Baaghi TV

Tag: ریاض علی خٹک

  • سیکسو فون کی ایجاد — ریاض علی خٹک

    سیکسو فون کی ایجاد — ریاض علی خٹک

    ایڈولف سیکس انیسویں صدی کی شروعات میں بیلجیئم میں پیدا ہوا تھا. ایڈولف ایک عجیب قسمت لے کر آیا تھا. حادثے اسکا پیچھا کرتے تھے. مثلاً جب وہ دو سال کا تھا تو اپنی بلڈنگ کی دوسری منزل کی کھڑکی سے گر گیا تھا. اسکا سر پھٹ گیا لیکن زندگی بچ گئی.

    چھ سال کا ہوا تو تیزاب پی لیا تھا. بمشکل زندگی بچائی گئی. 9 سال کا ہوا تو سیڑھیوں پر پھسل کر ایسا گرا کہ قلابازیاں کھاتے نیچے پہنچ گیا. بدقسمتی یہ ہوئی کہ نیچے ایک جلتے ہوئے چولہے پر گر گیا. 11 سال کی عمر میں اسے خسرہ ہوا. اتنا شدید خسرہ تھا کہ صاحب 9 دن کوما میں رہے.

    یہی نہیں 14 سال کی عمر میں بازو تڑوا دیا 19 سال کی عمر میں ایک عمارت کے اوپر سے گری اینٹ نے اسکا سر ڈھونڈ لیا. 23 سال کی عمر میں زہریلی شراب پی لی تھی لیکن بال بال بچ گیا. البتہ ایڈولف سیکس جب 29 سال کا ہوا تو اس نے سیکسو فون ایجاد کر لیا.

    قسمت اور زندگی سب اپنی اپنی لکھوا کر لائے ہوتے ہیں. بد قسمتی اگر گزر جائے اور زندگی خود کو بچا لے تو بندے کو آگے چل دینا چاہئے. ایک حادثہ ایک واقعہ پکڑ کر بیٹھ جانے والے پھر زندگی سے انصاف نہیں کر پاتے. آج جب کسی سٹیج پر یا کسی فوجی بینڈ میں کسی فنکار کو لہک لہک کر سیکسو فون بجاتے آپ دیکھیں تو ایڈولف سیکس کو یاد کر کے سوچیں کیا آپ اس سے بھی زیادہ بد قسمت ہیں.؟ وہ تو آج بھی لہک لہک کر گا رہا ہے.

  • کونسے رواج ختم ہونے چاہئے؟ — ریاض علی خٹک

    کونسے رواج ختم ہونے چاہئے؟ — ریاض علی خٹک

    مجھے بہت سے رواجوں سے شدید نفرت ہے. لیکن سارے رواج برے نہیں ہوتے. جیسے سواریوں والے سمندری جہازوں کا ایک رواج ہے. سمندر میں کوئی حادثہ ہو جائے تو لائف بوٹس پر سب سے پہلے بچوں کو بٹھایا جاتا ہے. اس کے بعد خواتین اور پھر مرد حضرات کی باری آتی ہے. جہاز کا کپتان سب سے آخر میں لائف بوٹ پر آئے گا.

    ہمارے معاشرے میں والد گھر کے جہاز کا کپتان ہوتا ہے. وقت کے اس سمندر میں خاندان کا سفینہ منزل کی طرف لے کر جانے کا بوجھ یہاں اکثر اسی تنہا کپتان کے کمزور کندھوں پر ہوتا ہے. وقت کا سمندر اس وقت امتحان پر ہے. مہنگائی کی منہ زور لہروں کے درمیان سے ضروریات زندگی کھینچ کر یہ سفر جاری رکھنا مشکل ہوتا چلا جا رہا ہے.

    ایسے میں کچھ رواج بہت اچھے ہیں. مرد اپنی اکثر خواہشات کا گلا گھونٹ کر گھر کے بچوں اور خواتین کی زندگی آسان کرنا اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں. لیکن کچھ معاشرتی رواج بہت برے ہیں جو کپتان کی مشکلات کو ان پہاڑ نما موجوں کے مقابل کر دیتے ہیں جن کو سر کرتے کرتے وہ خود بھی تھک کر چور ہو جاتا ہے اور گھر کا سفینہ بھی شکستہ ہو جاتا ہے.

    معاشرہ اگر اپنے ان کمزور کپتانوں پر کچھ ترس کھائے اور رسم و رواجوں کو کچھ سمیٹ لے کچھ محدود کر لے تو بہت سے لوگوں کی زندگی آسان ہو جائے گی. وقت کے اس سمندر میں تنہا سفر نہیں ہوتے. بہت کچھ ہمیں ایک دوسرے کیلئے کرنا ہوتا ہے. رواج بھی وہ بھنور ہیں جس میں سے مل کر ہی نکلا جا سکتا ہے.

    آپ لوگ بتائیں کونسے رواج ختم ہونے چاہئے.؟؟

  • کامیابی کا سفر — ریاض علی خٹک

    کامیابی کا سفر — ریاض علی خٹک

    کمر کے بل سر جھکائے پانی کے تالاب نما کھیت میں چاول کی کھیتی کبھی دیکھی ہے.؟ اکثریت سوچتی ہوگی شائد چاول کیلئے کھڑے پانی میں کاشت لازم ہے. لیکن ایسا ہے نہیں. کھڑے پانی میں چاول اس لئے لگایا جاتا ہے کہ خودرو گھاس چاول کی فصل کے جڑ پکڑنے سے پہلے کھیت میں جگہ نہ بنالے. یہ پانی گھاس اُگنے نہیں دیتا.

    کامیابی کا سفر جتنا خاموش ہو اتنا اچھا ہوتا ہے. ہماری اکثریت کامیاب ہونے کی بجائے کامیاب ہو کر دکھانا چاہتی ہے. دکھاوے کی یہ خواہش ان سے سفر سے پہلے ہی اعلانات شروع کروا دیتی ہے. آس پاس عزیز دوست رشتہ دار اپنے پرائے پھر تماشائی بن جاتے ہیں. اتنی نظروں کے بوجھ تلے یہ پھر خود بھی گھبرا جاتے ہیں اور ان کا سفر بھی ڈگمگا جاتا ہے.

    ارسطو کہتا تھا آپ تنقید سے بچنا چاہتے ہیں تو پھر نہ تو کچھ کریں نہ بولیں اور نہ ہی کچھ بنیں. لیکن اگر آپ بولنا بھی چاہتے ہیں کچھ کرنا اور بننا بھی تو تنقید لازم ہوگی. اس لئے بہتر ہے کہ تنقید کیلئے خود کو تب دستیاب کریں جب کامیابی کی فصل نے جڑ پکڑ لی ہو اور اس لہلہاتے کھیت کو چھپانا اب ممکن نہ ہو.

    فزکس میں سکیل اس مقدار کو کہتے ہیں جو ہو یعنی فاصلہ رفتار حجم کمیت وغیرہ لیکن ویکٹر اسے کہتے ہیں جہاں مقدار بھی ہو اور اس کی سمت بھی ہو. بے چینی اینزائٹی سکیلر مقدار ہے. جبکہ خوف ویکٹر ہوتا ہے. کامیابی کا سفر بے چین رکھتا ہے لیکن سفر سے پہلے اسکا شور اور اعلانات اسے باقاعدہ وہ خوف بنا دیتا ہے جو سب کی نظروں اور تنقید کے تیروں کو ایک سمت دے کر آپ کو میدان میں کھڑا کر دیتا ہے.

  • سکول رزلٹ کارڈ — ریاض علی خٹک

    سکول رزلٹ کارڈ — ریاض علی خٹک

    فلم تھری ایڈیٹس میں عامر خان چتر کی تقریر میں کچھ الفاظ بدل دیتا ہے. یہ کچھ الفاظ ہندی سے نابلد چھتر کی خوب بے عزتی کروا دیتے ہیں. غصے میں چھتر کالج کی ٹینکی پر ایک تاریخ لکھتا ہے. آج سے دس سال بعد فیصلہ ہوگا کون کامیاب اور کون ناکام ہے.؟

    میرے خیال میں سکولوں میں پوزیشن ہونی ہی نہیں چاہئے. یہ سمجھ کا کم یادداشت اور قسمت کا زیادہ کھیل بن جاتا ہے. سکولوں کا مقصد ایک نسل کا اپنی نئی نسل کو اس مقام تک لانا ہوتا ہے جس مقام پر آج کی نسل کھڑی ہے. اول دوئم سوئم پوزیشن ایک نسل دنیا کے میدان میں بناتی ہے، حاصل کرتی ہے اور منواتی ہے. اکثر سکول کلاس کے ٹاپرز زندگی کے میدان میں پیچھے اور کلاس کے کمزور بچے اس میدان میں آگے کھڑے ہوتے ہیں.

    کیا سکول رزلٹ کارڈ حقیقت کے میدانوں کے ترجمان ہیں.؟ آپ کے سکول میٹرک کے طلباء کی پوزیشن فرض کیا پندرہ سال بعد آج ایوارڈ ہوں. اپنے اپنے میدان میں پوزیشن اور کامیابی اگر معیار ہو تو نتیجہ کیا ہوگا.؟ آپ بھی سوچیں اور بچوں کا پوزیشن سٹریس کم کرنے کا حوصلہ کریں. ہم سسٹم تو نہیں بدل سکتے لیکن کسی کی پریشانی کو کم ضرور کر سکتے ہیں.

    وقت اکثر چتر کی طرح ان کی یادداشت کے چند لفظ آگے پیچھے کر دیتا ہے. زمانے کے قہقہے نکل جاتے ہیں اور یہ بچارے اپنی ذات میں سمٹ کر گُم ہو جاتے ہیں.

  • موٹیویشن کی دنیا — ریاض علی خٹک

    موٹیویشن کی دنیا — ریاض علی خٹک

    دنیا کی سب سے خوبصورت موٹیویشن ماں اور باپ ہیں ۔ آپ اگر بچے ہیں تو موٹیویشن باہر کیوں ڈھونڈ رہے ہیں ؟

    ماں آپ کو بے لوث ان تھک محبت کرنا یہ محبت کر کے سکھاتی ہے۔ یہ آپ کو رشتہ نبھا کر رشتہ بنانا سکھاتی ہے۔ باپ اپنی زندگی آپ کیلئے گزار کر آپ کو زندگی گزارنا سکھاتا ہے۔ ان کی صبح شام آپ کیلئے ہوتی ہے آپ لیکن ان کی زندگی میں کہاں ہیں ؟

    آپ بڑے ہیں تو اولاد آپ کی موٹیویشن ہے۔ کیونکہ موٹیویشن کی ضرورت ہمیشہ کسی مقصد کیلئے ہوتی ہے ۔ اولاد کی پرورش سے بڑا اور اہم مقصد کیا ہوگا ؟ جینے کا مقصد اگر زندگی میں ہے تو آپ کہاں ہیں ؟ ہم اکثر جینے کی موٹیویشن باہر ڈھونڈتے ہیں ۔ باہر سے ایک دوسرے کو تسلی ترتیب و ترکیب تو مل سکتی ہے ۔ موٹیویشن نہیں ملتی۔

    اپنی موٹیویشن گم نہ کردیں اس کیلئے اپنی موٹیویشن کی دنیا میں خود کو دستیاب رکھیں ۔

  • قوم بالغ ہو رہی ہے!!! — ریاض علی خٹک

    قوم بالغ ہو رہی ہے!!! — ریاض علی خٹک

    بچے اپنے خوف پیدائشی نہیں لے کر آتے. یہ خوف پالنے والے اسے دیتے ہیں. وہ اسے ڈراتے ہیں سو جاو ورنہ فلاں آجائے گا اور بچہ سہم کر آنکھیں بند کر لیتا ہے. یہ کھا لو یہ نہ کھاو ورنہ بھوت بھو بھو کرے گا. اور بچہ ڈر کر بات مان لیتا ہے. بچہ اپنے بڑوں پر اعتبار نہیں اعتماد کرتا ہے. اسکا یہ اعتماد اسے بڑوں کی باتوں کا یقین دلاتا ہے.

    کسی قوم کیلئے 75 سال بہت ہوتے ہیں. اتنے سالوں میں یہ لڑکپن سے نکل آتی ہے. آپ اسے باو بھو کر کے مزید ڈرا نہیں سکتے. یہ بچپن کا وہ دور نہیں جو ہر جھوٹی سچی کہانی پر وہ اعتبار کر لے. اب وہ خود تحقیق بھی کرتے ہیں اور تصدیق بھی. اب کمزور کہانیاں مزید چل نہیں سکتیں. خاص کر جب بڑوں پر اعتماد کمزور ہو جائے تب ایسی ہر کہانی نفرت پیدا کرتی ہے.

    قوم بالغ ہو رہی ہے. اب بڑوں کو بھی حقیقت کے میدان پر آنا ہوگا. یہ پرانے کھیل اب مزید چل نہیں سکتے. کسی قوم کو سیلاب آفات اور مشکلات نہیں مٹاسکتی. یہ تو اسے ایک قوم بناتے ہیں. قومیں تب ختم ہوتی ہیں جب ایک دوسرے پر اعتماد ہی ختم ہو جائے. تب گھر بھی بکھر جاتے ہیں اور قوم بھی.

  • باطل آوازیں!!! — ریاض علی خٹک

    باطل آوازیں!!! — ریاض علی خٹک

    باطل آوازیں یا The call of the void ہماری نفسیات کا ایک حصہ ہیں. کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے آپ کسی پہاڑ کی چوٹی پر کھڑے ہیں نیچے اتھاہ گہرائی ہے. ایک قدم اور آپ نیچے گر سکتے ہیں. آپ کے دل میں خیال آتا ہے یہ ایک قدم اٹھا کر دیکھ نہ لوں.؟

    سڑک کنارے تیز رفتار آتی گاڑی کے سامنے خواہش ہوئی سامنے نہ چلا جاوں. ہجوم میں اچانک ایک تیز چیخ مارنے کی خواہش کبھی ہوئی ہے؟ . بہت سے لوگ اس کیفیت سے روشناس نہ ہوں گے. بہت سے یاد کریں گے تو ان کو یہ اندر کی آواز یاد آجاتی ہے.

    ہم سب کے پاس فیصلے کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے. ہمارا دماغ نہ صرف ایک ہی وقت بہت سے فیصلے کر سکتا ہے بلکہ اسے اپنی اس صلاحیت کا بخوبی پتہ بھی ہوتا ہے. ہم اچھے فیصلے بھی کر سکتے ہیں اور برے فیصلے بھی. ایک پہاڑ کی چوٹی پر دماغ جب نیچے کا منظر دیکھتا ہے تو یہ نہیں کہتا کہ چھلانگ لگا لو بلکہ گھبرا کر کہتا ہے ” کہیں چھلانگ ہی نہ لگا لو”

    ہر ایک کا اپنا اینزائٹی لیول ہوتا ہے. کچھ لوگ فیصلوں میں کلئیر ہوتے ہیں کچھ نہیں. کچھ کا دماغ فوری تجزیہ کرتا ہے کچھ گومگو رہتے ہیں. جو جتنا کنفیوز ہوتا ہے اتنا ہی وہ ادھوری بات لیتا ہے. اسے لگتا ہے جیسے دماغ نے خواہش کی ہو چھلانگ لگا دو. اچھے برے اعمال میں بھی یہی باطل آوازیں دماغ اٹھاتا ہے. جس کا ایمان اور یقین جتنا مضبوط ہوتا ہے اتنا ہی کم وہ یہ باطل آوازیں سنتا ہے اور جس کا جتنا کمزور ہوگا اتنی ہی زیادہ اس کی باطل خواہشات پیدا ہوں گی.

  • سننا ضروری نہیں ہوتا — ریاض علی خٹک

    سننا ضروری نہیں ہوتا — ریاض علی خٹک

    ایک نوجوان انسان جس کے سننے کی قوت مکمل ٹھیک ہو بیس ہزار ہرٹز کی آواز سن سکتا ہے لیکن ایک کتا 60 ہزار ہرٹز کی آواز بھی سن لیتا ہے. اس لئے کتا کبھی کبھی جب اچانک بھونکنا شروع کردے تو ہمیں بلاوجہ ہی لگتا ہے لیکن کتا بہرحال بلاوجہ نہیں بھونک رہا ہوتا وہ کسی آواز کا جواب دے رہا ہوتا ہے جو ہم سُن نہیں پا رہے ہوتے.

    ایک شاہین کی نظر 20/5 ہوتی ہے. اور ایک مکمل صحت مند انسان کی صحت مند آنکھوں کی 20/20 ہوتی ہے. یعنی ایک شاہین 20 فٹ دور سے وہ چیز دیکھ سکتا ہے جو ہمیں 5 فٹ دوری پر نظر آئے گی. اللہ رب العزت نے ہر مخلوق کو اس کی ضرورت کے حساب سے صلاحیت عطاء کی. ہر مخلوق اپنی صلاحیت کے ساتھ خوش خوش زندگی گزار رہی ہے.

    لیکن ہم انسان زیادہ قناعت پسند نہیں ہیں. اس لئے ہم نے خوردبین و دوربین بھی بنالی تو دور دراز کی آوازیں سننے کے آلے بھی بنا لئے. ہم نے اپنی ضروریات کا دائرہ اتنا بڑا کر دیا کہ ہمیں اپنے گھر اپنے صندوق الماریاں چھوٹی لگنے لگتی ہیں. ہمیں سب کچھ چاہئے ہوتا ہے. ہمارے پاس ہر چیز کیلئے ایک ہی دلیل ہوتی ہے ” کبھی نہ کبھی تو کام آجائے گی”

    اسی دلیل پر ہم وہ چیزیں خرید رہے ہوتے ہیں جو ہم استعمال ہی نہیں کرتے. آپ اپنے گھر کی پڑتال کرلیں اشیاء کا ایک ڈھیر کھڑا ہو جائے گا جو آپ نے ضروری سمجھ کر سنبھال رکھا ہوگا لیکن اب بھول چکے ہوں گے. یہ سالوں سے استعمال ہی نہیں ہوا ہوگا.

    ایسے ہی ہم بہت کچھ سن رہے ہوتے ہیں جو سننا ضروری نہیں ہوتا دیکھ رہے ہوتے ہیں جو دیکھنا ضرورت نہیں ہوتا سنبھال رہے ہوتے ہیں جو رکھنا ضروری نہیں ہوتا. یہی کاٹھ کباڑ جمع ہوکر ہماری پریشانی ہماری ڈیپریشن اینزائٹی وہم اور اندیشے بن کر ہماری زندگی کو آلودہ کرتے ہیں. قناعت اختیار کریں زندگی آسان ہو جاتی ہے. ورنہ ایک دن شاہین کی طرح آپ بھی تنہا ہو جائیں گے. لیکن ہم انسان اکیلے جی نہیں سکتے.

  • شیر جوتے نہیں پہنتا!!! — ریاض علی خٹک

    شیر جوتے نہیں پہنتا!!! — ریاض علی خٹک

    بوٹسوانا کے گھاس کے میدانوں کے بادشاہ وہاں کے شیر ہوتے ہیں. لیکن شیر جوتے نہیں پہنتے اور ان میدانوں میں ببول کے لمبے اور تیز دھار کانٹے بھی ہوتے ہیں. تو کیا شیروں کو کانٹے نہیں چھبتے.؟

    بہت پہلے ایک ویڈیو کسی فوٹوگرافر نے بنائی تھی جس میں ایک شیر اپنے پنجے کو پہلے اپنی زبان سے چاٹتا ہے اور پھر ایک لمبا کانٹا اس میں سے اپنے دانتوں سے کھینچ لیتا ہے. شیر پھر چل دیتا ہے لیکن اس کی چال میں کوئی لنگڑاہٹ نہیں ہوتی. کیا درد بھی نہیں ہوتا ہوگا.؟

    ایوان گیٹس بیس بال کا امریکی چیمپئن اور مشہور ہٹر کیچر تھا. اس کی ایک تصویر چیمپین شپ کے بعد دیکھی جس میں وہ رو رہا تھا. اب جو ایوان گیٹس کو جانتا ہوگا اسے شائد یہ بھی پتہ ہوگا کہ اس تصویر سے دس سال پہلے وہ نیویارک میں بے گھر اور انتہائی کسمپرسی کے دور میں ایک خوفزدہ ڈرا ہوا لڑکا تھا.

    شیر جوتے نہیں پہنتا لیکن ہم پہن سکتے ہیں. شیر اپنی کمزوری اپنا رونا بھی نہیں رو سکتا کیونکہ جہاں اس نے یہ دکھائی وہ اپنے غول میں بادشاہت کھو دے گا. لیکن ہم انسان اپنی ذات پر ہی بادشاہ ہیں. دل چاہے تو آج اپنے آنسو اپنا درد چھپا لیں اور دل چاہے تو کل جب وقت بھی ہمیں بادشاہ مان لے تو آنسو بہا دیں.

  • اپنی کہانی میں ہی رہیں!!! — ریاض علی خٹک

    اپنی کہانی میں ہی رہیں!!! — ریاض علی خٹک

    سور یا خنزیر بنا ایسا ہے کہ وہ اوپر آسمان کی طرف نہیں دیکھ سکتا ایسے ہی رشتوں میں کچھ ناسور ہوتے ہیں جو اپنی ذات سے نکل کر دوسرے کو دیکھ نہیں سکتے یا دیکھنا نہیں چاہتے. سور پر تو قطعیت سے حرام کا حکم ہے اس لئے اس پر تحقیق کی ضرورت نہیں. لیکن اپنے تعلقات کی جانچ پڑتال کرنی چاہئے کیونکہ ہمارے تعلق ہی ہوتے ہیں جو ہمیں یا تو بناتے ہیں یا بگاڑتے ہیں.

    کچھ لوگ آپ کو تکلیف بھی دیں گے اور آپ کو باور بھی کرائیں گے کہ غلطی بھی آپ کی ہے کیونکہ آپ زیادہ حساس ہیں.

    آپ کی یادداشت اور آپ کی عقل کو مشکوک بنا کر خود پر اعتماد کمزور اور اپنی ذات پر آپکا اعتماد لے کر جائیں گے.

    آپ کبھی ان کو اپنا کوئی مسئلہ بتائیں یہ فوری اس سے بڑا کوئی اپنا مسئلہ بتائیں گے. یہ نہیں چاہیں گے آپ کی توجہ خود پر جائے.

    یہ آپ کو احساس جرم میں رکھیں گے. اپنے چھوٹے چھوٹے احسانات کو بڑا بتا کر آپ سے بڑی قربانی کا تقاضا کریں گے.

    یہ آپ کو موٹیویٹ بھی کریں گے. مثلاً آپ بہت خوبصورت دل والے بہت خاص اور مہربان شخصیت ہیں. کیونکہ یہ اپنے لئے آپ کو ایسا ہی دیکھنا چاہتے ہیں.

    انکا رویہ سب کے سامنے آپ کے ساتھ الگ اور تنہائی میں یہ الگ شخصیت رکھیں گے. کیونکہ ایسے لوگ اپنی شخصیت کو بہت سے نقابوں میں چھپا کر رکھتے ہیں.

    کبھی آپ تنگ آکر لڑ بھی لیں تو یہ آپ کو مکمل نظر انداز کریں گے. جیسے مچھلی کا شکاری مچھلی کی مزاحمت پر ڈور چھوڑ دیتا ہے کہ کہیں کانٹا ہی نہ نکل جائے.

    یہ بہت جھوٹے ہوتے ہیں ان کی کامیابیوں کی داستانیں سب من گھڑت ہوتی ہیں ان کی مہربانیوں ان کی سٹرگل کی ساری داستانیں ان کی ذہنی پیداوار ہوتی ہیں اور آپ ایک نئی کہانی ایک نئے کردار سے زیادہ اس میں کچھ نہیں ہوتے.

    لیکن آپ کی ایک اپنی کہانی ہے. بجائے دوسروں کی کسی کہانی میں ایک غلام کردار بننے کے اپنی کہانی میں ہی رہیں. ایسی ڈبہ فلموں سے فاصلہ رکھیں. ورنہ اپنی کہانی فلاپ کر لیں گے.