Baaghi TV

Tag: روس

  • کیا روس پھرسے آزاد ہونے والی مسلم ریاستوں پرقبضہ کرنے والا ہے:امریکی وزیرخارجہ بول اٹھے

    کیا روس پھرسے آزاد ہونے والی مسلم ریاستوں پرقبضہ کرنے والا ہے:امریکی وزیرخارجہ بول اٹھے

    الماتے:کیا روس پھرسے آزاد ہونے والی مسلم ریاستوں پرقبضہ کرنے والا ہے:امریکی وزیرخارجہ بول اٹھے،اطلاعات کے مطابق قازقستان میں کشیدہ صورتحال کے بعد روس کی سربراہی میں فوجی دستے پہنچ چکے ہیں جس میں تقریباً 2500 فوجی قازقستان پہنچے ہیں،

    قازقستان میں کشیدہ صورتحال کے بعد روس کی سربراہی میں فوجی دستے پہنچ چکے ہیں جس میں تقریباً 2500 فوجی قازقستان پہنچے ہیں: فوٹو بشکریہ بی بی سی
    امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے قازقستان میں روسی فوجیوں کی تعیناتی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھادیا۔

     

     

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق قازقستان میں ایل پی جی اور تیل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد ہونے والے احتجاج کے باعث صورتحال کشیدہ ہے اور اب تک درجنوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں جب کہ صدر نے کابینہ کو برطرف کردیا ہے۔قازقستان میں کشیدہ صورتحال کے بعد روس کی سربراہی میں فوجی دستے پہنچ چکے ہیں جس میں تقریباً 2500 فوجی قازقستان پہنچے ہیں۔

    امریکی وزیر خارجہ نے قازقستان میں روسی فوجیوں کی آمد پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہےکہ یہ بھی پوری طرح واضح نہیں کہ فوجی دستے کیوں تعینات کیے جارہے ہیں جب کہ امریکا کے نزدیک قازقستان کی حکومت اس صورتحال سے خود ہی نمٹ سکتی ہے۔

     

    انٹونی بلنکن کا کہنا تھا کہ حالیہ تاریخ سے ایک سبق ملتا ہے کہ ایک مرتبہ روسی آپ کے گھر آجائیں تو بعض اوقات انہیں باہر نکالنا بہت مشکل ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ میرے نزدیک قازقستان کی حکومت اس تمام معاملے سے مناسب طریقے سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے لہٰذا یہ بات بھی واضح نہیں کہ باہر سے فوج کو بلاکر تعینات کرنے کی کیا ضرورت پیش آئی۔

    امریکی وزیرخارجہ کہتے ہیں کہ تاریخ بتاتی ہے کہ جہاں روسی فوجی گئے وہاں انہوں نے قبضہ جمانے کی کوشش کی اور اب ایسے لگ رہا ہے کہ روس الگ ہونے والے مسلم ملک قازقستان کو پھرسے اپنی کالونی بنانے کی کوشش کررہا ہے

     

     

    یاد رہے کہ میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہےکہ الماتے شہر سمیت دیگر شہروں میں شدید احتجاج کے بعد قازقستان کے صدر نے احتجاج پر قابو پانے کے لیے مدد کی درخواست کی تھی۔اس سلسلے میں روسی حکام کا کہنا ہےکہ قازقستان میں فوجی دستوں کی تعیناتی باہمی سکیورٹی معاہدے کے تحت کی گئی ہے۔

  • معدنی ذخائرسے مالا مال قازقستان،بدامنی کا شکارکیوں؟گولی مارنے کا حکم کیوں؟

    معدنی ذخائرسے مالا مال قازقستان،بدامنی کا شکارکیوں؟گولی مارنے کا حکم کیوں؟

    نورسلطان: معدنی ذخائرسے مالا مال قازقستان،بدامنی کا شکارکیوں؟گولی مارنے کا حکم کیوں؟اطلاعات کے مطابق سابق سوویت ریاست کہ قازقستان کےنام سے اب دنیا کے نقشے پرموجود ہے بے پناہ معدنی ذخائر کے باوجود بدامنی اورعدم استحکام کا شکارہوچکی ہے اور اس کی وجہ یہ بتائی جارہی ہے کہ کورونا نے ملکی معیشت کا حال اس قدر تباہ کردیا ہےکہ حکومت کو ملکی نظام چلانے کےلیے پٹرولیم مصنوعات میں بار بار اضافہ کرنا پڑرہا ہے ،

    دوسری طرف عوام اس بات کو قبول کرنے کے لیے تیار نہں ، حکمران جماعت عوام الناس کو سمجھانے کی کوشش کررہی ہے دنیا بھر میں کورونا کی وجہ سے مہنگائی اور معاشی گراوٹ ہے لیکن عوام کسی کی بات ماننے کےلیے تیار نہں ،یہی وجہ ہے کہ شہریوں نے حکومت کے خلاف احتجاج شروع کررکھا ہے ، اطلاعات ہیں کہ قازقستان میں پیٹرولیم مصنوعات میں اضافے کیخلاف ہونے والے پُرتشدد مظاہروں میں ہلاک ہونے والوں کی مجموعی تعداد 46 ہوگئی ہے جب کہ قازق صدر نے فوج کو بغیر خبردار کیے مظاہرین پر گولی چلانے کی اجازت دیدی۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق قازقستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر 2 جنوری سے ہونے والے پُرتشدد مظاہروں کے بعد حکومت مستعفی ہوگئی تھی اور صدر نے ہنگاموں سے متاثر ہونے والے دو شہروں میں ایمرجنسی نافذ کردی تھی۔

    الماتی اور مینگسو میں ایمرجنسی کے نفاذ اور رات کے کرفیو کے باوجود تاحال حالات کشیدہ ہیں۔ ان شہروں میں صدر صدر قاسم جومارت توقایف نے فوج کو حکم دیا ہے کہ مظاہرین پر وارننگ دیئے بغیر گولی چلائیں۔تاحال مجموعی طور پر 46 ہلاکتیں ہوچکی ہیں جن میں 28 شہری اور 18 پولیس اہلکار شامل ہیں جب کی سیکڑوں زخمی ہیں اور 3 ہزار سے زائد مظاہرین کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

    قازق صدر قاسم الماروت نے حالات قابو میں ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ قانون اور حکومتی احکامات کو توڑنے والوں کیخلاف آپریشن کا آغاز کردیا ہے جس میں اب تک 18 پولیس اہلکار ہلاک ہوچکے ہیں۔

    دوسری جانب وزات داخلہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پولیس کی جوابی فائرنگ میں ہلاک ہونے والے 28 افراد شہری نہیں بلکہ دہشت گرد تھے۔حکومت کے مستعفی ہونے کے باوجود قیمتوں کے خلاف اب بھی احتجاج کرنے والے مظاہرین کا کہنا ہے کہ صدر نے کابینہ کو چلتا کرکے اپنا عہدہ بچایا ہے جب کہ مسائل کی اصل جڑ وہ خود ہیں۔

    روس نے قاقستان میں بگڑتی صورت حال کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے اپنی فوجین بھیجنے کا عندیہ ہے جس پر یورپی یونین نے روس کو کسی بھی مہم جوئی سے باز رہنے کے لیے خبردار کیا ہے۔

  • اسلام آباد میں مشکوک روسی خاتون ڈپلومیٹک انکلیومیں‌ گھُس گئی

    اسلام آباد میں مشکوک روسی خاتون ڈپلومیٹک انکلیومیں‌ گھُس گئی

    اسلام آباد: اسلام آباد میں مشکوک روسی خاتون ڈپلومیٹک انکلیومیں‌ گھُس گئی ،اطلاعات کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں ایک مشکوک روسی خاتون کو حراست میں لے لیا گیا ہے، روسی خاتون نے ڈپلومیٹک انکلیو میں گھسنے کی کوشش کی تھی۔

    تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں آج جمعرات کو پولیس نے ایک روسی خاتون شہری کو ڈپلومیٹک انکلیو میں گھسنے کی کوشش پر حراست میں لے لیا۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ حراست میں لی گئی روسی خاتون کو تھانہ سیکریٹریٹ منتقل کر دیا گیا ہے، یہ خاتون گزشتہ روز روس سے ملتان پہنچی تھی۔

    ذرائع نے انکشاف کیا کہ ملتان پولیس نے بھی خاتون کو حراست میں لے کر روسی سفارت خانے کے حوالے کیا تھا، بعد ازاں روسی سفارت خانے نے خاتون کو اسلام آباد کے نجی ہوٹل میں ٹھہرایا۔

    تاہم روسی خاتون موقع پا کر نجی ہوٹل سے بھی باہر آ گئی تھی، جسے آج پولیس نے ڈپلومیٹک انکلیو میں گھسنے کی کوشش پر حراست میں لیا۔

    ذرائع کے مطابق روسی سفارت خانے نے فارن آفس کو خاتون کا ویزا منسوخ کرنے کا خط لکھ دیا ہے، دوسری طرف خاتون نے پولیس کو اپنے بیان میں کہا کہ میں پاکستان کی سیر کرنا چاہتی ہوں۔

  • قازقستان: حالات کشیدہ، مظاہرین کیساتھ جھڑپ، 16 سکیورٹی اہلکار ہلاک:روسی دستے مدد کو پہنچ گئے

    قازقستان: حالات کشیدہ، مظاہرین کیساتھ جھڑپ، 16 سکیورٹی اہلکار ہلاک:روسی دستے مدد کو پہنچ گئے

    الماتی:قازقستان میں کابینہ کی برطرفی کے باوجود پر تشدد مظاہروں کا سلسلہ نہ رک سکا۔ حالات کشیدہ ہیں، مظاہرین کے ساتھ جھڑپ میں 16 سیکیورٹی اہلکار ہلاک اور ساڑھے تین سو سے زائد زخمی ہوگئے۔

    قازقستان میں سیاسی انتشار اور دنگے فساد جاری ہیں، کابینہ کی برطرفی کے باوجود عوامی غصہ کم نہ ہوسکا، مظاہرین نے سرکاری دفاتر اور پولیس کی گاڑیوں کو آگ لگا دی۔ کئی علاقوں میں مظاہرین اور سیکیورٹی اہلکاروں کے درمیان جھڑیں بھی ہوئیں۔

    روسی میڈیا کے مطابق مظاہرین کے ہاتھوں درجنوں سیکیورٹی اہلکار اور مظاہرین ہلاک ہوچکے ہیں زخمیوں کے تعداد سینکڑوں میں ہے۔

    قازق پولیس چیف کا کہنا ہے کہ انتہا پسند مظاہروں کی صفوں میں شامل ہوچکے ہیں، صورتحال پر قابو پانے کے لیے فوج پولیس کی مدد کے لیے پہنچ چکی ہے۔

    مظاہروں پر قابو پانے کے لیے صدر قاسم جمارت توکایوف نے ملک بھر ایمرجنسی نافذ کردی، حالات معمول پر آنے تک ملک میں غیر ملکیوں کے داخلے پربھی پابندی لگا دی گئی۔

    دوسری طرف روس کے زیرقیادت فوجی اتحاد نے پہلا فوجی دستہ قازقستان بجھوا دیا،روس کے زیرقیادت فوجی اتحاد کے بیان میں کہا گیا ہے کہ قازقستان میں جاری بدامنی پرقابوپانے میں مدد دینے کے لئے فوجیوں کا پہلا دستہ بھیج دیا گیا ہے۔

    بیان کے مطابق قازقستان میں صورتحال معمول پرآنے تک قازقستان میں رہیں گے۔ قازقستان کی حکومت نے ملک میں جاری بدامنی روکنے کے لئے مدد کی درخواست کی تھی۔

    دوسری جانب قازقستان کی پولیس نے گزشتہ رات پارلیمنٹ کی عمارت پردھاوا بولنے والے درجنوں مظاہرین کوہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔قازقستان کی وزارت صحت کے مطابق ہنگاموں میں اب تک 1000سے زائد افراد زخمی ہوچکے ہیں۔ زخمیوں میں سے 62 کی حالت تشویشناک ہے۔

    قازقستان میں پٹرولیم منصوعات کی قیمتوں میں اضافے کیخلاف ملک گیراحتجاج کیا جارہا ہے۔مظاہروں پرقابو پانے کے لئے ملک میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔

  • روس کوسخت جواب دینے کےلیے:نیٹو ممالک کا ہنگامی اجلاس 7 جنوری کو طلب:امریکہ بھی غُصے میں‌

    روس کوسخت جواب دینے کےلیے:نیٹو ممالک کا ہنگامی اجلاس 7 جنوری کو طلب:امریکہ بھی غُصے میں‌

    نیویارک:روس کوسخت جواب دینے کےلیے:نیٹو ممالک کا ہنگامی اجلاس 7 جنوری کو طلب کرلیا گیا،اطلاعات کے مطابق نیٹو ممالک (مغربی عسکری اتحاد) نے وزرائے خارجہ کا ہنگامی اجلاس 7 جنوری کو طلب کرلیا ہے۔

    نیٹو کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اجلاس میں یوکرائن کی سرحد پر روس کی فوجی سرگرمیوں کے حوالے سے پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

    نیٹو کی جانب سے دی جانے والی معلومات کے مطابق وزرائے خارجہ وڈیو کانفرنس کے ذریعے ملاقات کریں گے۔

    وزرائے خارجہ یورپ کی سلامتی کے ساتھ ساتھ یوکرائن کی سرحد پر روس کی جانب سے فوجی اور ہتھیار جمع کرنے کے بعد پیدا ہونے والی بین الاقوامی کشیدگی پر بھی وسیع تناظر میں بات کریں گے۔

    اجلاس کے اختتام پر نیٹو کے سیکرٹری جنرل جینز اسٹولٹن برگ کی صحافیوں کو بریفنگ بھی متوقع ہے۔

    نیٹو وزرائے خارجہ کا اجلاس اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ یہ 10 جنوری کو سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں امریکا اور روس کے درمیان ہونے والے اجلاس سے قبل منعقد ہوگا۔

    اس کے علاوہ نیٹو روس کونسل کا اجلاس 12 جنوری کو متوقع ہے جس سے نیٹو اور روس کے درمیان طویل عرصے کے بعد رابطہ قائم ہوگا۔

    ان دو اجلاسوں کے علاوہ آرگنائزیشن فار سکیورٹی اینڈ کوآپریشن اِن یورپ (OSCE) کا اجلاس 13 جنوری کو ہوگا۔ اِس تنظیم میں روس، یوکرائن، امریکا اور یورپی ممالک شامل ہیں۔

     

    نیٹو کے وزرائے خارجہ کی آخری ملاقات 30 نومبر کو لٹویا کے دارالحکومت ریگا میں ہوئی تھی اور نومبر سے روس کو دی جانے والی وارننگ دہرائی گئی تھی۔

    نیٹو کے سیکرٹری جنرل جینز اسٹولٹن برگ نے کہا ہے کہ روس کی طرف سے یوکرائن کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت کی بھاری قیمت ادا کرنا ہوگی، جارحیت کے نتائج سیاسی اور اقتصادی پابندیوں کی شکل میں سامنے آئیں گے۔

  • روس اور امریکہ کا ایک دوسرے کے گریبان کو ہاتھ:دھمکیاں:دنیا میں کسی بھی کچھ ہوسکتا ہے

    روس اور امریکہ کا ایک دوسرے کے گریبان کو ہاتھ:دھمکیاں:دنیا میں کسی بھی کچھ ہوسکتا ہے

    واشنگٹن : روس اور امریکہ کا ایک دوسرے کے گریبان کو ہاتھ:دھمکیاں:دنیا میں کسی بھی کچھ ہوسکتا ہے،اطلاعات کے مطابق یوکرین کے تنازعہ پر امریکہ اور روس ایک بار پھر آمنے سامنے ہیں ۔تناو بڑھتا جارہا ہے۔ دنیا کو روس کے ارادے نیک نظر نہیں آرہے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن نے اپنے روسی ہم منصب ولادی میر پوتن کو خبردار کیا ہے کہ یوکرین پر کسی بھی حملے کی صورت میں سخت امریکی ردعمل سامنے آئے گا جب کہ روس نے جواباً کہا کہ ماسکو مخالف پابندیاں ایک ’سنگین غلطی‘ ہوگی۔دونوں صدور نے یہ باتیں تین ہفتوں میں ہونے والی دوسری براہ راست بات چیت کے دوران کیں۔

    دونوں سربراہوں کے درمیان جمعرات کو ہونے والی 50 منٹ کی فون کال سے روس اور مغربی حمایت یافتہ یوکرین کے درمیان کشیدہ صورتحال پر مزید سفارت کاری کی حمایت کا اشارہ ملا ہے۔

    کریملن میں خارجہ پالیسی کے مشیر یوری اوشاکوف نے صحافیوں کو بتایا کہ صدر پوتن مجموعی طور پر اس بات چیت سے ’خوش‘ تھے جب کہ واشنگٹن میں ایک سینیئر امریکی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ گفتگو میں رہنماؤں کا لہجہ ’سنجیدہ اور ٹھوس‘ تھا۔

    لیکن گفتگو میں 10 جنوری کو اعلیٰ سطحی روسی اور امریکی حکام کے درمیان ہونے والی بات چیت سے پہلے اختلاف کی گہرائی یا مشرقی یورپ میں کھیلے جانے والے اونچے داؤ کو چھپانے کی کوئی بات نہیں تھی۔

    امریکی پریس سیکریٹری جین ساکی نے ایک بیان میں کہا کہ صدر بائیڈن نے واضح کیا کہ اگر روس نے یوکرین پر حملہ کیا تو امریکہ اور اس کے اتحادی اور شراکت دار ماسکو کو فیصلہ کن جواب دیں گے۔ادھر اوشاکوف نے یوکرین پر حملے کے ردعمل کے طور پر اقتصادی پابندیوں کی واشنگٹن کی بار بار دھمکیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ‘یہ ایک سنگین غلطی ہوگی۔ ہمیں امید ہے کہ ایسا نہیں ہوگا۔

    اوشاکوف نے یہ بھی کہا کہ روس جنیوا میں جنوری میں ہونے والی بات چیت کے ٹھوس ’نتیجے‘ کے لیے پر امید ہے جب کہ وائٹ ہاؤس نے کہا کہ وہ بھی چاہتا ہے کہ ماسکو یوکرین کی سرحد پر روس کی بڑی فوجی موجودگی سے پیدا ہونے والی کشیدگی میں کمی کے لیے کارروائی کرے۔

    ساکی نے کہاکہ’صدر بائیڈن نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ان مذاکرات میں خاطر خواہ پیش رفت صرف اس صورت میں ممکن ہے جب یہ بات چیت کشیدگی کی بجائے پرامن ماحول میں ہو۔

    ٹیلی فون کال کے بعد ایک ریڈ آؤٹ میں کریملن نے زور دیا کہ بائیڈن نے پوتن کو بتایا کہ یوکرین میں امریکی ہتھیاروں کو نصب نہیں کیا جائے گا۔ تاہم وائٹ ہاؤس نے کہا کہ بائیڈن نے محض موجودہ پالیسی کی توثیق کی ہے۔ ایک امریکی اہلکار نے اے ایف پی کو بتایاکہ صدر بائیڈن نے واضح کیا کہ امریکہ یوکرین کو دفاعی سکیورٹی کے حوالے سے امداد فراہم کر رہا ہے اور جارحانہ حملہ کرنے والے ہتھیار نہیں دے رہا۔ یہ کوئی نیا عہد نہیں تھا۔

    وائٹ ہاؤس کے حکام نے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ کئی ایسے شعبے ہیں جہاں دونوں فریق بامعنی طور پر پیش رفت کر سکتے ہیں لیکن ایسے اختلافات بھی موجود ہیں جنہیں حل کرنا ممکن نہیں۔

    مثال کے طور پر روس نے واضح کیا کہ وہ ایک تحریری عہد چاہتا ہے کہ یوکرین کو کبھی بھی نیٹو میں شامل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور نہ ہی وہاں اتحادی ممالک اپنے ہتھیار نصب کریں گے، یہ مطالبہ بائیڈن انتظامیہ نے مسترد کر دیا۔

    جنیوا میں ہونے والی بات چیت کے دوران روس کے مطالبات پر تبادلہ خیال کیا جائے گا لیکن یہ ابھی تک واضح نہیں کہ بحران کو کم کرنے کے بدلے میں بائیڈن پوتن کو کیا پیشکش کرنے کو تیار ہوں گے۔

    دریں اثنا نیٹو کے اہم ارکان نے واضح کیا کہ مستقبل قریب میں اتحاد کو وسعت دینے کی کوئی خواہش نہیں لیکن مذاکرات کی ناکامی کی صورت میں یہ روس کو سابق سویت ریاست پر حملہ کرنے کا بہانہ فراہم کرے گا۔

  • افغانستان کی نئی حکومت کوسب سے پہلے کون تسلیم کرنے جارہا ہے؟اہم خبرآگئی

    افغانستان کی نئی حکومت کوسب سے پہلے کون تسلیم کرنے جارہا ہے؟اہم خبرآگئی

    کابل:افغانستان کی نئی حکومت کوسب سے پہلے کون تسلیم کرنے جارہا ہے؟اہم خبرآگئی،اطلاعات کے مطابق افغانستان کے لئے روس کےخصوصی نمائندے ضمیر کابلوف کا کہنا ہے کہ طالبان حکومت کو عملی طورپر تسلیم کیا جا رہا ہے۔

    اس حوالے سے روس کے خصوصی نمائندہ برائے افغانستان ضمیر کابلوف کہتےہیں کہ اسی سلسلے میں‌ آنے والے سال کے پہلے مہینے جنوری کے آخر میں کابل میں ٹرائیکا پلس کانفرنس منعقد کی جارہی ہے۔

    روسی میڈیاکو دیئےگئے انٹرویو میں افغانستان کے لئے روسی خصوصی نمائندے ضمیرکابلوف کا طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کے سوال پر کہنا تھا کہ سیاسی طور پر تسلیم کرنا ایک علامتی عمل ہے، تاہم عملی طور پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ طالبان وفد نے ماسکو اجلاس میں شرکت کی جس میں انہیں 10ممالک کےمندوبین سے ملنے کا موقع ملا ہے۔ ضمیر کابلوف کا کہنا تھا کہ افغانستان میں جامع حکومت، خواتین کےحقوق کے احترام کی ضرورت ہے۔

    طالبان حکام کو اس بارے میں سنجیدگی سے سوچناچاہیے، افغان خواتین کیلئے تعلیم، سماجی، سیاسی سرگرمیوں تک رسائی ہونا اہم ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کابل میں جنوری کےآخر میں ٹرائیکا پلس کانفرنس ہوگی،کابل میں ٹرائیکا پلس کانفرنس کی حتمی تاریخ متعین نہیں کی گئی ہے۔

    دوسری طرف پاکستان کی طرف سے افغانستان کو انسانی بحران سے بچانے کے لیے کوششیں تیز ہوگئی ہیں اوراب پاکستان افغان بھائیوں‌کے لیے دنیا بھر میں آواز بلند کررہاہے، یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ افغانستان میں ہونے والی اس کانفرنس میں چین اور پاکستان بھی شامل ہوں گے ، تاہم یہ نہیں بتایا گیاکہ کیا افغان طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے کی پہل پہلے چین کرے گا یا پھر روس ، پاکستان کی دونوں صورتوں میں کامیابی ہے

  • مغربی ممالک نے ہمارے گھر کی دہلیز پر جارحیت کی تو بھرپور جوابی وار کریں گے،روسی صدر

    مغربی ممالک نے ہمارے گھر کی دہلیز پر جارحیت کی تو بھرپور جوابی وار کریں گے،روسی صدر

    ماسکو: روس کے صدر ویلادیمیر پوٹن نے خبردار کیا ہے کہ اگر مغربی ممالک نے ہمارے گھر کی دہلیز پر جارحانہ رویہ رکھا تو بھرپور جوابی وار کریں گے۔

    باغی ٹی وی : عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق روس کے صدر ویلادیمیر پوٹن نے کہا ہے کہ اگر مغربی ممالک نیٹو کی یوکرین میں جارحیت کو روکنے کے لیے سلامتی کی ضمانتوں کو پورا کرنے میں ناکام رہتا ہے تو بہت سے آپشنز پر غور کریں گے صدر ولادیمیر پوٹن نے مغربی ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے وعدوں کو پورا کرنے کے لیے تیزی سے کام کریں۔

    روسی صدر نے خبردار کیا کہ اگر مغربی ممالک نے ہمارے گھر کی دہلیز پر جارحانہ رویہ جاری رکھا تو فوجی کارروائی کریں گے جس کے لیے فوجی قیادت سے مشورہ کریں گے۔

    روسی صدرکو خراج تحسین پیش کرنے کی قرارداد پنجاب اسمبلی میں جمع

    اس ماہ کے آغاز میں روس نے سیکیورٹی دستاویزات کے مسودے میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ نیٹو یوکرین سمیت دیگر سابق سوویت ممالک کو رکنیت نہ دے اور وسطی و مشرقی یورپ میں تعینات اپنے فوجیوں کو واپس بلائے۔

    جس پر امریکی صدر جوبائیڈن نے روسی صدر ولادمیر پیوٹن کو دھمکی دی تھی مریکی صدر جوبائیڈن نے روسی صدر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر یوکرائن پر حملہ کیا تو بھاری قیمت اٹھانا پڑے گی انہوں نے کہا کہ یوکرائن پر حملے کی صورت میں روس کو تباہ کن معاشی نتائج کا بھی سامنا کرنا پڑے گا۔

    اس سے قبل بھی امریکی صدر جوبائیڈن روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن کو قاتل قرار دے چکے ہیں ایک انٹرویو میں امریکی صدر جوبائیڈن سے سوال کیا گیا کہ کیا آپ روسی صدر پیوٹن کو قاتل سمجھتے ہیں، جس پر انہوں نے جواب میں ہاں کہا اس موقع پرجوبائیڈن نے مزید کہا تھا کہ آپ دیکھیں گے ولادیمیر پیوٹن کو عنقریب قیمت چکانی پڑے گی۔

    امریکی صدر جوبائیڈن کی روسی صدر ولادمیر پیوٹن کو دھمکی

    واضح رہے کہ پاکستان میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو خراج تحسین پیش کرنے کی قرارداد پنجاب اسمبلی میں جمع کروا دی گئی قرارداد مسلم لیگ ن کی رکن پنجاب اسمبلی ربعیہ نصرت کی جانب سے جمع کرائی گئی ،قراردادکے متن میں کہا گیا ہے کہ پنجاب اسمبلی کا یہ ایوان روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن کو خراج تحسین پیش کرتا ہے۔ صدر پیوٹن نے توہین رسالتﷺ کی مذمت کرکے عالم اسلام کے دل جیت لیے ہیں۔ عالم اسلام کیلئے حضور نبی اکرم ﷺ کی محبت اپنی جان، مال اور اولاد سے بھی بڑھ کر عزیز ہے۔ حضورﷺ کی شان میں گستاخی سے سب سے زیادہ مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوتے ہیں۔ کسی بھی پیغمبر یا مذہب کی توہین آزادی اظہار رائے نہیں۔ دنیا میں اسوقت تک امن نہیں آسکتا جب تک ہم ایک دوسرے کے مذہب کا احترام نہیں کرتے۔ روسی صدر نے دنیا بھر کو یہی پیغام دیا ہے۔ پنجاب اسمبلی کا یہ ایوان روسی صدر کے بیان کا خیر مقدم کرتا ہے-

    اسرائیلی وزیر دفاع کا صیہونی فوج کو ایران پر حملے کی تیاری کا حکم

  • روس نے گوگل پر بھاری جرمانہ عائد کر دیا :کیا ایسا ممکن بھی ہے؟

    روس نے گوگل پر بھاری جرمانہ عائد کر دیا :کیا ایسا ممکن بھی ہے؟

    ماسکو:روس نے گوگل پر بھاری جرمانہ عائد کر دیا :کیا ایسا ممکن بھی ہے؟ ،اطلاعات ہیں کہ روس نے غیر قانونی مواد کے قانون کی مسلسل خلاف ورزی پر بین الاقوامی سرچ انجن گوگل پر 98 ملین ڈالر کا جرمانہ عائد کر دیا۔

    اس حوالےسے روسی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ ماسکو کی عدالت کی جانب سے جاری فیصلے میں غیرقانونی مواد کی تفصیلات تو فراہم نہیں کی گئیں تاہم مقامی میڈیا کا بتانا ہے کہ عدالت نے روس میں غیر قانونی قرار دیا گیا مواد نہ ہٹانے پر گوگل پر جرمانہ عائد کیا۔

    عدالت نے مقامی قوانین کی خلاف ورزی پر گوگل پر 7 ارب 2 کروڑ روبلز (98 ملین امریکی ڈالر) کا جرمانہ عائد کیا جو معروف ترین سرچ انجن کے سالانہ ٹرن اوور کی بنیاد پر روس میں پہلا جرمانہ ہے۔

    گوگل نے غیر ملکی خبر ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ وہ عدالتی فیصلے کا بغور مشاہدہ کرنے کے بعد مستقبل کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق روسی حکام کی جانب سے ٹیکنالوجی فرم پر ملکی قوانین کی خلاف ورزی پر مشتمل مواد ہٹانے کے لیے مسلسل دباؤ ڈالا جا رہا تھا۔

    رواں برس مئی میں روس کے میڈیا پر نظر رکھنے والے ادارے نے گوگل کو خبردار کرتے ہوئے کہا تھا وہ اپنے پلیٹ فارم سے ڈرگ، تشدد اور شدت پسندی کے حوالے سے مقامی قوانین کی خلاف ورزی پر مشتمل مواد ہٹائے۔

    دو روز قبل مائیکرو بلاگنگ سائٹ ٹوئٹر پر بھی قوانین کی خلاف ورزی پر بھاری جرمانہ عائد کیا گیا تھا جبکہ فیس بک کی پیرنٹ کمپنی میٹا پر بھی اسی قسم کا مقدمہ عدالت میں چل رہا ہے۔

  • مواد کی خلاف ورزی،روس نے گوگل پر 98 ملین ڈالر جرمانہ عائد کردیا

    مواد کی خلاف ورزی،روس نے گوگل پر 98 ملین ڈالر جرمانہ عائد کردیا

    مواد کی خلاف ورزی کرنے پر روس نے گوگل کو 98 ملین ڈالر جرمانہ کردیا ہے۔

    باغی ٹی وی:تفصیلات کے مطابق روسی عدالت نے ملک کے ضوابط کی خلاف ورزی پر گوگل پر 98 ملین ڈالر جرمانہ عائد کیا ہے،روسی عدالت نے مواد کو حذف کرنے میں بار بار ناکامی پر جرمانہ کیا۔

    روسی حکام کی جانب سے اس سال ٹیکنالوجی فرموں پر دباؤ بڑھایا ہے، ان پر الزام لگایا ہے کہ وہ مواد کو درست طریقے سے استعمال نہیں کرتے ، اور ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرتے ہیں۔

    اٹلی کا ایمیزون اور ایپل پر200 ملین یوروجرمانہ عائد

    گوگل کے فیصلے کے اعلان کے چند گھنٹے بعد ہی اسی طرح کے مواد سے متعلق جرائم کے لیے فیس بک کی بنیادی کمپنی میٹا کو 2 بلین روبل جرمانہ کیا گیا۔

    مواد کے قوانین پر روسی حکام کے ساتھ گوگل کا یہ پہلا مسئلہ نہیں ہے، مئی میں روس کے میڈیا واچ ڈاگ نے دھمکی دی تھی کہ اگر وہ غیر قانونی مواد کے 26 ہزار واقعات کو حذف کرنے میں ناکام رہا تو گوگل کی رفتار کم کر دے گا، جن کا تعلق منشیات، تشدد اور انتہا پسندی سے ہے۔

    ایپل نے 3 ماہ بعد ہی شیاؤمی سے دنیا کی دوسری بڑی کمپنی کا اعزاز چھین لیا

    جبکہ گوگل کا کہنا ہے کہ روس کی جانب سے مواد کی وضاحت نہیں کی گئی تھی، عدالتی دستاویزات کو دیکھ کر آئندہ اقدامات کا فیصلہ کریں گے تاہم ناقدین نے روس پر الزام لگایا ہے کہ وہ آزادی اظہار اور آن لائن اختلاف کو روکنے کے لیے مہم کا استعمال کر رہا ہے۔

    اس سے قبل اٹلی نے ایمیزون اور ایپل پرغیرمسابقتی رویہ اپنانے کے الزام میں 225 ملین ڈالر کا جرمانہ عائد کیا تھا اٹلی کی اینٹی ٹرسٹ اتھارٹی واچ ڈاگ نے امریکی ٹیک کمپنیوں ایپل اورایمیزون کو ایپل اور بیٹس کی مصنوعات کی فروخت میں مسابقتی مخالف تعاون کے الزام میں مجموعی طور پر 200 ملین یورو($ 225 ملین) سے زیادہ کا جرمانہ کیا تھا-

    فیس بک نے بھارتی اور اسرائیلی کمپنیوں پر پابندی عائد کر دی