Baaghi TV

Tag: سعودی عرب

  • سعودی عرب:کرپشن کے الزام میں سرکاری ادارے کے سربراہ گرفتار

    سعودی عرب:کرپشن کے الزام میں سرکاری ادارے کے سربراہ گرفتار

    ریاض: سعودی عرب میں کرپشن کے الزام میں سرکاری ادارے کے سربراہ کو گرفتار کر لیا گیا۔

    باغی ٹی وی : عرب میڈیا کے مطابق سعودی عرب میں اسلام سے قبل کے تاریخی ورثے کی نگرانی کے ذمہ دار ادارے کے چیف ایگزیکٹو (سی ای او)امر بن صالح عبدالرحمن آل مدنی کو منی لانڈرنگ اور کرپشن کے الزامات کے تحت محکمہ اینٹی کرپشن نے حراست میں لیا، امربن صالح پر الزامات ہیں کہ انہوں نے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے اس کمپنی کو ٹھیکے دلوائے جس میں ان کی شراکت داری تھی، کرپشن میں شریک ان کے رشتے دار سمیت 3 افراد کو اینٹی کرپشن حکام نے گرفتار کر کے تحقیقات شروع کر دیں۔

    عمران خان بشری بی بی غیر شرعی نکاح کیس کا تحریری فیصلہ جاری

    پی ٹی آئی کی لیاقت باغ میں انتخابی جلسے کی درخواست مسترد

    سندھ میں پیپلزپارٹی کو ٹف ٹائم دینے کیلئے اتحادی جماعتوں نے سر …

  • سعودی عرب میں سی سی ٹی وی کی ریکارڈنگ پبلک کرناخلاف قانون قرار

    سعودی عرب میں سی سی ٹی وی کی ریکارڈنگ پبلک کرناخلاف قانون قرار

    ریاض: سعودی عرب میں سی سی ٹی وی کی ریکارڈنگ پبلک کرنا خلاف قانون قرار دے دیا گیا، خلاف ورزی کرنے والے کو 20 ہزار ریال یعنی تقریباً 15 لاکھ روپے جرمانہ بھرنا پڑے گا۔

    باغی ٹی وی: عرب میڈیا کے مطابق سعودی وزارت داخلہ نے سکیورٹی کیمروں کے قانون کی خلاف ورزی پر سخت سزاؤں کا اعلان کیا ہے وزارت نے کہا کہ ایسے افراد پر 20 ہزار ریال جرمانہ عائد کیا جائے گا جو قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سی سی ٹی وی کی ریکارڈنگ پبلک کریں گے،یہ اقدام اس بات کو یقینی بنانے کی وسیع تر کوشش کا حصہ ہے کہ پرائیویسی اور سکیورٹی کے اصولوں پر عمل درآمد یقنی بنایا جائے۔

    سعودی وزارت داخلہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بشمول سکیورٹی کیمرہ سسٹم یا ان کی ریکارڈنگ کو نقصان پہنچانا یا کسی بھی قسم کی چھیڑ چھاڑ بھی سخت سزاؤں سے مشروط ہے اس کےعلاوہ وزارت نے سکیورٹی کیمروں کی تنصیب سے متعلق بھی مخصوص ضوابط پر روشنی ڈالی ہے، ان مقامات پر جہاں کیمروں کی تنصیب ممنوع ہے وہاں غیر قانونی طور پر کیمرے نصب کرنے پر 10 ہزار ریال کا جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

  • سعودی عرب میں پہلا شراب خانہ کھلنے کی تیاری

    سعودی عرب میں پہلا شراب خانہ کھلنے کی تیاری

    ریاض: سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں خصوصی طور پر غیر مسلم سفارت کاروں کیلئے پہلا شراب خانہ کھلے گا-

    باغی ٹی وی: خبر ردساں ادارے "روئٹرز” کے مطابق دستاویز میں کہا گیا ہے کہ صارفین کو موبائل ایپ کے ذریعے اندراج کرنا ہوگا، وزارت خارجہ سے کلیئرنس کوڈ حاصل کرنا ہوگا، خریداروں کو شراب کی خریداری کیلئے ماہانہ کوٹہ دیا جائے گا۔

    یہ اقدام سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی قیادت میں مملکت کی کوششوں میں ایک سنگ میل ہے، جس میں مسلم ملک کو سیاحت اور کاروبار کے لیے کھول دیا گیا ہے کیونکہ اسلام میں شراب پینا حرام ہے،یہ تیل کے بعد کی معیشت کی تعمیر کے لیے ویژن 2030 کے نام سے جانے والے وسیع منصوبوں کا بھی حصہ ہے۔

    دستاویز میں کہا گیا ہے کہ نیا اسٹور ریاض کے ڈپلومیٹک کوارٹر میں واقع ہے، اس محلے میں جہاں سفارت خانے اور سفارت کار رہتے ہیں، اور اسے غیر مسلموں تک "سختی سے محدود” کیا جائے گا،تاہم دستاویز میں یہ واضح نہیں تھا کہ آیا دیگر غیر مسلم تارکین وطن کو اسٹور تک رسائی حاصل ہوگی، سعودی عرب میں لاکھوں تارکین وطن مقیم ہیں لیکن ان میں سے زیادہ تر ایشیا اور مصر سے تعلق رکھنے والے مسلمان کارکن ہیں۔سعودی عر

    منصوبوں سے واقف ایک ذریعہ نے کہا کہ آنے والے ہفتوں میں اسٹور کے کھلنے کی امید ہےسعودی عرب میں شراب نوشی کے خلاف سخت قوانین ہیں جن کی سزا سینکڑوں کوڑے، ملک بدری، جرمانے یا قید ہو سکتی ہے اور غیر ملکیوں کو ملک بدری کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے اصلاحات کے حصے کے طور پر، کوڑے مارنے کی جگہ بڑی حد تک جیل کی سزاؤں نے لے لی ہے شراب صرف سفارتی ڈاک کے ذریعے یا بلیک مارکیٹ میں دستیاب ہے۔

    حکومت نے بدھ کے روز ملکی میڈیا میں ان خبروں کی تصدیق کی کہ وہ سفارتی کھیپ کے اندر شراب کی درآمد پر نئی پابندیاں عائد کر رہی ہےاس کے سینٹر آف انٹرنیشنل کمیونیکیشن (سی آئی سی) نے کہا کہ نئے ضوابط سفارتی مشنوں کو موصول ہونے والی الکحل کے سامان اور مصنوعات کی غیر قانونی تجارت کے انسداد کے لیے متعارف کرائے گئے ہیں۔

    سی آئی سی نے روئٹرز کو ایک بیان میں کہا کہ یہ نیا عمل جاری رہے گا اور اس بات کو یقینی بنائے گا کہ غیر مسلم سفارت خانوں کے تمام سفارت کاروں کو مخصوص کوٹے میں ان مصنوعات تک رسائی حاصل ہو، بیان میں منصوبہ بند الکحل کی دکان کا ذکر نہیں کیا گیا لیکن کہا گیا کہ نیا فریم ورک بین الاقوامی سفارتی کنونشنز کا احترام کرتا ہے۔

  • سعودی سفیر بھی وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی کے معترف

    سعودی سفیر بھی وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی کے معترف

    وزیر اعلیٰ پنجاب محسن نقوی سے سعودی عرب کے سفیر نواف بن سعید احمد المالکی نے ملاقات کی۔

    سعودی عرب کے سفیرنے وزیراعلیٰ محسن نقوی کی عوامی خدمات کوشاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا اور وزیراعلی محسن نقوی کی غیر معمولی رفتار سے عوامی منصوبوں کو مکمل کرنے کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب بالخصوص لاہور میں وزیراعلیٰ محسن نقوی کی ان تھک محنت نظر آرہی ہے۔ وزیراعلی محسن نقوی اوران کی ٹیم ہر وقت کام کرتی نظر آتی ہے۔ پنجاب میں ایک سال کے دوران محسن سپیڈ کی بدولت غیر معمولی ترقی کی نئی مثال قائم ہوئی اور لاہور سمیت کئی شہر ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل سے پہلے سے زیادہ خوبصورت نظر آ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سب کچھ ہے، محسن نقوی جیسے مخلص لوگوں اورپلاننگ کی ضرورت ہے۔

    وزیر اعلیٰ محسن نقوی نے کہا کہ سعودی عرب اور پاکستان کا رشتہ ازل سے ہے، ابد تک رہے گا۔ سعودی عرب نے ہمیشہ مشکل وقت میں پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا ہے۔ پاکستان کی ترقی اورخوشحالی کے لئے سعودی عرب کے کردار کو فراموش نہیں کرسکتے۔محسن نقوی نے کہا کہ سعودی عرب کے بے مثال تعاون پر سعودی حکومت کے شکر گزار ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی نے وزیر اعلیٰ آفس آمد پر سعودی عرب کے سفیر نواف بن سعیداحمد المالکی کا پرتپاک استقبال کیا۔صوبائی وزراء ایس ایم تنویر،عامر میر،چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ،سیکرٹری وزیر اعلی، سیکرٹری وزیر اعلی عملدرآمد اورمتعلقہ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔

    عام آدمی سے ملاقات میں نرمی او رپیار کا رویہ اپنائیں۔محسن نقوی
    وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی سے وزیر اعلیٰ آفس میں سول سروس اکیڈمی کے 50ویں کامن ٹریننگ پروگرام کے زیر تربیت اسسٹنٹ کمشنروں کے وفد نے ملاقات کی۔ وزیر اعلیٰ محسن نقوی نے زیر تربیت اسسٹنٹ کمشنروں کے وفد سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عام آدمی کو ریلیف ہر سرکاری افسر کی ترجیحات میں سر فہرست ہونا چاہیے۔ عام آدمی سے ملاقات میں نرمی او رپیار کا رویہ اپنائیں۔ سرکاری افسران کو عوام کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آنا چاہیے۔ وزیر اعلیٰ محسن نقوی نے کہا کہ غلط کام کبھی نہ کریں،بہتر پبلک ہینڈلنگ سے ہی اچھا نام اور اچھا کیرئیر ملتا ہے اور افسران کوہر ایک سے اچھا تعلق رکھنا چاہیے اوربغیر کسی دباؤ کے فرائض سرانجام دینے چاہئیں۔ بہترین سروس ڈلیوری سے ترقی کے راستے خود بخو دکھل جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دور دراز علاقو ں میں تبادلے سے نہ گھبرائیں بلکہ تجربہ حاصل کریں۔ تعمیر و ترقی کے لئے خواتین کا مساوی کردار ضروری ہے، سول سروسز میں خواتین افسران کا آنا خوش آئند امر ہے۔ چیف سیکرٹری زاہد اختر زمان نے بھی زیر تربیت اسسٹنٹ کمشنروں سے خطاب کیا۔ صوبائی وزیر تعلیم منصور قادر،چیف سیکرٹری ،ایڈیشنل چیف سیکرٹری، چیئرمین پلاننگ اینڈڈویلپمنٹ بورڈ،سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو،سیکرٹری سروسز، کمشنر لاہورڈویژن اورمتعلقہ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے.

    وزیراعلی محسن نقوی کی زیر صدارت اجلاس، صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیشرفت کا جائزہ، ایف ڈبلیو او کی کارکردگی کو سراہا
    وزیراعلی پنجاب محسن نقوی کی زیر صدارت آج وزیراعلیٰ آفس میں صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیشرفت کا جائزہ لینے سے متعلق اجلاس منعقد ہوا، جس میں لاہور رنگ روڈ سدرن لوپ تھری،گوجرانوالہ ایکسپریس وے، دودوچھہ ڈیم، جہلم لئلہ روڈاور دیگر منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔وزیراعلی محسن نقوی نے پنجاب میں عوام کی فلاح کیلئے جاری منصوبوں کے حوالے سے ایف ڈبلیو او کی کارکردگی کو سراہا۔وزیراعلیٰ محسن نقوی نے کہاکہ فلاح عامہ کے منصوبوں کی جلد تکمیل ترجیح ہے۔ پوری کوشش ہے کہ دن رات محنت کرکے لاہور رنگ روڈ سدرن لوپ تھری کو فروری کے آغاز میں ٹریفک کیلئے کھول دیاجائے۔ لاہور رنگ روڈ سدرن لوپ تھری میگا پراجیکٹ ہے،مقررہ مدت سے قبل کھول کر عوام کوجلد ازجلد آمد ورفت کی بہترین سہولتیں فراہم کرنا چاہتے ہیں۔ وزیراعلیٰ محسن نقوی نے دودوچھہ ڈیم پراجیکٹ کے حوالے سے فوری اقدامات اور چن دا قلعہ فلائی اوور پراجیکٹ پرجلد کام شروع کرنے کی ہدایت کی۔انہوں نے ہدایت کی کہ چند دا قلعہ فلائی اوور پراجیکٹ کے حوالے سے ٹریفک کے متبادل روٹس کا جائزہ لیا جائے۔ اجلاس میں جہلم لئلہ روڈاورراولپنڈی کے عمار چوک کو کچہری تا سکیم تھری اور جے ایس ہیڈکوارٹر تا کچہری کو سگنل فری پراجیکٹ کا جائزہ لیا گیا۔ایف ڈبلیو او حکام نے مختلف پراجیکٹس پر ہونے والے پیشرفت کے بارے میں بریفنگ دی۔چیف سیکرٹری زاہد اختر زمان، ڈی جی ایف ڈبلیو اومیجر جنرل عبدالسمیع، چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ، سیکرٹری تعمیرات و مواصلات، سیکرٹری ہاؤسنگ، چیئرمین پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ اور متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی

    پاکستان کا جوابی وار، ایران میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا،

     پاکستانی خود مختاری کی خلاف ورزی تعلقات، اعتماد اور تجارتی روابط کو نقصان پہنچاتی ہے

    شہباز شریف نے ملکی فضائی حدود میں ایرانی دراندازی کی مذمت کی

    وجہ سمجھ نہیں آتی جو ایران کی طرف سے ہوا

     انڈین وزیر خارجہ کے دورہ ایران سے شکوک وشبہات میں اضافہ ہورہا ہے ۔

    پاکستان نے بدلہ لے لیا،بڑی کاروائی،میزائلوں کی بارش،دشمنوں پر کاری ضرب

    ایران کے پاس اب آپشن ہے کہ یا تو خاموش ہو جائے یا پھر جنگ کے طویل سفر کے لئے تیار ہو جائے

  • مسئلہ فلسطین حل ہوجائے تو سعودی عرب اسرائیل کو تسلیم کرسکتا ہے،سعودی وزیرخارجہ

    مسئلہ فلسطین حل ہوجائے تو سعودی عرب اسرائیل کو تسلیم کرسکتا ہے،سعودی وزیرخارجہ

    ڈیووس: سعودی وزیرخارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا کہ مسئلہ فلسطین حل ہوجائے تو سعودی عرب اسرائیل کو تسلیم کرسکتا ہے۔

    باغی ٹی وی: ڈیووس میں عالمی اقتصادی فورم کے اجلاس میں پینل ڈسکشن میں سعودی وزیر خارجہ سے سوال ہوا کہ مسئلہ فلسطین حل ہونےکے بعد سعودی عرب اسرائیل کو تسلیم کرسکتاہے؟ اس پر سعودی وزیرخارجہ نے کہا کہ’یقیناً‘،سعودی عرب کی اولین ترجیح غزہ میں جنگ بندی ہے، بحیرہ احمر میں حوثیوں کے حملوں کا تعلق غزہ جنگ سے ہے، غزہ میں فوری جنگ بندی ہونی چاہیے۔

    ان کا کہنا تھاکہ غزہ کے مصائب جاری رہےتو تنازعات کا چکر چلتا رہےگا، اسرائیلی کارروائیوں سے خطے کی امن وسلامتی خطرے میں پڑگئی ہے، فلسطینی ریاست کے قیام سے ہی علاقائی امن قائم ہوسکتا ہے، غزہ میں بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔

    مقدمے کیلئے درخواست نہیں،، پولیس کی ہیلپ لائن 15 پر کال کو ہی ای …

    دوسری جانب امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب سے تعلقات کیلئے اسرائیل کو اب بھاری قیمت چکانی پڑے گی، غزہ جنگ کے بعد سعودی عرب اب زیادہ مطالبات منوانے کی کوشش کرسکتا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں سعودی عرب کے سفیر نے منگل کے روز بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ تعلقات کو معمول پر لانے میں ”قطعی دلچسپی“ ہے شہزادہ خالد بن بندر کا مزید کہنا تھا کہ ’1982 سے اس میں دلچسپی پائی جاتی ہے‘۔

    سی این این کی رپورٹ میں کہنا ہے کہ حماس کی جانب سے 7 اکتوبر کو اسرائیل پر حملے سے چند ہفتے قبل سعودی عرب نے کہا تھا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات معمول پر لانے کے قریب پہنچ رہا ہےتین ماہ سے جاری غزہ جنگ اور 23 ہزار سے زائد فلسطینیوں کی اموات کے باوجود عرب دنیا حیران ہے کہ سعودی عرب اس بات کا اشارہ دے رہا ہے کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کی بات شاید اب بھی ممکن ہے۔

    سیکرٹری الیکشن کمیشن کا استعفی منظور

    سعودی عرب اور اسرائیل سمیت مشرق وسطیٰ میں شٹل ڈپلومیسی کے ایک اور دورے کے دوران امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ نارملائزیشن مذاکرات جاری ہیں اور ’خطے میں اس کے حصول میں واضح دلچسپی ہےاسرائیل روانگی سے قبل بلنکن نے سعودی عرب میں صحافیوں کو بتایا تھا کہ جہاں تک انضمام اور نارملائزیشن کا تعلق ہے تو ہم نے اس بارے میں ہر اسٹاپ پر بات کی ہے، جس میں سعودی عرب بھی شامل ہے۔

    امریکی وزیر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ میں آپ کو یہ بتا سکتا ہوں، یہاں اس کی پیروی کرنے میں ایک واضح دلچسپی ہے،یہ دلچسپی موجود ہے، یہ حقیقی ہے، اور اس سے تبدیلی آسکتی ہےسعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات کے حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ تعلقات معمول پر لانے کے بدلے سعودی عرب جس قیمت کا مطالبہ کرے گا وہ غزہ جنگ سے پہلے کے مقابلے میں اب زیادہ ہو گی۔

    فلسطینی بچوں کی مدد کیلئےعثمان خواجہ نے ملبوسات بنانے والی کمپنی کے ساتھ معاہدہ …

    اس حوالے سے امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے سعودی وزارت خارجہ سے رابطہ کر کے تبصرہ کیا ہے سعودی مصنف اور تجزیہ کار علی شہابی نے سی این این کو بتایا کہ سعودی حکومت اب بھی اس شرط پر (تعلقات)معمول پر لانے کے لیے تیار ہے کہ اسرائیل دو ریاستی حل کی بنیاد یں بنانے کے لیے زمین پر ٹھوس اقدامات کرے، مثال کے طور پر غزہ سے ناکہ بندی کو مکمل طور پر ختم کرنا، غزہ اور مغربی کنارے میں فلسطینی اتھارٹی کو مکمل طور پر بااختیار بنانا، مغربی کنارے کے اہم علاقوں سے دستبرداری وغیرہ۔

    مقامی انتظامیہ الیکشن کمیشن اور انتخابی عملے کو ہر ممکن تعاون کی فراہمی یقینی بنائے،نگران …

    شہابی نے کہا کہ یہ اقدامات ٹھوس ہونے چاہئیں نہ کہ کھوکھلے وعدے جن کے بارے میں اسرائیل نارملائزیشن کے بعد بھول سکتا ہے جیسا کہ اس نے (اسرائیل کے ساتھ) نارملائزیشن کرنے والے دیگر ممالک کے ساتھ کیا تھا،اگرچہ امریکی وزیر خارجہ بلنکن نے غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ نہیں کیا ، لیکن انہوں نے مزید کہا کہ مشرق وسطی میں اسرائیل کے مزید انضمام کے لئے ضروری ہے کہ ”غزہ میں تنازعہ ختم ہو“ اور ساتھ ہی فلسطینی ریاست کے لئے ”عملی راستہ“ کی راہ ہموار ہو۔

    دوسری جانب مغربی طاقتوں کی ایما پر اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ فلسطین کے علاقے غزہ پر بمباری جاری ہے۔ گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں اسرائیلی بمباری سے 150 سے زیادہ فلسطینی شہید ہوگئے۔ اسرائیلی حملوں میں شہید فلسطینیوں کی تعداد24 ہزار285 ہوگئی جبکہ 61 ہزار سے فلسطینی زخمی ہوچکےہیں۔

    بیرون ملک سے کراچی پہنچنے والے مزید 2 مسافروں میں کورونا کی تشخیص

  • سعودی عرب میں ایک بہت بڑا 4 ہزار سال قدیم قلعہ دریافت

    سعودی عرب میں ایک بہت بڑا 4 ہزار سال قدیم قلعہ دریافت

    نخلستان: ماہرین آثار قدیمہ نے شمالی عرب کے صحرا میں خیبر نخلستان کے ارد گرد ایک بہت بڑا 4 ہزار سال قدیم قلعہ دریافت کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : عرب میڈیا کے مطابق اس قلعے کا انکشاف فرانس میں سینٹرنیشنل ڈی لاریچرچی سائنٹیفیک (سی این آر ایس) اور سعودی عرب کے آثار قدیمہ کمیشن رائل کمیشن فار ال اولا کے سائنسدانوں نے کیا ہےاس علاقے میں قلعے کبھی 14.5 کلومیٹر تک پھیلے ہوئے تھے اور 1.7 سے 2.4 میٹر کے درمیان موٹے تھے قلعے کی دیواریں 5 میٹر تک اونچی ہوں گی جنہوں نے تقریبا 1،100 ہیکٹر کا علاقہ گھیرا ہوگا۔

    سائنس دانوں کی ٹیم کا اندازہ ہے کہ اس بستی کی دیواریں 2250 سے 1950 قبل مسیح کے درمیان تعمیر کی گئی تھیں، جو کھدائی کے دوران جمع کیے گئے نمونوں کی ریڈیو کاربن ڈیٹنگ کی بنیاد پر ہےچار ہزار سال بعد بھی نصف سے بھی کم دیواروں کی لمبائی اور 74 قلعے محفوظ ہیں.

    11 جنوری، مبشر لقمان کی سالگرہ

    شمال مغربی عرب میں کانسی کے دور (3300-1200 قبل مسیح) میں دیواروں والے نخلستانوں کی ایک بڑی تعداد پائی گئی ہےاس دور میں قلعہ بند بستیاں بہت زیادہ تھیں جن میں یورپی ”میگا قلعے“ بھی شامل تھےاس خطے میں نخلستانوں کو انسانی آبادی نے4 سے 5 ہزار سال سے آباد کیا ہے-

    ایم کیو ایم نے قومی اسمبلی کے حلقوں کیلئے امیدواروں کا اعلان کر دیا

    عرب ریگستان دنیا کے کچھ قدیم ترین قلعوں کا گھر ہیں جن میں دنیا کا سب سے بڑا مانا جانے والا پتھر کا قلعہ اور شام میں حلب کا قلعہ بھی شامل ہے جو 4،500 سال سے آباد ہےخیبر نخلستان قلعہ اس علاقے میں دیواروں والے نخلستانوں کے نیٹ ورک سے تعلق رکھتا تھا یہ کیوں تعمیر کیا گیا تھا اور اس کی تعمیر کرنے والے معاشرے کی نوعیت اب بھی ایک راز ہے لیکن یہ دریافت شمال مغربی عرب میں انسانی قبضے پر نئی روشنی ڈالتے ہوئےاسلام سے پہلے کے دور میں سماجی پیچیدگیوں سے متعلق تفہیم میں اضافہ کرتی ہے۔

    غزہ: اسرائیلی فوج کا ایمبولینس پر حملہ،فلسطینی ہلال احمر کے 4 کارکن …

  • بھارتی وفد کا دورہ مدینہ منورہ،سوشل میڈیا صارفین کی سعودی حکام پر تنقید

    بھارتی وفد کا دورہ مدینہ منورہ،سوشل میڈیا صارفین کی سعودی حکام پر تنقید

    بھارت کی حکمران جماعت بی جے پی کی یونین وزیر سمراتی ایرانی کی قیادت میں بھارتی وفد نے مدینہ منورہ کا دورہ کیا ہے
    سعودی حکام نے پہلی بار کسی غیر مسلم وفد کو خصوصی درخواست پر اس طرح مدینہ منورہ کا دورہ کروایا ہے، اس دورے کو لے کر سوشل میڈیا پر کڑی تنقید کی جا رہی ہے، بھارتی میڈیا کے مطابق مسلمانوں کے مقدس ترین مقامات میں سے ایک مسجد نبوی کا دیدار کرنے والی وہ پہلی ہندو خاتون ہیں

    سعودی وزارت حج کے زیر انتظام بین الاقوامی حج و عمرہ کانفرنس، نمائش پیر 8 جنوری سے جدہ کے سپرڈوم میں شروع ہوئی ہے جو 11 جنوری تک جاری رہے گی جس میں 80 سے زیادہ ملکوں کے وزرا اور عہدیدار شرکت کر رہے ہیں،اس کانفرنس کے پیش نظر بھارتی وزیر اقلیت سمرتی ایرانی، وزیر مملکت برائے امور خارجہ وی مرلی دھرن اور دیگر اعلیٰ حکام سعودی عرب کے دو روزہ دورےپر ہیں.اس دورے کے دوران سعودی حکام نے پہلی بار بھارتی وفد کو مسجد نبویﷺ کا دورہ بھی کروایا، جس کی تصدیق خود سمرتی ایرانی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر مختلف پوسٹ شیئر کرتے ہوئے کی.

    سمرتی ایرانی نے مدینہ منورہ کے دورے کو تاریخی قرار دیا اور کہا کہ ان کے وفد نے مدینہ منورہ میں مسجد نبوی ﷺ کا دورہ کیا، اس کے بعد احد پہاڑ اور مسجد قبا کی زیارت بھی کی ، سمرتی ایرانی نے ٹویٹر پر دورے کی تصاویر بھی شیئر کی ہیں،

    واضح رہے کہ غیر مسلموں کو 2021 تک مدینے میں داخلے کی اجازت نہیں تھی جس کے بعد قوانین میں نرمی کے باعث وہ شہر کے وسط میں مسجد نبویﷺ کے اطراف تک جا سکتے ہیں

    سماجی رابطےکی ویب سائٹ ٹویٹر پر ایک صار امبر نے لکھا کہ سعودی تاریخ میں پہلی بار حکومتی دعوت نامے پر انڈیا سے آئے غیر مسلم وفد کو نا صرف غیر مسلموں کے داخلے کے لئے ممنوع مکہ و مدینہ میں اینٹری دی گئی،ماضی کے مشہور ڈرامے ساس بھی کبھی بہو تھی کی اداکارہ سمرتی تلسی ویرانی نے اپنے وفد کے ساتھ مدینہ منورہ کا دورہ کیا افسوس سعودی حکومت بھول گئی کہ حرم میں غیر مسلموں کا داخلہ منع ھے

    ایک صارف صبا زاہد نے لکھا کہ یہ ہیں وہ انڈین اداکارہ اور لو ک سبھا کی کٹر ہندو جو مدینہ منورہ پہنچی ہیں اپنے ڈیلیگیشن کے ساتھ مدینہ منورہ کی ہاک زمیں پر ان لوگوں کو کیسے آنے دیا گیا ،ہم لوگ کیا تمام اسلامی ممالک سعودیہ سے سوال کریں گے؟وہ کیسے ان کو اجازت دے سکتے ہیں ۔۔؟کیا کسی مسلم ملک بشمول پاکستان اتنی غیرت ہے کہ سوال کرے

    بھارتی وزیراعظم کی خواہشات کیا….امریکی اخبار نے بتا دیا

    گجرات فسادات میں‌ ملوث ڈیڑھ سو انتہاپسند پکڑنے والے سابق بھارتی پولیس افسر کو عمر قید کی سزا

    دہلی فسادات اور 2002 کے گجرات فسادات میں گہری مماثلت،ہندوؤں کی دکانیں ،گھر کیوں محفوظ رہے؟ سوال اٹھ گئے

     عمر قید کی سزا پانے والے 11 مجرموں کی معافی کالعدم 

  • سعودی مالی معاونت کے ذریعے بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی

    سعودی مالی معاونت کے ذریعے بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی

    اسلام آباد : سعودی مالی معاونت کے ذریعے بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی، سعودی عرب کی جانب سے ماہ دسمبر کی تنخواہ کی مد میں 300 ملین روپے دیے گئے،گزشتہ اور حالیہ مالی سال میں تنخواہوں کی مد میں سعودی عرب کی جانب سے 818 ملین کی معاونت کی گئی-

    باغی ٹی وی: بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے صدر ڈاکٹر ھذال حمود العتیبی نے یونیورسٹی کو مالی بحران سے نکالنے کے لیے اپنی کوششوں کو جاری رکھتے ہوئے سعودی امداد کے ذریعے دسمبر کے مہینے کی جامعہ کے ملازمین کی تنخواہوں کا انتظام سعودی فنانشل سپورٹ فنڈ کے ذریعے کیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق، سعودی عرب کی جانب سے ڈاکٹر ھذال کے دور صدارت میں 818 ملین روپے "تنخواہ کی ادائیگی کے لیے تعاون” کی مد میں جامعہ کو سعودی عرب کی جانب سے دیے گئے جبکہ ماہ دسمبر کی ملازمین کی تنخواہوں کا بندوبست 300 ملین پاکستانی روپے مالیت کی امداد سے کیا گیا۔ سعودی عرب کی جانب سے مالی سال 2022- 23 میں کی جانے والی امداد میں بجٹ سپورٹ ، بقایا جات کی ادائیگی، مرمت کے کام، طلبا سہولت مرکز کی تشکیل اور الاؤنسز کی ادائیگی شامل ہے مزید برآں، "یونیورسٹی ڈویلپمنٹ پراجیکٹس سپورٹ” کی مد میں جامعہ کو سعودی عرب کی جانب سے 86 ملین پاکستانی روپے جاری کیے گئے۔

    2020 میں جامعہ میں بطور صدر تعیناتی کے بعد سے ڈاکٹر ھذال حمود نے اسٹریٹجک پلان کی روشنی میں اپنی اصلاحات کے ذریعے یونیورسٹی کو سعودی فنڈنگ کے ذریعے تنخواہوں، بقایا جات اور ترقیاتی منصوبوں کا انتظام کرنے میں بھرپور کردار ادا کیا۔ مزید برآں، ان کے دور میں ایک عظیم الشان مسجد یونیورسٹی کے نئے کیمپس میں پہلے ہی سعودی حکومت (تقریباً 32 ملین ڈالر کی لاگت کے ساتھ) کی منظوری دے چکی ہے۔ ڈاکٹر ھذال نے ایک بار پھر یونیورسٹی کو مالیاتی بحران سے نکالنے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے اور یقین دلایا ہے کہ تعلیمی و تحقیقی میدان میں جامعہ کی بہترین کارکردگی اولین ترجیح رہے گی۔

    یونیورسٹی کی ریکٹر ڈاکٹر ثمینہ ملک نے یونیورسٹی کی مسلسل معاونت پر سعودی حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ یونیورسٹی دونوں برادر ممالک کے درمیان مضبوط رشتے کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ خادمین حرمین الشریفین نے ہمیشہ جامعہ کی مدد کے لئے فراخدلی کا مظاہرہ کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پوری یونیورسٹی کمیونٹی جامعہ کی مالی معاونت پر سعودی عرب کی شکر گزار ہے۔

  • سعودی عرب میں آج سے  30 دسمبر تک بارشوں کا امکان

    سعودی عرب میں آج سے 30 دسمبر تک بارشوں کا امکان

    ریاض: سعودی عرب کے بیشتر علاقوں میں منگل 26 دسمبر سے ہفتہ 30 دسمبر 2023 تک بارشوں کا امکان ہے۔

    باغی ٹی وی :سعودی محکمہ موسمیات کے مطابق مملکت کے مختلف علاقوں میں بارشوں سے قبل تیز اور گرد آلود ہواؤں کا بھی امکان ہے،مکہ مکرمہ، طائف، جدہ، اللیث، بحرہ، الجموم، الکامل، اضم، العرضیات، میسان اور خلیص میں منگل سے جمعے تک شدید گرج چمک اور بارش کا امکان ہے جبکہ بدھ اور جمعرات کو تیز بارش ہوسکتی ہے۔

    بدھ سے جمعے تک مکہ ریجن کے تربہ، المویہ، الخرمہ، رنیہ اور القنفذہ میں ہلکی بارش متوقع ہےمنگل سے جمعرات تک مدینہ منورہ ریجن جبکہ بدھ اور جمعرات کو مدینہ منورہ، المھد، الحناکیہ، خیبر، العلا، وادی الفرع میں بارش ہوسکتی ہے،ریاض اور اس کے اطراف کے علاقوں میں منگل سے ہفتے تک ہلکی اور تیز بارش ہوسکتی ہے ریاض، رماح، ثادق، مرات، المزاحمیہ، الحریق، الخرج اور حوطہ بنی تمیم میں جمعے اور ہفتے کو بارش کی پیشگوئی کی ہےمنگل سے جمعرات تک ینبع، العیص اور بدر کے علاقے بھی بارش سے متاثر رہیں گے۔

    انسانی اسمگلنگ کا شُبہ:فرانس نے طیارہ واپس بھارت بھیج دیا

    سعودی محکمہ موسمیات کے مطابق حائل ریجن میں بھی منگل سے جمعے تک جبکہ بدھ اور جمعرات کو اس کی دیگر کمشنریوں میں بھی بارش کا امکان ہےقصیم ریجن میں بریدہ، عنیزہ، البکیریہ، الاسیاح، ریاض الخبراء، عقلہ، الصقور، البدائع، الرس، النبھانیہ، ضریہ، المذنب، عیون، الجواء الشماسیہ میں بھی کل سے ہفتے تک بارش کا امکان ہےتبوک ریجن میں املج، تیما میں بدھ اور جمعرات جب کہ حقل، البداع، ضباء اور الوجہ میں بدھ اور جمعرات کو بارش ہوسکتی ہے۔

    ڈیوڈ وارنر نے پاکستان کے شاندار باؤلرز کی تعریف کی

  • سعودی عرب میں ارتداد اور  ہم جنس پرستی سزاؤں کو ختم ہونا چاہیے ،اطالوی وزیراعظم

    سعودی عرب میں ارتداد اور ہم جنس پرستی سزاؤں کو ختم ہونا چاہیے ،اطالوی وزیراعظم

    روم: اٹلی کی وزیراعظم جارجیا میلونی نے کہا ہے کہ یہ بات میرے ذہن سے نہیں نکلتی کہ اٹلی میں زیادہ تر اسلامی ثقافتی مراکز کو سعودی عرب کی طرف سے مالی مدد فراہم کی جاتی ہے-

    باغی ٹی وی: عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اٹلی کی وزیراعظم نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ اٹلی کے زیادہ تر اسلامی ثقافتی مراکز کو سعودی عرب مالی امداد فراہم کرتا ہے جو ہم جنس پرستی اور زنا کے لیے سخت ترین سزائیں محفوظ رکھتا ہے، اسلامی ثقافت اور یورپی تہذیب کی اقدار اور حقوق میں ’موازنیت کا مسئلہ‘ ہے،یہ بات سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں کی تاہم یہ واضح نہیں کہ ویڈیو کب اور کہاں کی ہے۔
    https://x.com/Geopoliticalkid/status/1736587651606811000?s=20
    یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر اس وقت وائرل ہوئی ہے جب دائیں بازو کی انتہائی قدامت پسند جماعت اٹلی پارٹی کے زیر اہتمام ایک تقریب منعقد کی گئی تھی جس میں برطانوی وزیراعظم رشی سونک اور ارب پتی ایلون مسک نے بھی شرکت کی تھی-

    داؤد ابراہیم کو زہر دے دیا گیا،کراچی کے ہسپتال میں داخل،بھارتی میڈیا کا دعویٰ

    وائرل ویڈیو میں اٹلی کی وزیراعظم جارجیا میلونی نے سعودی عرب اور وہاں شریعت پر مبنی قانون بالخصوص ارتداد اور ہم جنس پرستی کی سزاؤں پر اطالوی زبان میں تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان سزاؤں کو ختم ہونا چاہیے یہ بات میرے ذہن سے نہیں نکلتی کہ اٹلی میں زیادہ تر اسلامی ثقافتی مراکز کو سعودی عرب کی طرف سے مالی مدد فراہم کی جاتی ہے میرا ماننا ہے اسلامی ثقافت کی ایک مخصوص تشریح اور ہماری تہذیب کے حقوق اور اقدار کے درمیان مطابقت کا مسئلہ ہے،سعودی عرب ایک ایسی قوم ہے جو گھر پر شریعت کا اطلاق کرتی ہے، اور شریعت کا مطلب ہے زنا کے لیے پھانسی، ارتداد کے لیے سزائے موت، ہم جنس پرستی کے لیے سزائے موت، میرا ماننا ہے کہ یہ مسائل اٹھائے جانے چاہئیں جس کا مطلب اسلام کو عام کرنا نہیں ہے اس کا مطلب یہ مسئلہ اٹھانا ہے کہ یورپ میں اسلامائزیشن کا ایک ایسا عمل ہے جو ہماری تہذیب کی اقدار سے بہت دور ہے۔

    2023 کی عالمی اقتصادری درجہ بندی، دس سرفہرست ممالک

    اٹلی کی وزیراعظم کے اس وائرل بیان پر حکومت کی جانب سے کسی قسم کا ردعمل سامنے نہیں آیا۔