Baaghi TV

Tag: ریاض علی خٹک

  • ہمارے ہاں صرف کہانیاں ہیں —- ریاض علی خٹک

    ہمارے ہاں صرف کہانیاں ہیں —- ریاض علی خٹک

    احسان اللہ مونی ایک بنگالی فلسماز ہے. اس نے تقریباً 60 ملین ڈالر خرچ کر کے ڈھاکہ میں ڈپلیکیٹ تاج محل بنایا. احسان اللہ نے بتایا کہ 1980 میں وہ جب آگرہ گیا اور اس نے تاج محل دیکھا تو وہ اسے دیکھتا ہی رے گیا. اس نے سوچا کتنے غریب بنگالی ہوں گے جو زندگی بھر اس حسن تعمیر کو دیکھ ہی نہیں پائیں گے. اور اسی سے اسے خیال آیا کیوں نہ بنگلا دیش میں بھی ایک تاج محل بنایا جائے.

    بنگلا دیش میں تاج محل بن گیا. بیشک یہ اصلی تاج محل نہیں نہ حسن تعمیر میں اسے مات کر سکتا ہے. لیکن آج کوئی بنگالی خاندان جب اپنے بال بچوں کے ساتھ سیر کیلئے چار ایکڑ پر پھیلے اس تاج محل میں آتا ہے تو اپنے بچوں کو یہ ضرور بتا سکتا ہے آگرہ کا تاج محل بلکل ایسا ہی ہے.

    ہم لوگ جب کسی خوبصورت حسین یا تاریخی مقام پر جاتے ہیں تب ہم ایک خوف کا شکار ہو جاتے ہیں. یہ خوبصورت پل یہ حسین یادیں کہیں ہم کھو نہ دیں. ہم ان کو محفوظ کرنا چاہتے ہیں. تاکہ آنے والے وقتوں میں ہم بتا سکیں ہم نے یہ مقام دیکھا ہے. اس لئے ہم دھڑا دھڑ وہاں تصاویر نکالتے ہیں. کچھ بے وقوف اسی خوف کا شکار ہو کر وہاں اپنے نام لکھنا شروع کر دیتے ہیں.

    آپ آج بھی اپنی آنکھیں بند کر کے اپنی زندگی کے وہ حسین پل خوبصورت مقامات کا سوچیں تو آپ کو اکثریت یادیں وہ ملیں گی جو تصاویر میں نہیں ہوں گی. خوف کی ہر یاد دماغ بھول جاتا ہے. اپنی ماضی کی تصاویر آپ کو اجنبی لگیں گی. کچھ احسان اللہ مونی کی طرح لوگ بھی ہوتے ہیں. وہ یہ حسن اپنے ساتھ لے آتے ہیں. اپنی یادوں میں سب کو شامل کر لیتے ہیں.

    لندن پیرس سوئٹزرلینڈ کے حسن اور یادیں بیان کرتے لوگ یا دوسرے معاشروں کے انصاف اور انتظام کی کہانیاں سنانے والے ہمارے لوگ بھی اگر اپنے خوف سے نکل کر یہ حسن صفائی انتظام اور انصاف اپنے ساتھ لاتے اپنے آبائی علاقوں میں وہی مثل بنا کر دکھاتے تو یہاں کے غریب بھی اپنے بچوں کو دکھاتے دیکھو سوئٹزرلینڈ لندن پیرس کی سڑکیں گلیاں ایسی ہوتی ہیں. وہاں انصاف ایسا ہوتا ہے.

    لیکن ہمارے پاس کوئی احسان اللہ مونی نہیں. ہمارے ہاں صرف کہانیاں ہیں جن کو دیکھنے کیلئے ہماری نسل باہر جانے کے خواب دیکھتی ہے. ان دشوار راستوں پر یہ قوم اپنے لاکھوں بچے ہار گئی ہے.

  • ہمت اور حوصلہ — ریاض علی خٹک

    ہمت اور حوصلہ — ریاض علی خٹک

    آپ کو اگر جانوروں کی دنیا میں کوئی دلچسپی ہو اور آپ انکا مشاہدہ کرتے ہوں تب بہت سی عجیب باتیں آپ دیکھتے ہیں. جیسے زیبرا کے غول کے سب سے بڑے دشمن شیر ہوتے ہیں. لیکن آپ دیکھیں گے زیبرے اُسی وقت اطمینان اور سکون سے میدانوں میں گھاس چر رہے ہوتے ہیں جب شیروں کا خاندان دھوپ میں سامنے لیٹا ہو.

    لیکن جب شیر نظر نہ آرہے ہوں تو پورا غول خوفزدہ ہوتا ہے. ہوا سے بھی لمبی گھاس ہلے تو ڈر کر دوڑ لگا لیتے ہیں. آپ کو ان کی سراسیمگی باقاعدہ محسوس ہو رہی ہوتی ہے. ان کے کان کھڑے ہوتے ہیں. یہی حال انسان کا بھی ہوتا ہے. بس ہمیں اسے سمجھنا ہوتا ہے.

    وہم اندیشے ہمارے وہ خوف ہیں جو ہمیں تب ڈراتے ہیں جب ہمارا خوف ہمارے سامنے نہ ہو. جیسے ناکامی کا خوف ہو جیسے دوسروں کے سامنے مذاق بن جانے کا ڈر ہو. جیسے کچھ کھو دینے کا خوف ہو. سامنا کرنے کا ڈر ہو. ہمارا دماغ اس ان دیکھے خوف کا مختلف زاویوں سے تجزیہ کر رہا ہوتا ہے اور ہر تجزیے پر ہمارا ڈر مزید بڑھ رہا ہوتا ہے.

    ہم اس وقت یہ بھول جاتے ہیں کہ ہم نہ زیبرا ہیں نہ کوئی دوسرا جانور جسے خوف کا انتظار کرنا پڑے. ہم انسان ہیں اور ہمارے پاس یہ صلاحیت موجود ہے کہ بجائے خوف کے انتظار کے ہم خود اس خوف کے سامنے کھڑے ہو جائیں. ہم بھول جاتے ہیں کہ تقدیر ہماری لکھی جا چکی ہے.

    ہمت اور حوصلہ کسی دوسرے کو زمین پر گرانے کا نام بلکل نہیں ہے. یہ اپنے خوف کو ڈھونڈ کر اسے آزمانے کا نام ہے. یہی وہ تربیت ہے جو آزمائش سے پہلے جب ہم آزما لیتے ہیں تو کل جب وہ آزمائش سامنے کھڑی ہو تب ہم سکون سے اسے دیکھ رہے ہوتے ہیں. مقابلہ پھر بھی لازم ہوگا لیکن وہ خوف ڈر نہیں ہوگا جو آپ کو لڑنے سے پہلے ہی ہرا چکا ہوتا ہے.

  • حسن و خوبصورتی — ریاض علی خٹک

    حسن و خوبصورتی — ریاض علی خٹک

    دنیا میں ایک سے ایک حسین و خوبصورت پھل موجود ہیں . کینیڈا سے لیکر جنوبی اشیاء تک نارنجی بیر اگر آپ ان بیر کے درختوں پر دیکھیں گے تو دل فوری کھانے کو مچلے گا. سردی کے موسم میں شوخ سرخ رنگ کے بیر یورپی جنگلات میں دکھائی دیتے ہیں. بندہ دیکھتا ہی رے جائے.

    لیکن یہ آپ کھا نہیں سکتے. اگر غلطی سے کھا بھی لیا تو پچھتاتے رے جائیں گے. ہمارے بیر بظاہر اتنے خوبصورت نہیں لیکن آپ بے فکر کھا سکتے ہیں. بظاہر بدشکل مٹیالا چیکو بھی اندر سے مٹھاس کا خزانہ ہے. سمندر کا نیلگوں پانی بے تحاشا ہے. لیکن کسی پیاسے کی پیاس نہیں بجھا سکتا. صحرا میں بارش کا پانی سنبھالے تالاب بھلے گدلا ہو لیکن انسان اور مویشی اسے پی سکتے ہیں.

    حسن پر ہم کچھ دیر آنکھ جھپکنا ضرور بھول جاتے ہیں لیکن پھر بھی ہماری آنکھوں کو پندرہ سے انیس ہزار بار روز جھپکی لینی ہی ہوتی ہے. ہمیں نیند لازم چاہئے اور یہ آنکھیں سب کچھ بھول کر بند ہو جاتی ہیں. لیکن دل ہمارا چوبیس گھنٹے دھڑکتا ہے. اچھے اخلاق اور اچھے لوگوں کا دل خوبصورت ہوتا ہے. ایسے لوگ دل کو اچھے لگتے ہیں.

    حسن و خوبصورتی کا تعلق آنکھوں سے جوڑ بناتا ہے اس لئے ہر حسن کو زوال ہے. جبکہ اچھائی اور دل کی خوبصورتی نسل سے جوڑ بناتی ہے اس لئے وقت کے ساتھ اسکا حسن دوبالا ہوتا چلا جاتا ہے. یہ حسن اللہ کی نعمت اور ایسے حسین لوگ زندگی میں ہوں تو اللہ کی رحمت ہوتی ہے.

  • صبر اور شُکر — ریاض علی خٹک

    صبر اور شُکر — ریاض علی خٹک

    مٹی ملے گدلے پانی کو کسی برتن میں رکھ دیں اسے کچھ وقت دیں تو اس کی مٹی آہستہ آہستہ تہہ پر بیٹھ جاتی ہے. آپ زندگی کی سائنس اگر جانتے ہوں تو یہی کام پھٹکری یعنی ایلم زیادہ جلدی کر لیتا ہے. کیونکہ ایلم پانی کی اساسیت سے مل کر ایک جیلیٹن ایفیکٹ بناتا ہے جو پانی میں موجود ذرات کو اپنی طرف کھینچ کر تہہ پر بیٹھ جاتا ہے.

    یہی صبر اور شُکر ہے. زمین پر موجود ہر مسافر انسان کے اس سفر کا زاد راہ ہے. صبر ہمارے پر اُمید انتظار کا نام ہے اور شُکر بندگی کی سائنس ہے. صبر ہمیں وقت سکھا دیتا ہے لیکن شُکر ہمیں خود سیکھنا ہوتا ہے. ہماری اکثریت شُکر پر بلکل ویسے ہی کنفیوز ہوتی ہے جیسے یہ سائنس پر ہو جاتی ہے. شکر کوئی قرض نہیں ایک احسان ہے.

    قرض ایک حساب ہے. جبکہ احسان ایک احساس ہوتا ہے. قرض بھلے کوئی مال ہو اسباب ہو خدمت ہو اسکا حساب ممکن ہے. اور لوٹایا بھی جا سکتا ہے. احسان جب کے بس ایک احساس ہوتا ہے جو ہم تسلیم کر لیتے ہیں. جیسے ماں باپ کی اپنی اولاد سے محبت ایک احسان ہے. آپ زندگی بھر یہ احسان اتار ہی نہیں سکتے.

    ہمارا یہ تسلیم کرنا شکر ہے. جب ہم اللہ رب العزت کے خود پر احسانات شمار کرنے شروع کرتے ہیں تو پتہ چلتا ہے یہ بے حساب ہیں. یہی احساس ہماری ذات کی پوشیدہ بنیادوں میں وہ کیفیت تخلیق کرتی ہے جو سوچ و شخصیت کے آلودہ ذرات کو صاف کر کے ہماری سوچ کو شفاف بنا دیتی ہے. یہی شفافیت وہ فوکس یا ارتکاز دیتی ہے جو روح کو سیراب و مطمئن رکھتی ہے.

    قرآن سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 147
    مَا يَفۡعَلُ اللّٰهُ بِعَذَابِكُمۡ اِنۡ شَكَرۡتُمۡ وَاٰمَنۡتُمۡ‌ ؕ وَكَانَ اللّٰهُ شَاكِرًا عَلِيۡمًا ۞

    اگر تم شکر گزار بنو اور (صحیح معنی میں) ایمان لے آؤ تو اللہ تمہیں عذاب دے کر آخر کیا کرے گا ؟ اللہ بڑا قدردان ہے (اور) سب کے حالات کا پوری طرح علم رکھتا ہے۔

  • جسمانی وزن ہو یا ذہنی بوجھ!!! — ریاض علی خٹک

    جسمانی وزن ہو یا ذہنی بوجھ!!! — ریاض علی خٹک

    پانچ چیزیں جب آپ اپنے جسم میں محسوس کریں تو آپ کو ترازو پر کھڑا ہو جانا چاہئے.

    آپ کی کمر چالیس انچ سے نکل گئی.

    آپ کو بتایا جاتا ہے آپ رات میں خراٹے لیتے ہیں اور صبح آپ تازہ دم نہیں ہوتے.

    اکثر آپ کا دل جلتا ہے. جوڑ درد کرتے ہیں اور چھوٹے چھوٹے کام بھی آپ کو تھکا دیتے ہیں. آپ ترازو پر کھڑے ہو جائیں آپ کا وزن بڑھ چکا ہے.

    اگر آپ نا اُمید مایوس چڑچڑے رہتے ہیں. دل میں ایک بے چینی اور بے زاری ہے تو بھلے اوپر درج کوئی علامت بھی آپ خود میں نہ پائیں پھر بھی آپ کا وزن بڑھ چکا ہے. بس اوپر کی علامات جسمانی وزن کی ہیں اور نیچے ذہنی اور نفسیاتی بوجھ ہے. دونوں سے چھٹکارے کا راستہ بھی تقریباً یکساں ہے. آپ کو اپنا لائف سٹائل بدلنا ہوگا.

    آل یہود ارض قدس میں ایک دیوار کے سامنے روتے ہیں. اسے دیوار گریہ کہتے ہیں. آپ کبھی اسے قریب سے دیکھیں تو اس کی ہر درز ہر دراڑ میں بہت سی پرچیاں کاغذ ٹھونسے ہوئے ہیں. یہ اُن لوگوں کی ہیں جنہوں نے اپنی خواہشات و ارمان لکھ کر دیوار کے حوالے کیں اور خود ایک یقین کے ساتھ ان کو پانے کیلئے نکل گئے. لیکن جو دیوار کے سامنے رونے کو ہی حل سمجھتے ہیں وہ پھر روتے ہی رہتے ہیں.

    جسمانی وزن ہو یا ذہنی بوجھ دونوں آپ کی زندگی مشکل بناتے ہیں. جسمانی وزن میں آپ کی سانس ہانپ جاتی ہے جبکہ ذہنی بوجھ میں آپ سے وابستہ رشتوں تک کا دم گھٹنے لگتا ہے. اوور ویٹ لوگوں کا اکثریتی مسئلہ ہے کہ یہ تسلیم ہی نہیں کرتے کہ یہ اپنی سرحدیں پار کر چکے ہیں. جسمانی وزن چند ماہ کی مشقت ہے تو ذہنی بوجھ کیلئے تو روتے ہوئے کچھ سجدے ہی بہت ہوتے ہیں.

  • مایوس موت کی منتظر قبریں — ریاض علی خٹک

    مایوس موت کی منتظر قبریں — ریاض علی خٹک

    افریقی ملک آئیوری کوسٹ کے غریب کان کنوں کو سونے کی تلاش میں ایک کنویں میں کام کرتے اگر آپ دیکھیں گے تو آپ کا پہلا ردعمل ہوگا کیا یہ پاگل ہیں.؟ یہ نہ صرف انتہائی محنت و مشقت کا کام ہے بلکہ یہ موت کے ساتھ کھیلنا ہے. سونا دریا کے نشیبی علاقوں میں دستیاب ہے جہاں تھوڑی کھدائی کرتے ہی اطراف سے پانی رسنے لگتا ہے. نیچے کیچڑ بنتی ہے اور کنوئیں کی دیواروں سے مٹی گرتی ہے. اسے لکڑیاں لگا کر یہ روکنے کی کوشش کرتے ہیں.

    نیچے بہت سا کیچڑ نکال کر وہ چٹانی ٹکڑے ملتے ہیں جن کے ساتھ تھوڑا بہت سونا چپکا ہوتا ہے. سونا اتنا ہی ملتا ہے جو بمشکل دیہاڑی پوری کر پاتا ہے. پھر یہ پاگل پن کیوں؟ تو اس کیوں کا بہت سادہ جواب ہے کہ پھر یہ کریں تو کیا کریں؟ یہی مزدور سیزن میں کوکوا کے فارمز پر جاتے ہیں اور سخت گرمی میں دنیا کے چاکلیٹ کی ضرورت پوری کرنے کیلئے کوکوا چنتے ہیں. یا پھر ان کنوؤں میں اترتے ہیں.

    یہ کنویں اس لئے آباد ہیں کہ ان کے ساتھ امیدیں اور خواب جوڑ بنا لیتے ہیں. کسی دن کوئی ایک بڑا سونے کا ڈلا اگر مل گیا تو وارے نیارے ہو جائیں گے. ان ہی خوابوں کی تعبیر کیلئے مزدور کسی بھی وقت زندہ دفن ہونے کیلئے ان میں اتر جاتے ہیں. آئیوری کوسٹ کے کنویں میں اترنے والوں کی وجہ پھر سمجھ آجاتی ہے.

    لیکن مایوسی کے کنویں میں اترنے والے کی سمجھ نہیں آتی. آئیوری کوسٹ کے مزدور تو ایک ٹیم بنا کر یہ کام کرتے ہیں اور مایوسی کے کنویں میں اترنے والا تنہا ہوتا ہے. ایک کے پاس سونے کے کسی بڑے ڈلے کی اُمید اور خوبصورت زندگی کے خواب ہوتے ہیں. جبکہ دوسرا اپنی امید اور خواب باہر چھوڑ کر اندر اتر جاتا ہے.

    یہ مایوس موت کی منتظر قبریں پھر سمجھ نہیں آتیں. اپنی مایوسیوں کو کلمہ پڑھا لیں. کیونکہ مسلمان مایوس نہیں ہوتا.

  • امیر بننا ہے تو؟ — ریاض علی خٹک

    امیر بننا ہے تو؟ — ریاض علی خٹک

    اگر آپ نے امیر بننا ہے تو لاس اینجلس امریکہ کا ڈان پینیا آپ سے بیس ہزار ڈالر لیتا ہے. پھر اگلے ایک گھنٹہ وہ آپ کو خوب ذلیل کرے گا. وہ آپ کو امیر لوگوں کے نام لے لے کر بتائے گا شرم کرو اگر یہ امیر بن سکتے ہیں تو تم کیوں نہیں.؟ وہ آپ کی غیرت جگائے گا.

    پاکستان کا کوئی ڈبل شاہ آپ کو امیر بننے سے پہلے ہی یقین دلا دے گا کہ آپ تو بہت امیر ہیں. آپ اتنے امیر ہیں کہ آپ کو کسی قسم کے کام کی ضرورت ہی نہیں. آپ پیسے مجھے دیں امیر لوگوں کی طرح گھر بیٹھ جائیں. ہم نوکر ہیں نہ آپ کو امیر سے امیر ترین بنانے کیلئے. آپ بس ہر مہینے کا منافع گنتی کریں.

    ڈان پینیا نے کسی کو امیر بنایا یا نہیں یہ تو میں نہیں جانتا لیکن ڈان ہو یا پاکستان کا ڈبل شاہ یہ سب خود امیر ضرور بن گئے ہیں. آپ کو امیر بنانے کے موٹیویشنل سپیکرز بہت مل جائیں گے. آپ فری میں یوٹیوب پر فری کی ویڈیوز دیکھ کر امیر بن جائیں. یا آپ کو زیادہ جلدی ہے تو آپ امیر بننے کیلئے نقد انویسٹمنٹ کرلیں. یہاں ہر طرف آپ کو ایک ڈان پینیا یا کوئی ڈبل شاہ مل جائے گا.

    لیکن ہم کوئی موٹیویشنل سپیکر نہیں ہیں. ہم امیر بننے کے طریقے بھی نہیں جانتے البتہ بطور ایک انسان صرف انسانیت سکھانے کی کوشش کرتے ہیں. تاریخ بتاتی ہے انسان جب بھی انسانیت سے دور ہوا معاشرہ وہ جنگل بن جاتا ہے جہاں کمزوری جرم ٹھرتی ہے. یہ کمزوری نفسیاتی بھی ہوتی ہے عادات کی بھی تو علم و عمل بھی کمزور ہو سکتے ہیں.

    اپنی کمزوری کا اعتراف صرف بہادر کر سکتے ہیں. ایک طاقتور شعور ہی شعوری طاقت کا قدردان ہوتا ہے. یہ ایک دوسرے سے سیکھنے اور سکھانے کا رشتہ ہے. کوئی کسی بند دروازے کے سامنے یہ سوچ کر کھڑا نہ ہوجائے جیسے یہی زندگی کا اکلوتا دروازہ ہو. تب یہ انسانیت کا رشتہ ہی ہے جو اپنے اپنے دروازے کھول کر بتاتے ہیں نہیں زندگی کے بہت سے دروازے ہیں. مایوسی تمہیں ادھر ادھر بس دیکھنے نہیں دے رہی.

  • کہانی کبھی ختم نہیں ہوتی — ریاض علی خٹک

    کہانی کبھی ختم نہیں ہوتی — ریاض علی خٹک

    کہانی کبھی ختم نہیں ہوتی. جیسے اکثر موٹیویشنل سپیکرز ہاتھی کے اس بچے کی کہانی سناتے ہیں جس کے پاوں میں ایک پتلی زنجیر ڈال دی جاتی ہے. وہ اس زنجیر کو توڑ نہیں پاتا. وقت کے ساتھ ہاتھی تو بھاری بھرکم جسامت کے ساتھ بڑا ہو جاتا ہے لیکن زنجیر وہی رہتی ہے. اب ہاتھی اسے توڑنے کی کوشش ہی نہیں کرتا. سپیکرز بتاتے ہیں کہ وہ مان چکا ہوتا ہے کہ وہ یہ زنجیر نہیں توڑ سکتا تو کیا آپ بھی اپنی زنجیروں پر یہ تسلیم کر چکے.؟

    ہاتھی کی کہانی یہاں ختم ہو جاتی ہے. لیکن کیا ہاتھی کیلئے یہ کہانی ختم ہوئی.؟ انسانوں کے علاوہ ہاتھی ہی ہیں جو ماضی کی تکلیف دہ یادوں سے نکل نہیں پاتے. اس نفسیاتی بیماری کو PTSD کہتے ہیں. ہم انسان بھی اسکا شکار ہوتے ہیں. مسئلہ یہ ہے کہ کوئی ہاتھی چڑیا گھر میں کم از کم اس بیماری سے چھٹکارا نہیں پا سکتا. اسے واپس جنگل جانا ہوگا جہاں وہ اپنے کل کا فیصلہ خود کر سکے.

    ہمارے بہت خوبصورت رشتے ہوتے ہیں. ماں باپ بھائی بہن دوست عزیز و رشتہ دار لیکن کوئی آپ سے آپ کا درد نہیں لے سکتا. آپ کی تکلیف کا بھلے ان کو جتنا بھی احساس ہو وہ یہ تکلیف محسوس تو کر سکتے ہیں لیکن وہ یہ آپ سے لے نہیں سکتے. آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ میں اپنے سر درد سے تھک گیا ہوں کچھ دیر اسے اپنے سر پر لے لو.

    ہمیں واپس اپنے پاس جانا ہوتا ہے. ہمیں اپنے کل کے پاس جانا ہوتا ہے. کل کیلئے ہمارے پاس کوئی خواب ہوں کوئی منزل ہو تب آنے والا کل ہمیں گزرے کل سے کھینچ لیتا ہے. لیکن اگر ہمارے پاس کوئی خواب اور مقصد یا منزل نہ رہے تب ہم گزرے کل میں زندگی کے چڑیاگھر کا ایک کردار بن جاتے ہیں. ہماری کہانی پر وقت گزر رہا ہوتا ہے لیکن کہانی آگے نہیں بڑتی.

  • میسی — ریاض علی خٹک

    میسی — ریاض علی خٹک

    میسی بھی حسب معمول ایک غریب والدین کا بچہ تھا. ارجنٹائن روزاریو کا یہ بچہ صرف گیارہ سال کا تھا جب اسے گروتھ ہارمون ڈس آرڈر کی بیماری تشخیص ہوئی. اس کا علاج بہت مہنگا تھا. اس کے والدین اسے لے کر سپین آگئے جہاں بارکا کلب نے اس کی فٹ بال صلاحیت پر اس کے علاج کا فیصلہ کیا.

    اور لیو میسی فٹ بال کی دنیا میں چھا گیا. اس سے کسی نے پوچھا تھا کہ کیا آپ میرا ڈونا سے اپنا موازنہ کریں گے.؟ میسی نے کہا نہیں میں اپنا موازنہ کسی سے نہیں کرتا. میں اپنی الگ تاریخ بنانا چاہتا ہوں. تو دوستو میسی کی تاریخ ارجنٹائن اور سپین کا کلب بارکا ہے.

    آج قسم قسم کے لوگ آپ کو بتائیں گے میسی شیخ آرائیں جاٹ تو کوئی اسے میمن راجپوت بتائے گا. آپ نے بلکل نہیں ماننا کیونکہ یہ ہمارے برصغیر کا قومی مزاج ہے. ہم اپنی تاریخ خود نہیں بناتے بلکہ کسی اور کو پکڑ کر اپنی تاریخ میں لے آتے ہیں. اور اگر اپنی تاریخ بنانے کا کسی کو موقع مل بھی جائے تو وہ ذہین انسان تاریخ چھوڑ کر اپنی زندگی بنانے کیلئے یورپ امریکہ چلا جاتا ہے.

    اس مانگے تانگے کی تاریخ سے ہم سب ایڈجسٹ نہیں کر پارہے تو میسی کیا ایڈجسٹ کر پائے گا. میسی یا تو ارجنٹائن کا ہے یا بارکا سپین کا.

  • رسہ کشی — ریاض علی خٹک

    رسہ کشی — ریاض علی خٹک

    کچھ کھیل بہت مہنگے ہوتے ہیں. جیسے گرم ہوا کے غباروں کی ریس ہو یا بادبانی کشتی کی دوڑ. بے شک ہیں تو یہ کھیل ہی لیکن ان کو کھیلنے کیلئے آپ کو پہلے لاکھوں روپے خرچ کر کے غبارہ یا کشتی خریدنی ہوگی. کچھ کھیل بہت سستے ہیں جیسے کُشتی یعنی ریسلنگ ہو یا رسہ کشی. ایک میں کوئی مخالف چاہئے تو دوسرے میں مخالف کے ساتھ ایک رسی بھی درکار ہوگی.

    اکثریت مہنگا کھیل ایفورڈ نہیں کر سکتی تو سستے کھیل عام ہیں. رسہ کشی عیسی علیہ السلام کی پیدائش سے ڈھائی ہزار سال پہلے بھی مصر کی تہذیب میں کھیلی جاتی تھی. ان کی دیواروں پر اس کے نقش آج بھی موجود ہیں. کشتی کی تاریخ اس سے بھی پرانی ہوگی. یہ اتنے عام کھیل ہیں کہ ہمارے دماغ کو بھی کوئی مخالف نہ ملے تو یہ ہم سے ہی کھیلنا شروع کردیتا ہے.

    تب دماغ میں ایک رسہ کشی شروع ہو جاتی ہے. عقل شعور اور وقت کے تقاضے آپ کو اپنی طرف بلا رہے ہوتے ہیں جبکہ دماغ کہتا ہے پہلے مجھ سے جیت کر دکھاو اور دماغ میں ایک میدان سج جاتا ہے. ہم خود سے لڑنا شروع کر دیتے ہیں. اچھا ہر کھیل میں فریقین کی الگ پہچان بھی ہوتی ہے. اس رسہ کشی میں بھی ایک طرف دلیل ہوتی ہے تو دوسری طرف خوف اندیشے وہم ہوتے ہیں.

    ہر کھیل کی ایک تکنیک اور داو پیچ بھی ہوتے ہیں . جیسے دماغ اس خوف سے ڈراتا ہے جو ابھی آپ نے دیکھا ہی نہیں ہوتا. آپ کے ان اندیشوں ڈر و خوف پر آپ کو کوئی دلیل بھی مطمئن نہیں کر پاتی. کیونکہ مستقبل پر ہم کبھی ختمی دلیل یا پیشن گوئی کر نہیں پاتے. لیکن آپ ایک کام کر سکتے ہیں. آپ رسی چھوڑ سکتے ہیں.

    رسہ کشی جب خوب گرم ہو اور کوئی ایک فریق رسی چھوڑ دے تو دوسرا اپنے ہی زور میں پیچھے گر جاتا ہے. چھوڑنے والے بھی آپ ہوں گے گرنے والے بھی آپ ہی لیکن انسانی نفسیات بہت پیچیدہ ہے. جیسے گرم پانی کا غسل آپ کو وہی کیفیت دیتا ہے جیسے کسی محبت والے رشتے سے بغل گیر ہوگئے ہوں. انگریزی میں اسے کہتے ہیں let it go.. یعنی ہو جانے دو. آپ بھی رسی چھوڑ دیا کریں. بولو نہیں کھیلنا. یہ کوئی لاکھوں ڈالر کا گرم غبارہ یا سپیڈ بوٹ نہیں جو آپ ہارنے کی فکر کریں.

    کچھ رشتوں کچھ تعلقات اور کچھ خواہشات میں بھی اپنے ہاتھ لہولہان کرانے سے بہتر یہ رسہ چھوڑ دینا ہوتا ہے.