Baaghi TV

Tag: روس

  • اولمپکس بائیکاٹ:امریکہ جان بوجھ کردشمنی پال رہا ہے:ایسی حرکتوں سے باز رہے:چین کی دھمکی

    اولمپکس بائیکاٹ:امریکہ جان بوجھ کردشمنی پال رہا ہے:ایسی حرکتوں سے باز رہے:چین کی دھمکی

    بیجنگ : اولمپکس بائیکاٹ:امریکہ جان بوجھ کردشمنی پال رہا ہے:ایسی حرکتوں سے باز رہے:چین کی دھمکی ،اطلاعات کے مطابق ایک طرف روس اور امریکہ کے درمیان حالات خراب ہورہے ہیں تو دوسری طرف امریکہ اور چین کے درمیان بھی سفارتی جنگ اس وقت عروج پر ہے ، امریکہ نے چین میں ہونے والے اولمپکس مقابلوں‌ کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے جس پر چین نے امریکہ کی جانب سے 2022 کے سرمائی اولمپکس کے سفارتی بائیکاٹ کو واشنگٹن کا ’نظریاتی تعصب‘ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ امریکی سفارتی بائیکاٹ اہم شعبوں میں دو طرفہ مذاکرات اور تعاون کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

    پیر کو وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا تھا کہ بائیڈن انتظامیہ چین کی جانب سے انسانی حقوق کی ’خلاف ورزیوں‘ کی وجہ سے، بیجنگ میں ہونے والے 2022 کے سرمائی اولمپکس کا بائیکاٹ کرے گی۔

    وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری جین ساکی نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ امریکی کھلاڑی اب بھی کھیلوں میں موجود ہوں گے لیکن کوئی باضابطہ سرکاری وفد نہیں بھیجا جائے گا۔

    وائٹ ہاؤس کے بیان کے ردعمل میں چینی وزارت خارجہ کے ترجمان ژاؤ لیجیان نے کہا کہ چین اس سفارتی بائیکاٹ کی خالفت کرتا ہے اور ’مضبوط جوابی اقدامات‘ کرے گا۔

    چینی وزارت خارجہ کے ترجمان ژاؤ لی جیان نے بیجنگ میں نامہ نگاروں سے گفتگو میں کہا: ’جھوٹ اور افواہوں پر مبنی، نظریاتی تعصب کی بنیاد پر بیجنگ سرمائی اولمپکس میں مداخلت کرنے کی امریکی کوشش صرف (اس کے) مذموم عزائم کو بے نقاب کرے گی

    انہوں نے امریکہ پر زور دیا کہ وہ کھیلوں میں سیاست کو لانا بند کرے کیونکہ بائیکاٹ اولمپک اصولوں کے خلاف ہے۔

    امریکہ کا فیصلہ ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب کئی ماہ سے یہ توقع کی جارہی تھی کہ بائیڈن انتظامیہ سرمائی اولمپکس کو چین پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بات کرنے کے لیے دباؤ کے حربے کے طور پر استعمال کرے گی۔

    حالیہ برسوں میں امریکہ نے کھیلوں میں شرکت نہ کرنے کا ایسا فیصلہ کبھی نہیں کیا۔ اس سے قبل اوباما انتظامیہ نے 2014 میں روس میں ہونے کھیلوں کے دوران اعلیٰ حکام کو نہیں بھیجا تھا لیکن ان کے متبادل وفد بھیجا گیا تھا۔

    ادھر بائیڈن انتظامیہ چینی حکومت کی جانب سے اویغور مسلم اقلیت کے ساتھ برتاؤ پر بڑی نقاد کے طور پر سامنے آئی ہے۔ خاص طور پر سنکیانگ کے علاقے میں جہاں بین الاقوامی حقوق کے گروپوں نے الزام لگایا ہے کہ شہری مسلسل نگرانی میں رہتے ہیں۔

    امریکی صدر جو بائیڈن نے یہ مسئلہ چین کے صدر شی جن پنگ کے ساتھ بھی اٹھایا ہے جبکہ وائٹ ہاؤس ترجمان جین ساکی نے پیر کو اس معاملے پر اپنے مختصر بیان کے دوران خاص طور پر سنکیانگ کی صورت حال کا حوالہ دیتے ہوئے وضاحت کی تھی کہ خطے میں مبینہ طور پر ہونے والے ’مظالم‘ اور ’نسل کشی‘ نے بائیڈن انتظامیہ کے فیصلے کو ہوا دی۔

    اسی طرح امریکہ اور چین کے مابین تائیوان کے معاملے پر بھی کشیدگی پائی جاتی ہے، جس سے تاثر ملتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان معاملات کشیدہ ہیں۔

    دوسری جانب چین میں کھیلوں کے بائیکاٹ کے مطالبات حالیہ ہفتوں میں چینی ٹینس سٹار پینگ شوائی کے حوالے سے تنازعے کے ساتھ مزید بڑھ گئے ہیں، جنہوں نے حکمران جماعت کے ایک سیاست دان پر جنسی حملے کا الزام عائدکیا تھا اور اس کے بعد سے وہ بظاہر منظر عام سے غائب ہیں، جن کی حفاظت کے حوالے سے سابق اور موجودہ ٹینس سٹارز نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

  • دنیا تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر:یوکرین پرمتوقع روسی حملہ:امریکہ واتحادی جوابی حملےکے لیےتیار

    دنیا تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر:یوکرین پرمتوقع روسی حملہ:امریکہ واتحادی جوابی حملےکے لیےتیار

    واشنگٹن :دنیا تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر:یوکرین پرمتوقع روسی حملے کے لیے امریکہ واتحادی جواب کے لیےتیار،اطلاعات کے مطابق وائٹ ہاؤس نے خبردار کیا ہے کہ اگر روس یوکرین پر حملہ کرتا ہے تو امریکہ مشرقی یورپ میں اپنی فوج کی موجودگی بڑھا دے گا اور روس کو اس کی جانب سے ’شدید اقتصادی نقصان‘ کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    یوکرین کے معاملے پر پچھلے 24 گھنٹوں سے صورت حال بڑی ہے اہمیت اختیار کرگئی ہے ، آج بھی وائٹ ہاوس اور پینٹا گان میں بڑی بڑے اہم اجلاس جاری ہیں‌ اس سلسلے میں‌ کل صحافیوں سے ایک پریس کال میں انتظامیہ کے سینیئر عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرتے ہوئے بتایا کہ اگر روس یوکرین پر حملہ کرتا ہے تو نیٹو کے مشرقی اتحادی اضافی فوجیوں اور صلاحیتوں کی درخواست کریں گے اور امریکہ فراہم کرے گا۔

    یہ بھی یاد رہے کہ یوکرین پر روسی متوقع حملے کے بارے میں امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس بھی ایک بیان میں کہہ چکے ہیں کہ اگر روس یوکرین سے پیچھے نہیں ہٹتا، اس کی خودمختاری اور آزادی کے لیے خطرہ بنتا ہے تو ہم اور ہمارے اتحادی کارروائی کے لیے تیار ہوں گے۔‘ وائٹ ہاؤس کا بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آج یعنی منگل کو امریکی صدر جو بائیڈن روسی صدر ولادی میر پوتن کے درمیان ویڈیو کال متوقع ہے۔

    ذرئع کا یہ بھی کہنا ہے کہ امریکی انتظامیہ کے ایک سینیئر عہدیدار نے بتایا کہ صدر بائیڈن صدر پوتن کو اس کال کے دوران خبردار کریں گے کہ اگر روس نے یوکرین پر حملہ کیا تو اسے سنگین اقتصادی نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یہ مذاکرات ایک ایسے وقت میں ہونے جا رہے ہیں جب یوکرین کی سرحد پر دسیوں ہزار فوجی جمع ہونے کے بعد امریکہ روس کو یوکرین کے خلاف فوجی کارروائی شروع کرنے سے باز رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔

    ادھر اس حوالے سے روسی صدر ولادی میر پوتن کے ساتھ اپنی ورچوئل ملاقات سے قبل بائیڈن نے پیر کو فرانس، جرمنی، اٹلی اور برطانیہ کے رہنماؤں سے بھی بات کی، جس کے بعد مغربی طاقتوں نے اس ’عزم‘ کا اظہار کیا کہ یوکرین کی خودمختاری کا احترام کیا جائے گا۔

    ایک سینیئر امریکی عہدیدارنے دعویٰ‌کیا ہے کہ امریکی صدر اپنے یوکرینی ہم منصب ولادو میر زیلنسکی کو بھی فوری طور پر پوتن کے ساتھ اپنی بات چیت کی تفصیلات سے آگاہ کریں گے، جو منگل کو ویڈیو کانفرنس کے ذریعے ہو رہی ہے، کیونکہ دسیوں ہزار روسی فوجی یوکرین کی سرحد کے قریب تعینات ہیں۔ مذکورہ عہدیدار نے کہا کہ وائٹ ہاؤس کو نہیں معلوم کہ آیا پوتن نے یوکرین کے خلاف اپنی فوجی دستوں کو آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے یا نہیں، تاہم وہ براہ راست امریکی مداخلت کی دھمکی دینے سے باز رہے۔

    اس امریکی عہدیدار نے بڑے وثوق سے کہا کہ اگر روس نے حملہ کیا تو امریکہ اور یورپی اتحادی سخت ’جوابی معاشی اقدامات‘ کرسکتے ہیں جو روسی معیشت کو اہم اور شدید اقتصادی نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا: ’اس کے علاوہ صدر بائیڈن یہ واضح کریں گے کہ اگر پوتن پیش قدمی کرتے ہیں تو مشرقی خطے کے اتحادیوں کی طرف سے اضافی افواج، دفاعی صلاحیتوں اور مشقوں کے لیے موجود درخواست پر امریکہ کی طرف سے مثبت جواب ملے گا۔

    وائٹ ہاؤس نے یورپی رہنماؤں کے ساتھ بائیڈن کی بات چیت کے بعد ایک بیان میں کہا کہ مکمل بات چیت میں روس سے کشیدگی کم کرنے کا مطالبہ کیا گیا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ ڈونباس میں تنازع کو حل کرنے کا واحد راستہ سفارت کاری ہے۔ یوکرین کے مطابق روس کی سرحد کے قریب ایک لاکھ کے قریب فوجی موجود ہیں۔

    دوسری جانب روس کسی بھی جنگی ارادے کی تردید کرتا ہے اور مغرب پر اشتعال انگیزی کا الزام لگاتا ہے، خاص طور پر بحیرہ اسود میں فوجی مشقوں کے ساتھ، جسے وہ اپنے اثر و رسوخ کے ایک حصے کے طور پر دیکھتا ہے۔ پوتن مغرب سے یہ وعدہ چاہتے ہیں کہ یوکرین نیٹو کا حصہ نہیں بنے گا، جو سابق سوویت یونین کا مقابلہ کرنے کے لیے بنایا گیا ٹرانس اٹلانٹک اتحاد ہے۔

    پینٹاگون نے واضح کیا ہے کہ وہ روسی فوجیوں کی تعداد میں اضافے کو ایک سنگین خطرے کے طور پر لے رہا ہے۔ روس کے صدر کے دفتر نے پیر کو کہا تھا کہ ماسکو بائیڈن- پوتن کال سے کچھ زیادہ توقعات نہیں رکھتا۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس کے مطابق ہے کہ امریکہ اب بھی سمجھتا ہے کہ روس اور مغرب کے درمیان یوکرین کی روس نواز علیحدگی پسندوں کے ساتھ جنگ ​​بندی پر عمل درآمد سے متعلق منسلک معاہدے ممکن تھے۔

    ترجمان کی طرف سے یہ بھی کہاگیا ہے کہ ہمیں یقین ہے کہ اس مسئلے کو سفارتی طور پر حل کرنے کے لیے ہمارے سامنے ایک موقع، ایک آپشن موجود ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ اگر روس اس میں دلچسپی ظاہر نہیں کرتا تو امریکہ ’بھاری اثرات والے اقتصادی اقدامات کو لاگو کرنے کے لیے تیار ہے، جو ہم نے ماضی میں استعمال کرنے سے گریز کیا ہے۔‘

     

     

  • ٹھوس ثبوت ہیں  کہ روس یوکرائن پر حملے کی تیاری کر رہا ہے:امریکی انٹیلیجنس کا دعویٰ

    ٹھوس ثبوت ہیں کہ روس یوکرائن پر حملے کی تیاری کر رہا ہے:امریکی انٹیلیجنس کا دعویٰ

    واشنگٹن :ٹھوس ثبوت ہیں کہ روس یوکرائن پر حملے کی تیاری کر رہا ہے، امریکی انٹیلیجنس کا دعوی ،اطلاعات کے مطابق امریکی انٹیلیجنس کا دعویٰ ہے کہ اس کے پاس یوکرائن پر ممکنہ روسی حملے کے شواہد موجود ہیں۔

    امریکی خفیہ اداروں نے گزشتہ روز روس کی جانب سے یوکرائن کے خلاف فوجی حملے کی منصوبہ بندی کا دعویٰ کیا تھا جو آئندہ برس کے اوائل میں ہو سکتا ہے۔

    اس حوالے سے امریکی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے واشنگٹن پوسٹ کو بتایا کہ اس آپریشن میں ایک اندازے کے مطابق ایک لاکھ 75 ہزار روسی فوجی شامل ہو سکتے ہیں۔

    واشنگٹن پوسٹ نے امریکی انٹیلیجنس حکام سے جو دستاویزات حاصل کی ہیں اس میں روسی افواج کو چار مقامات پر جمع ہونے اور ٹینکوں کی آمد کے واضح شواہد پیش کیے گئے ہیں۔ اس دستاویز میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یوکرائن کی سرحد کے قریب فی الوقت روسی فوجیوں کی تعداد 94 ہزار کے لگ بھگ ہے۔

    ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق امریکی اور روسی حکام کا کہنا ہے کہ معاملے پر بات کرنے کیلیے امریکی صدر جو بائیڈن اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے درمیان ملاقات کی کوشش کی جارہی ہے۔

    خارجہ امور کے روسی مشیر یوری اوشاکوف کا کہنا ہے کہ صدر پیوٹن مذاکرات کے دوران روس کی ان “سرخ لکیروں” کا اعادہ کریں گے جس میں بطور ضمانت وہ مطالبات شامل ہیں کہ نیٹو اپنی توسیع میں یوکرائن کو شامل نہیں کرے گا۔

    2014 میں کرائمیا کے الحاق اور یوکرائن کے مشرقی صنعتی علاقے ڈونباس میں علیحدگی پسندوں کی بغاوت کی حمایت کے بعد سے ہی روس اور یوکرائن کے درمیان تنازع چل رہا ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اس تنازعے میں اب تک 14 ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

     

     

  • روس اور امریکا کے درمیان سفارتی جنگ تیز :امریکا نے روس کے 27 سفارت کاروں کو ملک بدر کردیا

    روس اور امریکا کے درمیان سفارتی جنگ تیز :امریکا نے روس کے 27 سفارت کاروں کو ملک بدر کردیا

    واشنگٹن:روس اور امریکا کے درمیان سفارتی جنگ تیز :امریکا نے روس کے 27 سفارت کاروں کو ملک بدر کردیا،اطلاعات کے مطابق امریکا نے روس کے 27 سفارت کاروں کے ویزوں میں توسیع سے انکار کرتے ہوئے 30 جنوری تک ملک چھوڑنے کی ہدایت کی ہے۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا میں روس کے سفیر اناتولی انتونیوف نے میڈیا کو بتایا کہ 27 روسی سفارت کاروں اور ان کے اہل خانہ کو امریکا سے واپس روس جانے کا کہہ دیا گیا ہے جس کے بعد یہ سفارت اہل خانہ سمیت 30 جنوری چلے جائیں گے۔

    روسی سفیر اناتولی انتونوف نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ہمارے سفارت کاروں کو نکالا جا رہا ہے جس سے ہمیں عملے کی شدید کمی کا سامنا ہے۔ میرے ساتھیوں کا ایک بڑا گروپ اپنے اہل خانہ کے ساتھ 30 جنوری کو ہمیں چھوڑ کر روس واپس چلے جائیں گے۔

    ادھر روس کی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے کہا ہے کہ امریکا میں 29 اکتوبر تک تقریباً 200 روسی سفارت کار اپنے فرائض انجام دے رہے تھے جن میں اقوام متحدہ میں روسی مشن کا عملہ بھی شامل تھا۔

    دوسری جانب امریکی حکومت نے بھی گزشتہ ماہ کہا تھا کہ روس میں 2017 سے اب تک امریکی مشن 1200 سے گھٹ کر 120 تک رہ گیا ہے جس کی بنیادی وجہ بلاجواز بے دخلی اور پابندیاں ہیں۔

    اسی طرح روس نے بھی کہا تھا کہ 2016 سے تاحال 125 سے زائد روسی سفارت کاروں کو خاندانوں سمیت امریکا چھوڑنے پر مجبور کیا گیا تھا۔

     

     

     

     

  • نیول چیف کا روس، انڈونیشیا اور سری لنکا کے بحری جہازوں کا دورہ

    نیول چیف کا روس، انڈونیشیا اور سری لنکا کے بحری جہازوں کا دورہ

    امیرالبحر ایڈمرل محمد امجد خان نیازی کا پاک بحریہ کی مشق امن میں شریک چند ممالک کے بحری جہازوں کا دورہ کیا۔
    نیول چیف نے روس، انڈونیشیا اور سری لنکا کے بحری جہازوں کا دورہ کیا، امیر البحر کی ہر جہاز پر  آمد کے موقع پر انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔ دورے کے دوران امیرالبحر نے مشق میں شریک غیر ملکی جہازوں کے کمانڈنگ افسران اور عملے سے ملاقاتیں کیں، نیول چیف کو مشق میں شریک ممالک کے جہازوں پر خصوصی بریفنگز دی گئیں۔ ایڈمرل محمد امجد خان نیازی نے مشق میں شرکت اور باہمی تعاون کے فروغ پر تمام شریک ممالک کے نمائندگان کا شکریہ ادا کیا۔

  • آئی ٹی ڈپلومیسی سے آپکے موبائل کی جاسوسی تک از طہ منیب

    آئی ٹی ڈپلومیسی سے آپکے موبائل کی جاسوسی تک از طہ منیب

    ہم خود اجازت دیتے ہیں جب بھی ہم کوئی ایپ انسٹال کرتے ہیں، اگر ہم اسکی اجازت نا دیں تو ہم اس ایپ سے درست فائدہ ہی نہیں اٹھا سکتے ، جیسا کہ گیلری، آڈیو، کیمرہ تک ایکسس اور اس سے وہ ہمارا سب کہا ، دیکھا، بولا سنتے ریکارڈ کرتے اور اسکے مطابق اسکی بنیاد پر ہمیں گائیڈ یا ڈکٹیٹ کرتے ہیں۔ مزید جب بھی کسی ایپ کو انسٹال کرنا ہوتا ہے تو وہ ایک صفحہ سامنے لاتے ہیں جس پر انکی جانب سے اصول و ضوابط لکھے ہوتے ہیں جسے ٹک کیے بغیر آپ آگے بڑھ ہی نہیں سکتے اور جسے ہم ہمیشہ آنکھیں بند کر کے جلدی میں اسے پڑھے بغیر ہی ٹک کر کے انسٹال کے بٹن پر کلک کر کے ہی دم لیتے ہیں، اگر اسے ہم پڑھ لیں تب شروع میں ہی ہم محتاط ہو جائیں یا شاید باز آجائیں لیکن ایسا ہوتا نہیں ہے کیونکہ یہ ہمارے مزاج میں شامل نہیں ہے۔

    یہ ٹیکنالوجی میں خود مختار ممالک کا باقیماندہ دنیا پر اسی طرح کا استحصال ہے جیسا کہ وہ کمزور معیشتوں سے تعاون کے نام پر قرضوں کے بعد انکی خودمختاری گروی رکھوا لیتے ہیں اور داخلی خارجی معاملات پر کنٹرول کر لیتے ہیں۔

    بالکل اسی طرز پر انہیں بڑے ممالک کی ٹیکنالوجی میں برتری نے خطرناک حد تک دنیا کے ہر شخص کا ہر طرح کا بائیو ڈیٹا انکی گود میں ڈال دیا ہے جس سے اس شخص کو چلانا اسکی پسند نا پسند اسکی نفسیات غرض سب کچھ ان کے ہاتھ چلا گیا ہے، اور آپکی میری ہم سب کی مجبوری ہے اگر دنیا کے ساتھ چلنا ہے تو ” یہ تو ہو گا”۔ ٹیکنالوجی کا کنٹرول معاشی کنٹرول سے سو گنا بڑھ کر ہے کیونکہ یہاں چند ڈکٹیٹرز حکمرانوں یا ملکی سطح کے مرکزی اداروں تک انکی ڈکٹیشن نہیں ہوتی بلکہ اس کا دائرہ کار ہر فرد تک پہنچ جاتا ہے ۔ آپ یہ دیکھیں کہ صرف فیس بک کے ڈاؤنلوڈز پانچ سے چھ ارب کے درمیان ہیں جو دنیا کی کل آبادی کا نوے فیصد ہیں، تقریباً یہی اعداد و شمار باقی بڑی ویب سائٹس و ایپس کے بھی ہیں۔

    ٹیکنالوجی میں خود مختار دنیا کے بڑے ملکوں کی جنگیں پالیسیاں اب اسی طرز پر ہوتی ہیں جیسا کہ آپ نے دیکھا چند ماہ پہلے امریکہ نے چینی کمپنی ہواوے کو بین کیا ، روسی ایپس پہلے سے بین تھیں، روس و چائنہ میں امریکی ایپس بین ہیں۔ اور تو اور لداخ میں چین سے پڑنے والی مار کا جواب بھارت نے 59 چینی ایپس کو بین کر کے دیا ہے۔

    فی الحال پاکستان جیسے معاشی اعتبار سے کمزور ملک کے بس کی بات نہیں کہ ٹیکنالوجی کے اس میدان میں خود کوئی بڑی ایجادات کرے یا ان کمپینوں سے اپنا کچھ منوا سکے ۔ تقریباً دو ماہ حکومت پاکستان نے تقریباً ان تمام بڑی ایپس کو کچھ اصول و ضوابط پر پابند کرنے کی کوشش کی جس پر ان سب نے پاکستان سے اپنے تمام آپریشنز کو بند کرنے کی دھمکی دی اور تاحال حکومت اس پر کسی قسم کی معمولی شرائط نہیں منوا سکی، بلکہ چند ہفتے قبل پاکستان میں ٹویٹر ڈاؤن پر یہ شبہ کیا گیا تھا کہ یہ پاکستان کو ٹریلر دیکھایا گیا ہے کہ ہمارے سے اپنی سروسز کو بند کرنا کوئی بڑا سودا نہیں۔

    بہرحال ٹیکنالوجی ایک ایسا وسیع موضوع ہے جسے ایک فیس بک پوسٹ یا تحریر میں مکمل کرنا ناممکن ہے، کوشش ہوگی کہ مستقبل میں اس کے دفاعی، معاشی، معاشرتی، ثقافتی، نفسیاتی اثرات پر بات کروں ، فی الوقت اتنا ہی۔

  • بھارت اور متحدہ عرب امارات کا گٹھ جوڑ وجہ کیا ہے؟؟؟؟  محمد عبداللہ

    بھارت اور متحدہ عرب امارات کا گٹھ جوڑ وجہ کیا ہے؟؟؟؟ محمد عبداللہ

    سب سے پہلی بات کہ دنیا مفادات پر چلتی ہے وہ اسلامی ممالک ہوں یا اہل کفار کے ممالک سبھی تعلقات قائم کرتے وقت اپنے اپنے قومی مفادات کو ہی مقدم رکھتے ہیں. ایسا نہیں ہے کہ ہم.نے کبھی قومی مفادات کو ملی مفادات پر ترجیح نہ دی ہو. ماضی میں بے شمار مثالیں آپ کو ملیں گی جس سے اندازہ ہوگا کہ پاکستان نے بھی بارہا قومی مفادات کی وجہ سے ملی مفادات کو ٹھیس پہنچائی، اگرچہ پاکستان کا رویہ اور عام پاکستان کے جذبات باقی اسلامی ممالک کی وجہ سے امت کے درد میں زیادہ دلگیر ہوجاتا ہے. جدید نیشن اسٹیٹس میں خارجہ پالیسی کا یہی اصول ہے کہ فقط اپنے ہی قومی مفادات کو ترجیح دو. ایسے میں ہمیں بھی سینہ فراخ کرنا پڑے گا کہ جن اسلامی ممالک کے تجارتی مفادات دوسرے ممالک سے وابستہ ہیں ان سے وہ تعلقات قائم کرسکیں. (گزشتہ بلاگ میں ہی ہم نے ذکر کیا تھا) ہم کوئی بین الاقوامی منڈی نہیں ہیں، ہم بائیس کروڑ ہیں جبکہ بھارت 1.339 بلین آبادی والا ملک ہے جو انڈسٹری اور ٹیکنالوجی میں پاکستان سے بہت آگے ہے. ایسے میں عرب یا دیگر ممالک کا پاکستان کی نسبت بھارت کے ساتھ تجارتی معاہدوں کا حجم بہت زیادہ ہوگا تو وہ خیال بھی اسی کا رکھیں گے جہاں ان کے پیسے زیادہ لگے ہونگے.
    مزید پڑھیں مسئلہ کشمیر فقط زمین کے ٹکڑے کی لڑائی یا کچھ اور؟؟؟ تحریر: محمد عبداللہ

    دوسری بات جو بہت اہم بھی ہے اور جو سمجھ میں آنے والی بھی ہے کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ سی پیک اور بالخصوص پاکستان کی عظیم بندرگاہ گوادر کے آپریشنل ہوجانے سے جہاں بھارتی اور ایرانی بندگاہوں کو خطرات لاحق ہونا شروع ہوگئے تھے وہیں یہ پشین گوئیاں شروع ہوچکی تھیں کہ گوادر کے آپریشنل ہوتے ہی دوبئی کی رونقیں اجڑ جائیں گی اور اگر ایسا ہوجاتا ہے تو متحدہ عرب امارات کی ساری شان و شوکت، رعب و دبدبہ اور شامیں ماند پڑجائیں گی. کیونکہ گوادر تجارتی مرکز بن جائے گا. کیونکہ اسی گوادر اور سے ملحقہ سی پیک سے ہی چین، وسط ایشیائی ریاستوں اور روس تک کی امیدیں وابستہ ہیں اور چین کا تو دارومدار ہی اس سی پیک پر ہے.ساری دنیا جانتی ہے کہ درآمدات و برآمدات کے حوالے سے چین اور روس دنیا میں کیا مقام رکھتے ہیں.اسی طرح وسط ایشیائی ریاستیں بھی کسی سے کم نہیں ہیں مگر کسی طرف کا رستہ نہ ہونے کی وجہ سے وہ ریاستیں ایک عرصہ سے اگنور ہوتی چلی آ رہی تھیں اب اگر ان سب کو گوادر کی شکل میں تجارتی سنٹر ملتا ہے تو باقی تجارتی مراکز کی حیثیت اس کے سامنے بہت کم ہوجائے گی، گزشتہ دنوں ایران اور بھارت کے گٹھ جوڑ کا مقصد بھی یہی تھا کہ چاہ بہار کی رونقیں جاتی نظر آرہی تھیں. کچھ ماہ قبل کی بات ہے کراچی میں آئل وغیرہ سے وابستہ پاکستانی تاجروں کی ایک مجلس میں بیٹھے تھے تو وہاں پر بات چلی تو ان سب کا کہنا تھا کہ دوبئی کی نسبت اگر گوادر سے سلسلہ شروع ہوجاتا ہے تو پھر دوبئی کی ساری دکانداری ختم ہوجاتی ہے. سی پیک اور گوادر کا وہ پلان جس کو پاکستان اور چین نے گیم چینجر پلان کہا تھا کہیں ایسا تو نہیں کہ اس گیم چینجر سے متاثر ہونے والے سبھی ممالک نے گٹھ جوڑ کرلیا ہو اور ان سب کے پیچھے شیاطین کا مائی باپ امریکہ ہو کیونکہ چین و روس کی ترقی سے زیادہ مسئلہ امریکہ کو ہی ہوسکتا ہے. امریکہ افغانستان سے نکلنے کے لیے پاکستان کا محتاج ہے اور کہیں ایسا تو نہیں کہ اس نے بندوق مودی کے کندھے پر رکھی ہو کیونکہ یہی پاکستان کا مشکل ترین وقت تھا جس میں پاکستان کو قابو کرنا آسان تھا وگرنہ پاکستان ان ممالک کی پہنچ سے بہت آگے جانکلتا.

    مزید پڑھیں کیا بھارت کشمیر کو آزاد کرکے پاکستان کی بقاء ممکن بنائے گا؟؟؟ محمد عبداللہ
    اس خدشے کو تقویت کچھ اس طرح بھی ملتی ہے کہ پاکستان کو ایک طرف ایف اے ٹی ایف اور آئی ایم ایف کے چنگل میں ڈال کر، دوسری طرف پاکستان کو کشمیر ایشو اور مشرقی بارڈر پر مسلسل الجھا کر سی پیک اور گوادر کی تکمیل میں رکاوٹیں کھڑی کی گئی ہیں جس کا نتیجہ ہے کہ ان منصوبوں پر کام ایک حساب سے عملاً رک چکا ہے اور فی الوقت جو کچھ ہو رہا ہے وہ فقط کاغذوں کی حد تک ہو رہا ہے. کیونکہ ساری دنیا کو پتا ہے کہ پاکستان کشمیر کو نہیں چھوڑ سکتا کہ کشمیر بھی پاکستان کی بقاء کا مسئلہ ہے. کڑی سے کڑی ملائیں تو مقبوضہ وادی اور لداخ پر بھارتی شکنجے کی مضبوطی سے بھی یہ بات سمجھ آتی ہے کہ بھارت ایک طرف تو پاکستان کو پانی سے محروم کرنا چاہتا ہے اور دوسری سی پیک پر اثر انداز ہونا چاہتا ہے. اس کے لیے وہ متحدہ عرب امارات کی طرف التفات اور دیگر سبھی حربے استعمال کرے گا لہذا اب پاکستان کو اپنی ترجیحات واضح کرنا ہونگی اور اپنے قدم بڑے سوچ سمجھ کر اٹھانا ہونگے کہ کوئی چھوٹی سی غلطی بھی بڑا نقصان پہنچا سکتی ہے.

    Muhammad Abdullah
  • پیٹر دی گریٹ ۔۔۔ زین اللہ خٹک

    پیٹر دی گریٹ ۔۔۔ زین اللہ خٹک

    پیٹر دی گریٹ سترھویں صدی کے عظیم روسی سربراہ مملکت گزرے ہیں۔ آپ نے روس کو جدید خطوط پر یورپ کا ترقی یافتہ ملک بنا دیا۔ پیٹر دی گریٹ سے پہلے روس ہر لحاظ سے یورپ کا پسماندہ ترین ملک تھا۔ مذہبی طبقہ نے اقتدار کی ایوانوں میں پنجے گاڑھ رکھے تھے۔ علاقائی "ارباب” کی بدمعاشی قائم تھی۔ تاجر طبقے نے عوام کے ناک میں دم کر رکھا تھا۔ ملک داخلی اور خارجی سطح پر عدم استحکام کا شکار تھا۔ ان حالات میں پیٹر دی گریٹ نے عقلمندی اور شعور سے کام لیتے ہوئے ملک میں اصلاحات کا عمل شروع کیا۔ کسی بھی ملک میں اصلاحات کے لیے مضبوط فوج کی ضرورت ہوتی ہے۔ کیونکہ اگر فوج کمزور ہو تو اصلاحات ایک خواب رہ جاتی ہے۔ افغانستان کے امیر امان اللہ خان کمزور فوج کی وجہ سے اصلاحات کا عمل ادھورا چھوڑ کر بھاگ گئے۔ پیٹر دی گریٹ نے سب سے پہلے فوج کو مضبوط اور ہمنوا کیا۔ تاکہ اصلاحات کے عمل میں کوئی خلل نہ پڑے۔ مضبوط فوج کی موجودگی میں پیٹر ہر شعبہ زندگی میں اصلاحات لانے کے عمل میں کامیابی سے ہمکنار ہوئے۔ آپ نے پہلی بار روس میں اخبار شروع کیا۔کیونکہ کسی نظریے اور اصلاحات کی ترویج کے لیے اخبار کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔ روسی کلچر کو پروموٹ کیا۔ تعلیمی اصلاحات نافذ کیں۔ جدید خطوط پر نظام تعلیم کو استوار کیا۔ سائنس کو اہمیت دی۔ معاشی نظام کو بہتر کیا۔ تاجروں پر ٹیکس لگایا۔ مذہبی طبقہ کو محدود کیا۔غریبوں کے لیے وظائف مقرر کیے۔ پیٹر برگ کے نام سے جدید شہر آباد کیا۔ جس کو بعد میں دارالحکومت کا درجہ دیا گیا۔ یہ شہر اپنی خوبصورتی اور طرز تعمیر سے جدیدیت کا بے نظیر نمونہ پیش کر رہا ہے۔ پیٹر دی گریٹ نے مختصر عرصے میں اصلاحات کی بدولت پسماندہ ترین روس کو یورپ کا جدید ترین ملک بنا دیا۔ کسی ملک میں اصلاحات اور تبدیلی کے لیے مضبوط فوج، باعمل حکمران اور سوچ و جذبہ کار فرما ہونا بہت ضروری اور لازمی ہے۔

  • کرکٹ بھی کوئی کھیل ہے ؟ روس نے کرکٹ کو کھیل ماننے سے انکار کردیا

    کرکٹ بھی کوئی کھیل ہے ؟ روس نے کرکٹ کو کھیل ماننے سے انکار کردیا

    ماسکو:روس نے کرکٹ کو یہ کہ کر کھیل ماننے سے انکار کردیا کہ یہ بھی کوئی کھیل ہے. دنیا میں‌کرکٹ کو فٹبال کے بعد دنیا کا سب سے بڑا کھیل مانا جاتا ہے لیکن روس کی حکومت یہ حقیقت ماننے سے انکاری ہے اور انہوں نے کرکٹ کو سرے سے کھیل ہی ماننے سے انکار کردیا ہے۔

    یاد رہے کہ انٹرنیشنل اولمپکس کمیٹی کی جانب سے بھی کرکٹ کو تسلیم جا چکا ہے لیکن 1900 کے بعد سے اولمپکس میں اس کھیل کو نہیں کھیلا گیا۔15جولائی کو روس میں حکم نامہ جاری کیا گیا جس میں تسلیم شدہ کھیلوں کے نام درج تھے لیکن اس فہرست میں کرکٹ شامل نہیں تھا ۔

    روس کی جانب سے سرکاری سطح پر جن کھیلوں کو تسلیم کیا گیا ہے ان میں منی گالف اور ڈراف جیسے کھیل بھی شامل ہیں لیکن کرکٹ کو کھیل ماننے سے ہی انکار کردیا گیا ہے۔

    کرکٹ کے شائقین غمگین نہ ہوں کہ شاید کرکٹ کے روس میں کھیلنے پر پابندی ہے ،ایسا ہرگز نہیں . کھیل کو تسلیم نہ کیے جانے کا یہ مطلب نہیں روس میں اس کھیل کو کھیلا نہیں جا سکے گا بلکہ اس کے بجائے حکومت کی جانب سے اس کھیل کو کھیلنے کے لیے کسی بھی قسم کی معاونت یا مالی مدد نہیں کی جائے گی۔

    ماسکو کرکٹ اسپورٹس فیڈریشن کے رکن الیگزینڈر سوروکن نے کہا کہ کرکٹ کو تسلیم نہ کیے جانے کی وجہ وزارت کھیل میں جمع کرائی گئی درخواست میں غلطیاں تھیں۔انہوں نے کہا کہ فیڈریشن اگلے سال پھر درخواست دائر کرے گی اور اس اس مرتبہ ہم کامیابی کے لیے پرامید ہیں۔اس کے ساتھ روسی حکام نے تھائی باکسنگ کو بھی کھیل ماننے سے انکار کردیا ہے۔

    یاد رہے کہ روسی حکومت کا یہ فیصلہ ایک ایسے موقع پر سامنے آیا تھا جب ایک دن قبل 14جولائی کو انگلینڈ نے ورلڈ کپ جیت کر پہلی مرتبہ چیمپیئن بننے کا اعلان کردیا۔بعض مبصرین کا خیال ہے کہ روس کے اس نظریے کے پیچھے مغرب سے دوری اور روایتی دشمنی ہے

  • ماسکو:روسی فضائیہ نے ایٹمی اسلحہ لیجانے کی صلاحیت کے حامل امریکی طیارے کی روسی حدود میں مداخلت ناکام بنا دی

    ماسکو:روسی فضائیہ نے ایٹمی اسلحہ لیجانے کی صلاحیت کے حامل امریکی طیارے کی روسی حدود میں مداخلت ناکام بنا دی

    ماسکو:روسی میڈیانےروس کے نیشنل ڈیفنس مینیجمنٹ سینٹر کے ترجمان کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکی فضائیہ کا لڑاکا طیارہ سمندروں کی جانب سے ہماری سرحدوں کی طرف محو پرواز تھا، امریکی طیاروں کو دو مرتبہ روسی طیاروں کی مداخلت کا سامنا کرنا پڑا۔جوہری میزائل و دیگر اسلحہ لے جانے کی صلاحیت کے حامل امریکی ایئرفورس کے بمبار طیارے کی روسی سرحد کے قریب پرواز نے روس کی فضائیہ اور وزارت دفاع کو چوکنا کردیا۔ روس کی فضائیہ کے زیر استعمال ایس یو-57 طیارے نے امریکی فضائیہ کے طیارے کے راستے میں مداخلت کرکے اس کو آگے بڑھنے سے روک دیا۔ حیرت انگیز طور پر تاحال عالمی ذرائع ابلاغ میں یہ موضوع حل طلب تصور کیا جارہا ہے کہ امریکی طیارے نے ایک مرتبہ روسی سرحد کے قریب جانے کی کوشش کی یا دو مرتبہ؟ یہاں یہ سوال بھی اہمیت کا حامل گردانا جارہا ہے کہ کیا یہ ایک محض اتفاقی واقعہ تھا اور یا یہ کہ اس کے پس پردہ مقاصد کچھ اور تھے؟۔ خبررساں ایجنسی تاس نے روسی محکمہ دفاع کے حوالے سے بتایا ہے کہ روسی ساختہ ایس یو-57 طیارہ کومبیٹ ڈیوٹی پر تھا کہ اس نے امریکی فضائیہ کے طیارے کو اپنی سرحد کے قریب آتے دیکھا توراستے میں مداخلت کرکے اسے بین الاقوامی سرحد سے دور کردیا۔

    خبررساں ایجنسی کے مطابق روس کی وزارت دفاع نے یہ واضح نہیں کیا کہ امریکی طیاروں کا مقابلہ کرنے کے لیے کتنے روسی طیاروں نے حصہ لیا؟ لیکن اس بات کا اعتراف کیا کہ روسی طیاروں کو دو مرتبہ امریکی طیاروں کے راستے میں مداخلت کرنا پڑی۔ ماضی میں بھی دونوں ممالک کے درمیان اس حوالے سے کئی مرتبہ تناؤ پیدا ہوا ہے اور ایک دوسرے پر الزام تراشی بھی کی گئی ہے لیکن یہ بات درست ہے کہ موجودہ صورتحال میں امریکی طیاروں کی روسی سرحد کے قریب پروازوں نے پہلے سے موجود کشیدگی میں اضافہ ضرور کیا ہے۔