک اسرائیل پراپنا قاضی مان کراپنے مسائل کے حل کے لیے ہمارے پاس آئے ، دوسری طرف یہ بھی اطلاعات ہیں کہ یوکرین تو تیار ہے لیکن روس نے اسرائیلی دعوت کو ڈھونگ رجانے ایک کھیل قرار دیا ہے

     

    https://twitter.com/DavidADaoud/status/1497278072638394375?t=C2uhCJjbw1OuYAYgXlQiLw&s=19

    یاد رہے کہ چند دن قبل گولان کی پہاڑیوں میں اسرائیلی بستیوں کی توسیع کے منصوبوں پر روس کی جانب سے تنقید کی گئی تھی اور کہا گیا تھا کہ اس علاقے پر اسرائیل کی خود مختاری کو تسلیم نہیں کرتے۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق اقوام متحدہ میں روسی مشن نے اپنے ٹویٹ میں کہا ہے کہ ہم مقبوضہ علاقےگولان کی پہاڑیوں میں آبادکاری کی سرگرمیوں کو بڑھانے کے لیے تل ابیب کے اعلان کردہ منصوبوں پر فکر مند ہیں۔

    اقوام متحدہ میں روس کے مستقل رکن کے مشن کی جانب سے مزید کہا گیا ہے کہ یہ منصوبہ 1949 کے جنیوا کنونشن کی شقوں سے متصادم ہے۔ٹویٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ گولان کی پہاڑیوں کا علاقہ جو شام کا حصہ ہے اس پر اسرائیل کی خودمختاری کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔

  • یوکرین پرروسی حملہ:برطانیہ کا سخت ردعمل:     مانچسٹریونائیٹڈ نے روسی ایئرلائن سےمعاہدہ منسوخ کردیا

    یوکرین پرروسی حملہ:برطانیہ کا سخت ردعمل: مانچسٹریونائیٹڈ نے روسی ایئرلائن سےمعاہدہ منسوخ کردیا

    لندن :یوکرین پرروسی حملہ:برطانیہ کا سخت ردعمل:مانچسٹریونائیٹڈ نے روسی ایئرلائن سےمعاہدہ منسوخ کردیا،اطلاعات کے مطابق یوکرین پر روس کے حملےکے خلاف برطانیہ کی طرف سے سخت ردعمل آرہا ہے اور پابندیوں‌کے ساتھ ساتھ اب ماضی میں کئے گئے معاہدے بھی منسوخ کیے جارہے ہیں‌، اس سلسلے میں‌ مانچسٹر یونائیٹڈ نے روسی ایئر لائن ایروفلوٹ کے ساتھ 40 ملین پاؤنڈ کے بڑے اسپانسر شپ معاہدے کو منسوخ کر دیا ہے۔

    مانچسٹر یونائیٹڈ کا کہنا ہے کہ یہ اقدام یوکرین پر روس کے حملے کے جواب میں ہے اور منگل کو ٹائٹن ایئرویز کے ساتھ یونائیٹڈ کے میڈرڈ کے لیے پرواز کے بعد سامنے آیا ہے۔

    مانچسٹر یونائیٹڈ کے ایک ترجمان نے کہا: ‘یوکرین میں ہونے والے واقعات کی روشنی میں، ہم نے ایروفلوٹ کے اسپانسرشپ کے حقوق واپس لے لیے ہیں۔’ہم دنیا بھر میں اپنےچاہنے والوں‌ کے تحفظات کا اظہار کرتے ہیں اور متاثرہ افراد سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں۔’

    مانچسٹر یونائیٹڈ کا کہنا ہے کہ اس ٹیم کا ایک دیرینہ تجارتی معاہدہ تھا جس نے پہلی بار 2013 میں روسی کمپنی سے رابطہ کیا تھا لیکن اب اس نے تعلقات منقطع کر لیے ہیں۔

    ایروفلوٹ کے ساتھ یونائیٹڈ کے معاہدے کی تجدید 2017 میں £40 ملین میں ہوئی تھی اور اس کی میعاد 2023 میں ختم ہونے والی تھی۔ ایروفلوٹ کی قومی ایئر لائن ہے اور 52 ممالک میں 146 مقامات پر پرواز کرتی ہے۔

    یونائیٹڈ ستاروں کو پوری دنیا میں اڑانے کے علاوہ، ایروفلوٹ نے کلب کو سفری اور لاجسٹک مشورے بھی فراہم کیے لیکن یونائیٹڈ اب ایک نئے فلائٹ پارٹنر کے لیے مارکیٹ میں ہے، جس پر قطر ایئرویز زیر غور ہے۔یونائیٹڈ نے ایروفلوٹ کے ساتھ اپنی نو سالہ رفاقت سے مجموعی طور پر £100m کے علاقے میں سرمایہ کاری کی۔

    مانچسٹر یونائیٹڈ نے پہلے روسی سرکاری ایئرلائن ایروفلوٹ کے ساتھ اپنی پرواز کا تبادلہ کیا تھا اور اب یوکرین پر حملے کی روشنی میں اپنا سپانسرشپ معاہدہ منسوخ کر دیا ہے۔

    دلچسپ بات یہ ہے کہ یوکرین پر روسی حملے کے بعد یونائیٹڈ کے حصص کی قیمت گر گئی اور یہ قیاس کیا گیا کہ یہ ایروفلوٹ کے ساتھ ان کی وابستگی کی وجہ سے گرا ہے۔جمعرات تک، دو ہفتوں میں حصص کی قیمت $14.08 فی حصص سے گر کر $13.10 ہوگئی، جو کہ سات فیصد کی کمی ہے۔

  • روس اور یوکرین کے درمیان نوبت جنگ تک کیوں آئی ؟خصوصی رپورٹ

    روس اور یوکرین کے درمیان نوبت جنگ تک کیوں آئی ؟خصوصی رپورٹ

    کیف:روس اور یوکرین کے درمیان نوبت جنگ تک کیوں آئی ؟خصوصی رپورٹ ،روس اور یوکرین کے درمیان جنگ جاری ہے اور روس کا پلڑہ بھاری ہے ، دوسری طرف یوکرین کو روس کے خلاف مزاحمت پر اکسانے والے اب جان چھڑانے کی کوشش کررہے ہیں ، روس اور یوکرین کے درمیان اس قدر کشیدگی کیوں پیدا ہوئی ، جنگ کے اسباب کیا ہیں اور کون سچا ہے اور کون جھوٹا، اس حوالے سے کچھ حقائق پیش کیے جاتے ہیں‌،

    روس اور یوکرین کے اس جغرافیائی تنازع کی جڑیں گذشتہ سو سالہ تاریخ میں ہیں۔

    آج مغرب کے ساتھ مل کر روس کو مشکل میں ڈالتا یوکرین 1920 سے 1991 تک سوویت یونین کا حصہ رہا ہے۔

    نوے کی دہائی میں جب سوویت یونین کا عروج ڈگمگانے لگا تو یوکرین ان پہلے ممالک میں سے تھا، جس نے 16 جولائی 1990 کو یونین سے علیحدگی کا اعلان کیا۔ تقریباً ایک سال بعد 24 اگست 1991 کو یوکرین نے خودمختاری اور مکمل آزادی کا اعلان بھی کر دیا۔

    یوکرین نے آزادی تو حاصل کرلی لیکن وہاں موجود 17 فیصد روسی النسل آبادی سمیت روس کے لیے نرم گوشہ رکھنے والے دیگر پریشر گروپس اور مغرب کی حمایت کرنے والے گروہوں میں تنازعات کا آغاز ہو گیا۔

    تاریخ کا مشاہدہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ روس یوکرین پر 2015 کی جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتا ہے۔ اس کے علاوہ معاہدے پر عمل درآمد نہ ہونے کے لیے مغربی ممالک کو بھی موردِ الزام ٹھہراتا ہے۔

    ادھر عالمی سطح پر اس معاہدے کو روس کی کامیابی قرار دیا جاتا تھا کیوں کہ اس کے ذریعے یوکرین کو باغیوں کے زیر اثر علاقوں کو زیادہ سے زیادہ خود مختاری دینے کا پابند کیا گیا تھا۔ اس معاہدے میں یوکرین نے علیحدگی پسندوں کے لیے عام معافی کی پیش کش بھی کی تھی۔

    روس کی طرف یوکرین بھی روس پر جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتا رہا ہے۔ روس کی تردید کے باجود یوکرین کا اصرار ہے کہ اس کے مشرقی خطے میں روسی فوجی موجود ہیں۔حالیہ کشیدگی کے بعد روس جرمنی اور فرانس کی شمولیت کے ساتھ مذاکرات کی پیش کش کو پہلے ہی مسترد کر چکا ہے۔

    یوکرین کو ہتھیار فراہم کرنے اور اس کے ساتھ جنگی مشقیں کرنے پر روس امریکہ اور نیٹو کو شدید تنقید کا نشانہ بناتا ہے۔ روس کا الزام ہے کہ امریکہ اور نیٹو یوکرین کو باغیوں سے وہ علاقے واپس کے لینے کے لیے طاقت کے استعمال پر اکسا رہے ہیں جن کا کنٹرول انہوں نے 2014 میں حاصل کیا تھا۔

    یوکرین نیٹو کا رکن نہیں ہے لیکن 2008 سے عندیہ دے رہا ہے کہ وہ جلد اس اتحاد کا حصہ بن جائے گا۔ 2014 میں روس کی حمایت یافتہ حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد سے یوکرین مغربی ممالک کے قریب ہوا ہے۔ یوکرین نے نیٹو کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقیں کی ہیں، امریکہ سے ٹینک شکن میزائل اور ترکی سے ڈرون بھی حاصل کیے ہیں۔

    کرائمیا کا کنٹرول سنبھالنے اور مشرقی یوکرین میں باغیوں کی مدد کے تناظر میں یوکرین اور امریکہ اپنے بڑھتے ہوئے باہمی تعاون کو درست اقدام قرار دیتے ہیں۔ مبصرین یوکرین کے نیٹو اور امریکہ سے بڑھتے ہوئے تعاون کو بھی روس کے حالیہ اقدامات کا سبب قرار دیتے ہیں۔

  • روس نے یوکرین کو بات چیت کی مشروط پیشکش کردی

    روس نے یوکرین کو بات چیت کی مشروط پیشکش کردی

    روس نے یوکرین کو بات چیت کی مشروط پیشکش کردی

    نیٹو کی مدد سے مایوس ہو کر یوکرینی صدرنے روس کو مذاکرات کی دعوت دے دی
    یوکرینی صدر کا کہنا ہے کہ یورپ نے روس کے خلاف جنگ میں مدد نہیں کی،یورپ روس کے خلاف اپنا دفاع کس طرح کرے گا؟ یوکرینی فوج نے خود اپنے ملک کا دفاع کرنا ہے،غیرجانبدار ملک ہونے کا اعلان کرنے کے معاملے پر روس سے مذاکرات کیلئے تیار ہیں،

    یوکرینی صدر کا کہنا تھا کہ ہمارے جوانوں نے موت گلے لگا لی، ہتھیارنہیں ڈالے، ہلاک فوجیوں کوہیرو آف یوکرین کے اعزازسے نوازا جائے گا،

    ترجمان روسی صدارتی محل کا کہنا ہے کہ مذاکرات کیلئے بیلاروس کے دارالحکومت منسک وفد بھیجنے کیلئے تیار ہیں، روس نے نیٹو ممالک پر جوابی پابندیاں لگانےکا فیصلہ کیا ہے کریملن کے مطابق نیٹوممالک کی پابندیوں کاجواب پابندیوں سے دیں گے،پابندیوں کاجواب دینے کے لیے مشاورت جاری ہے،

    ترک صدر نے نیٹواوریورپی یونین پرتنقید کی ہے اور کہا کہ یورپی یونین اورنیٹویوکرین پرمتفقہ موقف اپنانےمیں ناکام رہے،نیٹو کوجنگ روکنے کے لئے فیصلہ کن اقدامات کرنے چاہئیں تھے،

    قبل ازیں چینی صدر کا روسی ہم منصب سے ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے چینی صدر نے مسئلہ مذاکرات سے حل کرنے پرزور دیا ہے ،روسی صدر نے چینی صدر کو بتایا کہ وہ یوکرین کے ساتھ مذاکرات کے لئے تیار ہے اور اعلیٰ سطح مذاکرات چاہتے ہیں ،روسی صدر کا کہنا تھا کہ نیٹو نےروس کے جائزسیکیورٹی مطالبات کونظرانداز کیا،نیٹو نے مشرقی یورپ میں فوج تعینات کرکے چیلنج کیا،

    قبل ازیں چین کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ وہ روس اور یوکرین کے ساتھ ‘نارمل’ تجارتی تعلقات برقرار رکھے گا ،روس کے ساتھ چین کے تعلقات صدر شی جن پنگ کے دور میں مضبوط ہوئے ہیں جنہوں نے رواں ماہ بیجنگ میںروسی صدر سے ملاقات کی۔ چین واحد بڑی حکومت ہے جس نے روس کے حملے کی مذمت کرنے سے گریز کیا۔ ترجمان چینی وزارت خارجہ نے روس کے یوکرین پر حملے کے ردعمل میں کہا تھا کہ ہم اب بھی امید کرتے ہیں کہ متعلقہ فریق امن کے دروازے بند نہیں کریں گے اور بات چیت ٕ کے ذریعے مسئلے کو حل کریں گے

    دریں اثنا، یوکرین میں چین کے سفارت خانے نے وہاں کے اپنے شہریوں سے کہا کہ وہ گھروں میں رہیں اور اگر سفر کرنے کی ضرورت ہو تو اپنی گاڑی کے اندر یا اس پر چینی جھنڈا لگا دیں۔ بیجنگ نے یوکرین کے تنازعے کا ذمہ دار واشنگٹن اور اس کے یورپی اتحادیوں کو ٹھہرایا ہے۔

    روسی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ یوکرین کی فوج ہتھیار ڈال دے تو مذاکرات کیلئے تیار ہیں،ہم یوکرین پر نازیوں کی حکومت نہیں چاہتے،روس کے سرکاری میڈیا کے مطابق روسی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ یوکرینی افواج کے ہتھیار ڈالتے ہی روس کیف کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہے۔ ہم کسی بھی وقت بات چیت کے لیے تیار ہیں، جیسے ہی یوکرین کی مسلح افواج ہمارے صدر کی کال کا جواب دیں، مزاحمت بند کر دیں اور اپنے ہتھیار پھینک دیں۔ کوئی بھی ان پر حملہ یا ظلم نہیں کرے گا،انہوں نے روسی حکومت کے پہلے بیانات کا اعادہ کیا کہ ماسکو یوکرین کو غیر فوجی بنانا چاہتا ہے۔ کوئی بھی یوکرین پر قبضہ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔

    روسی وزیر خارجہ نے یوکرین کے ان دعوؤں کی تردید کی کہ روسی افواج نے رہائشی علاقوں کو نقصان پہنچانے کے وسیع ثبوت کے باوجود شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا ہے۔ قبل ازیں کریملن کے پریس سیکرٹری دیمتری پیسکوف نے بھی کہا کہ ماسکو یوکرین میں جاری روسی فوجی کارروائی کے حوالے سے کیف کے ساتھ ہتھیار ڈالنے کی شرائط پر بات چیت کے لیے تیار ہے

    روسی وزارت دفاع نے کارروائیوں کی نئی تفصیلات جاری کردیں ،روسی وزارت دفاع کا کہنا تھا کہ یوکرین کی 118 عسکری تنصیبات تباہ کی جا چکی ہیں،ایئر فیلڈ، 13 میزائل سسٹم، 5لڑاکا طیارے تباہ کیے،ایک یوکرینی ہیلی کاپٹراور 5 ڈرونز مارگرائے،یوکرینی فوج کے 150 اہلکارہتھیارڈال چکے ہیں،

    عیسائیوں کے مذہبی پیشوا پوپ فرانسس نے روسی سفارت خانے کا دورہ کیا پوپ فرانسس نے روسی سفیر سے جنگ پر تشویش کا اظہار کیا

    قبل ازیں یوکرین کے دارالحکومت کیف میں پیٹرول کی قلت ہو گئی ہے ،یوکرینی فوج کا کہنا ہے کہ کیف میں پیٹرول کی شدید قلت کا سامنا ہے روس بیلاروس میں گومیل ایئر فیلڈ کو کیف پر حملے کیلئے استعمال کر رہا ہے،

    روس نے برطانوی ایئرلائنز پر پابندی عائد کردی ،روسی ایوی ایشن کا کہنا ہے کہ برطانیہ روسی فضائی حدود کا استعمال نہیں کر سکے گا،برطانیہ اپنی پروازوں کوروس کے ہوائی اڈوں پر نہیں اتارےگا،اقدام روسی جہازوں کی پروازوں پر پابندی کے بعد کیا گیا ہے

    یوکرینی صدر ولودومیر زیلنسکی کا کہنا ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن سے رابطہ ہوا ہے،امریکہ نے کیف پر روس کے حملوں کے بارے میں اطلاع دی،یوکرین کو پہلے سے زیادہ شراکت داروں کے تعاون کی ضرورت ہے، روس پر پابندیوں کو مزید مضبوط کیا جانا چاہیے،

    یوکرین نے ٹوئٹر سے روس پر پابندی کا مطالبہ کردیا ہے ،یوکرین کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر روس کے لیے کوئی جگہ نہیں، یوکرینیوں کو قتل کرنے والوں کو سوشل میڈیا کے استعمال کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے،

    یوکرینی وزیر خارجہ دمتروکلیبا کا کہنا ہے کہ کیف کے حالات دوسری جنگِ عظیم جیسے ہوگئے ہیں، روس حملے کے بعد کیف کی صورتحال دوسری عالمی جنگ میں دیکھی گئی تھی 1941میں دوسری عالمی جنگ میں نازی جرمنی نے دارالحکومت پر حملہ کیا تھا،نازی جرمنی نے جب کیف پر حملہ کیا تب ایسے ہی حالات تھے،ماضی میں ان حملوں کو شکست دی اور اب وہ اسے بھی شکست دیں گے

    روسی صدر پیوٹن نے یوکرین میں فوجی آپریشن کا حکم دے دیا-

    :یوکرائن میں ایمرجنسی نافذ:سائرن بج گئے:شہریوں کو روس چھوڑنے کا حکم

    برطانیہ آسٹریلیا اور جاپان نے روس پر پابندیاں عائد کرنے کا آغاز کردیا ہ

    پوتن کوملک سے باہر روسی فوج کی تعیناتی:نیٹو کے جنگی طیارے سائرن بجانےلگے:پابندیاں بھی لگ گئیں‌ 

    :روس جنگ کےلیے تیار:ولادی میرپوتن نے ملک سے باہر فوج استعمال کرنے کیلیے قانونی رائے مانگ لی

    یوکرینی وزیردفاع کا فوجیوں کو روس سے جنگ کیلئے تیار رہنےکا حکم،

    پانچ روسی طیارے، ایک ہیلی کاپٹر گرا دیا، یوکرینی وزارت دفاع کا دعویٰ

    کون ہے جو ہمارا ساتھ دے؟ یوکرینی صدر کی دہائی

  • کیف میں 3 ہزار کے قریب طلبہ،حفاظت ہماری ذمہ داری ہے،وزیر خارجہ

    کیف میں 3 ہزار کے قریب طلبہ،حفاظت ہماری ذمہ داری ہے،وزیر خارجہ

    کیف میں 3 ہزار کے قریب طلبہ،حفاظت ہماری ذمہ داری ہے،وزیر خارجہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمو دقریشی نے کہا ہے کہ کیف میں 3 ہزار کے قریب طلبہ ہیں ،ان کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہے،

    وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ کیف میں ہمارا سفارتخانہ تھا جس کو منتقل کردیا کیف سے سفارتخانہ منتقلی کرنے کا مقصد اپنے شہریوں کو سہولت فراہم کرنا ہے،کیف میں موجود پاکستانی سفیر سے رابطے میں ہوں وزیراعظم عمرا ن خان واضح کرچکے ہیں کہ ہم کسی بلاک کا حصہ نہیں بنیں گے ،ہمیں اپنے ماضی کی تجربات کو دیکھتے ہوئے آگے جانا ہوگا،وزیراعظم کےدورہ روس پر ان کے ہمراہ تھے وزیراعظم عمران خان کو طویل عرصے بعد دورہ روس کی دعوت دی گئی تھی،بطور وزیرخارجہ روسی ہم منصب سے ملاقات ہوئی ،وزیراعظم عمران خان اورصدر پیوٹن کے درمیان ساڑھے 3 گھنٹے کی ملاقات ہوئی ،وزیراعظم اور پیوٹن نے افغانستان ،جنوبی ایشیا میں استحکام اور مقبوضہ کشمیر پرزیادہ گفتگو کی،وزیراعظم اور پیوٹن کے درمیان ملاقات میں اسلامو فوبیا پر بھی بات چیت ہوئی وزیراعظم عمران خان اورصدر پیوٹن نے مدت بعد طویل گفتگو کی ،وزیر اعظم عمران خان نے روسی صدر اور ہم منصب سے گیس سیکٹر میں تعاون پر با ت کی،وزیراعظم عمران خان سے ہوٹل میں روسی ہم ڈپٹی ہم منصب کی ملاقات ہوئی روسی ڈپٹی وزیراعظم کے ساتھ اعلیٰ وفد بھی تھا ،ہم نے تحفظات اور مشکلات پر گفتگو کی

    وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا مزید کہنا تھا کہ روسی قیادت نے پاکستان میں سرما یہ کاری میں دلچسپی کا اظہار کیا گیس کی قلت ،توانائی کا بحران سمیت دیگر معاملات پرمثبت گفتگو ہوئی آئندہ دنوں میں روس کےساتھ توانائی کے شعبے میں تعاون پر کام ہوگا افغانستان میں صورتحال سے متعلق روس اور پاکستان کے سوچ کا زاویہ ایک ہے روس بھی افغانستان میں امن کا خواہاں ہے وزیراعظم کے دورہ روس مختصر کرنے کی خبر پڑی ، جس پر حیرت نہیں ہوئی،بےبنیاد باتیں ہوتی رہیں کہ موجودہ حالات میں دورہ مناسب نہیں تھا پاکستان کو دورہ روس سے قطعا کوئی نقصان نہیں ہوگا،ہم نے دورہ روس سے قبل معاملات کا جائزہ لیاتھا سفارتی مذاکرات کی اہمیت سے کوئی انکار نہیں

    دوسری جانب پاکستانی سفیر کا کہنا ہے کہ پاکستانی سفارتخانہ پاکستانی طلبہ سے پہلے دن سے تعاون کررہا تھا،پہلے دن سے کہہ رہے تھے ملک چھوڑ دیں لیکن مجبوری کی وجہ سے نہیں گئے،ہم اب بھی پاکستانی طلبہ کے ساتھ مکمل تعاون کررہے ہیں،تمام طلبہ ٹرین یا ٹرانسپورٹ کے ذریعے جلد از جلد ترنوپل آجائیں یوکرینی حکومت نے اعلان کیا ہے ٹرین کا ٹکٹ فری ہوگا پاکستانی شہری اورطلبہ رابطہ کرکے بتائیں کہاں آرہے ہیں، لویف اورترنوپل میں سہولت مراکز قائم ہیں سہولت مراکز سے پولینڈ،ہنگری اوررومانیہ بھیجیں گے یوکرین کی فضائی حدود بند ہے،پولینڈ،ہنگری اوررومانیہ کی ٹکٹ لے کر وہاں سے پاکستان جاسکتے ہیں،یوکرین سے اپنے گھر واپسی کےلیے مدد کریں گے،طلبہ کو یوکرین سے بحفاظت نکالنے کےلیے اقدامات کررہے ہیں

    روسی صدر پیوٹن نے یوکرین میں فوجی آپریشن کا حکم دے دیا-

    :یوکرائن میں ایمرجنسی نافذ:سائرن بج گئے:شہریوں کو روس چھوڑنے کا حکم

    برطانیہ آسٹریلیا اور جاپان نے روس پر پابندیاں عائد کرنے کا آغاز کردیا ہ

    پوتن کوملک سے باہر روسی فوج کی تعیناتی:نیٹو کے جنگی طیارے سائرن بجانےلگے:پابندیاں بھی لگ گئیں‌ 

    :روس جنگ کےلیے تیار:ولادی میرپوتن نے ملک سے باہر فوج استعمال کرنے کیلیے قانونی رائے مانگ لی

    یوکرینی وزیردفاع کا فوجیوں کو روس سے جنگ کیلئے تیار رہنےکا حکم،

    پانچ روسی طیارے، ایک ہیلی کاپٹر گرا دیا، یوکرینی وزارت دفاع کا دعویٰ

    کون ہے جو ہمارا ساتھ دے؟ یوکرینی صدر کی دہائی

    یوکرین میں پاکستانی طلبا کو سفارتخانے نے لاوارث چھوڑدیا، طلبا کی اپیل

  • روس یوکرین تنازعہ :صدر جوبائیڈن نے روس پر نئی سنگین پابندیاں عائد کردیں

    روس یوکرین تنازعہ :صدر جوبائیڈن نے روس پر نئی سنگین پابندیاں عائد کردیں

    واشنگٹن:روس یوکرین تنازعہ :صدر جوبائیڈن نے روس پر نئی سنگین پابندیاں عائد کردیں ،اطلاعات کے مطابق امریکہ کے صدر جوبائیڈن نے روس پر نئی سنگین پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق صدر جوبائیڈن نے وائٹ ہاؤس میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ روس کو یوکرین پر بلا جواز حملے کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔

    انہوں نے کہا کہ روسی بینک کے 250 ملین ڈالرز کے اثاثے منجمد کیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ پابندیوں سے چار روسی بینک متاثر ہوں گے۔

    صدر جوبائیڈن نے کہا کہ روس کی برآمدات سمیت دیگر شعبوں پر بھی پابندیاں لگائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ روس پر پابندیوں کے اثرات طویل مدتی ہوں گے جس سے روس کی درآمدات بھی متاثر ہوں گی۔

    خبر رساں ایجنسی کے مطابق جوبائیڈن نے پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ روسی گیس کمپنی کو قیمتیں بڑھانے نہیں دی جائیں گی، ڈالر اور جاپانی ین میں روسی لین دین محدود کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ روس کی عالمی مارکیٹ تک رسائی کو ہدف بنایا جائے گا۔

    امریکی صدر جوبائیڈن نے کہا کہ نیٹو اتحادی آرٹیکل 5 کے تحت جوائنٹ سیکیورٹی کی ذمہ داری پوری کریں گے۔

    عالمی خبر رساں ایجنسی کے مطابق صدر بائیڈن نے کہا کہ روس یوکرین پر حملے کی تیاری پہلے ہی کرچکا تھا۔ انہوں نے کہا کہ جی سیون ممالک سے روسی حملے پر بات کی ہے جو بلا جواز ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ روس کو یوکرین پر حملے کے لیے جوابدہ ٹھہرانے کی خاطر پابندیوں پر اتفاق کیا گیا ہے۔

    صدر جوبائیڈن نے کہا کہ امریکی فوج یوکرین میں براہ راست تنازع میں شامل نہیں ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی افواج یوکرین نہیں جارہی ہیں بلکہ اپنے نیٹو اتحادیوں کا دفاع کریں گی۔

  • وزیراعظم نے روس کی سب سے بڑی مسجد میں نوافل ادا کیے:عالم اسلام کے لیے خصوصی دعائیں

    وزیراعظم نے روس کی سب سے بڑی مسجد میں نوافل ادا کیے:عالم اسلام کے لیے خصوصی دعائیں

    ماسکو:وزیراعظم نے روس کی سب سے بڑی مسجد میں نوافل ادا کیے،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے روس کی سب سے بڑی مسجدو اسلامک سینٹر میں نوافل ادا کیے۔

    دورہ روس کے دوران صدر ولادی میر پیوٹن سے طویل ملاقات کے بعد نائب وزیراعظم اور بزنس کمیونٹی سے اہم ملاقاتیں کر کے عمران خان نے کیتھیڈرل مسجد کا دورہ کیا۔

    وزیراعظم عمران خان نےکیتھیڈرل مسجدکے امام سے ملاقات کی اور نوافل ادا کیے۔ وفاقی وزرا اور وفد کے ارکان بھی وزیراعظم عمران خان کے ساتھ تھے۔

    دورہ روس مکمل کر کے وزیراعظم ایئرپورٹ کے لیے روانہ ہو گئے اور آج ہی وہ وطن لوٹیں گے۔

    وزیراعظم عمران خان اور روسی صدر ولادی میرپیوٹن کےسربراہی اجلاس کا اعلامیہ جاری کر دیا گیا۔ اعلامیہ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے روسی صدرپیوٹن سےملاقات کی جس میں دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات پربات چیت کی، ملاقات میں باہمی دلچسپی کےعلاقائی اورعالمی امورپر وسیع مشاورت کی گئی۔

    اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ پاک روس تعلقات میں وسعت کیلئے دونوں رہنما پرُعزم ہیں تعلقات وقت کیساتھ دونوں ممالک کےدرمیان مضبوط ترہوں گے دوطرفہ تعلقات کامثبت رخ مستقبل میں بھی آگے بڑھتا رہے گا۔