Baaghi TV

Tag: سعودی عرب

  • وزیر اعظم محمد شہباز شریف سعودی عرب کے دورے پر ریاض پہنچ گئے

    وزیر اعظم محمد شہباز شریف سعودی عرب کے دورے پر ریاض پہنچ گئے

    ریاض: وزیراعظم سعودی عرب کے دو روزہ دورے پر ریاض پہنچ گئے ہیں-

    باغی ٹی وی : نائب گورنر ریاض شہزادہ محمد بن عبدالرحمان بن عبدالعزیز نے میاں محمد شہباز شریف کا ریاض پہنچنے پر استقبال کیا وزیراعظم کے ہمراہ اعلیٰ سطحی وفد بھی ہے جس میں وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب اور وزیر مملکت برائے خارجہ امور حنا ربانی کھر شامل ہیں۔

    وزیر اعظم محمد شہباز شریف ڈیووس ان دی ڈیزرٹ کانفرنس میں شرکت کیلئے سعودی عرب روانہ

    میاں شہباز شریف سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی دعوت پر دورہ کر رہے ہیں، دورے کے دوران ان کی سعودی عرب کے فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقاتیں ہوں گی جن میں دو طرفہ تعلقات کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

    وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف اپنے دورہ سعودی عرب کے دوران ’ڈیووس ان دی ڈیزرٹ‘ کے نام سے ہونے والی سرمایہ کاری کانفرنس میں شرکت کریں گے وزیراعظم اس موقع پر پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع کو اجاگر کریں گے سرمایہ کاری کانفرنس کی تھیم ’انسانیت کے لیے سرمایہ کاری: ایک نئے گلوبل آرڈر کی تشکیل‘ ہے۔

    ریاض میں منعقد ہونے والی یہ کانفرنس 2017 سے باقاعدگی سے منعقد ہونے والا ایک سالانہ ایونٹ بن گیا ہے۔

    رواں سال کا ایڈیشن منگل 25 اکتوبر سے شروع ہو کر جمعرات تک جاری رہے گا اور اس میں دنیا کے مختلف حصوں سے 6 ہزار مندوبین شرکت کریں گے جن میں ملٹی نیشنل کمپنیوں کے اعلیٰ کارپوریٹ ایگزیکٹوز، پالیسی ساز، سرمایہ کار، کاروباری اور نوجوان رہنما شامل ہوں گے۔

    ارشد شریف کی موت،وزیراعظم کا کینیا کے صدر سے رابطہ ،شفاف تحقیقات کا مطالبہ

    اس عالمی سرمایہ کاری کانفرنس کی میزبانی فیوچر انویسٹمنٹ انیشی ایٹو انسٹی ٹیوٹ کرتا ہے جو کہ سرکاری طور پر سعودی حکومت سے منسلک نہیں لیکن وہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی نگرانی میں کام کرتا ہے۔

    سرمایہ کاری کانفرنس کا دوسرا ایڈیشن 2018 میں صحافی جمال خاشقجی کے قتل سے گہنہ گیا تھا جب کہ رواں سال اوپیک کی تیل کی پیداوار میں کٹوتی پر امریکا-سعودی تنازع کے سائے میں منعقد ہو رہی ہے اسی تنازع کی وجہ سے امریکی حکام کو منتظمین کی جانب سے رواں سال کی کانفرنس میں مدعو نہیں کیا گیا۔

    کانفرنس کے منتظمین کا کہنا ہے کہ وہ نہیں چاہتے کہ سرمایہ سے متعلق پروگرام کے دوران سیاست کو مرکزی حیثیت حاصل ہو، کانفرنس میں سرمایہ کاری اور کاروبار پر ہی توجہ مرکوز رکھی جانی چاہیے، تاہم تقریباً 400 اعلیٰ امریکی کاروباری شخصیات نے کانفرنس میں شرکت کی تصدیق کی ہے۔

    پاکستان نے تیل کی پیداوار میں کمی سے متعلق فیصلے پر امریکا کے مقابلے میں سعودی عرب کا ساتھ دیا۔

    کانفرنس میں اداروں کے خلاف بلا جواز نعرہ بازی ،وزیراعظم نے کی مذمت

  • بجلی کی ترسیل کیلئے سعودیہ اور بھارت کا زیر سمندر کیبلز بچھانے کے منصوبے پر غور

    بجلی کی ترسیل کیلئے سعودیہ اور بھارت کا زیر سمندر کیبلز بچھانے کے منصوبے پر غور

    سعودی عرب اور بھارت بجلی کی ترسیل کے لیے زیر سمندر تاریں بچھانے کے منصوبے پر غور کر رہے ہیں-

    باغی ٹی وی : بزنس اسٹینڈرڈ اور اکنامک ٹائمز نے اپنی رپورٹس میں انکشاف کیا ہے کہ سعودی عرب اور ہندوستان بجلی کی ترسیل کے لیے زیر سمندر تاریں بچھانے کے منصوبے پر غور کر رہے ہیں جس سے ہندوستان کے مغربی ساحل کو سعودی عرب سے ملایا جا سکے گا گجرات کا ساحل جلد ہی گہرے سمندر کی تاروں سے مشرق وسطیٰ سے منسلک ہو سکتا ہے، جس سے گرین انرجی گرڈ بنایا جائے گا-

    سعودی عرب کے مستقبل کے شہر "دی لائن” کے تعمیراتی کام کا آغاز ہو گیا

    یہ منصوبہ اس ایجنڈے کا حصہ بننے والا ہے جس پر سعودی وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان اگلے جمعہ کو نئی دہلی کے دورہ کے دوران بحث کی جائے گی ۔ اس دورہ کا مقصد نومبر میں سعودی وزیر اعظم اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ہندوستان کے دورے کی تیاری کرنا ہے زیر سمندر کیبلز کا منصوبہ ہندوستان میں ان کے ایجنڈے کا حصہ ہوگا۔

    ذرائع نے بھارتی اخبار کو بتایا ہے کہ دونوں فریقوں میں ایک پاور نیٹ ورک کے لیے زیر سمندر کیبل پر بات چیت شروع کرنے کا امکان ہے۔ اس نیٹ ورک میں میں جنوبی ایشیا اور خلیجی ریاستیں شامل ہیں۔

    اس معاملے کی جانکاری والے عہدیداروں نے کہا کہ دونوں فریق ممکنہ طور پر جنوبی ایشیا اور خلیجی ممالک پر مشتمل الیکٹریکل گرڈ کے لیے زیر سمندر کیبلز پر بات چیت شروع کر سکتے ہیں، اس بات چیت کو تیل کی برآمدات سے آگے بڑھاتے ہوئے دونوں ممالک اس منصوبے کی کاروباری صلاحیت کی چھان بین کر رہے ہیں۔

    روسی صدرکومکمل طورپرتنہا کردینا خطرناک ہو سکتا ہے، فرانسیسی وزیرخارجہ

    صنعت کے ابتدائی تخمینوں کے مطابق، ابوظہبی حکومت بھی 15 بلین سے 18 بلین ڈالر کے درمیان سرمایہ کی لاگت کے ساتھ اس منصوبے میں شامل ہو سکتی ہے۔

    سرکردہ کارپوریشنز جیسے ٹاٹا گروپ، ریلائنس انڈسٹریز لمیٹڈ، جے ایس ڈبلیو، اور اڈانی، اور دیگر کو پہلے ہی بھارت میں سعودی سفیر کی طرف سے دعوت نامے موصول ہو چکے ہیں اور ان کی رائے طلب کی گئی ہے سعودی ولی عہد انڈونیشیا، جنوبی کوریا اور جاپان کے سفر سے پہلے پہلے بھارت کا دورہ کریں گے۔

    بحیرہ عرب گجرات کے ساحل (مندرا بندرگاہ) کو امارت فجیرہ سے 1,600 کلومیٹر کے فاصلے پر الگ کرتا ہے۔ یہ کیبل ممکنہ طور پر عمان کے راستے 1,200 کلومیٹر کا سفر کر سکتی ہے، جس کا گہرا نقطہ 3.5 کلومیٹر ہے۔

    ذرائع کے مطابق، تین سال قبل، پیٹرولیم اور قدرتی گیس کے حکام نے ایک فزیبلٹی اسٹڈی کی تھی لیکن ہندوستانی حکومت کی جانب سے انٹرنیشنل سولر الائنس کے لیے دباؤ کے نتیجے میں یہ منصوبہ ابھی آگے بڑھنا شروع ہوا ہے۔

    واضح رہے کہ بہت سے ممالک توانائی کے لیے برقی تاروں کے ذریعے براعظموں کو جوڑ رہے ہیں تیل اور گیس کی اونچی قیمتوں کے تناظر میں یورپ کو بھی توانائی کے بحران کا سامنا ہے، روس 2021 میں تیل اور گیس کا سب سے بڑا سپلائر تھا جو یورپی یونین کی توانائی کی کل ضروریات کا تقریباً 40 فیصد فراہم کرتا تھا۔

    شی جن پنگ تیسری بار چین کے صدر منتخب،وزیراعظم شہباز شریف کی مبارکباد

    العربیہ کے مطابق برطانیہ اور ناروے بھی سمندر کے نیچے 800 کلومیٹر طویل کیبل کے ذریعے ہائیڈرو اور آف شور ونڈ پاور کا اشتراک کر رہے ہیں۔

    یونان یورپ میں توانائی کے سب سے زیادہ پرجوش منصوبوں میں سے ایک پر کام شروع کر رہا ہے۔ یونان اپنے الیکٹرک گرڈ کو مصر میں بجلی کے گرڈ سے جوڑ کر پانی کے اندر کیبل بچھا کر 3000 میگا واٹ بجلی منتقل کرے گا یہ بجلی 4.5 گھروں کو فراہم کرنے کیلئے کافی ہے۔

    یہ کیبل شمالی مصر سے براہ راست یونان کے اٹیکا تک جائے گی اس منصوبے کو کوپیلوزوس گروپ نے شروع کیا ہے۔

    3.5 ارب یورو کی لاگت سے انٹر کنیکشن منصوبے GREY کو یورپی یونین کی جانب سے شروع کیا گیا مشترکہ دلچسپی کا اہم منصوبہ سمجھا گیا ہے۔ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ منصوبہ یورپی یونین کے توانائی کے نظام کے بنیادی ڈھانچے کو جوڑنے کے لئے ایک اہم ترجیح ہے۔

    مصر اور دیگر افریقی ممالک میں پیدا ہونے والی صاف بجلی کو ہوا اور شمسی فارموں کے ذریعے پانی کے اندر کیبلز کے ذریعے منتقل کیا جائے گا۔

    العربیہ کے مطابق مصر نے پہلے ہی لیبیا، سوڈان اور سعودی عرب کے ساتھ باہمی رابطے کے منصوبے مکمل کر لیے ہیں، مصر جنوب مشرقی یورپ میں توانائی کا ایک بڑا مرکز بننے کا خواہاں ہے۔

    دبئی میں ایک ارب درہم کی لاگت سے کتابی شکل کی سات منزلہ لائبریری

    اسی طرح4 ہائی وولٹیج ڈائریکٹ کرنٹ برقی کیبلز برطانیہ کے جنوبی ساحل سے 3800 کلومیٹر دور سمندر کے نیچے چلتی ہیں۔ یہ تاریں وسطی مراکش میں صحرا کے ایک حصے سے جوڑی جائیں گی۔

    سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک بھی بجلی پیدا کرنے کے لیے درکار توانائی کے ذرائع کو متنوع بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس وقت سعودی عرب کی بجلی قدرتی گیس سے 52 فیصد، تیل سے 40 فیصد اور بھاپ سے 8 فیصد پیدا ہوتی ہے۔

    بجلی کی شدید قلت کے باعث سعودی عرب کو 2032 تک اپنی 55 گیگا واٹ کی صلاحیت کو 120 گیگا واٹ تک بڑھانا ہوگا۔

  • وزیر اعظم محمد شہباز شریف ڈیووس ان دی ڈیزرٹ کانفرنس میں شرکت کیلئے سعودی عرب روانہ

    وزیر اعظم محمد شہباز شریف ڈیووس ان دی ڈیزرٹ کانفرنس میں شرکت کیلئے سعودی عرب روانہ

    اسلام آباد: وزیر اعظم محمد شہباز شریف دو روزہ دورے پر سعودی عرب روانہ ہو گئے.

    باغی ٹی وی : وزیر اعظم محمد شہباز شریف سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان کی دعوت پر دو روزہ سرکاری دورے کے لیے سعودی عرب روانہ ہو گئے ہیں جہاں ’ڈیووس ان دی ڈیزرٹ‘ کے نام سے ہونے والی سرمایہ کاری کانفرنس میں شرکت کریں گے۔

    وزیراعظم شہبازشریف آج پاکستان سے سعودی عرب چلے جائیں گے

    دارلحکومت ریاض میں اپنے قیام کے دوران وزیراعظم سعودی ولی عہد سے ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی شعبے میں کثیر جہتی تعاون کو مزید مضبوط بنانے اور دیرینہ برادرانہ تعلقات میں مزید بہتری کے حوالے سے مشاورت کریں گے ۔

    وزیراعظم سعودی فیوچر انویسٹمنٹ انیشیٹو سمٹ میں بھی شرکت کریں گے۔

    ریاض میں منعقد ہونے والی یہ کانفرنس 2017 سے باقاعدگی سے منعقد ہونے والا ایک سالانہ ایونٹ بن گیا ہے۔

    عمران خان کی نااہلی سے متعلق فیصلہ فوری معطل کرنے کی استدعا مسترد

    رواں سال کا ایڈیشن منگل 25 اکتوبر سے شروع ہو کر جمعرات تک جاری رہے گا اور اس میں دنیا کے مختلف حصوں سے 6 ہزار مندوبین شرکت کریں گے جن میں ملٹی نیشنل کمپنیوں کے اعلیٰ کارپوریٹ ایگزیکٹوز، پالیسی ساز، سرمایہ کار، کاروباری اور نوجوان رہنما شامل ہوں گے۔

    اس عالمی سرمایہ کاری کانفرنس کی میزبانی فیوچر انویسٹمنٹ انیشی ایٹو انسٹی ٹیوٹ کرتا ہے جو کہ سرکاری طور پر سعودی حکومت سے منسلک نہیں لیکن وہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی نگرانی میں کام کرتا ہے۔

    ارشد شریف کی موت،وزیراعظم کا کینیا کے صدر سے رابطہ ،شفاف تحقیقات کا مطالبہ

  • وزیراعظم شہبازشریف آج پاکستان سے سعودی عرب چلے جائیں گے

    وزیراعظم شہبازشریف آج پاکستان سے سعودی عرب چلے جائیں گے

    اسلام آباد:وزیراعظم شہبازشریف آج پاکستان سے سعودی عرب چلے جائیں گے ،اطلاعات کے مطابق ولی عہد محمد بن سلمان کی دعوت پر وزیراعظم شہباز شریف آج دو روزہ دورے پر سعودی عرب روانہ ہونگے۔

    ’‘ ڈالر کی قیمت میں لائی گئی کمی "آنکھ کا دھوکہ:یعنی مصنوعی ہوگی’’:ماہرین…

    وزیراعظم سعودی سرمایہ کاری کے حوالے سے منعقد ہونے والی کانفرنس میں شرکت کیلئے دو روزہ دورے پر روانہ ہورہے ہیں جہاں اُن کی سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز سے ملاقات ہوگی۔

    بھارت نوازایمپائرنگ:بھارت کیخلاف آخری اوور میں نواز کی نوبال متنازع ہوگئی، سابق…

    خیال رہے کہ شہباز شریف سعودی ولی عہد کی دعوت پر یہ دورہ کررہے ہیں جبکہ امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ اس دورے کے بعد اگلے ماہ محمد بن سلمان کی پاکستان آمد متوقع ہے۔

     

    یاد رہے کہ وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد وزیراعظم شہبازشریف سعودی عرب گئے تھے،اس وقت بھی سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز کی دعوت پر وزیراعظم محمد شہباز شریف تین روزہ اعلیٰ سطح کے سرکاری دورے پر سعودی عرب میں قیام کیا تھا

    گورنر مکہ خالد بن فیصل آل سعود اور سعودی عرب کے قومی سلامتی کے مشیر ڈاکٹر مسعدبن محمد العیبان نے ہوائی اڈے پر وزیراعظم پاکستان کا استقبال کیا تھا
    وفد میں وفاقی وزرا بلاول بھٹو زرداری، مریم اورنگزیب، خواجہ آصف، خالد مقبول صدیقی، چوہدری سالک حسین اور سابق فاٹا کے علاقے سے رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ بھی شامل تھے ،شپبازشریف نے  روزہ رسول پر حاضری دی اور ریاض الجنتہ میں نوافل ادا کیے۔
  • سعودی عرب کے مستقبل کے شہر "دی لائن” کے تعمیراتی کام کا آغاز ہو گیا

    سعودی عرب کے مستقبل کے شہر "دی لائن” کے تعمیراتی کام کا آغاز ہو گیا

    سعودی عرب کے مستقبل کے شہر "دی لائن” کے تعمیراتی کام کا آغاز ہوگیا ہے۔

    باغی ٹی وی : نیوم شہر سعودی عرب کے اربوں ڈالرز کے منصوبے نیوم کا حصہ ہے جو بحیرہ احمر کے قریب شمال مغربی حصے میں تعمیر کیا جائے گا فضائی فوٹوگرافی کمپنی اوٹ اسکائی کی جانب سے جاری کردہ فوٹیج میں دی لائن میگاسٹی پر کام شروع ہوتا دکھایا گیا ہے ڈرون فوٹیج میں دکھایا گیا ہے کہ صحرا میں اس شہر کے لیے کھدائی کی جارہی ہے۔


    ویڈیو میں، متعدد کھدائی کرنے والوں کو صحرا میں ایک وسیع لکیری خندق کھودتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ خندق کے اندر، شہر کی بنیادیں، جو 170 کلومیٹر طویل ہونے کا منصوبہ ہے، کی تعمیر متوقع ہے۔

    صوبہ تبوک میں تعمیر کیے جانے والا یہ شہر 200 میٹر چوڑی، 500 میٹر اونچی اور 170 کلومیٹر رقبے پر پھیلی ایک عمارت پر مشتمل ہوگاعمارت ایک ورٹیکل سٹی کے طور پر تعمیر کی جائے گی جس میں 90 لاکھ افراد رہائش پذیر ہوسکیں گے-

    سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے جولائی 2022 میں اس شہر کے ڈیزائن کو جاری کیا تھا یہ دنیا کا پہلا شہر ہوگا جس میں توانائی کی ضروریات ماحول دوست ذرائع بشمول سولر اور ہائیڈروجن پاور سے پوری کی جائیں گی۔

    یہاں کوئی سڑک، گاڑی یا دھویں کا اخراج نہیں ہوگا، جبکہ تیز رفتار ٹرین سے لوگ ایک سے دوسری جگہ 20 منٹ کے اندر سفر کرسکیں گے روبوٹ ملازم ہوں گے، اڑنے والی ٹیکسیاں اور مصنوعی چاند بھی اس پراجیکٹ کا حصہ ہوں گے۔

    ڈیزائن کو متعارف کراتے ہوئے سعودی ولی عہد نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ یہ ڈیزائن روایتی طرز تعمیر کو چیلنج کرتا ہے، دی لائن میں ان چیلنجز کا مقابلہ کیا جائے گا جن کا سامنا آج کی شہری زندگی میں انسانوں کو ہوتا ہے اور متبادل ذرائع سے زندگی گزارنے کا موقع ملے گا۔
    500 ارب ڈالرز کے نیوم منصوبے میں شامل اس شہر کو صوبہ تبوک کے صحرائی علاقے میں تعمیر کیا جارہا ہے۔

    سعودی عرب کو توقع ہے کہ نیوم منصوبے کی تعمیر کے بعد ہر سال 10 کروڑ سیاح اس کے مختلف حصوں کو دیکھنے کے لیے آئیں گے جس سے اربوں ڈالرز کی آمدنی ہوگی دی لائن کی تعمیر کا اعلان 2021 میں ہوا تھا مگر اب اس کی تعمیر کا آغاز ہوا ہے۔

    خیال رہے کہ نیوم میں تعمیر کیے جانے والے شہروں کو اے آئی سسٹمز پر چلایا جائے گا، روبوٹ ملازم ہوں گے، اڑنے والی ٹیکسیاں اور مصنوعی چاند بھی اس پراجیکٹ کا حصہ ہوں گے۔

    عالمی خبررساں ادارے ڈیزین سے ایک خصوصی انٹرویو میں بات کرتے ہوئے، نیوم کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر برائے شہری منصوبہ بندی طارق قدومی نے کہا کہ دی لائن میگا سٹی "ہمارے موجودہ طرز زندگی میں انقلاب برپا کرے گی” اور اپنی زندگی بھر میں خالص صفر رہے گی۔

    تاہم، ماہرین نے اس منصوبے کی پائیداری اور زندہ رہنے کے دعووں کی تردید کی۔

    میگا سٹی متنازعہ نیوم پروجیکٹ کا حصہ ہے جس میں ملک کے شمال مغرب میں 10 علاقوں کو ترقی دی جائے گی۔ دی لائن کے ساتھ، جسے یو ایس اسٹوڈیو مورفوسس ڈیزائن کر رہا ہے، زہا حدید آرکیٹیکٹس، یو این اسٹوڈیو، ایڈاس، لاوا اور بیورو پروبرٹس کی طرف سے ڈیزائن کردہ سکی ریزورٹ کا منصوبہ ہے۔

    اس ہفتے کے شروع میں انسانی حقوق کی تنظیم ALQST نے اطلاع دی تھی کہ نیوم سائٹ سے زبردستی بے دخل کیے گئے تین افراد کو موت کی سزا سنائی گئی ہے۔

  • سعودی عرب اور چین کے درمیان توانائی کے شعبے میں دو طرفہ تعاون اور سرمایہ کاری کا فیصلہ

    سعودی عرب اور چین کے درمیان توانائی کے شعبے میں دو طرفہ تعاون اور سرمایہ کاری کا فیصلہ

    درپیش توانائی چیلنجوں کو مقابلہ کرنے کیلئے سعودیہ اور چین کے درمیان توانائی کے شعبے میں دو طرفہ تعاون اور سرمایہ کاری کا فیصلہ کیا گیا ہے-

    باغی ٹی وی : سعودی سرکاری خبر رساں ایجنسی (ایس پی اے) نے رپورٹ کیا کہ سعودی عرب کے وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان اور چین کی نیشنل انرجی ایڈمنسٹریشن کے ڈائریکٹر ژانگ جیان ہوا نے جمعہ کو کہا کہ وہ توانائی کے شعبے میں اپنے تعلقات کو مضبوط کریں گے-

    رپورٹ کے مطابق دونوں ملکوں کے توانائی سے متعلق اہم ذمہ داروں کے درمیان جمعہ کے روز آن لائن ہونے والی میٹنگ ہوئی۔ اس دوران توانائی کے حوالے سے باہم ملک کر چلنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس سلسلے میں دو طرفہ رابطے اور تعاون جاری رہے گا۔ تاکہ درپیش توانائی چیلنجوں کو مقابلہ کیا جا سکے۔

    انہوں نے خاص طور پر ان ممالک میں سرمایہ کاری کا ذکر کیا جو چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انفراسٹرکچر اقدام کا حصہ ہیں اور تیل کی عالمی منڈی کو "مستحکم” کرنے کی اہمیت کا ذکر کرتے ہیں،یہ سرمایہ کاری ریفائنریز اور پٹروکیمیکل کامپلیکسز کے شعبے میں کی جائے گی۔

    سرکاری سعودی پریس ایجنسی کے مطابق سعودی وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان اور چین کے قومی توانائی کے منتظم ژانگ جیان ہوا کے درمیان اس امر پر اتفاق کیا گیا ہے کہ تیل کی منڈی میں استحکام کے لیے دونوں ممالک مل کر کام کریں گے۔

    دونوں ملکوں کے توانائی ذمہ داروں نے طویل مدتی اور قابل بھروسہ انداز میں تیل کی عالمی سطح پر فراہمی کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی ہے تاکہ متحرک اور مستحکم عالمی منڈی موجودہ چیلنجوں کا مقابلہ کرنے لیے موجود ہو۔

    سعودی خبر رساں ادارے کے مطابق چینی صنعتکاروں کی تیار کردہ اشیا کی کھپت کے لیے ایک علاقائی مرکز قائم کیا جائے گا۔ اس کے لیے سعودی عرب کے محل وقوع اور جغرافیہ کو دیکھا جائے گا کہ اس میں چین کے تیار کردہ مال کے لیے امکنات کی صورت کیسے کیسے ہو سکتی ہے۔

    سعودی عرب سبزاورنیلی ہائیڈروجن پیدا کرنے والاپہلا ملک بننے کی کوشش کررہا. وزیر…

    دونوں وزرا توانائی کی طرف سے بجلی کے شعبے میں پیداوار اور قابل تجدید توانائی کے شعبے میں بھی باہمی تعاون کی اہمیت پر زور دیا گیا۔

    سعودی عرب اور چین کے توانائی کے تعلقات ایک ایسے وقت میں مضبوط ہو رہے ہیں جب امریکہ سعودی تعلقات تیل کی وجہ سے خراب ہو رہے ہیں۔ مارچ میں سعودی آرامکو نے چین میں آئل ریفائنری کمپلیکس کی تعمیر کے معاہدے کو حتمی شکل دی۔ اگست میں، آرامکو اور چین کے سینوپیک نے تیل، ہائیڈروجن اور کاربن کے حوالے سے مزید تعاون کے لیے ایک یادداشت پر دستخط کیے تھے۔

    شہزادہ عبدالعزیزاور چینہ رہنما جیان ہوا کی گفتگو میں کچھ اہم نکات پر روشنی ڈالی گئی۔ سعودی عرب نے اس سال تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے حوالے سے اپنی تشویش کی وجہ سے OPEC+ کے تیل کی پیداوار میں کمی کے حالیہ فیصلے کی حمایت کی۔ دوسری طرف، چین تیل کی کم قیمتوں سے ممکنہ طور پر فائدہ اٹھائے گا، کیونکہ وہ مملکت سے تیل درآمد کرتا ہے۔

    ایک سعودی فرم نے اگست میں مصر میں گرین ہائیڈروجن انرجی پلانٹ کی تعمیر کے معاہدے پر دستخط کیے تھے مشرق وسطیٰ کی کئی ریاستیں بیلٹ اینڈ روڈ کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں جن میں سعودی عرب، شام، ترکی اور ایران شامل ہیں۔

    روس کو ڈرونز فراہم کرنے پر برطانیہ نے ایران پر پابندیاں عائد کردی ہیں

  • سعودی عرب نے خارجہ امور سمیت ہر محاذ پر پاکستان کا ساتھ دیا: وزیراعظم

    سعودی عرب نے خارجہ امور سمیت ہر محاذ پر پاکستان کا ساتھ دیا: وزیراعظم

    اسلام آباد:وزیراعظم محمد شہبازشریف نے سعودی ڈویلپمنٹ فنڈ کے تحت منصوبوں کے حوالے سے فوری پیشرفت پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ماضی میں ان منصوبوں کے حوالہ سے غیر ضروری تاخیر کی گئی جس کا ہمیں بہت نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے، سعودی عرب نے پاکستان کی مالی مشکلات کے حل، گرانٹ، قرضوں کی فراہمی اور سرمایہ کاری کے ذریعے ہمیشہ اہم کردار ادا کیا ہے، سعودی عرب نے خارجہ امور سمیت ہر محاذ پر پاکستان کا ساتھ دیا ہے۔

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے سعودی ڈویلپمنٹ فنڈ کے زیر التوا منصوبوں کے حوالے سے جائزہ اجلاس کی صدارت کی، اجلاس میں سعودی ڈویلپمنٹ فنڈ کے وفد جو کہ پاکستان کے دورے پر ہے نے بھی شرکت کی۔

    اجلاس میں بتایا گیا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر سعودی ڈویلپمنٹ فنڈ کے زیر التوا منصوبوں کے حوالے سے 48 گھنٹوں میں تمام رکاوٹیں دور کر لی گئی ہیں اور اس سلسلے میں متعلقہ حکام نے تمام ضروری کارروائی بھی مکمل کرلی ہے۔

    وزیراعظم نے اس حوالے سے پیش رفت پر اظہار مسرت کرتے ہوئے کابینہ کے متعلقہ ارکان اور افسران کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ ہمیں اسی ولولے ، جوش اور نیک نیتی کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے، ماضی میں ہم نے سعودی ڈویلپمنٹ فنڈ کے منصوبوں کے حوالے سےغیر ضروری تاخیر کی جس کا ہمیں بہت نقصان اٹھانا پڑرہا ہے تاہم اب ہمیں اسی رفتارسے آگے بڑھنا ہے جس رفتار سے پچھلے دو دنوں میں کابینہ کے متعلقہ ارکان اور افسران کے اس گروپ نے کام کیا۔اجلاس کو سعودی ڈویلپمنٹ فنڈ کے منصوبوں پر تازہ پیشرفت کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

    بریفنگ میں بتایا گیا کہ سعودی ڈویلپمنٹ فنڈ کے زیر تحت مہمند ڈیم پراجیکٹ، جاگران-IV پراجیکٹ، شونٹر ہائیڈرو پاور پراجیکٹ اور گریویٹی فلو واٹر مانسہرہ پراجیکٹ کے حوالے سے تمام ضروری کارروائی مکمل کر لی گئی ہے اور اس سلسلے میں معاہدوں پر جلد دستخط کئے جائیں گے۔

    مزید برآں اجلاس کو بتایا گیا کہ نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پلانٹ اور گولن گول ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کے حوالے سے تمام دشواریاں دور کر لی گئی ہیں، آزاد جموں و کشمیر میں نیلم ویلی روڈ کے ایک سیکشن اور دو ٹنلز کی تعمیر کے لئے پی سی ون تیار کر لیا گیا ہے۔

    مزید برآں مالاکنڈ ریجن میں انفراسٹرکچر کی تعمیر اور حیاسری ہسپتال کو ضروری سامان اور فرنیچر کی فراہمی کے منصوبوں کے حوالے سے بھی تمام مسائل حل کر لئے گئے ہیں۔

    بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ آزاد جموں و کشمیر اور ایبٹ آباد کے زلزلے سے متاثرہ علاقوں کی بحالی کے حوالے سے سعودی ڈویلپمنٹ فنڈ ، ایرا، فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور اکاؤنٹنٹ جنرل آفس کے درمیان تمام معاملات طے پا گئے ہیں اور ترلائی، اسلام آباد میں شاہ سلمان ہسپتال کی تعمیر کے حوالے سے تیزی سے پیشرفت ہو رہی ہے۔

    وزیراعظم نے سعودی وفد کو پاکستان میں شمسی توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری اوردیامر بھاشا ڈیم میں فنڈنگ کرنے کی ترغیب دی جس پر سعودی ڈویلپمنٹ فنڈ کے وفد نے دلچسپی کا اظہار کیا، 17 اکتوبر 2022 کو سعودی ڈویلپمنٹ فنڈ کے وفد سے ملاقات میں وزیراعظم نے سعودی ڈویلپمنٹ فنڈ کے منصوبوں میں تاخیر پر سخت نوٹس لیتے ہوئے تمام متعلقہ حکام کو ہدایت کی تھی کہ اس سلسلے میں تمام ضروری کارروائی وفد کی پاکستان میں موجودگی کے دوران پوری کر کے ایک تفصیلی رپورٹ پیش کی جائے۔

    اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ سعودی عرب نے خارجہ امور سمیت ہر محاذ پر پاکستان کا ساتھ دیا ہے، سعودی قیادت کی جانب سے پاکستان کو ہمیشہ غیر مشروط حمایت اور مدد حاصل رہی ہے، حالیہ سیلاب سے ہونے والی تباہی سے نمٹنے کے لئے سعودی عرب نے پاکستان کی ہر ممکن مدد کی ۔

    انہوں نے اس سلسلے میں خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز السعود اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز کا خاص طور سے شکریہ ادا کیا اور کہا کہ سعودی عرب نے پاکستان کی مالی مشکلات کے حل گرانٹ اور قرضوں کی فراہمی اور سرمایہ کاری کی صورت میں ہمیشہ اہم کردار ادا کیا۔

    وزیراعظم نے کہا کہ سعودی عرب کی خوشحالی اور سیکورٹی پاکستان کی خوشحالی اور سکیورٹی ہے اور ہم ہر طریقہ سے سعودی عرب کی حمایت جاری رکھیں گے، سعودی ڈویلپمنٹ فنڈ وفد کی قیادت سعودی ڈویلپمنٹ فنڈ کے جنرل ڈائریکٹرایشیا ڈاکٹر سعود اے ایشمری نے کی۔

    اجلاس میں وفاقی وزیر برائے خزانہ اسحاق ڈار، وفاقی وزیربرائے اقتصادی امور سردار ایاز صادق، وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وفاقی وزیر برائے سرمایہ کاری بورڈ چوہدری سالک حسین ، وزیراعظم کے مشیر احد چیمہ، معاونین خصوصی طارق فاطمی اور جہانزیب خان، پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر نواف سعید المالکی اور متعلقہ سرکاری افسران نے شرکت کی۔اجلاس کے بعد سعودی ڈویلپمنٹ فنڈ کے وفد کے اعزاز میں ظہرانے کا اہتمام بھی کیا گیا۔

  • فلم اور ڈرامہ کے شعبوں میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مشترکہ منصوبوں پر کام ہو گا

    فلم اور ڈرامہ کے شعبوں میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مشترکہ منصوبوں پر کام ہو گا

    حال ہی میں فاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب سے پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر نواف بن سعید المالکی کی ملاقات ہوئی ہے ملاقات میں پاکستان اور سعودی عرب کے دیرینہ تعلقات پر بات چیت کی گئی . اس ملاقات میں جہاں تجارت سمیت سیلاب زدگان کی بحالی پر بات ہوئی وہیں میڈیا اور فلم کے شعبوں میں جاری تعاون کو مزید تیز کرنے پر غور کیا گیا۔ اس بات چیت میں فلم اور ڈرامہ کے شعبوں میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مشترکہ منصوبوں کو عملی شکل دینے کے لئے دونوں اطراف پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی گئی۔امید کی جا رہی ہے کہ پاکستان اور سعودیہ ڈرامہ اور فلم کے لئے مل کر بہترین پروڈکشن کر سکیں گے. یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اگر اس منصوبے پر عمل ہو جائے تو پھر

    پاکستانی کونٹینٹ جو کہ ڈرامہ اور فلم پر مشتمل ہو گا سعودیہ میں لگے گا لوگ دیکھیں گے تو کو پروڈکشن کی راہیں بھی کھلیں گی اور دونوں‌ملکوں کی عوام کو بہترین پراجیکٹس دیکھنے کو ملیں گے. یاد رہے کہ اس موقع پر وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو مملکت کا وزیراعظم نامزد ہونے پر سعودی سفیر کو مبارکباد دی اور مزید کہا کہ حکومت پاکستان اور عوام کے دل میں خادم الحرمین الشریفین اور سعودی قیادت کے لئے بے پناہ عزت و احترام ہے۔

  • سعودی عرب کیخلاف ٹوئٹس کرنے پر امریکی شہری کو 16 سال قید کی سزا

    سعودی عرب کیخلاف ٹوئٹس کرنے پر امریکی شہری کو 16 سال قید کی سزا

    ریاض: سعودی عرب کی عدالت نے مملکت کے خلاف ٹوئٹس کرنے پر امریکی شہری کو 16 سال کے لیے جیل بھیج دیا۔

    باغی ٹی وی : میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ نے سعودی عرب کی عدالت کی جانب سے سعودی نژاد امریکی شہری سعد ابراہیم المادی کو 16 سال قید کی سزا کی تصدیق کی ہے۔

    امریکہ پاکستان کے ساتھ مضبوط شراکت داری چاہتا ہے،امریکی محکمہ خارجہ

    سعد ابراہیم المادی کے بیٹے نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ فلوریڈا میں رہنے والے 72 سالہ ریٹائرڈ پراجیکٹ مینیجر سعد ابراہیم المادی کو گزشتہ نومبر میں مملکت میں خاندان سے ملنے کے دوران گرفتار کیا گیا تھا اور انہیں اس ماہ کے شروع میں سزا سنائی گئی تھی جس میں سزا مکمل ہونے کے بعد 16 سال کی سفری پابندی بھی شامل ہے المادی سعودی عرب اور امریکہ دونوں کے شہری ہیں۔

    سعودی حکام کی جانب سے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔

    ایک پریس بریفنگ میں بات کرتے ہوئے، امریکی محکمہ خارجہ کے نائب ترجمان ویدانت پٹیل نے المادی کی حراست کی تصدیق کی اور کہا کہ واشنگٹن نے پہلی بار دسمبر 2021 میں ریاض کے ساتھ اپنے تحفظات کا اظہار کیا، جیسے ہی اسے گرفتاری کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔

    ترجمان امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا تھا کہ ہم مسلسل شدت کے ساتھ اعلیٰ سعودی حکام کے ساتھ اس کیس کو لے کر اپنی تشویش کا اظہار کررہے ہیں، اس معاملے پر ریاض اور واشنگٹن کا اب بھی رابطہ ہے۔

    امریکی محکمہ خارجہ نے کہا کہ امریکی شہری کو جیل بھیجنے کے معاملے کو سعودی حکومت کے سامنے اٹھایا جارہا ہے، یہ معاملہ دونوں ممالک کے درمیان مزید کشیدگی کا سبب بنے گا۔

    پاکستان کےایف 16 طیاروں کی مرمت کیلئےامریکی پیکج میں اہم پیشرفت

    انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ المادی پر کیا الزام عائد کیا گیا ہے لیکن کہا: "اظہار رائے کی آزادی کا استعمال کبھی بھی مجرمانہ نہیں ہونا چاہیے۔

    امریکی اخبار واشگنٹن پوسٹ کے مطابق فلوریڈا کےرہائشی المادی اپنے اہلخانہ کے ہمراہ سعودی عرب گئے تھےجنہیں نومبر میں ائیرپورٹ پر گرفتار کیا گیا، ان پر 7 سال قبل سعودی عرب کے خلاف 14 ٹوئٹس کرنے کا الزام ہے-

    سعودی حکام نے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے عروج کے بعد اختلاف رائے پر اپنا کریک ڈاؤن سخت کر دیا ہےسعودی عرب کی ایک عدالت نے حال ہی میں ایک خاتون نورہ بنت سعید القحطانی کو اپنی سوشل میڈیا سرگرمیوں کے ذریعے ملک کو نقصان پہنچانے کے الزام میں 45 سال قید کی سزا سنائی ہے۔

    انگلینڈ کی لیڈز یونیورسٹی میں سعودی ڈاکٹریٹ کی طالبہ سلمیٰ الشہاب کو "افواہیں” پھیلانے اور اختلاف کرنے والوں کو ریٹویٹ کرنے کے جرم میں 34 سال قید کی سزا سنائی گئی، جس نے بین الاقوامی سطح پر غم و غصے کو جنم دیا۔

    تین سال کا بچہ اپنی ماں کی شکایت لے کر تھانے پہنچ گیا

    ابراہیم کا کہنا ہے کہ ان کے والد کو گزشتہ سات سالوں میں بھیجی گئی 14 "ہلکی ٹوئٹس” سے زیادہ حراست میں لیا گیا تھا، جن میں زیادہ تر حکومتی پالیسیوں اور مبینہ بدعنوانی پر تنقید کی گئی تھی۔

    ان کا کہنا ہے کہ ان کے والد ایک کارکن نہیں تھے بلکہ ایک نجی شہری تھے جو امریکہ میں رہتے ہوئے اپنی رائے کا اظہار کر رہے تھے، جہاں اظہار رائے کی آزادی ایک آئینی حق ہے۔

  • ڈپریشن کے علاج کے لیے دماغ کی پہلی کامیاب سرجری

    ڈپریشن کے علاج کے لیے دماغ کی پہلی کامیاب سرجری

    مدینہ منورہ کے شاہ سلمان میڈیکل سٹی میں نیورو سرجری اور سائیکاٹرسٹ میں ماہر طبی ٹیموں نے ایک مریض کو دائمی ڈپریشن سے نجات دلانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔

    باغی ٹی وی : عالمی خبررساں ادارے کے مطابق سعودی عرب میں ہونے والی اس سرجری میں ڈیپریشن کی پچیس سال پرانی بیماری کا خاتمہ ہوا اور یہ سعودی عرب میں اپنی نوعیت کی پہلی سرجری ہے۔

    امریکی سائنسدانوں نے کرونا وائرس کا ایک نیا مہلک اور انتہائی خطرناک وائرس ایجاد کر لیا

    ماہر نفسیات اور نیورو سرجن پر مشتمل ایک میڈیکل ٹیم اس کیس پر بات کرنے اور اس سے وابستہ ڈپریشن اور اضطراب کی شدید علامات کو دور کرنے کے لیے سرجیکل مداخلت کی منظوری کے لیے تشکیل دی گئی۔

    رپورٹ کے مطابق ٹیم نے مکمل اینستھیزیا کے تحت "دو طرفہ اینٹیریئر گائرس ریسیکشن” کیا جو بغیر کسی پیچیدگی کے کامیاب رہا۔ مریض کے مزاج اور نفسیاتی حالت میں بہتری آئی، سونے کے اوقات معمول پر آگئے اور وہ مستقل اداسی اور موت کے بارے میں ضرورت سے زیادہ سوچنے سے بچ گیا۔

    محققین نے ذیابیطس، کینسر اور اموات کی وجہ بننے والی پروٹین دریافت کر لی

    قابل ذکر ہے کہ مدینہ منورہ میں کنگ سلمان میڈیکل سٹی ڈپریشن کے مریضوں کے لیے نیورو سرجری کی سروس فراہم کرتا ہے۔ نیورو سرجری میں ایک میڈیکل ٹیم کے ذریعے دماغ میں جراحی کے ذریعے ذہنی دباؤ کی علامات کو دور کرنے کے لیے جدید اور درست سرجیکل تکنیک کا استعمال کیا جاتا ہے اور یہ مشرق وسطیٰ میں اپنی نوعیت کی پہلی سرجری ہے۔

    108 یوکرینی خواتین سمیت 218 قیدیوں کا تبادلہ