Baaghi TV

Tag: روس

  • چیچن کمانڈو دستے’’ہنٹرز‘یوکرینی صدرکی تلاش میں:زندہ یا مردہ پکڑنے کےلیے کوشاں؛مغرب پرخوف طاری

    چیچن کمانڈو دستے’’ہنٹرز‘یوکرینی صدرکی تلاش میں:زندہ یا مردہ پکڑنے کےلیے کوشاں؛مغرب پرخوف طاری

    کیف: چیچن کمانڈو دستے’’ہنٹرز‘ یوکرینی صدرکی تلاش میں:زندہ یا مردہ پکڑنے کےلیے کوشاں ،اطلاعات کے مطابق چیچن اسپیشل فورسز کے ‘ہنٹرز’ کو یوکرین میں کیف کے اہلکاروں کو حراست میں لینے یا قتل کرنے کے لیے اتارا گیا ہے جنہیں ‘تاش کے پتے’ دیے جاتے ہیں جن میں ان کے اہداف کی تصاویر ہوتی ہیں۔

    چیچن اسپیشل فورسز کے ‘ہنٹرز ‘ کے ایک دستے کو یوکرین کے مخصوص اہلکاروں کو حراست میں لینے یا قتل کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس بارے میں پہلے ہی یوکرین کے صدر خدشہ ظاہر کرچکے ہیں کہ روس انہیں خاندان سمیت ختم کرانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ ان تصاویر کے ساتھ یوکرین کی جنگ میں ایک نیا رخ سامنے آگیا ہے۔ روس اور چیچین حکومت میں تال میل ہے۔

     

    خطرناک قاتل دستے کی تصویر یوکرین کے جنگل میں اس وقت دکھائی گئی جب وہ ممکنہ لڑائی سے قبل یہ دستہ با جماعت نماز ادا کررہا تھا۔ یہ قدم چیچین رہنما اور پوتن کے قریبی اتحادی 45 سالہ رمضان قادروف کے یوکرین میں اپنی افواج کا دورہ کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

    ۔ 44 سالہ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے جمعرات کو کہا کہ انہیں بتایا گیا تھا کہ کیف میں روسی اسپیشل فورسز ان کا مارنا چاہتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماسکو کی جانب سے یوکرائنی حکومت کے سینیئر اہلکاروں کے لیے جاری کی گئی ‘کِل لسٹ’ میں ان کا خاندان دوسرا ہدف تھا۔

     

     

    رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ فہرست میں روسی تحقیقاتی کمیٹی کے ‘جرائم’ کے مشتبہ اہلکاروں اور سیکیورٹی افسران کی ہے۔یہ اس وقت سامنے آیا جب یوکرین کے صدر نے اعتراف کیا کہ وہ اپنے دارالحکومت میں روسی قاتلوں کے لیے ‘ٹارگٹ نمبر ایک’ ہیں، جب کہ ان کا خاندان پوتن کے ہٹ مینوں کے لیے ‘نمبر دو’ ہے۔

    دوسری طرف اسی حوالے سے روس کی نیم خود مختار ریاست چیچنیا کے سربراہ رمضان قادریوف نے روس پر یوکرین کی کارروائی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہےکہ 12 ہزار چیچن یوکرین کے محاذ پر جاکر لڑنے کے لیے تیار ہیں۔

     

    روسی سرکاری میڈیا کے مطابق چیچنا کے دارالحکومت گروزنی میں 12 ہزار کے قریب چیچن فورسز کے اہلکار اور رضاکار روسی حکومت کے اقدام کی حمایت میں جمع ہوئے اور روسی فوج سے یکجہتی کا اظہار کیا۔

    اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے چیچنیا کے سربراہ رمضان قادریوف نےکہا کہ 12 ہزار چیچن اپنے ملک اور عوام کی حفاظت کے لیے کسی بھی قسم کے آپریشن میں حصہ لینے کو تیار ہیں

    ان کا کہنا تھاکہ میں یوکرینی صدر کو مشورہ دینا چاہتا ہوں کہ وہ سپریم لیڈر پیوٹن کو فون کرکے معافی مانگیں اور یوکرین کو محفوظ بنائیں۔ان کا مزید کہنا تھاکہ یوکرینی صدر روس کی شرائط تسلیم کرلے، یہ ان کیلئے اچھا اقدام ہوگا۔

  • روسی حملے کے خلاف جاپان کے شہروں میں مظاہرہ

    روسی حملے کے خلاف جاپان کے شہروں میں مظاہرہ

    ٹوکیو:روسی حملے کے خلاف جاپان کے شہروں میں مظاہرہ ،اطلاعات کے مطابق یوکرین پر روسی افواج کے حملے کے بعد جاپان کے شہروں میں مظاہرہ اور ریلیاں نکالی گئیں۔یوکرین پر روس کی چڑھائی کے خلاف جاپان کے ہیروشیما اور ناگاساکی شہروں میں احتجاجی ریلیاں منعقد ہوئی ہیں۔ یہ دونوں شہر دوسری عالمی جنگ کے دوران ایٹمی بمباری کا نشانہ بنے تھے۔

    انہوں نے کتبے اٹھا رکھے تھے، جن پر انگریزی میں لکھا تھا، ’جنگ بند کرو‘، اور ’جوہری اسلحہ اور جنگ نا منظور‘۔ یہ دراصل روسی جارحیت اور ایٹمی جنگ کے خطرے کے خلاف احتجاج تھا۔

    قبل ازاں رواں ہفتے فوجی کارروائی شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے خبردار کیا تھا کہ انکا ملک آج بھی زبردست جوہری طاقت ہے۔روس کے حملے کے بعد امریکہ اور نیٹو کی جانب سےلفظی بیان بازی سے یوکرین کے صدر بھی سخت نالاں نظر آ رہے ہیں۔یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے عالمی برادری سے شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں تنہا کر دیا گیا ہے۔

    دوسری جانب روس نے یوکرین کی جانب سے مذاکرات کی اپیل پر کہا کہ یوکرین کی افواج ہتھیار ڈالے اس کے بعد مذاکرات کئے جائیں گے۔

    ادھر جنگ کی وجہ سے حالات مزید بگڑگئے ہیں اور ہر طرف لوگ پریشان نظر آتے ہیں‌،لوگ بچے بوڑھے سب پریشان ہیں ، لوگ گھروبےگھر ہوگئے ہیں اور ایک تازہ واقعہ میں
    ایک خاتون نتالیہ ابلیوا ہفتے کے روز یوکرین سے سرحد عبور کر کے ہنگری پہنچی، جسے ایک قیمتی سامان سونپا گیا۔

    یوکرین کی جانب سرحدی کراسنگ پر انتظار کرتے ہوئے، ابلیوا نے اپنے آبائی شہر کامیانیٹس-پوڈیلسکی سے تعلق رکھنے والے ایک مایوس 38 سالہ شخص سے ملاقات کی، اس کے جوان بیٹے اور بیٹی کے ساتھ۔ سرحدی محافظ اسے گزرنے نہیں دیتے تھے۔ یوکرائن نے 18 سے 60 سال کی عمر کے تمام یوکرائنی مردوں پر ملک چھوڑنے پر پابندی لگا دی ہے تاکہ وہ اپنے ملک کے لیے لڑ سکیں۔

    "ان کے والد نے بس دونوں بچوں کو میرے حوالے کر دیا، اور مجھ پر بھروسہ کیا، اور مجھے ان کے پاسپورٹ دے کر ان کے حوالے کر دیا،” 58 سالہ ابلیوا نے کہا، والد نے بتایا کہ بچوں کی یوکرینی ماں ان سے ملنے اور انہیں محفوظ مقام پر لے جانے کے لیے اٹلی سے جا رہی تھی۔ اس نے ابلیوا کو ماں کا موبائل نمبر دیا، اور موٹی جیکٹوں اور ٹوپیوں میں سردی سے لپٹے اپنے بچوں کو الوداع کہا۔

    خیال رہے کہ 24 فروری کو حملے کے آغاز کے بعد سے روسی فوج نے یوکرین میں 821 فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے، جن میں 14 فضائی اڈے اور 19 فوجی کمانڈ سینٹرز شامل ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ 24 فضائی دفاعی میزائل سسٹم، 48 ریڈار، 7 جنگی طیارے، 7 ہیلی کاپٹر، 9 ڈرون، 87 ٹینک اور 8 فوجی جہاز تباہ ہوئے ہیں۔

    تازہ کارروائی میں روسی فوج نے یوکرین کے فوجی اڈوں پر کروز میزائلوں سے حملہ کیا ہے۔روسی وزارتِ دفاع کے ترجمان میجر جنرل ایگور کوناشینکوف نے ہفتے کو بتایا کہ فوج نے لمبی دوری تک مار کرنے والے کیلیبر کروز میزائلوں سے یوکرین کے متعدد فوجی اداروں پر حملہ کیا۔

    ایک ایسی خاتون نتالیہ ابلیوا ہفتے کے روز یوکرین سے سرحد عبور کر کے ہنگری پہنچی، جسے ایک قیمتی سامان سونپا گیا۔یوکرین کی جانب سرحدی کراسنگ پر انتظار کرتے ہوئے، ابلیوا نے اپنے آبائی شہر کامیانیٹس-پوڈیلسکی سے تعلق رکھنے والے ایک مایوس 38 سالہ شخص سے ملاقات کی، اس کے جوان بیٹے اور بیٹی کے ساتھ۔سرحدی محافظ اسے گزرنے نہیں دیتے تھے۔ یوکرائن نے 18 سے 60 سال کی عمر کے تمام یوکرائنی مردوں پر ملک چھوڑنے پر پابندی لگا دی ہے تاکہ وہ اپنے ملک کے لیے لڑ سکیں۔

    "ان کے والد نے بس دونوں بچوں کو میرے حوالے کر دیا، اور مجھ پر بھروسہ کیا، اور مجھے ان کے پاسپورٹ دے کر ان کے حوالے کر دیا،” 58 سالہ ابلیوا نے کہا، اس نوجوان لڑکے کے بازوؤں کو جسے وہ اپنے ارد گرد صرف چند گھنٹوں سے جانتی تھی۔ گردن

    والد نے بتایا کہ بچوں کی یوکرینی ماں ان سے ملنے اور انہیں محفوظ مقام پر لے جانے کے لیے اٹلی سے جا رہی تھی۔ اس نے ابلیوا کو ماں کا موبائل نمبر دیا، اور موٹی جیکٹوں اور ٹوپیوں میں سردی سے لپٹے اپنے بچوں کو الوداع کہا۔یہی نہیں بلکہ رہائشی عمارتوں کو بھی اس حملے میں بھاری نقصان پہنچا ہے اور کئی لوگ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

  • نہ مُلک چھوڑوں گانہ قوم:ہتھیارنہیں ڈالیں گے فتح ہماری ہوگی:یوکرینی صدرکافوجیوں کےساتھ گھومتےہوئےبیان

    نہ مُلک چھوڑوں گانہ قوم:ہتھیارنہیں ڈالیں گے فتح ہماری ہوگی:یوکرینی صدرکافوجیوں کےساتھ گھومتےہوئےبیان

    کیف:نہ مُلک چھوڑوں گا نہ قوم:ہتھیارنہیں ڈالیں گے فتح ہماری ہوگی:یوکرینی صدرکا فوجیوں کے ساتھ گھومتے ہوئے بیان،ااطلاعات کے مطابق یوکرائن کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے ٹوئٹر پر اپنی ایک وڈیو پوسٹ کی ہے جس میں وہ دارالحکومت کِیف کی سڑک پر گھومتے نظر آ رہے ہیں۔بڑے حوصلے کے ساتھ اپنی قوم اور اپنی فوج کے درمیان پھررہےہیں اور ان کے حوصلے بڑھا رہے ہیں‌

    کچھ مبصرین کا خیال ہے کہ بظاہر یوکرائنی صدر نے یہ دکھانے کی کوشش کی ہے کہ انہوں نے اپنی فوج سے روسی فوجیوں کے سامنے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ نہیں کیا۔

    صدر ولودیمیر زیلنسکی نے کیف کے گوروڈیٹسکی ہاؤس کے سامنے کھڑے ہو کر کہا اُن کے حوالے سے بہت سی جعلی خبریں پھیلائی جا رہی ہیں کہ اُنہوں نے اپنی فوج سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا ہے اور وہ خود بھی یوکرائن سے فرار ہو رہے ہیں لیکن یہ سب جھوٹ اور فریب ہے۔

     

     

    یوکرائنی صدر زیلنسکی کا اپنے وڈیو پیغام میں کہنا تھا کہ وہ یہیں دارالحکومت کیف میں ہیں، ہم ہتھیار نہیں ڈالیں گے اور اپنی ریاست کا دفاع کریں گے۔اِس سے قبل امریکی میڈیا کے مطابق یوکرائنی صدر ولودیمیر زیلنسکی نے یوکرائن سے انخلا میں مدد کے لیے امریکی پیشکش کو ٹھکرا دیا تھا۔

    ایسیوسی ایٹڈ پریس نے ایک سینئر انٹیلی جنس اہلکار کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا ہے کہ صدر زیلینسکی نے پیشکش کے جواب میں کہا کہ یہاں لڑائی ہو رہی ہے، مجھے اسلحے کی ضرورت ہے، نکلنے کے لیے فلائٹ کی نہیں۔

    امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے امریکی اور یوکرائنی حکام کا بھی حوالہ دیا تھا جن کا کہنا تھا کہ امریکی حکومت صدر زیلنسکی کی مدد کے لیے تیار ہے۔

    سوشل میڈیا پر روسی حملے کے جواب میں یوکرائنی صدر زیلینسکی کے ردعمل کی کافی پذیرائی کی جا رہی ہے۔ صدر زیلینسکی جو ایک سابق کامیڈین اور اداکار ہیں، نے ایک تقریر میں لڑائی جاری رکھنے کے عزم کیا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم پر حملے کرتے ہوئے آپ کو ہمارے چہرے نظر آئیں گے، ہماری پیٹھ نہیں۔

     

     

    یوکرائن کے دارالحکومت کیف میں یوکرائنی اور روسی افواج کے درمیان دو بدو جھڑپ جاری ہے۔ یوکرائنی فوج نے روسی فوج کو بڑے نقصانات پہنچانے کے دعوے کیے ہیں۔

    یوکرائنی مسلح افواج کے فیس بک پیج پر جاری کی گئی ایک پوسٹ کے مطابق دعویٰ کیا گیا ہے کہ اب تک ساڑھے 3 ہزار سے زائد روسی فوجی ہلاک اور 200 کے قریب قیدی بنائے جا چکے ہیں۔

     

    یوکرائنی فوج کے بیان کے مطابق اب تک روس کے 14 لڑاکا طیارے، 8 جنگی ہیلی کاپٹر اور 102 ٹینک بھی تباہ کر دیے گئے ہیں تاہم اِن میں سے کسی بھی دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ دوسری جانب روس نے بھی ابھی تک کسی جانی نقصان کا اعتراف نہیں کیا ہے۔

  • روس اور یوکرین پُرتشدد کارروائیوں سے گریز کریں،طالبان

    روس اور یوکرین پُرتشدد کارروائیوں سے گریز کریں،طالبان

    ماسکو: طالبان نے روس اور یوکرین تنازع پر غیر جانبدار رہتے ہوئے فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور پُرتشدد کارروائیوں سے گریز کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی :عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق طالبان نے کہا ہے کہ روس اور یوکرین تنازع پر ان کی خارجہ پالیسی مکمل طور پر غیر جانبدار ہے اور خطے میں پائیدار امن کے لیے فریقین مذاکرات کے ذریعے تنازع حل کریں۔

    یوکرین پر حملہ: میٹا نے روسی سرکاری میڈیا کے اشتہارات پر پابندی لگا دی

    طالبان حکومت کی وزارت خارجہ کے ترجمان عبدالقہار بلخی نے فریقین سے مطالبہ کیا کہ تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے وہ ایسی اقدامات سے گریز کریں جو خطے میں تشدد کو ہوا دیتے ہیں۔

    ترجمان عبدالقہار بلخی نے روس اور یوکرین پر زور دیا کہ وہ خطے میں افغان طلبا سمیت دیگر تارکین وطن کی حفاظت کو بھی یقینی بنائیں۔

    واضح رہے کہ روس نے دو روز قبل یوکرین پر حملہ کردیا تھا جس میں جنگ کے پہلے روز فوجی اہلکاروں سمیت 135 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے-

    دوسری جانب روسی فوج کے یوکرین کے حملے کے بعد اپنے ملک کے دفاع میں سابق صدر پیٹرو پوروشینکو کلاشنکوف اُٹھا کر سڑکوں پر نکل آئے جب کہ خاتون رکن اسمبلی کیرا روڈک بھی اسلحہ تھام کر جنگ کے لیے تیار ہیں یوکرین کے سابق صدر پیٹرو پوروشینکو نے براہ راست نشر ہونے والے انٹرویو میں کلاشنکوف لہراتے ہوئے کہا کہ اپنے وطن کے دفاع میں روس سے جنگ کو تیار ہوں۔

    یوٹیوب،گوگل اور ٹوئٹر نے بھی روس پر پابندیاں عائد کر دیں

    2014 سے 2019 تک یوکرین کے صدر رہنے والے پیٹرو پوروشینکو نے مزید بتایا کہ ان کے پاس رائفلز اور دو مشین گنیں بھی ہیں جو وہ روسی فوجیوں کو ملک میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے استعمال کریں گے جس کے لیے وہ سڑک پر ہر وقت موجود رہیں گے-


    اسی طرح یوکرین کی خاتون رکن اسمبلی کیرا روڈک نے بھی سوشل میڈیا پر اپنی ایک تصویر شیئر کی ہے جس میں انھیں کلاشنکوف تھامے دیکھا جا سکتا ہے اپنے پیغام میں خاتون رکن اسمبلی نے خواتین کے جنگ میں حصہ لینے کی حوصلہ افزائی کی۔

    یوکرین پارلیمنٹ کی رکن اسمبلی کیرا روڈک نے مزید لکھا کہ وہ کلاشنکوف کا استعمال سیکھ رہی ہیں اور روس کے خلاف جنگ کے لیے ہتھیار اٹھانے کی تیاری کر رہی ہیں تاکہ مردوں کے شانہ بشانہ جنگ لڑ سکیں۔

    یوکرینی جوڑے نے روسی حملے کے دوران کی شادی،پھر اٹھائے ملک کیلیے ہتھیار

  • دنیا اب ایک طویل عالمی جنگ کے لیے تیارہوجائے: فرانس

    دنیا اب ایک طویل عالمی جنگ کے لیے تیارہوجائے: فرانس

    پیرس :دنیا اب ایک طویل عالمی جنگ کے لیے تیارہوجائے: اطلاعات کے مطابق فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے دنیا کو پیغام دیا ہے کہ ایک طویل جنگ اب دنیا کی منتظر ہے۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کی مطابق صدر میکرون نے پیرس میں زراعت کے سالانہ میلے کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئےکہنا تھا کہ اس صبح اگر میں آپ کو کچھ بتا سکوں تو وہ یہ ہے کہ جنگ جاری رہے گی۔ بحران جاری رہے گا اور اس کے بعد آنے والے بحران بھی طویل مدتی نتائج لائیں گے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ جنگ یورپ میں لوٹ آئی ہے، اس صورت حال کا انتخاب صدر پیوٹن نے یکطرفہ طور پر کیا ہے، یوکرین کے لوگ مزاحمت کر رہے ہیں جبکہ یورپ یوکرین کے لوگوں کی جانب سے مزاحمت کرنے کے لیے موجود ہے۔

    انھوں نے عزم ظاہر کیا ہے کہ اس سے نمٹنے کے لیے منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔

    واضح رہے، روس پر لگنے والی پابندیوں سے فرانس کے کچھ شعبوں کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے، جن میں سب سے نمایاں شراب کی صعنت ہے۔

    یاد رہے، فرانسیسی قائد ان شخصیات میں شامل ہیں جنہوں نے تصادم سے بچنے کے لیے بہت کوششیں کیں، کئی بار روسی صدر پیوٹن سے بات چیت کی جبکہ پیوٹن اور امریکی صدر جو بائیڈن کے درمیان سربراہی ملاقات کے لیے بھی کوششیں کرتے رہے ہیں۔

    دوسری طرف یوکرین پر سوار روس نے اب اپنے دیگر پڑوسی ممالک کو صاف صاف لفظوں میں دھمکی دیدی ہے کہ اگر نیٹو کی جانب رکنیت کے لیے نظر اٹھا کر دیکھا تو سنگین فوجی اور سیاسی نتائج بھگتنے کے لیے تیارت ہوجائیں ۔ابھی یوکرین کی جنگ جاری ہے اور دنیا روس کے سامنے بے بس ہے۔ یہاں تک کہ امریکہ یوکرین کا ساتھ دینے کے بجائے ملک کی راجدھانی کیف سے انخلا کا مشورہ دے رہا ہے۔ اسی دوران اب روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے اپنے قریبی ہمسایہ ممالک سویڈن اور فن لینڈ کو دھمکی دی ہے کہ اگر وہ نیٹو میں شامل ہوتے ہیں تو انہیں ‘فوجی نتائج’ بھگتنا پڑیں گے۔

  • یوکرین پر حملہ: میٹا نے  روسی سرکاری میڈیا کے اشتہارات پر پابندی لگا دی

    یوکرین پر حملہ: میٹا نے روسی سرکاری میڈیا کے اشتہارات پر پابندی لگا دی

    میٹا (فیس بک) نے یوکرین پر حملے کی وجہ سے روس کے سرکاری میڈیا کے اشتہارات پر پابندی لگا دی۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق اس ضمن میں فیس بک حکام کا کہنا ہے کہ ہم روس کے سرکاری میڈیا کو دنیا میں ہر جگہ بھی اپنے پلیٹ فارم پر اشتہار چلانے سے روک رہے ہیں فیس بک روسی سرکاری میڈیا پر لیبل لگانا جاری رکھے گا۔

    میٹا حکام کا کہنا تھا کہ لیبل لگانے کا مقصد اس بات کو واضح کرنا ہوگا کہ روس کے سرکاری میڈیا کی طرف سے جاری کیا جانے والا مواد کہاں سے آ رہا ہے۔

    میٹا حکام نے کہا ہے کہ کل روسی حکام نے ہمیں آزادانہ فیکٹ چیکنگ اور چار روسی سرکاری میڈیا اداروں کے مواد پر لیبل لگانے سے روکا۔ جس پر ہم نے یہ احکامات ماننے سے انکار کر دیا۔

    اس سے قبل روسی میڈیا ریگولیٹرزنے میٹا تک رسائی محدود کرنے کا اعلان کیا تھا روس کی جانب سے امریکی کمپنی میٹا پر سنسرشپ اور روسی شہریوں کے حقوق کی خلاف ورزی کا الزام بھی لگایا۔

    واضح رہے کہ روسی فوج نے یوکرین پر حملہ کر دیا ہے روسی فوج یوکرین کی پارلیمنٹ سے محض 9 کلومیٹر کی دوری پر ہیں جب کہ حملے کے پہلے روز ہونے والی ہلاکتیں 137 تک پہنچ گئیں جن میں یوکرین کے فوجی بھی شامل ہیں۔

    حملے کے بعد امریکا برطانیہ سمیت یورپ کے دیگر ممالک نے روس پر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں روس نے امریکی اور یورپی پابندیوں پر سخت ردعمل دینے کا اعلان کیا ہے ،روس کا کہنا ہے کہ امریکی کمپنی اور شخصیات کے خلاف ردعمل کے طور پر پابندیاں لگائیں گے روس نے فرنچ گیانا کے خلائی ایجنسی سے تکنیکی عملہ واپس بلا لیا روس نے یورپ کے ساتھ خلائی مشن بھی معطل کر دیا

    حملے کے بعد یوکرینی صدر نے دنیا سے مدد کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ انہیں مدد فراہم کی جائے اور روس پر پابندیاں عائد کی جائیں، یوکرینی صدر کے بارے میں کہا گیا تھا کہ وہ ملک چھوڑ گئے ہیں تا ہم انہوں نے اپنی ویڈیو شیئر کی اور کہا کہ وہ ملک چھوڑ کر نہیں جا رہے، اب یوکرینی صدر کی ایک ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں یوکرائن کے صدر ولادیمیر زیلنسکی یوکرائن کے فوجیوں کے ساتھ ملٹری بیس پر پرسکون انداز میں کافی پی رہے ہیں سوشل میڈیا صارفین ویڈیو کو وائرل کر رہے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ ان کے اس انداز اور بہادری کی داد دے رہے ہیں-

    یوکرینی صدر کا کہنا ہے کہ فرانسیسی صدر میکرون کے ساتھ بات چیت ہوئی،اتحاد یوں سے دفاعی ہتھیار اور آلات یوکرین پہنچ رہے ہیں، مغربی میڈیا کے مطابق امریکہ اور برطانیہ سمیت 28 ممالک کا یوکرین کو فوجی سازوسامان کی فراہمی پر اتفاق کیا ہے ،یوکرینی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ روسی فوج نے پرامن شہر کیف پر حملے کی کوشش کی ،کیف ایک اور رات روسی افواج کے حملوں سے بچ گیا،دنیا روس کو تنہا کردے ،ان کےسفیروں کو نکال دے کیف میں صبح 6 بجے تک ہونے والی لڑائی میں 35 افراد زخمی ہوئے ہیں-

    یوکرینی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ روسی فوج نے گزشتہ 2دن میں شہریوں کونشانہ بنایا،کیف میں اسپتالوں ،یتیم خانوں اوربچوں کےسینٹرز پر حملے کیے گئے،دنیا سے فیصلہ کن ردعمل کا مطالبہ کرتے ہیں دنیا روسی کارروائیوں پر عملی ردعمل کا مظاہرہ کرے-

  • یوکرینی صدر کی یوکرائن کے فوجیوں کے ساتھ ملٹری بیس پرکافی پیتے ویڈیو وائرل

    یوکرینی صدر کی یوکرائن کے فوجیوں کے ساتھ ملٹری بیس پرکافی پیتے ویڈیو وائرل

    یوکرینی صدر کی یوکرین کے فوجیوں کے ساتھ ملٹری بیس پرکافی پیتے ویڈیو وائرل

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق روس نے یوکرین پر حملہ کیا ہے،

    روس نے امریکی اور یورپی پابندیوں پر سخت ردعمل دینے کا اعلان کیا ہے ،روس کا کہنا ہے کہ امریکی کمپنی اور شخصیات کے خلاف ردعمل کے طور پر پابندیاں لگائیں گے روس نے فرنچ گیانا کے خلائی ایجنسی سے تکنیکی عملہ واپس بلا لیا روس نے یورپ کے ساتھ خلائی مشن بھی معطل کر دیا

    حملے کے بعد یوکرینی صدر نے دنیا سے مدد کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ انہیں مدد فراہم کی جائے اور روس پر پابندیاں عائد کی جائیں، یوکرینی صدر کے بارے میں کہا گیا تھا کہ وہ ملک چھوڑ گئے ہیں تا ہم انہوں نے اپنی ویڈیو شیئر کی اور کہا کہ وہ ملک چھوڑ کر نہیں جا رہے، اب یوکرینی صدر کی ایک ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں یوکرائن کے صدر ولادیمیر زیلنسکی یوکرائن کے فوجیوں کے ساتھ ملٹری بیس پر پرسکون انداز میں کافی پی رہے ہیں سوشل میڈیا صارفین ویڈیو کو وائرل کر رہے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ ان کے اس انداز اور بہادری کی داد دے رہے ہیں

    امریکہ نے بھی یوکرینی صدر کو ملک سے نکلنے کی پیشکش کی جس کو یوکرینی صدر نے مسترد کر دیا اور کہا کہ میں دارالحکومت ہی میں رہوں گا کیونکہ لڑائی یہاں ہو رہی ہے مجھے گولہ بارود کی ضرورت ہے سواری کی نہیں

    یوکرینی صدر کا کہنا ہے کہ فرانسیسی صدر میکرون کے ساتھ بات چیت ہوئی،اتحاد یوں سے دفاعی ہتھیار اور آلات یوکرین پہنچ رہے ہیں، مغربی میڈیا کے مطابق امریکہ اور برطانیہ سمیت 28 ممالک کا یوکرین کو فوجی سازوسامان کی فراہمی پر اتفاق کیا ہے ،یوکرینی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ روسی فوج نے پرامن شہر کیف پر حملے کی کوشش کی ،کیف ایک اور رات روسی افواج کے حملوں سے بچ گیا،دنیا روس کو تنہا کردے ،ان کےسفیروں کو نکال دے کیف میں صبح 6 بجے تک ہونے والی لڑائی میں 35 افراد زخمی ہوئے ہیں

    یوکرینی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ روسی فوج نے گزشتہ 2دن میں شہریوں کونشانہ بنایا،کیف میں اسپتالوں ،یتیم خانوں اوربچوں کےسینٹرز پر حملے کیے گئے،دنیا سے فیصلہ کن ردعمل کا مطالبہ کرتے ہیں دنیا روسی کارروائیوں پر عملی ردعمل کا مظاہرہ کرے،

    ممکن ہے آپ مجھے آخری بار زندہ دیکھ رہے ہوں،ہم آگ میں جھونکنے والا امریکہ مدد کو نہ آیا:یوکرینی صدرکا ویڈیو پیغام

    امریکی صدر جوبائیڈن کا ہنگامی فیصلہ:یوکرین کوفوجی کمک دینے کےلیے 350 ملین ڈالرامداد کا اعلان

     یورپ روس سے جنگ کرنے کےلیےتیار:سخت اقدامات،حالات تیسری عالمی جنگ کی طرف گامزن

    روسی صدر پیوٹن نے یوکرین میں فوجی آپریشن کا حکم دے دیا-

    :یوکرائن میں ایمرجنسی نافذ:سائرن بج گئے:شہریوں کو روس چھوڑنے کا حکم

    برطانیہ آسٹریلیا اور جاپان نے روس پر پابندیاں عائد کرنے کا آغاز کردیا ہ

    پوتن کوملک سے باہر روسی فوج کی تعیناتی:نیٹو کے جنگی طیارے سائرن بجانےلگے:پابندیاں بھی لگ گئیں‌ 

    :روس جنگ کےلیے تیار:ولادی میرپوتن نے ملک سے باہر فوج استعمال کرنے کیلیے قانونی رائے مانگ لی

    یوکرینی وزیردفاع کا فوجیوں کو روس سے جنگ کیلئے تیار رہنےکا حکم،

    پانچ روسی طیارے، ایک ہیلی کاپٹر گرا دیا، یوکرینی وزارت دفاع کا دعویٰ

    کون ہے جو ہمارا ساتھ دے؟ یوکرینی صدر کی دہائی

    روس نے یوکرین کو بات چیت کی مشروط پیشکش کردی

    https://login.baaghitv.com/oittefaq-sabiq-ukarani-sadar-apni-bandoq-ksath-nikla-aayte/

  • امریکی صدرجوبائیڈن کا ہنگامی فیصلہ:یوکرین کوفوجی کمک دینےکےلیے350 ملین ڈالرامداد کا اعلان

    امریکی صدرجوبائیڈن کا ہنگامی فیصلہ:یوکرین کوفوجی کمک دینےکےلیے350 ملین ڈالرامداد کا اعلان

    واشنگٹن :امریکی صدر جوبائیڈن کا ہنگامی فیصلہ:یوکرین کوفوجی کمک دینے کےلیے 350 ملین ڈالرامداد کا اعلان،اطلاعات کے مطابق جوں جوں روسی افواج یوکرین کے اندراپنی فتوحات جاری رکھے ہوئےہیں ایسے ایسے امریکہ اور دیگر نیٹو اتحادیوں کی نیندیں بھی حرام ہوگئی ہیں ، جہاں ایک طرف یوکرین کو جنگ میں جھونکنے والا امریکہ کئی دنوں سے زبانی مدد کا وعدہ کررہا تھا ، وہاں اب امریکہ نے عملی طور پرجنگ میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا ہے ،

    باغی ٹی وی ذرائع کے مطابق ابھی تھوڑی دیر پہلے صدر جو بائیڈن نے وائٹ ہاؤس کے پریس اسٹاف کے ذریعے ایک میمو جاری کیا جس میں انہوں نے کانگریس سے 350 ملین ڈالر کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاہے کہ فوجی امداد بہت ضروری اور فی الفور ملنی چاہیے ۔امریکی صدر کی طرف سے جاری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ پورے مشرقی یورپی ملک میں رات بھر جاری افراتفری کے درمیان وہ یوکرین کو فوری فوجی مدد فراہم کرنے کے خیال پر قائم ہے۔

    صدر جو بائیڈن نے جمعہ کی رات کچھ اس سے پہلے کچھ ایسے بھی فیصلے کیئے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بائیڈن نے تنازعہ میں مداخلت کا فیصلہ کیا لیکن یہ واضح نہیں تھا کہ وہ یوکرین کے ملک کو کس قسم کی فوجی امداد فراہم کرے گا۔ یہ وائٹ ہاؤس کی آفیشل ویب سائٹ پر شائع ہونے والا پورا میمو ہے: "آئین اور ریاستہائے متحدہ امریکہ کے قوانین کے تحت صدر کے طور پر مجھے حاصل کردہ اختیار کی طرف سے،

    یاد رہے کہ پہلے تو جوبائیڈن نے کہا تھا کہ ریاستہائے متحدہ کے فوجی دستے یوکرین کے ملک میں داخل نہیں ہوں گے۔ تاہم رات بھر کی صورتحال اس کے ہاتھ کو مختلف قسم کی فوجی امداد کی پیشکش پر مجبور کر رہی ہےاور یہ امکان ہے کہ امریکی فوج یوکرین کے صدر اور وزیراعظم کی زندگیوں کو بچانے کےلیے کوئی نہ کوئی آپریشن کریں‌، لیکن دوسری طرف امریکہ کو روس کی طرف سے سخت ردعمل کا بھی ڈر ہے،

    یاد رہے کہ کانگریس یوکرین کو فوجی سازوسامان، مواصلاتی آلات اور دوسری قسم کی امداد فراہم کرنے کے لیے ضروری رقم فراہم کر سکتی ہے جس کی یوکرین کو بطور ملک روس کے خلاف اپنے دفاع کے لیے ضرورت ہو سکتی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ولادیمیر پوٹن اس حملے کے خلاف یہ واضح کارروائی کیسے کریں گے جو وہ مسلسل دو دن سے کر رہے ہیں۔

  • میانمار کی فوجی کونسل نے یوکرین پر روسی حملے کی حمایت کر دی

    میانمار کی فوجی کونسل نے یوکرین پر روسی حملے کی حمایت کر دی

    میانمار کی ملٹری نے جمعرات کو یوکرین پر روس کے حملے کی حمایت کا اظہار کرتے ہوئےعالمی برادری کے دھارے سے یکسر مختلف موقف اپنایا ہے۔ عالمی برادری نے یوکرین کے خلاف روسی جارحیت کی نہ صرف مذمت کی ہے ، بلکہ ماسکو کے خلاف سخت پابندیاں عائد کرنے کا اقدام کیا ہے۔

    وائس آف امریکہ کی برمی سروس کو انٹرویو دیتے ہوئے، میانمار کی فوجی کونسل کے ترجمان جنرل زا من تن نے فوجی حکومت کی جانب سے روسی صدر ولادیمیر پوٹن کی حمایت کے اقدام کی وجوہ بیان کی ہیں۔

    بقول ان کے، ”اول یہ کہ روس نے میانمار کی خودمختاری کو مستحکم کرنے میں مدد دی ہے، اسی لیے،میرے خیال میں ہمارے لیے یہی اقدام درست ہے۔ دوئم یہ کہ دنیا کو بتایا جائے کہ روس ایک عالمی طاقت ہے”۔

    فوجی انقلاب کے سربراہ من آنگ ہلینگ نے گزشتہ سال جون میں روس کا دورہ کیا تھا، اور تب سے برما اور روس کی فوج کے مابین مضبوط مراسم قائم ہیں۔ روس اُن چند ملکوں میں سے ایک ہے جس نے یکم فروری 2021ء کے انقلاب کے بعد برما کی ملٹری کونسل کی حمایت کی تھی، اس بغاوت میں ایک سویلین حکومت کا تختہ الٹ کر جمہوریت پسند راہنما آنگ سان سوچی اور دیگر اعلیٰ عہدے داروں کو گرفتار کیا گیا تھا۔

    تب سے، اقوام متحدہ اور برما کے امور پر نظر رکھنے والے ماہرین، ملٹری کونسل کو اسلحہ فروخت کرنے پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ تاہم روس اس مطالبے کو نظرانداز کرتار ہا ہے۔

  • پاکستان کی درخواست قبول،پولینڈ نےبارڈرکراسنگ پوائنٹس       کھول دیے:مدد کونہ پہنچنےکاپراپیگنڈہ دم توڑگیا

    پاکستان کی درخواست قبول،پولینڈ نےبارڈرکراسنگ پوائنٹس کھول دیے:مدد کونہ پہنچنےکاپراپیگنڈہ دم توڑگیا

    اسلام آباد:پاکستان کی درخواست قبول، پولینڈ نے بارڈر کراسنگ پوائنٹس کھول دیے:مدد کونہ پہنچنے کا پراپیگنڈہ دم توڑ گیا ،اطلاعات کے مطابق روس اور یوکرین میں جاری جنگ کے باعث پاکستان کی درخواست پر پولینڈ نے پاکستانیوں کے لیے بارڈر کرانسنگ پوائنٹس کھول دیے۔

    یوکرین میں محصور پاکستانی طلبہ کو نکالنے کی کوششیں تیز ہوگئیں۔ پاکستانی سفارت خانے کی مدد سے 35 طلبہ پولینڈ پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔ خرکیف میں سفارت خانے میں موجود طلبہ کو ٹرین کے ذریعے پولینڈ بھیجا گیا ہے۔ خرکیف میں موجود مزید 65 پاکستانیوں کو کل پولینڈ بھیجا جائے گا۔

    پولینڈ نے ابتدا میں ایک کراسنگ پوائنٹ سے پیدل داخلے کی اجازت دی تھی تاہم اب پاکستان کی درخواست پر 8 بارڈر کراسنگ پوائنٹس کھول دیے گئے ہیں۔

    وزارت خارجہ کی جانب سے بیان میں کہا گیا کہ ملک کا سفارت خانہ 25 فروری 2022 سے ترنوپیل میں مکمل طور پر فعال ہے اور یوکرین میں موجود طلبہ کے انخلا کے لیے فوکل پرسن بھی مقرر کیے گئے ہیں۔

    ترنوپیل میں فوکل پرسن کی تفصیلات یہ ہیں: ڈاکٹر شہزاد نجم (موبائل فون نمبر+380632288874 +380979335992) ۔دارالحکومت کیف میں بھی سفارت خانے کے فوکل پرسن (موبائل فون نمبر +380681734727) پر پاکستانی طلبا کے لیے ہمہ وقت دستیاب ہیں۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ٹرینیں کام کر رہی ہیں اور خارکیو سے لویو/ ترنوپیل تک ٹکٹ دستیاب ہیں۔ جن شہروں میں اس وقت پبلک ٹرانسپورٹ دستیاب نہیں ہے وہاں تمام طلبہ کو بتایا گیا ہے کہ سفارت خانے نے متعلقہ اعزازی تعلیمی مشیر کو طلبا کو ترنوپیل لانے کا کام سونپا گیا ہے۔

    دوسری جانب قومی ایئر لائن کے سی ای او ارشد ملک اور یوکرین میں پاکستانی سفیر کے درمیان رابطہ ہوا جس میں یوکرین میں پھنسے پاکستانی شہریوں کی محفوظ مقام پر منتقلی اور وطن واپسی سے متعلق گفتگو کی گئی۔

    ذرائع کے مطابق تمام پاکستانی طالب علم یوکرین کے شہر ٹرنوہل میں یکجا ہوں گے، ٹرنوہول میں سفارتخانہ زمینی راستے سے پولینڈ تمام طلبا کو منتقل کرے گا۔اس کے بعد پی آئی اے کا بوئنگ 777 طیارہ پولینڈ سے طلبہ کو وطن واپس پہنچائے گا۔

    سی ای او پی آئی اے ارشد ملک کا کہنا ہے کہ طلبہ کے پولینڈ پہنچتے ہی پرواز روانہ کردی جائے گی، ہم وطنوں کو واپس پہنچانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کریں گے۔علاوہ ازیں پاکستانی سفارتخانے کا کہنا ہے کہ پولینڈ نے کورونا پاندیاں معطل کردی ہیں، پاکستانی شہری 15 روز میں پولینڈ میں داخل ہوسکتے ہیں۔

    ادھر ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان میں یوکرین میں پھنسے پاکستانیوں کی مدد کو نہ پہنچنے کےحوالے سے بعض ریاست مخالف میڈیا چینلز کی خبریں دم توڑ گئی ہیں ، حکومت پاکستان مسلسل رابطے میں ہے اور تمام پاکستانیوں کی بحفاظت واپسی کے لیے کوشاں ہیں