Baaghi TV

Tag: سعودی عرب

  • سعودی عرب نے افغانستان  میں اپنے سفارتی مشن کا آغاز کردیا

    سعودی عرب نے افغانستان میں اپنے سفارتی مشن کا آغاز کردیا

    کابل: افغانستان میں 2021 میں طالبان کے حکومت میں آنے کے بعد سے سعودی عرب نے پہلی بار کابل میں اپنے سفارتی مشن کا آغاز کردیا۔

    باغی ٹی وی: عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق سعودی عرب نے طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سعودی عرب نے سفارت خانہ بند کردیا تھا بعد ازاں سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر گزشتہ برس فروری میں سعودی سفارتی عملہ واپس اپنے وطن چلا گیا تھا تاہم اب دوبارہ کابل میں اپنے سفارتی مشن کا آغاز کردیا۔

    سعودی سفارتی خانے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ افغان باشندوں کو سفارتی خادمات کی فراہمی کے لیے کابل میں سفارتی مشن کا دوبارہ آغاز کیا ہےافغانستان کے ساتھ دوطرفہ برادرانہ تعلقات ہیں، سفارتی مشن کا آغاز اس کی غمازی کرتا ہے۔

    طالبان حکومت نے بھی سعودی عرب کے سفارتی مشن کے آغاز کے اعلان کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ برادر اسلامی ملک کے ساتھ تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔

  • مسجد نبویؐ، ایک ہفتے میں67 لاکھ سے زائد زائرین کی آمد

    مسجد نبویؐ، ایک ہفتے میں67 لاکھ سے زائد زائرین کی آمد

    مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں ایک ہفتے کے دوران آنے والے زائرین کے اعداد و شمار جاری کردیے گئے۔

    عرب میڈیا کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے کے دوران مسجد نبوی ﷺ میں 67 لاکھ 71 ہزار سے زائد زائرین کی آمد ہوئی، 7 لاکھ 76 ہزار سے زائد زائرین نے مسجدِ نبویﷺ میں نماز ادا کی جبکہ 4 لاکھ 68 ہزار سے زائد زائرین نے ریاض الجنہ میں نوافل ادا کیے۔سعودی عرب میں حرمین شریفین انتظامیہ کی جانب سے مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں ایک ہفتے کے دوران آنے والے زائرین کے اعدادو شمار جاری کئے گئے ہیں۔عرب میڈیا رپورٹ کے مطابق ایک ہزار سات سو نوے ٹن آب زم زم استعمال ہوا، حکام کا کہنا ہے زائرین کیلئے سہولتیں بہتر بنائی جا رہی ہیں۔روضہ شریف کا رقبہ 330 مربع میٹر ہے جس میں فی گھنٹہ 800 افراد کی گنجائش ہے۔ اوسطا ہر آنے والوں کو 10منٹ کا وقت دیا جاتا ہے۔واضح رہے کہ روضہ شریف میں زائرین کے داخلے کو آسان بنانے کے لیے چار مراحل سے گزرنا پڑتا ہے، سب سے پہلے نسک اور توکلنا ایپلیکیشن کے ذریعے اپائنمنٹ کی تصدیق، ای ڈیوائسز سے کیو آر کوڈ سکین کرنا پھر زائرین کو کچھ دیر انتظار کے بعد روضہ شریفہ میں بھیج دیا جاتا ہے۔سعودی عرب میں مقدس مساجد کے امور کی جنرل اتھارٹی نے سکیورٹی اور انتظامی اداروں کے تعاون سے زائرین اور نمازیوں کے لیے روضہ شریفہ میں نماز اور روضہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر حاضری کے عمل کو آسان بنانے کیلیے کام کیا ہے۔

    پاک بحریہ کے خلیج میں تعینات جہازوں کا عراقی، کویتی بندرگاہوں کا دورہ

  • جرمنی ، کرسمس بازار میں کار حملہ، 2 افراد ہلاک، 60 سے زائد زخمی

    جرمنی ، کرسمس بازار میں کار حملہ، 2 افراد ہلاک، 60 سے زائد زخمی

    جرمنی کے مشہور شہر میگ ڈیبرگ میں جمعہ کی شام ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جب ایک کار کرسمس بازار میں گھس گئی، جس کے نتیجے میں 2 افراد جان کی بازی ہار گئے اور 60 سے زائدزخمی ہو گئے۔ اس واقعہ کو حملہ سمجھا جا رہا ہے، تاہم اس کا مقصد ابھی تک واضح نہیں ہو سکا۔ پولیس نے حملہ آور کو گرفتار کر لیا ہے اور تحقیقات جاری ہیں۔

    یہ واقعہ جمعہ کی شام تقریباً سات بجے پیش آیا جب جرمن شہر میگ ڈیبرگ میں کرسمس خریداری کے لیے آئے ہوئے لوگ بازار میں موجود تھے۔ بازار میں لوگوں کی بڑی تعداد تھی اور لوگ کرسمس کی خریداری میں مصروف تھے۔ اسی دوران ایک کار تیز رفتاری سے بازار کے بیچوں بیچ گھس گئی اور لوگوں کو ٹکر مار دی۔ سوشل میڈیا پر اس واقعے کی ویڈیوز بھی سامنے آئی ہیں جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک کار تیز رفتار سے گزر رہی ہے اور اس کے بعد لوگ گر کر بھاگتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔پولیس کے مطابق اس حادثے میں 2 افراد کی موت ہو چکی ہے، جن میں ایک بالغ شخص اور ایک بچہ شامل ہیں۔ زخمیوں کی تعداد 60 سے زائد ہے، جن میں سے 15 کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ مہلوکین کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ زخمیوں میں کئی افراد کی حالت نازک ہے، اور اسپتالوں میں ان کا علاج جاری ہے۔

    اس واقعہ کو جرمنی میں 2016 میں برلن کے کرسمس بازار پر ہوئے حملے سے مماثلت دی جا رہی ہے۔ اس حملے میں ایک ٹرک ڈرائیور نے کرسمس بازار میں گھس کر 13 افراد کی جان لے لی تھی۔ حکام کا خیال ہے کہ یہ حملہ جان بوجھ کر کیا گیا، لیکن ابھی تک اس کا حتمی مقصد اور محرکات واضح نہیں ہو سکے ہیں۔

    حملے کے بعد پولیس نے فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے مشتبہ شخص کو گرفتار کر لیا۔ مشتبہ شخص 50 سالہ سعودی ڈاکٹر ہے، جو 2006 میں پہلی بار جرمنی آیا تھا۔ وہ اس وقت میگ ڈیبرگ سے تقریباً 40 کلومیٹر دور برنبرگ میں بطور ڈاکٹر کام کر رہا تھا۔ موجودہ معلومات کے مطابق، وہ اکیلا ہی حملہ آور ہے اور اس لیے شہر کے لیے مزید خطرہ نہیں ہے۔

    سعودی عرب نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے جرمنی کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ سعودی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ وہ جرمنی کے ساتھ کھڑے ہیں اور کسی بھی قسم کے تشدد کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ تاہم، سعودی حکام نے ابھی تک مشتبہ شخص کے حوالے سے مزید کوئی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

    پولیس نے اس واقعے کی تفتیش شروع کر دی ہے اور حملے کی نوعیت اور مقصد کا تعین کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ جرمنی میں اس قسم کے حملوں کے پیش نظر سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے، اور متعلقہ حکام اس واقعے کے مکمل پس منظر کو سمجھنے کے لیے تحقیقات کر رہے ہیں۔ پولیس نے شہریوں سے بھی درخواست کی ہے کہ وہ کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی اطلاع دیں۔

  • ہم جنس پرستوں کو سعودی عرب آنے کی اجازت

    ہم جنس پرستوں کو سعودی عرب آنے کی اجازت

    سعودی عرب نے فیفا ورلڈ کپ کے لیے ہم جنس پرستوں کو بھی سعودی عرب آنے کی اجازت دے دی ہے

    انگلینڈ کی فٹ بال ایسوسی ایشن (ایف اے) نے تصدیق کی ہے کہ سعودی عرب نے 2034 کے ورلڈ کپ کے دوران ہم جنس پرست مداحوں کی حفاظت اور ان کے خیرمقدم کے حوالے سے ضمانتیں دی ہیں۔ایف اے کی چیئرپرسن، ڈیببی ہیوِٹ، نے کہا کہ سعودی عرب کی بولی کی حمایت کرنے کا فیصلہ "مشکل نہیں تھا”، اور منتظمین کی طرف سے کئی اہم وعدوں کا حوالہ دیا۔بی بی سی ریڈیو 5 لائیو کے ساتھ ایک انٹرویو میں ہیوِٹ نے وضاحت کی کہ ایف اے نے بولی کی حمایت سے قبل "کئی سوالات” کیے تھے۔ انہوں نے کہا، "یہ فیصلہ مشکل نہیں تھا – یہ ایک جامع عمل تھا۔””ہم نے تفصیل سے سوالات کیے، اور سعودی عرب نے کافی وقت اور وعدے فراہم کیے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہم اگلے دس سالوں تک ان کے ساتھ مل کر کام کریں گے تاکہ یہ وعدے دونوں فریقوں کی طرف سے پورے کیے جائیں”،

    پچھلے ماہ، ایف اے نے سعودی عرب فٹ بال فیڈریشن (ایس اے ایف ایف) کے ساتھ ایک ملاقات کی تھی تاکہ بولی کی تفصیلات پر مزید بات چیت کی جا سکے۔ انہوں نے سعودی عرب کی فٹ بال فیڈریشن کی اس عزم پر اعتماد ظاہر کیا کہ وہ تمام مداحوں کے لیے، بشمول ہم جنس پرست کمیونٹی کے، ایک محفوظ ماحول فراہم کرے گی۔ہیوِٹ نے کہا، "ہمیں جو جوابات ملے ان سے ہم پُرعزم ہیں اور ہمیں یقین ہے کہ یہ شراکت داری قائم کرنے کا معاملہ ہے۔” انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایف اے منتظمین کو صحیح گروپوں کی نشاندہی کرنے میں مدد فراہم کرے گا تاکہ مشاورت کی جا سکے۔

    گزشتہ ہفتے فیفا نے اعلان کیا تھا کہ سعودی عرب 2034 میں مردوں کا فٹ بال ورلڈ کپ کی میزبانی کرے گا۔ سعودی عرب کی بولی کو کسی بھی حریف کی جانب سے مخالفت کا سامنا نہیں ہوا، اور فیفا کے کانگریس نے اسے ایک ورچوئل اجلاس میں منظور کیا۔

    سعودی عرب میں ہم جنس پرستی کے خلاف سخت قوانین ہیں اور اس ملک میں ہم جنس تعلقات کی سزا سزائے موت ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ سمیت تقریباً دو درجن انسانی حقوق کی تنظیموں نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ سعودی عرب کو 2034 کے فیفا ورلڈ کپ کی میزبانی دینے سے دنیا بھر میں انسانی حقوق کی پامالیوں میں اضافہ ہوگا۔ بیان میں کہا گیا، "یہ فیصلہ اس بات کا غماز ہے کہ فیفا نے سعودی عرب میں جاری نسل پرستی، مزدوروں کے استحصال، اور شہریوں کو جبراً بے دخل کرنے جیسے مسائل کو نظر انداز کیا۔”

    ایمنسٹی انٹرنیشنل کے اسٹیو کاک برن نے کہا، "فیفا کا سعودی عرب کی بڈ کی اس طرح سے حمایت کرنا اس ملک کے انسانی حقوق کے ریکارڈ کو سفید بنانے کے مترادف ہے۔ فیفا کے اس فیصلے سے سعودی عرب میں محنت کشوں کا استحصال، شہریوں کی جبری بے دخلی اور کارکنوں کی گرفتاریوں کے سلسلے میں مزید شدت آئے گی۔” سعودی عرب میں ہم جنس پرستوں کے لیے حالات انتہائی سنگین ہیں۔ ایک سعودی خاتون کارکن نے کہا، "ہم سعودی عرب کو ‘معتدل خطرہ’ نہیں کہہ سکتے، کیونکہ یہ ملک ایک خالص پولیس اسٹیٹ بن چکا ہے جہاں انسانی حقوق کی پامالی معمول بن چکی ہے۔”

    ہم جنس پرست امریکی سے اب پی ٹی آئی کو امیدیں

    عمران کی رہائی کا مطالبہ کرنیوالا،ہم جنس پرست رچرڈ گرینل ٹرمپ کا ایلچی مقرر

    بھارتی میڈ یا کا نیا شوشہ، اداکارہ ریکھا کو ہم جنس پرست قرار دیدیا

    ہم جنس پرستی بارے گفتگو پر یونائیٹڈ ایئر لائن کا فلائٹ اٹینڈنٹ برطرف

    پی ٹی آئی کا ناروے کی ہم جنس پرستی کی حامی پارٹی سے رابطہ

  • صدر مملکت سے سعودی شوریٰ کونسل کے چیئرمین اور وفد کی ملاقات

    صدر مملکت سے سعودی شوریٰ کونسل کے چیئرمین اور وفد کی ملاقات

    صدر مملکت آصف علی زرداری سے سعودی عرب کے شوریٰ کونسل کے چیئرمین نے ملاقات کی جس میں پارلیمانی تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق صدر مملکت نے سعودی عرب کے شوریٰ کونسل کے چیئرمین اور ان کے وفد سے ملاقات کے دوران پاک سعودی عرب کے برادرانہ تعلقات کو مزید گہرا کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔صدر مملکت نے کہا کہ پارلیمانی تعاون دونوں ممالک کے تعلقات کو مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے اور اس سے دونوں ممالک کے درمیان گہرے روابط استوار ہوں گے۔صدر مملکت نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے مابین تاریخی اور برادرانہ تعلقات ہیں جو مشترکہ عقیدے اور ثقافت پر استوار ہیں۔ سرمایہ کاری اور تعاون بڑھانے کے لیے مزید گنجائش موجود ہے اور اس میں کئی نئے امکانات تلاش کیے جا سکتے ہیں۔ملاقات کے دوران، صدر مملکت نے مشرق وسطیٰ کی سنگین صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان فلسطین، لبنان اور شام کے ساتھ تعلقات میں ہم آہنگ ہے اور ان کے ساتھ کھڑا ہے۔انہوں نے سعودی قیادت کے ساتھ مل کر اسٹریٹجک شراکت داری میں مزید پیشرفت کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔صدر مملکت نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے لیے نیک خواہشات کا پیغام بھی بھیجا اور شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی صحت، تندرستی اور درازی عمر کے لیے دعا کی۔چیئرمین شوریٰ کونسل نے صدر مملکت کی صحت کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا اور اس بات کی توقع ظاہر کی کہ دونوں ممالک کے تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔

    محسن نقوی کی حافظ نعیم الرحمن سے منصورہ میں ملاقات

    دینی مدارس بل، وزیراعظم نے مولانا کو بلا لیا

    گورنرسندھ کا مہاجر کلچر ڈے منانے کا اعلان

  • پاکستان اور سعودی عرب کے مابین تاریخی اور برادرانہ تعلقات ہیں،صدر پاکستان

    پاکستان اور سعودی عرب کے مابین تاریخی اور برادرانہ تعلقات ہیں،صدر پاکستان

    اسلام آباد: صدر مملکت آصف علی زرداری سے سعودی عرب کی شوریٰ کونسل کے چیئرمین اور ارکان کے وفد نے ملاقات کی-

    باغی ٹی وی: دوارن ملاقات صدر مملکت نے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ پارلیمانی تعاون ، اعلیٰ سطحی تبادلےبڑھانے کی ضرورت ہے ، پارلیمانی تعاون سے پاک-سعودی عرب برادرانہ تعلقات مزید گہرے ہوں گے، صدر مملکت نےسعودی عرب کے ساتھ اقتصادی، سیاسی اور ثقافتی تعلقات مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا-

    صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے مابین تاریخی اور برادرانہ تعلقات ہیں ،پاک-سعودی عرب تعلقات مشترکہ عقیدے، تاریخ اور ثقافت پر استوار ہیں،دونوں ممالک کے مابین اقتصادی ، سرمایہ کاری تعاون بڑھانے کی مزید گنجائش موجود ہے-

    صدر مملکت نے بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانے ، اسرائیلی جارحیت سے پیدا ہونے والی مشرق وسطیٰ کی سنگین صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا کہا کہ پاکستان فلسطین، لبنان اور شام سے تعلق رکھنے والے اپنے بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ کھڑا ہے-

    صدر مملکت نے خادمین حرمین شریفین اور شہزادہ محمد بن سلمان کیلئے نیک خواہشات کا پیغام دیا کہا کہ پاکستانی عوام شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی صحت، تندرستی اور درازی عمر کے لیے دعاگو ہیں-

    فریقین نے دیرینہ دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ، اسٹریٹجک شراکت داری میں بدلنے کی ضرورت پر زور دیا،چیئرمین شوریٰ کونسل نے کہا کہ پاکستان کی قیادت اور ارکان پارلیمنٹ کے ساتھ نتیجہ خیز بات چیت ہوئی، چیئرمین شوریٰ کونسل نے شاہ سلمان اور شہزادہ محمد بن سلمان کی جانب سے صدر کی صحت کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا-

  • محسن نقوی کی سعودی کرکٹ فیڈریشن کے چیئرمین کو  دورہ پاکستان کی دعوت

    محسن نقوی کی سعودی کرکٹ فیڈریشن کے چیئرمین کو دورہ پاکستان کی دعوت

    ریاض: پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین محسن نقوی نے سعودی عربیہ کرکٹ فیڈریشن کے چیئرمین شہزادہ سعود بن مشعل السعود سے ریاض میں اہم ملاقات کی۔ اس ملاقات میں دونوں فریقوں نے کرکٹ کے فروغ اور اسٹیڈیمز کی تعمیر کے حوالے سے قریبی تعاون کی ضرورت پر بات چیت کی۔

    ملاقات میں محسن نقوی نے سعودی عرب میں کرکٹ کی ترقی کے لیے ہر ممکن تعاون کی پیشکش کی اور خاص طور پر کھلاڑیوں کی ترقی پر زور دیا۔ انہوں نے سعودی عرب میں کرکٹ کے فروغ کی اہمیت پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کرکٹ کی دنیا میں سعودی عرب ایک ابھرتا ہوا نام بن رہا ہے، اور پی سی بی اس عمل میں مکمل تعاون فراہم کرنے کو تیار ہے۔محسن نقوی نے سعودی کرکٹ فیڈریشن کے چیئرمین کو پاکستان آنے کی دعوت دی تاکہ وہ چیمپئنز ٹرافی ٹورنامنٹ کے میچز کا مشاہدہ کر سکیں اور دونوں ملکوں کے درمیان کرکٹ کے فروغ کے لیے مزید مواقع تلاش کیے جا سکیں۔ اس موقع پر انہوں نے ایک پلیئرز ایکسچینج پروگرام شروع کرنے کی تجویز بھی دی، جس کے تحت سعودی عرب اپنے ابھرتے ہوئے کھلاڑیوں کو پاکستان بھیج سکتا ہے تاکہ وہ پاکستان کے کرکٹ ماحول میں تربیت حاصل کر سکیں۔

    محسن نقوی کا کہنا تھا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ سعودی عرب کے ساتھ کرکٹ کی ترقی کے لیے اپنے تمام وسائل فراہم کرے گا، چاہے وہ کھلاڑیوں کی تربیت ہو، اسٹیڈیمز کی تعمیر ہو یا کرکٹ کے فروغ کے دیگر پہلو۔ انہوں نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ سعودی عرب کے کرکٹ اسٹرکچر میں مضبوطی لانے کے لیے پاکستان کی مدد حاصل کی جا سکتی ہے۔

    دوسری طرف، سعودی کرکٹ فیڈریشن کے چیئرمین شہزادہ سعود بن مشعل السعود نے کہا کہ سعودی عرب کرکٹ کے فروغ کے لیے پاکستان کے ساتھ قریبی تعلقات قائم کرنے کو تیار ہے۔ انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ پاکستان کرکٹ کی عالمی سطح پر ایک مضبوط شناخت رکھتا ہے اور سعودی عرب اس کے تجربات سے فائدہ اٹھا کر اپنے کھلاڑیوں کی ترقی کے لیے کام کر رہا ہے۔ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے کرکٹ کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ اس کے علاوہ، سعودی عرب میں کرکٹ کے فروغ کے لیے مشترکہ حکمت عملی بنانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔

    وویمنز کرکٹ پر سعودیہ کے ساتھ تعاون کے لئے تیار ہیں۔محسن نقوی
    علاوہ ازیں چئیرمین پاکستان کرکٹ بورڈ محسن نقوی کی سعودی عرب کے نائب وزیر کھیل بدر بن عبدالرحمن ال قادی سے ملاقات ہوئی ہے ملاقات میں کرکٹ کے فروغ۔ پلیئرز ڈویلپمنٹ اور سٹیڈیمز کی تعمیر کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا،چئیرمین پی سی بی محسن نقوی کی سعودیہ کے نائب وزیر کھیل کو چیمپئنز ٹرافی ٹورنامنٹ کے میچز دیکھنے کے لیے پاکستان کے دورے کی دعوت دی،چئیرمین پی سی بی نے پلیئرز ڈویلپمنٹ اور سٹیڈیمز کی تعمیر کے لیے ہر ممکن تعاون کی پیشکش کی،پاکستان اور سعودیہ کا ایمپائرز،کوچز اور کھلاڑیوں کے ایکسچینج پروگرام متعارف کرانے پر اتفاق کیا گیا،چئیرمین پی سی بی محسن نقوی نے وویمنز کرکٹ کے فروغ کیلئے مکمل سپورٹ کرنے کی یقین دہانی کروائی اور کہا کہ سعودی عرب میں کرکٹ کے کھیل کے فروغ کے لئے ہر سطح پر معاونت فراہم کریں گے۔وویمنز کرکٹ پر سعودیہ کے ساتھ تعاون کے لئے تیار ہیں۔پاکستان میں کرکٹ کا بے پناہ ٹیلنٹ ہے۔ پی ایس ایل سے کھلاڑیوں کے پول میں اضافہ ہو رہا ہے۔ چئیرمین پی سی بی محسن نقوی نے نائب وزیر کھیل کو پی ایس ایل دیکھنے کے لیے پاکستان آنے کی دعوت دی،سعودیہ کے نائب وزیر کھیل نے چیمپئنز ٹرافی اور پی ایس ایل کے پاکستان دورے کی دعوت پر محسن نقوی کا شکریہ ادا کیا

  • وزیر داخلہ محسن نقوی کی سعودی ہم منصب سے ملاقات

    وزیر داخلہ محسن نقوی کی سعودی ہم منصب سے ملاقات

    وزیر داخلہ محسن نقوی نے آج سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں اپنے سعودی ہم منصب شہزادہ عبدالعزیز بن سعود نائف سے اہم ملاقات کی۔

    اس ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے باہمی دلچسپی کے مختلف امور پر تفصیل سے گفتگو کی، جن میں خاص طور پر منشیات سمگلنگ کی روک تھام اور سکیورٹی تعاون کے حوالے سے بات چیت کی گئی۔ملاقات کے دوران وزیر داخلہ محسن نقوی نے سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دیرینہ تعلقات پر روشنی ڈالی اور کہا کہ ہر پاکستانی کا سعودی عرب کے ساتھ ایک خاص مذہبی عقیدت اور احترام کا رشتہ ہے۔ انہوں نے سعودی قیادت کی طرف سے پاکستان کو ہر مشکل وقت میں فراہم کی جانے والی حمایت کا شکریہ بھی ادا کیا۔

    دونوں رہنماؤں نے منشیات سمگلنگ کی بڑھتی ہوئی مسائل کا تذکرہ کرتے ہوئے اس کے خلاف مشترکہ اقدامات کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ وزیر داخلہ نقوی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان اور سعودی عرب کی سکیورٹی ایجنسیز کے درمیان تعاون میں مزید بہتری لانے کی ضرورت ہے تاکہ دونوں ممالک میں امن و امان کی صورت حال کو مزید مستحکم بنایا جا سکے۔وزیر داخلہ نے سعودی عرب کے عوام اور قیادت کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ اپنے برادرانہ تعلقات کو مزید فروغ دینے کے لئے پرعزم ہے۔ انہوں نے سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کی مسلسل حمایت پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان اس اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

    اس ملاقات کے دوران دونوں ممالک کے درمیان سکیورٹی اور دہشت گردی کے خلاف تعاون کو مزید مستحکم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا، اور سعودی عرب کے ساتھ مختلف شعبوں میں تعاون کو بڑھانے کی اہمیت پر بات چیت کی گئی۔ وزیر داخلہ نے سعودی قیادت کی جانب سے پاکستان کے لئے کی جانے والی حمایت کا شکریہ ادا کیا اور سعودی عرب کے ساتھ باہمی تعاون کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔دونوں فریقوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ منشیات کی سمگلنگ اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مل کر کام کرنا ضروری ہے تاکہ خطے کی سکیورٹی کی صورتحال کو بہتر بنایا جا سکے۔

    ڈور ٹو ڈور پولیو مہم، وزیراعلیٰ سندھ نے دروازے کھٹکھٹا دیئے

    چیمپئینز ٹرافی کے حتمی شیڈول کا اعلان آج کئے جانے کا امکان

    یونان کشتی حادثہ،مقدمہ درج،دو سہولت کار گرفتار

  • منشیات کی لعنت سے کوئی ملک تنہا نہیں نمٹ سکتا،  محسن نقوی

    منشیات کی لعنت سے کوئی ملک تنہا نہیں نمٹ سکتا، محسن نقوی

    ریاض: دورہ سعودی عرب کے دوران وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے ڈائریکٹر جنرل اینٹی نارکوٹکس میجر جنرل محمد ال قرنی سے ملاقات کی،جس میں انسداد منشیات کے حوالے سے باہمی تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    باغی ٹی وی : دورہ سعودی عرب کے دوران وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے سعودی عرب کے اینٹی نارکوٹکس ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا جہاں پر ڈائریکٹر جنرل اینٹی نارکوٹکس میجر جنرل محمد ال قرنی نے وزیرداخلہ و انسداد منشیات محسن نقوی کا استقبال کیا۔

    وفاقی وزیر محسن نقوی نے اینٹی نارکوٹکس ہیڈکوارٹر کے کنٹرول روم کا مشاہدہ کیا، محسن نقوی نے ہیڈ کوارٹر کے مختلف شعبے دیکھے اور سعودی حکام نے انسداد منشیات کے سلسلے میں بریفنگ دی،بریفنگ میں بتایا گیا کہ سعودی اینٹی نارکوٹکس پاکستان کے ادارے اے این ایف کے ساتھ رابطے میں ہےاے این ایف کے ساتھ مستقل بنیادوں پر معلومات کا تبادلہ ہوتا ہے سعودی عرب کی انفارمیشن پر حال ہی میں پاکستان سے منشیات کے 2 ملزم پکڑے گئے ۔

    ملاقات میں انسداد منشیات کے لیے دوطرفہ معاونت کے تحت مزید موثر اقدامات پر اتفاق کیا اور سعودی عرب نے پاکستان کو منشیات کا سراغ لگانے کے لیے جدید ترین آلات کے حوالے سے تعاون کی پیشکش بھی کی ،محسن نقوی نے کہا کہ منشیات کی لعنت سے کوئی ملک تنہا نہیں نمٹ سکتا، یہ اقوام عالم کا مشترکہ چیلنج بن چکا ہے پاکستان سعودی عرب کے ساتھ اینٹی نارکوٹکس کے حوالے سے تعاون جاری رکھے گانئی نسل کو نشے سے محفوظ ماحول دینے کیلئے بین الاقوامی سطح پر جامع اقدامات کی ضرورت ہے۔

    جبکہ وزیرداخلہ و انسداد منشیات محسن نقوی نے ڈائریکٹر جنرل سعودی اینٹی نارکوٹکس کو پاکستان کے دورے کی دعوت دی۔

  • سعودی عرب  کی اسرائیل  کی   گولان میں آبادکاری کی توسیع کی مذمت

    سعودی عرب کی اسرائیل کی گولان میں آبادکاری کی توسیع کی مذمت

    ریاض:سعودی عرب نے اسرائیل کی گولان میں توسیع پسندانہ قبضے پر شدید الفاظ میں مذمت کی ہے-

    باغی ٹی وی : سعودی عرب کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ گولان میں یہودی آبادکاری کو وسعت دینے کے اسرائیلی فیصلے کی شدید مذمت اور مسترد کرتے ہیں اسرائیل کا یہ اقدام شام کی سلامتی، استحکام اور امن کی بحالی کے امکانات کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہے۔

    ایک سرکاری بیان میں، وزارت نے مملکت کے مضبوط موقف کی توثیق کرتے ہوئے، بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کی ان خلاف ورزیوں کی مذمت کرے اس نے شام کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام کی اہمیت پر زور دیا اور اس بات کا اعادہ کیا کہ گولان کی پہاڑیوں پر شامی عرب سرزمین پر قبضہ کیا گیا ہے،عالمی برادری اسرائیل کی گولان کے بفرزون کی خلاف ورزیوں کی مذمت کریں-

    واضح رہے کہ شام میں مسلح باغی گروہوں نے محض 11 دن میں دارالحکومت دمشق پر قبضہ کرلیا تھا اور بشار الاسد روس فرار ہوگئے تھے جس کے بعد اسرائیلی طیاروں نے شام میں فوجی اڈوں، ایئرپورٹس اور ملٹری تنصیبات پر بمباری کی اور اقوام متحدہ کی زیر نگرانی بنائے گئے جنگ سے پاک علاقے ’’بفرزون‘‘ میں داخل ہوگئی تھی، اسرائیل نے مقبوضہ گولان کے علاقے میں مزید توسیع کا ارادہ ظاہر کیا ہے جو کہ شام اور اسرائیل کے درمیان طے پانے والے معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔