Baaghi TV

Tag: سائنس و ٹیکنالوجی

  • انٹرنیٹ کا مسلسل استعمال اور ڈیمینشیا

    انٹرنیٹ کا مسلسل استعمال اور ڈیمینشیا

    نیو یارک: ایک نئی تحقیق میں میں بتایا گیا ہے کہ انٹرنیٹ کا مسلسل استعمال ڈیمینشیا کے خطرات میں کمی لاسکتا ہے۔

    باغی ٹی وی : جرنل آف دی امیریکن گیریاٹرکس سوسائٹی میں شائع ہونے والی ایک تحقیق بتایا گیا ہے کہ وہ بوڑھے افراد جو باقاعدگی کے ساتھ انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں ان کے ڈیمینشیا میں مبتلا ہونے کے امکانات کم ہوتے ہیں تحقیق میں نیویارک یونیورسٹی کے محققین نے 50 سے 65 سال کے درمیان 18،154 افراد کو تقریباً آٹھ سال تک زیر معائنہ رکھا۔

    اب جی میل پر بھی بلیو ٹک نظر آئے گا

    ان افراد سے تحقیق کی ابتداء میں اور ہر دو سال کے وقفے سے ای میل بھیجنے، خریداری کرنے یا وقت صرف کرنے کے لیے انٹرنیٹ کے مسلسل استعمال کے متعلق پوچھا گیا وہ افراد جنہوں نے ہاں میں جواب دیا تھا ان میں نہ کہنے والوں کی نسبت تحقیق کے آخر تک کسی بھی قسم کے ڈیمینشیا کی تشخیص ہونے کے امکانات 50 فی صد تک کم تھے ماہرین کے مطابق ایسا ہونے کی وجہ ممکنہ طور پر یہ ہوسکتی ہے کہ انٹرنیٹ دماغ کو پہنچے والے نقصان کے خلاف محرک کرتا ہے-

    تحقیق کے شروع میں کوئی فرد بھی ڈیمینشیا میں مبتلا نہیں تھا لیکن تحقیق کے آخر تک 1 ہزار 183 افراد (تقریباً پانچ فی صد) ڈیمینشیا مبتلا ہو چکے تھےانٹرنیٹ استعمال کرنے والے گروپ میں 10،333 افراد میں سے 224 افراد (1.5 فی صد افراد) ڈیمینشیا میں مبتلا ہوئے جبکہ دوسرے گروپ میں 7،821 افراد میں 959 افراد (10.45 فئی صد)اس بیماری میں مبتلا ہوئے۔

    5 مئی کو "سائے کی طرح کا”جزوی چاند گرہن دیکھا جاسکے گا، سعودی ماہر فلکیات

    تحقیق میں شریک ہر فرد سے پوچھا گیا کہ آیا وہ ای میل بیغامات بھیجنےیاموصول کرنے یا خریداری یا کسی دیگر غرض سے مستقل بنیادوں پر انٹرنیٹ کا استعمال کرتے ہیں یا نہیں۔ جن افراد کا جواب ہاں تھا ان کو مستقل صارف جبکہ جن کا جواب نہ تھا ان کو غیر مستقل صارف قرار دیا گیا۔

    قبل ازیں ماہرین نے ایک تحقیق میں بتایا تھا کہ ایچ آئی وی کے لیے استعمال کی جانے والی دوا ڈیمینشیا میں بننے والے خطرناک پروٹین سے بچانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

    یونیورسٹی آف کیمبرج کے سائنس دانوں کی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ ہنٹنگٹنز بیماری اور ڈیمینشیا کی دیگر اقسام میں دماغ کی زہریلے پروٹین ختم کرنے کی صلاحیت خراب ہوجاتی ہے چوہوں پر کی جانے والی اس نئی تحقیق میں میراوائرک نامی ایچ آئی وی کی دوا استعمال کی گئی۔ تجربے میں دیکھا گیا کہ یہ دوا دماغ کے مذکورہ بالا عمل کو فعال کرنے کے قابل تھی جس سے خطرناک پروٹین کے جمع ہونے اور آہستہ آہستہ بیماری میں مبتلا ہونے سے بچنے میں مدد ملی۔

    ماہرین فلکیات کا پہلی بار ستارے کو نگلتے ہوئے سیارے کا مشاہدہ کرنے کا دعویٰ

    یونیورسٹی آف کیمبرج میں قائم یو کے ڈیمنشیا ریسرچ انسٹیٹیوٹ سے تعلق رکھنے والے تحقیق کے سینئر مصنف پروفیسر ڈیوڈ رُوبِنسٹائن کا کہنا تھا کہ محققین کے لیے یہ دریافت اس لیے دلچسپ ہے کیوں کہ انہوں نے صرف ہمارے اعصابی نظام کو تیزی سے ختم کرنے والا نیا مکینزم دریافت نہیں کیا ہے بلکہ انہیں یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس کو ممکنہ طور پر پہلے سے موجود محفوظ علاج کی مدد سے روکا بھی جاسکتا ہےشاید میراوائرک خود جادوئی دوا نہ ہو لیکن یہ ایک ممکنہ راستہ ضرور دِکھاتی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس دوا کے بطور ایچ آئی وی کے علاج بننے کے دوران، متعدد ادویات ایچ آئی وی کے خلاف مؤثر نہ ہونے کے باعث ناکام ہوئی تھیں۔ شاید محققین ان میں سے کوئی دوا انسانوں کو اعصابی بیماری سے بچانے میں مؤثر پائیں۔

    چاند کی مٹی سے آکسیجن حاصل کرنا ممکن ہے،ناسا

  • ماہرین فلکیات کا پہلی بار ستارے کو نگلتے ہوئے سیارے کا مشاہدہ کرنے کا دعویٰ

    ماہرین فلکیات کا پہلی بار ستارے کو نگلتے ہوئے سیارے کا مشاہدہ کرنے کا دعویٰ

    ماہرین فلکیات نے پہلی مرتبہ کسی ستارے کے سیارہ نگلنے کے واقعے کے مشاہدہ کرنے کا انکشاف کیا ہے-

    باغی ٹی وی: امریکی خبررساں ادارے ” سی این این” کے مطابق ہارورڈ یونیورسٹی، میساچیوسٹس اور کیلی فورنیا انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے ماہرین کی ایک ٹیم نے دعویٰ کیا ہے کہ پہلی مرتبہ کسی مرتے ہوئے ستارے کے جوپیٹرسےبڑی جسامت رکھنےوالےسیارے کو نگلنے کا مشاہدہ کیا گیا ہے اس سے قبل صرف سیاروں کے ستاروں میں ضم (Engulfed) ہونے سے قبل یا بعد کے واقعات کا مشاہدہ کیا گیا تھا۔

    5 مئی کو "سائے کی طرح کا”جزوی چاند گرہن دیکھا جاسکے گا، سعودی ماہر فلکیات

    بدھ کوجریدے نیچر میں شائع تحقیق میں ماہرین کی ٹیم کے سربراہ اور میساچوسٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں پوسٹ ڈاکٹورل محقق ڈاکٹر کشالے ڈی کا کہنا تھا کہ یہ حقائق تو ہمیں ہائی اسکول سے ہی پڑھائے جاتے ہیں کہ سولر سسٹم میں موجود تمام سیارے آخر کار سورج میں شامل ہو کر ختم ہو جائیں گے اور ہمارے لیے اس بات پر یقین کرنا تھوڑا مشکل ہوتا تھا لیکن اب ہمیں اس سے ملتی جلتی ایک مثال مل گئی ہے۔

    یہ عمل ایک ستارہ کو اس کے اصل سائز سے دس لاکھ گنا زیادہ دیکھتا ہے کیونکہ اس کا ایندھن ختم ہوجاتا ہے اور اس کے نتیجے میں کسی بھی چیز کو لپیٹ میں لے لیا جاتا ہے۔ ماہرین فلکیات نے اس کا مشاہدہ ایک سفید گرم فلیش کے طور پر کیا، اس کے بعد ایک طویل عرصے تک چلنے والا کمزور سگنل، جس کا بعد میں انہوں نے اندازہ لگایا کہ یہ ستارہ کسی سیارے کو گھیرنے کی وجہ سے تھا۔

    چاند کی مٹی سے آکسیجن حاصل کرنا ممکن ہے،ناسا


    کشالے ڈی نے بتایا کہ "ایک رات، میں نے ایک ستارے کو دیکھا جو ایک ہفتے کے دوران 100 کے فیکٹر سے چمک رہا تھا یہ کسی بھی شاندار دھماکے کے برعکس تھا جو میں نے اپنی زندگی میں دیکھا تھا اور ایک ہفتے تک میں اس چمکتی چیز کو دیکھتا رہا، مجھے لگا کہ میں نے اپنی زندگی ستاروں کے پھٹنے کا کوئی عمل دیکھ لیا ہے لیکن وہ جب ہم نے سنگلز کو دیکھا تو یہ دراصل ایک ستارے کے سیارہ نگلنے کا منظر تھا۔

    مصنوعی ذہانت ٹیکنالوجی اندازوں سے کہیں زیادہ خطرناک ہے،اے آئی کے گاڈ فادر نے خبردار …

    ڈاکٹر کشالے کا کہنا تھا کہ پالومر آبزرویٹری کے انفراریڈ کیمرا کے استعمال سے قبل انہیں کیلی فورنیا کی آبزرویٹری سے ڈیٹا موصول ہوا ، بعد ازاں انہوں اسی ستارے سے متعلق ہوائی کی آبزرویٹری سے ڈیٹا تلاش کیا اور پھر انفراریڈ کیمرا کے استعمال سے اس بارے میں مزید معلومات جمع کرنا شروع کی۔

    انہوں نے بتایا کہ انفراریڈ کیمروں سے ملنے والے معلومات نے مجھے چونکا دیا تھا، کیونکہ اس سے معلوم ہوا کہ دراصل یہ ریڈنگز ایک سیارے کے ستارے میں ضم ہو جانے کی تھیں ڈیٹا کے تجزیے کیلئے ہم نے ناسا کے انفراریڈ ٹیلی اسکوپ نیووائس (NEOWISE) کا ڈیٹا دیکھا جس اور واضح ہو گیا کہ دراصل ستارہ ایک سیارے کو نگل رہا تھا۔

    انہوں نے بتایا کہ جسامت میں جوپیٹر سے بڑے سیارے کی موت کا واقعہ تقریباً 12000 نوری سالوں کی دوری پر اکوئیلا کونسٹیلیشن میں پیش آیا تھا،اور اس میں مشتری کے سائز کا ایک سیارہ شامل تھا اس واقعے کا مشاہدہ مئی 2020 میں کیا گیا تھا تاہم جو کچھ ہم نے دیکھا اسے سمجھنے اور اس کی حقیقت کھوجنے میں ہمیں دو سال لگ گئے۔

    واٹس ایپ کا نیا فیچر، صارفین اپنا ایک ہی اکاؤنٹ مختلف فونز میں استعمال کرسکیں …

    ڈی نے کہا کہ ثبوت کے اہم ٹکڑوں میں سے ایک جسے ہم سمجھنے کی کوشش کر رہے تھے کہ یہ دھماکے سے پہلے اور اس کے بعد میں دھول پیدا ہو رہی تھی تاہم، گیس کو ٹھنڈا ہونے اور دھول کے مالیکیول کو گاڑھا ہونے میں وقت لگتا ہے اس کا مطلب یہ تھا کہ ٹیم کو دھول کی خصوصیات کو سمجھنے کے لیے انتظار کرنا پڑا-

    ان کا کہنا تھا کہ تاریخی اعتبار سے اس طرح کا انفراریڈ ڈیٹا ملنا بہت ہی مشکل ہوتا تھا کیونکہ انفراریڈ ڈٹیکٹرز کافی مہنگے ہوتے ہیں اور ان سے بار بار آسمان کی تصویریں بنانے والے بڑے کیمرے بنانا بہت ہی مشکل کام ہوتا ہے لیکن اب ہمارے پاس یہ ڈیٹا موجود ہے اور ہم مستقبل میں بھی اس طرح کے واقعات کا مشاہدہ کر سکیں گےہمارے سیارے زمین کا بھی یہی مقدر ہےاور اگلے 5 ارب سال بعد ہمارا سورج زمین کو نگل جائے گا۔

    وہ غذائی عوامل جو عالمی سطح پرٹائپ 2 ذیا بیطس کا سبب بنتے ہیں

  • چاند کی مٹی سے آکسیجن حاصل کرنا ممکن ہے،ناسا

    چاند کی مٹی سے آکسیجن حاصل کرنا ممکن ہے،ناسا

    فلوریڈا: ناسا کا کہنا ہے کہ چاند کی مٹی سے آکسیجن حاصل کرنا ممکن ہے۔

    باغی ٹی وی: ناسا کے مطابق ایک حالیہ ٹیسٹ کے دوران، ہیوسٹن میں ناسا کے جانسن اسپیس سینٹر کے سائنسدانوں نے چاند کی مصنوعی مٹی سے کامیابی کے ساتھ آکسیجن نکالی یہ پہلا موقع تھا جب یہ اخراج خلاء کے ماحول میں کیا گیا ہے، جس سے خلانوردوں کے لیے چاندی کے ماحول میں ایک دن نکالنے اور وسائل کے استعمال کی راہ ہموار ہوئی ہے، جسے ان-سیٹو ریسورس یوٹیلائزیشن کہتے ہیں۔

    واٹس ایپ میں ایک نیا فیچر متعارف

    اس ضمن میں جانسن اسپیس سینٹر میں ایک کامیاب تجربہ کیا گیا ہے۔ کاربوتھرمل ریڈکشن ڈیمنسٹریشن (کارڈ) نامی ایک ٹیسٹ ویکیوم چیمبر میں کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ ویکیوم چیمبر میں ہوا بالکل نہیں ہوتی بلکہ اس میں خلا جیسی کیفیت ہوتی ہے۔

    اسی ویکیوم چیمبر میں چاند جیسی مٹی کی سیمولیٹڈ کیفیت پر یہ تجربہ کیا گیا ہے۔ یہاں مٹی سے مراد باریک ذرات کی وہ دھول ہے جو چاند کو ڈھانپے ہوئے ہےمٹی سے آکسیجن کے کامیاب حصول کےبعد چاند پر انسانی موجودگی کو طویل عرصے تک ممکن رکھنے میں بھی مدد ملے گی۔

    یورپی خلائی یونین کا نیا مشن مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق …

    15 فٹ قطر کے تھرمل ویکیوم چیمبر میں عین چاند جیسی کیفیات پیدا کی گئیں اور لیزر سے گرم کرکے مٹی کو گرم کرکے پگھلایا۔ اس عمل کو کاربوتھرمل کا نام دیا جاتا ہےکیونکہ اس طرح مادوں میں پھنسی ہوئی گیسوں کو باہر نکالا جاتا ہے۔ اس کے بعد ویکیوم چیمبر سے کاربن مونو آکسائیڈ اور آکسیجن کشید کی گئی ہے۔

    توقع ہے کہ اس عمل سے چاند پر رہنے والے ماہ نورد بھی اپنی آکسیجن خود بناسکیں گے۔

  • شادی کے بعد اکثر جوڑوں کا جسمانی وزن کیوں بڑھ جاتا ہے؟

    شادی کے بعد اکثر جوڑوں کا جسمانی وزن کیوں بڑھ جاتا ہے؟

    ایسا اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ شادی کے بعد جوڑوں کا جسمانی وزن بڑھ جاتا ہے۔

    باغی ٹی وی: متعدد تحقیقی رپورٹس میں بھی اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ شادی کے بعد جوڑوں کے جسمانی وزن میں اضافے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے امریکا کی نارتھ کیرو لائنا کی ایک تحقیق میں 8 ہزار سے زائد جوڑوں کے جسمانی وزن کا جائزہ لیا گیا اور نتیجہ نکالا کہ شادی شدہ خواتین کا وزن شادی کے اولین 5 سے 6 سال کے دوران اوسطاً 10 کلو تک بڑھ سکتا ہے۔

    پاکستان سمیت دنیا بھر میں لیبر ڈے منایا جا رہا ہے

    مگر یہ معاملہ خواتین تک محدود نہیں بلکہ مردوں کے جسمانی وزن میں بھی اضافہ ہوتا ہےایک اور تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ اپنی شادی سے خوش نوبیاہتا جوڑوں کے جسمانی وزن میں اضافے کا امکان زیادہ ہوتا ہےتحقیق میں بتایا گیا کہ شادی شدہ مردوں کا بھی وزن بڑھتا ہے اورمحض 2 سال کے اندر ہی جسمانی وزن میں 5 کلو یا اس سے زائد اضافہ ممکن ہےمگرایسا بیوی سے اچھے تعلق سے ہی ممکن ہوتا ہے۔

    اسی طرح امریکا کے نیشنل انسٹیٹوٹ آف ہیلتھ کی ایک تحقیق میں بھی نوبیاہتا جوڑوں اورجسمانی وزن میں اضافے کےدرمیان تعلق کو دریافت کیا گیا اس تحقیق کے دوران ایسے جوڑوں کا جائزہ 4 سال سے زائد عرصے تک کیا گیا اورمعلوم ہوا کہ خوش باش جوڑوں میں جسمانی وزن میں اضافے کاامکان دیگر کے مقابلے میں دوگنا زیادہ ہوتا ہے۔

    محققین کا کہنا تھا کہ اچھا ازدواجی تعلق لوگوں کو اپنے جسمانی وزن سے بے پروا کردیتا ہے کیونکہ وہ زندگی سے خوش ہوتے ہیں۔

    ڈرپ کی بجائے اینٹی بایوٹکس کھانا زیادہ مفید،تحقیق

    طبی جریدے نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسین میں شائع ایک تحقیق میں یہ دلچسپ انکشاف کیا گیا کہ شادی شدہ جوڑوں میں جسمانی وزن میں اضافہ چھوت کی طرح ایک سے دوسرے میں پھیلتا ہے-

    تحقیق کے مطابق اگر شوہر یا بیوی کا وزن بڑھتا ہے تو اس بات کا امکان 37 فیصد بڑھ جاتا ہے کہ اس کے شریک حیات کا وزن بھی بڑھے گا، جس کی وجہ جوڑوں کی عادات یکساں ہونا ہے۔

    آسٹریلیا کی کوئنز لینڈ یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جوڑوں میں جسمانی وزن بڑھنے کا امکان تنہا افراد کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے، چاہے ان کا طرز زندگی صحت مند اور غذا صحت بخش ہی کیوں نہ ہو۔

    محققین نے اس کی ایک دلچسپ وجہ بھی بتائی ہے اور وہ یہ کہ شادی کے بعد لوگوں کو اپنے شریک حیات کو مزید متاثر کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی، لہذا ان کا جسم پھیلنا شروع ہوجاتا ہے۔

    ہر آدھے گھنٹے میں تین منٹ کی چہل قدمی خون میں شوگر کی سطح کو …

    تحقیق میں بتایا گیا کہ جب جوڑوں کو لگتا ہے کہ اب انہیں زیادہ خوبصورت نظر آنے کی جرورت نہیں، تو وہ زیادہ کھانے سے گریز نہیں کرتے یا چربی اور چینی سے بھرپور غذا کا زیادہ استعمال کرنے لگتے ہیں، جبکہ جسمانی وزن کنٹرول میں رکھنے کی کوشش نہیں کرتے۔

    محققین کا کہنا ہے کہ جسمانی وزن کو معمول پر رکھنے کے طبی فوائد کو پیش نظر رکھ کر لوگ شادی کے بعد بھی موٹاپے کی روک تھام کرسکتے ہیں۔

    موٹاپا کیوں ہوتا ہے؟ تو اس کی متعدد وجوہات ہوتی ہیں جو جسمانی وزن میں اضافے کا باعث بنتی ہیں۔

    تحقیقی رپورٹس کے مطابق اپنے رشتے سے مطمئن جوڑوں کے جسمانی وزن میں اس لیے اضافہ ہوتا ہے کیونکہ ان میں وزن کو مستحکم رکھنے کی خواہش گھٹ جاتی ہے۔ماہرین کی جانب سے بیان کی جانیوالی وجوہات میں اول نمبر پرکھانےکےلیے اکثر باہر جانا جبکہ دوسرے نمبر پر غذائی عادات میں تبدیلی ہے شادی کے بعد جب جوڑے نئی زندگی کا آغاز کرتےہیں تو دعوتیں بہت زیادہ ہوتی ہیں اس بات کا امکان زیادہ ہوتا ہے کہ وہ ضرورت سے زیادہ کھالیں عام طور پر شادی شدہ افراد پہلے کے مقابلے میں زیادہ مقدار میں کھانے لگتے ہیں۔

    دہی پر کی گئی نئی تحقیق میں دہی کے مزید حیران کن فوائد سامنے آ …

    اگر شادی سے پہلے لوگ روزانہ چہل قدمی کرنے کے عادی ہوتے ہیں تو اس بات کا قوی امکان ہوتا ہے کہ شادی کے بعد یہ عادت ختم ہو جائے گی یعنی صحت یا جسمانی وزن کا خیال رکھنا ترجیحات کا حصہ نہیں رہتا بلکہ نئی زندگی کو مستحکم بنانا زیادہ اہم محسوس ہوتا ہے۔

    اکثر افراد زندگی میں آنے والی بڑی تبدیلی کے خود کو تیار نہیں کر پاتے اور انہیں ڈر ہوتا ہے کہ ان کے بارے میں شریک حیات کی رائے خراب نہ ہوایسے افراد تناؤ کا شکار ہوکر ضرورت سے زیادہ کھانے لگتے ہیں اور جسمانی وزن میں اضافہ ہو جاتا ہے-

  • واٹس ایپ کا نیا فیچر، صارفین اپنا ایک ہی اکاؤنٹ مختلف فونز میں استعمال کرسکیں گے

    واٹس ایپ کا نیا فیچر، صارفین اپنا ایک ہی اکاؤنٹ مختلف فونز میں استعمال کرسکیں گے

    سلیکان ویلی: واٹس ایپ صارفین جلد ہی اپنا ایک ہی اکاؤنٹ مختلف فون میں استعمال کرسکیں گے۔

    باغی ٹی وی :میٹا کمپنی کے بانی مارک زکربرگ کی جانب سے منگل کے روز اعلان کیا گیا کہ وٹس ایپ کی ایک نئی اپ ڈیٹ متعارف کروائی گئی ہے اس اپ ڈیٹ کے تحت اب ایک وٹس ایپ اکاونٹ 4 مختلف موبائل فونز یا دیگر ڈیواسز پر استعمال کیا جا سکتا ہے مارک زکربرگ کے مطابق دنیا بھر کے وٹس ایپ صارفین اس سہولت سے مستفید ہو سکیں گے-

    اینڈرائیڈ فون جن میں واٹس ایپ استعمال کرنا ممکن نہیں ہوگا

    واٹس ایپ کی مرکزی کمپنی میٹا کے مطابق دوسرے فون میں اپنا واٹس ایپ اکاؤٹ استعمال کرنے کے لیے صارفین کو ایپلی کیشن فریش انسٹال کرنی پڑے گی عمومی طریقے سے لاگ اِن کرنے کے بجائے صارف کو نیا ’لِنک ٹو ایگزسٹنگ اکاؤنٹ‘ آپشن دبانا ہوگا۔ ایسا کرنے سے ایک کیو آر کوڈ ظاہر ہوگاجس کو مرکزی اکاؤنٹ والا فون ’لنک اے ڈیوائس‘ آپشن کےتحت اسکین کرے گایہ نیا فیچر آئی او ایس اور اینڈرا ئیڈ دونوں ڈیوائسز میں کام کرے گا۔

    واٹس ایپ میں انیمیٹڈ ایموجیز کا فیچر متعارف

    وہ فون جس میں اصل میں واٹس ایپ اکاؤنٹ لاگ ان ہے وہ ’پرائمری‘ ڈیوائس کہلائے گا اور دوسرے فونز،اینڈرائیڈ ٹیبلیٹ یا کمپیوٹر پر پیغام موصول کرنے کے لیے اس کا آن ہونا بھی ضروری نہیں ہوگا البتہ واٹس ایپ کا کہنا ہے کہ اگر پرائمری ڈیوائس 14 دنوں تک غیر فعال رہی تو دیگر ڈیوائسز کو لاگ آؤٹ کر دیا جائے گا۔

    کمپنی کے مطابق یہ فیچر آئندہ ہفتوں میں تمام صارفین کے لیے متعارف کرا دیا جائے گا-

    وہ غذائی عوامل جو عالمی سطح پرٹائپ 2 ذیا بیطس کا سبب بنتے ہیں

    واضح رہے کہ نئی اپ ڈیٹ سے قبل بھی صارفین ایک وٹس ایپ اکاونٹ مختلف ڈیواسز پر استعمال کر سکے تھے، تاہم یہ سہولت کمپیوٹرز، لیپ ٹاپ اور ٹیبلٹس وغیرہ پر صرف براوزر کے ذریعے استعمال کی جا سکتی تھی۔

  • اینڈرائیڈ فون جن میں  واٹس ایپ استعمال کرنا ممکن نہیں ہوگا

    اینڈرائیڈ فون جن میں واٹس ایپ استعمال کرنا ممکن نہیں ہوگا

    پرانے اینڈرائیڈ فون میں بہت جلد واٹس ایپ استعمال کرنا ممکن نہیں ہوگا کمپنی کی جانب سے بھی تصدیق کر دی گئی ہے-

    باغی ٹی وی : واٹس ایپ کی جانب سے یوزر انٹرفیس اور پرائیویسی سیٹنگز کو مسلسل بہتر کیا جاتا ہے جس کے لیے ایسے فیچرز متعارف کرائے جاتے ہیں جو ایپل اور اینڈرائیڈ کے تازہ ترین آپریٹنگ سسٹمز سے مطابقت رکھتے ہوں آپریٹنگ سسٹم کے پرانے ورژن کے لیے سپورٹ ختم کرنے کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ مخصوص فیچرز پرانے سسٹم پر کام نہیں کرتے۔

    نائیجیرین نوجوان نے کچرے سے ریموٹ کنٹرول ماڈل طیارہ بنا لیا

    ابھی صارفین کو واٹس ایپ کو استعمال کرنے کے لیے اینڈرائیڈ 4.1 یا اس سے بعد کے آپریٹنگ سسٹم کی ضرورت ہوتی ہے مگر آنے والے مہینوں میں اینڈرائیڈ 5.0 (لولی پوپ) یا اس کے بعد متعارف کرائے گئے آپریٹنگ سسٹمز پر ہی چلنے والے فونز پر ہی واٹس ایپ استعمال کرنا ممکن ہوگا۔

    واٹس ایپ میں انیمیٹڈ ایموجیز کا فیچر متعارف

    واٹس ایپ کی جانب سے باضابطہ طور پر اینڈرائیڈ 5 پر کام کرنے والے فونز پر سپورٹ ختم کرنے کی تاریخ کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔کمپنی کے ایف اے کیو پیج کے مطابق 24 اکتوبر 2023 سے اینڈرائیڈ 5.0 یا اس کے بعد کے آپریٹنگ سسٹمز پر ہی واٹس ایپ استعمال ہو سکے گا۔

    کمپنی کی جانب سے اس سے پہلے کے آپریٹنگ سسٹم پر کام کرنے والے فونز پر نوٹیفکیشن بھیج کر واٹس ایپ سپورٹ ختم کرنے سے آگاہ کیا جائے گااس نوٹیفکیشن میں بتایا جائے گا کہ ایپ کو استعمال کرنے کے لیے اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم کو اپ ڈیٹ کریں عموماً اینڈرائیڈ فونز میں آپریٹنگ سسٹم کو اپ ڈیٹ کرنے کا آپشن موجود نہیں ہوتا تو ایسے صارفین کو نئے فونز کو خریدنے کی ضرورت ہوگی۔

    جیمز ویب ٹیلی سکوپ نے یورینس کے چھلوں کی تفصیلی تصویر جاری کردی

  • لانچ سے چند منٹ قبل انسانی تاریخ کے سب سےطاقتورراکٹ کی پروازملتوی

    لانچ سے چند منٹ قبل انسانی تاریخ کے سب سےطاقتورراکٹ کی پروازملتوی

    دنیا کے سب سے طاقتور راکٹ کی پہلی پرواز لانچ سے چند منٹ قبل ملتوی کر دی گئی۔

    باغی ٹی وی: ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس کے تیار کردہ اسٹار شپ راکٹ کی اولین پرواز 17 اپریل کو شام 6 بجے سے ساڑھے 7 بجے کے دوران ٹیکساس سے لانچ کی جانے تھی تاہم لانچ سے چند منٹ قبل انسانی تاریخ کے سب سے طاقتور راکٹ کی پرواز کم از کم 48 گھنٹوں کے لیے ملتوی کر دی گئی۔

    30 ہزار سال سے برف میں محفوظ پراسرار کھال کی گیند گلہری نکلی


    ایلون مسک نے ٹوئٹر پر لانچ کے عمل میں فنی خرابی کے بارے میں بتاتے ہوئے راکٹ کی پرواز ملتوی کرنے کا اعلان کیا۔


    رپورٹس کے مطابق اسپیس ایکس اس ہفتے کے آخر میں دوبارہ راکٹ کو لانچ کرنے کی کوشش کر سکتا ہے دنیا کا سب سے طاقتور اسٹار شپ راکٹ 120 میٹر لمبا ہے جس کا وزن 50 لاکھ کلو گرام ہے۔

    گزشتہ روز بغیر عملے کے مشن کو بوکا چیکا، ٹیکساس سے لانچنگ سے چند منٹ قبل ہی منسوخ کر دیا گیا تھا مسک نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ یہ مسئلہ منجمد "پریشرنٹ والو” کی وجہ سے ہوا ہے لیکن سپیس ایکس اس ہفتے کے آخر میں دوبارہ لانچ کرنے کی کوشش کر سکتی ہے۔

    اسپین میں روبوٹ نے پھیپھڑوں کا کامیاب ٹرانسپلانٹ کر لیا

    ایلون مسک نے لانچ سے قبل 16 اپریل کو ٹوئٹر اسپیسز میں بتا دیا تھا کہ میری توقعات بہت زیادہ نہیں، اگر ہم کچھ غلط ہونے سے قبل راکٹ کو کچھ دور لے جانے میں کامیاب ہو گئے تو میں اسے کامیابی تصور کروں گا، بس لانچ پیڈ پر وہ پھٹ نہ جائےانہوں نے امکان ظاہر کیا تھا کہ لانچ کو ملتوی کیا جاسکتا ہے کیونکہ ہم بہت زیادہ احتیاط کر رہے ہیں۔

    یہ اسپیس ایکس کی جانب سے مکمل طور پر تیار راکٹ کو زمین کے مدار کی جانب بھیجنے کی پہلی کوشش ہوگی، جس کے پروٹو ٹائپ ماڈلز کی آزمائش برسوں سے کی جا رہی تھی۔

    رپورٹس کے مطابق یہ وہ راکٹ ہے جسے ایلون مسک انسانوں کو مریخ پر لے جانے کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں اور وہ تو یہ بھی کہتے رہے ہیں کہ اسپیس ایکس کو قائم کرنے کا واحد مقصد اسٹار شپ جیسی سواری تیار کرنا ہے جو انسانوں کو مریخ پر بسانے میں مدد فراہم کر سکے۔

    یورپی خلائی یونین کا نیا مشن مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق …

    پہلی پرواز کے دوران یہ راکٹ بغیر کسی انسان کو لیے زمین کی سطح سے 150 میل بلندی تک جائے گا اسٹار شپ کو بار بار استعمال کرنا ممکن ہوگا اور یہ بنیادی طور پر 2 حصوں پر مشتمل ہے یہ ایک سپر ہیوی بوسٹر ہے، جو ایسا بڑا راکٹ ہے جس میں 33 انجن موجود ہے جبکہ دوسرا اسٹار شپ اسپیس کرافٹ ہے جو بوسٹر کے اوپر موجود ہے جو اس سے الگ ہو جاتا ہے آزمائشی لانچ کے دوران سپر ہیوی بوسٹر خود کو الگ کرکے سمندر میں اترنا تھا جبکہ اسپیس کرافٹ زمین کی مدار تک جانا تھا اور پھر سمندر پر اترنا تھا۔

    ناسا نے فضائی آلودگی کا جائزہ لینے والا سیٹلائٹ لانچ کر دیا

  • 30 ہزار سال سے برف میں محفوظ پراسرار کھال کی گیند گلہری نکلی

    30 ہزار سال سے برف میں محفوظ پراسرار کھال کی گیند گلہری نکلی

    شمالی کینیڈا میں منجمد کھال کے ایک پراسرار گیند کی شناخت 30,000 سال پرانی ممی شدہ گلہری کے طور پر ہوئی ہے۔

    باغی ٹی وی : شمالی کینیڈا میں منجمد کھال کےایک پراسرار گیند ملی مگر ایکسرے اسکینزسےجو انکشاف ہوا اس نے سائنسدانوں کو حیران کر دیا کیونکہ گریپ فروٹ سائز کی یہ گیند درحقیقت برفانی عہد کی ایک گلہری ہےجو 30 ہزار برسوں سےحنوط شدہ شکل میں محفوظ تھی۔

    ماہرین کا خیال ہے کہ برفانی دور کی مخلوق اپنی موت کے وقت ہائبرنیٹ کر رہی ہو گی کیونکہ اسے ایک گیند کی شکل میں پایا گیا اسے 2018 میں یوکون کے علاقے میں کان کنوں نے الاسکا کی سرحد کے قریب ایک سابقہ ​​گولڈرش چوکی کے قریب پایا تھا۔

    یوکون حکومت کے ماہرین کا کہنا تھا کہ یہ گیند ناقابل شناخت ہے مگرجب آپ ننھے ہاتھ، پنجے اور کان دیکھتے ہیں تو حیران رہ جاتے ہیں لیکن جب آپ کسی ایسے جانور کو دیکھتے ہیں جو بالکل محفوظ ہے، وہ 30,000 سال پرانا ہے، اور آپ اس کا چہرہ، اس کی جلد، اس کے بال اور یہ سب کچھ دیکھ سکتے ہیں، تو یہ بالکل دلچسپ ہے۔

    اسی کو دیکھتے ہوئے جانوروں کی ایک ڈاکٹر Jess Heath نے مزید تحقیق کا فیصلہ کیا اورانہوں نے ایکسرے اسکینز کیے ان اسکینز سے انکشاف ہوا کہ بالوں سےبھری یہ منجمد گیند ایک جوان گلہری ہےجوآرکٹک کےمیدانوں میں پائی جاتی ہے اورممکنہ طور پرنیند کے دوران مر گئی تھی Jess Heath نے بتایا کہ ہم دیکھ سکتے ہیں کہ گلہری کا جسم اچھی حالت میں ہے اور ایسا لگتا ہے کہ وہ سو رہی ہے یہ واقعی متاثر کن ہے کہ کسی نے اسے شناخت کیا، ورنہ باہر سے دیکھنے پر تو یہ گلہری ایک بھوری چٹان نظر آتی ہے۔

    یہ نمونہ اب کینیڈا کے وائٹ ہارس میں یوکون بیرنگیا انٹرپریٹیو سینٹر میں عوامی نمائش کے لیے جائے گامحققین نے ممی شدہ آرکٹک زمینی گلہری کا نام ‘ہیسٹر’ رکھا ہے کیونکہ یہ کینیڈا کے ہیسٹر کریک کے قریب کلونڈائک سونے کے کھیتوں میں، ڈاسن شہر کے قریب پائی گئی تھی۔

    سونے کی جس کان سے اس گلہری کو دریافت کیا گیا، اس خطے میں ہزاروں برسوں سےبرف جمی ہوئی ہےاور وہاں صدیوں سے جانداروں کے جسم، بال اور ناخن محفوظ ہیں جن میں دیوہیکل بیور، ایک بچہ میمتھ اور بھیڑیے کا بچہ شامل ہیں۔

    ‘یہ سوچ کر حیرت ہوتی ہے کہ یہ چھوٹا جانور کئی ہزار سال پہلے یوکون کے ارد گرد بھاگ رہا تھا،’ یوکون حکومت نے گزشتہ ماہ گلہری کے بارے میں ایک فیس بک پوسٹ میں لکھا تھا کلونڈائک کے کھیتوں کو برفانی دور کے فوسلز سے بھرا ہوا جانا جاتا ہے درحقیقت، پچھلے سال ہی ایک کان کن کو 30,000 سال پرانا بچہ اونی میمتھ ملا۔

    یوکون حکومت نے کہا کہ یہ ‘شمالی امریکہ میں پایا جانے والا سب سے مکمل ممیفائیڈ میمتھ ہے’، اور دنیا میں اس طرح کی صرف دوسری دریافت ہے بچھڑا، جس کا نام ‘نون چو گا’ ہے، جس کا مطلب ہان زبان میں ‘بڑا بچہ جانور’ ہے، پرما فراسٹ میں جما ہوا تھا، جس کے نتیجے میں اس کی باقیات ممی ہو گئیں۔

    ماہرین کے مطابق عالمی درجہ حرارت میں اضافے سے ہزاروں برسوں سے برف میں محفوظ جانداروں کی دریافت زیادہ عام ہو جائے گی۔

  • غار میں تنہا 500 دن گزارنے والی خاتون

    غار میں تنہا 500 دن گزارنے والی خاتون

    انسانی دماغ اور رویو ں پر تنہائی اور اندھیرے کے اثرات پر تجربات کیلئے 50 سالہ ہسپانوی خاتون نے غار میں تنہا 500 دن گزارے-

    باغی ٹی وی : 20 نومبر 2021 کو غار میں داخل ہوتے وقت اسپین کی کوہ پیما خاتون بیٹرز فلامینی کی عمر 48 سال تھی اسپین کے شہر Motril کے قریب Los Gauchos میں گئیں جبکہ غار سے نکلتے وقت ان کی عمر 50 سال ہو چکی تھی اور انہوں نے اپنی دو سالگراہیں انتہائی گہرے اور اندھیرے غار میں اکیلے گذاری تھیں۔

    مصر میں 3673 برس قبل کاٹے گئے انسانی ہاتھ برآمد

    بیٹرز فلامینی کی سپورٹ ٹیم کا کہنا تھا کہ فلامینی نے تنہا غار میں 500 دن گزار کر عالمی ریکارڈ قائم کر لیا ہے، اس پورے عرصے کے دوران انتہائی قلیل دورانیے کیلئے وہ غار سے باہر آئیں تھیں لیکن اس دوران بھی انہیں ایک الگ خیمے میں رکھا گیا تھا۔
    https://twitter.com/dw_urdu/status/1647309563874492417?s=20
    ٹیم کا کہنا تھا کہ فلامینی کو انسانی دماغ اور سرکیڈین ردھم (Circadian rhythm*) سے متعلق تجربات کیلئے غار میں رکھا گیا تھا اور ماہرین نے غار میں رکنے کے دوران ان کی جسم اور دماغ میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کا مشاہدہ کیا تجربات کیلئے گہرے اندھیرے غار میں 500 دن تک فلامینی خود کو مصروف رکھنے کیلئے ورزش، مطالعے اور اونی ٹوپیاں بُننے جیسی مختلف مشقیں کیا کرتی تھیں۔

    تیزرفتار بلیک ہول دریافت، زمین سے چاند تک کا مفاصلہ محض 14 منٹ میں طے …

    غار میں گذارے ہوئے وقت اور اپنے مشاہدات کو دستاویزی صورت دینے کیلئے انہیں دو گوپرو کیمرے دیئے گئے تھے، جبکہ 60 کتابیں اور 1000 لیٹر پانی بھی فراہم کیا گیا تھا۔

    بیٹرز فلامینی نے غار سے نکلنے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ غار کافی محفوظ جگہیں ہیں، لیکن انسان اور دماغ کے لیے بہت مخالف ہیں کیونکہ آپ کو دن کی روشنی نظر نہیں آتی۔ انہیں پتہ ہی نہیں لگا کہ وقت کیسے گذر گیا، ایسا نہیں ہے کہ وقت زیادہ تیزی سے گزرتا ہے یا زیادہ آہستہ، بس یہ نہیں کہ گزرتا ہے، کیونکہ ایسا محسوس ہوتا ہے جسیے صبح کے 4 بجے کا وقت ہو-

    بیٹرز فلامینی نے کہا کہ ابھی وہ باہر آنا نہیں چاہتی تھیں انہوں نے کہا کہ غار میں جانے کے بعد میں نے وقت کو ٹریک کرنے کا چیلنج پورا کرنے کی کوشش کی لیکن 65 دن گزرنے کے بعد وقت کا ادراک کھو چکی تھی جس کے بعد دن گننا چھوڑ دیا تھا۔

    آخر کچھ گانے ذہن سے چپک کیوں جاتے ہیں اور ان کو نکالنا کیسے ممکن …

    انہوں نے بتایا کہ غار میں گزارے ہوئے وقت کے دوران مشکل دن بھی آئے جب غار پر مکھیوں نے حملہ کردیا تھیں اور کچھ بہت ہی اچھے دن بھی گذرے، جیسے آپ کو معلوم ہوجائے کہ آپ کا خواب کیا ہے یا آپ جان جائیں کہ آپ کیوں رو رہے ہیں اس پورے عرصے کے دوران اپنے حواس کے درمیان ربط بحال رکھنے کی کوشش کرتی تھی، اچھا کھانا اور خاموشی کا مزہ لینا، میں وہاں خود سے بہ آواز بلند بات نہیں کرتی تھی، بلکہ خاموشی کی زبان میں خودکلامی کرتی تھی اور اس سے لگتا تھا جیسے میں خود کے بارے میں ہی بہتر سے بہتر جاننے لگی ہوں۔

    انہوں نے بتایا کہ اس عرصے کے دوران ٹیم کو بتایا گیا تھا کہ انہیں کسی بھی صورتحال میں مجھ سے رابطہ نہیں کرنا، چاہے میرے خاندان میں کسی کی موت ہو جائے، ’نو کمیونیکیشن مطلب نو کمیونیکیشن‘ایسی صورتحال میں اپنے احساسات اور ہوش حواس بحال رکھنا انتہائی اہم تھا، خوفزدہ ہونا بہت فطری عمل تھا لیکن اس خوف کو حواس پر طاری نہیں کرنا تھا کہ وہ پینک اٹیک بن کر آپ کو سن کردے۔

    جعلی مکھیوں سےاصلی مکھیوں کواپنی طرف راغب کرنے والا پھول

    فلیمینی کی نگرانی ماہرین نفسیات، محققین، ماہرینِ سپیلوجسٹ – غاروں کے مطالعہ کے ماہرین – اور جسمانی تربیت کرنے والوں کے ایک گروپ نے کی جو اس کی ہر حرکت کو دیکھتے تھے اور اس کی جسمانی اور ذہنی تندرستی کی نگرانی کرتے تھے، حالانکہ اس نے ان 500 دنوں میں کبھی ٹیم کے ساتھ رابطہ نہیں کیا۔

    ہسپانوی خبر رساں ایجنسی ای ایف ای کے مطابق اس کے تجربے کو گریناڈا اورالمیریا کی یونیورسٹیوں اورمیڈرڈ میں قائم ایک سلیپ کلینک کے سائنسدانوں نے دیکھا وہ سماجی تنہائی اور وقت کے بارے میں لوگوں کے ادراک پر انتہائی عارضی اثرات کا مطالعہ کر رہے تھے، انسانوں کے زیرِ زمین ہونے والی ممکنہ اعصابی اور علمی تبدیلیوں اور نیند پر اثرات کا مطالعہ کر رہے تھے۔

    گنیز بک آف ریکارڈز کی ویب سائٹ نے چلی اور بولیوین کے 33 کان کنوں کو ‘زیر زمین میں پھنسے ہوئے سب سے طویل وقت’ کا ایوارڈ دیا جنہوں نے 2010 میں چلی میں سان ہوزے تانبے کے سونے کی کان کے گرنے کے بعد 69 دن 688 میٹر (2,257 فٹ) زیر زمین گزارے گنیز کے ترجمان نے فوری طور پر اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ آیا غار میں رضاکارانہ وقت گزارنے کا کوئی الگ ریکارڈ تھا اور کیا فلیمینی نے اسے توڑا تھا۔

    پچر پلانٹ کی طرح دو نئے گوشت خور پودے دریافت

  • یورپی خلائی یونین کا نیا مشن مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق کرے گا

    یورپی خلائی یونین کا نیا مشن مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق کرے گا

    برسلز: یورپی خلائی یونین نے اپنا جدید ترین مشن خلا میں روانہ کردیا ہے جو آٹھ سال بعد نظامِ شمسی کے سب سے بڑے سیارے مشتری پر تحقیق کرے گا۔

    باغی ٹی وی :مشن کو جوپیٹر آئسی مون ایکسپلورر(جوس) کا نام دیا گیا ہےجو ایک جدید روبوٹک خلائی جہاز ہےاسے فرنچ گیانا کے خلائی مرکز سے بھیجا گیا ہے اور زمین چھوڑنے کے 27 اور 36 منٹ بعد اس نےاپنےتمام آلات کی درستگی اورکام کےکئی سگنل زمین پربھیجے ہیں۔

    چاند پر بکھرے کانچ کے ٹکڑوں میں اربوں ٹن پانی کی موجودگی کا انکشاف

    اگست 2024 میں یہ بالترتیب زمین، چاند اور سیارہ وینس کے قریب سے گزر کرگریویٹی فلائے بائے لے گا اور اپنی رفتار بڑھاتے ہوئے 2031 میں مشتری کے قریب پہنچے گا اس کے بعد وہ مشتری کے مزید چاندوں کیلسٹو، یوروپا، جینی میڈ وغیرہ سے بھی فلائے بائے کرے گا۔ آخرکار وہ جینی میڈ کے مدار میں پہنچ کر گھومنے لگے گا ہمارے اپنے علاوہ کسی خلائی جہاز نے کبھی چاند کے گرد چکر نہیں لگایا۔

    جدید ترین جوس خلائی جہاز مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق کرے گا جس کے لیے دس اہم ترین آلات نصب کئے گئے ہیں۔ ان میں اسپیکٹرومیٹر، جدید کیمرے، لیزر سینسر اور مقنا پیما وغیرہ مل کر اس عظیم دنیا کے بارے میں ہماری معلومات میں اضافہ کریں گے تمام مشن کی طرح یہ بھی مشتری کے چاندوں پر پانی کی تلاش کرے گا –

    یورپی خلائی ایجنسی کی طرف سے فراہم کردہ تصویر میں مشتری کے برفانی چاندوں کے ایکسپلورر، جوس، خلائی جہاز کو گیس دیو کے گرد چکر لگاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

    جیمز ویب ٹیلی سکوپ نے یورینس کے چھلوں کی تفصیلی تصویر جاری کردی

    بہت سارے چاندوں کے ساتھ،ماہرین فلکیات مشتری کو اپنا ایک چھوٹا نظام شمسی سمجھتے ہیں، جس میں جوس جیسے مشن طویل عرصے سے زیر التواء ہیں یورپی خلائی ایجنسی کے پروجیکٹ سائنسدان، اولیور وِٹاس نے زور دیا کہ ہم جوس کے ساتھ زندگی کا پتہ لگانے والے نہیں ہیں لیکن چاندوں اور ان کے ممکنہ سمندروں کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے سے سائنس دانوں کو اس سوال کا جواب دینے کے قریب لے آئے گا کہ کہیں اور زندگی موجود ہے۔ "یہ واقعی مشن کا سب سے دلچسپ پہلو ہو گا-

    جوس مشتری تک ایک لمبا، چکر کاٹ رہا ہے، جو 6.6 بلین کلومیٹر (4 بلین میل) پر محیط ہے یہ کیلیسٹو کے 200 کلومیٹر (125 میل) اور یوروپا اور جینی میڈ کے 400 کلومیٹر (250 میل) کے اندر اندر جھپٹے گا، مشتری کے گرد چکر لگاتے ہوئے 35 فلائی بائی مکمل کرے گا۔ اس کے بعد یہ 1.6 بلین یورو مشن (تقریباً $1.8 بلین) کا بنیادی ہدف جینی میڈ کے مدار میں بریک لگائے گا۔

    ناسا نے فضائی آلودگی کا جائزہ لینے والا سیٹلائٹ لانچ کر دیا

    جینی میڈ نہ صرف نظام شمسی کا سب سے بڑا چاند ہے بلکہ اس کا اپنا مقناطیسی میدان ہے جس میں قطبین پر چمکتی ہوئی اورورا ہیں اس سے بھی زیادہ دلکش، یہ سوچا جاتا ہے کہ ایک زیر زمین سمندر ہے جس میں زمین سے زیادہ پانی ہے۔ کارنیگی انسٹی ٹیوشن کے سکاٹ شیپارڈ کے مطابق، جو جوس مشن میں شامل نہیں ہے، یوروپا اور اس کے رپورٹ کردہ گیزروں کے لیے ڈٹٹو، اور بھاری بھرکم کریسٹو، جو مشتری کی کمزور تابکاری بیلٹ سے دوری کے پیش نظر انسانوں کے لیے ایک ممکنہ منزل ہے۔

    "ہمارے نظام شمسی میں سمندری دنیاؤں میں ممکنہ زندگی کا سب سے زیادہ امکان ہے، لہذا مشتری کے یہ بڑے چاند تلاش کرنے کے لیے اہم امیدوار ہیں،” شیپارڈ نے کہا، جس نے بیرونی نظام شمسی میں 100 سے زیادہ دریافتیں کرنے میں مدد کی ہے۔

    خلا میں موجود شہابیہ ہر سمت میں پتھر اور چٹانیں پھینک رہا ہے،ماہرین فلکیات

    جوس مشتری کے برفانی چاندوں کے ایکسپلورر کے لیے مختصر تین سال کالسٹو، یوروپا اور جینی میڈ کےمدار میں گزارے گا۔ خلائی جہاز 2034 کے آخر میں گنیمیڈ کے گرد مدار میں داخل ہونے کی کوشش کرے گا، تقریباً ایک سال تک چاند کے گرد چکر لگائے گا، اس سے پہلے کہ فلائٹ کنٹرولرز اسے 2035 میں گر کر تباہ کر دیں، بعد میں اگر کافی ایندھن باقی رہ جائے۔

    یوروپا خاص طور پر سائنسدانوں کے لیے پرکشش ہے جو زمین سے باہر زندگی کے آثار تلاش کر رہے ہیں۔ جوس کے حساس الیکٹرانکس کو تابکاری سے بچانے کے لیے سیسے میں بند کیا گیا ہے۔ 6,350 کلوگرام (14,000 پاؤنڈ) خلائی جہاز بھی تھرمل کمبل سے لپٹا ہوا ہے – مشتری کے قریب درجہ حرارت منفی 230 ڈگری سیلسیس (مائنس 380 ڈگری فارن ہائیٹ) کے ارد گرد منڈلاتا ہے۔ اور اس کے سولر پینلز 27 میٹر (88 فٹ) تک پھیلے ہوئے ہیں تاکہ سورج کی روشنی میں سورج سے اتنا ہی دور ہو-

    دنیا بھر میں سمندروں کی سطح کا درجہ حرارت تاریخ کی بلند ترین سطح پر …