Baaghi TV

Tag: روس

  • روس،یوکرین جنگ کاخدشہ:امریکہ برطانیہ سمیت دیگرممالک کی اپنے شہریوں کو یوکرین چھوڑنے کی ہدایت

    روس،یوکرین جنگ کاخدشہ:امریکہ برطانیہ سمیت دیگرممالک کی اپنے شہریوں کو یوکرین چھوڑنے کی ہدایت

    نا صرف امریکہ نے روسی افواج کے یوکرین پر حملے کے پیش نظر اپنے شہریوں کو یوکرین چھوڑنے کی ہدایت کی ہے بلکہ برطانیہ سمیت کئی دوسرے ممالک نے بھی اپنے شہریوں کو وہاں سے نکل جانے کی اپیل کی ہے-

    باغی ٹی وی : "بی بی سی ” کے مطابق امریکی صدر جو بائیڈن نے روسی فوجی کارروائی کے بڑھتے ہوئے خطرات کا حوالہ دیتے ہوئے یوکرین میں باقی تمام امریکی شہریوں سے فوری طور پر ملک چھوڑنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    امریکا کا منجمد افغان اثاثوں کو افغان عوام اور نائن الیون متاثرین میں برابر تقسیم کرنےکا فیصلہ

    وائٹ ہاوس کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ روسی افواج کسی بھی وقت یوکرین پر حملہ کر سکتی ہیں۔ امریکی شہری اگلے 48 گھنٹے میں ملک چھوڑدیں اگر ماسکو یوکرین پر حملہ کرتا ہے تو وہ امریکیوں کو بچانے کے لیے فوج نہیں بھیجیں گے-

    وائٹ ہاوس کے مطابق روسی حملے کا آغاز فضائی بمباری سے ہوگا جس کے باعث یوکرین چھوڑنے والے افراد کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں اور شہریوں کی زندگی بھی خطرے میں ہوگی۔

    بائیڈن نے این بی سی نیوز کو بتایا، "امریکی شہریوں کو اب چلے جانا چاہیے ہم دنیا کی سب سے بڑی فوجوں میں سے ایک کے ساتھ نمٹ رہے ہیں۔ یہ بہت مختلف صورتحال ہے اور چیزیں تیزی سے ہاتھ سے نکل سکتی ہیں۔”

    روس کا گرد گھیرا تنگ:روسی وزیر خارجہ احتجاجا مشترکہ پریس کانفرنس چھوڑ کر چلے گئے

    یہ پوچھے جانے پر کہ کیا کوئی ایسا منظر نامہ ہے جو انہیں فرار ہونے والے امریکیوں کو بچانے کے لیے فوج بھیجنے کا اشارہ دے سکتا ہے، بائیڈن نے جواب دیا: "ایسا نہیں ہے۔ یہ ایک عالمی جنگ ہے جب امریکی اور روس ایک دوسرے پر گولی چلانا شروع کر دیتے ہیں۔ ہم اپنے سے بالکل مختلف دنیا میں ہیں-

    امریکی وزیر خارجہ اینٹونی بلنکن نے آسٹریلیا کے دورے پر جمعہ کو کہا کہ حملہ کسی بھی وقت شروع ہو سکتا ہے، اور واضح رہے کہ اس میں اولمپکس کے دوران بھی شامل ہے چین میں سرمائی اولمپکس 20 فروری کو ختم ہونے والے ہیں۔

    امریکی نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر جیک سولیون نے کہا ہے کہ روس یوکرین پر بیجنگ میں جاری سرمائی اولمپکس کے دوران حملہ کر سکتا ۔ روس کی جانب سے یوکرین کی سرحد پر مزید فوجی بھیجنے کا سلسلہ جاری ہے۔

    پیوٹن جانتے ہیں یوکرین پر حملہ بہت بڑی غلطی ہوگی،جوبائیڈن

    انہوں نے کہا ہے کہ صدر پیوٹن کسی بھی وقت یوکرین پر حملہ کا حکم دے سکتے ہیں۔یہ نہیں کہہ سکتے کے پیوٹن نے یوکرین پر حملے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے اس کے علاوہ برطانیہ، کینیڈا، نیدرلینڈز، لیٹویا، جاپان اور جنوبی کوریا نے بھی یوکرین میں رہنے والے اپنے شہریوں کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کی ہے اپنے انتباہ میں لٹویا نے "روس کی طرف سے سلامتی کے لیے ایک سنگین خطرہ” کا حوالہ دیا۔

    روس سرحد کے قریب 100,000 سے زیادہ فوجیوں کو جمع کرنے کے باوجود یوکرین پر حملہ کرنے کے کسی بھی منصوبے کی بارہا تردید کرتا رہا ہے لیکن اس نے ابھی پڑوسی ملک بیلاروس کے ساتھ بڑے پیمانے پر فوجی مشقیں شروع کی ہیں اور یوکرین نے روس پر الزام لگایا ہے کہ وہ سمندر تک اس کی رسائی کو روک رہا ہے۔

    دوسری جانب روس نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا یوکرین پر حملہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ روسی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ مغربی ممالک جھوٹی معلومات فراہم کر رہے ہیں

    اسرائیلی پولیس نےنیتن یاہو کےبیٹےاورمعاونین کے موبائل پر’اسپائی ویئر‘کااستعمال…

  • روس کا گرد گھیرا تنگ:روسی وزیر خارجہ احتجاجا مشترکہ پریس کانفرنس چھوڑ کر چلے گئے

    روس کا گرد گھیرا تنگ:روسی وزیر خارجہ احتجاجا مشترکہ پریس کانفرنس چھوڑ کر چلے گئے

    ماسکو:روس کا گرد گھیرا تنگ:روسی وزیر خارجہ احتجاجا مشترکہ پریس کانفرنس چھوڑ کر چلے گئے،اطلاعات ہیں کہ یوکرین کے معاملے پرروس کوتنقید کا نشانہ بنانے پرروسی وزیرخارجہ سرگئی لاروف برطانوی ہم منصب کے ساتھ کی جانے والی پریس کانفرنس چھوڑ کر چلے گئے۔یہ منظراس قدر اہمیت اختیار کرگیا کہ دنیا بھر میں اس حوالے سے چہ میگوئیاں جاری ہیں‌

    برطانوی میڈیا کے مطابق یوکرین کے مسئلے پربرطانوی تنقید سے ناراض روسی وزیرخارجہ سرگئی لاروف برطانوی وزیرخارجہ لز ٹریس کے ساتھ کی جانے والی مشترکہ پریس کانفرنس چھوڑ کرچلے گئے۔ کچھ منٹوں کے بعد برطانوی وزیرخارجہ بھی کانفرنس ہال سے چلی گئی۔برطانوی اور امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں برطانیہ کی وزیرخارجہ، دولت مشترکہ اورترقیاتی امورکی وزیرلزٹریس یوکرین کے مسئلے پرمذاکرات کے لئے ماسکو پہنچی تھیں۔

    برطانوی وزیرخارجہ لز ٹریس کا کہنا تھا کہ انہوں نے روس کوآگاہ کیا ہے کہ یوکرین کے معاملے پراسے پڑوسی کی سرحد عبور کرنے سے باز رہنا اورسرد جنگ جیسے رویے سے گریز کرنا ہوگا۔انہوں نے ماسکو کو خبردارکیا کہ وہ یوکرین کے مسئلے پردنیا کوبیوقوف بنانے کی کوششیں نہ کرے۔روسی وزیرخارجہ نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے کہا کہ برطانوی وزیرکے ساتھ ملاقات ایسی رہی جیسے کسی گونگے اوربہرے سے ملاقات کی جائے۔

    سرگئی لاروف کا ٹویٹ میں مزید کہنا تھا کہ ایک برطانوی عہدیدارنے ماسکو کا دورہ ایسے کیا جیسے برطانوی سامراج میں حکام اپنے مفتوحہ علاقوں کا دورہ کرتے تھے۔سرگئی لاروف کا کہنا تھا کہ مغربی طاقتیں روس کویوکرین سے متعلق ڈرانے اوردھمکیاں دینے سے باز رہیں۔

    دوسری طرف امریکہ اور نیٹو اتحادی اس وقت یوکرائن کے ساتھ مکمل تعاون کررہے ہیں اور بھر پور فوجی امداد دے رہے ہیں ،کہا جارہا ہے کہ ان اقدامات سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ امریکہ ار اتحادی اس صورت حال میں ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹیں‌گے جنگ سے بچنے کے لیے روس کو ہی حکمت عملی کے تحت واپس جانا پڑے گا یا پھرٹکراو کے لیے تیار رہنا ہوگا

  • چین کےصدرسےملاقات بہت اچھی رہی:دفاعی اوراقتصادی      حکمت عملی پربھرپوراتفاق بھی کیا:وزیراعظم عمران خان

    چین کےصدرسےملاقات بہت اچھی رہی:دفاعی اوراقتصادی حکمت عملی پربھرپوراتفاق بھی کیا:وزیراعظم عمران خان

    اسلام آباد :‘چین کےصدر سے ملاقات بہت اچھی رہی:دفاعی اوراقتصادی حکمت عملی پربھرپوراتفاق بھی کیا:اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ چین کےصدرشی جن پنگ سےملاقات شاندار رہی۔

    وزیراعظم عمران خان نے چینی صدر سےملاقات کی فوٹیج کےساتھ ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا کہ یہ ملاقات بہت اچھی رہی ہم نے اسٹرٹیجک اوراقتصادی تعلقات کومزیدفروغ دینےپر اتفاق کیا۔

    وزیراعظم نے لکھا کہ ملاقات میں سی پیک کے دوسرے مرحلے میں تیزی لانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔

    قبل ازیں وزیراعظم عمران خان اور چینی صدر شی جن پنگ کی ملاقات کا اعلامیہ جاری کر دیا گیا۔ دونوں عالمی رہنماؤں کی ملاقات بیجنگ کے گریٹ ہال آف پیپل میں ہوئی، اکتوبر 2019میں وزیراعظم کے دورہ چین کےبعد دونوں رہنماؤں کی پہلی ملاقات تھی۔

    اعلامیہ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے پاک چین دوطرفہ تعاون کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا اور خوشگوار ماحول میں باہمی دلچسپی کے علاقائی اور عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا، وزیراعظم عمران خان نے اولمپک سرمائی کھیلوں کی کامیاب میزبانی پر چینی قیادت کو مبارکباد دی اور چین کے نئے قمری سال پر چینی عوام کے لئےنیک خواہشات کا بھی اظہار کیا۔

    یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان کے دورے کو چینی میڈیا بہت اہم قراردے رہا ہے اور یہ توقع کی ہے کہ پاکستان اور چین کے درمیان دفاعی ، خارجہ اور اقتصادی تعلقات ایک نئے دور میں داخل ہورہے ہیں ، چینی صدر وزیراعظم عمران خان کی گفتگو سُن کر بہت ہی متاثر ہوئے ہیں

  • "آجاؤخان جی تہانوں اکھیاں وڑیکدیاں”روسی صدرکی دعوت :وزیراعظم عمران خان کا تاریخی دورہ روس

    "آجاؤخان جی تہانوں اکھیاں وڑیکدیاں”روسی صدرکی دعوت :وزیراعظم عمران خان کا تاریخی دورہ روس

    سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان رواں ماہ روس کا تاریخی دورہ کریں گے، وزیراعظم روس کا دوطرفہ دورہ کرنے والے 23سال میں پہلے وزیراعظم ہونگے، وزیراعظم عمران خان دورہ روس، روسی صدر پیوتن کی دعوت پر کر رہے ہیں۔

    سفارتی ذرائع کے مطابق دورہ میں وزیراعظم عمران خان کے ہمراہ اعلیٰ سطح وفد بھی انکے ہمراہ جائے گا، دورہ روس فروری کے آخر میں کیا جائے گا، دورہ سے متعلق حتمی شیڈیولنگ کا سلسلہ جاری ہے،
    دفتر خارجہ کے ذرائع نے ڈیلی ٹائمز کو بتایا کہ وزیر اعظم عمران خان رواں ماہ کے آخری ہفتے میں روس کا تاریخی دورہ کرنے والے ہیں تاکہ مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے پر بات چیت کی جا سکے۔

    ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ وزیراعظم اپنے دورے کے دوران روسی صدر ولادیمیر پوٹن سے ملاقات کریں گے۔ بات چیت میں معیشت، تجارت، دفاع اور توانائی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر توجہ دی جائے گی۔

    وزیراعظم دورہ روس میں دوطرفہ تعلقات، نارتھ ساؤتھ گیس پائپ لائن جسے اسٹریٹجک اسٹریم گیس پائپ لائن منصوبہ بھی کہا جاتا ہے ، جو پہلے نارتھ ساؤتھ پائپ لائن کے نام سے جانا جاتا تھا، بھی بات چیت کے ایجنڈے میں شامل ہوگا اور توقع ہے کہ ماسکو میں دونوں فریقین کے درمیان وفود کی سطح کے دوران اس منصوبے پر عمل درآمد کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جائے گا۔ 2.5 بلین ڈالر کا پائپ لائن منصوبہ کراچی اور گوادر کے مائع قدرتی گیس (LNG) ٹرمینلز سے بڑے شمال وسطی شہر لاہور تک ہر سال 12.3 بلین کیوبک میٹر (bcm) قدرتی گیس کی ترسیل کو محفوظ بنائے گا۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ منصوبہ ماسکو اور اسلام آباد کے درمیان 1970 کی دہائی کے وسط سے شروع کیا جانے والا پہلا اتنے بڑے پیمانے پر اقتصادی اقدام ہوگا۔

    اگرچہ پاکستان اور روس کے درمیان مختلف سطحوں پر تعلقات میں نمایاں بہتری آئی ہے لیکن 2003 میں سابق صدر پرویز مشرف کے دورہ ماسکو کے بعد سے یہ وزیراعظم عمران خان کا پہلا دورہ ہوگا۔اس پس منظر میں اس دورے کو بہت اہمیت دی جا رہی ہے جس سے دو طرفہ تعلقات اور مختلف شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے کی نئی شروعات متوقع ہے۔

    حالیہ ٹیلی فونک گفتگو میں وزیراعظم عمران خان اور روسی صدر ولادی میر پیوٹن دونوں نے بھی اپنے تعاون کو مزید تقویت دینے پر اتفاق کیا۔

    دفتر خارجہ کے ذرائع نے یقین ظاہر کیا کہ روسی صدر کا رواں سال کے آخر تک دورہ پاکستان کا بھی امکان ہے جو دوطرفہ تعلقات میں ایک تاریخی لمحہ ہوگا اور اسے مزید بلندی کی جانب لے جانے میں مدد ملے گی۔

    خیال رہے کہ آخری بار کسی پاکستانی وزیراعظم نے دو طرفہ دورہ روس سنہ 1999 میں کیا تھا،سابق صدر آصف علی زرداری نے بطور صدر آخری مرتبہ روس کا دوطرفہ دورہ کیا تھا جو سنہ 2011 میں ہوا۔

  • روس نے یوکرین پر حملے کی 70 فیصد تیاری مکمل کرلی، امریکی حکام

    روس نے یوکرین پر حملے کی 70 فیصد تیاری مکمل کرلی، امریکی حکام

    ماسکو:روس نے یوکرین پر حملے کی 70 فیصد تیاری مکمل کرلی،اطلاعات کے مطابق امریکا نے کہا ہے کہ روس یوکرین پر آئندہ چند ہفتوں میں حملہ کرسکتا ہے جس کے لیے اس نے 70 فیصد تک تیاری مکمل کرلی ہے۔

    امریکی میڈیا کے مطابق نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر امریکی حکام نے انہیں بتایا کہ یوکرین تنازع پر روس حملہ کرنے کے لیے تیار ہے، وہ جنگی تیاریوں کے لیے فروری کے وسط تک مزید بھاری ہتھیار اور سامان یوکرین کی سرحد تک منتقل کرسکتا ہے۔

    اس حوالے سے دو امریکی حکام نے عالمی خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ 15 فروری سے مارچ کے اختتام تک کا موسم روس کو بھاری جنگی سازو سامان سرحدوں تک منتقلی کے لیے پیک ٹائم ہوگا۔
    امریکی حکام نے اپنے الزامات کے حوالے سے کوئی شواہد پیش نہیں کیے اور کہا کہ یہ معلومات خفیہ اطلاعات کے سبب حاصل ہوئی ہیں، معاملہ حساس ہونے کے سبب وہ امریکی میڈیا کو اس ضمن میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کرسکتے۔

    واضح رہے کہ روس نے یوکرین کی سرحد کے نزدیک ایک لاکھ فوجی اہلکار تعینات کررکھے ہیں تاہم روس نے یوکرین پر حملے کے خدشے کو مسترد کردیا ہے۔

    ادھر امریکا نے بھی اس جنگ میں کودنے کا فیصلہ کرلیا ہے،یوکرائن تنازع کے چلتے امریکی فوجی کمک کا پہلا دستہ پولینڈ پہنچ گیا ہے۔ امریکی صدر کا کہنا ہے کہ مزید دستے بھی جلد بھیجے جائیں گے۔

    اطلاعات کے مطابق امریکی صدر جو بائیڈن نے اسی ہفتے اعلان کیا تھا کہ وہ مغربی اتحادی ممالک کی مدد کے لیے مشرقی یورپ میں مزید امریکی فوجی روانہ کریں گے۔

    وا ضح رہے، امریکی صدر جو بائیڈن نے اسی ہفتے اعلان کیا تھا کہ وہ مشرقی یورپ کے لیے فوجی روانہ کریں گے۔ مغربی ممالک کو یقین ہے کہ روس یوکرائن پر ایک نیا حملہ کرنے والا ہے۔

    دریں اثناء پولش آرمی نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ امریکی فوجیوں پر مشتمل پہلا دستہ ہفتے کے دن وارسا پہنچ گیا ہے۔

    یہ امریکی فوجی مشرقی یورپ میں پہلے سے ہی تعینات مغربی عسکری دفاعی اتحاد نیٹو کے فوجیوں میں شامل ہو جائیں گے ۔ جب کہ مزید سترہ سو امریکی فوجی جلد ہی پولینڈ روانہ رہے ہیں۔

    مقامی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ان فوجیوں کی رہائش کا انتظام جاسیوانکا میں کیا گیا ہے، جہاں عارضی شیلٹر ہاؤسز بنائے گئے ہیں۔ علاقے کو رکاوٹیں لگا کر عام شہریوں کی آمدورفت کے لیے بھی بند کر دیا گیا ہے۔

    یاد رہے، پولینڈ میں پہلے سے تعینات امریکی فوجیوں کی تعداد تقریبا ساڑھے چار ہزار بنتی ہے۔ امریکی صدر جو بائیڈن کے مطابق مشرقی یورپ میں نیٹو اتحادی ممالک کی عسکری مدد کے لیے مزید تین ہزار فوجیوں پر مشتمل ایک دستہ روانہ کیا جائے گے۔

    امریکی اور اس کے مغربی اتحادی ممالک کا دعویٰ ہے کہ روس نے یوکرائن کی سرحد پر ایک لاکھ کے لگ بھگ فوجی تعینات کر رکھے ہیں او وہ یوکرائن میں فوجی کارروائی کا منصوبہ رکھتا ہے۔

    تاہم ماسکو حکومت مسلسل ان الزامات کو مسترد کر رہی ہے۔ روس کا کہنا ہے کہ وہ جنگ نہیں چاہتا لیکن اپنے مفادات پر سمجھوتا بھی نہیں کرے گا۔ روسی صدر نے اسی ہفتے کہا کہ مغربی ممالک کے اقدامات ان کو جنگ پر مجبور کررہے ہیں۔

    یوکرائنی صدر وولودومیر زیلنسکی نے حال ہی میں یہ الزام عائد کیا تھا کہ مغربی ممالک روسی حملے کے خطرے کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہے ہیں، جو غلط ہے۔ اسی طرح ترک صدر رجب طیب ایردوان نے بھی اپنے دورہ یوکرائن کے بعد اسی ہفتے کہا تھا کہ یوکرائن پر روسی حملوں کے خطرات کے امریکی تجزیوںکے باعث تناؤمیں شدت آرہی ہے۔

    ترک صدر کا مزید کہنا تھا کہ مغربی ممالک نے یوکرائنی بحران کو زیادہ سنگین بنایا ہے جبکہ امریکی صدر جو بائیڈن اس تناظر میں مناسب ردعمل ظاہر کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

  • یوکرائن تنازع، امریکی فوجی کمک کا پہلا دستہ پولینڈ پہنچ گیا:بلجیئم میں‌ ممکنہ جنگ کے خلاف مظاہرے

    یوکرائن تنازع، امریکی فوجی کمک کا پہلا دستہ پولینڈ پہنچ گیا:بلجیئم میں‌ ممکنہ جنگ کے خلاف مظاہرے

    یوکرائن تنازع کے چلتے امریکی فوجی کمک  کا پہلا دستہ پولینڈ پہنچ گیا ہے۔ امریکی صدر کا کہنا ہے کہ مزید دستے بھی جلد بھیجے جائیں گے۔

    اطلاعات کے مطابق امریکی صدر جو بائیڈن نے اسی ہفتے اعلان کیا تھا کہ وہ مغربی اتحادی ممالک کی مدد کے لیے مشرقی یورپ میں مزید امریکی فوجی روانہ کریں گے۔

    وا ضح رہے، امریکی صدر جو بائیڈن نے اسی ہفتے اعلان کیا تھا کہ وہ مشرقی یورپ کے لیے فوجی روانہ کریں گے۔ مغربی ممالک کو یقین ہے کہ روس یوکرائن پر ایک نیا حملہ کرنے والا ہے۔

    دریں اثناء پولش آرمی نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ امریکی فوجیوں پر مشتمل پہلا دستہ ہفتے کے دن وارسا پہنچ گیا ہے۔

     

    یہ امریکی فوجی مشرقی یورپ میں پہلے سے ہی تعینات مغربی عسکری دفاعی اتحاد نیٹو کے فوجیوں میں شامل ہو جائیں گے ۔ جب کہ مزید سترہ سو امریکی فوجی جلد ہی پولینڈ روانہ رہے ہیں۔

    مقامی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ان فوجیوں کی رہائش کا انتظام جاسیوانکا میں کیا گیا ہے، جہاں عارضی شیلٹر ہاؤسز بنائے گئے ہیں۔ علاقے کو رکاوٹیں لگا کر عام شہریوں کی آمدورفت کے لیے بھی بند کر دیا گیا ہے۔

    یاد رہے، پولینڈ میں پہلے سے تعینات امریکی فوجیوں کی تعداد تقریبا ساڑھے چار ہزار بنتی ہے۔ امریکی صدر جو بائیڈن کے مطابق مشرقی یورپ میں نیٹو اتحادی ممالک کی عسکری مدد کے لیے مزید تین ہزار فوجیوں پر مشتمل ایک دستہ روانہ کیا جائے گے۔

    امریکی اور اس کے مغربی اتحادی ممالک کا دعویٰ ہے کہ روس نے یوکرائن کی سرحد پر ایک لاکھ کے لگ بھگ فوجی تعینات کر رکھے ہیں او وہ یوکرائن میں فوجی کارروائی کا منصوبہ رکھتا ہے۔

    تاہم ماسکو حکومت مسلسل ان الزامات کو مسترد کر رہی ہے۔ روس کا کہنا ہے کہ وہ جنگ نہیں چاہتا لیکن اپنے مفادات پر سمجھوتا بھی نہیں کرے گا۔ روسی صدر نے اسی ہفتے کہا کہ مغربی ممالک کے اقدامات ان کو جنگ پر مجبور کررہے ہیں۔

    یوکرائنی صدر وولودومیر زیلنسکی نے حال ہی میں یہ الزام عائد کیا تھا کہ مغربی ممالک روسی حملے کے خطرے کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہے ہیں، جو غلط ہے۔ اسی طرح ترک صدر رجب طیب ایردوان نے بھی اپنے دورہ یوکرائن کے بعد اسی ہفتے کہا تھا کہ یوکرائن پر روسی حملوں کے خطرات کے امریکی تجزیوںکے باعث تناؤمیں شدت آرہی ہے۔

    ترک صدر کا مزید کہنا تھا کہ  مغربی ممالک نے یوکرائنی بحران کو زیادہ سنگین بنایا ہے جبکہ امریکی صدر جو بائیڈن اس تناظر میں مناسب ردعمل ظاہر کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

    یوکرائن بحران پر نیٹو اور روس کے درمیان کشیدگی کے خلاف یورپی جنگ مخالف اتحاد کی جانب سے بیلجیئم کے دارالحکومت برسلز میں ایک احتجاجی مظاہرہ ہوا۔

    مظاہرین نے ممکنہ یوکرائن جنگ اور نیٹو کے خلاف جبکہ ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے نعروں پر مبنی بینر اور پلے کارڈ اٹھائے ہوئے تھے۔مظاہرے کے شرکاء کا کہنا تھا کہ یوکرائن کے مسئلے پر متوقع جنگ امریکی، یورپی اور روسی سامراج کی سازش ہے۔

    احتجاج میں شریک ایک شخص نے کہا کہ یہ جنگ عالمی سرمایہ دارانہ نظام کے عوام دشمن معاشی مفادات کو بے نقاب کر رہی ہے۔ اُنہوں نے الزام عائد کیا کہ دراصل یہ اسلحے کی فروخت کے لیے کی جانے والی جنگ ہے۔

    مظاہرے میں شامل ایک خاتون نے کہا کہ اربوں ڈالرز جنگ کی بجائے اسکولوں، ہسپتالوں اور ویکسینیشن کی تحقیق پر خرچ کرنے چاہئیں اور یوکرائن تنازع بات چیت سے حل کیا جانا چاہیے۔

    روس کی تقریباً ایک لاکھ فوج بھاری فوجی ساز و سامان کے ساتھ یوکرائن کی مشرقی سرحد کے گرد جمع ہے۔ یوکرائن کے مشرقی سرحدی علاقوں میں روسی بولنے والوں کی اکثریت آباد ہے اور وہاں یوکرائن حکومت کے خلاف 2014ء سے شورش جاری ہے۔

    دوسری جانب امریکا اور برطانیہ نے مشرقی یورپ میں نیٹو افواج کو متحرک کرنا شروع کر دیا ہے اور اسٹونیا میں آرٹلری اور جدید جنگی طیارے پہنچا دیے ہیں تاکہ روس کے خلاف کسی ردعمل کے لیے تیار رہا جائے۔

    اِسی تناظر میں مظاہرین کو خدشہ ہے کہ یورپ میں ایک بڑی جنگ کا آغاز ہوسکتا ہے۔

    یورپی جنگ مخالف محاذ کے مظاہرے میں شامل دوسری جنگ عظیم سے متاثرہ ایک شخص کا کہنا تھا کہ مظاہرے میں شرکت کا مقصد یورپی رہنماؤں کو یہ باور کرانا ہے کہ جنگ تباہی اور بربادی کے سوا کچھ نہیں لاتی۔

    مظاہرے میں بچوں سمیت شریک ایک خاندان کا کہنا تھا یورپ دو بڑی جنگوں کا خمیازہ بھگت چکا ہے اور اب مزید کسی جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

  • بھارت مکاری کا شہنشاہ:چین کے خلاف امریکہ کا اتحادی: یوکرین پرامریکہ کا مخالف

    بھارت مکاری کا شہنشاہ:چین کے خلاف امریکہ کا اتحادی: یوکرین پرامریکہ کا مخالف

    لاہور:بھارت مکاری کا شہنشاہ:مفاد پرمبنی پالیسیاں:چین کے خلاف امریکہ کا اتحادی:یوکرین پرامریکہ کا مخالف، بھارت نے اپنی پالیسی کو مفاد پرستی کا محور بنا لیا ہے اور ملکوں کو کرنا بھی ایسے ہی چاہیے لیکن بھارت نے جو خارجہ پالیسی اب اپنائی ہےوہ بھارت مخالف ملکوں کے لیے ایک مثال ہے ،

    جیسے جیسے یوکرین کا بحران بڑھ رہا ہے، کچھ عرصہ پہلے تک، یہ زیادہ تر عمل میں غائب تھا۔ لیکن منگل کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (یو این ایس سی) میں اس بارے میں ووٹنگ ہوئی کہ آیا اس بحران پر بات کرنے کے لیے اجلاس منعقد کیا جائے، نئی دہلی کا جھکاؤ ماسکو کی طرف دیکھا گیا۔

    جب کہ روس اور چین نے متوقع طور پر کوئی ووٹ نہیں ڈالا، ہندوستان (کینیا اور گیبون کے ساتھ) نے پرہیز کرتے ہوئے اجلاس کے لیے امریکی قیادت کے دباؤ کی حمایت نہیں کی۔ چونکہ اجلاس کی منظوری کے لیے 15 رکنی کونسل میں نو مثبت ووٹوں کی ضرورت تھی، لہٰذا ہندوستان کی عدم شرکت کا واضح مطلب روس کے ساتھ کھڑا ہونا تھا ، بھارت نے امریکی خواہش پر پانی پھیر دیا ۔

    یہ ایک فیصلہ ہے جس نے امریکہ جہاں اوقات بتادی ہے وہاں امریکہ کو اپنی خارجہ پالیسی بدلنے کے لیے کچھ اشارے بھی دیئے ہیں

    ویسے بھی ابھی ہندوستان نے یو این ایس سی میں ایک غیر مستقل رکن کے طور پر ابھی دو سال کا سفر شروع کیا ہے ، جہاں اس سے بڑے پیمانے پر توقع کی جارہی تھی کہ وہ امریکی قیادت والے اتحاد کے ساتھ مل کر کام کرے گا اور چین کا مقابلہ کرے گا۔ لیکن معاملات بالکل مختلف نکلے ہیں۔ تازہ ترین یو این ایس سی ووٹنگ ایک دوسرے کی ایڑیوں پر، موسمیاتی تحفظ پر، جس میں ہندوستان نے کھل کر روس کے ساتھ اور امریکہ کے خلاف ووٹ دیا۔ اس بحث کے دوران، نئی دہلی، ماسکو، اور بیجنگ نے حکمت عملی پر قریبی تعاون کیا، جس میں ایک متبادل قرارداد پیش کرنا بھی شامل ہے جس نے امریکی زیرقیادت ایک کے بنیادی احاطے کو چیلنج کیا۔

    واشنگٹن میں اسٹیبلشمنٹ پر مبنی تجزیہ کاروں نے امریکہ اور ہندوستان کے تعلقات کے بارے میں بہت کچھ لکھا اور کہا گیا ہے۔ واشنگٹن کا سخت حریف ماسکو نئی دہلی کا پرانا ساتھی اور دوست بھی ہے، جس کا دفاع اور توانائی کی تجارت اور سرمایہ کاری میں گہرا باہمی انحصار اور مشترکہ مفادات ہیں۔تازہ ہندوستانی فیصلے نے پرانے رشتوں کو ایک بار پھر تازہ کردیا ہے

    روس اور ہندوستان کے درمیان قربت میں اضافے کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ولادیمیر پیوٹن کے حالیہ دورہ نئی دہلی کے دوران ان کا کھلے عام استقبال کیا گیا اور امریکی دباؤ کے باوجود اہم معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔ روسی رہنما کے دورے کو ترجیح دیتے ہوئے، بھارت نے اپنے متعلقہ وزرائے خارجہ اور دفاع کے درمیان امریکہ اور بھارت کے اہم مذاکرات کو بھی روک دیا۔

    روس کی طرف سے گرم جوشی جوشی کا مثبت جواب دیتے ہوئے ہندوستان بھی آگے بڑھا اور 2017 کے CAATSA قانون کے تحت امریکی حکام کی طرف سے پابندیوں کی پردہ پوشی کی دھمکیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے، جدید ترین S-400 فضائی دفاعی نظام کی روس سے ترسیل لی۔

    یہ بھی امریکہ کے لیے بڑی حیرانی کی بات ہےکہ بھارت یعنی ہدوستان کے لیے امریکہ ایک نرم گوشہ رکھتا ہے لیکن وہی بھارت دوسری طرف امریکی مخالف اتحاد کے ساتھ محبت کے رشتے بھی قائم کرتا ہے، جوبائیڈن انتظآمیہ بھی بہت بڑی مشکل میں جہاں بھارتی نژاد نائب صدر کملا ہارس کو بھی پریشانی کا سامنا ہے کہ بھارت امریکہ کی پیشکش سے کیوں دور ہوتا ہے

    بعض تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ صرف یوکرین کا بحران ہی امریکہ اور بھارت کے اتحاد کی نئی حدود متعین کرنا کا اشارہ ہے۔ جب واشنگٹن، کینبرا، اور لندن نے واضح طور پر فوجی معاہدے AUKUS کے قیام کا اعلان کیا، ہندوستان نے اس اقدام سے خود کو تیزی سے دور کر لیا۔ بھارت اور چین کے درمیان کشیدگی بدستور بڑھ رہی ہے، جیسا کہ حال ہی میں اولمپکس پر ان کے جھگڑے سے ظاہر ہوتا ہے۔ دو طرفہ ترتیبات میں چین پر سخت تنقید کرتے ہوئے، نئی دہلی نے تاہم ساتھ ہی ساتھ کواڈ کے چین مخالف دباؤ کو بھی محدود کر دیا ہے، اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ یہ معاہدہ کسی چیز کے لیے ہے نہ کہ کسی کے خلاف ہے ، اس کا مطلب واضح ہے کہ بھارت کی نظرین چین پر نہیں بلکہ پاکستان کو خطرہ سمجھ رہا ہے

  • یوکرین تنازعہ:روس اورچین کا اتحاد،امریکہ سُن کرسیخ پا ہوگیا

    یوکرین تنازعہ:روس اورچین کا اتحاد،امریکہ سُن کرسیخ پا ہوگیا

    بیجنگ :یوکرین تنازعہ:روس اورچین کا اتحاد،امریکہ سُن کرسیخ پا ہوگیا،اطلاعات کے مطابق چین اور روس نے ایک دوسرے سے تعاون بڑھانے، خارجہ پالیسی میں ایک دوسرے کا ساتھ دینے کے ساتھ نیٹو کی مزید توسیع کی مخالفت کر دی۔

    غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق چین اور روس کے صدور کی بیجنگ میں ملاقات ہوئی جس کا مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیا گیا ہے۔

    اعلامیے کے مطابق چین اور روس خارجہ پالیسی میں ایک دوسرےکی حمایت کریں گے کیونکہ کوئی بھی ملک دوسروں کی قیمت پر اپنی سلامتی کو بہتر نہیں کر سکتا، دونوں ممالک نے بیرونی مداخلت ناکام بنانے کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کو تیز کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔

    مشترکا اعلامیے میں چین اور روس کی جانب سے نیٹو کی مزید توسیع کی مخالفت کی گئی ہے اور نیٹو سے سردجنگ کی سوچ سے پیچھے ہٹنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

    روس اور چین نے امریکا کے بائیولوجیکل وار فیئر پروگرام پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے معاملے پر رابطے بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ روس اور چین خلا میں ملٹرائزیشن روکنے کے لیے مل کر کام کریں گے۔

    مشترکہ اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ روس تصدیق کرتا ہے کہ تائیوان چین کا حصہ ہے جبکہ چین نے روس کے مغربی ممالک سے سکیورٹی گارنٹی مطالبے کی حمایت کی ہے۔

    دوسری طرف امریکہ کو اس وقت سخت ندامت کا سامنا کرنا پڑا ہے جب چین نے امریکہ کی طرف سے یوکرین کے معاملے پر روس کوسمجھانے کی پیش کش کی مگر چین نے سمجھانے کی بجائے روس کی حمایت کا اعلان کردیا ، جس کی وجہ سے اب معاملات مزید پچیدہ نظرآتے ہیں‌

    بعض دفاعی ماہرین کا کہنا ہےکہ ان حالات میں امریکہ یوکرین کے معاملے پر پسپائی اختیار نہیں کرے گا اور ہر صورت یوکرین کو نیٹو کا حصہ بنا

  • روس ، یوکرین تنازعہ :امریکی افواج کی پیش قدمی:جرمنی اورپولینڈ میں ہزاروں فوجی پہنچا دیئےگئے

    روس ، یوکرین تنازعہ :امریکی افواج کی پیش قدمی:جرمنی اورپولینڈ میں ہزاروں فوجی پہنچا دیئےگئے

    واشنگٹن:روس ، یوکرین تنازعہ :امریکی افواج کی پیش قدمی جرمنی اورپولینڈ میں ہزاروں فوجی پہنچا دیئے گئے،اطلاعات کے مطابق امریکی محکمہ دفاع(پینٹاگان) نے انکشاف کیا ہے کہ صدر جو بائیڈن اس ہفتے نارتھ کیرولینا کی ریاست میں واقع فورٹ بریگ سے تقریباً دو ہزار فوجی پولینڈ اور جرمنی بھجوا رہے ہیں جب کہ جرمنی میں موجود اندازاً ایک ہزار فوجیوں کو رومانیہ روانہ کیا جائے گا. امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق پینٹاگان کے پریس سیکرٹری جان کربی نے بتایا ہے کہ امریکہ کی طرف سے مشرقی یورپ میں تعنیات کے لیے فورسرز کے بھجوائے جانے کامقصد امریکہ اور اتحادیوں کے دفاعی پوزیشن کو مستحکم کرنا ہے.

    پینٹاگان کے پریس سیکرٹری جان کربی نے کہا کہ یہ فوجی یوکرین میں داخل نہیں ہوں گے اس سے قبل صدر جو بائیڈن بھی یہ بات کہہ چکے ہیں کہ وہ روس کے کسی حملے کو روکنے میں مدد کے لیے امریکی فوج کو یوکرین میں تعینات نہیں کریں گے تاہم امریکہ یوکرین کو اپنے دفاع کے لیے اسلحے کی رسد فراہم کر رہا ہے فوج بھیجنے کا یہ اقدام ایسے میں سامنے آیا ہے جب یوکرین کی سرحدوں پر روس کی فوج کی تعیناتی کے معاملے پر بات چیت تعطل کا شکار ہے.

    اس معاملے پر یورپ میں یہ خوف بڑھتا جا رہا ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پوٹن یوکرین پر جارحیت کے لیے تلے ہوئے ہیں مشرقی یورپ میں واقع نیٹو کے ارکان کو خدشہ ہے کہ کسی بھی وقت ان کی بھی باری آ سکتی ہے، حالانکہ روس نے کہا ہے کہ وہ تنازع کے آغاز کا ارادہ نہیں رکھتا اور سفارتی کوششیں جاری رکھنے پر تیار ہے. امریکی انتظامیہ کے ایک عہدے دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پردفاعی اقدامات پر بات کی جن کا ابھی باقاعدہ طور پر اعلان نہیں کیا گیا حالیہ دنوں کے دوران بائیڈن یہ کہہ چکے ہیں کہ دفاعی اتحاد کے رکن کی حیثیت سے وہ چاہیں گے کہ مشرقی یورپ میں نیٹو کے اتحادیوں کو امریکی عزم کی یقین دہانی کا اعادہ کیا جائے کہ وہ اضافی امریکی فوج روانہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں.

    پینٹاگان نے تقریباً 8500امریکی فوج کو چوکنا کردیا ہے جنہیں ممکنہ طور پر یورپ میں تعینات کیا جاسکتا ہے اور اہل کاروں نے اس بات کا عندیہ دیا ہے کہ مزید فوجی دستوں کو ہائی الرٹ پر رکھ دیا گیا ہے پہلے ہی یورپ میں امریکہ کے 75000سے 80000 فوجی مستقل طور پر تعینات ہیں. ایک اطلاع کے مطابق متوقع طور پر برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن بدھ کے روز روسی صدر ولادیمیر پوٹن سے ٹیلی فون پر رابطہ کر رہے ہیں جو مسئلے کو سفارتی طور پر حل کرنے کی تازہ ترین کوشش ہے

  • روس سےتنازع:امریکی صدرکامشرقی یورپ میں ہزاروں فوجیوں کی تعیناتی کا حکم:روس بھی پیشقدمی کرنےلگا

    روس سےتنازع:امریکی صدرکامشرقی یورپ میں ہزاروں فوجیوں کی تعیناتی کا حکم:روس بھی پیشقدمی کرنےلگا

    واشنگٹن:روس سے تنازع؛ امریکی صدر کا مشرقی یورپ میں ہزاروں فوجیوں کی تعیناتی کا حکم:روس بھی پیشقدمی کرنے لگا ،اطلاعات کے مطابق یوکرائن کے مسئلے پر روس سے پیدا ہونے والے تنازع پر امریکی صدر جوبائیڈن نے مشرقی یورپ میں ہزاروں فوجیوں کی تعیناتی کا حکم دیدیا۔

    وال اسٹریٹ جنرل کے مطابق یوکرائن پر روس کے ممکنہ حملے کے پیش نظر امریکی صدر جوبائیڈن نے 3 ہزار سے زائد فوجیوں کی مشرقی یورپ میں تعیناتی کا حکم دیدیا ہے۔

    وال اسٹریٹ جنرل نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فوجی پولینڈ اور جرمنی میں تعینات کیے جائیں گے جب کہ ایک ہزار کے قریب فوجیوں کو جرمنی سے رومانیہ منتقل کیا جائے گی۔
    مشرقی یورپ میں امریکی فوجیوں کی تعیناتی کا حتمی فیصلہ امریکی صدر جوبائیڈن نے وزیر دفاع اور امریکی فوج کے اعلیٰ حکام کے ساتھ اہم میٹنگ کے بعد کیا۔

    اس حوالے سے پینٹاگون کے ایک عہدیدار نے وال اسٹریٹ جنرل کو بتایا کہ تعینات کیے جانے والے فوجیوں کی اہم اور خطرناک مشن کو پورا کرنے کے لیے خصوصی تربیت دی گئی ہے جو جدید اسلحے اور ضروری ساز و سامان سے لیس ہیں۔

    خیال رہے کہ روس کے مبینہ حملے اور جارحیت کے پیش نظر امریکا اور برطانیہ نے یوکرائن کو فوجی مدد کی یقین دہانی کرائی ہے اس حوالے سے نیٹو افواج کی پہلے ہی سرحدوں پر تعینات کیا جا چکا ہے۔

    دوسری جانب روس نے یوکرائن پر حملے کو امریکا اور برطانیہ کا خطے میں مداخلت کا بہانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ من گھڑت جواز پیدا کر کے خطے پر قبضے کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔