Baaghi TV

Tag: سعودی عرب

  • سعودیہ سمیت دیگر ممالک سے 63 پاکستانیوں کی بے دخلی

    سعودیہ سمیت دیگر ممالک سے 63 پاکستانیوں کی بے دخلی

    کراچی: سعودی عرب، یو اے ای، ملائیشیا اور عراق سے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 63 پاکستانیوں کو بے دخل کر دیا گیا۔

    ائیرپورٹ ذرائع کے مطابق سعودی عرب، یو اے ای، ملائیشیا اور عراق سے پاکستانیوں کی بے دخلی کا عمل جاری ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ان ممالک سے مجموعی طور پر 63 پاکستانیوں کو بے دخل کیا گیا، جنہیں کراچی ایئرپورٹ پر پہنچنے کے بعد قانونی کارروائی کے بعد گھروں کو روانہ کر دیا گیا۔سعودی عرب سے بے دخل ہونے والوں میں 4 پاکستانی بلیک لسٹ ہونے کی وجہ سے، 15 افراد ہاروب ہونے کی وجہ سے اور 10 افراد زائد المیعاد قیام کے باعث پاکستان واپس بھیجے گئے۔

    ملائیشیا سے 16 پاکستانیوں کو ممنوعہ تارکین وطن کی حیثیت کی وجہ سے پاکستان واپس بھیجا گیا۔ یہ افراد اپنے ویزے کی شرائط کی خلاف ورزی کرنے کے سبب ملک سے بے دخل کیے گئے۔عراق سے 11 پاکستانیوں کو غیر قانونی داخلے اور زائد المیعاد قیام کے باعث ایمرجنسی پاسپورٹ کے ذریعے پاکستان واپس بھیجا گیا۔یو اے ای سے 4 پاکستانیوں کو بے دخل کر کے پاکستان روانہ کر دیا گیا۔ ان افراد کا تعلق غیر قانونی اقامت یا ویزے کی خلاف ورزی کرنے والے تارکین وطن سے تھا۔

    ائیرپورٹ ذرائع کے مطابق تمام افراد کی واپسی کے بعد قانونی کارروائی کی گئی ہے اور انہیں اپنے وطن واپس بھیج دیا گیا ہے۔ پاکستان کی حکومت اور متعلقہ ادارے ان معاملات پر نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ تارکین وطن کی صورتحال میں بہتری لائی جا سکے۔

    ڈی سی کرم پر فائرنگ کرنے والے دو مبینہ شرپسند گرفتار

    190 ملین پاؤنڈ کیس، فیصلے کی نئی تاریخ مل گئی

  • سعودی عرب کی ایک اور ایئرلائن کو پاکستان کیلئے آپریشن شروع کرنے کی اجازت

    سعودی عرب کی ایک اور ایئرلائن کو پاکستان کیلئے آپریشن شروع کرنے کی اجازت

    ریاض: سعودی عرب کی ایک اور ایئر لائن کو پاکستان کے لیے آپریشن شروع کرنے کی اجازت دے دی گئی۔

    باغی ٹی وی: رپورٹ کے مطابق سعودی آدیل ائیرلائن (Flyadeal) اپنا فلائٹ آپریشن 2 فروری سے شروع کررہی ہے، پہلی پرواز ریاض سے کراچی پہنچے گی، پروازیں کراچی ریاض اور جدہ کیلئے آپریٹ کی جائیں گی۔

    رپورٹ کے مطابق آدیل ایئر کی پہلی پرواز کراچی پہنچنے پر طیارے کو ایئرپورٹ اتھارٹی کی جانب سے واٹر سلوٹ پیش کیا جائے گا، سی اے اے فلائی آدیل کو پاکستان کے لیے فضائی آپریشن کی اجازت پہلے ہی دے چکی ہے سعودی عرب کی نئی ایرلائن کے پاکستان آنے سے مسافروں کو براہ راست سفری سہولت میسر آئے گی۔

    امریکا: شاپنگ سینٹر میں آتشزدگی کے باعث 500 سے زائد جانور ہلاک

    گلگت بلتستان میں پاک فوج کی جانب فری لانسنگ ہب کا قیام

    حکومت کا پلاسٹک بیگز کے استعمال پر پابندی پر عمل درآمد سخت کرنے کا فیصلہ

  • سعودی وزارت حج وعمرہ نے عمرہ زائرین کو بڑی خوشخبری سنادی

    سعودی وزارت حج وعمرہ نے عمرہ زائرین کو بڑی خوشخبری سنادی

    ریاض:مسجد نبویؐ میں ریاض الجنہ میں سال بھر میں ایک مرتبہ نوافل ادا کرنے کے حوالے سے عائد پابندی ختم کر لی گئی تاہم نسک موبائل کے ذریعے پرمٹ کی شرط برقرار رہے گی۔

    باغی ٹی وی: حرمین شریفین کے انتظامی امور کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے مطابق مسجد نبویؐ ریاض الجنہ میں ایک سال کے دوران صرف ایک مرتبہ نوافل ادا کرنے کے حوالے سے پابندی کو ختم کر دیا گیا ہے، تمام زائرین نسک موبائل ایپ کے ذریعے ہر 20 منٹ بعد نیا اجازت نامہ حاصل کر سکتے ہیں، مسجد نبویؐ میں موجود زائرین بھی نئے شیڈول کے مطابق موبائل ایپ کے ذریعے ریاض الجنہ میں نوافل ادا کرنے کے لیے اجازت نامے حاصل کر سکیں گے۔

    فیصلوں پر اعتماد میں نہیں لیا جا رہا ، حمایت ختم کرنے پر حکومت ختم ہو جائےگی ، پیپلز پارٹی

    صائم ایوب کو علاج کے لیے فوری لندن بھیجنے کا فیصلہ

    بھارت کو ایک اور دھچکا، چین نے لداخ کے اہم حصے اپنے نام کرلئے

  • سعودی عرب میں 6 ایرانیوں کے سر قلم

    سعودی عرب میں 6 ایرانیوں کے سر قلم

    ریاض: سعودی عرب میں منشیات اسمگلنگ کے جرم میں ایران کے 6 شہریوں کا سر قلم کردیا گیا۔

    باغی ٹی وی:سعودی پریس ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق منشیات اسمگلنگ کے جرم میں سزا پانے والے ایرانی شہریوں کا خلیجی ساحلی شہر دمام میں سرقلم کردیا گیامنشیات اسمگلنگ کے حوالے سے سعودی عرب کی وزارت داخلہ نے بیان میں کہا کہ مذکورہ افراد کو خفیہ طریقوں سے سعودی عرب میں چرس لانے پر سزا دی گئی ہے تاہم مذکورہ افراد کی سزا پر کب عمل درآمد کیا گیا اس حوالے سے بیان میں کچھ نہیں بتایا۔

    سال 2025 میں سورج اور چاند کو کتنی بار گرہن لگے گا؟

    واضح رہے کہ سعودی عرب میں 2024 میں منشیات اسمگلنگ کے جرم میں 117 افراد کے سرقلم کردیئے گئے،سعودی عرب کی حکومت نے 2023 میں انسداد منشیات کی مہم شروع کردی تھی اور اس میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائیاں کرتے ہوئے مختلف علاقوں میں چھاپے مارے تھے اور گرفتاریاں بھی عمل میں لائی گئی تھیں۔

    پاکستان میں رجب المرجب کا چاند نظر آگیا

    ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق سعودی عرب 2023 میں سب سے زیادہ سزائے موت دینے والے ممالک میں تیسرے نمبر پر تھا، اس سے پہلے چین اور ایران موجود تھے،انسانی حقوق کے ادارے سعودی عرب کے اس قانون پر مسلسل تنقید کررہے ہیں جبکہ سعود ی عرب کی حکومت کا مؤقف ہے کہ امن عامہ برقرار رکھنے کے لیے سزائے موت کا قانون ضروری ہے اور اس پر اسی وقت عمل درآمد کیا جاتا ہے جب اپیل مسترد ہو یا تمام مواقع ختم ہوجاتے ہیں۔

    تربیت یافتہ پاکستانی پائلٹس کو ایکسپورٹ کرنے کا اعلان

    سعودی عرب نے 2016 میں ایران کے ساتھ تعلقات اس وقت منقطع کر لیے تھے جب تہران میں اس کے سفارت خانے اور مشہد میں قونصل خانے پر شیعہ عالم نمر النمر کی پھانسی پر مشتعل مظاہرین کی جانب سے حملے کیے گئے تھے،مارچ 2023 میں چین کی ثالثی کے بعد سفارتی تعلقات بحال ہوئے تھے۔

    پشاور میں بلدیاتی نمائندوں کے احتجاج پر پولیس کی شیلنگ

  • سعودی عرب کو ریکوڈک کے 15 فیصد شیئرز فروخت کرنے کی منظوری

    سعودی عرب کو ریکوڈک کے 15 فیصد شیئرز فروخت کرنے کی منظوری

    پاکستان میں ریکوڈک منصوبے کے حوالے سے اہم پیش رفت ہوئی ہے، جس کے تحت سعودی عرب کو ریکوڈک کے 15 فیصد شیئرز فروخت کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔ وفاقی کابینہ نے 540 ملین ڈالر میں ریکوڈک کے 15 فیصد شیئرز سعودی عرب کو فروخت کرنے کی توثیق کر دی ہے، جس سے نہ صرف اقتصادی تعلقات میں بہتری آئے گی بلکہ بلوچستان کے معدنی وسائل کی ترقی میں بھی مدد ملے گی۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کو یہ شیئرز بین الحکومتی ٹرانزیکشن ایکٹ کے تحت براہ راست فروخت کیے جائیں گے۔ سعودی عرب پاکستان کو اس سودے کے بدلے 540 ملین ڈالر کی رقم دو قسطوں میں ادا کرے گا۔ پہلے مرحلے میں 10 فیصد شیئرز کی منتقلی پر سعودی عرب 330 ملین ڈالر ادا کرے گا، جبکہ دوسرے مرحلے میں باقی 5 فیصد شیئرز کی منتقلی پر 210 ملین ڈالر کی ادائیگی کی جائے گی۔ذرائع کے مطابق سعودی عرب پاکستان کے لیے صرف ریکوڈک کے شیئرز خریدنے تک محدود نہیں ہے بلکہ وہ بلوچستان کے معدنی وسائل کی ترقی کے لیے مزید سرمایہ کاری کرنے کے لیے بھی آمادگی ظاہر کر چکا ہے۔ سعودی فنڈ برائے ترقی بلوچستان میں معدنیات کے شعبے کی ترقی کے لیے 150 ملین ڈالر کی اضافی رقم فراہم کرے گا۔

    اس وقت ریکوڈک منصوبے میں وفاقی اور بلوچستان حکومت کے پاس 50 فیصد شیئرز کی ملکیت ہے۔ ریکوڈک منصوبہ بلوچستان کے چاغی علاقے میں واقع ہے اور یہاں سونے اور تانبے کے بڑے ذخائر موجود ہیں، جو پاکستان کی معیشت کے لیے انتہائی اہمیت رکھتے ہیں۔سعودی عرب چاغی کے علاقے میں بھی معدنیات کی تلاش اور ترقی کے لیے سرمایہ کاری کرنے کے لیے تیار ہو چکا ہے، جو پاکستان کے لیے ایک اہم اقتصادی موقع ہو گا۔ اس سے نہ صرف بلوچستان کی معیشت میں بہتری آئے گی بلکہ سعودی عرب کے ساتھ اقتصادی تعلقات بھی مزید مستحکم ہوں گے۔

    یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی ایک اہم کڑی ہے۔ سعودی عرب کی جانب سے پاکستان میں سرمایہ کاری کا یہ قدم پاکستان کے لیے مالی فوائد کے ساتھ ساتھ بلوچستان میں ترقی کے نئے امکانات بھی پیدا کرے گا۔اس پیش رفت سے پاکستان کو ریکوڈک منصوبے کے شیئرز فروخت کرنے کے ساتھ ساتھ سعودی عرب سے ترقیاتی فنڈز ملیں گے، جو نہ صرف ریکوڈک بلکہ بلوچستان کے دیگر معدنی وسائل کے استعمال کے لیے بھی معاون ثابت ہوں گے۔ اس سودے سے دونوں ممالک کو فائدہ ہوگا اور عالمی سطح پر پاکستان کی معدنیات کے شعبے میں سرمایہ کاری کی طرف ایک نیا رجحان پیدا ہو گا۔

    جنسی ہراسانی کیس،ٹرمپ کی نظر ثانی درخواست مسترد

    میئر لندن صادق خان کو بادشاہ چارلس نے نائٹ اعزاز سے نواز دیا

  • سعودی عرب ، 2024 میں سزائے موت میں تیزی سے اضافہ

    سعودی عرب ، 2024 میں سزائے موت میں تیزی سے اضافہ

    سعودی عرب میں 2024 کے دوران 330 افراد کو سزائے موت دی گئی ہے، جو کئی دہائیوں میں سب سے زیادہ تعداد ہے۔ یہ اضافہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی 2022 میں کی گئی اس یقین دہانی کے باوجود ہوا ہے کہ ان کے وژن کے مطابق مملکت میں موت کی سزا کا خاتمہ کر دیا گیا تھا، سوائے قتل کے معاملات کے۔

    سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے اپنے "ویژن 2030” کے تحت سعودی عرب کو ایک جدید اور کھلا ملک بنانے کی کوششیں تیز کیں، جہاں سیاحت اور تفریحی صنعت کو فروغ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کی قیادت میں سعودی عرب نے اپنے قدیم مذہبی اور انسانی حقوق کے ریکارڈ کو تبدیل کرنے کی کوششیں کی ہیں، تاہم، حالیہ برسوں میں سزائے موت میں اضافے نے ان کے اصلاحات کے دعووں پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔اس سال کی 330 سزائیں حقوقِ انسانی کی تنظیم "ریپریو” نے ریکارڈ کی ہیں، جسے رائٹرز نے تصدیق کیا۔ یہ تعداد گزشتہ برس کی 172 سزاؤں اور 2022 کی 196 سزاؤں سے بہت زیادہ ہے۔ "ریپریو” کا کہنا ہے کہ یہ اب تک کا سب سے زیادہ ریکارڈ ہے۔

    حقوقِ انسانی کی تنظیمیں اور دیگر عالمی ادارے سعودی عرب کی اس پالیسی پر تنقید کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سال 150 سے زائد افراد کو غیر مہلک جرائم میں سزائے موت دی گئی، جن میں زیادہ تر افراد کو منشیات کے اسمگلنگ کے الزامات میں سزائیں دی گئیں۔ ان الزامات کا تعلق شام سے نکلنے والی کپٹگون سے ہے، جو سعودی عرب میں بڑے پیمانے پر اسمگل ہو رہی ہے۔سعودی حکومت انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات کو مسترد کرتی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ہیں۔ سعودی حکومت کا موقف ہے کہ وہ اپنے قانون کے مطابق، دہشت گردی اور منشیات کی اسمگلنگ جیسے جرائم سے نمٹنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔

    اس سال کی سزاؤں میں 100 سے زائد غیر ملکی شہریوں کو بھی شامل کیا گیا، جن میں مشرق وسطیٰ، افریقہ اور ایشیا سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں۔ ان سزاؤں کے خلاف عالمی سطح پر تنقید کی گئی ہے کیونکہ ان میں اکثر افراد کو بغیر کسی وکیل یا مناسب دفاع کے موت کی سزا دی گئی ہے۔رائٹرز نے سعودی حکومت سے ان سزاؤں کی تفصیلات کے حوالے سے سوالات کیے، لیکن سعودی حکومت کی طرف سے کسی وضاحت یا جواب کا کوئی جواب نہیں آیا۔

    محمد بن سلمان نے 2017 میں اقتدار سنبھالا تھا اور ان کے اقتدار میں آنے کے بعد، سعودی عرب نے سیاسی آزادیوں پر سخت پابندیاں عائد کیں اور صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے معاملے میں عالمی سطح پر شدید تنقید کا سامنا کیا۔ خاشقجی کو 2018 میں سعودی قونصلیٹ استنبول میں قتل کر دیا گیا تھا، جس پر سعودی عرب کو عالمی سطح پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

    محمد بن سلمان نے 2022 میں ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ سعودی عرب نے سزائے موت کا خاتمہ کر دیا ہے، سوائے قتل کے مقدمات کے۔ تاہم، اس بیان کے باوجود سزائے موت میں اس قدر اضافہ ہوا ہے کہ ان کے اصلاحاتی دعوے اب زیر سوال ہیں۔سعودی عرب میں سزائے موت کے بڑھتے ہوئے واقعات نے عالمی سطح پر انسانی حقوق کے سوالات کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے۔ جہاں ایک طرف سعودی ولی عہد ملک کو ایک کھلا اور ترقی یافتہ معاشرہ بنانے کے لیے کوشاں ہیں، وہیں سزائے موت میں اضافے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی رپورٹیں ان کے اصلاحات کے دعووں پر سوالیہ نشان بن چکی ہیں۔

    سعودی عرب نے افغانستان میں اپنے سفارتی مشن کا آغاز کردیا

    ہم جنس پرستوں کو سعودی عرب آنے کی اجازت

    سعودی عرب بارے بیان، بشریٰ بی بی کیخلاف کئی شہروں میں مقدمے درج

    ویڈیو:امریکی اداکارہ جینیفر لوپیز کی سعودی عرب میں بولڈ پرفارمنس،جلوے

  • سعودی عرب نے افغانستان  میں اپنے سفارتی مشن کا آغاز کردیا

    سعودی عرب نے افغانستان میں اپنے سفارتی مشن کا آغاز کردیا

    کابل: افغانستان میں 2021 میں طالبان کے حکومت میں آنے کے بعد سے سعودی عرب نے پہلی بار کابل میں اپنے سفارتی مشن کا آغاز کردیا۔

    باغی ٹی وی: عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق سعودی عرب نے طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سعودی عرب نے سفارت خانہ بند کردیا تھا بعد ازاں سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر گزشتہ برس فروری میں سعودی سفارتی عملہ واپس اپنے وطن چلا گیا تھا تاہم اب دوبارہ کابل میں اپنے سفارتی مشن کا آغاز کردیا۔

    سعودی سفارتی خانے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ افغان باشندوں کو سفارتی خادمات کی فراہمی کے لیے کابل میں سفارتی مشن کا دوبارہ آغاز کیا ہےافغانستان کے ساتھ دوطرفہ برادرانہ تعلقات ہیں، سفارتی مشن کا آغاز اس کی غمازی کرتا ہے۔

    طالبان حکومت نے بھی سعودی عرب کے سفارتی مشن کے آغاز کے اعلان کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ برادر اسلامی ملک کے ساتھ تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔

  • مسجد نبویؐ، ایک ہفتے میں67 لاکھ سے زائد زائرین کی آمد

    مسجد نبویؐ، ایک ہفتے میں67 لاکھ سے زائد زائرین کی آمد

    مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں ایک ہفتے کے دوران آنے والے زائرین کے اعداد و شمار جاری کردیے گئے۔

    عرب میڈیا کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے کے دوران مسجد نبوی ﷺ میں 67 لاکھ 71 ہزار سے زائد زائرین کی آمد ہوئی، 7 لاکھ 76 ہزار سے زائد زائرین نے مسجدِ نبویﷺ میں نماز ادا کی جبکہ 4 لاکھ 68 ہزار سے زائد زائرین نے ریاض الجنہ میں نوافل ادا کیے۔سعودی عرب میں حرمین شریفین انتظامیہ کی جانب سے مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں ایک ہفتے کے دوران آنے والے زائرین کے اعدادو شمار جاری کئے گئے ہیں۔عرب میڈیا رپورٹ کے مطابق ایک ہزار سات سو نوے ٹن آب زم زم استعمال ہوا، حکام کا کہنا ہے زائرین کیلئے سہولتیں بہتر بنائی جا رہی ہیں۔روضہ شریف کا رقبہ 330 مربع میٹر ہے جس میں فی گھنٹہ 800 افراد کی گنجائش ہے۔ اوسطا ہر آنے والوں کو 10منٹ کا وقت دیا جاتا ہے۔واضح رہے کہ روضہ شریف میں زائرین کے داخلے کو آسان بنانے کے لیے چار مراحل سے گزرنا پڑتا ہے، سب سے پہلے نسک اور توکلنا ایپلیکیشن کے ذریعے اپائنمنٹ کی تصدیق، ای ڈیوائسز سے کیو آر کوڈ سکین کرنا پھر زائرین کو کچھ دیر انتظار کے بعد روضہ شریفہ میں بھیج دیا جاتا ہے۔سعودی عرب میں مقدس مساجد کے امور کی جنرل اتھارٹی نے سکیورٹی اور انتظامی اداروں کے تعاون سے زائرین اور نمازیوں کے لیے روضہ شریفہ میں نماز اور روضہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر حاضری کے عمل کو آسان بنانے کیلیے کام کیا ہے۔

    پاک بحریہ کے خلیج میں تعینات جہازوں کا عراقی، کویتی بندرگاہوں کا دورہ

  • جرمنی ، کرسمس بازار میں کار حملہ، 2 افراد ہلاک، 60 سے زائد زخمی

    جرمنی ، کرسمس بازار میں کار حملہ، 2 افراد ہلاک، 60 سے زائد زخمی

    جرمنی کے مشہور شہر میگ ڈیبرگ میں جمعہ کی شام ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جب ایک کار کرسمس بازار میں گھس گئی، جس کے نتیجے میں 2 افراد جان کی بازی ہار گئے اور 60 سے زائدزخمی ہو گئے۔ اس واقعہ کو حملہ سمجھا جا رہا ہے، تاہم اس کا مقصد ابھی تک واضح نہیں ہو سکا۔ پولیس نے حملہ آور کو گرفتار کر لیا ہے اور تحقیقات جاری ہیں۔

    یہ واقعہ جمعہ کی شام تقریباً سات بجے پیش آیا جب جرمن شہر میگ ڈیبرگ میں کرسمس خریداری کے لیے آئے ہوئے لوگ بازار میں موجود تھے۔ بازار میں لوگوں کی بڑی تعداد تھی اور لوگ کرسمس کی خریداری میں مصروف تھے۔ اسی دوران ایک کار تیز رفتاری سے بازار کے بیچوں بیچ گھس گئی اور لوگوں کو ٹکر مار دی۔ سوشل میڈیا پر اس واقعے کی ویڈیوز بھی سامنے آئی ہیں جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک کار تیز رفتار سے گزر رہی ہے اور اس کے بعد لوگ گر کر بھاگتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔پولیس کے مطابق اس حادثے میں 2 افراد کی موت ہو چکی ہے، جن میں ایک بالغ شخص اور ایک بچہ شامل ہیں۔ زخمیوں کی تعداد 60 سے زائد ہے، جن میں سے 15 کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ مہلوکین کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ زخمیوں میں کئی افراد کی حالت نازک ہے، اور اسپتالوں میں ان کا علاج جاری ہے۔

    اس واقعہ کو جرمنی میں 2016 میں برلن کے کرسمس بازار پر ہوئے حملے سے مماثلت دی جا رہی ہے۔ اس حملے میں ایک ٹرک ڈرائیور نے کرسمس بازار میں گھس کر 13 افراد کی جان لے لی تھی۔ حکام کا خیال ہے کہ یہ حملہ جان بوجھ کر کیا گیا، لیکن ابھی تک اس کا حتمی مقصد اور محرکات واضح نہیں ہو سکے ہیں۔

    حملے کے بعد پولیس نے فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے مشتبہ شخص کو گرفتار کر لیا۔ مشتبہ شخص 50 سالہ سعودی ڈاکٹر ہے، جو 2006 میں پہلی بار جرمنی آیا تھا۔ وہ اس وقت میگ ڈیبرگ سے تقریباً 40 کلومیٹر دور برنبرگ میں بطور ڈاکٹر کام کر رہا تھا۔ موجودہ معلومات کے مطابق، وہ اکیلا ہی حملہ آور ہے اور اس لیے شہر کے لیے مزید خطرہ نہیں ہے۔

    سعودی عرب نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے جرمنی کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ سعودی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ وہ جرمنی کے ساتھ کھڑے ہیں اور کسی بھی قسم کے تشدد کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ تاہم، سعودی حکام نے ابھی تک مشتبہ شخص کے حوالے سے مزید کوئی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

    پولیس نے اس واقعے کی تفتیش شروع کر دی ہے اور حملے کی نوعیت اور مقصد کا تعین کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ جرمنی میں اس قسم کے حملوں کے پیش نظر سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے، اور متعلقہ حکام اس واقعے کے مکمل پس منظر کو سمجھنے کے لیے تحقیقات کر رہے ہیں۔ پولیس نے شہریوں سے بھی درخواست کی ہے کہ وہ کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی اطلاع دیں۔

  • ہم جنس پرستوں کو سعودی عرب آنے کی اجازت

    ہم جنس پرستوں کو سعودی عرب آنے کی اجازت

    سعودی عرب نے فیفا ورلڈ کپ کے لیے ہم جنس پرستوں کو بھی سعودی عرب آنے کی اجازت دے دی ہے

    انگلینڈ کی فٹ بال ایسوسی ایشن (ایف اے) نے تصدیق کی ہے کہ سعودی عرب نے 2034 کے ورلڈ کپ کے دوران ہم جنس پرست مداحوں کی حفاظت اور ان کے خیرمقدم کے حوالے سے ضمانتیں دی ہیں۔ایف اے کی چیئرپرسن، ڈیببی ہیوِٹ، نے کہا کہ سعودی عرب کی بولی کی حمایت کرنے کا فیصلہ "مشکل نہیں تھا”، اور منتظمین کی طرف سے کئی اہم وعدوں کا حوالہ دیا۔بی بی سی ریڈیو 5 لائیو کے ساتھ ایک انٹرویو میں ہیوِٹ نے وضاحت کی کہ ایف اے نے بولی کی حمایت سے قبل "کئی سوالات” کیے تھے۔ انہوں نے کہا، "یہ فیصلہ مشکل نہیں تھا – یہ ایک جامع عمل تھا۔””ہم نے تفصیل سے سوالات کیے، اور سعودی عرب نے کافی وقت اور وعدے فراہم کیے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہم اگلے دس سالوں تک ان کے ساتھ مل کر کام کریں گے تاکہ یہ وعدے دونوں فریقوں کی طرف سے پورے کیے جائیں”،

    پچھلے ماہ، ایف اے نے سعودی عرب فٹ بال فیڈریشن (ایس اے ایف ایف) کے ساتھ ایک ملاقات کی تھی تاکہ بولی کی تفصیلات پر مزید بات چیت کی جا سکے۔ انہوں نے سعودی عرب کی فٹ بال فیڈریشن کی اس عزم پر اعتماد ظاہر کیا کہ وہ تمام مداحوں کے لیے، بشمول ہم جنس پرست کمیونٹی کے، ایک محفوظ ماحول فراہم کرے گی۔ہیوِٹ نے کہا، "ہمیں جو جوابات ملے ان سے ہم پُرعزم ہیں اور ہمیں یقین ہے کہ یہ شراکت داری قائم کرنے کا معاملہ ہے۔” انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایف اے منتظمین کو صحیح گروپوں کی نشاندہی کرنے میں مدد فراہم کرے گا تاکہ مشاورت کی جا سکے۔

    گزشتہ ہفتے فیفا نے اعلان کیا تھا کہ سعودی عرب 2034 میں مردوں کا فٹ بال ورلڈ کپ کی میزبانی کرے گا۔ سعودی عرب کی بولی کو کسی بھی حریف کی جانب سے مخالفت کا سامنا نہیں ہوا، اور فیفا کے کانگریس نے اسے ایک ورچوئل اجلاس میں منظور کیا۔

    سعودی عرب میں ہم جنس پرستی کے خلاف سخت قوانین ہیں اور اس ملک میں ہم جنس تعلقات کی سزا سزائے موت ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ سمیت تقریباً دو درجن انسانی حقوق کی تنظیموں نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ سعودی عرب کو 2034 کے فیفا ورلڈ کپ کی میزبانی دینے سے دنیا بھر میں انسانی حقوق کی پامالیوں میں اضافہ ہوگا۔ بیان میں کہا گیا، "یہ فیصلہ اس بات کا غماز ہے کہ فیفا نے سعودی عرب میں جاری نسل پرستی، مزدوروں کے استحصال، اور شہریوں کو جبراً بے دخل کرنے جیسے مسائل کو نظر انداز کیا۔”

    ایمنسٹی انٹرنیشنل کے اسٹیو کاک برن نے کہا، "فیفا کا سعودی عرب کی بڈ کی اس طرح سے حمایت کرنا اس ملک کے انسانی حقوق کے ریکارڈ کو سفید بنانے کے مترادف ہے۔ فیفا کے اس فیصلے سے سعودی عرب میں محنت کشوں کا استحصال، شہریوں کی جبری بے دخلی اور کارکنوں کی گرفتاریوں کے سلسلے میں مزید شدت آئے گی۔” سعودی عرب میں ہم جنس پرستوں کے لیے حالات انتہائی سنگین ہیں۔ ایک سعودی خاتون کارکن نے کہا، "ہم سعودی عرب کو ‘معتدل خطرہ’ نہیں کہہ سکتے، کیونکہ یہ ملک ایک خالص پولیس اسٹیٹ بن چکا ہے جہاں انسانی حقوق کی پامالی معمول بن چکی ہے۔”

    ہم جنس پرست امریکی سے اب پی ٹی آئی کو امیدیں

    عمران کی رہائی کا مطالبہ کرنیوالا،ہم جنس پرست رچرڈ گرینل ٹرمپ کا ایلچی مقرر

    بھارتی میڈ یا کا نیا شوشہ، اداکارہ ریکھا کو ہم جنس پرست قرار دیدیا

    ہم جنس پرستی بارے گفتگو پر یونائیٹڈ ایئر لائن کا فلائٹ اٹینڈنٹ برطرف

    پی ٹی آئی کا ناروے کی ہم جنس پرستی کی حامی پارٹی سے رابطہ