Baaghi TV

Tag: روس

  • ‏روس نے علیحدگی پسندوں کے قبضے میں موجود علاقوں کو تسلیم کرلیا،ڈوناسٹک میں جشن کا سماں

    ‏روس نے علیحدگی پسندوں کے قبضے میں موجود علاقوں کو تسلیم کرلیا،ڈوناسٹک میں جشن کا سماں

    روس اور یوکرین کے درمیان ہر گزرتے دن کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ ہوتا جارہا ہے اور اب روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے مشرقی یوکرین کے دو علیحدگی پسند علاقوں کو آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کے انتظامی آرڈر پر دستخط کردیے ہیں۔

    باغی ٹی وی :اس حوالے سے پیوٹن نے قوم سے تقریباً آدھے گھنٹے سے زیادہ طویل خطاب کیاجس میں انہوں نے سوویت یونین ٹوٹنے، یوکرین کے معاملات، نیٹو اور امریکا کے اقدامات پر تفصیل سے بات کی۔

    آخر میں پیوٹن نے اعلان کیا کہ انہوں نے یوکرین کے دو علاقوں کو آزاد ریاستوں کے طور پر تسلیم کرنے کے حکم نامے پر دستخط کردیے ہیں اور روسی پارلیمنٹ سے کہا ہے کہ وہ جلد از جلد اس کی توثیق کرے۔

    پیوٹن نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ ’مجھے امید ہے کہ روسی عوام کی حمایت حاصل ہوگی-
    https://twitter.com/RT_com/status/1495852705792905222?s=20&t=rUqyYDefT5D_3jdtx2tInQ
    اطلاعات کے مطابق دوسری جانب روسی صدر کی جانب سے خطے کی آزادی کو تسلیم کرنے کے حکم نامے پر دستخط کرنے کے بعد ڈوناسٹک میں جشن کا سماں ہے شہریوں کی جانب سے آتش بازی کر کے جشن منایا جا ہا ہے-


    قبل ازیں پوٹن نے کہا تھا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ یوکرین فوج اور روس نواز باغیوں کے درمیان بیلاروس میں 2015 کو طے پانے والے معاہدہ اب تنازع کے حل کے لیے قابل عمل رہا ہے یہ معاہدہ فرانس اور جرمنی کی موجودگی میں یوکرین نے طے کیا تھا جو اب تک مؤثر ثابت نہیں ہوسکا ہے اور ان حالات میں اس کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہی ہے۔

    روس نے یوکرینی شہریوں کی ایک لسٹ تیار کر رکھی ہے جنہیں قتل یا جیلوں میں بھیجا جائے گا ،امریکا

    صدر ولادیمیر پوٹن نے مغربی ممالک کو خبردار کیا تھا کہ یوکرین کے تنازع کو جواز بناکر روس کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کی کوشش نہ کریں بصورت دیگر اپنا دفاع کا حق رکھتے ہیں وہ یوکرین سے علیحدگی کا اعلان کرنے والی دو ریاستوں لوہانسک اور ڈوناسٹک کو تسلیم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور سلسلے میں صلاح مشورے جاری ہیں اس حوالے سے صدر پیوٹن نے سب سے پہلے اپنی سیکیورٹی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے عندیہ دیا تھا۔

    صدر ولادیمیر پوٹن نے واضح طور پر کہا تھا کہ یوکرین روسی تاریخ کا ایک لازمی باب ہے روس کے صدر ولادیمیر پوٹن نے مشرقی یوکرین کو قدیم روسی سرزمین قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ماڈرن یوکرین روس نے تخلیق کیا ہے۔

    صدر ولادیمیر پوٹن نے کہا تھا کہ سوویت ریاستوں کو یونین سے نکلنے دنیا بھی پاگل پن تھا یو ایس ایس آر کا خاتمہ کمیونسٹوں کے ضمیر پر بوجھ ہے روسی صدر نے یہ سب باتیں ایک ایسے وقت میں کیں کہ جب روس اوریوکرین کے درمیان موجود تنازع مزید شدت اختیار کرچکا ہے اور پوری دنیا کی نگاہوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔

    یوکرین تنازعہ:روس کی جوہری جنگی مشقیں:امریکہ اور اتحادی بھی تیار:چین بھی ہوشیار

    رپورٹس کے مطابق کریملن کی جانب سے بنا کسی جھجک کے دونوں مغربی ممالک کو بتایا گیا تھا کہ اس حوالے سے بہت انتظامی احکامات پر دستخط بھی کردیے جائیں گے اس ضمن میں کریملن کا یہ بھی کہناتھا کہ جرمنی اور فرانس نے یہ جاننے کے بعد مایوسی کا اظہار کیا ہے۔


    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق روس کے عزائم آشکار ہونے کے بعد یوکرین کے صدر نے ہنگامی بنیادوں پر قومی سلامتی کونسل کا اجلاس بھی طلب کرلیا ہےیورپی یونین نے اس حوالے سے ایک مرتبہ پھر واضح کیا ہے کہ اگر روس نے مشرقی یوکرین کی علیحدگی پسند ریاستوں کو تسلیم کیا اور یا ان کے ساتھ الحاق کرنے کی کوشش کی تو معاشی پابندیاں عائد کردی جائیں گی۔

    یوکرین تنازع،فرانسیسی صدر کا روسی صدر سے رابطہ،اہم پیشرفت

    واضح رہے کہ روس نواز باغیوں نے یوکرین کے مشرقی علاقے کی دو ریاستوں پر قبضہ کرکے اپنی حکومت قائم کرنے کا اعلان کیا اور وہاں سے بزرگوں، خواتین اور بچوں کو جنگ کے خطرے کے پیش نظر ماسکو منتقل کر رہے تھےروس اگر علیحدگی پسند علاقوں کو آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کر لیتا ہے تو اس کے نتیجے میں اس کے فوجی دستے ان علاقوں میں داخل ہوسکیں گے لیکن نتیجتاً سفارتی دروازوں کی بندش طویل ہو جائے گی اور جنگ کا امکان بہت زیادہ بڑھ جائے گا۔

    براہِ راست ٹی وی شو کے دوران صحافی نے روس نواز سیاستدان پر حملہ کر دیا

  • روس نے یوکرینی شہریوں کی ایک لسٹ تیار کر رکھی ہے جنہیں قتل یا جیلوں میں بھیجا جائے گا ،امریکا

    روس نے یوکرینی شہریوں کی ایک لسٹ تیار کر رکھی ہے جنہیں قتل یا جیلوں میں بھیجا جائے گا ،امریکا

    امریکی حکومت نے اقوام متحدہ کو ایک خط میں خبردار کیا ہے کہ روسی حکومت نے یوکرین پر حملے کی صورت میں یوکرینی شہریوں کی ایک لسٹ تیار کر رکھی ہے جنہیں قتل یا جیلوں میں بھیجا جائے گا۔

    باغی ٹی وی : عالمی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق واشنگٹن نے اقوام متحدہ کو لکھے گئے خط میں یوکرین کی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور آنے والے دنوں میں ممکنہ انسانی حقوق بحران سے خبردار کیا۔

    یوکرین تنازعہ:روس کی جوہری جنگی مشقیں:امریکہ اور اتحادی بھی تیار:چین بھی ہوشیار

    امریکی حکومت کی جانب سے اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق مشیل باچلیٹ کے نام لکھے جانے والے خط میں کہا گیا کہ امریکا کے پاس مصدقہ معلومات ہیں کہ روسی فورسز فوجی قبضے کے بعد مزاحمت کرنے والے یوکرینی باشندوں کو قتل اور گرفتار کرنے کے لئے ناموں کی فہرستیں تیار کر رہے ہیں۔

    امریکی حکومت کی جانب سے خط میں لکھا گیا کہ ہمارے پاس مصدقہ معلومات ہیں کہ روسی فورسز پر امن مظاہروں کو ختم کرنے کے لئے طاقت کا استعمال کریں گے۔

    امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے انٹیلی جنس رپورٹوں کے حوالے سے بتایا ہے کہ یوکرین پر حملے کی صورت میں روسی صدر ولادیمیر پوٹن بیلا روس میں موجود ہوں گے۔

    یوکرین تنازع،فرانسیسی صدر کا روسی صدر سے رابطہ،اہم پیشرفت

    ادھر اس حوالے سے امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے بتایا ہے کہ بیلا روس اپنی سرزمین پر روسی جوہری میزائلوں کے تعینات کیے جانے کی اجازت دینے پر غور کر رہا ہے۔

    روس نے اتوار کے روز یوکرین کی شمالی سرحد کے نزدیک فوجی تربیتی مشقوں کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔ ان مشقوں کے دوران میں روسی افواج کا ایک بڑا مجموعہ پڑوسی ملک بیلا روس منتقل ہو گیا شمال میں بیلا روس کی سرحد یوکرین سے ملتی ہے۔

    بیلا روس میں روسی افواج کی موجودگی سے یہ خدشات پیدا ہو گئے ہیں کہ ان افواج کو 3 گھنٹوں سے بھی کم وقت میں یوکرین کے دارالحکومت کیف پر حملے کے واسطے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ کیف کی آبادی 30 لاکھ نفوس پر مشتمل ہے۔

    براہِ راست ٹی وی شو کے دوران صحافی نے روس نواز سیاستدان پر حملہ کر دیا

    امریکا اور اس کے یورپی اتحادیوں کے مطابق روس نے یوکرین کی سرحد کے ساتھ ڈیڑھ لاکھ فوجیوں کو تعینات کر رکھا ہے روس نے ہفتے کے روز بیلا روس میں روایتی مشقوں کے ساتھ جوہری تربیتی مشقوں کا بھی اجرا کیا۔ علاوہ ازیں سمندری مشقیں بحیرہ اسود کے ساحلوں کے نزدیک انجام دی جا رہی ہیں۔

    جبکہ ماسکو نے ہمسایہ ملک پر ممکنہ حملے کے منصوبے سے انکار کیا ہے مگر یوکرین سے یہ گارنٹی طلب کی ہے کہ وہ نیٹو میں شمولیت اختیار نہیں کرے گا اور مشرقی یورپ سے نیٹو کی افواج کو ہٹا لیا جائے گا ان مطالبات کو مغربی اتحاد نےمسترد کر دیا ہے-

    روس مشکل میں پھنس کر رہ گیا :جوبائیڈن نے یوکرائن کشیدگی پر مغربی رہنماؤں کے ساتھ…

  • یوکرین تنازع،فرانسیسی صدر کا روسی صدر سے رابطہ،اہم پیشرفت

    یوکرین تنازع،فرانسیسی صدر کا روسی صدر سے رابطہ،اہم پیشرفت

    یوکرین تنازع،فرانسیسی صدر کا روسی صدر سے رابطہ،اہم پیشرفت

    امریکہ نے اقوام متحدہ کو مطلع کیا ہے کہ اگر روس یوکرین پر حملہ کرتا ہے تو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے امکانات کی اطلاعات ہیں

    واشنگٹن کا کہنا ہے کہ یوکرین میں اغوا اور تشدد کی کاروائیوں میں اضافہ ہوسکتا ہے، روس کی ہنگامی صورتحال کی وزارت کا کہنا ہے کہ مشرقی یوکرین میں خود ساختہ ڈونیٹسک اور لوہانسک عوامی جمہوریہ سے 60 ہزار سے زیادہ پناہ گزین گذشتہ ہفتے حکام کی طرف سے جاری کردہ انخلاء کے احکامات کے بعد روس میں داخل ہوئے ہیں

    ترجمان کریملن کا کہنا ہے کہ امریکی روسی صدور کی ملاقات کا ٹھوس منصوبہ نہیں .ترجمان نے کہا ہے کہ یوکرین کے معاملے پر بائیڈن پیوٹن ملاقات سے متعلق کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔ امریکی اور روسی صدور ضرورت پڑنے پر کال یا ملاقات کرنے کا فیصلہ کر سکتے ہیںانہوں نے کہا ہے کہ یوکرین کے معاملے پر سفارتی رابطے فعال ہیں۔ رواں ہفتے روسی اور امریکی وزرائے خارجہ کے درمیان ملاقات کاامکان ہے

    اس سے پہلے امریکی پریس سکریٹری جین ساکی نے بیان میں کہا ہے کہ امریکہ حملہ نہ ہونے تک سفارت کاری کو آگے بڑھانے کے لیے پرعزم ہے۔ صدر جوبائیڈن نے اصولی طور پر صدر پیوٹن کے ساتھ ملاقات کو قبول کیا ہے لیکن اگر حملہ ہوتا ہے تو روس کو بہت جلد سنگین مسائل کا سامنا کرنا ہوگا

    یوکرین تنازع بات چیت سے حل ہونے کی طرف اہم پیش رفت ہو گئی ہے ،امریکہ اور روس، یوکرین کے معاملہ پر سمٹ کے انعقاد پر متفق ہوگئے ہیں جس کی تصدیق وائٹ ہاوس کی جانب سے کی گئی ہے امریکی پریس سکریٹری جین ساکی نے بیان میں کہا ہے کہ امریکہ حملہ نہ ہونے تک سفارت کاری کو آگے بڑھانے کے لیے پرعزم ہے صدر جوبائیڈن نے اصولی طور پر صدر پیوٹن کے ساتھ ملاقات کو قبول کیا ہے لیکن اگر حملہ ہوتا ہے تو روس کو بہت جلد سنگین مسائل کا سامنا کرنا ہوگا

    عالمی میڈیا کے مطابق یوکرین سمٹ کی تجاویز روس، امریکہ اور فرانس کے اعلی سفارت کار مرتب کریں گے، فرانسیسی صدر کا روسی صدر کے درمیان طویل ٹیلی فونک رابطہ بھی ہوا جس میں دونوں صدرور کے درمیان 2 گھنٹے تک گفتگو ہوئی۔

    امریکی صدر جوبائیڈن کی نیشنل سیکیورٹی کونسل کے ساتھ بھی اہم میٹنگ ہوئی جس میں روس کی جانب سے یوکرین کی سرحد پر فوج کی تعیناتی پر غور کیا گیا قبل ازیں روس یوکرین کشیدگی پر ماسکو میں امریکی سفارتخانے نے اعلامیہ جاری کر دیا ہے امریکی سفارتخانے کی طرف سے اپنے شہریوں کو روس میں حملوں سے متعلق وارننگ دی گئی ہے، یوکرین سرحد کے ساتھ روس کے شہریوں علاقوں میں حملہ کا خدشہ ہے،ا مریکی سفارتخانہ کا کہنا ہے کہ شاپنگ سینٹرز، ریلوے اور میٹرو اسٹیشنز پر بھی حملے ہوسکتے ہیں،ماسکو اور سینٹ پیٹر زبرگ میں حملوں کو خطرہ ہے۔

    قبل ازیں برطانوی وزیراعظم بورس جانسن سفارتکاری کے ذریعے یوکرین بحران میں کمی کے لیے متحرک ہوگئے ہیں، ترجمان برطانوی وزیراعظم کا کہنا ہے کہ بورس جانسن اتحادیوں سے مل کر کشیدگی میں کمی کی کوشش کریں گے، یوکرین پر حملہ خود روس کے لیے بھی تباہ کن ہوگا

    روس اور یوکرین کے درمیان کشیدگی میں اضافہ

    ہ برطانیہ سمیت کئی دوسرے ممالک نے بھی اپنے شہریوں کو وہاں سے نکل جانے کی اپیل

    امریکی صدر جوبائیڈن سے جرمن چانسلر اولاف شُولس کی وائٹ ہاوس میں ملاقات

    وس نے یوکرین پر حملے کی 70 فیصد تیاری مکمل کرلی

    بھارت مکاری کا شہنشاہ:مفاد پرمبنی پالیسیاں:چین کے خلاف امریکہ کا اتحادی:یوکرین پرامریکہ کا مخالف

    یوکرینی شہریوں نے جنگی مشقوں کا آغاز کر دیا

  • یوکرین تنازعہ:روس کی جوہری جنگی مشقیں:امریکہ اور اتحادی بھی تیار:چین بھی ہوشیار

    یوکرین تنازعہ:روس کی جوہری جنگی مشقیں:امریکہ اور اتحادی بھی تیار:چین بھی ہوشیار

    میونخ:یوکرین تنازعہ:روس کی جوہری جنگی مشقیں:امریکہ اور اتحادی بھی تیار:چین بھی ہوشیار،اطلاعات کے مطابق ایک طرف روس نے امریکہ ، نیٹو اور دیگراتحادیوں کو جوہری جنگی مشقیں شروع کرکے ایک وارننگ دی ہے تو دوسری طرف امریکہ ، نیٹو اور دیگر اتحادی بھی مقابلے کے لیے تیار نظرآتےہیں ، ادھر اسی اثنا میں جرمنی میں جاری میونخ سکیورٹی کانفرنس میں امریکا اور نیٹو اتحادیوں نے روس کو اشتعال انگیزی کاذمہ دار قرار دے دیا، غیر معمولی پابندیوں کی دھمکی بھی دے ڈالی، چین نے روس کے موقف کی حمایت کرتے ہوئے ماسکو کے خدشات کو دور کرنے پر زور دیا۔

    جرمنی میں میونخ سکیورٹی کانفرنس جاری، یوکرین کا معاملہ زیر بحث آیا تو یوکرین کے صدر کا کہنا تھا کہ کیف ماسکو کے خلاف یورپ کی ڈھال ہے،یوکرین نے8 سال سے دنیا کی بڑی فوج کو روک رکھا ہے، روس کے ہرقسم کے اقدام کے لئے بھرپور تیار ہیں۔

    نیٹو کے جنرل سیکرٹری کا کہنا تھا کہ روس مشرقی یورپ میں نیٹو افواج کی کمی چاہتا ہے مگر اس اشتعال انگیزی سے نیٹو افواج کی تعداد میں اضافہ ہو گا۔ امریکی نائب صدر کملا ہیرس نے کہا کہ حملے کی صورت میں صرف معاشی پابندیاں ہی نہیں لگیں گی بلکہ نیٹو کے مشرقی دفاع کو مزید مستحکم کیا جائے گا۔

    چینی وزیر خارجہ نے امریکا اور یورپی ممالک کو تنقید کا نشانہ بنایا، میونخ کانفرنس سے ویڈیو لنک کے ذریعہ خطاب میں کہا کہ امریکا اور مغربی ممالک روس کے خدشات کا احترام کریں، کیا نیٹو کے مشرق کی جانب پھیلاؤ سے یورپ میں امن قائم ہو جائے گا۔

    یوکرین کو مشرق اور مغرب کے درمیان پل کا کام کرنا چاہیے، محاذ کا نہیں میونخ سیکورٹی کانفرنس کی سائڈ لائنز میں جی سیون کے وزرائے خارجہ کا اجلاس بھی ہوا۔

    یوکرین کی مشرقی چیک پوسٹ پر روسی حمایت یافتہ علیحدگی پسندوں کی شیلنگ کے بعدحالات مزید کشیدہ ہوگئے، درجنوں راکٹ یوکرینی وزیر داخلہ کے فرنٹ لائن کے دورے کے دوران سو میٹر کی حدود میں گرے۔ روس نے جوہری جنگی مشقوں کا باقاعدہ آغاز کر دیا، روسی فضائیہ نے جنگی طیاروں سے ہائپر سانک کروز میزائل ہدف پر داغے، وزارت دفاع نے بیلسٹک میزائل بھی فائر کرنے کی ویڈیو جاری کردی۔

    جرمنی اور فرانس نے ہنگامی بنیادوں پر اپنے شہریوں کو یوکرین چھوڑنے کا کہہ دیا، جرمن ایئر لائن لفتھانسا نے یوکرین کے دارالحکومت کیف اور اوڈیسا کے لئے پروازیں منسوخ کر دیں۔

  • یوکرائن بحران:روس  نے جوہری مشقوں کا آغاز کر دیا:دنیا کی جان خطرے میں

    یوکرائن بحران:روس نے جوہری مشقوں کا آغاز کر دیا:دنیا کی جان خطرے میں

    ماسکو:یوکرائن بحران:روس نے جوہری مشقوں کا آغاز کر دیا:دنیا کی جان خطرے میں ،اطلاعات کے مطابق روس نے آج سے جوہری حملے کی صلاحیت کے حامل بیلسٹک اور کروز میزائلوں کے تجربات شروع کر دیے جبکہ ایک ہائپرسونک میزائل کی بھی تجرباتی لانچنگ کی گئی ہے۔

    ایک ایسے وقت جب مغربی ممالک کی جانب سے روس کو مسلسل خبردار کیا جا رہا ہے کہ وہ یوکرائن پر کسی بھی جارحیت سے باز رہے، روس نے جوہری میزائلوں کے تجربات کا آغاز کر دیا ہے۔

    میونخ میں جاری سکیورٹی کانفرنس سے خطاب میں امریکی نائب صدر کملا ہیرس نے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ اگر روسی فوج کسی بھی قسم کی پیش قدمی کرتی ہے تو نیٹو کی جانب سے مشرقی یورپ میں فوجی موجودگی بڑھا دی جائے گی اور روس پر سخت ترین پابندیاں عائد کر دی جائیں گی۔

    کملا ہیرس کا کہنا تھا کہ قومی سرحدیں طاقت کے زور پر کسی بھی صورت تبدیل نہیں ہونا چاہئیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے اقتصادی سطح پر اقدامات کی تیاری کرلی ہے جو فوری، شدید اور منظم ہوں گے۔ ان میں روس کے مالیاتی اداروں اور کلیدی صنعتوں کو ہدف بنایا جائے گا۔

    صدر ولادیمیر پیوٹن نے آج صدارتی محل کریملن سے روسی جوہری میزائلوں کی تجرباتی فوجی مشق کا آغاز کیا۔ اس موقع پر بیلاروس کے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو بھی صدر پیوٹن کے ہمراہ موجود تھے۔

    ماسکو حکومت کے مطابق روسی فوج نے بیلسٹک اور کروز میزائل داغے جبکہ ایک ہائپرسونک میزائل کا کامیاب تجربہ بھی کیا گیا۔ حکومتی ترجمان دیمیتری پیسکوف نے جوہری مشقوں کے آغاز کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ان کا مقصد اسٹریٹجک جوہری ہتھیاروں کے حوالے سے روسی تیاری کو جانچنا ہے۔

    اُدھر میونخ سکیورٹی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جرمن چانسلر اولاف شولز نے کہا کہ نیٹو میں یوکرائن کی شمولیت ایجنڈے پر بھی نہیں لیکن روس اسے ایک اہم مسئلے کے طور پر ہوا دے رہا ہے، اس کے باوجود مغربی ممالک نے روس کے ساتھ سکیورٹی مطالبات کے حوالے سے بات چیت پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

  • روس مشکل میں پھنس کر رہ گیا :جوبائیڈن نے یوکرائن کشیدگی پر مغربی رہنماؤں کے ساتھ رابطے تیز کردیے

    روس مشکل میں پھنس کر رہ گیا :جوبائیڈن نے یوکرائن کشیدگی پر مغربی رہنماؤں کے ساتھ رابطے تیز کردیے

    واشنگٹن :روس اس وقت سخت مشکل میں ہے اگر حملہ کرتا ہے تو پھر نقصان اور اگر پسپائی اختیار کرتا ہے تو پھر نقصان ، اس دوران امریکہ نے اپنے اتحادیوں کی مدد سے روس کو نقصان پہنچانے کے لیے لابنگ شروع کردی ہے ، اس سلسلے میں‌ امریکی صدر جوبائیڈن نے یوکرائن کشیدگی پر مغربی رہنماؤں کے ساتھ رابطے تیز کردیئے ہیں جبکہ جوزف بائیڈن کا کہنا ہے کہ روسی حمایت یافتہ یوکرینی باغی اشتعال انگیزی پھیلا رہے ہیں’روسی سازشوں کے باوجود امریکی اتحادی متحد ہیں۔

    بین الاقوامی میڈیا کے مطابق جوبائیڈن کا کینیڈا، فرانس، برطانیہ، جرمنی، اٹلی، پولینڈ، رومانیہ اور یورپی کمیشن کے رہنماؤں کے ساتھ ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے، مغربی رہنماؤں نے یوکرائنی سرحد پر روسی فوج کی تعیناتی پر تشویش کا اظہار کیا۔مغربی رہنماؤں نے دعویٰ کیا کہ یوکرائن کی سرحد پر روسی افواج کی تعداد ایک لاکھ 90 ہزار تک پہنچ گئی، مغربی رہنماؤں نے یوکرائن کے تحفظ اور سفارت کاری کو جاری رکھنے کا عزم دہرایا۔

    دوسری جانب امریکی صدر جو بائیڈن نے دعویٰ کیا ہے کہ روس چند روز میں یوکرین پر حملہ کرسکتاہے۔ جوبائیڈن نے کہا کہ روسی حمایت یافتہ یوکرینی باغی اشتعال انگیزی پھیلا رہے ہیں، روسی حملے کی وجوہات کو ختم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ روسی سازشوں کے باوجود امریکی اتحادی متحد ہیں۔اس کے علاوہ امریکی صدر نے روسی فوجیوں کے یوکرینی سرحد کے قریب ترپہنچنے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔

    امریکاکا دعویٰ ہے کہ یوکرینی سرحدکے قریب روسی فوجیوں کی تعداد ایک لاکھ 90 ہزار تک جاپہنچی ہے تاہم برطانوی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ ڈان یسک اور لوہانسک میں روس نواز سربراہوں نے بوڑھوں، بچوں اور خواتین سمیت 70 ہزار افرادکو علاقے خالی کرنے کی بھی ہدایت کردی ہے۔ ڈینسک میں ڈینبیس سکیورٹی سربراہ کی گاڑی میں دھماکا کیا گیا اور گیس پائپ لائن کوبھی تباہ کردیاگیا۔روس کے حمایت یافتہ گروپ نے یوکرینی فوج کوواقعہ کا ذمہ دارقرار دے دیا۔

  • روس آئندہ کچھ دنوں میں یوکرین پر حملہ کر سکتا ہے،امریکی صدر

    روس آئندہ کچھ دنوں میں یوکرین پر حملہ کر سکتا ہے،امریکی صدر

    امریکی صدر جوبائیڈن نے ایک بار پھر روس کی جانب سے یوکرین پر حملہ کیے جانے کی پیش گوئی کر دی۔

    باغی ٹی وی : غیرملکی میڈیا کے مطابق امریکی صدرجو بائیڈن کا کہنا ہے کہ روس آئندہ کچھ دنوں میں یوکرین پر حملہ کر سکتا ہے مجھے یقین ہے کہ روس نے یوکرین پر حملہ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے روس نے فوج کو یوکرین سرحد سے واپس نہیں بلایا ۔اس لیے حملے کا خطرہ ہے روس جنگ کا بہانہ چاہتا ہے اور فالس فلیگ آپریشن کی تیاری میں مصروف ہے۔

    روس یوکرین میں فالس فلیگ آپریشن کی تیاری کررہا ہے، امریکا

    روس یوکرین کشیدگی سے متعلق بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ روسی حمایت یافتہ یوکرینی باغی اشتعال انگیزی پھیلا رہے ہیں امریکی اتحادی روس کی تقسیم کرنے کی کوشش کے باوجود متحد ہیں گزشتہ دنوں روس کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیاں رپورٹ ہوئیں۔یوکرین پر روس کے حملے کی وجوہات کو ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں مسئلے کے حل کے لیے سفارتکاری کا امکان ہمیشہ موجود رہتا ہے-

    دوسری جانب میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا کہ مشرقی یوکرین کی کشیدہ سرحد جمعرات کو شدید گولہ باری کی زد میں آ گئی جنگ بندی کی نگرانی کرنے والے ڈرون اس وقت بھٹک گئے جب جی پی ایس سگنلز جام ہو گئے اور موبائل فون نیٹ ورک گر گئےبین الاقوامی نگرانوں کے ایک گروپ نے ایک ایسے علاقے میں امن برقرار رکھنے کا کام سونپا ہے جہاں روسی حمایت یافتہ علیحدگی پسند برسوں سے یوکرینی فوجیوں کے خلاف لڑ رہے ہیں۔

    روسی طیارے امریکی جنگی طیاروں کےقریب کیوں آئے؟:روس کونتائج سے آگاہ رہنا…

    جمعرات کو 24 گھنٹے میں 300 سے زیادہ دھماکے ہوئے یہ تعداد پچھلے مہینے کے مقابلے میں تقریباً چار گنا زیادہ ہے دوسری جانب پوری دنیا یوکرین کی سرحد کے قریب روسی فوجیوں کے جمع ہونے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

    دریں اثنا، مغرب میں حکام نے خبردار کیا ہے کہ شورش زدہ مشرقی جانب سے چنگاریاں بھڑک سکتی ہیں حالیہ ہفتوں میں، امریکہ نے کہا ہے کہ تصادم روس کو سرحد پار کرنے کا بہانہ دے سکتا ہے جمعرات کو اسٹینٹسیا لوشنکا گاؤں میں گولہ باری کی گئی۔

    روس بچ کےنہ جائے”نیٹو اتحاد کا اہم اعلان:روس بھی پریشان

    یوکرین کے ایک فوجی کمانڈر نے بتایا کہ حملے میں تین افراد زخمی ہوئے اور آدھے گاؤں کی بجلی کی سپلائی منقطع ہو گئی۔ ایک گیند کنڈرگارٹن میں گر گئی، دیوار میں سوراخ ہو گیا ایک اور گولے نے اسکول کے احاطے کو تباہ کر دیا اور قریبی گھروں کی کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔ اسکول کی ڈائریکٹر اولینا یاریانہ نے کہا کہ ہم نے شیشہ ٹوٹنے کی آواز سنی جس سے بچے خوفزدہ ہوگئے اور کچھ بچے فوراً رونے لگے۔

    روس کی طرف سے یوکرین پر حملے کا اب بھی امکان ہے:جوبائیڈن نے پھردھمکی دے دی

  • روس یوکرین میں فالس فلیگ آپریشن کی تیاری کررہا ہے، امریکا

    روس یوکرین میں فالس فلیگ آپریشن کی تیاری کررہا ہے، امریکا

    واشنگٹن:روس یوکرین میں فالس فلیگ آپریشن کی تیاری کررہا ہے، وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری جین ساکی کا پریس بریفنگ میں کہنا تھا کہ روس ایسا ماحول بنا رہا ہے کہ کسی بھی وجہ کوبنیاد بنا کریوکرین میں حارجیت کرسکے۔یہ وہی حکمت عملی ہے جوروس نے 2014 میں کریمیا میں اختیار کی تھی۔

    امریکی حکام کے مطابق روس مشرقی یوکرین میں فالس فلیگ آپریشن کے لئے پہلے ہی اپنے گروپ تعینات کرچکا ہے۔ان گروپس کو شہری علاقوں میں کارروائیوں کی خصوصی تربیت دی گئی ہے اور یہ دھماکہ خیز مواد سے روس کی اپنی پروکسی فورسز کونشانہ بنائیں گے تاکہ بدامنی اورافراتفری پھیل سکے۔

    ادھر آج امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا کہ اب ایسے اشارے مل رہے ہیں کہ روس یوکرین پر حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے، جس میں یہ شواہد بھی شامل ہیں کہ ماسکو اسے جواز فراہم کرنے کے لیے جھوٹے فلیگ آپریشن کر رہا ہے، جب کہ یوکرین کی افواج اور ماسکو کے حامی باغیوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔

    یہ بھی قیاس کیا جارہاہے کہ روس کی طرف سے سینیئر امریکی سفارتکار کو ماسکوسے نکل جانے کا مطلب یہ واضح اشارے ہیں کہ روس اس وقت کچھ کرنے کی طرف جارہا ہے

    یوکرین اور روس نواز علیحدگی پسندوں کے درمیان صبح سویرے فائرنگ کے تبادلے نے خطرے کی گھنٹی بجا دی، مغربی حکام جنہوں نے طویل عرصے سے متنبہ کیا ہے کہ ماسکو حملے کا بہانہ بنانے کی کوشش کر سکتا ہے اور ان کا خیال ہے کہ اب ایسا منظر نامہ سامنے آ رہا ہے۔

    بائیڈن نے وائٹ ہاؤس سے روانہ ہوتے ہوئے نامہ نگاروں کو بتایا کہ "ہمارے پاس یہ ماننے کی وجہ ہے کہ وہ اندر جانے کا بہانہ بنانے کے لیے جھوٹے فلیگ آپریشن میں مصروف ہیں۔ ہمارے پاس ہر اشارہ یہ ہے کہ وہ یوکرین میں جا کر یوکرین پر حملہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔”

    بائیڈن نے سکریٹری آف اسٹیٹ انٹونی بلنکن کو حکم دیا کہ وہ یوکرین پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں بات کرنے کے لیے آخری لمحات میں اپنا سفری منصوبہ تبدیل کریں۔

    اقوام متحدہ میں امریکی سفیر لنڈا تھامس گرین فیلڈ نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ "زمینی ثبوت یہ ہے کہ روس ایک آسنن حملے کی طرف بڑھ رہا ہے۔ یہ ایک اہم لمحہ ہے۔”

    روس نے اپنے پڑوسی پر حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ اس ہفتے وہ سرحد کے قریب موجود 100,000 سے زیادہ فوجیوں میں سے کچھ کو واپس بلا رہا ہے۔ واشنگٹن کا کہنا ہے کہ روس انخلاء نہیں کر رہا بلکہ درحقیقت مزید افواج بھیج رہا ہے۔

    برسلز میں نیٹو کے ہیڈ کوارٹر میں وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے کہا کہ "ہم انہیں زیادہ جنگی اور معاون طیاروں میں پرواز کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ ہم انہیں بحیرہ اسود میں اپنی تیاری کو تیز کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔” یہاں تک کہ ہم انہیں اپنے خون کا ذخیرہ کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔

    ایک ریٹائرڈ آرمی جنرل، آسٹن نے کہا، "میں خود ایک سپاہی تھا اتنا عرصہ پہلے نہیں۔ میں خود جانتا ہوں کہ آپ اس قسم کی باتیں بلا وجہ نہیں کرتے۔ "اور اگر آپ پیک کرنے اور گھر جانے کے لیے تیار ہو رہے ہیں تو آپ یقینی طور پر ایسا نہیں کریں گے۔”

    یوکرین اور روس نواز باغیوں نے ڈان باس کے علیحدگی پسند علاقے میں محاذ پر گولہ باری کے متضاد بیانات دیے۔ تفصیلات آزادانہ طور پر قائم نہیں کی جا سکتی ہیں، لیکن دونوں اطراف کی رپورٹوں نے علاقے میں باقاعدگی سے اطلاع دی جانے والی جنگ بندی کی خلاف ورزیوں سے کہیں زیادہ سنگین واقعہ تجویز کیا ہے۔

    کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا کہ ماسکو کو کشیدگی میں اضافے کی اطلاعات پر "سنگین تشویش” ہے۔ روس طویل عرصے سے کیف پر باغیوں کے علاقے پر طاقت کے ذریعے قبضہ کرنے کے بہانے کشیدگی کو ہوا دینے کی منصوبہ بندی کا الزام لگاتا رہا ہے، جس کی یوکرین تردید کرتا ہے۔

    برطانیہ کی خارجہ سکریٹری لز ٹرس نے فرنٹ لائن پر بدامنی کو "روسی حکومت کی طرف سے حملے کے بہانے گھڑنے کی ایک کھلی کوشش” قرار دیا۔

    یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا کہ روس نواز فورسز نے ایک کنڈرگارٹن پر گولہ باری کی، جسے انہوں نے "بڑی اشتعال انگیزی” قرار دیا۔ یوکرین کی پولیس کی جانب سے جاری کردہ ویڈیو فوٹیج میں ایک کمرے میں اینٹوں کی دیوار سے سوراخ کرتے ہوئے ملبے اور بچوں کے کھلونوں سے بکھرے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

    علیحدگی پسندوں نے اپنی طرف سے الزام لگایا کہ حکومتی فورسز نے گزشتہ 24 گھنٹوں میں چار بار ان کی سرزمین پر فائرنگ کی۔

    روس نے امریکی سفیر کو ایک خط بھیجا جس میں واشنگٹن پر الزام لگایا گیا کہ اس نے اس کے سیکورٹی مطالبات کو نظر انداز کیا ہے، جس میں یہ وعدہ بھی شامل ہے کہ وہ کبھی بھی یوکرین کو نیٹو میں شامل ہونے کی اجازت نہیں دے گا۔

    امریکی محکمہ خارجہ نے کہا کہ روس نے ماسکو میں امریکی سفارت خانے سے ڈپٹی چیف آف مشن بارٹ گورمین کو نکالنے کے اپنے فیصلے کی کوئی وضاحت نہیں کی۔

    روس کی وزارت دفاع نے ویڈیو جاری کی جس میں کہا گیا ہے کہ مزید روسی یونٹس سرحد کے قریب علاقے سے نکل رہے ہیں۔

    لیکن میکسار ٹیکنالوجیز، ایک نجی امریکی کمپنی جو تعمیرات کا سراغ لگا رہی ہے، نے کہا کہ سیٹلائٹ کی تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ، جب کہ روس نے یوکرین کے قریب سے کچھ فوجی سازوسامان واپس لے لیا ہے، دوسرے ہارڈ ویئر پہنچ گئے ہیں۔

  • روسی طیارے امریکی جنگی طیاروں کےقریب کیوں آئے؟:روس کونتائج سے آگاہ رہنا چاہیے:پینٹاگون

    روسی طیارے امریکی جنگی طیاروں کےقریب کیوں آئے؟:روس کونتائج سے آگاہ رہنا چاہیے:پینٹاگون

    واشنگٹن:بحیرہ روم میں روسی طیارے امریکی جنگی طیاروں کےقریب آئے:روس کونتائج سے آگاہ رہنا چاہیے:،اطلاعات کے مطابق امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کا کہنا ہے کہ بحیرہ روم میں روسی طیارے امریکی جنگی طیاروں کے قریب آئے۔

    پینٹاگون کے ترجمان مائیک کافکا کے مطابق 3 روسی طیارے بحیرہ روم میں امریکی بحریہ کے2 طیاروں کے قریب آئے۔امریکی طیارے بحیرہ روم میں عالمی فضائی حدود میں موجود تھے۔

    ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ واقعہ میں کوئی نقصان نہیں ہوا تاہم موجودہ صورتحال میں روسی طیاروں کے امریکی جنگی طیاروں کے قریب آنے کا نتیجہ خطرناک ہوسکتا تھا۔

    یوکرین کے معاملے پرامریکا اورروس کے تعلقات کشیدہ ہیں اورصورتحال تناؤ کا شکار ہے۔ روس نے یوکرین پرفوجی تعینات کررکھے ہیں جبکہ امریکی اورنیٹوفورسزبھی خطے میں موجود ہیں۔

    امریکا نے کہا ہے کہ روس کا یوکرین کی سرحد پرفوجیوں کی تعداد میں کمی کا دعویٰ جھوٹا ہے۔امریکا کا کہنا ہے کہ روس نے حالیہ دنوں میں یوکرین کی سرحد پر7000اضافی فوجی تعینات کئے ہیں۔ روس کا فوجی واپس بلانے کا دعویٰ جھوٹ ہے۔

    وائٹ ہاؤس کے عہدیدار نے نام ظاہرنہ کرنے کی شرط پرغیرملکی خبرایجنسی کوبتایا کہ روس کوئی بھی جھوٹا بہانہ بنا کرکسی بھی وقت یوکرین پرحملہ کرسکتا ہے۔

    امریکی عہدیدار کا مزید کہنا تھا کہ روس نے فوجی واپس بلانے کا اعلان کرکے پوری دنیا کی توجہ حاصل کی ہے لیکن ہم جانتے ہیں کہ روس کا یہ دعویٰ جھوٹ پرمبنی ہے۔

    یوکرین کے صدر ولودومیر زیلینسکی کا بھی بیان میں کہنا ہے کہ انہوں نے روسی فوجیوں کی واپسی کی صرف خبریں سنی ہیں لیکن روسی فوجیوں کو واپس جاتے نہیں دیکھا ہے۔روس نے یوکرین سے کچھ فوجیوں کو واپس بلانے کا اعلان کیا تھا۔

  • روس بچ کےنہ جائے”نیٹو اتحاد کا اہم اعلان:روس بھی پریشان

    روس بچ کےنہ جائے”نیٹو اتحاد کا اہم اعلان:روس بھی پریشان

    ماسکو: روس بچ کے نہ جائے” نیٹو اتحاد کا اہم اعلان:روس بھی پریشان ،اطلاعات کے مطابق یوکرین سے منسلک سرحد پر تعینات روسی فوجی دستے چھاونیوں میں واپس لوٹنے لگے تھے کہ نیٹو کےطرز عمل نے پھر خطرے کی گھنٹی بجادی ہے۔ذرائع کا دعویٰ ہے کہ نیٹو کے اس اعلان نے روس کو بہت پریشان کردیا ہے ، یہ بھی سُننے کو آرہا ہے کہ روس امریکہ اور نیٹو اتحاد سے محاذ آرائی کی سکت نہیں رکھتا

    غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق نیٹو اتحاد نے یوکرین سرحد کے قریب سلواکیہ میں فوجی مشقوں کا اعلان کیا ہے، فوجی مشقیں سلواکیہ کی یوکرین کے ساتھ مشرقی سرحد کے قریب ہوں گی، یہ مشقیں مارچ کے پہلے ہفتے میں کی جائیں گی۔

    رپورٹ کے مطابق اتحاد میں شامل امریکا، جرمنی، پولینڈ سمیت سات ممالک سلواکیہ میں فوجی مشقیں کریں گے، ان مشقوں میں شرکت کے لئے امریکا کےدو ہزار فوجیوں کا دستہ اور سینکڑوں گاڑیاں جرمنی سے جمہوریہ چیک میں داخل ہوگئی ہیں۔

    ادھر سلواکیہ کے وزارتِ دفاع سلواکیہ کی جانب سے جاری بیان میں واضح کیا کہ فوجی مشقوں کا روس یوکرین تنازعہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

    واضح رہے کہ گذشتہ روز یوکرین تنازعے میں نیا موڑ اس وقت آیا جب روسی وزارت دفاع کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ فوجی مشقیں اختتام پذیر ہونے کے بعد یوکرینی سرحد کے نزدیک تعینات روسی فوجیوں کو واپس چھاونیوں میں بھیج دیا گیا ہے۔

    دوسری جانب یوکرین نے خبردار کیا کہ جب تک انہیں فوجیوں کی واپسی کا ثبوت نہیں مل جاتا وہ اس پر کوئی رد عمل نہیں دیں گے۔گذشتہ روز اپنے بیان میں روسی صدر ولادیمیر پوتن نے کہا تھا کہ صاف ظاہر ہے کہ روس یورپ میں جنگ نہیں چاہتا، لیکن یہ بھی ضروری ہے کہ روس کے سکیورٹی خدشات کو مدنظر رکھا جائے۔