Baaghi TV

Tag: روس

  • روس نے یوکرین پرحملہ کیا توبھاری قیمت چکانا پڑے گی، امریکی صدر

    روس نے یوکرین پرحملہ کیا توبھاری قیمت چکانا پڑے گی، امریکی صدر

    واشنگٹن: امریکی صدرجوبائیڈن نے روس کی جانب سے یوکرین پرحملے کا خدشہ ظاہرکرتے ہوئے کہا کہ ایسا ہوا توروس کوبھاری قیمت چکانا پڑے گی۔

    باغی ٹی وی : روس اور امریکہ کے درمیان کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے ، شاید یہی وجہ ہےکہ امریکہ نے روس کی دھمکی دی ہے روس یوکرین کی سرحد پر کسی بھی حرکت سے باز رہے اگر ایسا نہ ہوا تو ایسا ہوا توروس کوبھاری قیمت چکانا پڑے گی۔

    امریکہ ہمیں‌جنگ کی دھمکیاں‌ دینا بند کردے:ایسی بات ہے تو ہم تیارہیں‌:روس کا جوابی…

    امریکی صدرجوبائیڈن نے نیوزکانفرنس سے خطاب میں کہا کہ روس یوکرین پرحملہ کرسکتا ہے۔ ایسا ہواتواس کی ذمہ داری مکمل طورپرروسی صدرولادی میرپیوٹن پرعائد ہوگی۔

    امریکی صدرکا کہنا تھا کہ روس نے یوکرین میں کارروائی کی تو یہ وعدہ ہے کہ روس پراسی پابندیاں عائد کریں گے جو پہلے کبھی کسی نے نہیں دیکھی ہوں گی۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد روس کا یوکرین پرحملہ ایسا اقدام ہوگا جس کے دوررس نتائج نکلیں گے۔روس یوکرین میں کچھ کرنا چاہتا ہے اوروہ کرے گا۔

    امریکہ سرحدوں سے فوج ہٹالے ورنہ نتائج سنگین ہوں گے، روس کی دھمکی

    امریکی صدرجوبائیڈن نے مزید کہا کہ امریکا پولینڈ سمیت خطے میں اپنے فوجیوں کی تعداد بڑھا رہا ہے۔ ایسا نیٹو معاہدے کے تحت کیا جارہا ہے واضح رہے کہ روس نے 2014 میں کریمیا پرحملہ کرکے قبضہ کرلیا تھا۔

    شمالی کوریا کی ہائپرسونک میزائل تجربہ کرنے کی تصدیق،کم جونگ نے تجربے کا مشاہدہ کیا

    قبل ازیں امریکہ نے روس کی دھمکی دی تھی کہ روس یوکرین کی سرحد پر کسی بھی حرکت سے باز رہے یا پھر جنگ کےلیے تیار رہے جبکہ روس نے امریکہ کی اس دھمکی کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگرامریکہ کو جنگ کرنے کا بہت ہی شوق ہے تو ہم تیار ہیں‌، دوسری طرف یہ بھی اطلاعات ہیں کہ امریکہ اور دیگر نیٹو اتحادی اس وقت روس کے خلاف مشترکہ حکمت عملی اپنانے میں مصروف ہیں-

    دنیا روس اور امریکہ کے رحم وکرم پر:روس نے ایک بارپھرامریکی خواہشات پرپانی پھیر دیا

    امریکہ میں تعینات روسی سفیر اناتولی انتونوف نے کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے عائد کی گئی پابندیاں ہمیں خوفزدہ نہیں کرسکتیں روس کے سفیر اناتولی انتونوف کا میڈیا کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے کہنا تھا کہ امریکی کانگریس کی جانب سے روس کے خلاف نئی پابندیوں کا مطالبہ بشمول ملک کی قیادت پر پابندیاں ماسکو کو خوفزدہ نہیں کریں گی انہوں نے مزید کہا کہ ہم کسی بھی صورت امریکہ کی اپاہج پابندیوں سے خوفزدہ نہیں ہوں گے۔

    اسلامی ممالک ہماری حکومت کو تسلیم کریں، طالبان

  • ایرانی صدر کا دورہ ماسکو:امریکہ پریشان،اب کیا کرے گا ایران؟

    ایرانی صدر کا دورہ ماسکو:امریکہ پریشان،اب کیا کرے گا ایران؟

    ماسکو:ایران کے صدر ابراہیم رئیسی نے دورہ روس کو دونوں مملک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کا ٹرننگ پوائنٹ قرار دے دیا۔

    بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کے صدر ابراہیم رئیسی منصب سنبھالنے کے بعد پہلی بار روس کے دو روزہ سرکاری دورے پر ماسکو پہنچ گئے جہاں انہوں نے روسی ہم منصب ولادی میرپیوٹن سے ملاقات کی۔

    ماسکو روانگی سے قبل میڈیا سے مختصر گفتگو میں ابراہیم رئیسی نے کہا کہ روس اور ایران خطے کے دو اہم خودمختار، مضبوط اور بااثر ممالک ہیں جو قریبی تعلقات اور بات چیت سے تجارت و سلامتی کو بڑھا سکتے ہیں۔

    اس ضمن میں ایرانی صدر نے اپنے دورہ ماسکو کو دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کا ٹرننگ پوائنٹ بھی قرار دیا۔
    روسی صدر سے ملاقات میں ایرانی صدر نے کہا کہ افغانستان کی موجودہ صورتحال پرتشویش ہے روس کےساتھ مستحکم اورجامع تعلقات کےخواہاں ہیں ہم روس کےساتھ تجارتی تعلقات کاحجم بڑھانےکےخواہاں ہیں۔

    ایرانی صدر نے واضح کیا کہ عالمی پابندیوں اور امریکا و اسرائیل کی دھمکیوں سے ایران کی ترقی کا سفر نہیں رکے گا۔

  • امریکہ ہمیں‌جنگ کی دھمکیاں‌ دینا بند کردے:ایسی بات ہے تو ہم تیارہیں‌:روس کا جوابی حملہ

    امریکہ ہمیں‌جنگ کی دھمکیاں‌ دینا بند کردے:ایسی بات ہے تو ہم تیارہیں‌:روس کا جوابی حملہ

    ماسکو:امریکہ ہمیں‌جنگ کی دھمکیاں‌ دینا بند کردے:ایسی بات ہے تو ہم تیارہیں‌:روس کا جوابی حملہ ،اطلاعات کے مطابق روس اور امریکہ کے درمیان کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے اور یہ بھی اطلاعات ہیں کہ امریکہ اور اتحادیوں نے روس کو سخت سبق سکھانے کا فیصلہ کرلیا ہے ، شاید یہی وجہ ہےکہ امریکہ نے روس کی دھمکی دی ہے روس یوکرین کی سرحد پر کسی بھی حرکت سے باز رہے یا پھر جنگ کےلیے تیار رہے ،

    ادھر روس نے امریکہ کی اس دھمکی جا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگرامریکہ کو جنگ کرنے کا بہت ہی شوق ہے تو ہم تیار ہیں‌، دوسری طرف یہ بھی اطلاعات ہیں کہ امریکہ اور دیگر نیٹو اتحادی اس وقت روس کے خلاف مشترکہ حکمت عملی اپنانے میں مصروف ہیں

    دوسری طرف روس نے امریکہ کی طرف سے پابندیوں کی دھمکیوں‌ کو بھی مسترد کردیا ہے ،امریکہ میں تعینات روسی سفیر اناتولی انتونوف نے کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے عائد کی گئی پابندیاں ہمیں خوفزدہ نہیں کرسکتیں،

    روس کے سفیر اناتولی انتونوف کا میڈیا کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے کہنا تھا کہ امریکی کانگریس کی جانب سے روس کے خلاف نئی پابندیوں کا مطالبہ بشمول ملک کی قیادت پر پابندیاں ماسکو کو خوفزدہ نہیں کریں گی۔

    روسی سفارت خانے کے فیس بک پیج پر شائع ہونے والے ایک بیان کے مطابق انہوں نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ کیپیٹل ہل پر روس مخالف پابندیوں کے ساتھ ساتھ روسی فیڈریشن کی اعلیٰ قیادت کے خلاف ذاتی پابندیاں متعارف کروانے کے مطالبات اشتعال انگیز اور ناامید ہیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ ہم کسی بھی صورت امریکہ کی اپاہج پابندیوں سے خوفزدہ نہیں ہوں گے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ دنوں یوکرائنی تنازعے پر جینوا میں ہونے والے روس امریکا کے اعلیٰ سطح مذاکرات ایک بار پھر بے نتیجہ ختم ہوگئے تھے۔

    مزید پڑھیں : روس امریکا مذاکرات ایک بار پھر بے نتیجہ ختم
    روس کے نائب وزیر خارجہ سرگئی ریابکوف نے سلامتی کی ضمانتوں پر روس امریکہ کی مشاورت کے بعد کہا کہ روس اور امریکہ نیٹو کی مشرق کی جانب مزید توسیع کو روکنے کے معاملات پر کسی پیش رفت تک پہنچنے میں ناکام رہے ہیں۔

  • ایران پرامریکی پابندیوں کی مخالفت کرتے ہیں، چین کا سخت ردعمل

    ایران پرامریکی پابندیوں کی مخالفت کرتے ہیں، چین کا سخت ردعمل

    بیجنگ:ایران پرامریکی پابندیوں کی مخالفت کرتے ہیں، چین کا سخت ردعمل ،اطلاعات کے مطابق چین کا کہنا ہے کہ ایران پرامریکا کی یکطرفہ پالیسیوں کی مخالفت کرتے ہیں۔

    چینی وزیرخارجہ وانگ یی نے ایرانی ہم منصب حسین عامر سے ملاقات میں کہا کہ ایران پریکطرفہ پابندیوں کی مخالفت کرتے ہیں۔

    چینی وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ ایران کی جاری مشکلات کی ذمہ داری امریکا پرعائدہوتی ہے جس نے یکطرفہ طورپر2015میں کئے گئے ایران اورعالمی طاقتوں کے درمیان جوہری معاہدے سے علیحدگی اختیارکی۔ چین ایران سے جوہری مذاکرات کے دوبارہ شروع ہونے کا حامی ہے۔

    دوسری طرف اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے چین کے ساتھ 25 سالہ معاہدے پر عمل شروع ہونے کا اعلان کیا ہے۔

    حسین امیر عبداللھیان نے چین کے دورے کے اختتام پر کہا: فریقین اس بات پر متفق ہوئے کہ جمعہ سے جامع اسٹریٹیجک تعاون کے معاہدے پر عملدرآمد کا اعلان کریں۔

    انہوں نے اپنے چینی ہم منصب کے ساتھ تفصیلی ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس سفر میں اس بات پر اتفاق رائے ہوا کہ طرفین 25 سالہ جامع اسٹریٹیجک تعاون کے معاہدے پر عمل درآمد شروع ہونے کا اعلان کریں۔

    ایران کے وزیر خارجہ نے بتایا کہ وہ صدر جمہوریہ ایران کا مکتوب پیغام انکے چینی ہم منصب کے لئے لے کر گئے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ چین دورے پر پابندیوں کے خاتمے سے متعلق ویانا مذاکرات کے بارے میں بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔ حسین امیر عبداللھیان نے بتایا کہ ویانا میں چین اور روس کے نمائندے اسلامی جمہوریہ ایران کے ایٹمی حقوق کی حمایت اور پابندیوں کے خاتمے کے لئے مثبت کردار ادا کر رہے ہیں۔

    انہوں نے امید ظاہر کی کہ مغربی فریق بھی حقیقت پسندانہ اور ایک اچھے معاہدے کے حصول کے نکتہ نگاہ کے ساتھ ، ویانا مذکرات میں مطلوبہ سنجیدگی کا مظاہرہ کریں گے، ایسا معاہدہ جس میں ایرانی قوم کے حقوق و مفادات کو بھی مدنظر رکھا گیا ہو۔

    حسین امیر عبداللھیان نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کمترین مدت میں اچھے معاہدے کے حصول کا استقبال کرے گا لیکن یہ بات مغربی فریقوں پر منحصر ہے۔

  • امریکہ سرحدوں سے فوج ہٹالے ورنہ نتائج سنگین ہوں گے، روس کی دھمکی

    امریکہ سرحدوں سے فوج ہٹالے ورنہ نتائج سنگین ہوں گے، روس کی دھمکی

    ماسکو : امریکہ میں روس کے سفیر اناتولی انتونوف نے واشنگٹن سے مطالبہ کیا کہ وہ غیر ملکی توسیع کی جارحانہ بیان بازی کو ترک کرے اور اپنی فوجی صلاحیت کو روسی سرحدوں سے ہٹائے۔

    انہوں نے واضح الفاظ میں امریکہ کو متنبہ کیا کہ اگر فوری اقدامات نہ گئے تو بصورت دیگر نتائج کی ذمہ داری امریکا پر عائد ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس پیچھے ہٹنے کے لیے کوئی اور جگہ نہیں ہے اور نیٹو کی افواج روس کی سرحدوں تک پہنچ چکی ہیں۔

    ایلچی نے مزید کہا کہ امریکا روس کے خلاف نہ صرف زمینی بلکہ سمندر اور فضا میں بھی غلبہ حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے تاہم روس اپنے دفاع سے بالکل بھی غافل نہیں ہے۔
    .
    انتونوف نے میڈیا کو بتایا کہ امریکہ روس کے ساتھ مل کر بین الاقوامی امن اور سلامتی کے لیے ایک خصوصی ذمہ داری رکھتا ہے جیسا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر میں بیان کیا گیا ہے۔

    روسی سفارت کار نے کہا کہ یہ وقت ہے کہ غیرملکی توسیع کی جارحانہ بیان بازی کو ترک کر دیا جائے اور اس بارے میں سوچیں کہ آنے والی نسلیں کیسے ایک ساتھ رہیں گی۔

    ادھرچین، فرانس، روس، برطانیہ اور امریکا نے اس بات سے اتفاق کیا ہے کہ جوہری جنگ پر فتح حاصل نہیں کی جا سکتی اور ایسی ہلاکت خیز جنگ کبھی شروع بھی نہیں ہونی چاہیے۔

    دنیا کی پانچ جوہری طاقتوں نے تین دسمبر پیر کے روز جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے کا عہد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جوہری جنگ ہرگز کوئی متبادل نہیں ہے۔

    چین، فرانس، روس، برطانیہ اور امریکا نے مشترکہ طور پر جاری کردہ اپنے ایک غیر معمولی بیان میں کہا، ”ہم اس بات میں پختہ یقین رکھتے ہیں کہ ایسے ہتھیاروں کے مزید پھیلاؤ کو روکنا بہت ضروری ہے۔” بیان میں مزید کہا گیا، ”جوہری جنگ جیتی نہیں جا سکتی اور کبھی لڑی بھی نہیں جانی چاہیے۔” پانچوں عالمی طاقتوں نے بیان میں اس بات سے بھی اتفاق کیا کہ جب تک، ”جوہری ہتھیار موجود رہیں گے اس وقت تک وہ بس، دفاعی مقاصد کو پورا کرنے، جارحیت اور جنگ کو روکنے کے لیے ہی ہوں گے۔”

    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچوں مستقل ارکان (پی فائیو) نے، ”جوہری ہتھیاروں کی دوڑ کو جلد از جلد ختم کرنے اور جوہری تخفیف اسلحہ سے متعلق موثر اقدامات پر نیک نیتی کے ساتھ مذاکرات کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔” سبھی نے سخت اور موثر بین الاقوامی کنٹرول کے تحت عمومی اور مکمل تخفیف اسلحہ کے معاہدے پر بھی اتفاق کیا۔”

  • دنیا روس اور امریکہ کے رحم وکرم پر:روس نے ایک بارپھرامریکی خواہشات پرپانی پھیر دیا

    دنیا روس اور امریکہ کے رحم وکرم پر:روس نے ایک بارپھرامریکی خواہشات پرپانی پھیر دیا

    ماسکو :دنیا روس اور امریکہ کے رحم وکرم پر:روس نے ایک بارپھرامریکی خواہشات پرپانی پھیر دیا ،اطلاعات ہیں‌ کہ یوکرائنی تنازعے پر جینوا میں ہونے والے روس امریکا کے اعلی سطح مذاکرات ایک بار پھر بے نتیجہ ختم ہوگئے،

    دوسری طرف معتبر تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اگریہ معاملات درست نہ ہوئے تو روس اورامریکہ ایک دوسرے سے ٹکرا سکتے ہیں جس کا نتیجہ دنیا کی تباہی کے سوا کچھ نہیں ،امریکہ اور روس کو معاملات بہم رضامندی سے حل کرنے چاہیں

    روس کے نائب وزیر خارجہ سرگئی ریابکوف نے سلامتی کی ضمانتوں پر روس امریکہ کی مشاورت کے بعد کہا کہ روس اور امریکہ نیٹو کی مشرق کی جانب مزید توسیع کو روکنے کے معاملات پر کسی پیش رفت تک پہنچنے میں ناکام رہے ہیں۔

    روس کے نائب وزیر خارجہ سرگئی ریابکوف اپنے وفد کے ہمراہ جنیوا میں قائم امریکی سفارتی مشن کے دفتر پہنچے جہاں ان کے امریکی نائب وزیر خارجہ کے ساتھ مذاکرات کا آغاز ہوا۔

    نیٹو کے سربراہ نے اپنے حالیہ بیان میں روس کو وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اسے یوکرائن پر حملے کی صورت میں سنگین قیمت چکانی پڑے گی۔

    روسی نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکا نے یوکرین کو نیٹو کی ممبرشپ نہ دینے کی ضمانت نہیں دی، روس کو مضبوط ضمانت چاہیے کہ یوکرین کو کبھی نیٹو کا حصہ نہیں بنایا جائے گا جبکہ روس یوکرائن پر حملے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔

    روس کے نائب وزیر خارجہ سرگئی ریابکوف نے کہا کہ روس12 اور13 جنوری کو نیٹو اور او ایس سی ای کے ساتھ ہونے والی بات چیت کے بعد سلامتی کی ضمانتوں پر مزید اقدامات پر غور کرے گا۔

  • کل بروز پیرقزاقستان میں ایک روز عام سوگ کا اعلان

    کل بروز پیرقزاقستان میں ایک روز عام سوگ کا اعلان

    الماتے :کل بروز پیرقزاقستان میں ایک روز عام سوگ کا اعلان ،اطلاعات کے مطابق قزاقستان کی حالیہ بدامنی میں مرنے والوں کی یاد میں پیر کو عام سوگ منایا جائے گا۔ دوسری جانب صدر توکایف نے، حالیہ بدامنی میں تباہ ہونے والی سرکاری اور غیر سرکاری عمارتوں کی فوری تعمیر نو کا حکم صادر کر دیا ہے۔

    قزاقستان کے صدر کے ترجمان کے مطابق صدر قاسم جامرت تاکایف نے حالیہ بدامنی میں مرنے والوں کی یاد میں پیر کے روز عام سوگ منانے کا اعلان کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ صدر تاکایف نے حالیہ بدامنی مرنے والوں کے لواحقین کے ساتھ یکجہتی اور عوام کو اطمینان دلانے کی خاطر، ایک روزہ سوگ منانے کا فیصلہ، اعلی سطی اجلاس کے دوران کیا۔ اس اجلاس میں ملک کے اٹارنی جنرل، قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ اور وزارت دفاع کے اعلی عہدیداران شریک تھے۔

    صدر تاکایف نے اس موقع پر حالیہ بدامنی کے دوران الماتی اور دیگر شہروں میں تباہ ہونے والے سرکاری اور غیر سرکاری اداروں اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیر نو کا حکم بھی صادر کیا۔

    دوسری جانب قزاقستان کی وزارت داخلہ نے بتایا ہے کہ حالیہ بدامنی میں ملوث کم سے کم چار ہزار افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ گرفتار شدگان کی بڑی تعداد کا تعلق الماتی سے بتایا جاتا ہے۔

    وزارت داخلہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ گرفتار شدگان میں پیشتر کو عمر قید کی سزا دی جا سکتی ہے۔ مائع گیس کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف ہونے والے مظاہروں کے دوران دیگر شہروں کے مقابلے میں الماتی سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔

    مظاہروں کے پرتشدد شکل اختیار کرجانے کے بعد ، سی ایس ٹی او ممالک کی امن فوج قزاقستان پہنچی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ امن فوج کے آنے کے بعد قزاقستان کی کشیدگی میں کمی واقع ہوئی ہے۔

    قزاقستان میں ایل پی جی قیمتوں میں دوگنا اضافے کے بعد دو جنوری کو بڑے پیمانے پر مظاہرے شروع ہو گئے تھے۔ اگرچہ صدر توکایف نے ایل پی جی کی پرانی قیمت بحال کرنے سمیت دوسرے اقدامات کا اعلان کیا تھا لیکن اس کے باوجود مظاہرے پرتشدد شکل اختیار کر گئے تھے۔

    ایران اور چین نے قزاقستان کے حالیہ واقعات میں بیرونی مداخلت کا امکان ظاہر کیا ہے۔ چین نے بڑے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ مغربی ممالک ایک بار پھر قزاقستان میں انیس سو نوے جیسے رنگین انقلابات کا ڈرامہ دوبارہ رچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

  • روس کا امریکہ کو منہ توڑ جواب:امریکی دیکھتے ہی رہ گئے

    روس کا امریکہ کو منہ توڑ جواب:امریکی دیکھتے ہی رہ گئے

    روس نے امریکی سیکریٹری خارجہ انتھونی بلنکن کے بیان پر شدید غصے کا اظہار کیا ہے۔انتھونی بلنکن کا کہنا تھا کہ قازقستان کو شاید روسی فوجیوں سے چھٹکارا پانے میں مشکل کا سامنا ہو۔

    امریکی سیکریٹری خارجہ کے بیان پر شدید ردِ عمل دیتے ہوئے روس نے کہا کہ انہیں اس کے بجائے دنیا بھر میں امریکی فوج کی مداخلت پر سوچنا چاہیئے۔

    جمعے کے روز بلنکن نے روس کی جانب سے کئی دنوں سے متشدد افراتفری کا شکار قازقستان میں فوج بھیجنے کی توجیہ پر سوال اٹھایا تھا۔

    بلنکن کا کہنا تھا ’ماضی قریب کا ایک سبق یہ ہے کہ ایک بار روسی آپ کے گھر میں آ جائیں، ان کا نکلا جانا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔‘

    روسی وزیر خارجہ نے بلنکن کے بیان کو ’ناگوار‘ قرار دیا اور ان پر قازقستان میں پیش آنے والے افسوس ناک واقعات پر مذاق کرنے کا الزام عائد کیا۔

    وزارت نے اپنے ٹیلی گرام سوشل میڈیا چینل پرکہا کہ ’اگر انتھونی بلنکن کو تاریخ کے اسباق اتنے پسند ہیں، پر ان کو یہ معلوم ہونا چاہیئے: جب امریکی آپ کے گھر میں آ جائیں، تو زندہ رہنا، نہ لُٹنا یا ریپ نہ کیا جانا مشکل ہو سکتا ہے۔‘مزید یہ بھی کہا گیا ’ہمیں یہ صرف ماضی قریب سے نہیں بلکہ امریکی ریاست کے 300 سالوں سے پڑھایا گیا ہے۔‘

    وزارت کا کہنا تھا کہ قازقستان میں تعیناتی قازقستان کی درخواست کا قانونی جواب تھا تا کہ Collective Security Treaty Organisation(CSTO) کے تحت سپورٹ کیا جائے۔

    روس کی وزارت خارجہ نے اس سلسلے میں مختلف ملکوں منجملہ کوریا، ویتنام، شام اور عراق کی طرف اشارہ بھی کیا۔

    روس کی وزارت خارجہ نے کہا کہ امریکی وزیر خارجہ نے قزاقستان کے افسوسناک حالات کا مذاق اڑانے کی کوشش کی ہے البتہ یہ کوئی پہلی بار نہیں ہے کہ انھوں نے اس قسم کا مداخلت پسندانہ بیان دیا ہے ۔

    CSTO سابق سوویت ریاستوں کا ایک اتحاد ہے جس میں روس شامل ہے۔

    قازقستان میں فوج کی تعیناتی ایک ایسے موقع پر کی گئی ہے جب ماسکو اور واشنگٹن کے تعلقات شدید تناؤ میں ہیں۔

    دونوں ممالک پیر کو یوکرین بحران پر شروع ہونے والے مذاکرات کی تیاری کر رہے ہیں۔

    ماسکو نے یوکرین کے قریب اپنی سرحد پر بڑی تعداد میں فوج تعینات کر دی ہے لیکن روس کی جانب حملہ کرنے کے منصوبے کے مغربی الزامات کی تردید کی گئی ہے۔

  • کیا روس پھرسے آزاد ہونے والی مسلم ریاستوں پرقبضہ کرنے والا ہے:امریکی وزیرخارجہ بول اٹھے

    کیا روس پھرسے آزاد ہونے والی مسلم ریاستوں پرقبضہ کرنے والا ہے:امریکی وزیرخارجہ بول اٹھے

    الماتے:کیا روس پھرسے آزاد ہونے والی مسلم ریاستوں پرقبضہ کرنے والا ہے:امریکی وزیرخارجہ بول اٹھے،اطلاعات کے مطابق قازقستان میں کشیدہ صورتحال کے بعد روس کی سربراہی میں فوجی دستے پہنچ چکے ہیں جس میں تقریباً 2500 فوجی قازقستان پہنچے ہیں،

    قازقستان میں کشیدہ صورتحال کے بعد روس کی سربراہی میں فوجی دستے پہنچ چکے ہیں جس میں تقریباً 2500 فوجی قازقستان پہنچے ہیں: فوٹو بشکریہ بی بی سی
    امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے قازقستان میں روسی فوجیوں کی تعیناتی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھادیا۔

     

     

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق قازقستان میں ایل پی جی اور تیل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد ہونے والے احتجاج کے باعث صورتحال کشیدہ ہے اور اب تک درجنوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں جب کہ صدر نے کابینہ کو برطرف کردیا ہے۔قازقستان میں کشیدہ صورتحال کے بعد روس کی سربراہی میں فوجی دستے پہنچ چکے ہیں جس میں تقریباً 2500 فوجی قازقستان پہنچے ہیں۔

    امریکی وزیر خارجہ نے قازقستان میں روسی فوجیوں کی آمد پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہےکہ یہ بھی پوری طرح واضح نہیں کہ فوجی دستے کیوں تعینات کیے جارہے ہیں جب کہ امریکا کے نزدیک قازقستان کی حکومت اس صورتحال سے خود ہی نمٹ سکتی ہے۔

     

    انٹونی بلنکن کا کہنا تھا کہ حالیہ تاریخ سے ایک سبق ملتا ہے کہ ایک مرتبہ روسی آپ کے گھر آجائیں تو بعض اوقات انہیں باہر نکالنا بہت مشکل ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ میرے نزدیک قازقستان کی حکومت اس تمام معاملے سے مناسب طریقے سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے لہٰذا یہ بات بھی واضح نہیں کہ باہر سے فوج کو بلاکر تعینات کرنے کی کیا ضرورت پیش آئی۔

    امریکی وزیرخارجہ کہتے ہیں کہ تاریخ بتاتی ہے کہ جہاں روسی فوجی گئے وہاں انہوں نے قبضہ جمانے کی کوشش کی اور اب ایسے لگ رہا ہے کہ روس الگ ہونے والے مسلم ملک قازقستان کو پھرسے اپنی کالونی بنانے کی کوشش کررہا ہے

     

     

    یاد رہے کہ میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہےکہ الماتے شہر سمیت دیگر شہروں میں شدید احتجاج کے بعد قازقستان کے صدر نے احتجاج پر قابو پانے کے لیے مدد کی درخواست کی تھی۔اس سلسلے میں روسی حکام کا کہنا ہےکہ قازقستان میں فوجی دستوں کی تعیناتی باہمی سکیورٹی معاہدے کے تحت کی گئی ہے۔

  • معدنی ذخائرسے مالا مال قازقستان،بدامنی کا شکارکیوں؟گولی مارنے کا حکم کیوں؟

    معدنی ذخائرسے مالا مال قازقستان،بدامنی کا شکارکیوں؟گولی مارنے کا حکم کیوں؟

    نورسلطان: معدنی ذخائرسے مالا مال قازقستان،بدامنی کا شکارکیوں؟گولی مارنے کا حکم کیوں؟اطلاعات کے مطابق سابق سوویت ریاست کہ قازقستان کےنام سے اب دنیا کے نقشے پرموجود ہے بے پناہ معدنی ذخائر کے باوجود بدامنی اورعدم استحکام کا شکارہوچکی ہے اور اس کی وجہ یہ بتائی جارہی ہے کہ کورونا نے ملکی معیشت کا حال اس قدر تباہ کردیا ہےکہ حکومت کو ملکی نظام چلانے کےلیے پٹرولیم مصنوعات میں بار بار اضافہ کرنا پڑرہا ہے ،

    دوسری طرف عوام اس بات کو قبول کرنے کے لیے تیار نہں ، حکمران جماعت عوام الناس کو سمجھانے کی کوشش کررہی ہے دنیا بھر میں کورونا کی وجہ سے مہنگائی اور معاشی گراوٹ ہے لیکن عوام کسی کی بات ماننے کےلیے تیار نہں ،یہی وجہ ہے کہ شہریوں نے حکومت کے خلاف احتجاج شروع کررکھا ہے ، اطلاعات ہیں کہ قازقستان میں پیٹرولیم مصنوعات میں اضافے کیخلاف ہونے والے پُرتشدد مظاہروں میں ہلاک ہونے والوں کی مجموعی تعداد 46 ہوگئی ہے جب کہ قازق صدر نے فوج کو بغیر خبردار کیے مظاہرین پر گولی چلانے کی اجازت دیدی۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق قازقستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر 2 جنوری سے ہونے والے پُرتشدد مظاہروں کے بعد حکومت مستعفی ہوگئی تھی اور صدر نے ہنگاموں سے متاثر ہونے والے دو شہروں میں ایمرجنسی نافذ کردی تھی۔

    الماتی اور مینگسو میں ایمرجنسی کے نفاذ اور رات کے کرفیو کے باوجود تاحال حالات کشیدہ ہیں۔ ان شہروں میں صدر صدر قاسم جومارت توقایف نے فوج کو حکم دیا ہے کہ مظاہرین پر وارننگ دیئے بغیر گولی چلائیں۔تاحال مجموعی طور پر 46 ہلاکتیں ہوچکی ہیں جن میں 28 شہری اور 18 پولیس اہلکار شامل ہیں جب کی سیکڑوں زخمی ہیں اور 3 ہزار سے زائد مظاہرین کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

    قازق صدر قاسم الماروت نے حالات قابو میں ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ قانون اور حکومتی احکامات کو توڑنے والوں کیخلاف آپریشن کا آغاز کردیا ہے جس میں اب تک 18 پولیس اہلکار ہلاک ہوچکے ہیں۔

    دوسری جانب وزات داخلہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پولیس کی جوابی فائرنگ میں ہلاک ہونے والے 28 افراد شہری نہیں بلکہ دہشت گرد تھے۔حکومت کے مستعفی ہونے کے باوجود قیمتوں کے خلاف اب بھی احتجاج کرنے والے مظاہرین کا کہنا ہے کہ صدر نے کابینہ کو چلتا کرکے اپنا عہدہ بچایا ہے جب کہ مسائل کی اصل جڑ وہ خود ہیں۔

    روس نے قاقستان میں بگڑتی صورت حال کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے اپنی فوجین بھیجنے کا عندیہ ہے جس پر یورپی یونین نے روس کو کسی بھی مہم جوئی سے باز رہنے کے لیے خبردار کیا ہے۔