Baaghi TV

Tag: ریاض علی خٹک

  • ریاضت بہتر بناتی ہے!!! — ریاض علی خٹک

    ریاضت بہتر بناتی ہے!!! — ریاض علی خٹک

    کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ فون ہاتھ میں ہوتا ہے ہمیں نمبر ڈائل کرنا ہوتا ہے. ہمیں معلوم ہوتا ہے یہ نمبر میرے پاس سیو ہے. ہمیں یہ بھی پتہ ہوتا ہے کہ فون کیوں کرنا ہے کیا کہنا ہے لیکن اسکا نام یاد نہیں رہتا جسے فون کرنا ہو. جن لوگوں کے فون نمبرز کی ڈائریکٹری بڑی ہوتی ہے جن کے کام کی نوعیت پھیلی ہوئی ہو ان کو اکثر یہ مسئلہ درپیش ہو جاتا ہے.

    لیکن ہمیں اچانک وہ نام بھول کیوں جاتا ہے.؟ اسکا جواب اس تعلق میں ہے جو ڈائریکٹری میں نام ہوتے بھی یاد نہیں آتا. جو روزانہ کے تعلقات ہوں گے وہ آپ نہیں بھولیں گے. جو کبھی کبھار کا تعلق ہوگا وہ سیو کرتے ہم سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ نہیں بھولیں گے لیکن بھول جاتے ہیں.

    بلکل ایسے ہی زندگی کے بہت سے چیلنج ہوتے ہیں جو ہم سمجھتے ہیں ہم کر سکتے ہیں ہم کرنا چاہتے ہیں. لیکن پھر جب ہم کرنے جاتے ہیں تو کوئی سرا ہاتھ نہیں آتا. ہم کلیو لیس ہو جاتے ہیں. ایک جھنجھلاہٹ ایک شرمندگی خود سے ہوتی ہے. یار ہم سے اتنا بھی نہیں ہو پایا.؟ اسکا حل بھی روزانہ کے رابطے میں ہے. اسے پریکٹس کہتے ہیں تربیت کہتے ہیں مشق کہتے ہیں.

    ہم وہی کر سکتے ہیں جس کی ہمیں پریکٹس ہو. پریکٹس وہ روزانہ کی کوشش ہے جو آپ کو کل کیلئے تیار کرتی ہے. جیسے دوڑ ہو آپ بیشک دوڑ سکتے ہیں لیکن پریکٹس نہ ہو تو تھوڑا سا دوڑ کر ہی ہانپ رہے ہوں گے سانس لینا دوبھر ہو جائے گا. اور آپ خود سے شرمندہ ہو جائیں گے.

  • مزدور کے حقوق — ریاض علی خٹک

    مزدور کے حقوق — ریاض علی خٹک

    کل ایک ڈیپارٹمنٹل سٹور میں سودا سلف اکھٹا کرتے کافی وقت لگ گیا. ان بڑے سٹورز میں سب کچھ ملتا ہے. سبزی کراکری کپڑے جوتے الیکٹرانکس سے لے کر امور خانہ داری کا سب کچھ دستیاب ہوتا ہے. لیکن تھکاوٹ کم کرنے کیلئے بیٹھنے کا کوئی سٹول بینچ آپ کو نہیں ملے گا.

    اسی تھکن میں دھیان اُن سیلز گرلز اور سیلز بوائز پر گیا جو اپنے اپنے حصے کے شیلف کے ساتھ کھڑے گاہک کو سہولت دیتے ہیں. میں نے سوچا ہم جو کچھ وقت میں یہاں تھک کر سٹول بینچ ڈھونڈ رہے ہیں ان کا صبح سے شام تک کیا حال ہوگا.؟

    اللہ رب العزت نے انسانی جسم کچھ اس طرح ڈیزائن کیا ہے کہ نہ یہ لگاتار بیٹھنا برداشت کر سکتا ہے نہ کھڑا رہنا. میڈیکل سائنس کہتی ہے اگر آپ کا کام کرسی پر بیٹھنے کا ہے تو درمیان میں بار بار کھڑے ہوا کریں اور اگر کھڑے ہونے کا ہے تو بیٹھ جایا کریں. کیونکہ لگاتار بیٹھنے پر دل بیمار ہوتا ہے اور لگاتار گھنٹوں کھڑے رہنے سے رگوں میں سوزش ہوتی ہے اور جوڑوں کا درد ساتھی بن جائے گا.

    کرسیوں والے تو کسی بہانے کھڑے ہو ہی جائیں گے لیکن یہ کھڑے مزدور جن کو ٹائٹ کپڑے پہنا کر شیلف کے سامنے ایک ڈیکوریشن پیس بنا کر پیش کیا جاتا ہے ان کے پاس تو بیٹھنے کا آپشن ہی دستیاب نہیں ہوتا. مزدور کے بھی کچھ حقوق ہوتے ہیں. کاش ان بڑے بڑے سٹورز کی انتظامیہ اپنے ورکنگ انوائر مینٹ میں گاہک کیلئے نہ سہی لیکن اپنے مزدور کیلئے ہی ایک سٹول رکھ دیں.

  • اچھا سامع — ریاض علی خٹک

    اچھا سامع — ریاض علی خٹک

    انڈیز پہاڑوں میں بسے پیرو کے شامان اپنے علاج کیلئے بہت مشہور تھے. مسئلہ یہ تھا کہ وہ شامان کہتے علاج کیلئے تمہیں اوپر پہاڑوں پر آنا ہوگا. مریض کو خچروں پر یا کندھوں پر اٹھا کر اوپر پہاڑوں پر جب لے جایا جاتا تو وہ کہتے اسے اب چھوڑ جاو. وہ قدرتی جڑی بوٹیوں سے اسکا علاج کرتے. اکثریت کو شفا ملتی اور ان شا مانوں کا دور دور تک شہرہ تھا. آج بھی ان کی نسل دستیاب ہے.

    آج جب تحقیق ہوتی ہے تو کئی باتیں سمجھ آتی ہیں. مریض کا ماحول بدل جاتا قدرتی پرفضا ماحول میں فطرت کے ساتھ رہتا فطرتی چیزیں استعمال کرتا اپنے شامان کی تسلی سنتا یہ مریض اصل میں اپنی ایک زندگی سے کٹ کر ایک نئی زندگی میں داخل ہوجاتا تھا. مایوسی کی جگہ اُمید دنیا کی بھاگ دوڑ کی بجائے فطرت کا سکون اس کے آس پاس ہوتا. اور زندگی پھر انگڑائی لے کر جینے کیلئے بیدار ہو جاتی.

    ہمارے ہاں یہ شامان نہیں ہوتے. لیکن مریض بہت ہیں. ان کے دل و دماغ پر اندیشے خوف مایوسیاں بے بسی اور بے اعتمادی کے اندھیرے وہ پہاڑ بن چکے ہیں جن کے نیچے اکثریت پس چکی ہے. یہ دوسروں سے ڈرتے ہیں. کیونکہ ہماری اکثریت بہت ججمنٹل ہوگئی ہے. یہاں ظالم سے زیادہ مظلوم کو الزام دیا جاتا ہے. اس ڈر سے کوئی مظلوم بولتا بھی نہیں کہ اپنے اوپر ہوئے ظلم کا مجرم کون بننا چاہے گا.؟

    ایک ایسا انسان جو دوسرے کو صرف سن سکتا ہو. بنا کوئی فیصلہ سنائے بنا کوئی عدالت سجائے یہ سننے والا آج کا وہی شامان بن سکتا ہے جو دوسروں کی شفا کا سبب بن جاتے تھے. کیونکہ ایک مریض کو اچھا سامع مل جائے تو اُمید اسے خود ہی اس اندھیرے سے کھینچ کر روشنی کے پہاڑوں کی طرف لے آتی ہے.

  • ڈیلیٹ ہسٹری — ریاض علی خٹک

    ڈیلیٹ ہسٹری — ریاض علی خٹک

    ہمارا بچپن تو بہت سادہ تھا. جب ہمیں ایک ایسی گھڑی ملی تھی جس میں روزانہ تاریخ بدلتی تھی تب ہم یہ سمجھتے تھے اس میں ضرور کوئی چھوٹا سا آدمی ہوگا جو روزانہ رات کو تاریخ بدل دیتا ہے. لیکن آج کل کے بچے بہت عقلمند ہیں. کیونکہ یہ کمپیوٹر موبائل فون کا دور ہے. بچہ بچہ انٹرنیٹ کو جانتا ہے.

    یہ کمپیوٹر موبائل بنانے والوں نے سائنس انجینئرنگ سے ایک شاہکار مشین تخلیق کر دی. یہ ایسی مشین ہے جس نے پوری دنیا کو جوڑ دیا ہے. لیکن اس مشین کے خالق اس کے اندر نہیں بیٹھے. ہم سب مانتے ہیں یہ انٹرنیٹ کے ذریعے گلوبل کنیکشن بناتے ہیں. ہم یہ بھی سمجھتے ہیں کہ اس مشین کا اچھا برا استعمال ہم نے خود ہی سیکھنا ہے. کیونکہ یہ مشین بیک وقت آپ کو اچھائی سے بھی جوڑ سکتی ہے اور برائی سے بھی.

    ہمیں پتہ ہے اس مشین کہ کوئی اپنے جذبات نہیں. محبت نفرت غصہ کینہ اچھائی برائی نفع نقصان سب اس کو استعمال کرنے والے آپریٹر کے ہوتے ہیں. مشین تو تابعدار بس حکم کی تعمیل کرتی ہے. ایسے ہی اس دُنیا میں انسانیت کا بھی ایک نیٹ ورک ہے. اللہ رب العزت اس کا خالق ہے. ہم میں سے ہر ایک کو جسم کی ایک مشین ملی ہے.

    دنیا کے انٹرنیٹ کا نظر آنے والا حصہ بہت کم اور نظر نہ آنے والا یعنی ڈارک ویب بہت بڑا ہے جس پر کوئی کنٹرول نہیں ہے. یہی انسانوں کا مزاج ہے. لوگوں کو ہمارے نظر آنے والے اعمال اور پوشیدہ زندگی کا بھی یہی تناسب ہے. کل یوم حشر لیکن جو ہمارا حساب ہوگا اس میں سب کچھ سامنے ہوگا . اسی مشین کا پرزہ پرزہ ہم پر گواہ ہوگا.

    قرآن سورۃ التوبة میں اللہ رب العزت کا فرمان ہے. اَلَمۡ يَعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰهَ يَعۡلَمُ سِرَّهُمۡ وَنَجۡوٰٮهُمۡ وَاَنَّ اللّٰهَ عَلَّامُ الۡغُيُوۡبِ‌ ۞”کیا انہیں یہ پتہ نہیں تھا کہ اللہ ان کی تمام پوشیدہ باتوں اور سرگوشیوں کو جانتا ہے اور یہ کہ اس کو غیب کی ساری باتوں کا پورا پورا علم ہے ؟ ” دوستو جیسے کمپیوٹر میں ہم توبہ کرتے ہیں ہسٹری صاف کرتے ہیں سب کچھ برا ڈیلیٹ کر دیتے ہیں. ایسا سسٹم اللہ رب العزت نے صرف ایک دیا ہے. اسے توبہ استغفار کہتے ہیں. کل کیلئے اچھے استعمال کی ہسٹری اور برے استعمال پر توبہ کریں. معاف کرنا اور معافی مانگنا سیکھیں. ہمیں کوئی پتہ نہیں کب کون ہمیشہ کیلئے لاگ آف ہو اور پھر سامنا اس میدان حشر میں ہو جہاں توبہ کا دروازہ بند ہوچکا ہو.

  • اصل جیت؟ — ریاض علی خٹک

    اصل جیت؟ — ریاض علی خٹک

    کوئی انسان مکمل نہیں ہوتا. یہ اربوں کھربوں پتی دنیا کے دولت مند ترین انسان کسی ایسے غریب کو مکمل نظر آتے ہوں گے جو ان جیسا بننے کے خواب دیکھ رہا ہو لیکن وہ دولت مند ہندسوں کے ایک ایسے جال میں ہوتا ہے جو ایک کہ بعد ایک کروڑ ارب سے اپنی تکمیل چاہتا ہے. نہ کوئی مشہور شہرت یافتہ اداکار کھلاڑی اپنی شہرت کو مکمل سمجھتا ہے. وہ بھی اور مشہور ہونا چاہتا ہے.

    انسان فطری طور پر ریس پسند کرتا ہے. اس لئے آپ دیکھیں تو کونسی دوڑ نہیں جو انسان کھیلتے ہیں؟ . خود بھی ریس لگاتے ہیں اور کار، موٹر-سائیکل، گھوڑے کتے جو چیز ان کو دوڑ کے قابل لگتی ہے اسے بھی دوڑا دیتے ہیں. جیتنے کی جبلت ہماری فطرت کا حصہ ہے. یہی جبلت ہماری بے چینی محرومی حسد بغض ناکامی مایوسی جیسے ان گنت جذبات کی بنیاد بنتی ہے.

    لیکن اسی جبلت میں سکون کا ایک راز بھی چھپا ہے. مثال کے طور پر آپ ریس میں کھڑے ہیں. لیکن آپ آس پاس دوسرے کھلاڑیوں سے ریس کرنے کی بجائے یہ فیصلہ کریں کے میں نے صرف منزل ٹارگٹ تک پہنچنا ہے. مجھے کسی پوزیشن کی خواہش ہی نہیں تو آپ کا دماغ دوسروں کے ساتھ آگے پیچھے کا حساب چھوڑ کر منزل پر فوکس کر لے گا.

    زندگی چلنے اور چلتے جانے کا نام ہے. دوڑ پھر بھی آپ رہے ہوں گے لیکن آس پاس کون آگے کون پیچھے کا حساب نہیں رہے گا. آپ پھر منزل ہی نہیں اس سفر سے بھی لطف لیں گے. زندگی اس سفر کا نام ہے موت جس کی منزل ہے. اس دنیا کی منزلیں تو اس سفر میں پھیلے بہت سے چیک پوائنٹس ہیں جن سے ہو کر آپ نے گزرنا ہے.

    اصل جیت وہی ہوتی ہے جو ہم خود سے جیت جائیں.

  • رشتوں کو مستریوں کی پہنچ سے دور رکھیں!!! — ریاض علی خٹک

    رشتوں کو مستریوں کی پہنچ سے دور رکھیں!!! — ریاض علی خٹک

    کوئی انسانی تعمیر پرفیکٹ نہیں ہوتی. خوابوں کا نیا گھر بھی جب آباد ہوتا ہے تو پتہ چلتا ہے کچھ یہاں کچھ وہاں غلطی کمی بیشی رے گئی ہے. مکین بس عادی ہو جاتے ہیں. ہمارے ایک آفس میں ایک دروازہ کچھ نیچے تھا. اوپر بلڈنگ کا کراس بیم تھا. ہم آفس والے عادی تھے کہ یہاں سر جھکانا ہے. نئے آنے والے کو کوئی نہ کوئی آواز دے دیتا کہ سر بچا کر. پھر بھی کسی نہ کسی کا سر لگ ہی جاتا.

    مسئلہ یہ تھا کہ اس دروازے کیلئے اب ساری عمارت کا سٹرکچر بدلا نہیں جا سکتا تھا. آفس کا کام اچھا چل رہا تھا تو کسی نے اس انجینئرنگ کی ضرورت محسوس ہی نہیں کی. لیکن کچھ لوگ کام چھوڑ کر مستری بن جاتے ہیں. ہمیں بھی کوئی نہ کوئی مشورہ دے رہا ہوتا جیسے کچھ بیم تراش لو یا فرش چند انچ نیچے کردو اور ہم سمجھاتے اس سے چھت کمزور ہوگی یا سٹرکچر وغیرہ.

    شادی کا رشتہ بھی انسانی تعمیر ہے. یہ نیا خاندان ایک نیا گھر اور بہت سے نئے رشتوں کی بنیاد ہوتا ہے. یہ تعمیر بھی کبھی پرفیکٹ نہیں ہوتی. ہر رشتے میں کچھ کمی بیشی ہوتی ہے. وقت کے ساتھ اس رشتے کی عادت ہو جاتی ہے اور گزارا چل رہا ہوتا ہے. لیکن اس رشتے میں کوئی ایک مستری بن جائے یا دوسروں کے مشوروں پر اپنے بسے بسائے گھر کا نقشہ اپنی خواہش و پسند پر کرنے لگے تو بنیادیں اور چھت ہلنا شروع ہو جاتی ہیں.

    رشتے عادت پر سمجھ آتے ہیں. اپنی یا دوسروں کی عادات پر ضرور کوشش کریں. عادت وقت کے ساتھ بنتی یا ختم ہوتی ہیں. البتہ اپنے رشتوں کو مستریوں کی پہنچ سے دور رکھیں، چاہے وہ آپ کے نفس کا مستری ہو یا رشتہ دار دوست مہمان مستری ہوں. گھر آباد رہے گا.

  • عادتوں کا اس حصار — ریاض علی خٹک

    عادتوں کا اس حصار — ریاض علی خٹک

    پرندے پالنے والا ایک شخص اپنے پنجرے کا دروازہ کھول دیتا. پرندے ہوا میں اڑنے لگتے وہ انکا بڑا سا پنجرا صاف کرتا پانی اور دانہ ڈالتا اور پرندے سارے واپس پنجرے میں آجاتے. یہ دروازہ بند کر لیتا. میں نے ایک بار پوچھا ان کو یہ عادت کیسے دی.؟ اُس نے بتایا پنجرے کا دروازہ کھولنے سے پہلے انکا پیٹ نہیں بھرا جاتا. یہ خالی پیٹ جب اڑتے ہیں تو بھوک ان کو یاد دلاتی ہے کہ پیٹ بھرنے کا سامان پنجرے میں ہے. یہ واپس آجاتے ہیں.

    یہی حال ہماری عادتوں کا بھی ہوتا ہے. قرآن شریف میں ہے خُلِقَ الْاِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍؕ-سَاُورِیْكُمْ اٰیٰتِیْ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْنِ(۳۷) یعنی” آدمی جلد باز بنایا گیا۔ اب میں تمہیں اپنی نشانیاں دکھاؤں گا تومجھ سے جلدی نہ کرو” جلد بازی کا عنصر ہماری فطرت کا عنصر ہے. ہم اپنے فیصلے فوری نتائج فوری تسکین اور فوری تسلی اطمینان کیلئے کرتے ہیں. اور یہ پھر ہماری عادت بن جاتی ہے.

    عادتوں کے اس حصار کو آپ پنجرا کہہ لیں اسے کمفرٹ زون کہہ لیں یا اپنی شخصیت ہم جب اس کے قابو میں آتے ہیں تو یہ ہم سے صبر اور اپنے نفس کے خلاف مزاحمت چھین لیتی ہے. ہم ان خواہشات کے اسیر ہو جاتے ہیں جو وقتی تسکین تو بن سکتی ہیں لیکن دوررس کامیابی نہیں. ہم خود بھی اسے مانتے ہیں لیکن خود سے جیت نہیں سکتے.

    پرندے بھی تیار دانہ چھوڑ کر تلاش کی ہمت چھوڑ دیتے ہیں اسی لئے اس پنجرے کو اپنا نصیب سمجھ لیتے ہیں. ہم بھی عادات کی فوری تسکین چھوڑ کر نئی تلاش اور اس کی ہمت و مشقت سے گھبرا کر واپس اپنے حول میں بند ہو کر اسے اپنا نصیب سمجھ لیتے ہیں. عادت کے قیدی کے پاس نکلنے کا بس ایک ہی راستہ ہوتا ہے یہ صبر و ہمت کا راستہ ہے.

  • چراغ تلے اندھیرا — ریاض علی خٹک

    چراغ تلے اندھیرا — ریاض علی خٹک

    دور سے اگر آپ زرافہ کو دیکھیں گے تو آپ کو یہ جانور عجیب ہی لگے گا. چھ فٹ لمبی اگلی ٹانگوں کے پیچھے دونوں ٹانگیں چھوٹی ہیں. اوپر سے گردن مینار پاکستان بنی ہوتی ہے. لیکن اتنی لمبی گردن نہیں کہ زمین کو چھو لے. اس لئے جب زرافہ پانی پیتا ہے تو بے ہنگم انداز میں دونوں ٹانگیں باہر کی طرف پھیلا کر گردن پہلے نیچے لاتا ہے.

    آپ سوچیں گے یہ صبح صبح لالہ کو زرافہ کیوں یاد آگیا.؟ تو وجہ یہ ہے کہ اکثر لوگ بھی زرافہ کی طرح ہی ہوتے ہیں. یہ دوسروں کو جب دیکھتے ہیں تو خود پہاڑ پر بیٹھ جاتے ہوں. کیونکہ دوسروں کو ان کے مسائل کے حل پھر ایسے بتا رہے ہوں گے جیسے پہاڑ پر بیٹھا شخص نیچے والے کو ہدایات دے رہا ہو.

    لیکن یہی شخص اپنے مسائل کو پھر ایسا دیکھتا ہے جیسے وہ مسائل نہ ہوں بلکہ کوہ ہندوکش کا پہاڑی سلسلہ ہو جسے پار کرنا ہے. یہ آپ کو اور خود کو یہ یقین دلائیں گے کہ انکا قد چھوٹا نہیں بلکہ ان کے چیلنج ہی اتنے عظیم ہیں جو یہ ان کو حل نہیں کر پائے.

    آپ کو یقین نہیں تو کسی بھی محفل میں اپنے کچھ مسائل بیان کر کے دیکھیں. سب آپ کو ایسے حل بتائیں گے کہ جیسے ایک چھٹکی بھر مسئلہ ہی تو ہے. ایسے عظیم لوگوں سے بھرا یہ ملک یہ معاشرہ پھر اتنے مسائل کا شکار کیوں ہے.؟ اسکا جواب یہ ہے کہ ہم سب زرافے ہیں. ہمیں دور کی چیزیں تو نظر آتی ہیں لیکن اپنے قدموں کی گھاس نہیں چر سکتے. ہم سارا دن اپنے ملک ہی کیا دنیا بھر کے بڑے بڑے مسائل کا حل بتاتے ہیں لیکن اپنے چھوٹے چھوٹے مسائل حل نہیں کرسکتے.

    زرافہ کی گردن اگر نیچے نہیں آسکتی تو اسے قدرت نے ایسا بنایا ہے. لیکن ہمارے چراغ تلے جو اندھیرا ہے یہ ہم نے خود تخلیق کیا ہوا ہوتا ہے. دکھاوے کے پہاڑوں سے نیچے اتر کر اگر اپنی زندگی اپنے مسائل کیلئے ہم وقت نکالیں. ان پر بات کریں انکا سامنا کریں یہ پھر پہاڑ جیسے نہیں لگتے.

  • جیت کااحساس — ریاض علی خٹک

    جیت کااحساس — ریاض علی خٹک

    مچھیرے جال پھینک کر مچھلیاں پکڑتے ہیں. لیکن انسٹاگرام فیس بُک پر فخریہ اپنی پکڑی کسی مچھلی کے ساتھ تصاویر شئیر نہیں کرتے. کیونکہ اس میں کمال مقام اور جال کا بھی شریک ہوتا ہے. لیکن ایک کانٹا لٹکائے شکاری صرف ایک مچھلی پکڑتا ہے اور جیت کا ایسا احساس اسے ملتا ہے کہ وہ دنیا کو بتانا چاہتا ہے دیکھو میں نے مچھلی پکڑی. یہ میرا کمال ہے.

    یہ واقعی ایک کمال ہے. ایک مچھلی ساری جھیل دریا اور سمندر میں بکھری فطرت کی خوراک چھوڑ کر اگر اس کانٹے پر لپکے اور شکاری اسے شکار بنالے تو کمال ہی کہلائے گا. ایسے ہی ٹیکنالوجی کے اس دور میں کلک بیٹس ہنی ٹریپ اور آڈیو ویڈیوز کو سچ مان لینے والی مچھلیاں بھی کمال مثال ہوتی ہیں.

    ٹیکنالوجی کے اس دور میں جب کچے کے ڈاکو بھی وائس چینجر سوفٹویر سے لڑکی کی آواز میں کوئی مرغا ایسا پھنسا لیتے ہیں جو سب کچھ چھوڑ کر جنگل میں چلا جاتا ہے. تو یہ اس ڈاکو شکاری کا کمال ہی ہے. البتہ اس مرغے کی یہ جہالت ہوگی. ایسے ہی سیاسی مقاصد کیلئے آڈیوز ویڈیوز کا استعمال کرنے والے ہوں یا انٹرنیٹ پر لوگوں کے کلکس سمیٹنے والے چینلز کی سرخیاں ہوں ان کو سچ سمجھنے والی آڈینس یہی بے وقوف مچھلیاں ہی ہوتی ہیں.

    جب تک دریا کی مچھلیوں کو عقل نہیں آئے گی شکاریوں کا شکار جاری رہے گا. ہمارے ہاں یہ شکار جس زور و شور سے جاری ہے یہ صرف یہاں جہالت کا حساب بتا رہا ہے.

  • ناریل سے لوگ — ریاض علی خٹک

    ناریل سے لوگ — ریاض علی خٹک

    ناریل اندر سے انتہائی نرم اور باہر سے انتہائی سخت ہوتا ہے. کبھی آپ نے سوچا ایسا کیوں ہے.؟ ناریل کا صحت بخش بہترین پانی پیتے یا اس کی گری کھاتے کبھی اس سخت چھلکے کو دیکھا ہے جس نے یہ لذت سنبھال کر رکھی ہوتی ہے.؟ آپ نے بھلے نہ سوچا ہو ناریل یہ صدیاں سوچ سوچ کر اپنی شکل بنائی ہے.

    ناریل کے پیڑ بہت اونچے ہوتے ہیں. پھل اسکا کل ہے. اس کی نسل ہے. اس نسل کو زمین سے جوڑ بنانے کیلئے گرنا ہوتا ہے. ناریل اپنی بقا کیلئے جب بلند سے بلند ہو رہا تھا تو اس نے اپنی نسل کو زمین پر گرنے کی تکلیف سہنے کیلئے اس کا چھلکا انتہائی سخت کر دیا. اب یہ پھل بھلے اونچائی سے گر جائے ٹوٹے گا نہیں.

    انسانوں میں بھی انتہائی سخت مزاج کڑوے لوگ بلکل ناریل کی طرح ہوتے ہیں. وقت کی سختیاں جھیلتے بقا کی جبلت میں ان پر سخت چھلکے چڑ جاتے ہیں. ہم بھلے ان کو بے حس پتھر سمجھ لیں لیکن ہر پتھر کے سینے میں ایک دل ہوتا ہے. جس میں ایک سہما ہوا خوفزدہ بچہ چھپا بیٹھا ہوتا ہے. جسے ٹوٹ جانے سے ڈر لگتا ہے.

    ان کو توڑنے کی خواہش کی بجائے جب کوئی پپار سے ان کا حول اتار کر دیکھے تو پتہ چلتا ہے یہ تو زندگی سے بھرپور بہترین انسان ہے. تب ہم حیران ہوتے ہیں تو باہر سے یہ اتنا سخت کیوں تھا.؟ انسانوں کی اکثریت میں صبر نہیں اور جہاں صبر کم ہو آب حیات نمکین ہو وہاں پھر ناریل زیادہ ہوتے ہیں.