Baaghi TV

Tag: روس

  • امریکی صدر نے27 روسی سفارتکاروں کو ملک چھوڑنے کا حکم دیدیا

    امریکی صدر نے27 روسی سفارتکاروں کو ملک چھوڑنے کا حکم دیدیا

    واشنگٹن : امریکی صدر نے27 روسی سفارتکاروں کو ملک چھوڑنے کا حکم دیدیاا،طلاعات کے مطابق روس اور امریکہ کے درمیان سرد جنگ اب میدان جنگ کو گرم کرنے کی طرف رواں دواں ہے اور یہ بھی اطلاعات ہیں کہ روس اور یوکرین کے مابین میں جاری کشیدگی کے دوران امریکا کے صدر جوبائیڈن نے روس کے 27 سفارتکاروں کو ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا ہے۔

    بھارتی ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کے مطابق واشنگٹن سے یہ حکم جاری ہونے کے علاوہ بائیڈن انتظامیہ نے یوکرین کو نیٹو (NATO) میں شامل نہ کرنے کی روسی مطالبہ بھی مسترد کردیا ہے۔جوبائیڈن نے یوکرین پر حملے کی صورتحال میں روس کو سنگین نتائج بھگتنے کی وارننگ بھی دی ہے۔

    بائیڈن نے کہا ہے کہ اگر روس نے یوکرین پر حملہ کیا، تو وہ روس کی 85 ہزار کروڑ روپے کی ’نیرڈ اسٹریم 2‘ گیس پائپ لائن کو بند کر دیں گے۔ روسی پائپ لائن سے یوروپ کو قدرتی گیس سپلائی کرنے کا منصوبہ ہے۔خاص بات یہ ہے کہ اب تک نیٹو سے الگ ہونے کی قیاس آرائیوں کا سامنا کرنے والے جرمنی نے بھی امریکہ کا ساتھ دیا ہے۔ دوسری جانب روس اور یوکرین نے دونوں ممالک کی سرحد پر جنگ بندی کے لئے پیرس مذاکرات جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

    واضح رہے کہ روس اور یوکرین کے درمیان تنازع کافی عرصے سے جاری ہے۔ یوکرین 24 اگست 1991 کو سوویت یونین سے الگ ہو گیا تھا۔ سوویت یونین سے علیحدگی کے بعد یوکرین کو مغربی ممالک کی حمایت حاصل تھی۔ نیٹو کا قیام 1949 میں ہوا تھا جس کا مقصد یہ تھا کہ اس کے آس پاس کے ممالک سوویت یونین سے اپنا دفاع کر سکیں۔

    2014 میں یوکرین میں جو حکومت تھی، وہ کافی حد تک روس نواز تھی۔ اسی وجہ سے یوکرین نے نیٹو( NATO )میں شامل نہ ہونے کا فیصلہ کیا۔ تاہم نیٹو میں دوبارہ شمولیت کی تحریک تیز ہو گئی ہے۔ یوکرین دو حصوں مغربی یوکرین اور مشرقی یوکرین پر مشتمل ہے۔ مشرقی یوکرین میں روس کے حامیوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔

  • یوکرین امریکہ اور نیٹو کے ہاتھ کا کھلونا بن گیا:روس     :    :خطے میں جنگ ہوئی تو روس ذمہ دارہوگا،امریکہ

    یوکرین امریکہ اور نیٹو کے ہاتھ کا کھلونا بن گیا:روس : :خطے میں جنگ ہوئی تو روس ذمہ دارہوگا،امریکہ

    ماسکو:یوکرین امریکہ اور نیٹو کے ہاتھ کا کھلونا بن گیا:روس::خطے میں جنگ ہوئی تو روس ذمہ دارہوگا،امریکہ ،اطلاعات کے مطابق ایک بارپھر چند گھنٹوں کی خاموشی کےبعد روس اور امریکہ کے درمیان محاذ آرائی شروع ہوگئی ہے، اس حوالے سے غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق روسی سلامتی کونسل کے نائب چیئرمین دیمتری میدویدیف نے کہا ہے کہ یوکرین کو روس پر جغرافیائی و سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے یہ ایک حقیقت ہے کہ یوکرین نیٹو اور امریکہ کے ہاتھ میں کھلونا بن کر رہ گیا ہے کیونکہ یوکرین کو روس پر جغرافیائی سیاسی دباؤ کے ایک آلے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔

    ماسکو میں روسی وزارت دفاع نے اطلاع دی کہ فضائی دفاعی افواج کے دستے ہتھیاروں اور فوجی سازوسامان کے ساتھ جمہوریہ بیلاروس کی سرزمین پر مشقوں کے لیے پہنچ رہے ہیں۔محکمہ نے کہا کہ لاجسٹک یونٹس نے پہلے ہی امور ریجن میں ٹرین پلیٹ فارمز پر ہتھیار پہنچا دیے تھے۔

    واضح رہے کہ یوکرین کے مسئلہ پر روس کی نیٹو اتحاد ،امریکہ اور یورپی ممالک کے ساتھ کشیدگی میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔

    ادھر امریکی صدر نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ امریکی صدرجوبائیڈن نے خبردارکیا ہے کہ روس فروری میں یوکرین پرحملہ کرسکتا ہے۔وائٹ ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق امریکی صدرجوبائیڈن نے یوکرینی ہم منصب سے گفتگومیں خبردارکیا کہ روس فروری میں یوکرین پرحملہ کرسکتا ہے۔

    امریکی صدرجوبائیڈن نے یوکرین کے صدرسے ٹیلی فون پرگفتگومیں کہا کہ اس بات کا بہت زیادہ امکان ہے کہ روس فروری میں یوکرین کیخلاف کوئی جارحانہ کارروائی کرے۔ امریکا گزشتہ کئی ماہ سے روس کی یوکرین کیخلاف ممکنہ جارحیت کے بارے میں خبردارکررہا ہے۔
    روس کے حکام نے یوکرین کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کومسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یوکرین کے بحران سے متعلق مذاکرات اب بھی ممکن ہیں۔

    امریکا اوراس کے نیٹواتحادی حالیہ ہفتوں میں ماسکوکی جانب سے یوکرین کے قریب ایک لاکھ روسی فوجیوں کی تعیناتی پربھی تشویش کا اظہارکرچکے ہیں۔

  • روس اور یورپی ممالک کے درمیان یوکرین میں جنگ بندی پر اتفاق

    روس اور یورپی ممالک کے درمیان یوکرین میں جنگ بندی پر اتفاق

    کئی عرصے سے جاری کشیدگی کے بعد، روس اور یورپی ممالک کے درمیان یوکرین میں جنگ بندی پر اتفاق ہوگیا ہے۔

    باغی ٹی وی : پیرس میں روس، یوکرین، فرانس اور جرمنی کے مشیران کے طویل مذاکرات ہوئے، روسی مشیر کا کہنا ہے کہ مذاکرات سے کشیدگی کم کی جا سکتی ہے لیکن یوکرین کے مسئلے کا مستقل حل ایک اجلاس سے نہیں نکالا جاسکتا چاروں ممالک کی ایک اور میٹنگ دو ہفتوں میں برلن میں ہو گی، ساتھ ہی روس نے نیٹو سے مشرقی یورپ سے فوج واپس بلانے کا مطالبہ کیا ہے۔

    روس اور یوکرائن کے درمیان جنگ کا امکان:روسی فوج بھاری یا بھاری یوکرائن

    روس کی جانب سے یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہےکہ یوکرین کی نیٹو میں شمولیت بھی روکی جائے جبکہ امریکہ اور نیٹو نے روس کے مطالبے کو مسترد کردیا ہے تاہم ہتھیاروں کے کنٹرول اور اعتماد سازی کے لیے بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔

    خیال رہے کہ دو روز قبل روس نے یوکرائن کی سرحد کے قریب فوجی مشقوں کی ویڈیو جاری کی تھی، روسی فوجی ٹینکوں اور میزائل لانچرز سمیت مشقوں میں شرکت کر رہے ہیں۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز روس نے کہا ہے کہ صدر پوٹن پر امریکی پابندیوں سے سیاسی طور پر کوئی فرق نہیں پڑے گا تاہم یہ تباہ کُن ضرور ثابت ہوگا روس کے حکومتی ترجمان ڈمتری پیسکوو نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اگر صدر ولادمیر پوٹن پر پابندی عائد کرتا ہے تو سیاسی سطح پر اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا تاہم اس کے نتائج مہلک ہوں گے۔

    روس اور یوکرائن کے درمیان جنگ کا امکان:روسی فوج بھاری یا بھاری یوکرائن

    یاد رہے کہ چند روز قبل امریکی صدر جوبائیڈن نے کہا تھا کہ روس کو یوکرین پر حملہ کرنے کی سخت قیمت ادا کرنی ہوگی جو بائیڈن نے روس کوخبردارکرتے ہوئے کہا کہ یوکرائن پر حملے کی روس کو جانی اورمعاشی نقصان کی صورت قیمت ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔

    جوبائیڈن نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر روس اپنی فوج کی اتنی بڑی تعداد کو لے کر یوکرین پر چڑھائی کرتا ہے تو یہ جنگ دوسری جنگِ عظیم سے کئی گنا بڑی ہوگی اور دنیا کا نقشہ بدل دے گی۔

    یورپی یونین کا افغانستان میں سفارتخانہ کھولنے کا اعلان

    واضح رہے کہ چند روز قبل امریکہ نے دعویٰ کیا تھا کہ روس خود پر جعلی حملے کروا کے یوکرائن پر حملہ کرے گا۔انہوں نے کہا تھا کہ روس یوکرین پر حملے کی تیاری کر رہا ہے اور اگلا ایک ہفتہ انتہائی اہم ہے۔

    دوسری جانب روسی وزیر خارجہ سرجی لیوروو نے کہا ہے کہ روس اپنے مطالبات کے تحریری جواب کا منتظر ہے۔ اگر مغرب اپنی جارحانہ کارروائیاں جاری رکھتا ہے تو روس کو بھی جوابی کارروائی کرنی پڑے گی۔

    روس کی ایران اور چین سے فوجی مشقیں:بیلا روس کےساتھ بھی ہنگامی فوجی مشقیں شروع کرنے…

  • یوکرین روس کشیدگی، خام تیل کی قیمت 90 ڈالر فی بیرل:پاکستان سمیت غریب ممالک پرپھرمشکل وقت آگیا

    یوکرین روس کشیدگی، خام تیل کی قیمت 90 ڈالر فی بیرل:پاکستان سمیت غریب ممالک پرپھرمشکل وقت آگیا

    واشنگٹن:یوکرین روس کشیدگی، خام تیل کی قیمت 90 ڈالر فی بیرل:پاکستان سمیت غریب ممالک پرپھرمشکل وقت آگیا،اطلاعات کے مطابق یوکرین اور روس کے درمیان کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 90 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی۔

    غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا اور یوکرین کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث بدھ کے روز عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت گزشتہ 7 سالوں میں پہلی بار 90 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ۔

    غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق روس اور یوکرین تنازعہ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے خام تیل کی ممکنہ سپلائی میں رکاوٹ نے ہلچل مچا دی ہے۔

    رپورٹس کے مطابق دوران ٹریڈنگ برینٹ خام تیل کی قیمت 90 ڈالر17 سینٹس کی سطح پرپہنچ گئی جبکہ ڈبلیو ٹی آئی خام تیل 87 ڈالر 67 سینٹس میں فروخت ہوا۔اس کے علاوہ عالمی منڈی میں گیس کی قیمت میں تقریباً 5 فیصد اضافہ ہوا جس کے بعد دوران ٹریڈنگ گیس کی قیمت سوا 4 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو ہوگئی۔

    واضح رہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن نے منگل کے روز کہا تھا کہ اگر روس نے یوکرین پر حملہ کیا تو وہ صدر ولادیمیر پوٹن پر ذاتی پابندیوں پر غور کریں گے۔
    دوسری جانب روس نے یوکرین کی سرحدپر تقریباً ایک لاکھ فوجیوں کو تعینات کیا ہوا ہے لیکن حملے کی منصوبہ بندی سے انکار کیا ہے۔

  • روس اور یوکرائن کے درمیان جنگ کا امکان:روسی فوج بھاری یا بھاری یوکرائن

    روس اور یوکرائن کے درمیان جنگ کا امکان:روسی فوج بھاری یا بھاری یوکرائن

     

    لاہور:روس اور یوکرائن کے درمیان جنگ کا امکان:روسی فوج بھاری یا بھاری یوکرائن ,یوکرائن کی سرحدوں پر اس وقت سخت دباو ہے اور یہ اطلاعات ہیں کہ امریکہ اور اتحادی یوکرائن کو جنگ میں دھکیل رہے ہیں تاکہ روس کی فوجی قوت کو کمزور کیا جاسکے ، ایسی صورت میں اگرنیٹو اور دیگر قوتیں میدان میں اتریں تو یہ جنگ عالمی جنگ کی شکل میں تبدیل ہوسکتی ہے

     

    ان حالات میں جبکہ دونوں طرف سے سخت چپقلش پائی جارہی ہے ، دفاعی ماہرین نے روسی اور یوکرائنی افواج کے درمیان قوت کے تخمینے اور اندازے لگانے شروع کردئیے ہیں ، اس حوالے سے جو تازہ تقابلی جائزہ پیش کیا گیا ہے اس کے مطابق روس کی باقاعدہ افواج کی تعداد نو لاکھ سے زائد ہے جبکہ اس کے مقابلے میں یوکرائن کی مسلح افواج کی تعداد دو لاکھ نو ہزار تک ہے

     

     

    دفاعی ماہرین کا کہنا ہےکہ روس کو ریزور افواج کی صورت میں بیس لاکھ فوجیوں کی کمک حاصل ہوگی جبکہ یوکرائن کو صرف نو لاکھ فوجیوں کی مدد حاصل ہوگی

     

    دفاعی ماہرین کی طرف سے جاری تفصیلات کے مطابق روس کے پاس آرٹلری کی تعداد 7571 ہے جبکہ یوکرائن کے پاس یہ تعداد 2040 ہے

     

    روس کے پاس فوجی گاڑیوں کی تعداد 30 ہزار 122 ہے جبکہ یوکرائن کے پاس یہ تعداد 12303 ہے ، ایسے ہی روس کےپاس 12420 ٹینکس ہیں جبکہ یوکرائن کےپاس یہ تعداد صرف 2596 ہے

     

    روس کے پاس جنگی ہیلی کاپٹرز کی تعداد 544 ہے جبکہ یوکرائن کے پاس یہ تعداد صرف 34 ہے ،روس کے پاس فائٹراٹیک ایئر کرافٹ کی تعداد 1511 ہے جبکہ یوکرائن کے پاس یہی تعداد صرف 98 ہے ،

     

    روس کا سالانہ دفاعی بجٹ 61 ارب ڈالرز سے زائد ہے جبکہ یوکرائن کا دفاعی بجٹ 8 ارب ڈالرز سے زائد ہے یوں اگردیکھا جائےتو روس کے مقابلے میں یوکرائن کی فوجی طاقت نہ ہونے کے برابر ہے

     

    لیکن یہی طاقت اس صورت میں روس کے مقابلے میں بڑھتی ہوئی نظرآتی ہے جب روس کی مخالف قوتیں امریکہ ، نیٹو اور دیگراتحادی یوکرائن کو بھاری اسلحہ دے رہے ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ یوکرائن اور روس کا ٹکراو ہو ہی جائے تاکہ روس کی فوجی قوت کو زنگ لگ جائے یا پھرروس کوبہت زیادہ نقصان پہنچایا جاسکے ، اس صورت میں پھرامریکہ کے سامنے چین ہی بڑی قوت رہ جائے گا اور چین سے نمٹا امریکہ اور اتحادیون کے لیے آسان ہوگا

  • روس کا نئی فوجی مشقوں کے انعقاد کا اعلان:امریکہ اور اتحادی پریشان

    روس کا نئی فوجی مشقوں کے انعقاد کا اعلان:امریکہ اور اتحادی پریشان

    ماسکو: روس کا نئی فوجی مشقوں کے انعقاد کا اعلان:امریکہ اور اتحادی پریشان،اطلاعات کے مطابق روس نے جنوبی کریمیا میں نئی فوجی مشقوں کے انعقاد کا اعلان کردیا ہے۔ لڑاکا طیارے اور بمبار زیادہ سے زیادہ فاصلے پر اہداف کے خلاف فضائی حملے کرنے کی مشق کریں گے۔

    تفصیلات کے مطابق روسی فوج کے ترجمان نے منگل کو کہا ہے کہ تقریباً 6000 فوجیوں اور کم از کم 60 لڑاکا طیاروں پر مشتمل لائیو فائر ڈرلز کے عنوان کے تحت فوجی مشقوں کا آغاز کیا ہے۔روسی وزارت دفاع نے ایک بیان میں کہا، یونٹ وسیع پیمانے پر کاموں کو سرانجام دینے کی مشق کریں گے۔

    مشقیں ہر قسم کی ہوا بازی، میزائل ڈویژن، بحری بیڑے اور کیسپین فلوٹیلا کے جہاز گروپوں پر مشتمل ہوں گی۔ مشقوں کو جنگی تیاریوں کو جانچنے کے تناظر میں دیکھا جارہا ہے۔ جس کی وجہ کریمیا پر روس اور مغربی ممالک کے درمیان بڑھتا ہوا تناؤ ہے۔

    روسی خبر رساں ایجنسیوں نے وزارت دفاع کے حوالے سے بتایا کہ لڑاکا طیارے اور بمبار زیادہ سے زیادہ فاصلے پر اہداف کے خلاف فضائی حملے کرنے کی مشق کریں گے۔

    واضح رہے یہ مشقیں روس سے الحاق شدہ کریمیا اور جنوبی روستوف اور کراسنودار کے علاقوں میں ہوں گی۔ اس بابت بھی آگاہ نہیں کیا گیا ہے کہ اوپر بیان کی گئی مشقیں کب تک جاری رہیں گی۔

    یاد رہے مغرب روس پر الزام عائد کرتا ہے کہ اس نے یوکرائن کی سرحد پر لگ بھگ100,000 فوجیوں کو جمع کر رکھا ہے۔ فوجیوں کی تشکیل نے سرد جنگ کے بعد روس اور مغربی ممالک کے درمیان تعلقات میں سب سے بڑے بحران کو جنم دیا ہے۔

  • روس اورامریکہ جنگ کے دہانے پر:روس کی برطانیہ کو بھی دھمکی

    روس اورامریکہ جنگ کے دہانے پر:روس کی برطانیہ کو بھی دھمکی

    ماسکو:روس اورامریکہ جنگ کے دہانے پر:روس کی برطانیہ کو بھی دھمکی ،اطلاعات کے مطابق امریکا نے روس کے خلاف مہلک ہتھیاروں کی 90 ٹن وزنی کھیپ یوکرائن کے دارالحکومت میں پہنچادی ہے جبکہ روس نے بھی جنگ کے لیے صف بندی شروع کردی ہے۔

    خبر ایجنسی کے مطابق روس امریکی مذاکرات کی ناکام کے بعد یوکرائن تنازع شدت اختیار کرگیا ہے اور خطے پر جنگ کے بادل منڈلانے لگے ہیں جبکہ یوکرائن بارڈر پر نیٹو کی فوجی تنصیبات کا عمل بھی جاری ہے۔

    رپورٹس کے مطابق روس نے بھی سرحد کے قریب اپنی فوج کی صف بندی کرنا شروع کردی ہے جبکہ امریکا کی جانب سے یوکرائن کو دی جانے والی مہلک ہتھیاروں کی پہلی کھیپ وہاں پہنچ گئی ہے۔

    یوکرائن میں قائم امریکی سفارتخانے نے کھیپ وصول کرنے کی تصدیق بھی کردی ہے۔

    واضح رہے کہ روس بارہا یہ باور کراچکا ہے اس کا یوکرائن پر حملے کا کوئی ارادہ نہیں ہے تاہم وہ اپنے دفاع کے لئے ہر ممکن اقدامات کرے گا۔امریکی صدر جوبائیڈن نے دسمبر میں یوکرائن کے لئے 200 ملین ڈالرز سیکیورٹی پیکج کی منظوری دی تھی۔

    دوسری جانب برطانیہ کا دعوی ہے کہ روس یوکرائن میں اپنی مرضی کی حکومت لانے کی کوششیں کررہا ہے جبکہ متعدد سابقہ یوکرائن کے سیاست دانوں کے روس کی انٹیجلنس سروس سے رابطے ہیں۔

    برطانیہ کا دعوی ہے کہ یوکرائن کی پارلیمان کے ایک سابق رکن یووغن مورائیف کو روس کی جانب سے یوکرائن کے نئے لیڈر کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔

    روس کی جانب سے برطانوی دعوے کی تردید بھی سامنے آئی ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ برطانیہ فضول باتیں پھیلانے سے گریز کرے۔

    روسی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ برطانیہ کی جانب سے پھیلائی جانے والی غلط معلومات اس بات کا اشارہ کرتی ہیں کہ نیٹو کی قیادت یوکرائن کے بحران کو مزید بڑھا رہی ہیں۔

    دوسری طرف روس کی وزارت خارجہ کا اپنے ایک بیان میں کہنا ہے کہ ہم دفترخارجہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ فضول باتیں پھیلانا بند کرے۔

    ان کا کہنا تھا کہ برطانیہ کی جانب سے پھیلائی جانے والی غلط معلومات اس بات کا اشارہ کرتی ہیں کہ نیٹو کی قیادت یوکرائن کے بحران مزید بڑھا رہی ہیں۔

    دوسری جانب برطانوی سیکرٹری خارجہ کا اپنے ایک بیان میں کہنا تھا کہ جو معلومات جاری کی گئی ہیں وہ روسی منصوبے کو آشکار کرتی ہیں جبکہ یہ منصوبہ یوکرائن کو تباہ کرنے کے لیے بنائے گئے ہیں جس سے روس کی سوچ کی عکاسی ہوتی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ یوکرائن میں روسی فوجی مداخلت ایک بڑی اسٹریجک غلطی ہوگی جس کی بھاری قیمت بھی چکانا پڑے گی، روس کشیدگی کو کم کرے اور اپنی جارحیت کو ترک کرکے سفارتکاری کا راستہ اختیار کرے۔

    واضح رہے کہ برطانیہ کا دعوی ہے کہ روس یوکرائن میں اپنی مرضی کی حکومت لانے کی کوششیں کررہا ہے جبکہ متعدد سابقہ یوکرائن کے سیاست دانوں کے روس کی انٹیجلنس سروس سے رابطے ہیں۔

    برطانیہ کا دعوی ہے کہ یوکرائن کی پارلیمان کے ایک سابق رکن یووغن مورائیف کو روس کی جانب سے یوکرائن کے نئے لیڈر کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔

  • روس کی ایران اور چین سے فوجی مشقیں:بیلا روس کےساتھ بھی ہنگامی فوجی مشقیں شروع کرنے کا اعلان

    روس کی ایران اور چین سے فوجی مشقیں:بیلا روس کےساتھ بھی ہنگامی فوجی مشقیں شروع کرنے کا اعلان

    ماسکو:روس کی ایران اور چین فوجی مشقیں جاری: بیلا روس کے ساتھ بھی ہنگامی فوجی مشقیں شروع کرنے کا اعلان ،اطلاعات کے مطابق روس کی بیلا روس کے ساتھ ہنگامی فوجی مشقیں شروع کےاعلان نے امریکہ اور اتحادیوں‌پر بجلی گرادی ہے اور یہ بھی اطلاعات ہیں کہ امریکہ نے روس کودھمکی آمیز پیغام بھیجنے کا پھرفیصلہ کیا ہے

    اطلاعات کے مطابق روس نے فوجی مشقوں کے لیے 2 فضائی دفاعی سسٹم بیلاروس بھیج دئیے،اور تازہ ترین اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ روس اور بیلاروس کے درمیان فوجی مشقیں 10 فروری کو شروع ہوں گی،اس سلسلے میں‌ فضائی دفاعی میزائل سسٹم اور 12 ایس یُو 35 جنگی طیارے بھی بیلاروس بھیجے جائیں گے،

    روسی دفاعی حکام کے مطابق روسی ایس 400 بیلاروس میں متوقع مشترکہ فوجی مشقوں میں شرکت کریں گے،

    ادھر پہلے ہی ایران، روس اور چین کے بحری بیڑوں نے بحیرہ ہند کے شمال میں وسیع پیمانے کی مشترکہ فوجی مشقیں شروع کر دی ہیں۔

    ادھر ایران کی سرکار ی خبر رساں ایجنسی IRNA کے مطابق "2022 بحری سلامتی بیلٹ ” کے زیرِ عنوان اور "مِل کر امن و سلامتی کے لئے” کے سلوگن کے ساتھ بحیرہ ہند کے شمال میں 17 ہزار مربع کلو میٹر علاقے میں مشترکہ فوجی مشقیں جاری ہیں۔

    خبر کے مطابق مشقوں میں ایران کابحری بیڑہ ، پاسدارانِ انقلاب اسلامی کے جنگی بحری جہاز اور فضائی یونٹیں اور روس اور چین کے جنگی و لاجسٹک بحری جہاز شامل ہیں ۔

    مشقوں کے ترجمان ایڈمرل مصطفیٰ تاج الدین نے کہا ہے کہ باب المندب، مالاکہ اور آبنائے ہرمز جیسی اہم آبی گزرگاہوں کے ساتھ رابطے کی وجہ سے بحیرہ ہند کا شمالی حصہ اہمیت کا حامل علاقہ ہے۔

    انہوں نے کہا ہے کہ "یہ مشقیں، طلائی تکون کے نام سے معروف اور عالمی تجارت کے لئے کلیدی اہمیت کے حامل علاقے میں، تینوں ممالک کے مفادات کے تحفظ اور پائیدار بحری سلامتی کو یقینی بنانے کی ایک مشترکہ کوشش ہیں”۔

    تاج الدین نے کہا ہے کہ مشقوں میں جلتے ہوئے بحری جہاز کو بچانے، اغوا شدہ بحری جہاز کی رہائی، متعینہ اہداف اور رات کے وقت فضائی اہداف کو نشانہ بنانے جیسے مختلف آپریشن کئے جائیں گے۔

    انہوں نے کہا ہے کہ بین الاقوامی بحری تجارت کی سلامتی کو تقویت دینا، بحری ٹوئرازم اور بحری قزاقوں کے خلاف جدوجہد، تلاش و بچاو کے علاقوں میں معلومات کا تبادلہ اور جنگی چالوں کے آپریشنوں میں تجربات کا تبادلہ مشقوں کے سرفہرست اہداف ہیں۔

    واضح رہے کہ "بحری سلامتی بیلٹ ” کے زیرِ عنوان موجودہ مشقیں ایران، روس اور چین کے درمیان تیسری مشقیں ہیں۔مذکورہ مشقوں کی پہلی مشقیں دسمبر 2019 میں کی گئی تھیں۔

  • روس نے یوکرین پرحملہ کیا توبھاری قیمت چکانا پڑے گی، امریکی صدر

    روس نے یوکرین پرحملہ کیا توبھاری قیمت چکانا پڑے گی، امریکی صدر

    واشنگٹن: امریکی صدرجوبائیڈن نے روس کی جانب سے یوکرین پرحملے کا خدشہ ظاہرکرتے ہوئے کہا کہ ایسا ہوا توروس کوبھاری قیمت چکانا پڑے گی۔

    باغی ٹی وی : روس اور امریکہ کے درمیان کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے ، شاید یہی وجہ ہےکہ امریکہ نے روس کی دھمکی دی ہے روس یوکرین کی سرحد پر کسی بھی حرکت سے باز رہے اگر ایسا نہ ہوا تو ایسا ہوا توروس کوبھاری قیمت چکانا پڑے گی۔

    امریکہ ہمیں‌جنگ کی دھمکیاں‌ دینا بند کردے:ایسی بات ہے تو ہم تیارہیں‌:روس کا جوابی…

    امریکی صدرجوبائیڈن نے نیوزکانفرنس سے خطاب میں کہا کہ روس یوکرین پرحملہ کرسکتا ہے۔ ایسا ہواتواس کی ذمہ داری مکمل طورپرروسی صدرولادی میرپیوٹن پرعائد ہوگی۔

    امریکی صدرکا کہنا تھا کہ روس نے یوکرین میں کارروائی کی تو یہ وعدہ ہے کہ روس پراسی پابندیاں عائد کریں گے جو پہلے کبھی کسی نے نہیں دیکھی ہوں گی۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد روس کا یوکرین پرحملہ ایسا اقدام ہوگا جس کے دوررس نتائج نکلیں گے۔روس یوکرین میں کچھ کرنا چاہتا ہے اوروہ کرے گا۔

    امریکہ سرحدوں سے فوج ہٹالے ورنہ نتائج سنگین ہوں گے، روس کی دھمکی

    امریکی صدرجوبائیڈن نے مزید کہا کہ امریکا پولینڈ سمیت خطے میں اپنے فوجیوں کی تعداد بڑھا رہا ہے۔ ایسا نیٹو معاہدے کے تحت کیا جارہا ہے واضح رہے کہ روس نے 2014 میں کریمیا پرحملہ کرکے قبضہ کرلیا تھا۔

    شمالی کوریا کی ہائپرسونک میزائل تجربہ کرنے کی تصدیق،کم جونگ نے تجربے کا مشاہدہ کیا

    قبل ازیں امریکہ نے روس کی دھمکی دی تھی کہ روس یوکرین کی سرحد پر کسی بھی حرکت سے باز رہے یا پھر جنگ کےلیے تیار رہے جبکہ روس نے امریکہ کی اس دھمکی کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگرامریکہ کو جنگ کرنے کا بہت ہی شوق ہے تو ہم تیار ہیں‌، دوسری طرف یہ بھی اطلاعات ہیں کہ امریکہ اور دیگر نیٹو اتحادی اس وقت روس کے خلاف مشترکہ حکمت عملی اپنانے میں مصروف ہیں-

    دنیا روس اور امریکہ کے رحم وکرم پر:روس نے ایک بارپھرامریکی خواہشات پرپانی پھیر دیا

    امریکہ میں تعینات روسی سفیر اناتولی انتونوف نے کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے عائد کی گئی پابندیاں ہمیں خوفزدہ نہیں کرسکتیں روس کے سفیر اناتولی انتونوف کا میڈیا کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے کہنا تھا کہ امریکی کانگریس کی جانب سے روس کے خلاف نئی پابندیوں کا مطالبہ بشمول ملک کی قیادت پر پابندیاں ماسکو کو خوفزدہ نہیں کریں گی انہوں نے مزید کہا کہ ہم کسی بھی صورت امریکہ کی اپاہج پابندیوں سے خوفزدہ نہیں ہوں گے۔

    اسلامی ممالک ہماری حکومت کو تسلیم کریں، طالبان

  • ایرانی صدر کا دورہ ماسکو:امریکہ پریشان،اب کیا کرے گا ایران؟

    ایرانی صدر کا دورہ ماسکو:امریکہ پریشان،اب کیا کرے گا ایران؟

    ماسکو:ایران کے صدر ابراہیم رئیسی نے دورہ روس کو دونوں مملک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کا ٹرننگ پوائنٹ قرار دے دیا۔

    بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کے صدر ابراہیم رئیسی منصب سنبھالنے کے بعد پہلی بار روس کے دو روزہ سرکاری دورے پر ماسکو پہنچ گئے جہاں انہوں نے روسی ہم منصب ولادی میرپیوٹن سے ملاقات کی۔

    ماسکو روانگی سے قبل میڈیا سے مختصر گفتگو میں ابراہیم رئیسی نے کہا کہ روس اور ایران خطے کے دو اہم خودمختار، مضبوط اور بااثر ممالک ہیں جو قریبی تعلقات اور بات چیت سے تجارت و سلامتی کو بڑھا سکتے ہیں۔

    اس ضمن میں ایرانی صدر نے اپنے دورہ ماسکو کو دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کا ٹرننگ پوائنٹ بھی قرار دیا۔
    روسی صدر سے ملاقات میں ایرانی صدر نے کہا کہ افغانستان کی موجودہ صورتحال پرتشویش ہے روس کےساتھ مستحکم اورجامع تعلقات کےخواہاں ہیں ہم روس کےساتھ تجارتی تعلقات کاحجم بڑھانےکےخواہاں ہیں۔

    ایرانی صدر نے واضح کیا کہ عالمی پابندیوں اور امریکا و اسرائیل کی دھمکیوں سے ایران کی ترقی کا سفر نہیں رکے گا۔