Baaghi TV

Tag: سعودی عرب

  • سعودی عرب،او آئی سی اجلاس،جنگ بندی،غزہ کا محاصرہ ختم کرنے کا مطالبہ

    سعودی عرب،او آئی سی اجلاس،جنگ بندی،غزہ کا محاصرہ ختم کرنے کا مطالبہ

    غزہ کی صورتحال پر او آئی سی کا غیر معمولی اسلامی سربراہی اجلاس سعودی عرب میں ہو رہا ہے

    سعودی ولی محمد بن سلمان اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں، صدارتی خطاب میں محمد بن سلمان کا کہنا تھا کہ ہمیں غزہ میں ایک انسانی تباہی کا سامنا ہے، غزہ کی صورتحال سلامتی کونسل اور بین الاقوامی برادری کی اسرائیلی مظالم کو روکنے میں ناکامی کی گواہی ہے،غزہ کی صورتحال پر عالمی برادری کا رویہ دوہرے معیار کو ثابت کرتا ہے،

    اجلاس میں غزہ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا ہے، اجلاس میں ایرانی صدر، ترک صدر، پاکستانی وزیراعظم سمیت دیگر شریک ہیں،

    غزہ میں جنگ کا جاری رہنا سلامتی کونسل کی ناکامی ہے،محمد بن سلمان
    سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب نے غزہ کی پٹی میں شہریوں کے تحفظ کے لیے موجودہ واقعات کے آغاز سے ہی مسلسل کوششیں کی ہیں اور جنگ کو روکنے کے لیے دنیا کے موثر ممالک سے مشاورت اور ہم آہنگی کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ ہم ایک انسانی تباہی کا مشاہدہ کر رہے ہیں جو سلامتی کونسل اور بین الاقوامی برادری کی اسرائیلی خلاف ورزیوں کو ختم کرنے میں ناکامی کو نمایاں کرتا ہے۔خطے میں سلامتی، امن اور استحکام کے حصول کا واحد راستہ قبضے، محاصرے اور تصفیہ کو ختم کرنا، فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو یقینی بنانا، اور مشرقی یروشلم کے ساتھ ان کی آزاد ریاست کا قیام ہے۔ سعودی عرب غزہ کے رہائشیوں کے خلاف جاری جارحیت اور جبری بے گھر ہونے کو واضح طور پر مسترد کرتا ہے۔ ہم قابض اسرائیلی حکام کو فلسطینی عوام کے خلاف جرائم کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔محمد بن سلمان نے مطالبہ کیا کہ غزہ میں انسانی ہمدردی کی راہداریوں کو فوری طور پر کھولا جانا چاہیے۔ہم فوری طور پر فوجی آپریشن بند کرنےکا بھی مطالبہ کرتے ہیں.اسرائیل غزہ میں لوگوں کے قتل عام کا ذمہ دار ہے،نہتے مسلمانوں کا عام روکا جائے اور انسانی امداد پہنچانے کی اجازت دی جائے، مسلمانوں کو ان کے گھروں سے نکالنا بڑا جرم ہے،اس کو فوری روکا جائے

    اجلاس میں شریک تمام ممالک کے سربراہان اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں،فلسطینی صدر
    فلسطینی صدر محمود عباس کا اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اسرائیل فلسطینیوں کی نسل کشی کر رہا ہے، فلسطینیوں پر روزانہ بمباری کی جارہی ہے،اسرائیل ہزاروں فلسطینیوں کو شہید کر چکا ہے، اجلاس میں شریک تمام ممالک کے سربراہان اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں،فلسطین کے شہری اپنی زمین کے مالک ہیں،اسرائیلی قابض فوج نے دو ریاستی حل کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے،سلامتی کونسل سے مطالبہ کرتے ہیں کہ فلسطین کو مستقل رکنیت دی جائے،غزہ فلسطین کا جزو ہے – اسرائیل نے غزہ مسلمانوں کا قتل عام کیا ہے – بچوں عورتوں کو قتل کیا جارہا ہے – فلسطین قضیہ حل کیا جائے تاکہ یہ قتل عام روکا جائے

    فلسطینی کاز سے اپنی غر متزلزل وابستگی کا اعلان کرتے ہیں،ترک صدر
    ترک صدر رجب طیب اردوان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غزہ پر اسرائیل کے حالیہ ظلم اور تشدد کی مثال نہیں ملتی،ہم فلسطینی کاز کی واضح حمایت کا اعلان کرتے ہیں،غزہ میں امداد کے لیے ایک کارگو شپ روانہ کیا ہے،فلسطینی کاز سے اپنی غر متزلزل وابستگی کا اعلان کرتے ہیں،غزہ کے اسپتال معصوم بچوں کی لاشوں سے بھر گئے، غزہ کا محاصرہ ختم کیا جائے،اسرائیل نے بے گناہ فلسطینیوں کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا ہے، فلسطینی بہن بھائیوں کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑے رہیں گے ،پیرس میں چند لوگوں کے قتل پر سربراہ مملکت نے احتجاج کیا تھا ،آج فلسطین میں ہزاروں بچے شہید ہو رہے ہیں کسی نے روکنے کی کوشش نہیں کی،اسرائیلی انتظامیہ 7 اکتوبر کے واقعے کا بدلہ غزہ کے بچوں، معصوم فلسطینی بچوں اور خواتین سے لے رہی ہے،غزہ کا محاصرہ ختم کیا جائے،امید ہے اجلاس امت مسلمہ کے لیے مثبت ثابت ہوگا،غزہ میں ہزاروں بچوں کے قتل عام پر کوئی سربراہ مملکت آواز اٹھانے کو تیار نہیں،اسرائیل اور اس کے حکمرانوں کے خلاف جنگی جرائم کی عدالت میں جانا ہوگا، فلسطین میں ہونے والے اسرائیلی مظالم کبھی نہیں بھولیں گے، بچوں کو گود میں اٹھا کر لے جانے والی ماؤں کو مارا جارہا ہے،اسرائیل کے جوہری ہتھیار پورے خطے کے لیے خطرہ ہیں، اسرائیل غزہ جنگ کے نقصانات کا ازالہ کرے،اسرائیل ایک بگڑا ہوا بچہ بن چکا ہے جو ہرموقع پر اپنے ہر جرم اور تباہی کی ادائیگی سے بچ جاتا ہے۔ اسرائیل کو کی گئی تباہی کا اب معاوضہ ادا کرنا ہوگا۔ ہم فلسطین میں اپنے بہن بھائیوں کو نہیں چھوڑ سکتے۔ او آئی سی کو غزہ کی پٹی کی تعمیر نو کو یقینی بنانے کے لیے ایک فنڈ بنانا ہوگا،مغربی ممالک نے غزہ جنگ بندی کی بھی مخالفت کی ہے،جو آج غزہ مظالم پر خاموش ہے وہ بھی ظلم میں برابر کا شریک ہے، مغرب امریکا انسانی حقوق کے علمبردار ہیں لیکن غزہ میں زیادہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر خاموش ہیں،اسرائیل کے ایٹم بموں کی تحقیقات کی جائیں اور ایٹم بم رکھنے پر پابندیاں لگائی جائیں

    اسرائیل کو جنگی جرائم پر عالمی عدالت انصاف لے کر جانا ہوگا،امیر قطر
    امیر قطر نے او آئی سی اجلاس سے خطاب میں کہا کہ غزہ میں مسلمانوں کا اجتماعی قتل عام ناقابل قبول ہے، فلسطینیوں کے ساتھ مسلسل یکجہتی کرتے ہیں،اسرائیل کو جنگی جرائم پر عالمی عدالت انصاف لے کر جانا ہوگا، بین الاقوامی برادری کب تک اسرائیل کے ساتھ ایسا سلوک کرے گی جیسے وہ بین الاقوامی قانون سے بالاتر ہو؟ کس نے سوچا ہوگا کہ 21ویں صدی میں ہسپتالوں پر کھلے عام بمباری کی جائے گی اور اندھا دھند بمباری کے ذریعے خاندانوں کا صفایا ہو جائے گا؟”

    غزہ میں اسرائیل کے جرائم کا ذمہ دار امریکہ ،فلسطین امت مسلمہ کے فخر کا نشان ہے،ایرانی صدر
    ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے او آئی سی اجلا س سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فلسطین اسلامی اور انسانی اقدار کا عکاس ہے،فلسطین امت مسلمہ کے فخر کا نشان ہے،غزہ میں معصوم فلسطینیوں کا خون بہایا جارہا ہے، اسرائیل غزہ میں عالمی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے،خطے کی تاریخ کا فیصلہ کن مرحلہ آگیا ہے،غزہ میں اسرائیل کے جرائم کا ذمہ دار امریکہ ہے۔غزہ کے لوگ 20 سال سے جیل میں زندگی گزار رہے ہیں،غزہ کے عوام امت مسلمہ کے ہیرو ہیں،اسرائیل صیہونی ایجنڈے کے تحت نسل کشی کر رہا ہے،یہ جنگ فلسطینیوں کی عظمت اور اسرائیل کے کمینے پن کا ثبوت ہے، اسرائیل کی حمایت میں امریکا نے جنگی جہاز تعینات کر رکھے ہیں،مسجد اقصیٰ کی حفاظت کرنے والوں کو صیہونی ریاست سے بچانا ہے،تین ہزار سے زائد فلسطینی بچے اور خواتین ملبے تلے دبے ہوئے ہیں، امریکا اسرائیل کی حمایت کر کے جنگی جرائم میں شریک ہے،

    ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کا کہنا تھا کہ جنگ بندی کروا کر حملے روکے جائیں، غزہ کا محاصرہ ختم کر کے امداد بھیجی جائے، اسرائیلی فوجی غزہ سے نکل جائیں، اگر نہیں نکلتے تو اسرائیل کا بائیکاٹ کیا جائے، اسرائیلی فوج کو دہشت گرد قرار دیا جانا چاہئے.اسلامی ممالک کو فلسطین کی مدد کرنی چاہئے، اسرائیل پر بین الاقوامی عدالت میں مقدمہ چلانا چاہئے،آج ہم سب کو فیصلہ کرنا ہو گا کہ کس طرف کھڑے ہیں ،امریکہ اسرائیل کے ساتھ ہے، روزانہ اسرائیل کو ہتھیار دے رہا ہے،

    مصری صدر السیسی نے اسرائیل کی طرف سے فلسطینیوں کی جبری نقل مکانی کی مذمت کرتے ہوئے غزہ کے لوگوں کے خلاف اسرائیل کی خلاف ورزیوں کی بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔انہوں نے کہا کہ غزہ کے لوگوں کو اجتماعی سزا دینے کی پالیسیاں ناقابل قبول ہیں اور اپنے دفاع یا کسی دوسرے دعوے سے ان کا جواز نہیں بن سکتا۔ انہیں فوری طور پر روکا جانا چاہیے، غزہ میں جنگ کو ختم کرنے میں ناکامی کا نتیجہ خطے کے باقی حصوں تک پھیلنے کی صورت میں نکل سکتا ہے۔ بین الاقوامی برادری کو خونریزی کو روکنے اور تنازع کی جڑوں سے نمٹنے کے لیے دباؤ ڈالنا چاہیے۔


    اسرائیل غاصب ملک،غزہ میں‌قتل عام بند کیا جائے،نگران وزیراعظم
    پاکستان کے نگران وزیر اعظم انور الحق کاکڑ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 70 سال قبل اقوام متحدہ نے مسئلہ فلسطین کو اپنی قرارداد کے ذریعے حل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔غزہ پر اسرائیلی بمباری سے اسپتال، اسکول اور اقوام متحدہ کے دفاتر بھی محفوظ نہیں۔غزہ میں قتل عام فوری بند کیا جائے۔غزہ میں فوری طور پر انسانی امداد کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔وزیراعظم نے جنگ بندی کے لیے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی کوششوں کو سراہا۔انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل غزہ میں قتل عام کو روکنے کی ذمہ دار ہے۔ناانصافی اور معصوم شہریوں کا قتل عام مزید تنازعات کو جنم دے گا۔پاکستان 1967 سے پہلے کی سرحدوں کے مطابق فلسطینی ریاست کے قیام اور القدس کو اس کا دارالحکومت قرار دینے کی حمایت کرتا ہے۔اسرائیل ایک غاصب ملک ہے۔وزیراعظم نے غزہ کو انسانی امداد کی فراہمی میں مصر کی کوششوں کو سراہا۔اور کہا کہ اسرائیل کے جنگی جرائم کو عالمی عدالت انصاف میں لے جایا جائے۔غزہ کی صورتحال کے حوالے سے فوری طور پر مذاکرات شروع کیے جائیں۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمارے فلسطینی بھائیوں اور بہنوں کے مسائل حل کرے۔

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    غزہ کے الشفا ہسپتال پر بھی بمباری 

    اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی

    اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید

     فلسطینی بچوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے متحدہ عرب امارات میدان

  • او آئی سی اجلاس،ایرانی صدر سعودی عرب پہنچ گئے

    او آئی سی اجلاس،ایرانی صدر سعودی عرب پہنچ گئے

    ایرانی صدر ابراہیم رئیسی او آئی سی اجلاس میں شرکت کیلئے سعودیہ عرب پہنچ گئے ہیں

    ایرانی صدرابراہیم رئیسی او آئی سی ے غیر معمولی اجلاس میں شرکت کے لیے ریاض پہنچ گئے ہیں،مارچ میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی بحالی پر اتفاق کے بعد ان کا سعودی عرب کا پہلا دورہ ہے،ایرانی صدر کے طیارے سے اترنے کے بعد ہوائی اڈے پر سعودی حکام نے انکا استقبال کیا

    ایران کے صدر ابراہیم رئیسی کا او آئی سی سربراہی اجلاس کے لیے ہال پہنچنے پرسعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے استقبال کیا۔اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے سے ہاتھ ملایا،

    ایرانی صدر کی امیر قطر سے ملاقات ہوئی، اس موقع پر امیر قطر نے ایرانی صدر سے کہا کہ "آپ کیسے ہیں؟” ایرانی صدر نے جواب میں کہا کہ غزہ کی صورتحال سے ہم اور مسلمان قومیں اچھی نہیں لگ رہی.

    ترک صدر رجب طیب اردوان بھی سعودی عرب پہنچ چکے ہیں، ترک صدر کا کانفرنس ہال پہنچنے پر سعودی ولی عہد نے استقبال کیا .

    پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین حافظ طاہر محمود اشرفی کا کہنا ہے کہ اللہ کریم کااحسان ہے کہ آ ج امت مسلمہ کی قیادت ریاض مملکت سعودی عرب میں اہل فلسطین کی حمایت میں جمع ہیں، ایرانی صدر پہنچ گئے ہیں، ترک صدر راستے میں ہیں،

    گزشتہ روز نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ تین روزہ سرکاری دورے پر سعودی عرب پہنچ گئے ہیں،ریاض کے ڈپٹی گورنر پرنس محمد بن عبدالرحمن نے نگران وزیراعظم کا استقبال کیا،نگران وزیراعظم فلسطین پر منعقد ہونے والی او آئی سی کانفرنس میں شرکت کریں گے،او آئی سی کا ہنگامی اجلاس فلسطین کی موجودہ صورتحال پر طلب کیا گیا,نگران وزیراعظم او آئی سی رکن ممالک کے سربراہان سے ملاقاتیں بھی کریں گے .

    غزہ کی صورتحال پر عرب اسلامی سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے دنیا کے مختلف حصوں سے رہنما ہفتے کے روز ریاض پہنچنا شروع ہو گئے ہیں،ایران کے صدر ابراہیم رئیسی اور عرب رہنما بشمول فلسطین کے صدر محمود عباس، مصر کے عبدالفتاح السیسی، شام کے بشار الاسد اور عراق کے عبداللطیف راشد ہفتے کے روزریاض پہنچے ہیں،ترکی کے صدر رجب طیب اردوان اور لیبیا کی صدارتی کونسل کے صدر محمد المنفی بھی آنے والوں میں شامل ہیں

    ایرانی صدر نے سعودی عرب کے دورے سے قبل کہا کہ "غزہ الفاظ کا میدان نہیں ہے۔ یہ کارروائی کے لیے ہونا چاہیے، آج اسلامی ممالک کا اتحاد بہت ضروری ہے۔

    سعودی عرب نے مسلسل مقبوضہ علاقوں میں خونریزی بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    سعودی-افریقی سربراہی اجلاس میں جمعہ کو اپنے ابتدائی کلمات میں، سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے مملکت کی طرف سے "غزہ میں اسرائیلی قابض حکام کی جانب سے بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی کی مذمت” کا اعادہ کیا۔مملکت ہفتہ اور اتوار کو دو غیر معمولی سربراہی اجلاسوں، او آئی سی سربراہی اجلاس اور عرب لیگ سربراہی اجلاس کی میزبانی کرنے والی تھی۔ لیبیا کی صدارتی کونسل کے صدر محمد المنفی نے کہا کہ سعودی افریقی سربراہی اجلاس "مملکت کی بے پناہ صلاحیتوں اور باوقار حیثیت کے پیش نظر، اقتصادی تعاون کے پل بنانے میں مدد کرے گا۔آئیوری کوسٹ کے صدر الاسانے اواتارا نے کہا کہ سربراہی اجلاس افریقی ممالک کی ترقی میں مدد کے لیے مملکت کے ٹھوس عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے غزہ میں جنگ بندی اور دو ریاستی حل کی بنیاد پر اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان دیرپا امن پر بھی زور دیا۔

    قبل ازیں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور قطر کے امیر کی ملاقات ہوئی، دونوں رہنماؤں نے غزہ کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ریاض کے ال یمامہ پیلس میں قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی سے بات چیت کی۔ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان مضبوط برادرانہ تعلقات پر زور دیا گیا، مختلف شعبوں میں باہمی تعاون اور اضافہ کے راستے تلاش کیے گئے۔اہم بات چیت میں غزہ کی پٹی میں جاری پیش رفت، جارحیت کو روکنے، شہریوں کی حفاظت، اور امداد کی تیزی سے فراہمی کو یقینی بنانے پر توجہ مرکوز کرنا شامل ہے۔مزید برآں، رہنماؤں نے علاقائی سلامتی اور استحکام کو مضبوط بنانے کے لیے حکمت عملیوں پر غور کیا۔اجلاس میں کئی وزراء اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    غزہ کے الشفا ہسپتال پر بھی بمباری 

    اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی

    اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید

     فلسطینی بچوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے متحدہ عرب امارات میدان

  • او آئی سی اجلاس،پاکستانی وزیراعظم سعودی عرب پہنچ گئے

    او آئی سی اجلاس،پاکستانی وزیراعظم سعودی عرب پہنچ گئے

    نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ تین روزہ سرکاری دورے پر سعودی عرب پہنچ گئے

    ریاض کے ڈپٹی گورنر پرنس محمد بن عبدالرحمن نے نگران وزیراعظم کا استقبال کیا،نگران وزیراعظم فلسطین پر منعقد ہونے والی او آئی سی کانفرنس میں شرکت کریں گے،او آئی سی کا ہنگامی اجلاس فلسطین کی موجودہ صورتحال پر طلب کیا گیا,نگران وزیراعظم او آئی سی رکن ممالک کے سربراہان سے ملاقاتیں بھی کریں گے .

    ایرانی صدر ابراہیم رئیسی بھی او آئی سی اجلاس میں شرکت کے لئے سعودی عرب جائیں گے، او آئی سی سربراہی کانفرنس جو اتوار کو ہونی تھی اب ہفتے کو ریاض میں ہو گی،ایران نے ایرانی صدر کے دورہ سعودی عرب کی تصدیق کی ہے،ایران کے صدارتی دفتر کے سیاسی نائب نے اس امیر کی تصدیق کی،ایران کی وزارت خارجہ کی ٹیم بھی ریاض جائے گی،

    اسلامی ممالک کی تنظیم کے سربراہان کی ابتدائی میٹنگ اور اجلاس کے علاوہ اس اجتماع کے موقع پر اسلامی ممالک کے سربراہان کے درمیان ملاقاتوں اور دو طرفہ مشاورت بھی ہو گی تا کہ غزہ کے مسئلے کے حوالے سے مزید ہم آہنگی پیدا کی جا سکے۔

    اسلامی تعاون تنظیم کے ہنگامی اجلاس میں ایران پاکستان،اردن، مصر، ترکی، قطر، متحدہ عرب امارات، الجزائر اور جمہوریہ آذربائیجان سمیت دیگر بااثر ممالک کی بھی شرکت متوقع ہے۔

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    غزہ کے الشفا ہسپتال پر بھی بمباری 

    اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی

    اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید

     فلسطینی بچوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے متحدہ عرب امارات میدان

  • 2034 فیفا ورلڈ کپ،  وژن 2030ء کی طرف گامزن سعودی عرب

    2034 فیفا ورلڈ کپ، وژن 2030ء کی طرف گامزن سعودی عرب

    سعودی عرب فٹ بال فیڈریشن 2034 فیفا ورلڈ کپ کی میزبانی کے ذریعے عالمی معیار کے ٹورنامنٹ کا انعقاد کرانے کا خواہاں ہے۔ اس حوالے سے ساف کے صدر یاسرالمسیحل نے باقاعدہ طور پر فیفا ورلڈ کپ کے لئے خط لکھ دیا تھا۔ورلڈ کپ کی بولی میں حصہ لینے جہاں سعودی عرب کی حکومت اور عوام پرجوش ہیں وہی ایشین فٹ بال کنفیڈیشن کی جانب سے بھی سعودی عرب کی مکمل حمایت کی ہے۔ اس حوالے سے صدر ایشین فٹ بال کنفیڈریشن شیخ سلمان بن ابراہیم الخلیفہ کا کہنا تھا کہ "مجھے خوشی ہے کہ سعودی عرب فٹ بال فیڈریشن نے 2034 فیفا ورلڈ کپ کی میزبانی کا اظہار کیا ہے۔ تمام ایشین فٹ بال ایک ساتھ متحد ہیں اور سعودی عرب کے اس تاریخی قدم کی حمایت کرتی ہیں

    سعودی عرب اس سے قبل بھی عالمی بھی فٹ بال کے عالمی مقابلوں کا اہتمام کرچکا ہے۔ 2023 فیفا کلب ورلڈ کپ کی میزبانی کرچکا ہے اور 2027 اے ایف سی ایشین کپ بھی سعودی عرب میں ہورہا ہے۔ 2018 سے اب تک سعودی عرب 50 سے زائد عالمی کھیلوں کے انعقاد کروا چکا ہے۔ جن میں فٹ بال، موٹر سپورٹس، ٹینس، ای سپورٹس اور گالف شامل ہیں۔

    سعودی عرب کھیلوں کے فروغ اور عالمی مقابلوں کے لئے عالمی معیار کے گراونڈ بنارہا ہے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ سیاحتی لحاظ سے بھی منفرد حیثیت رکھنے والا ملک ہے۔ فیفا ورلڈ کپ کی میزبانی ناصرف کھیل کے لئے بہترین ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ سیاحتی طور پر سعودی عرب میں آنے کا موقع ہوگا۔ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان آل سعود کا کہنا تھا کہ ورلڈ کپ کی میزبانی کا ارادہ مملکت کی جانب سے کھیل کے شعبوں میں ترقی کا عکاس ہے۔

    سعودی عرب کی قومی ٹیم نے 1994 میں پہلا فیفا ورلڈ کپ کھیلا۔ ٹیم اب تک چھ ورلڈ کپ کھیل چکی ہے۔ سعودی وزیرکھیل شہزادہ عبدالعزیز بن ترکی الفیصل کا کہنا تھا کہ ” 2034 فیفا ورلڈ کپ کی میزبانی سے ہمیں دنیا میں عالمی کھیلوں کا صف اول کا ملک بننے کا خواب پورا کرنے میں مدد ملے گی۔”

    نیو کاسل یونائیٹڈ فٹ بال کلب کے کوچ مینجر ایڈی ہاوے نے کہا ہے کہ سعودی عرب فیفا ورلڈ کپ 2034 منعقد ہونے سے یہ ایونٹ اچھی طرح منظم ہونے کی توقع ہے۔،سعودی وژن 2023 میں کھیلوں کو کلیدی اہمیت دی گئی ہے۔ جن کے ذریعے نوجوانوں میں کھیل کے فروغ کے ساتھ ساتھ معاشی ترقی کو مزید بہتر بنایا جائے۔سعودی عرب ورلڈ کپ میزبانی کرنے والا تیسرا ایشیائی ملک بن جائے گا۔اس سے قبل جنوبی کوریا اور جاچان 2002 جبکہ 2022 میں قطر نے میزبانی کی تھی۔

    حکومت سعودی عرب کا منصوبہ سعودی وژن 2023 کا مقصد سعودی عرب کو معاشی طور پر مضبوط کرنے کے لئے صرف تیل پر انحصار ختم کیا جائے اور سعودی عرب کو معاشی اور ثقافتی طور پر جدید خطوط پر استوار کیا جائے۔ 25 اپریل 2016 کو ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان آل سعود نے سعودی وژن 2023 کا اعلان کیا اور اس کے تحت 80 منصوبوں پر کام شروع کیا اور سعودی شناخت کی تبدیلی کا زینہ بن گیا۔ سعودی وژن 2023 کو جدید دنیا اور کاروباری حلقوں میں پذیرائی مل رہی ہے ۔ 2034 سے قبل سعودی وژن 2030 کی تکمیل کے بعد جدید اور منفرد سعودی عرب ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ ورلڈ ایکسپو 2030 کے لئے بھی سعودی عرب نے حصہ لیا ہے۔ اس سے نہ صرف سعودی عرب کھیل ثقافت اور سیاحت میں ترقی کرکے گا بلکہ اس کے ساتھ ساتھ عالمی تجارتی اداروں اور عالمی تجارت میں تیل کے علاوہ بھی سعودی عرب اپنا مقام بنانے میں کامیاب ہوگا۔

    ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا وژن اور سعودی قوم کے لئے روڈ میپ پہ جس طرح کام کررہے ہیں جلد صرف سعودی عرب نہیں بلکہ عالم عرب میں ترقی کی نئے راستے کھلے گے ۔

  • سعودی ریال اور اماراتی درہم سمیت دیگر کرنسیوں کی قدر میں اضافہ

    سعودی ریال اور اماراتی درہم سمیت دیگر کرنسیوں کی قدر میں اضافہ

    کاروباری ہفتے کے تیسرے روزسعودی ریال سمیت دیگر کرنسیوں کی قیمت میں اضافہ ہوا ہے-

    باغی ٹی وی: میڈیا رپورٹس کے مطابق سعودی ریال 76.47 روپے، اماراتی درہم 78.11 روپے، قطری ریال 78.67 روپے، کویتی دینار 928.59 روپے اور بحرینی دینار 760.58 روپے کا رہا، انٹربینک میں آسٹریلین ڈالر 184 روپے 38 پیسے، کینیڈین ڈالر 208 روپے 17 پیسے اور برطانوی پاؤنڈ کی قدر 351 روپے 47 پیسے ریکارڈ کی گئی۔

    دوسری جانب تیسرے کاروباری روز کے دوران پاکستانی روپے کی قدر میں مزید کمی جبکہ انٹربینک میں امریکی ڈالر مزید مہنگاہوگیا اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری اعدادو شمار کے مطابق آج بدھ کے روز کاروبار کے اختتام پر ڈالر کی قیمت میں 51 پیسے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا،امریکی کرنسی ڈالر کی قیمت 286 روپے 39 پیسے سے بڑھ 286 روپے 90 پیسے کی سطح پر بند ہوئی۔

    انٹربینک میں ڈالر مزید مہنگا،سونے کی قیمت میں بھی اضافہ

    گزشتہ روزسعودی ریال کی قیمت 76.34 روپے، اماراتی درہم 77.97 روپے، قطری ریال 78.65 روپے، کویتی دینار 927.43 روپے اور بحرینی دینار 759.48 روپے ریکارڈ کی گئی تھی ۔

    سعودی ریال سمیت دیگر کرنسیوں کی قیمت میں اضافہ

  • ریاض کی یونیورسٹی کی 700  پاکستانی طلبا کو وظائف کی پیشکش

    ریاض کی یونیورسٹی کی 700 پاکستانی طلبا کو وظائف کی پیشکش

    سعودی عرب کی امام محمد بن سعود اسلامی یونیورسٹی کے صدر ڈاکٹر احمد بن سالم العامری نے وفاقی وزیر برائے وفاقی تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت مدد علی سندھی سے ملاقات کی۔

    مدد علی سندھی نے امام محمد بن سعود اسلامی یونیورسٹی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک تاریخی اور پر وقار ادارہ ہے۔ وزیر تعلیم نے کہا کہ انہوں نے وزیر تعلیم کا عہدہ سنبھالنے کے بعد سب سے پہلے تعلیم کے معیار، اسکول سے باہر بچوں کی تعداد میں کمی اور سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم پر تحقیق کو ترجیح دی ہے۔ وزیر تعلیم نے سعودی عرب کو QAU میں 15 ریسرچ فیلوشپس کی پیشکش بھی کی۔

    مدد علی سندھی نے وفد کا پرتپاک استقبال کیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر ہتھل حمود علطیبی کا کام اور کوششیں مثالی ہیں۔ وزیر نے IIUI میں سسٹمز کی اپ گریڈیشن کی تعریف کی۔ مدد علی سندھی نے کہا کہ IIUI میں تعلیم کا معیار ڈاکٹر ہتھل حمود علطیبی کی قیادت میں مسلسل بلند ہو رہا ہے۔

    مدد علی سندھی نے سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم پر تحقیق کا دائرہ بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب اور پاکستان کی یونیورسٹیوں کے درمیان شریعت، عدلیہ کے کردار، اسلامی قانون اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیاسی تعلیمات کے حوالے سے تحقیق کے دائرہ کار کو بڑھانے اور وسیع کرنے کے لیے فوری کام ہونا چاہیے۔ مدد نے کہا کہ سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سیاسی پہلو کو مناسب اہمیت نہیں دی گئی جو کہ اب دی جاۓ گی۔

    مدد اور ریاض کی امام محمد بن سعود اسلامی یونیورسٹی کے صدر ڈاکٹر احمد بن سالم العامری نے سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم پر تحقیق کرنے کے لیے یونیورسٹی کی سطح پر اساتذہ کے تبادلے شروع کرنے پر اتفاق کیا۔ ریاض کی امام محمد بن سعود اسلامی یونیورسٹی کے صدر ایچ ای ڈاکٹر احمد بن سالم العامری نے کہا کہ ہم نے پاکستانی طلباء کو 700 وظائف کی پیشکش کی ہے اور ہم اس تعداد کو پاکستان کی وزارت تعلیم کی خواہش کے مطابق بڑھانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

    وزیر تعلیم نے مدارس کے مذہبی رہنماؤں کو تربیت دینے کی ضرورت پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے مذہبی رہنماؤں کو روشناس کرانے کی ضرورت ہے اور مملکت سعودی عرب پاکستان میں مدارس کے علماء کو تربیت دے کر مدد کر سکتی ہے۔ مد د نے پاکستانی عوام کے لیے عربی زبان کے کورسز بنانے کی ضرورت پر بھی روشنی ڈالی۔ ریاض کی امام محمد بن سعود اسلامی یونیورسٹی کے صدر ایچ ای ڈاکٹر احمد بن سالم العامری نے کہا کہ سعودی عرب میں عربی زبان کے بہترین ادارے ہیں جو فاصلاتی تعلیم یا اساتذہ کے تبادلے کے ذریعے اپنے پروگراموں کو پاکستان کی یونیورسٹیوں تک بڑھا سکتے ہیں۔

    رپورٹ، محمد اویس اسلام آباد

  • سعودی عرب کاتیل  کی پیداوار میں 10 لاکھ بیرل یومیہ کمی جاری رکھنے کا اعلان

    سعودی عرب کاتیل کی پیداوار میں 10 لاکھ بیرل یومیہ کمی جاری رکھنے کا اعلان

    ریاض: سعودی وزارت توانائی کے ایک سرکاری ذریعے نے اعلان کیا ہے کہ ’سعودی عرب تیل کی پیداوار میں 10 لاکھ بیرل یومیہ کی رضاکارانہ کمی کو جاری رکھے گا‘۔

    باغی ٹی وی:برطانوی خبررساں ادارے "روئٹرز”کے مطابق تیل برآمد کرنے والے سرفہرست ممالک سعودی عرب اور روس نے اتوار کے روز تصدیق کی کہ وہ سال کے آخر تک اپنی اضافی رضاکارانہ تیل کی پیداوار میں کمی کو جاری رکھیں گے کیونکہ طلب اور معاشی نمو کے خدشات خام مارکیٹوں پر بدستور دباؤ ڈال رہے ہیں۔

    وزارت توانائی کے ایک ذریعہ نے ایک بیان میں کہا کہ سعودی عرب نے تصدیق کی ہے کہ وہ 10 لاکھ بیرل یومیہ (بی پی ڈی) کی اضافی رضاکارانہ کٹوتی کو جاری رکھے گا اور دسمبر کے لیے تقریباً 9 ملین بیرل پیداوار کرے گا۔

    ڈالرکی قیمت میں اضافے کاسلسلہ جاری

    ایس پی اے کے مطابق تیل کی پیداوار میں کمی کی پالیسی کا اطلاق جولائی 2023 میں ہوا تھا اور اس میں دسمبر 2023 کے آخر تک توسیع کی گئی تھی سعودی عرب کی پیداوار دسمبر 2030 میں تقریباً 9 ملین بیرل یومیہ ہوگی،ذرائع کے مطابق اس کمی کے فیصلے پر اگلے ماہ نظر ثانی کی جائے گی جس میں رضاکارانہ کمی کو جاری رکھنے، کمی کو بڑھانے یا پیداوار میں اضافے پر غور کیا جائے گا۔

    ایک ہفتے میں 12اشیا کی قیمتوں میں اضافہ اور 14 سستی ہوئیں،ادارہ شماریات

    ذرائع نے وضاحت کی یہ فیصلہ اس رضاکارانہ کمی کے علاوہ ہے جس کا اعلان اپریل 2023 میں کیا گیا تھا اور جو دسمبر 2024 کے آخر تک جاری رہے گی، یہ اضافی رضاکارانہ کمی اوپیک پلس ممالک کی جانب سے تیل کی منڈیوں کے استحکام اور توازن کو سپورٹ کرنے کے مقصد سے کی جانے والی احتیاطی کوششوں کو تقویت دینے کے لیے ہے۔

    ملک میں سونے کی قیمت میں مزید اضافہ

  • حماس تحریک فلسطین پر قابض؟

    حماس تحریک فلسطین پر قابض؟

    دہشت گردی کی نئی لہر میں اسرائیلی حملوں میں فلسطینیوں کی تباہی اور بربادی کے حملے میں کوئی دو رائے نہیں ،اس کا آغاز غزہ کے عسکریت پسندوں نے 7 اکتوبر کو اسرائیلی قصبوں کی طرف ہزاروں راکٹ فائر کرنے کے ساتھ، تاروں کی بھاری باڑ کو توڑ کر اسرائیلی بستیوں میں اپنی فوج بھیجنے سےکیا

    حماس کے مینڈیٹ کو سمجھنے کی ضرورت ہے تاکہ یہ محسوس کیا جا سکے کہ ایک انتہائی منصفانہ فلسطینی تحریک کو ‘مطلق پسند’ نقطہ نظر کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ حماس دو ریاستی نظریہ کے سیاسی حل کی حمایت نہیں کرتی۔ بنیادی طور پر فلسطینی ایسا چاہتے ہیں۔ اس لیے اسرائیل اور سعودی عرب کا معاہدہ جو اس وقت مغربی کنارے میں فلسطینی اتھارٹی کو مضبوط کرنے کے لیے تھا، یہ اب تاخیر کا شکار ہو چکا ہے۔ اگر مغربی کنارے میں اسرائیل کی فوجی کارروائیاں طویل عرصے تک جاری رہیں تو یہ معاہدہ ختم ہو سکتا ہے۔

    حماس اسرائیل کو ایک غیر قانونی ریاست سمجھتی ہے اور اس نے ہمیشہ اس کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے، ایسے نان سٹیٹ ایکٹرز یا تو بنائے جاتے ہیں یا بین الاقوامی میدان میں دوسرے اسٹیک ہولڈرز ان کی حمایت کرتے ہیں۔ ایران نے حماس اور فلسطین اسلامی جہاد سمیت مختلف فلسطینی عکسری گروپوں کو سالانہ 100 ملین ڈالر تک کا تعاون دیا ۔ سعودی عرب اور اسرائیل امن معاہدے کا مطلب ایران کے ساتھ جنگ ہے۔ "اگر سعودی عرب اسرائیل کے ساتھ مل کر کام کرتا ہے، تو ایران یہ سمجھے گا کہ ریاض اسرائیلی فوج کو ایران کے خلاف تیز حملے کرنے کے لیے پلیٹ فارم فراہم کرے گا، چاہے سعودی قیادت کا ایسا کرنے کا کوئی ارادہ نہ ہو۔” [فارن پالیسی اگست 30، 2023]

    رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ صرف سعودی عرب ہی نہیں، بلکہ اگر کوئی اور خلیجی ملک اسرائیل کے ساتھ زیادہ نرمی اختیار کرتا ہے تو ایران کی طرف سے شدید ردعمل سامنے آئے گا۔

    سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان ممکنہ طے پانے والا معاہدہ ایران کے مفاد میں نہیں ، جس کا مقصد غزہ میں فلسطینی اتھارٹی کو مضبوط کرنا ہے، یہ معاہدہ حماس کے خلاف ہے کیونکہ وہ اسرائیل کے وجود کو قبول نہیں کرتا۔ اس مقام پر حملہ فلسطینیوں کے طویل المدتی مفاد میں نہیں.

    ہسپتال حملہ،اسرائیل کا انکار،اسلامک جہاد کو ذمہ دار قرار دے دیا

    وائرل ویڈیو،حماس کے ہاتھوں گاڑی میں بندھی یرغمال لڑکی کون؟

    اسرائیل کی طرف سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی جاری ہے. فلسطینی صحافی

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    ہسپتال پر بمباری،فلسطینی صدر کی جوبائیڈن سے ملاقات منسوخ

  • محمد بن سلمان کا سعودی عرب،پہلی بار ہو رہا”ریاض فیشن ویک”

    محمد بن سلمان کا سعودی عرب،پہلی بار ہو رہا”ریاض فیشن ویک”

    سعودی عرب کی تاریخ میں پہلی بار "ریاض فیش ویک” 20 اکتوبر سے شروع ہو رہا ہے، اس فیشن شو میں 30 برانڈز اپنے ڈیزائن دکھائیں گے، ریاض فیشن ویک 23 اکتوبر تک جاری رہے گا

    سعودی عرب مذہبی روایات،اقدار کے حوالہ سے جانا جاتا ہے، ایسے میں ریاض میں منعقد ہونے والے ریاض فیشن ویک کی اہمیت بڑھ جاتی ہے کیونکہ وہاں پہلی بار ایسا ہو رہا، اس سے قبل اپریل 2018 میں ایک بار پرائیویٹ تقریب ہوئی جسے مکمل طور پر ہی "پرائیویٹ” رکھا گیا تھا، اس شو میں داخلے کے لئے بھی خصوصی پاسز جاری کئے گئے تھے، جبکہ 20 اکتوبر کو شروع ہونے والا ریاض فیشن ویک سعودی حکومت کے تعاون سے ہو رہا ہے

    سعودی عرب کا انحصار تیل پر ہے تاہم سعودی عرب نے صرف تیل پر انحصار کرنے کی بجائے خود کو نئے انداز میں پیش کرنا شروع کیا ہے، محمد بن سلمان جب سے ولی عہد بنے وہ سعودی عرب میں تبدیلیاں لائے ہیں، سعودی عرب مستقبل پر نظر رکھتے ہوئے ثقافت اور فیشن کے میدان میں آگے بڑھ کر اپنی شناخت بنانا چاہتا ہے، ایسے میں ریاض فیشن ویک کی شاندار تقریب کی توقع کی جا رہی ہے،اگرچہ مذہبی حلقوں کی جانب سے اسکی مخالفت کی جا رہی ہے

    اپریل 2018 میں سعودی عرب میں ہونے والے فیشن ویک میں صرف خواتین کو داخل ہونے دیا گیا تھا،اب اس ریاض فیشن ویک میں سعودی اہم شخصیات بھی شریک ہوں گی،سعودی فیشن کمیشن کے سی ای او براک کیک کا کہنا ہے کہ ہم پہلی بار اس طرح کی تقریب منعقد کر رہے ہیں، ہم نے مقامی فیشن برانڈز کے ساتھ ساتھ غیر ملکی برانڈز کو بھی ریاض فیشن ویک میں شرکت کی دعوت دی ہے، سعودی عرب دنیا کا اگلا بین الاقوامی فیشن سینٹر بنے گا،ریاض فیشن ویک ہماری تخلیقی صلاحیتوں کو ظاہر کرے گا،اس سے دنیا ہمارے ساتھ جڑے گی،

    سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے ولی عہد بننے کے بعد سعودی عرب میں بہت سی بڑی سماجی تبدیلیاں سامنے آئی ہیں، سعودی عرب میں پہلے خواتین کو ہمیشہ پردہ، نقاب یا حجاب میں باہر جانے کی اجازت تھی۔محمد بن سلمان کے آنے کے بعد سعودی عرب میں خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت ملی تو وہیں خواتین کو گھر سے باہر اکیلے جانے کی بھی اجازت ملی، محمد بن سلمان کے ہی دور میں سعودی عرب میں تھیٹرز سے پابندی اٹھائی گئی ہے، جولائی 2021 میں سعودی عرب نے ایک ترمیم منظور کی جس میں بالغ خواتین کو باپ یا دوسرے مرد رشتہ داروں سے اجازت لیے بغیر آزادانہ زندگی گزارنے کی اجازت دی،

    سعودی عرب کا بڑا وفد کب آ رہا ہے پاکستان؟ وزیر خارجہ کا بڑا اعلان

    حالات گرم،فیصلہ کا وقت آ گیا،سعودی عرب اسرائیل کے ہاتھ کیسے مضبوط کر رہا ہے؟ اہم انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

    آرمی چیف کے دورہ سعودی عرب سے پہلے سعودی سفیر متحرک، اہم شخصیات سے ملاقاتیں

    سعودی عرب میں پاکستانی سفیرکو واپس بلائے جانے کا امکان

    بلال اکبرکی واپسی، سعودی عرب میں کون ہو گا نیا سفیر،طاہر اشرفی نے بتا دیا

  • افغان شہریوں کو جعلی پاسپورٹس کا اجرا،تحقیقات کا آغاز

    افغان شہریوں کو جعلی پاسپورٹس کا اجرا،تحقیقات کا آغاز

    پاکستان سے 12ہزار مبینہ جعلی پاسپورٹس کے اجرا پر تحقیقات،سعودی حکومت کی شکایت پر وزارت داخلہ کی قائم انکوائری کمیٹی نے تحقیقات کا آغاز کر دیا

    جعلی پاسپورٹس پر سفر کرنے والوں کی فہرستیں تحقیقات کمیٹی کو موصول ہو گئی ہیں،تحقیقاتی کمیٹی نادرا سے بھی افغان مہاجرین کا ڈیٹا حاصل کرکے سکروٹنی کرے گی،افغان شہریوں کو کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ پر پاسپورٹ کا اجرا ہوا،افغانیوں نے پاکستانی پاسپورٹس حاصل کرکے سعودی عرب کا سفر کیا،افغان شہریوں نے 12,096 پاکستانی پاسپورٹس سعودی عرب میں پاکستانی سفارت خانے ریاض کو دے دئیے

    میڈیا رپورٹس کے مطابق پاسپورٹس اجراء اور تصدیق کیلئے اعلیٰ سطحی کمیٹی نے پاکستانی پاسپورٹ پر سفر کرنے والے افغان شہریوں کو پاسپورٹ جاری کرنے کی تفصیلی تحقیقات شروع کردیں،کمیٹی پاسپورٹس کے اجراء میں کوتاہیوں کا پتہ لگائے گی،کمیٹی ان پاسپورٹس پر روانگی کی سہولت کے لیے مختلف اداروں کی ملی بھگت کا تعین بھی کرے گی،پاکستان سے سعودی عرب تک نادرا، پاسپورٹ اور ایف آئی اے کے مختلف افسران کی ذمہ داری کا تعین بھی کیا جائے گا،کمیٹی 15 دن کے اندر اپنے نتائج اور سفارشات سیکرٹری داخلہ کو پیش کرے گی،سعودی شکایت کے بعد امیگریشن اینڈ پاسپورٹ نے نئے اور تجدید شدہ پاسپورٹ کے اجراء کیلئے جانچ پڑتال کو بھی بڑھا دیا ہے

    پیٹرول کی قیمت کم ہونے کا فائدہ عام آدمی کو پہنچائیں گے. عامر میر
    آسٹریلیا نے دو کٹوں‌کے نقصان پر 39 رنز بنا لیئے
    نگران وزیرِ اعظم انوار الحق کاکڑ دورہ چین کیلئے بیجنگ پہنچ گئے
    عمان کی رائل آرمی کے کمانڈر کی آرمی چیف سے ملاقات
    سی ڈی اے افسران کے تبادلوں کے احکامات ہوا میں اڑا دیئے گئے

    جبکہ جاری نوٹیفکیشن کے مطابق کمیٹی کی سربراہی ڈاریکٹر جنرل پاسپورٹ اینڈ امیگریشن مصطفیٰ جمال کریں گے، اس کے علاوہ ڈپٹی سیکرٹری ایف ائی اے وزارت داخلہ، ایف ائی اے اور نادرا کے نمائندہ کمیٹی میں شامل ہوں گے جبکہ اسٹنٹ ڈاریکٹر ایڈمن پاسپورٹ کمیٹی کے سیکرٹری ہوں گے۔

    انسانی اسمگلنگ میں ملوث گینگ کے خلاف کریک ڈاؤن

    لیبیا کشتی حادثہ میں ملوث انسانی سمگلر کو گرفتار 

    حادثے کے مرکزی ملزم ممتاز آرائیں کو وہاڑی سے گرفتار کیا گیا