Baaghi TV

Tag: سعودی عرب

  • سعودی عرب کے مستقبل کے شہر "دی لائن” کے تعمیراتی کام کا آغاز ہو گیا

    سعودی عرب کے مستقبل کے شہر "دی لائن” کے تعمیراتی کام کا آغاز ہو گیا

    سعودی عرب کے مستقبل کے شہر "دی لائن” کے تعمیراتی کام کا آغاز ہوگیا ہے۔

    باغی ٹی وی : نیوم شہر سعودی عرب کے اربوں ڈالرز کے منصوبے نیوم کا حصہ ہے جو بحیرہ احمر کے قریب شمال مغربی حصے میں تعمیر کیا جائے گا فضائی فوٹوگرافی کمپنی اوٹ اسکائی کی جانب سے جاری کردہ فوٹیج میں دی لائن میگاسٹی پر کام شروع ہوتا دکھایا گیا ہے ڈرون فوٹیج میں دکھایا گیا ہے کہ صحرا میں اس شہر کے لیے کھدائی کی جارہی ہے۔


    ویڈیو میں، متعدد کھدائی کرنے والوں کو صحرا میں ایک وسیع لکیری خندق کھودتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ خندق کے اندر، شہر کی بنیادیں، جو 170 کلومیٹر طویل ہونے کا منصوبہ ہے، کی تعمیر متوقع ہے۔

    صوبہ تبوک میں تعمیر کیے جانے والا یہ شہر 200 میٹر چوڑی، 500 میٹر اونچی اور 170 کلومیٹر رقبے پر پھیلی ایک عمارت پر مشتمل ہوگاعمارت ایک ورٹیکل سٹی کے طور پر تعمیر کی جائے گی جس میں 90 لاکھ افراد رہائش پذیر ہوسکیں گے-

    سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے جولائی 2022 میں اس شہر کے ڈیزائن کو جاری کیا تھا یہ دنیا کا پہلا شہر ہوگا جس میں توانائی کی ضروریات ماحول دوست ذرائع بشمول سولر اور ہائیڈروجن پاور سے پوری کی جائیں گی۔

    یہاں کوئی سڑک، گاڑی یا دھویں کا اخراج نہیں ہوگا، جبکہ تیز رفتار ٹرین سے لوگ ایک سے دوسری جگہ 20 منٹ کے اندر سفر کرسکیں گے روبوٹ ملازم ہوں گے، اڑنے والی ٹیکسیاں اور مصنوعی چاند بھی اس پراجیکٹ کا حصہ ہوں گے۔

    ڈیزائن کو متعارف کراتے ہوئے سعودی ولی عہد نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ یہ ڈیزائن روایتی طرز تعمیر کو چیلنج کرتا ہے، دی لائن میں ان چیلنجز کا مقابلہ کیا جائے گا جن کا سامنا آج کی شہری زندگی میں انسانوں کو ہوتا ہے اور متبادل ذرائع سے زندگی گزارنے کا موقع ملے گا۔
    500 ارب ڈالرز کے نیوم منصوبے میں شامل اس شہر کو صوبہ تبوک کے صحرائی علاقے میں تعمیر کیا جارہا ہے۔

    سعودی عرب کو توقع ہے کہ نیوم منصوبے کی تعمیر کے بعد ہر سال 10 کروڑ سیاح اس کے مختلف حصوں کو دیکھنے کے لیے آئیں گے جس سے اربوں ڈالرز کی آمدنی ہوگی دی لائن کی تعمیر کا اعلان 2021 میں ہوا تھا مگر اب اس کی تعمیر کا آغاز ہوا ہے۔

    خیال رہے کہ نیوم میں تعمیر کیے جانے والے شہروں کو اے آئی سسٹمز پر چلایا جائے گا، روبوٹ ملازم ہوں گے، اڑنے والی ٹیکسیاں اور مصنوعی چاند بھی اس پراجیکٹ کا حصہ ہوں گے۔

    عالمی خبررساں ادارے ڈیزین سے ایک خصوصی انٹرویو میں بات کرتے ہوئے، نیوم کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر برائے شہری منصوبہ بندی طارق قدومی نے کہا کہ دی لائن میگا سٹی "ہمارے موجودہ طرز زندگی میں انقلاب برپا کرے گی” اور اپنی زندگی بھر میں خالص صفر رہے گی۔

    تاہم، ماہرین نے اس منصوبے کی پائیداری اور زندہ رہنے کے دعووں کی تردید کی۔

    میگا سٹی متنازعہ نیوم پروجیکٹ کا حصہ ہے جس میں ملک کے شمال مغرب میں 10 علاقوں کو ترقی دی جائے گی۔ دی لائن کے ساتھ، جسے یو ایس اسٹوڈیو مورفوسس ڈیزائن کر رہا ہے، زہا حدید آرکیٹیکٹس، یو این اسٹوڈیو، ایڈاس، لاوا اور بیورو پروبرٹس کی طرف سے ڈیزائن کردہ سکی ریزورٹ کا منصوبہ ہے۔

    اس ہفتے کے شروع میں انسانی حقوق کی تنظیم ALQST نے اطلاع دی تھی کہ نیوم سائٹ سے زبردستی بے دخل کیے گئے تین افراد کو موت کی سزا سنائی گئی ہے۔

  • سعودی عرب اور چین کے درمیان توانائی کے شعبے میں دو طرفہ تعاون اور سرمایہ کاری کا فیصلہ

    سعودی عرب اور چین کے درمیان توانائی کے شعبے میں دو طرفہ تعاون اور سرمایہ کاری کا فیصلہ

    درپیش توانائی چیلنجوں کو مقابلہ کرنے کیلئے سعودیہ اور چین کے درمیان توانائی کے شعبے میں دو طرفہ تعاون اور سرمایہ کاری کا فیصلہ کیا گیا ہے-

    باغی ٹی وی : سعودی سرکاری خبر رساں ایجنسی (ایس پی اے) نے رپورٹ کیا کہ سعودی عرب کے وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان اور چین کی نیشنل انرجی ایڈمنسٹریشن کے ڈائریکٹر ژانگ جیان ہوا نے جمعہ کو کہا کہ وہ توانائی کے شعبے میں اپنے تعلقات کو مضبوط کریں گے-

    رپورٹ کے مطابق دونوں ملکوں کے توانائی سے متعلق اہم ذمہ داروں کے درمیان جمعہ کے روز آن لائن ہونے والی میٹنگ ہوئی۔ اس دوران توانائی کے حوالے سے باہم ملک کر چلنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس سلسلے میں دو طرفہ رابطے اور تعاون جاری رہے گا۔ تاکہ درپیش توانائی چیلنجوں کو مقابلہ کیا جا سکے۔

    انہوں نے خاص طور پر ان ممالک میں سرمایہ کاری کا ذکر کیا جو چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انفراسٹرکچر اقدام کا حصہ ہیں اور تیل کی عالمی منڈی کو "مستحکم” کرنے کی اہمیت کا ذکر کرتے ہیں،یہ سرمایہ کاری ریفائنریز اور پٹروکیمیکل کامپلیکسز کے شعبے میں کی جائے گی۔

    سرکاری سعودی پریس ایجنسی کے مطابق سعودی وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان اور چین کے قومی توانائی کے منتظم ژانگ جیان ہوا کے درمیان اس امر پر اتفاق کیا گیا ہے کہ تیل کی منڈی میں استحکام کے لیے دونوں ممالک مل کر کام کریں گے۔

    دونوں ملکوں کے توانائی ذمہ داروں نے طویل مدتی اور قابل بھروسہ انداز میں تیل کی عالمی سطح پر فراہمی کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی ہے تاکہ متحرک اور مستحکم عالمی منڈی موجودہ چیلنجوں کا مقابلہ کرنے لیے موجود ہو۔

    سعودی خبر رساں ادارے کے مطابق چینی صنعتکاروں کی تیار کردہ اشیا کی کھپت کے لیے ایک علاقائی مرکز قائم کیا جائے گا۔ اس کے لیے سعودی عرب کے محل وقوع اور جغرافیہ کو دیکھا جائے گا کہ اس میں چین کے تیار کردہ مال کے لیے امکنات کی صورت کیسے کیسے ہو سکتی ہے۔

    سعودی عرب سبزاورنیلی ہائیڈروجن پیدا کرنے والاپہلا ملک بننے کی کوشش کررہا. وزیر…

    دونوں وزرا توانائی کی طرف سے بجلی کے شعبے میں پیداوار اور قابل تجدید توانائی کے شعبے میں بھی باہمی تعاون کی اہمیت پر زور دیا گیا۔

    سعودی عرب اور چین کے توانائی کے تعلقات ایک ایسے وقت میں مضبوط ہو رہے ہیں جب امریکہ سعودی تعلقات تیل کی وجہ سے خراب ہو رہے ہیں۔ مارچ میں سعودی آرامکو نے چین میں آئل ریفائنری کمپلیکس کی تعمیر کے معاہدے کو حتمی شکل دی۔ اگست میں، آرامکو اور چین کے سینوپیک نے تیل، ہائیڈروجن اور کاربن کے حوالے سے مزید تعاون کے لیے ایک یادداشت پر دستخط کیے تھے۔

    شہزادہ عبدالعزیزاور چینہ رہنما جیان ہوا کی گفتگو میں کچھ اہم نکات پر روشنی ڈالی گئی۔ سعودی عرب نے اس سال تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے حوالے سے اپنی تشویش کی وجہ سے OPEC+ کے تیل کی پیداوار میں کمی کے حالیہ فیصلے کی حمایت کی۔ دوسری طرف، چین تیل کی کم قیمتوں سے ممکنہ طور پر فائدہ اٹھائے گا، کیونکہ وہ مملکت سے تیل درآمد کرتا ہے۔

    ایک سعودی فرم نے اگست میں مصر میں گرین ہائیڈروجن انرجی پلانٹ کی تعمیر کے معاہدے پر دستخط کیے تھے مشرق وسطیٰ کی کئی ریاستیں بیلٹ اینڈ روڈ کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں جن میں سعودی عرب، شام، ترکی اور ایران شامل ہیں۔

    روس کو ڈرونز فراہم کرنے پر برطانیہ نے ایران پر پابندیاں عائد کردی ہیں

  • سعودی عرب نے خارجہ امور سمیت ہر محاذ پر پاکستان کا ساتھ دیا: وزیراعظم

    سعودی عرب نے خارجہ امور سمیت ہر محاذ پر پاکستان کا ساتھ دیا: وزیراعظم

    اسلام آباد:وزیراعظم محمد شہبازشریف نے سعودی ڈویلپمنٹ فنڈ کے تحت منصوبوں کے حوالے سے فوری پیشرفت پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ماضی میں ان منصوبوں کے حوالہ سے غیر ضروری تاخیر کی گئی جس کا ہمیں بہت نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے، سعودی عرب نے پاکستان کی مالی مشکلات کے حل، گرانٹ، قرضوں کی فراہمی اور سرمایہ کاری کے ذریعے ہمیشہ اہم کردار ادا کیا ہے، سعودی عرب نے خارجہ امور سمیت ہر محاذ پر پاکستان کا ساتھ دیا ہے۔

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے سعودی ڈویلپمنٹ فنڈ کے زیر التوا منصوبوں کے حوالے سے جائزہ اجلاس کی صدارت کی، اجلاس میں سعودی ڈویلپمنٹ فنڈ کے وفد جو کہ پاکستان کے دورے پر ہے نے بھی شرکت کی۔

    اجلاس میں بتایا گیا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر سعودی ڈویلپمنٹ فنڈ کے زیر التوا منصوبوں کے حوالے سے 48 گھنٹوں میں تمام رکاوٹیں دور کر لی گئی ہیں اور اس سلسلے میں متعلقہ حکام نے تمام ضروری کارروائی بھی مکمل کرلی ہے۔

    وزیراعظم نے اس حوالے سے پیش رفت پر اظہار مسرت کرتے ہوئے کابینہ کے متعلقہ ارکان اور افسران کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ ہمیں اسی ولولے ، جوش اور نیک نیتی کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے، ماضی میں ہم نے سعودی ڈویلپمنٹ فنڈ کے منصوبوں کے حوالے سےغیر ضروری تاخیر کی جس کا ہمیں بہت نقصان اٹھانا پڑرہا ہے تاہم اب ہمیں اسی رفتارسے آگے بڑھنا ہے جس رفتار سے پچھلے دو دنوں میں کابینہ کے متعلقہ ارکان اور افسران کے اس گروپ نے کام کیا۔اجلاس کو سعودی ڈویلپمنٹ فنڈ کے منصوبوں پر تازہ پیشرفت کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

    بریفنگ میں بتایا گیا کہ سعودی ڈویلپمنٹ فنڈ کے زیر تحت مہمند ڈیم پراجیکٹ، جاگران-IV پراجیکٹ، شونٹر ہائیڈرو پاور پراجیکٹ اور گریویٹی فلو واٹر مانسہرہ پراجیکٹ کے حوالے سے تمام ضروری کارروائی مکمل کر لی گئی ہے اور اس سلسلے میں معاہدوں پر جلد دستخط کئے جائیں گے۔

    مزید برآں اجلاس کو بتایا گیا کہ نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پلانٹ اور گولن گول ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کے حوالے سے تمام دشواریاں دور کر لی گئی ہیں، آزاد جموں و کشمیر میں نیلم ویلی روڈ کے ایک سیکشن اور دو ٹنلز کی تعمیر کے لئے پی سی ون تیار کر لیا گیا ہے۔

    مزید برآں مالاکنڈ ریجن میں انفراسٹرکچر کی تعمیر اور حیاسری ہسپتال کو ضروری سامان اور فرنیچر کی فراہمی کے منصوبوں کے حوالے سے بھی تمام مسائل حل کر لئے گئے ہیں۔

    بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ آزاد جموں و کشمیر اور ایبٹ آباد کے زلزلے سے متاثرہ علاقوں کی بحالی کے حوالے سے سعودی ڈویلپمنٹ فنڈ ، ایرا، فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور اکاؤنٹنٹ جنرل آفس کے درمیان تمام معاملات طے پا گئے ہیں اور ترلائی، اسلام آباد میں شاہ سلمان ہسپتال کی تعمیر کے حوالے سے تیزی سے پیشرفت ہو رہی ہے۔

    وزیراعظم نے سعودی وفد کو پاکستان میں شمسی توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری اوردیامر بھاشا ڈیم میں فنڈنگ کرنے کی ترغیب دی جس پر سعودی ڈویلپمنٹ فنڈ کے وفد نے دلچسپی کا اظہار کیا، 17 اکتوبر 2022 کو سعودی ڈویلپمنٹ فنڈ کے وفد سے ملاقات میں وزیراعظم نے سعودی ڈویلپمنٹ فنڈ کے منصوبوں میں تاخیر پر سخت نوٹس لیتے ہوئے تمام متعلقہ حکام کو ہدایت کی تھی کہ اس سلسلے میں تمام ضروری کارروائی وفد کی پاکستان میں موجودگی کے دوران پوری کر کے ایک تفصیلی رپورٹ پیش کی جائے۔

    اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ سعودی عرب نے خارجہ امور سمیت ہر محاذ پر پاکستان کا ساتھ دیا ہے، سعودی قیادت کی جانب سے پاکستان کو ہمیشہ غیر مشروط حمایت اور مدد حاصل رہی ہے، حالیہ سیلاب سے ہونے والی تباہی سے نمٹنے کے لئے سعودی عرب نے پاکستان کی ہر ممکن مدد کی ۔

    انہوں نے اس سلسلے میں خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز السعود اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز کا خاص طور سے شکریہ ادا کیا اور کہا کہ سعودی عرب نے پاکستان کی مالی مشکلات کے حل گرانٹ اور قرضوں کی فراہمی اور سرمایہ کاری کی صورت میں ہمیشہ اہم کردار ادا کیا۔

    وزیراعظم نے کہا کہ سعودی عرب کی خوشحالی اور سیکورٹی پاکستان کی خوشحالی اور سکیورٹی ہے اور ہم ہر طریقہ سے سعودی عرب کی حمایت جاری رکھیں گے، سعودی ڈویلپمنٹ فنڈ وفد کی قیادت سعودی ڈویلپمنٹ فنڈ کے جنرل ڈائریکٹرایشیا ڈاکٹر سعود اے ایشمری نے کی۔

    اجلاس میں وفاقی وزیر برائے خزانہ اسحاق ڈار، وفاقی وزیربرائے اقتصادی امور سردار ایاز صادق، وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وفاقی وزیر برائے سرمایہ کاری بورڈ چوہدری سالک حسین ، وزیراعظم کے مشیر احد چیمہ، معاونین خصوصی طارق فاطمی اور جہانزیب خان، پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر نواف سعید المالکی اور متعلقہ سرکاری افسران نے شرکت کی۔اجلاس کے بعد سعودی ڈویلپمنٹ فنڈ کے وفد کے اعزاز میں ظہرانے کا اہتمام بھی کیا گیا۔

  • فلم اور ڈرامہ کے شعبوں میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مشترکہ منصوبوں پر کام ہو گا

    فلم اور ڈرامہ کے شعبوں میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مشترکہ منصوبوں پر کام ہو گا

    حال ہی میں فاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب سے پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر نواف بن سعید المالکی کی ملاقات ہوئی ہے ملاقات میں پاکستان اور سعودی عرب کے دیرینہ تعلقات پر بات چیت کی گئی . اس ملاقات میں جہاں تجارت سمیت سیلاب زدگان کی بحالی پر بات ہوئی وہیں میڈیا اور فلم کے شعبوں میں جاری تعاون کو مزید تیز کرنے پر غور کیا گیا۔ اس بات چیت میں فلم اور ڈرامہ کے شعبوں میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مشترکہ منصوبوں کو عملی شکل دینے کے لئے دونوں اطراف پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی گئی۔امید کی جا رہی ہے کہ پاکستان اور سعودیہ ڈرامہ اور فلم کے لئے مل کر بہترین پروڈکشن کر سکیں گے. یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اگر اس منصوبے پر عمل ہو جائے تو پھر

    پاکستانی کونٹینٹ جو کہ ڈرامہ اور فلم پر مشتمل ہو گا سعودیہ میں لگے گا لوگ دیکھیں گے تو کو پروڈکشن کی راہیں بھی کھلیں گی اور دونوں‌ملکوں کی عوام کو بہترین پراجیکٹس دیکھنے کو ملیں گے. یاد رہے کہ اس موقع پر وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو مملکت کا وزیراعظم نامزد ہونے پر سعودی سفیر کو مبارکباد دی اور مزید کہا کہ حکومت پاکستان اور عوام کے دل میں خادم الحرمین الشریفین اور سعودی قیادت کے لئے بے پناہ عزت و احترام ہے۔

  • سعودی عرب کیخلاف ٹوئٹس کرنے پر امریکی شہری کو 16 سال قید کی سزا

    سعودی عرب کیخلاف ٹوئٹس کرنے پر امریکی شہری کو 16 سال قید کی سزا

    ریاض: سعودی عرب کی عدالت نے مملکت کے خلاف ٹوئٹس کرنے پر امریکی شہری کو 16 سال کے لیے جیل بھیج دیا۔

    باغی ٹی وی : میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ نے سعودی عرب کی عدالت کی جانب سے سعودی نژاد امریکی شہری سعد ابراہیم المادی کو 16 سال قید کی سزا کی تصدیق کی ہے۔

    امریکہ پاکستان کے ساتھ مضبوط شراکت داری چاہتا ہے،امریکی محکمہ خارجہ

    سعد ابراہیم المادی کے بیٹے نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ فلوریڈا میں رہنے والے 72 سالہ ریٹائرڈ پراجیکٹ مینیجر سعد ابراہیم المادی کو گزشتہ نومبر میں مملکت میں خاندان سے ملنے کے دوران گرفتار کیا گیا تھا اور انہیں اس ماہ کے شروع میں سزا سنائی گئی تھی جس میں سزا مکمل ہونے کے بعد 16 سال کی سفری پابندی بھی شامل ہے المادی سعودی عرب اور امریکہ دونوں کے شہری ہیں۔

    سعودی حکام کی جانب سے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔

    ایک پریس بریفنگ میں بات کرتے ہوئے، امریکی محکمہ خارجہ کے نائب ترجمان ویدانت پٹیل نے المادی کی حراست کی تصدیق کی اور کہا کہ واشنگٹن نے پہلی بار دسمبر 2021 میں ریاض کے ساتھ اپنے تحفظات کا اظہار کیا، جیسے ہی اسے گرفتاری کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔

    ترجمان امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا تھا کہ ہم مسلسل شدت کے ساتھ اعلیٰ سعودی حکام کے ساتھ اس کیس کو لے کر اپنی تشویش کا اظہار کررہے ہیں، اس معاملے پر ریاض اور واشنگٹن کا اب بھی رابطہ ہے۔

    امریکی محکمہ خارجہ نے کہا کہ امریکی شہری کو جیل بھیجنے کے معاملے کو سعودی حکومت کے سامنے اٹھایا جارہا ہے، یہ معاملہ دونوں ممالک کے درمیان مزید کشیدگی کا سبب بنے گا۔

    پاکستان کےایف 16 طیاروں کی مرمت کیلئےامریکی پیکج میں اہم پیشرفت

    انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ المادی پر کیا الزام عائد کیا گیا ہے لیکن کہا: "اظہار رائے کی آزادی کا استعمال کبھی بھی مجرمانہ نہیں ہونا چاہیے۔

    امریکی اخبار واشگنٹن پوسٹ کے مطابق فلوریڈا کےرہائشی المادی اپنے اہلخانہ کے ہمراہ سعودی عرب گئے تھےجنہیں نومبر میں ائیرپورٹ پر گرفتار کیا گیا، ان پر 7 سال قبل سعودی عرب کے خلاف 14 ٹوئٹس کرنے کا الزام ہے-

    سعودی حکام نے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے عروج کے بعد اختلاف رائے پر اپنا کریک ڈاؤن سخت کر دیا ہےسعودی عرب کی ایک عدالت نے حال ہی میں ایک خاتون نورہ بنت سعید القحطانی کو اپنی سوشل میڈیا سرگرمیوں کے ذریعے ملک کو نقصان پہنچانے کے الزام میں 45 سال قید کی سزا سنائی ہے۔

    انگلینڈ کی لیڈز یونیورسٹی میں سعودی ڈاکٹریٹ کی طالبہ سلمیٰ الشہاب کو "افواہیں” پھیلانے اور اختلاف کرنے والوں کو ریٹویٹ کرنے کے جرم میں 34 سال قید کی سزا سنائی گئی، جس نے بین الاقوامی سطح پر غم و غصے کو جنم دیا۔

    تین سال کا بچہ اپنی ماں کی شکایت لے کر تھانے پہنچ گیا

    ابراہیم کا کہنا ہے کہ ان کے والد کو گزشتہ سات سالوں میں بھیجی گئی 14 "ہلکی ٹوئٹس” سے زیادہ حراست میں لیا گیا تھا، جن میں زیادہ تر حکومتی پالیسیوں اور مبینہ بدعنوانی پر تنقید کی گئی تھی۔

    ان کا کہنا ہے کہ ان کے والد ایک کارکن نہیں تھے بلکہ ایک نجی شہری تھے جو امریکہ میں رہتے ہوئے اپنی رائے کا اظہار کر رہے تھے، جہاں اظہار رائے کی آزادی ایک آئینی حق ہے۔

  • ڈپریشن کے علاج کے لیے دماغ کی پہلی کامیاب سرجری

    ڈپریشن کے علاج کے لیے دماغ کی پہلی کامیاب سرجری

    مدینہ منورہ کے شاہ سلمان میڈیکل سٹی میں نیورو سرجری اور سائیکاٹرسٹ میں ماہر طبی ٹیموں نے ایک مریض کو دائمی ڈپریشن سے نجات دلانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔

    باغی ٹی وی : عالمی خبررساں ادارے کے مطابق سعودی عرب میں ہونے والی اس سرجری میں ڈیپریشن کی پچیس سال پرانی بیماری کا خاتمہ ہوا اور یہ سعودی عرب میں اپنی نوعیت کی پہلی سرجری ہے۔

    امریکی سائنسدانوں نے کرونا وائرس کا ایک نیا مہلک اور انتہائی خطرناک وائرس ایجاد کر لیا

    ماہر نفسیات اور نیورو سرجن پر مشتمل ایک میڈیکل ٹیم اس کیس پر بات کرنے اور اس سے وابستہ ڈپریشن اور اضطراب کی شدید علامات کو دور کرنے کے لیے سرجیکل مداخلت کی منظوری کے لیے تشکیل دی گئی۔

    رپورٹ کے مطابق ٹیم نے مکمل اینستھیزیا کے تحت "دو طرفہ اینٹیریئر گائرس ریسیکشن” کیا جو بغیر کسی پیچیدگی کے کامیاب رہا۔ مریض کے مزاج اور نفسیاتی حالت میں بہتری آئی، سونے کے اوقات معمول پر آگئے اور وہ مستقل اداسی اور موت کے بارے میں ضرورت سے زیادہ سوچنے سے بچ گیا۔

    محققین نے ذیابیطس، کینسر اور اموات کی وجہ بننے والی پروٹین دریافت کر لی

    قابل ذکر ہے کہ مدینہ منورہ میں کنگ سلمان میڈیکل سٹی ڈپریشن کے مریضوں کے لیے نیورو سرجری کی سروس فراہم کرتا ہے۔ نیورو سرجری میں ایک میڈیکل ٹیم کے ذریعے دماغ میں جراحی کے ذریعے ذہنی دباؤ کی علامات کو دور کرنے کے لیے جدید اور درست سرجیکل تکنیک کا استعمال کیا جاتا ہے اور یہ مشرق وسطیٰ میں اپنی نوعیت کی پہلی سرجری ہے۔

    108 یوکرینی خواتین سمیت 218 قیدیوں کا تبادلہ

  • اگرکسی نےسعودی سلطنت کوچیلنج کیا توہم سبھی جہاد اور شہادت کیلئےتیار ہیں،سعودی شہزادے کی مغرب کو دھمکی

    اگرکسی نےسعودی سلطنت کوچیلنج کیا توہم سبھی جہاد اور شہادت کیلئےتیار ہیں،سعودی شہزادے کی مغرب کو دھمکی

    سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان کے چچا زاد بھائی شہزادہ سعود الشعلان نے مغربی ممالک کے خلاف دھمکی آمیز انداز میں بیان دیا ہے جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے-

    باغی ٹی وی :حال ہی میں تیل پیدا کرنے والے ممالک کی سعودی عرب کی سربراہی والی تنظیم اوپیک پلس کی جانب سے تیل کی پیداوار میں کٹوتی کے فیصلے پر امریکہ نے شدید ناراضی کا اظہار کیا تھا امریکہ میں کہا جا رہا ہے کہ سعودی عرب کو اس بارے میں معاف نہیں کیا جانا چاہیے اس کے خلاف سخت اقدامات کا وقت آ گیا ہے-

    اوپیک پلس کا فیصلہ خالصتاً اقتصادی ہے،اور اسے رکن ممالک نے متفقہ طور پرقبول کیا…


    امریکا کے اس دھمکی آمیز بیانات کے بعد شہزادہ سعود الشعلان نے شدید ردعمل دیتے ہوئے اپنا ویڈیو بیان جاری کیا ہے جس میں وہ کہہ رہے ہیں کہ اگر کسی نے سعودی سلطنت کے وجود کو چیلنج کیا تو ہم سبھی جہاد اور شہادت کے لیے تیار ہیں-

    برطانوی خبررساں ادارے ” بی بی سی اردو” کے مطابق سعود الشعلان ویڈیو میں انگریزی اور فر نچ زبانوں میں مغرب کو دھمکی دیتے ہوئے کہہ رہے ہیں کسی نے سعودی سلطنت کے وجود کو چیلینج کیا تو ہم سبھی شہادت اور جہاد کے لیے تیار ہیں۔


    مڈل ایسٹ آئی سے سعودی عرب کے انسانی حقوق کے وکیل عبل اللہ العودہ نے کہا کہ سعود الشعلان قبائلی رہنما ہیں اور وہ سعودی عرب کے بانی عبد العزیز کے پوتے ہیں۔

    تیل کی پیدوار میں کمی پر سعودی عرب کو نتائج بھگتنا ہوں گے،امریکی صدر

    واضح رہے کہ گذشتہ ہفتے تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم (اوپیک) اور روس سمیت اتحادیوں پرمشتمل گروپ اوپیک پلس نے اپنے نئے پیداواری ہدف کا اعلان کیا تھا اور امریکا کے تیل کی پیداوار میں کمی نہ کرنے کے مطالبات کو مسترد کر دیا تھا۔

    تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک پلس نے عالمی معیشت اور تیل منڈی کی غیر یقینی صورتِ حال کے باعث نومبر سے تیل پیداوار میں کمی کا فیصلہ کیا ہےاس فیصلے سےامریکہ ناراض ہے۔ کیونکہ تیل میں کمی ہوگی تو قیمتوں میں اضافہ ہو گا امریکا کےصدر جوبائیڈن نے خبردار کیا ہے کہ اوپیک کی جانب سے تیل کی پیداوار میں کمی پر سعودی عرب کو نتائج بھگتنا ہوں گے-

    15 نومبر سے انڈونیشیا میں جی 20 ممالک کا اجلاس ہونے والا ہے۔ جی ٹونٹی میں دنیا کی بڑی معیشتوں والے ممالک شامل ہیں۔ اس اجلاس میں امریکی صدر جو بائیڈن اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان بھی شرکت کریں گے۔

    اتوار کو بائیڈن انتظامیہ کی جانب سے واضح کر دیا گیا کہ جی 20 اجلاس کے دوران صدر بائیڈن کا ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

    سعودی عرب اپنے مفادات کا ہر حال میں تحفظ کرے گا،

    وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ اوپیک پلس کا فیصلہ روس کے حق میں ہے۔ سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان تعلقات گزشتہ کچھ عرصے سے بد ترین دور سے گزر رہے ہیں۔

    یوکرین پر روسی حملے کے سبب قیمتوں میں پہلے سے ہی اضافہ ہو چکا ہے۔ امریکہ نے سعودی عرب کو سمجھانے کی بھی کوشش کی تھی کہ وہ ایسا نہ کرے۔ یہاں تک صدر جو بائیڈن نے اس سال جولائی میں سعودی عرب کا دورہ بھی کیا تھا۔ لیکن دونوں ممالک کسی سمجھوتے تک پہنچنے میں ناکام رہے۔

    امریکہ سمجھتا ہے کہ سعودی عرب روس کا ساتھ دے رہا ہے۔ تیل کی پیداوار میں کمی کے فیصلے سے بین الاقوامی بازار میں تیل کی قیمتیں بڑھیں گی اور اس سے روسی معیشت کو فائدہ ہو گا۔ دوسری جانب امریکہ اور یورپی ممالک روس کے خلاف یوکرین پر حملے کے معاملے میں مزید سخت پابندیاں عائد کر رہے ہیں تاکہ اس کی معیشت کو کمزور کیا جا سکے۔

    امریکہ میں ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنما پہلے سے ہی سعودی عرب کے بارے میں منفی خیالات رکھتے ہیں۔ سنہ 2019 میں جو بائیڈن نے انتخابی مہم کے دوران سعودی عرب کو الگ تھلک کرنے کی بات کہی تھی۔ اور اب امریکی کانگریس میں ڈیموکریٹک سیاست دان سعودی عرب کو سبق سکھانے کی بات کر رہے ہیں۔

    خلیجی تعاون کونسل کی تیل کی یومیہ پیداوار میں کمی کے فیصلے کی تائید

    ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت میں سعودی عرب کے ساتھ امریکہ کے بہت اچھے تعلقات تھے۔ بلومبرگ نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ ’ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر ایک رائے یہ بھی قائم ہو رہی ہے کہ سعودی عرب ریپبلیکن پارٹی کی مدد کر رہا ہے۔ ٹرمپ ایک بار پھر امریکی سیاست میں آنے کی کوشش کر رہے ہیں۔


    ڈیموکریٹک پارٹی کے سینیٹر برنی سینڈرس نے ایم ایس این بی سی کے صحافی مہدی حسن کو دیئے ایک انٹرویو میں سعودی عرب پر نکتہ چینی کی۔

    برنی سینڈرس نے کہا ہے کہ سعودی عرب خواتین کے ساتھ تیسرے درجے کے شہریوں جیسا برتاؤ کرتا ہے۔ شہریوں کو ٹارچر کرتا ہے اور اب یوکرین جنگ میں بھی روس کی طرف داری کر رہا ہے اب ہمیں سعودی عرب سے افواج کو واپس بلا لینا چاہیے انہیں ہتھیار دینا بند کر دینا چاہیے۔ اس کے ساتھ ہی تیل کی قیمتیں بڑھانے جیسی من مانی کا بھی خاتمہ ہونا چاہیے۔

    برنی سینڈرس نے کہا کہ تیل اور گیس کی صنعتیں خوب منافع کما رہی ہیں۔ فارما اور فوڈ انڈسٹری کا بھی یہی حال ہے کارپوریٹ گھرانوں کے بے حساب لالچ کی وجہ سے مہنگائی ساتویں آسمان کو چھو رہی ہے اور عام لوگ اس سے پریشان ہیں۔

    ایران کے ساتھ معاہدے پر جلد واپسی کا کوئی امکان نہیں ہے، امریکا

    سعودی عرب نے خام تیل کی پیداوار میں کمی پر امریکی صدر کے بیان کو مسترد کردیا تھا سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے اعلان کیا تھا کہ مملکت ’اوپیک +‘ کے فیصلے کو بین الاقوامی تنازعات میں جانب دارانہ قرار دینے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس طرح کے بیانات کو مسترد کرتی ہے-

    سعودی وزیر خارجہ نے امریکی صدر کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ سعودی عرب اپنے مفادات کا ہر حال میں تحفظ کرے گا، تیل کی پیداوار میں کمی کی وجوہات سیاسی نہیں، اندرونی مسائل کی وجہ سے امریکہ اوپیک کے فیصلے کو سمجھ نہیں پارہا امریکہ میں نو اوپیک بل کا متعارف کروایا جانا حیران کن ہے، اوپیک کے خاتمے کی باتیں جذباتی ہیں۔

    وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ اوپیک +‘ کا فیصلہ متفقہ طور پر اورخالصتا اقتصادی نقطہ نظر سے لیا گیا تھا جس کا مقصد مارکیٹوں میں طلب اور رسد کے توازن کو مدنظر رکھنا ہے اور اتار چڑھاؤ کو محدود کرتے ہوئے قیمتوں میں استحکام پیدا کرنا ہے۔

    سعودی عرب نے بین الاقوامی تنازعات میں اس فیصلے کو تعصب کی نگاہ سے دیکھنے پرمبنی بیانات کو بھی مکمل طور پر مسترد کر دیا تھا کہا تھا کہ مملکت امریکا کے خلاف سیاسی مقاصد کی بنیاد پر اوپیک + کے فیصلے پر عمل درآمد نہیں کرتی۔ سعودی عرب 5 اکتوبر کو اوپیک پلس کے فیصلے کے بعد مملکت پر تنقید کرنے والے بیانات کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہے۔

    سعودی عرب کے ساتھ امریکہ کے تعلقات نازک نوعیت کے ہیں،امریکی حکام

  • سعودی مسلح افواج کے ڈائریکٹر جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کی سربراہ پاک فضائیہ سے ملاقات

    سعودی مسلح افواج کے ڈائریکٹر جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کی سربراہ پاک فضائیہ سے ملاقات

    سعودی مسلح افواج کے ڈائریکٹر جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کی سربراہ پاک فضائیہ سے ملاقات ہوئی-

    باغی ٹی وی: ترجمان پاک فضائیہ کے مطابق سعودی مسلح افواج کےڈائریکٹر جوائنٹ چیفس آف اسٹاف، میجر جنرل حمید بن رافع العامری کی قیادت میں سعودی مسلح افواج کے وفد کی پاک فضائیہ کے سربراہ ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو سے ملاقات کی-

    ترجمان پاک فضائیہ کے مطابق ملاقات کے دوران علاقائی سلامتی کی صورتحال اور دوطرفہ دفاعی تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا-

    ترجمان پاک فضائیہ کے مطابق میجر جنرل حمید بن رافع العامری کا پاکستان میں حالیہ سیلاب سے ہونے والی تباہی پر گہرے دکھ کا اظہار اور متاثرین کے اہل خانہ سے دلی تعزیت کی-

    میجر جنرل حمید بن رافع العامری نے کہا کہ سیلاب متاثرین کے لیئے کی جانے والی امدادی سرگرمیوں اور بحالی کے عمل میں پاک فضائیہ کے اہلکاروں کی کوششیں اور سول انتظامیہ کے ساتھ بھر پور تعاون قابلِ تحسین ہے۔

    میجرجنرل حمید بن رافع العامری نےہوا بازی کی صنعت میں پاک فضائیہ کی خود انحصاری پر مبنی صلاحیتوں کا اعتراف کیا،دونوں فضائی افواج کے درمیان خاص طور پر تربیت اور آپریشنل ڈومینز میں پہلے سے استوار تعلقات کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا-

    سربراہ پاک فضائیہ نے پاک فضائیہ کی آپریشنل ساخت کے مطابق فضائی، خلائی اور سائبر اسپیس ڈومینز میں عصرِ حاضر کی عسکری و آپریشنل صلاحیتوں کے حصول کے لیے پاک فضائیہ کو جدت سے استوار کرنے کی مہم کے وسیع منصوبوں کا ذکرکیا-

    سربراہ پاک فضائیہ نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دیرینہ مذہبی، ثقافتی اور تاریخی رشتے قائم ہیں جو دونوں ممالک کے درمیان مضبوط تعلقات کا مظہر ہیں پاکستان میں سیلاب زدگان کی امداد اور بحالی کے عمل میں عالمی برادری کی امداد انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔

    سربراہ پاک فضائیہ نے مملکت سعودی عرب کی جانب سے سیلاب متاثرین کی مسلسل اور بلا تعطل امداد پر اظہارِ تشکر کیا-

  • ڈاکٹرمحمد بن عبدالکریم الیسہ کےدورہ سےپاکستان اورسعودی عرب کےدرمیان خوشگوارتعلقات مزید مستحکم ہوں گے: طاہراشرفی

    ڈاکٹرمحمد بن عبدالکریم الیسہ کےدورہ سےپاکستان اورسعودی عرب کےدرمیان خوشگوارتعلقات مزید مستحکم ہوں گے: طاہراشرفی

    اسلام آباد:پاکستان علما کونسل کے چیئرمین حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نےکہا کہ مسلم ورلڈ لیگ (ایم ڈبلیو ایل) کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر محمد بن عبدالکریم الیسہ مسلم امہ کے درمیان اتحاد کو فروغ دینے کے لیے کام کر رہے ہیں، ان کے دورے سے دونوں برادر ممالک پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان خوشگوار تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔ اتوار کواے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ وہ عالمی سطح پرمشترکہ مفادات کے حصول اور درپیش مسائل کے حل کے لیے تمام مسلمانوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے کی بھرپور کوششیں کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ اختلافات کو دور کیا جائے اور عملی نقطہ نظر کے ساتھ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک متفقہ حکمت عملی وضع کی جائے۔

    انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو اپنی ماضی کی شان کو دوبارہ حاصل کرنے کے لیے، انہیں قرآن پاک کی تعلیمات اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کرنا چاہیے۔مذہبی سفارت کاری کے لیے بین الاقوامی فورم بنانے کے لیے مسلم ورلڈ لیگ کے سیکرٹری جنرل کے خیال کی تائید کرتے ہوئے کہا وقت کی ضرورت ہے کہ مسلم کمیونٹیز کو قریب لایا جائے اور ان کے لیے مواقع کے نئے راستے کھولے جائیں۔ایک سوال کے جواب میں طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ ڈاکٹرالیسہ کے دورے سے دونوں برادر ممالک پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان خوشگوار تعلقات مزید مستحکم ہوں گے، کوئی طاقت دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو کمزور نہیں کر سکتی۔

    انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ ہمارے تعلقات نہ صرف سفارتی یا برادرانہ ہیں بلکہ یہ مشترکہ عقیدے پر مبنی تعلقات ہیں۔ حافظ محمد طاہر محموداشرفی نے کہا کہ ڈاکٹر الیسہ نے ریاستی اعلیٰ حکام سے ملاقات کے علاوہ مذہبی اسکالرز، علمائے کرام، مختلف مکاتب فکر کے مشائخ اور طلباء سے بھی بات چیت کی ۔انہوں نے کہاکہ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے مسلم ورلڈ لیگ کے سیکرٹری جنرل کو پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان برادرانہ تعلقات کو مضبوط بنانے میں ان کی خدمات کے اعتراف میں ہلال پاکستان سے نوازا تھا جو کہ پاکستان کا دوسرا بڑا اعزاز ہے۔

    اس ایوارڈ نے سعودی عرب میں پاکستانی طلباء کو وظائف دینے، سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں کے حقوق کی پیروی اور ان کے تحفظ، مکالمے اور کانفرنسوں کا اہتمام کرکے دنیا کے مسلمانوں کے درمیان امن اور ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لیے ان کے کردار،دنیا میں مسلمانوں کی پرامن، ہم آہنگی اور رواداری کی تصویر کو بھی تسلیم کیا۔انہوں نے خادمِ حرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز،ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر نواف بن سعید المالکی کی جانب سے پاکستان میں سیلاب زدگان کی فراخدلی سے مدد کرنے پر شکریہ ادا کیا۔

  • حرمین شریفین میں خواتین مشاورتی کونسل قائم کرنے کا فیصلہ

    حرمین شریفین میں خواتین مشاورتی کونسل قائم کرنے کا فیصلہ

    ریاض: حرمین شریفین میں خواتین مشاورتی کونسل قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : عرب میڈیا کے مطابق حرمین شریفین میں خواتین کی مشاورتی کونسل قائم کی جائے گی خواتین کی مشاورتی کونسل حرمین شریفین انتظامیہ کے سربراہ اعلی شیخ ڈاکٹر عبدالرحمن السدیس کی ہدایت پر قائم کی جارہی ہے۔


    خواتین مشاورتی کونسل قائم کرنے کا مقصد حرمین شریفین میں زائرین کی خدمت اور سہولتوں کی فراہمی میں یکسانیت لانا اور خواتین کو اس سلسلے میں بااختیار بنانا ہے۔

    خواتین مشاورتی کونسل سے زائرخواتین کو جدید نظام کے تحت سہولیات کی فراہمی میں آسانی ہوگی اور کسی مشکل کی صورت میں رہنمائی اور مدد بھی فراہم کی جائے گی۔

    سبسڈی دینا کبھی مددگار ثابت نہیں ہوتا،وسائل کا استعمال کریں،آئی ایم ایف


    وزیر حج و عمرہ نے کہا کہ خواتین مملکت میں بغیر محرم کے عمرہ کرنے آ سکتی ہے۔


    وزارت حج و عمرہ نے کہا کہ دنیا کے کسی بھی حصے سے عمرہ ویزوں کی تعداد کی کوئی حد نہیں ہے-

    خلیجی تعاون کونسل کی تیل کی یومیہ پیداوار میں کمی کے فیصلے کی تائید