Baaghi TV

Tag: زلزلہ

  • دادو اور گرد و نواح میں زلزلے کے جھٹکے

    دادو اور گرد و نواح میں زلزلے کے جھٹکے

    کراچی: صوبہ سندھ کے شہر دادو اور اس کے گرد و نواح میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے، زلزلے کی شدت 4.1 ریکارڈ کی گئی۔تفصیلات کے مطابق صوبہ سندھ کے شہر دادو اور اس کے گرد و نواح میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔

     

    کراچی طوفانی بارشیں: مختلف حادثات میں 3 بچوں سمیت 4 افراد جاں بحق

    زلزلہ پیما مرکز کا کہنا ہے کہ زلزلے کی شدت 4.1 ریکارڈ کی گئی، اس کی زیر زمین گہرائی 88 کلو میٹر تھی جبکہ مرکز شمال مغرب سندھ بلوچستان بارڈر تھا۔زلزلے کے جھٹکے محسوس ہوتے ہی لوگ خوفزدہ ہو کر کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں سے باہر نکل آئے۔

    بلوچستان میں طوفانی بارشیں،3 خواتین سمیت 6 افراد جاں بحق ،متعلقہ ادارے الرٹ

    خیال رہے کہ گزشتہ برس دسمبر میں صوبائی دارالحکومت کراچی میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے تھے، زلزلے کی شدت 4.1 ریکارڈ کی گئی تھی۔زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کا مرکز ڈی ایچ اے کراچی سے 15 کلو میٹر شمال میں تھا۔

    یاد رہے کہ بلوچستان کے علاقے خاران میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے، تاہم کسی قسم کا نقصان نہیں ہوا ہے ، زلزلے کی گہرائی 40 کلو میٹر تھی۔ بلوچستان کے علاقے خاران میں جمعرات کو زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔

    کراچی اورلاہورمیں طوفانی بارشیں جاری

    زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی شدت 3.9، گہرائی 40 کلو میٹر تھی ۔جس کا مرکز خاران سے 30 کلومیٹر جنوب مغرب کی جانب تھا۔جس کے بعد لوگ خوفزدہ ہوکر گھروں سے نکل آئیں۔ زلزلے سے کوئی جانی و مالی نقصان نہیں ہوا ہے ۔

  • شدید سیلاب کے بعد بلوچستان میں 5.6 شدت کا زلزلہ،مکانات کی تباہی کا خدشہ

    شدید سیلاب کے بعد بلوچستان میں 5.6 شدت کا زلزلہ،مکانات کی تباہی کا خدشہ

    کوئٹہ:شدید سیلاب کے بعد بلوچستان میں 5.6 شدت کا زلزلہ آیا ہے ،سیلاب کے بعد بلوچستان کے ساحل سمندرکے قریب زلزلہ کے جھٹکے بھی محسوس کیے گئے ہیں۔لوگوں پرخوف کے سائے ہیں ،اطلاعات ہیں کہ اس زلزلے میں پانی میں گھرے ہوئے مکانات کے بچنے کے امکانات بہت کم ہیں

    زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی شدت 5.6 ریکارڈ کی گئی جس کی گہرائی زیرزمین 60 کلومیٹرتھی، زلزلے کا مرکز پسنی کے قریب آف کوسٹل ایریا تھا، 10 منٹ کے وقفے کے بعد آنے والے آفٹر شاکس کی شدت 5.0 ریکارڈ کی گئی۔

    زلزلے کے جھٹکے گوادر اور بلوچستان کی دیگر ساحلی پٹی پر بھی محسوس کیے گئے، فوری طور پر زلزلے سے کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی تاہم زلزلے کے جھٹکوں کے باعث لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

    واضح رہے کہ بلوچستان کے مختلف اضلاع اس وقت سیلاب کی لپیٹ میں ہیں اور بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہوا ہے۔

    بارشیں اور سیلاب سے بلوچستان میں حالات خراب، ہر طرف تباہی، سیکڑوں مکانات زمین بوس ہوگئے، متاثرین کھلے آسمان تلے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں، پاک فوج کی امدادی سرگرمیاں بھی جاری ہیں۔

    تفصیلات کے مطابق بلوچستان میں سیلاب سے تباہی پھیل گئی، جاں بحق افراد کی تعداد 127 ہوگئی، سیکڑوں مکانات زمین بوس ہو گئے اور 565 کلومیٹر شاہراہوں کو نقصان پہنچا، گیارہ پل سیلابی ریلوں کی نذر ہو گئے، متاثرہ علاقوں میں پاک آرمی اور فضائیہ کا ریلیف آپریشن جاری ہے۔

  • فلپائن میں شدید زلزلے کے نتیجے میں5 افراد ہلاک:درجنوں زخمی

    فلپائن میں شدید زلزلے کے نتیجے میں5 افراد ہلاک:درجنوں زخمی

    فلپائن :شمالی فلپائن میں شدید زلزلے کے نتیجے میں 5 افراد ہلاک اور 60 زخمی ہو گئے ہیں۔خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق وزیر داخلہ بنجمن ابالوس نے ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی نیوز کانفرنس میں بتایا کہ دو افراد بینگویٹ صوبے میں جبکہ 2صوبہ ابرا اور ایک دوسرے صوبے میں ہلاک ہوا۔

    امریکی جیولوجیکل سروے کے اعداد و شمار کے مطابق زلزلہ ڈولورس قصبے سے 11 کلومیٹر جنوب مشرق میں 10 کلومیٹر کی گہرائی میں آیا۔

    صدر فرڈینینڈ مارکوس جونیئر نے فیس بک پر کہا کہ زلزلے سے ہونے والے نقصانات کے بارے میں افسوسناک اطلاعات کے باوجود ہم ضرورت مندوں اور اس آفت سے متاثر ہونے والوں کو فوری امداد کی فراہمی یقینی بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔

    زلزلہ مارکوس خاندان کے سیاسی گڑھ کے قریب آیا۔ریاستی سیسمولوجی ایجنسی کے ڈائریکٹر ریناٹو سولیڈم نے ڈی زیڈ آر ایچ ریڈیو اسٹیشن کو بتایا کہ شدید آفٹر شاکس متوقع ہیں۔رینٹو نے کہا کہ زلزلے کا مرکز ابرا اور قریبی صوبوں کے پاس تھا اور یہ ایک بڑا زلزلہ ہے۔

    ابالوس نے بتایا کہ ابرا صوبے میں 173 عمارتوں کو نقصان پہنچا اور 58 مقامات پر لینڈ سلائیڈنگ کی اطلاع ملی جس میں 60 میں سے 44 زخمی ہوئے۔حکام نے بتایا کہ عمارت کے جزوی طور پر منہدم ہونے کے بعد ابرہ صوبے میں ایک ہسپتال کو خالی کرا لیا گیا ہے لیکن وہاں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

    ابرا کے نائب گورنر جوئے برنوس نے اپنے فیس بک اکاؤنٹ پر تباہ شدہ ابرا ہسپتال کی تصاویر پوسٹ کیں جس میں اس کے اگلے حصے میں ایک بڑا سوراخ دیکھا جا سکتا ہے۔

  • افغانستان: صوبہ پکتیکا کے ضلع گیان میں زلزلہ،10 افراد زخمی

    افغانستان: صوبہ پکتیکا کے ضلع گیان میں زلزلہ،10 افراد زخمی

    افغانستان کے مشرقی علاقے میں زلزلے سے 10 افراد زخمی ہوگئے۔

    باغی ٹی وی : غیرملکی میڈیا کے مطابق افغانستان کے مشرقی صوبے پکتیکا کے ضلع گیان میں زلزلے سے 10 افراد زخمی ہوگئے۔ افغان حکام کا کہنا ہے کہ زلزلے سے متاثرہ علاقے میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ زلزلے سے متعدد مکانات بھی منہدم ہوگئے ہیں۔

    امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق زلزلے کی شدت ریکٹراسکیل پر5.1 ریکارڈ کی گئی تھی اورزیر زمین اس کی گہرائی 51 کلو میٹر تھی گزشتہ ماہ اسی علاقے میں آنے والے زلزلے میں ایک ہزار سے زائد افراد جاں بحق ہوئے تھے۔

    واضح رہے کہ قبل ازیں گزشتہ ماہ افغانستان میں آنے والے زلزلے نے تباہی مچادی تھی جس کے نتیجے میں اب تک 100 سے زائد افراد جاں بحق جبکہ 700 سے زائد زخمی ہوئے تھے-

    افغان صوبے پکتیکا میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے تھے جن کی شدت 6.1 سے زائد تھی زلزلے کے نتیجے میں متعدد گھر ملبے کا ڈھیر بن گئے تھے

  • یو اے ای اور ایران میں زلزلے کے جھٹکے،ایران میں 3 افراد ہلاک 8 زخمی

    یو اے ای اور ایران میں زلزلے کے جھٹکے،ایران میں 3 افراد ہلاک 8 زخمی

    متحدہ عرب امارات اور ایران میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق شارجہ اور دبئی میں زلزلے کے شدید جھٹکےمحسوس کیے گئے یورپی بحیرہ روم زلزلہ مرکز کے مطابق زلزلہ ایران کے جنوب میں آیا،گہرائی 10 کلو میٹر ریکارڈ کی گئی جبکہ زلزلے کی شدت 6.3 تھی زلزلے کے جھٹکوں کے نتیجے میں کسی بھی قسم کے جانی اور مالی نقصان کی خبر اب تک سامنے نہیں آئی۔

    زلزلے کا مرکز ایران کی بندر گاہ لنگہ ہے جو اماراتی ریاست شارجہ سے 150 کلومیٹر کی دوری پر ہے ہفتے کی صبح جنوبی ایران میں زلزلے سے کم از کم تین افراد ہلاک ہو گئے۔

    ایران کے خلیج فارس کے ساحل پر صوبہ ہرمزگان کے ایمرجنسی مینجمنٹ کے سربراہ مہرداد حسن زادہ نے رپورٹ میں کہا کہ بدقسمتی سے اب تک ہمارے پاس تین افراد ہلاک اور آٹھ زخمی ہو چکے ہیں۔

    ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ زلزلے کی شدت 6.1 تھی جبکہ یورپی-میڈیٹیرینین سیسمولوجیکل سینٹر نے اسے 6.0 بتایا۔ یورپی مانیٹرنگ گروپ نے بتایا کہ زلزلہ 10 کلومیٹر کی گہرائی میں یا صرف چھ میل سے زیادہ تھا۔

  • پاکستان نے ہمیشہ افغانستان کی مدد کی:سلطان محمود چوہدری صدر آزاد جموں کشمیر

    پاکستان نے ہمیشہ افغانستان کی مدد کی:سلطان محمود چوہدری صدر آزاد جموں کشمیر

    مظفرآباد:سلطان محمود چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ افغانستان کی مدد کی۔تفصیلات کے مطابق کشمیر آرفن ریلیف ٹرسٹ اور پاک افغان کارپوریشن فورم کے اشتراک سے تقریب کا انعقاد ہوا جس میں صدر آزاد جموں کشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے شرکت کی۔

    صدر آزاد جموں وکشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں مقیم لوگ کئی دہائیوں سے مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ افغانستان کی مدد کی، افغانستان میں شدید قسم کا زلزلہ آیا، کافی نقصان ہوا، متاثرین کو مشکلات کا سامنا ہے، ہم کشمیر میں اس طرح زلزلے کے حالات کا سامنا کر چکے ہیں۔

    سلطان محمود چوہدری نے کہا ہے کہ کشمیر آرفن ریلیف ٹرسٹ امدادی سامان بھیج رہا ہے، کاوشیں قابل تحسین ہیں، مسئلہ کشمیر پر بین الاقوامی سطح پر آواز اٹھائی، اب بھارت سرکار کا مکروہ چہرہ دنیا کے سامنے عیاں ہو رہا ہے۔

    ادھرافغانستان میں آنے والے شدید زلزے سے ہونے والے نقصان پرامداد کا سلسلہ جاری ہے اورتازہ امداد کا اعلان وزیراعظم آزادکشمیر سردارتنویرالیاس نے کیا ہے ، ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کی مشکل گھڑی میں افغان عوام کےساتھ ہیں

    اس حوالے سے مظفرآباد سے ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم آزادکشمیر سردار تنویر الیاس خان نے افغانستان کے متاثرین زلزلے کیلئے 10 کروڑ روپے کی امداد کی منظوری دے دی ہے۔یہ امداد کسی بھی وقت افغان طالبان حکومت کو پہنچائی جاسکتی ہے

    تفصیلات کے مطابق افغانستان میں حالیہ زلزلے کے نتیجے میں ہونے والے نقصان کی امداد کے لئے آزاد کشمیر کابینہ اور اعلیٰ بیوروکریسی نے بھی ایک ماہ کی تنخواہ عطیہ کی ہے۔اس حوالے سے وزیر اعظم آزاد کشمیر تنویر الیاس نے کہا کہ افغانستان میں حالیہ زلزلے کے نتیجے میں ہونے والے جانی و مالی نقصان پر پوری قوم رنجیدہ ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان یک جان دو قالب ہیں، آزاد کشمیر پاکستان کی ایک اکائی ہے، دکھ کی اس گھڑی میں پاکستان اور آزاد کشمیر کے عوام اپنے بھائیوں کے ساتھ کھڑی ہے۔

    تنویر الیاس نے کہا کہ آزاد کشمیر حکومت افغان بھائیوں کی مدد کے لئے 10 کروڑ روپے کی امداد افغانستان بھیجے گی، امداد بھیجنے کا طریقہ کار دفتر خارجہ اور قومی سلامتی کے اداروں سے مشاورت کے ساتھ طے کیا جائے گا۔وزیر اعظم آزاد کشمیر نے مزید کہا کہ حکومت آزاد کشمیر کا نمائندہ وفد امداد لیکر افغانستان جائے گا، افغانستان میں زلزلے سے متاثرہ علاقوں کی بحالی میں پاکستان اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔

    یاد رہے کہ افغانستان کے دارالحکومت کابل سمیت کئی شہروں میں خوفناک زلزلے نے قیامت برپا کر دی جہاں اب تک ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے۔

    غیر ملکی خبررساں ادارے کی رپورٹکے مطابق افغانستان کے مختلف حصوں میں 6.1 شدت کا زلزلہ آیا جس کے نتیجے میں سیکڑوں گھر تباہ ہوگئے جب کہ زلزلے کے نتیجے میں ہلاک ہونے والی کی تعداد ایک ہزار ہوگئی ہے اور اس کے نتیجے میں 1500 سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

  • اسلام آباد میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کئے گئے۔

    اسلام آباد میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کئے گئے۔

    اسلام آباد میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کئے گئے۔

    باغی ٹی وی: اسلام آباد میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے۔جیسے ہی لوگوں نے ان زلزلوں کے جھٹکوں کو محسوس کیا۔ تو لوگ کلمہ طیبہ پڑھتے ہوۓ اپنے اپنے گھروں سے باہر نکل آئے۔ویسے بھی عمومی طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ جب زلزلہ آۓ تو گھروں سے باہر کھلے آسمان تلے چلے جانا چاہئے۔

    مزید تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا جاتا ہے کہ جیسے ہی اسلام آباد میں لوگوں نے ان زلزلوں کے جھٹکوں کو محسوس کیا تو ان میں بہت زیادہ خوف پیدا ہو گیا تھا۔اور جب زلزلے کی شدت کو ریکٹر اسکیل پر دیکھا تو پتا چلا کہ زلزلے کی شدت تو 4 عشاریہ 5 ریکارڈ کی گئی۔اور یہ بھی پتا چلا کہ زلزلہ 130 کلومیٹر زیر زمین آیا۔
    ان زلزلوں کے جھٹکوں کی شدت جب عوام نے محسوس کی تو وہ بہت زیادہ خوف میں مبتلا ہو گے۔ لیکن شکر ہے کہ ابھی تک کسی بھی جانی نقصان کی رپورٹ نہیں ملی۔ لوگوں میں پھر خوف کم ہوا۔ اور وہ اپنے اپنے گھروں میں چلے گئے۔

  • پاکستان نے افغانستان کے زلزلہ متاثرین کے لیے امدادی سامان کی دوسری کھیپ روانہ کردی

    پاکستان نے افغانستان کے زلزلہ متاثرین کے لیے امدادی سامان کی دوسری کھیپ روانہ کردی

    اسلام آباد: وفاقی وزیر سیفران محمد طلحہ محمود نے حکومت پاکستان کی جانب سے افغانستان کے زلزلہ متاثرین کے لیے امدادی سامان کی دوسری کھیپ افغان ناظم الامور سردار محمد شکیب کے حوالے کی. تقریب آج نور خان بیس راولپنڈی میں منعقدہ ہوئی. اس موقع پر چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل اختر نواز بھی موجود تھے. اسکے علاوہ پاکستانی وزارت خارجہ اور افغان ایمبیسی کے حکام نے بھی شرکت کی۔

    نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی دوسری امدادی کھیپ میں فیملی خیمے اور اشیائے خوردونوش شامل ہیں، جسے پی اے ایف C130 ایئر کرافٹ کے ذریعے روانہ کیا گیا ہے۔

    دوران تقریب افغانستان میں زلزلے کے دوران قمیتی جانوں کے ضیاع پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے، وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان نے اس مشکل گھڑی میں افغانستان حکومت کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے اور وزارت خارجہ، نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) اور دیگر ادارے امدادی سامان کی فراہمی کے لیے افغان حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں ہیں۔ .

    افغان ناظم الامور نے زلزلہ زدگان کے لیے فوری طور پر امداد بھجوانے پر پاکستانی حکومت کا شکریہ ادا کیا۔

    یاد رہے وزیر اعظم پاکستان کی ہدایت پر این ڈی ایم اے نے افغانستان میں زلزلہ متاثرین کے لئے امدادی سامان کی پہلی کھیپ 23 جون 2022 کو بذریعہ روڈ بجھوا دی تھی ۔

    ادھرافغانستان میں زلزلے کے بعد امدادی کارروائیاں جاری ہیں جہاں کم از کم ایک ہزار اموات ہوئی ہیں تاہم افغان طالبان کا کہنا ہے کہ ریسکیو آپریشن تقریباً مکمل ہوچکا ہے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق افغان طالبان کی فوج کے ترجمان محمد اسماعیل معاویہ کا کہنا ہے کہ ’ریسکیو آپریشن ختم ہو گیا ہے۔ کوئی بھی ملبے تلے نہیں دبا ہوا۔‘ جبکہ قدرتی آفات سے نمٹنے کی وزارت کے ترجمان محمد نسیم حقانی نے کہا ہے کہ بڑے ضلعوں میں ریسکیو آپریشن ختم ہوگیا ہے تاہم دوردراز علاقوں میں جاری ہے۔

    اقوام متحدہ نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا کہ طالبان کی وزارت دفاع کے مطابق 90 فیصد سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن مکمل ہوگیا ہے۔

    ادھر پاکستان کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان محمد صادق کا کہنا ہے کہ زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سامان، خاص کر خوراک اور ادویات، پہنچانے کا عمل جاری ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’ہمارے ہیلی کاپٹر، ایمبولینس اور ریسکیو ٹیمیں متاثرین کی مدد کر رہی ہیں۔‘

  • چینی صدر شی جن پنگ کی زیر صدارت عالمی ترقی کے حوالے سے اعلیٰ سطحی مکالمے کا انعقاد

    چینی صدر شی جن پنگ کی زیر صدارت عالمی ترقی کے حوالے سے اعلیٰ سطحی مکالمے کا انعقاد

    بیجنگ:چینی صدر شی جن پنگ کی زیر صدارت عالمی ترقی کے حوالے سے اعلیٰ سطحی مکالمے کا چوبیس تاریخ کو ورچوئل انعقاد کیا گیا۔مکالمے کا موضوع رہا "پائیدار ترقیاتی ایجنڈے 2030 کے مشترکہ نفاذ کے لیے نئے دور کی عالمی ترقیاتی شراکت داری کا فروغ” ۔برکس رہنماؤں اور متعلقہ ابھرتی ہوئی منڈیوں اور ترقی پذیر ممالک کے رہنماؤں نے اس تقریب میں شرکت کی۔

    اس موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر شی نے شرکا کو چین کے شمال مغربی علاقے میں اپنے کاشت کاری کے تجربات سے آگاہ کیا۔ شی جن پھنگ کا کہنا تھا کہ انہوں نے چین بھر سمیت متعدد ممالک کے بھی دورے کیے ہیں۔انہیں یہ لگتا ہے کہ صرف مسلسل ترقی ہی بہتر زندگی اور مستحکم معاشرے کے بارے میں عوام کے خوابوں کو پورا کرسکتی ہے۔

    شی جن پنگ کا کہنا تھا کہ تمام ممالک کے عوام کی خوشحال زندگی کی صورت میں ہی پائیدار ترقی ، سلامتی اور انسانی حقوق کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ تحفظ پسندی کے تحت دوسروں پر پابندیاں عائد کرنا خود اپنے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہو گا۔ ہمیں ترقی کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے چاہیے ، کھلی اقتصادی ترقی کو فروغ دینا چاہیے اور عالمی گورننس کے لیے مزید منصفانہ ماحول تشکیل دینا چاہیے۔

    شی جن پنگ نے کہا کہ ترقی یافتہ ممالک کو اپنی ذمہ داریاں نبھانی چاہیں اور ترقی پزیر ممالک کو تعاون کو مضبوط بنانا چاہیے۔ جنوب شمال دونوں فریقوں کو ایک ساتھ مل کر یکجہتی، مساوات، توازن اور جامع عالمی ترقیاتی شراکت داری تشکیل دینے کی مشترکہ کوشش کرنی چاہیے اور کسی بھی ملک یا فرد کو پیچھے نہ چھوڑنا چاہیے۔

    شی جن پنگ نے اعلان کیا کہ چین اقوام متحدہ کے 2030 کے پائیدار ترقیاتی ایجنڈے کی حمایت کے لیے ٹھوس اقدامات کرے گا۔چین ترقیاتی تعاون کے لیے وسائل کی سرمایہ کاری میں اضافہ کرے گا، جنوب جنوب تعاون امدادی فنڈز کو عالمی ترقیاتی اور جنوب جنوب تعاون فنڈز کی سطح تک بلند کرے گا اور چین۔ اقوام متحدہ امن و ترقیاتی فنڈز پر مزید سرمایہ کاری کرے گا۔چین مختلف فریقوں کے ساتھ مل کر اہم شعبوں میں تعاون کو مضبوط بنائے گا۔ غربت کے خاتمے کے لیے بین الاقوامی تعاون ، اجناس کی پیداوار اور فراہمی کی مضبوطی ، صاف توانائی ، ویکسین کی تحقیق اور تیاری ، زمین و سمندر کے ماحول کی حفاظت اور ڈیجیٹل عہد میں باہمی روابط سمیت دیگر شعبوں کو آگے بڑھائے گا۔

    چین بین الاقوامی ترقیاتی معلومات و تجربات کے تبادلے کے لیے پلیٹ فارم قائم کرے گا اور نوجوانوں کے لیے عالمی ترقیاتی فورم کا انعقاد کرے گا۔

    چائنا میڈیا گروپ کے سی جی ٹی این ڈاکیو منٹری ٹی وی چینل اور ریڈیو گریٹر بے کی لانچنگ تقریب بیجنگ اور ہانگ کانگ میں بیک وقت منعقد ہوئی۔یہ نشریات 1 جولائی سے ہانگ کانگ میں دیکھی اور سنی جا سکیں گی۔جمعہ کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق
    چین کے ہانگ کانگ خصوصی انتظامی علاقے کی چیف ایگزیکٹو کیری لام نے اپنے ورچوئل خطاب میں کہا کہ اس پیش رفت سے ہانگ کانگ کے شہریوں کو ملک کی تازہ ترین صورتحال اور ترقی کے بارے میں جاننے کا موقع ملے گا اور ان کی قومی شناخت کا احساس مزید مضبوط ہو گا۔

    چائنا میڈیا گروپ کے صدر شین ہائی شونگ نے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ صدر ممکت شی جن پھنگ نے ہمیشہ ہانگ کانگ کے ہم وطنوں کا خیال رکھا ہے اور طویل مدتی خوشحالی اور استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے اُن کی ہانگ کانگ سے بہت زیادہ توقعات وابستہ ہیں۔ ملکی ترقی میں ہانگ کانگ کے انضمام کی مجموعی صورتحال کو بہتر انداز میں پیش کرنے کے لیےمذکورہ نشریات کو ہانگ کانگ میں بھرپور طور پر نشر کیا جائے گا۔مرکزی حکومت کی اہم پالیسیاں اور قومی ترقیاتی حکمت عملی مین لینڈ کے ساتھ خوشحالی اور ترقی کی ترغیب دیتی ہے۔

    چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان وانگ وین بین نے یومیہ نیوز بریفنگ کے دوران افغانستان میں آنے والے حالیہ زلزلے کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ چین افغانستان کی ضروریات کے مطابق ہنگامی انسانی دوست امداد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ اس کے ساتھ ہی، چین نے زلزلے سے متاثرہ علاقوں کے لیے ایک اضافی ہنگامی امداد بھی فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔علاوہ ازیں افغانستان کی امداد کے لیے خوراک افغانستان پہنچ چکی ہے اور اس وقت تقسیم جاری ہے

    افغانستان کو ہنگامی بنیادوں پر مدد فراہم کی جائے :اس حوالے سے کل 23جون کو افغانستان کے بارے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے کھلے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چین کے مستقل مندوب چانگ جون نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ افغانستان کو مزید تعاون اورمدد فراہم کی جائے ۔

    چانگ جون نے کہا کہ افغانستان بد نظمی سے نظم و ضبط تک کے نازک دور سے گزر رہا ہے۔ گزشتہ سال اگست کے بعد سے، افغانستان کی صورتحال عمومی طور پر مستحکم رہی، متشدد تصادم میں واضح کمی آئی ہے۔تاہم افغانستان میں انسانی ہمدردی اور اقتصادی شعبے کو شدید چیلنجز کا سامنا ہے۔ افغانستان کو امن اور ترقی کے حصول کے لیےابھی بہت مشکل اور طویل سفر طے کرنا ہے، افغان عوام کو فراموش نہیں کیا جانا چاہیے اور ان کے لیے عالمی برادری کو مزید معاونت اور مدد فراہم کرنی چاہیے ۔

    اس حوالے سے سب سے پہلے ، آزاد اور موثر قومی حکمرانی کے حصول کے لیے تعمیری سرگرمیوں کو مضبوط کیا جانا چاہیئے اور افغانستان کی حمایت کی جانی چاہیئے۔ دوسرا، وسائل کی صلاحیت و استعمال کو بڑھایا جانا چاہیئے تاکہ افغان عوام کو معاشی مشکلات سے نجات دلانے میں مدد فراہم کی جاسکے ۔ تیسرا، افغانستان کی مثبت اور پائیدار ترقی میں معاونت کے لیے جامع پالیسیز پر عمل درآمد کیا جانا چاہیے۔

    چانگ جون نے کہا کہ چین افغانستان کا ہمسایہ دوست ہے۔ چین ، افغانستان کی پرامن اور مستحکم ترقی کی حمایت کے لیے ہمیشہ پرعزم رہا ہےاور افغانستان کے روشن مستقبل کے لیے نئی شراکت داریوں کی تشکیل کے لیے بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر کام کرنے کا خواہاں ہے۔

    ادھرافغانستان میں زلزلے کے بعد امدادی کارروائیاں جاری ہیں جہاں کم از کم ایک ہزار اموات ہوئی ہیں تاہم افغان طالبان کا کہنا ہے کہ ریسکیو آپریشن تقریباً مکمل ہوچکا ہے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق افغان طالبان کی فوج کے ترجمان محمد اسماعیل معاویہ کا کہنا ہے کہ ’ریسکیو آپریشن ختم ہو گیا ہے۔ کوئی بھی ملبے تلے نہیں دبا ہوا۔‘ جبکہ قدرتی آفات سے نمٹنے کی وزارت کے ترجمان محمد نسیم حقانی نے کہا ہے کہ بڑے ضلعوں میں ریسکیو آپریشن ختم ہوگیا ہے تاہم دوردراز علاقوں میں جاری ہے۔

    اقوام متحدہ نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا کہ طالبان کی وزارت دفاع کے مطابق 90 فیصد سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن مکمل ہوگیا ہے۔

    ادھر پاکستان کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان محمد صادق کا کہنا ہے کہ زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سامان، خاص کر خوراک اور ادویات، پہنچانے کا عمل جاری ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’ہمارے ہیلی کاپٹر، ایمبولینس اور ریسکیو ٹیمیں متاثرین کی مدد کر رہی ہیں۔‘

  • شہباز شریف کا افغان وزیراعظم کو ٹیلیفون:  زلزلےسےنقصان پراظہارافسوس،مدد کی پیشکش

    شہباز شریف کا افغان وزیراعظم کو ٹیلیفون: زلزلےسےنقصان پراظہارافسوس،مدد کی پیشکش

    اسلام آباد:وزیراعظم شہباز شریف نے افغانستان کے قائمقام وزیراعظم ملا حسن اخوند سے ٹیلیفونک رابطے کے دوران کہا ہے کہ دکھ کی اس گھڑی میں افغان عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔

    وزیر اعظم کا افغانستان کے قائم مقام وزیراعظم سے ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے، اس موقع پر شہباز شریف نے 22 جون کو افغانستان میں آنے والے تباہ کن زلزلے کے نتیجے میں قیمتی جانوں کے ضیاع اور نقصان پر حکومت پاکستان اور عوام کی جانب سے گہری ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا۔

    وزیراعظم نے جاں بحق افراد کے لیے دعائے مغفرت کی اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان مشکل کی اس گھڑی میں اپنے افغان بھائیوں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہے۔

    ٹیلیفونک رابطے کے دوران شہباز شریف نےافغانستان کو ہنگامی امداد فراہم کرنے کے لیے پاکستان کی جانب سے کی جانے والی امدادی کوششوں کے حوالے سے تفصیلات بتائیں، جن میں ہنگامی ادویات، خیموں، ترپالوں اور کمبلوں کی ترسیل شامل ہے۔

    وزیراعظم نے بتایا کہ غلام خان اور انگور اڈہ بارڈر کراسنگ پوائنٹس کو افغانوں کی آمدورفت کے لیے کھول دیا گیا ہے۔ آنے والے دنوں میں ہمسایہ ملک کی مدد جاری رکھیں گے۔

    شہباز شریف نے دونوں لوگوں کے درمیان قریبی برادرانہ تعلقات پر زور دیا اور پاکستان کی جانب سے سنگین انسانی صورتحال کا سامنا کرنے والے افغان عوام کو مدد فراہم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

    وزیر اعظم نے موثر بارڈر مینجمنٹ کے ذریعے تجارت اور لوگوں کی نقل و حرکت کو آسان بنانے کے لیے حکومت کے اقدامات پر بھی افغان قائم مقام وزیراعظم ملا حسن اوند کو آگاہ کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان امن، ترقی اور خوشحالی کے مقصد کو فروغ دینے کے لیے دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔