Baaghi TV

Tag: روس

  • روس ، یوکرین تنازعہ :امریکی افواج کی پیش قدمی:جرمنی اورپولینڈ میں ہزاروں فوجی پہنچا دیئےگئے

    روس ، یوکرین تنازعہ :امریکی افواج کی پیش قدمی:جرمنی اورپولینڈ میں ہزاروں فوجی پہنچا دیئےگئے

    واشنگٹن:روس ، یوکرین تنازعہ :امریکی افواج کی پیش قدمی جرمنی اورپولینڈ میں ہزاروں فوجی پہنچا دیئے گئے،اطلاعات کے مطابق امریکی محکمہ دفاع(پینٹاگان) نے انکشاف کیا ہے کہ صدر جو بائیڈن اس ہفتے نارتھ کیرولینا کی ریاست میں واقع فورٹ بریگ سے تقریباً دو ہزار فوجی پولینڈ اور جرمنی بھجوا رہے ہیں جب کہ جرمنی میں موجود اندازاً ایک ہزار فوجیوں کو رومانیہ روانہ کیا جائے گا. امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق پینٹاگان کے پریس سیکرٹری جان کربی نے بتایا ہے کہ امریکہ کی طرف سے مشرقی یورپ میں تعنیات کے لیے فورسرز کے بھجوائے جانے کامقصد امریکہ اور اتحادیوں کے دفاعی پوزیشن کو مستحکم کرنا ہے.

    پینٹاگان کے پریس سیکرٹری جان کربی نے کہا کہ یہ فوجی یوکرین میں داخل نہیں ہوں گے اس سے قبل صدر جو بائیڈن بھی یہ بات کہہ چکے ہیں کہ وہ روس کے کسی حملے کو روکنے میں مدد کے لیے امریکی فوج کو یوکرین میں تعینات نہیں کریں گے تاہم امریکہ یوکرین کو اپنے دفاع کے لیے اسلحے کی رسد فراہم کر رہا ہے فوج بھیجنے کا یہ اقدام ایسے میں سامنے آیا ہے جب یوکرین کی سرحدوں پر روس کی فوج کی تعیناتی کے معاملے پر بات چیت تعطل کا شکار ہے.

    اس معاملے پر یورپ میں یہ خوف بڑھتا جا رہا ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پوٹن یوکرین پر جارحیت کے لیے تلے ہوئے ہیں مشرقی یورپ میں واقع نیٹو کے ارکان کو خدشہ ہے کہ کسی بھی وقت ان کی بھی باری آ سکتی ہے، حالانکہ روس نے کہا ہے کہ وہ تنازع کے آغاز کا ارادہ نہیں رکھتا اور سفارتی کوششیں جاری رکھنے پر تیار ہے. امریکی انتظامیہ کے ایک عہدے دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پردفاعی اقدامات پر بات کی جن کا ابھی باقاعدہ طور پر اعلان نہیں کیا گیا حالیہ دنوں کے دوران بائیڈن یہ کہہ چکے ہیں کہ دفاعی اتحاد کے رکن کی حیثیت سے وہ چاہیں گے کہ مشرقی یورپ میں نیٹو کے اتحادیوں کو امریکی عزم کی یقین دہانی کا اعادہ کیا جائے کہ وہ اضافی امریکی فوج روانہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں.

    پینٹاگان نے تقریباً 8500امریکی فوج کو چوکنا کردیا ہے جنہیں ممکنہ طور پر یورپ میں تعینات کیا جاسکتا ہے اور اہل کاروں نے اس بات کا عندیہ دیا ہے کہ مزید فوجی دستوں کو ہائی الرٹ پر رکھ دیا گیا ہے پہلے ہی یورپ میں امریکہ کے 75000سے 80000 فوجی مستقل طور پر تعینات ہیں. ایک اطلاع کے مطابق متوقع طور پر برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن بدھ کے روز روسی صدر ولادیمیر پوٹن سے ٹیلی فون پر رابطہ کر رہے ہیں جو مسئلے کو سفارتی طور پر حل کرنے کی تازہ ترین کوشش ہے

  • روس سےتنازع:امریکی صدرکامشرقی یورپ میں ہزاروں فوجیوں کی تعیناتی کا حکم:روس بھی پیشقدمی کرنےلگا

    روس سےتنازع:امریکی صدرکامشرقی یورپ میں ہزاروں فوجیوں کی تعیناتی کا حکم:روس بھی پیشقدمی کرنےلگا

    واشنگٹن:روس سے تنازع؛ امریکی صدر کا مشرقی یورپ میں ہزاروں فوجیوں کی تعیناتی کا حکم:روس بھی پیشقدمی کرنے لگا ،اطلاعات کے مطابق یوکرائن کے مسئلے پر روس سے پیدا ہونے والے تنازع پر امریکی صدر جوبائیڈن نے مشرقی یورپ میں ہزاروں فوجیوں کی تعیناتی کا حکم دیدیا۔

    وال اسٹریٹ جنرل کے مطابق یوکرائن پر روس کے ممکنہ حملے کے پیش نظر امریکی صدر جوبائیڈن نے 3 ہزار سے زائد فوجیوں کی مشرقی یورپ میں تعیناتی کا حکم دیدیا ہے۔

    وال اسٹریٹ جنرل نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فوجی پولینڈ اور جرمنی میں تعینات کیے جائیں گے جب کہ ایک ہزار کے قریب فوجیوں کو جرمنی سے رومانیہ منتقل کیا جائے گی۔
    مشرقی یورپ میں امریکی فوجیوں کی تعیناتی کا حتمی فیصلہ امریکی صدر جوبائیڈن نے وزیر دفاع اور امریکی فوج کے اعلیٰ حکام کے ساتھ اہم میٹنگ کے بعد کیا۔

    اس حوالے سے پینٹاگون کے ایک عہدیدار نے وال اسٹریٹ جنرل کو بتایا کہ تعینات کیے جانے والے فوجیوں کی اہم اور خطرناک مشن کو پورا کرنے کے لیے خصوصی تربیت دی گئی ہے جو جدید اسلحے اور ضروری ساز و سامان سے لیس ہیں۔

    خیال رہے کہ روس کے مبینہ حملے اور جارحیت کے پیش نظر امریکا اور برطانیہ نے یوکرائن کو فوجی مدد کی یقین دہانی کرائی ہے اس حوالے سے نیٹو افواج کی پہلے ہی سرحدوں پر تعینات کیا جا چکا ہے۔

    دوسری جانب روس نے یوکرائن پر حملے کو امریکا اور برطانیہ کا خطے میں مداخلت کا بہانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ من گھڑت جواز پیدا کر کے خطے پر قبضے کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

  • امریکہ اور اتحادی بازآجائیں:یوکرین تنازعے پراپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے: روس

    امریکہ اور اتحادی بازآجائیں:یوکرین تنازعے پراپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے: روس

    ماسکو:امریکہ اور اتحادی بازآجائیں:یوکرین تنازعے پراپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے: اطلاعات کے مطابق یوکرین تنازع پر امریکی پابندیوں کی دھمکیوں پر روس کا کہنا ہے کہ ہم اپنے اختیار کردہ موقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

    تفصیلات کے مطابق واشنگٹن میں روس کے سفارت خانے نے منگل کو کہا ہے کہ یوکرین پر امریکی پابندیوں کی دھمکیوں کے باوجود اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

    روسی سفارتخانے کے اعلی افسر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ہم امریکی پابندیوں کی دھمکیوں کو سن کر پیچھے ہٹنے والے نہیں ہیں انہوں نے مزید کہا کہ یہ واشنگٹن ہےجو تناؤ پیدا کرتا ہے۔

    توقع کی جارہی ہے کہ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور ان کے امریکی ہم منصب انٹونی بلنکن منگل کو یوکرین تنازع پر ٹیلی فونک رابطہ قائم کریں گے۔

    حالیہ ہفتوں میں دونوں ممالک کے مابین کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ جس کی وجہ امریکہ نے روس پر یہ الزام عائد کیا ہے کہ وہ عنقریب یوکرین پر حملہ کردے گا۔

    امریکی صدر جو بائیڈن نے بارہا پیوٹن کو متنبہ کیا ہے کہ اگر وہ یوکرین پر حملہ کرتے ہیں تو بڑے پیمانے پر مغربی پابندیوں کے لئے تیار رہے۔

    واضح رہے روس نے یوکرین کی سرحدوں پر ایک لاکھ سے زائد فوجیوں کو تعینات کیا ہے۔ اس تناظر میں مغربی ممالک کو خدشہ ہے کہ وہ حملہ کر سکتے ہیں۔

    یاد رہے بلنکن لاوروف کی بات چیت سے قبل، ماسکو نے یوکرین کے بارے میں اپنے موقف پر واشنگٹن کو ایک خط بھیجا تھا۔

  • روس دکھاتا کچھ اور کرتا کچھ ہے:مذاکرات میں ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے، یوکرائنی وزیرخارجہ

    روس دکھاتا کچھ اور کرتا کچھ ہے:مذاکرات میں ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے، یوکرائنی وزیرخارجہ

    روس دکھاتا کچھ اور کرتا کچھ ہے:مذاکرات میں ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے اطلاعات کے مطابق یوکرائن کے وزیر خارجہ دیمیترو کولیبا نے آج کہا ہے کہ ممکنہ روسی حملے کے بڑھتے ہوئے خدشات کے درمیان ماسکو سے مذاکرات کے دوران ضروری ہے کہ ہوشیار اور ثابت قدم رہا جائے۔

     

    فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی نے مغربی ممالک کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ روس نے یوکرائن کی سرحدوں کے پاس ایک لاکھ سے زائد فوجی اور بھاری ہتھیار تعینات کیے ہوئے ہیں۔

    یوکرائن کی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ دیمیترو کولیبا نے اپنے فرانسیسی ہم منصب ژاں یوس لی ڈریان سے بات کرتے ہوئے دارالحکومت کیف سے اپنے سفارتی عملے کے اہل خانہ کو نہ نکالنے کے فیصلے پر فرانس کا شکریہ ادا کیا ہے۔

    یوکرائنی وزارتِ خارجہ کے بیان کے مطابق دونوں جانب سے روس کے ساتھ رابطوں میں چوکنا اور ثابت قدم رہنے کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے۔ انہوں نے کیف اور ماسکو کے درمیان تنازع کے سیاسی اور سفارتی تصفیے کو فروغ دینے کا سلسلہ جاری رکھنے کا بھی کہا ہے۔

    خیال رہے کہ گزشتہ روز امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا تھا کہ وہ جلد ہی مشرقی یورپ میں نیٹو کی موجودگی میں اضافے کے لیے امریکی فوجیوں کی ایک مختصر سی تعداد بھیجیں گے۔

    گزشتہ روز فلاڈیلفیا سے واپسی کے بعد دارالحکومت واشنگٹن میں امریکی صدر جو بائیڈن نے صحافیوں کو بتایا کہ وہ بہت جلد مشرقی یورپ اور نیٹو کے رکن ممالک میں فوجی بھیج رہے ہیں مگر بہت زیادہ نہیں۔

    واضح رہے کہ مغربی یورپ کے بیشتر حصوں میں پہلے ہی سے امریکا کے لاکھوں فوجی تعینات ہیں۔

  • امریکی صدر نے27 روسی سفارتکاروں کو ملک چھوڑنے کا حکم دیدیا

    امریکی صدر نے27 روسی سفارتکاروں کو ملک چھوڑنے کا حکم دیدیا

    واشنگٹن : امریکی صدر نے27 روسی سفارتکاروں کو ملک چھوڑنے کا حکم دیدیاا،طلاعات کے مطابق روس اور امریکہ کے درمیان سرد جنگ اب میدان جنگ کو گرم کرنے کی طرف رواں دواں ہے اور یہ بھی اطلاعات ہیں کہ روس اور یوکرین کے مابین میں جاری کشیدگی کے دوران امریکا کے صدر جوبائیڈن نے روس کے 27 سفارتکاروں کو ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا ہے۔

    بھارتی ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کے مطابق واشنگٹن سے یہ حکم جاری ہونے کے علاوہ بائیڈن انتظامیہ نے یوکرین کو نیٹو (NATO) میں شامل نہ کرنے کی روسی مطالبہ بھی مسترد کردیا ہے۔جوبائیڈن نے یوکرین پر حملے کی صورتحال میں روس کو سنگین نتائج بھگتنے کی وارننگ بھی دی ہے۔

    بائیڈن نے کہا ہے کہ اگر روس نے یوکرین پر حملہ کیا، تو وہ روس کی 85 ہزار کروڑ روپے کی ’نیرڈ اسٹریم 2‘ گیس پائپ لائن کو بند کر دیں گے۔ روسی پائپ لائن سے یوروپ کو قدرتی گیس سپلائی کرنے کا منصوبہ ہے۔خاص بات یہ ہے کہ اب تک نیٹو سے الگ ہونے کی قیاس آرائیوں کا سامنا کرنے والے جرمنی نے بھی امریکہ کا ساتھ دیا ہے۔ دوسری جانب روس اور یوکرین نے دونوں ممالک کی سرحد پر جنگ بندی کے لئے پیرس مذاکرات جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

    واضح رہے کہ روس اور یوکرین کے درمیان تنازع کافی عرصے سے جاری ہے۔ یوکرین 24 اگست 1991 کو سوویت یونین سے الگ ہو گیا تھا۔ سوویت یونین سے علیحدگی کے بعد یوکرین کو مغربی ممالک کی حمایت حاصل تھی۔ نیٹو کا قیام 1949 میں ہوا تھا جس کا مقصد یہ تھا کہ اس کے آس پاس کے ممالک سوویت یونین سے اپنا دفاع کر سکیں۔

    2014 میں یوکرین میں جو حکومت تھی، وہ کافی حد تک روس نواز تھی۔ اسی وجہ سے یوکرین نے نیٹو( NATO )میں شامل نہ ہونے کا فیصلہ کیا۔ تاہم نیٹو میں دوبارہ شمولیت کی تحریک تیز ہو گئی ہے۔ یوکرین دو حصوں مغربی یوکرین اور مشرقی یوکرین پر مشتمل ہے۔ مشرقی یوکرین میں روس کے حامیوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔

  • یوکرین امریکہ اور نیٹو کے ہاتھ کا کھلونا بن گیا:روس     :    :خطے میں جنگ ہوئی تو روس ذمہ دارہوگا،امریکہ

    یوکرین امریکہ اور نیٹو کے ہاتھ کا کھلونا بن گیا:روس : :خطے میں جنگ ہوئی تو روس ذمہ دارہوگا،امریکہ

    ماسکو:یوکرین امریکہ اور نیٹو کے ہاتھ کا کھلونا بن گیا:روس::خطے میں جنگ ہوئی تو روس ذمہ دارہوگا،امریکہ ،اطلاعات کے مطابق ایک بارپھر چند گھنٹوں کی خاموشی کےبعد روس اور امریکہ کے درمیان محاذ آرائی شروع ہوگئی ہے، اس حوالے سے غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق روسی سلامتی کونسل کے نائب چیئرمین دیمتری میدویدیف نے کہا ہے کہ یوکرین کو روس پر جغرافیائی و سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے یہ ایک حقیقت ہے کہ یوکرین نیٹو اور امریکہ کے ہاتھ میں کھلونا بن کر رہ گیا ہے کیونکہ یوکرین کو روس پر جغرافیائی سیاسی دباؤ کے ایک آلے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔

    ماسکو میں روسی وزارت دفاع نے اطلاع دی کہ فضائی دفاعی افواج کے دستے ہتھیاروں اور فوجی سازوسامان کے ساتھ جمہوریہ بیلاروس کی سرزمین پر مشقوں کے لیے پہنچ رہے ہیں۔محکمہ نے کہا کہ لاجسٹک یونٹس نے پہلے ہی امور ریجن میں ٹرین پلیٹ فارمز پر ہتھیار پہنچا دیے تھے۔

    واضح رہے کہ یوکرین کے مسئلہ پر روس کی نیٹو اتحاد ،امریکہ اور یورپی ممالک کے ساتھ کشیدگی میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔

    ادھر امریکی صدر نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ امریکی صدرجوبائیڈن نے خبردارکیا ہے کہ روس فروری میں یوکرین پرحملہ کرسکتا ہے۔وائٹ ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق امریکی صدرجوبائیڈن نے یوکرینی ہم منصب سے گفتگومیں خبردارکیا کہ روس فروری میں یوکرین پرحملہ کرسکتا ہے۔

    امریکی صدرجوبائیڈن نے یوکرین کے صدرسے ٹیلی فون پرگفتگومیں کہا کہ اس بات کا بہت زیادہ امکان ہے کہ روس فروری میں یوکرین کیخلاف کوئی جارحانہ کارروائی کرے۔ امریکا گزشتہ کئی ماہ سے روس کی یوکرین کیخلاف ممکنہ جارحیت کے بارے میں خبردارکررہا ہے۔
    روس کے حکام نے یوکرین کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کومسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یوکرین کے بحران سے متعلق مذاکرات اب بھی ممکن ہیں۔

    امریکا اوراس کے نیٹواتحادی حالیہ ہفتوں میں ماسکوکی جانب سے یوکرین کے قریب ایک لاکھ روسی فوجیوں کی تعیناتی پربھی تشویش کا اظہارکرچکے ہیں۔

  • روس اور یورپی ممالک کے درمیان یوکرین میں جنگ بندی پر اتفاق

    روس اور یورپی ممالک کے درمیان یوکرین میں جنگ بندی پر اتفاق

    کئی عرصے سے جاری کشیدگی کے بعد، روس اور یورپی ممالک کے درمیان یوکرین میں جنگ بندی پر اتفاق ہوگیا ہے۔

    باغی ٹی وی : پیرس میں روس، یوکرین، فرانس اور جرمنی کے مشیران کے طویل مذاکرات ہوئے، روسی مشیر کا کہنا ہے کہ مذاکرات سے کشیدگی کم کی جا سکتی ہے لیکن یوکرین کے مسئلے کا مستقل حل ایک اجلاس سے نہیں نکالا جاسکتا چاروں ممالک کی ایک اور میٹنگ دو ہفتوں میں برلن میں ہو گی، ساتھ ہی روس نے نیٹو سے مشرقی یورپ سے فوج واپس بلانے کا مطالبہ کیا ہے۔

    روس اور یوکرائن کے درمیان جنگ کا امکان:روسی فوج بھاری یا بھاری یوکرائن

    روس کی جانب سے یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہےکہ یوکرین کی نیٹو میں شمولیت بھی روکی جائے جبکہ امریکہ اور نیٹو نے روس کے مطالبے کو مسترد کردیا ہے تاہم ہتھیاروں کے کنٹرول اور اعتماد سازی کے لیے بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔

    خیال رہے کہ دو روز قبل روس نے یوکرائن کی سرحد کے قریب فوجی مشقوں کی ویڈیو جاری کی تھی، روسی فوجی ٹینکوں اور میزائل لانچرز سمیت مشقوں میں شرکت کر رہے ہیں۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز روس نے کہا ہے کہ صدر پوٹن پر امریکی پابندیوں سے سیاسی طور پر کوئی فرق نہیں پڑے گا تاہم یہ تباہ کُن ضرور ثابت ہوگا روس کے حکومتی ترجمان ڈمتری پیسکوو نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اگر صدر ولادمیر پوٹن پر پابندی عائد کرتا ہے تو سیاسی سطح پر اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا تاہم اس کے نتائج مہلک ہوں گے۔

    روس اور یوکرائن کے درمیان جنگ کا امکان:روسی فوج بھاری یا بھاری یوکرائن

    یاد رہے کہ چند روز قبل امریکی صدر جوبائیڈن نے کہا تھا کہ روس کو یوکرین پر حملہ کرنے کی سخت قیمت ادا کرنی ہوگی جو بائیڈن نے روس کوخبردارکرتے ہوئے کہا کہ یوکرائن پر حملے کی روس کو جانی اورمعاشی نقصان کی صورت قیمت ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔

    جوبائیڈن نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر روس اپنی فوج کی اتنی بڑی تعداد کو لے کر یوکرین پر چڑھائی کرتا ہے تو یہ جنگ دوسری جنگِ عظیم سے کئی گنا بڑی ہوگی اور دنیا کا نقشہ بدل دے گی۔

    یورپی یونین کا افغانستان میں سفارتخانہ کھولنے کا اعلان

    واضح رہے کہ چند روز قبل امریکہ نے دعویٰ کیا تھا کہ روس خود پر جعلی حملے کروا کے یوکرائن پر حملہ کرے گا۔انہوں نے کہا تھا کہ روس یوکرین پر حملے کی تیاری کر رہا ہے اور اگلا ایک ہفتہ انتہائی اہم ہے۔

    دوسری جانب روسی وزیر خارجہ سرجی لیوروو نے کہا ہے کہ روس اپنے مطالبات کے تحریری جواب کا منتظر ہے۔ اگر مغرب اپنی جارحانہ کارروائیاں جاری رکھتا ہے تو روس کو بھی جوابی کارروائی کرنی پڑے گی۔

    روس کی ایران اور چین سے فوجی مشقیں:بیلا روس کےساتھ بھی ہنگامی فوجی مشقیں شروع کرنے…

  • یوکرین روس کشیدگی، خام تیل کی قیمت 90 ڈالر فی بیرل:پاکستان سمیت غریب ممالک پرپھرمشکل وقت آگیا

    یوکرین روس کشیدگی، خام تیل کی قیمت 90 ڈالر فی بیرل:پاکستان سمیت غریب ممالک پرپھرمشکل وقت آگیا

    واشنگٹن:یوکرین روس کشیدگی، خام تیل کی قیمت 90 ڈالر فی بیرل:پاکستان سمیت غریب ممالک پرپھرمشکل وقت آگیا،اطلاعات کے مطابق یوکرین اور روس کے درمیان کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 90 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی۔

    غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا اور یوکرین کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث بدھ کے روز عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت گزشتہ 7 سالوں میں پہلی بار 90 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ۔

    غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق روس اور یوکرین تنازعہ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے خام تیل کی ممکنہ سپلائی میں رکاوٹ نے ہلچل مچا دی ہے۔

    رپورٹس کے مطابق دوران ٹریڈنگ برینٹ خام تیل کی قیمت 90 ڈالر17 سینٹس کی سطح پرپہنچ گئی جبکہ ڈبلیو ٹی آئی خام تیل 87 ڈالر 67 سینٹس میں فروخت ہوا۔اس کے علاوہ عالمی منڈی میں گیس کی قیمت میں تقریباً 5 فیصد اضافہ ہوا جس کے بعد دوران ٹریڈنگ گیس کی قیمت سوا 4 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو ہوگئی۔

    واضح رہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن نے منگل کے روز کہا تھا کہ اگر روس نے یوکرین پر حملہ کیا تو وہ صدر ولادیمیر پوٹن پر ذاتی پابندیوں پر غور کریں گے۔
    دوسری جانب روس نے یوکرین کی سرحدپر تقریباً ایک لاکھ فوجیوں کو تعینات کیا ہوا ہے لیکن حملے کی منصوبہ بندی سے انکار کیا ہے۔

  • روس اور یوکرائن کے درمیان جنگ کا امکان:روسی فوج بھاری یا بھاری یوکرائن

    روس اور یوکرائن کے درمیان جنگ کا امکان:روسی فوج بھاری یا بھاری یوکرائن

     

    لاہور:روس اور یوکرائن کے درمیان جنگ کا امکان:روسی فوج بھاری یا بھاری یوکرائن ,یوکرائن کی سرحدوں پر اس وقت سخت دباو ہے اور یہ اطلاعات ہیں کہ امریکہ اور اتحادی یوکرائن کو جنگ میں دھکیل رہے ہیں تاکہ روس کی فوجی قوت کو کمزور کیا جاسکے ، ایسی صورت میں اگرنیٹو اور دیگر قوتیں میدان میں اتریں تو یہ جنگ عالمی جنگ کی شکل میں تبدیل ہوسکتی ہے

     

    ان حالات میں جبکہ دونوں طرف سے سخت چپقلش پائی جارہی ہے ، دفاعی ماہرین نے روسی اور یوکرائنی افواج کے درمیان قوت کے تخمینے اور اندازے لگانے شروع کردئیے ہیں ، اس حوالے سے جو تازہ تقابلی جائزہ پیش کیا گیا ہے اس کے مطابق روس کی باقاعدہ افواج کی تعداد نو لاکھ سے زائد ہے جبکہ اس کے مقابلے میں یوکرائن کی مسلح افواج کی تعداد دو لاکھ نو ہزار تک ہے

     

     

    دفاعی ماہرین کا کہنا ہےکہ روس کو ریزور افواج کی صورت میں بیس لاکھ فوجیوں کی کمک حاصل ہوگی جبکہ یوکرائن کو صرف نو لاکھ فوجیوں کی مدد حاصل ہوگی

     

    دفاعی ماہرین کی طرف سے جاری تفصیلات کے مطابق روس کے پاس آرٹلری کی تعداد 7571 ہے جبکہ یوکرائن کے پاس یہ تعداد 2040 ہے

     

    روس کے پاس فوجی گاڑیوں کی تعداد 30 ہزار 122 ہے جبکہ یوکرائن کے پاس یہ تعداد 12303 ہے ، ایسے ہی روس کےپاس 12420 ٹینکس ہیں جبکہ یوکرائن کےپاس یہ تعداد صرف 2596 ہے

     

    روس کے پاس جنگی ہیلی کاپٹرز کی تعداد 544 ہے جبکہ یوکرائن کے پاس یہ تعداد صرف 34 ہے ،روس کے پاس فائٹراٹیک ایئر کرافٹ کی تعداد 1511 ہے جبکہ یوکرائن کے پاس یہی تعداد صرف 98 ہے ،

     

    روس کا سالانہ دفاعی بجٹ 61 ارب ڈالرز سے زائد ہے جبکہ یوکرائن کا دفاعی بجٹ 8 ارب ڈالرز سے زائد ہے یوں اگردیکھا جائےتو روس کے مقابلے میں یوکرائن کی فوجی طاقت نہ ہونے کے برابر ہے

     

    لیکن یہی طاقت اس صورت میں روس کے مقابلے میں بڑھتی ہوئی نظرآتی ہے جب روس کی مخالف قوتیں امریکہ ، نیٹو اور دیگراتحادی یوکرائن کو بھاری اسلحہ دے رہے ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ یوکرائن اور روس کا ٹکراو ہو ہی جائے تاکہ روس کی فوجی قوت کو زنگ لگ جائے یا پھرروس کوبہت زیادہ نقصان پہنچایا جاسکے ، اس صورت میں پھرامریکہ کے سامنے چین ہی بڑی قوت رہ جائے گا اور چین سے نمٹا امریکہ اور اتحادیون کے لیے آسان ہوگا

  • روس کا نئی فوجی مشقوں کے انعقاد کا اعلان:امریکہ اور اتحادی پریشان

    روس کا نئی فوجی مشقوں کے انعقاد کا اعلان:امریکہ اور اتحادی پریشان

    ماسکو: روس کا نئی فوجی مشقوں کے انعقاد کا اعلان:امریکہ اور اتحادی پریشان،اطلاعات کے مطابق روس نے جنوبی کریمیا میں نئی فوجی مشقوں کے انعقاد کا اعلان کردیا ہے۔ لڑاکا طیارے اور بمبار زیادہ سے زیادہ فاصلے پر اہداف کے خلاف فضائی حملے کرنے کی مشق کریں گے۔

    تفصیلات کے مطابق روسی فوج کے ترجمان نے منگل کو کہا ہے کہ تقریباً 6000 فوجیوں اور کم از کم 60 لڑاکا طیاروں پر مشتمل لائیو فائر ڈرلز کے عنوان کے تحت فوجی مشقوں کا آغاز کیا ہے۔روسی وزارت دفاع نے ایک بیان میں کہا، یونٹ وسیع پیمانے پر کاموں کو سرانجام دینے کی مشق کریں گے۔

    مشقیں ہر قسم کی ہوا بازی، میزائل ڈویژن، بحری بیڑے اور کیسپین فلوٹیلا کے جہاز گروپوں پر مشتمل ہوں گی۔ مشقوں کو جنگی تیاریوں کو جانچنے کے تناظر میں دیکھا جارہا ہے۔ جس کی وجہ کریمیا پر روس اور مغربی ممالک کے درمیان بڑھتا ہوا تناؤ ہے۔

    روسی خبر رساں ایجنسیوں نے وزارت دفاع کے حوالے سے بتایا کہ لڑاکا طیارے اور بمبار زیادہ سے زیادہ فاصلے پر اہداف کے خلاف فضائی حملے کرنے کی مشق کریں گے۔

    واضح رہے یہ مشقیں روس سے الحاق شدہ کریمیا اور جنوبی روستوف اور کراسنودار کے علاقوں میں ہوں گی۔ اس بابت بھی آگاہ نہیں کیا گیا ہے کہ اوپر بیان کی گئی مشقیں کب تک جاری رہیں گی۔

    یاد رہے مغرب روس پر الزام عائد کرتا ہے کہ اس نے یوکرائن کی سرحد پر لگ بھگ100,000 فوجیوں کو جمع کر رکھا ہے۔ فوجیوں کی تشکیل نے سرد جنگ کے بعد روس اور مغربی ممالک کے درمیان تعلقات میں سب سے بڑے بحران کو جنم دیا ہے۔