Baaghi TV

Tag: سعودی عرب

  • سعودی مسلح افواج کے ڈائریکٹر جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کی سربراہ پاک فضائیہ سے ملاقات

    سعودی مسلح افواج کے ڈائریکٹر جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کی سربراہ پاک فضائیہ سے ملاقات

    سعودی مسلح افواج کے ڈائریکٹر جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کی سربراہ پاک فضائیہ سے ملاقات ہوئی-

    باغی ٹی وی: ترجمان پاک فضائیہ کے مطابق سعودی مسلح افواج کےڈائریکٹر جوائنٹ چیفس آف اسٹاف، میجر جنرل حمید بن رافع العامری کی قیادت میں سعودی مسلح افواج کے وفد کی پاک فضائیہ کے سربراہ ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو سے ملاقات کی-

    ترجمان پاک فضائیہ کے مطابق ملاقات کے دوران علاقائی سلامتی کی صورتحال اور دوطرفہ دفاعی تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا-

    ترجمان پاک فضائیہ کے مطابق میجر جنرل حمید بن رافع العامری کا پاکستان میں حالیہ سیلاب سے ہونے والی تباہی پر گہرے دکھ کا اظہار اور متاثرین کے اہل خانہ سے دلی تعزیت کی-

    میجر جنرل حمید بن رافع العامری نے کہا کہ سیلاب متاثرین کے لیئے کی جانے والی امدادی سرگرمیوں اور بحالی کے عمل میں پاک فضائیہ کے اہلکاروں کی کوششیں اور سول انتظامیہ کے ساتھ بھر پور تعاون قابلِ تحسین ہے۔

    میجرجنرل حمید بن رافع العامری نےہوا بازی کی صنعت میں پاک فضائیہ کی خود انحصاری پر مبنی صلاحیتوں کا اعتراف کیا،دونوں فضائی افواج کے درمیان خاص طور پر تربیت اور آپریشنل ڈومینز میں پہلے سے استوار تعلقات کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا-

    سربراہ پاک فضائیہ نے پاک فضائیہ کی آپریشنل ساخت کے مطابق فضائی، خلائی اور سائبر اسپیس ڈومینز میں عصرِ حاضر کی عسکری و آپریشنل صلاحیتوں کے حصول کے لیے پاک فضائیہ کو جدت سے استوار کرنے کی مہم کے وسیع منصوبوں کا ذکرکیا-

    سربراہ پاک فضائیہ نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دیرینہ مذہبی، ثقافتی اور تاریخی رشتے قائم ہیں جو دونوں ممالک کے درمیان مضبوط تعلقات کا مظہر ہیں پاکستان میں سیلاب زدگان کی امداد اور بحالی کے عمل میں عالمی برادری کی امداد انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔

    سربراہ پاک فضائیہ نے مملکت سعودی عرب کی جانب سے سیلاب متاثرین کی مسلسل اور بلا تعطل امداد پر اظہارِ تشکر کیا-

  • ڈاکٹرمحمد بن عبدالکریم الیسہ کےدورہ سےپاکستان اورسعودی عرب کےدرمیان خوشگوارتعلقات مزید مستحکم ہوں گے: طاہراشرفی

    ڈاکٹرمحمد بن عبدالکریم الیسہ کےدورہ سےپاکستان اورسعودی عرب کےدرمیان خوشگوارتعلقات مزید مستحکم ہوں گے: طاہراشرفی

    اسلام آباد:پاکستان علما کونسل کے چیئرمین حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نےکہا کہ مسلم ورلڈ لیگ (ایم ڈبلیو ایل) کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر محمد بن عبدالکریم الیسہ مسلم امہ کے درمیان اتحاد کو فروغ دینے کے لیے کام کر رہے ہیں، ان کے دورے سے دونوں برادر ممالک پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان خوشگوار تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔ اتوار کواے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ وہ عالمی سطح پرمشترکہ مفادات کے حصول اور درپیش مسائل کے حل کے لیے تمام مسلمانوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے کی بھرپور کوششیں کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ اختلافات کو دور کیا جائے اور عملی نقطہ نظر کے ساتھ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک متفقہ حکمت عملی وضع کی جائے۔

    انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو اپنی ماضی کی شان کو دوبارہ حاصل کرنے کے لیے، انہیں قرآن پاک کی تعلیمات اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کرنا چاہیے۔مذہبی سفارت کاری کے لیے بین الاقوامی فورم بنانے کے لیے مسلم ورلڈ لیگ کے سیکرٹری جنرل کے خیال کی تائید کرتے ہوئے کہا وقت کی ضرورت ہے کہ مسلم کمیونٹیز کو قریب لایا جائے اور ان کے لیے مواقع کے نئے راستے کھولے جائیں۔ایک سوال کے جواب میں طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ ڈاکٹرالیسہ کے دورے سے دونوں برادر ممالک پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان خوشگوار تعلقات مزید مستحکم ہوں گے، کوئی طاقت دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو کمزور نہیں کر سکتی۔

    انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ ہمارے تعلقات نہ صرف سفارتی یا برادرانہ ہیں بلکہ یہ مشترکہ عقیدے پر مبنی تعلقات ہیں۔ حافظ محمد طاہر محموداشرفی نے کہا کہ ڈاکٹر الیسہ نے ریاستی اعلیٰ حکام سے ملاقات کے علاوہ مذہبی اسکالرز، علمائے کرام، مختلف مکاتب فکر کے مشائخ اور طلباء سے بھی بات چیت کی ۔انہوں نے کہاکہ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے مسلم ورلڈ لیگ کے سیکرٹری جنرل کو پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان برادرانہ تعلقات کو مضبوط بنانے میں ان کی خدمات کے اعتراف میں ہلال پاکستان سے نوازا تھا جو کہ پاکستان کا دوسرا بڑا اعزاز ہے۔

    اس ایوارڈ نے سعودی عرب میں پاکستانی طلباء کو وظائف دینے، سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں کے حقوق کی پیروی اور ان کے تحفظ، مکالمے اور کانفرنسوں کا اہتمام کرکے دنیا کے مسلمانوں کے درمیان امن اور ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لیے ان کے کردار،دنیا میں مسلمانوں کی پرامن، ہم آہنگی اور رواداری کی تصویر کو بھی تسلیم کیا۔انہوں نے خادمِ حرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز،ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر نواف بن سعید المالکی کی جانب سے پاکستان میں سیلاب زدگان کی فراخدلی سے مدد کرنے پر شکریہ ادا کیا۔

  • حرمین شریفین میں خواتین مشاورتی کونسل قائم کرنے کا فیصلہ

    حرمین شریفین میں خواتین مشاورتی کونسل قائم کرنے کا فیصلہ

    ریاض: حرمین شریفین میں خواتین مشاورتی کونسل قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : عرب میڈیا کے مطابق حرمین شریفین میں خواتین کی مشاورتی کونسل قائم کی جائے گی خواتین کی مشاورتی کونسل حرمین شریفین انتظامیہ کے سربراہ اعلی شیخ ڈاکٹر عبدالرحمن السدیس کی ہدایت پر قائم کی جارہی ہے۔


    خواتین مشاورتی کونسل قائم کرنے کا مقصد حرمین شریفین میں زائرین کی خدمت اور سہولتوں کی فراہمی میں یکسانیت لانا اور خواتین کو اس سلسلے میں بااختیار بنانا ہے۔

    خواتین مشاورتی کونسل سے زائرخواتین کو جدید نظام کے تحت سہولیات کی فراہمی میں آسانی ہوگی اور کسی مشکل کی صورت میں رہنمائی اور مدد بھی فراہم کی جائے گی۔

    سبسڈی دینا کبھی مددگار ثابت نہیں ہوتا،وسائل کا استعمال کریں،آئی ایم ایف


    وزیر حج و عمرہ نے کہا کہ خواتین مملکت میں بغیر محرم کے عمرہ کرنے آ سکتی ہے۔


    وزارت حج و عمرہ نے کہا کہ دنیا کے کسی بھی حصے سے عمرہ ویزوں کی تعداد کی کوئی حد نہیں ہے-

    خلیجی تعاون کونسل کی تیل کی یومیہ پیداوار میں کمی کے فیصلے کی تائید

  • سعودی عرب کے ساتھ امریکہ کے تعلقات نازک نوعیت کے ہیں،امریکی حکام

    سعودی عرب کے ساتھ امریکہ کے تعلقات نازک نوعیت کے ہیں،امریکی حکام

    امریکی حکام نے کہا ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ امریکہ کے تعلقات نازک نوعیت کے ہیں، عمومی رویہ تبدیل نہیں کیا جا سکتا اور امریکہ ریاض کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا۔

    باغی ٹی وی : امریکی اخبار "وال سٹریٹ جرنل” نے امریکی عہدیداروں کے حوالے سے لکھا ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات مشرق وسطیٰ میں امریکی مفادات کے لیے بہت اہم ہیں اور امریکا ریاض کے ساتھ سٹریٹجک تعاون جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہے جو ایران کا مقابلہ کرنے کے لیے بھی بے حد ضروری ہے۔

    سعودی عرب اپنے مفادات کا ہر حال میں تحفظ کرے گا،جوبائیڈن

    حکام نے کہا امریکہ فی الحال سعودی عرب میں تعینات امریکی افواج کی تعداد میں کسی اہم تبدیلی کا منصوبہ نہیں بنا رہا ہے لیکن صدر بائیڈن کے اوپیک + کی جانب سے تیل کی پیداوار میں کمی کے اعلان کے بعد تعلقات کا از سر نو جائزہ لینے کے فیصلے کے بعد دونوں ممالک کے وسیع دفاعی تعاون کے کچھ پہلو متاثر ہو سکتے ہیں۔

    حکام کا کہنا تھا کہ امریکہ کا تعلق مشرق وسطیٰ میں امریکی مفادات کے لیے بہت اہم ہے تاکہ مجموعی طور پر تبدیلی لائی جا سکے اور امریکہ ریاض کے ساتھ اپنا اسٹریٹجک تعاون جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہے جو کہ ایران سے مقابلے کے لیے مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ لیکن دفاعی تعاون کے کچھ شعبوں میں کمی ہو سکتی ہے۔

    امریکی حکام نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے، مثال کے طور پر، امریکہ نے ایران پر امریکہ اور خلیج تعاون کونسل کے درمیان ورکنگ گروپ میں اپنی شرکت منسوخ کر دی، جو کہ 17 اکتوبر کو ہونا تھا۔ ملاقات میں علاقائی اتحادیوں کے درمیان دفاع بالخصوص میزائل دفاع پر توجہ مرکوز کرنا تھی۔

    حکام نے مزید کہا کہ امریکہ اسلحے کی فروخت کی کچھ بڑی مقدار کو بھی سست کر سکتا ہے جس میں سعودی عرب ہر سال امریکی ناراضگی کا پیغام بھیجتا ہے۔

    وائٹ ہاوس نے صدر جوبائیڈن کا نیشنل سیکیورٹی پلان جاری کر دیا

    بہت سے ڈیموکریٹک قانون سازوں نے ان فروخت کو روکنے کا مطالبہ کیا ہے لیکن رکنے پر مجبور کرنے کے لیے کسی بھی کانگریس کی کارروائی سے کانگریس میں ووٹ پاس ہونے کا امکان نہیں ہے۔ امریکی اور یورپی دفاعی حکام کا کہنا ہے کہ وہ فروخت – جو کہ 2010 سے کم از کم $130 بلین ڈالر کی مجوزہ یا مکمل ہو چکی ہے، سعودی تعلقات کو برقرار رکھنے کے لیے ایک پائیدار اور ٹھوس ربط فراہم کرتی ہے۔

    واشنگٹن میں قائم سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز میں مشرق وسطیٰ کے پروگرام کی ہدایت کاری کرنے والے جون الٹرمین نے کہا کہ سعودی اپنی فوج کو ہماری فوج جیسا بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، اور پینٹاگون اسے ایک اہم اقدام کے طور پر دیکھتا ہے۔

    امریکی عہدیداروں نے مزید کہا کہ سعودی عرب بالخصوص اس کی فوج کے ساتھ تعلقات کو خراب کرنا ایران کے ساتھ محاذ آرائی اور دیگر علاقائی مسائل کو حل کرنا مشکل بنا سکتا ہے۔ اسی بنا پر سعودیہ کے ساتھ تعلقات کا جاری رہنا بہت ضروری ہے۔

    اٹلانٹک کونسل میں ’’سکوکروفٹ مڈل ایسٹ‘‘ کے ڈائریکٹر جوناتھن بانیکوف نے کہا کہ فوجی طور پر میں سوچ بھی نہیں سکتا کہ امریکہ سعودی افواج کے ساتھ تعاون بند کر دے گا۔ سعودی فوج کے ساتھ مشقوں کو روکنا بھی کسی طرح ہمارے مفاد میں نہیں ہے۔

    اوپیک پلس کا فیصلہ خالصتاً اقتصادی ہے،اور اسے رکن ممالک نے متفقہ طور پرقبول کیا…

    پانیکوف نے مزید کہا کہ امریکہ اور سعودیہ میں انٹیلی جنس شیئرنگ بھی جاری رہنے کی توقع ہے کیونکہ یہ تعاون روکنے سے امریکہ کی قومی سلامتی کو نقصان پہنچے گا۔

    اخبار کے مطابق امریکی کانگریس کے بعض عہدیداروں نے اتحادیوں کے ساتھ تعلقات کشیدہ کرنے کے بجائے تیل اور گیس کی ملکی پیداوار کو بہتر بنانے کا مشورہ دیا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ سعودی امریکہ تعاون کو کسی بھی طرح متاثر نہیں دیکھنا چاہتے۔

  • سعودی عرب: 100 سے زیادہ قسم کی روٹیاں بنانے والی خاتون کے چرچے

    سعودی عرب: 100 سے زیادہ قسم کی روٹیاں بنانے والی خاتون کے چرچے

    سعودی عرب میں روٹی بنانے والی خاتون نے 100 سے زیادہ قسم کی روٹیاں بنانا شروع کردیں۔

    باغی ٹی وی : ” العربیہ” کے مطابق شیف رنا البرھومی نے کہا کہ میں بیکڈ اشیا سے محبت کرتی ہوں اور اس دنیا میں اپنے شوق کو تجربے میں بدلنے میں کامیاب ہوگئی ہوں ۔ جرمنی میں اپنی موجودگی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے روٹی کی مختلف اقسام کو سیکھا۔ معلوم ہوا کہ روٹیوں کی ایک ہزار سے زائد اقسام ہیں۔

    انٹرپول نے خالصتان کے رہنما کے ریڈ وارنٹ جاری کرنے کی بھارتی درخواست مسترد کر دی

    انہوں نے کہا کہ میں نے صرف جذبات پر اکتفا نہیں کیا بلکہ میں نے پروجیکٹ کو سرمایہ کار کے نقطہ نظرسے دیکھا۔ گاہک کی صحت پر توجہ مرکوز کی۔ صحت مند اشیا، تنوع اور عمدگی پر بھرپور توجہ دی۔ رنا اب جدہ میں بیکڈ اشیا کی فروخت کا کام کررہی ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ میرا تجربہ معمولی تھا اور جب وہ بیکڈ مال کی دنیا میں داخل ہوئی تو اس نے بیکڈ اشیا کی تیاری کے لیے ایک خاص کیمسٹری دریافت کی جس سے وہ حیران رہ گئیں۔

    شیف رنا البرھومی نے بتایا کہ پھر سعودی عرب واپسی کے بعد ایک پروجیکٹ کھولا والدین اور بہنوں سے تعاون حاصل کیا انہوں نے گاہکوں کے ساتھ رویے اور پریزنٹیشن کا طریقہ بتاتے ہوئے کہا کہ روٹی کی ثقافت عالمی ہے-

    سعودی عرب اپنے مفادات کا ہر حال میں تحفظ کرے گا،جوبائیڈن

    شیف رنا البرھومی نے کہا کہ وہ بیکنگ کا عمل خود کرتی ہے اور عملے کو بغیر چینی اور بلیچ یا کیمیکلز کے اعلیٰ معیار کا پکا ہوا سامان فراہم کرنے کی تربیت بھی دیتی ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ انہوں نے بیان کیا کہ اسے اپنی ماں اور بہنوں کی طرف سے حمایت اور مدد ملی جب انہیں میرے روٹی بنانے کے شوق کا معلوم ہوا تو انہوں نے میرے ساتھ پورا تعاون کیا میری والدہ ایک معلمہ اور سکول کی پرنسپل ہیں ۔انہوں نے کامیابی حاصل کرنے اور اسے قائم رکھنے کے لیے میرا بہت ساتھ دیا جس کی جہ سے میں جرمنی میں بیکنگ سرٹیفکیٹ حاصل کرکے اپنا پروجیکٹ لگانے میں کامیاب ہوئی ۔

    انٹرپول نے خالصتان کے رہنما کے ریڈ وارنٹ جاری کرنے کی بھارتی درخواست مسترد کر دی

  • سعودی عرب 2022 کے دوران شرح نمو کے لحاظ سےجی 20 ممالک میں سرفہرست ہے،آئی ایم ایف

    سعودی عرب 2022 کے دوران شرح نمو کے لحاظ سےجی 20 ممالک میں سرفہرست ہے،آئی ایم ایف

    آئی ایم ایف نے جولائی میں جاری اپنی سابقہ پیش گوئیوں کو اپ ڈیٹ کرکے نئی رپورٹ جاری کردی ہے۔

    باغی ٹی وی : انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کی جانب سے جاری کردہ ورلڈ اکنامک آؤٹ لک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سعودی عرب 2022 کے دوران شرح نمو کے لحاظ سے جی 20 ممالک میں سرفہرست ہے۔

    بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے 2022 کے دوران سعودی معیشت کی نمو کے لیے اپنی پیشن گوئی 7.6 فیصد مقرر کی۔ گزشتہ جولائی اور اپریل کی توقعات کے بعد مسلسل دوسری مرتبہ زیادہ پیش گوئی کی گئی۔ اس سے قبل جنوری میں جو توقعات ظاہر کی گئی تھیں ان کے مطابق سعودی جی ڈی پی کی نمو 4.8 فیصد متوقع تھی۔


    آئی ایم ایف نے 2023 کے لیے سعودی معیشت کی نموکی پیش گوئی 3.7 فیصد رکھی۔ منگل کے روز جاری ورلڈ اکنامک آؤٹ لک رپورٹ کے مطابق یہ شرح سابق پیش گوئی کے تقریبا برابر ہی ہے۔ اپریل کی پیش گوئی میں یہ شرح 3.6 فیصد تھی۔ 2021 میں سعودیہ کی حقیقی شرح نمو 3.2 فیصد رہی۔

    اقوام متحدہ میں روس کی یوکرین کےعلاقوں کی’غیرقانونی‘ الحاق کی مذمت،پاکستان اورچین کا ووٹنگ سے اجتناب

    رپورٹ کے مطابق 2022 کی شرح نمو کے لحاظ سے گروپ آف ٹوئنٹی میں ہندوستان دوسرے نمبر پر ہے، اس کی شرح نمو 6.8 فیصد متوقع ہے۔ انڈونیشیا کی شرح نمو 5.3، ترکی 5، ارجنٹائن 4، آسٹریلیا 3.8 اور برطانیہ کی شرح نمو 3.6 فیصد تک رہنے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔


    آئی ایم ایف نے سعودی عرب میں افراط زر کے حوالے سے پیش گوئی کی کہ 2022 میں افراد زر 2.7 فیصد تک پہنچنے کا اندازہ ہے۔ 2021 میں یہ شرح 3.1 فیصد تھی۔ 2023 میں افراط زر کی شرح کم ہوکر 2.2 فیصد رہنے کی توقع ہے۔

    مملکت کا کرنٹ اکاؤنٹ بیلنس جی ڈی پی کے فیصد کے طور پر 2022 کے لیے 16 فیصد اور 2023 کے لیے 12.3 فیصد تک پہنچ جائے گا۔ گزشتہ برس یہ 5.3 فیصد رہا تھا۔

    وائٹ ہاوس نے صدر جوبائیڈن کا نیشنل سیکیورٹی پلان جاری کر دیا


    آئی ایم ایف نے کہا کہ عالمی اقتصادی سرگرمیوں میں وسیع پیمانے پر سست روی کا مشاہدہ کیا جا رہا ہے جو توقعات سے زیادہ ہے۔ مہنگائی کی شرح پچھلی کئی دہائیوں کی ریکارڈ شرح سے زیادہ ہوگئی ہے۔

    عالمی اقتصادی ترقی اس سال 3.2 فیصد، 2023 میں 2.7 فیصد رہنے کی توقع ہے۔ 2021 میں عالمی اقتصادی ترقی کی شرح 6 فیصد رہی تھی۔

    سعودی عرب اپنے مفادات کا ہر حال میں تحفظ کرے گا،جوبائیڈن

  • اوپیک پلس کا فیصلہ خالصتاً اقتصادی ہے،اور اسے رکن ممالک نے متفقہ طور پرقبول کیا ہے،سعودی وزیر خارجہ

    اوپیک پلس کا فیصلہ خالصتاً اقتصادی ہے،اور اسے رکن ممالک نے متفقہ طور پرقبول کیا ہے،سعودی وزیر خارجہ

    سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا ہے کہ اوپیک پلس کا فیصلہ خالصتاً اقتصادی ہے اور اسے رکن ممالک نے متفقہ طور پرقبول کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : "العربیہ” کو دیئے گئے انٹریو میں سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا کہ اوپیک پلس ممالک نے ذمہ داری سے کام کیا اور مناسب فیصلہ کیا اوپیک پلس کا فیصلہ خالصتاً اقتصادی ہےاور اسے رکن ممالک نے متفقہ طور پرقبول کیا ہے۔

    عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ، گیس کی قیمت میں کمی

    شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا کہ اوپیک پلس ممالک مارکیٹ کو مستحکم کرنے اور پروڈیوسروں اور صارفین کے مفادات کے حصول کی کوشش کرتے ہیں واشنگٹن کے ساتھ تعلقات اسٹریٹجک ہیں اور خطے کی سلامتی اور استحکام کی بنیاد پرقائم ہیں۔”

    سعودی وزیر خارجہ نے کہا کہ ریاض اور واشنگٹن کے درمیان فوجی تعاون دونوں ممالک کے مفادات کے لیے جاری ہے اور اس نے خطے کے استحکام میں اہم کردار ادا کیا ہے امریکا کے ساتھ ہمارے تعلقات ادارہ جاتی ہیں جب سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات قائم ہیں۔

    روس اور یوکرائن جنگ پرسعودی وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم تنازع کو روکنے کے لیے یوکرینی بحران کے فریقین کو بات چیت کی طرف لانا چاہتے ہیں۔

    شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا کہ یمن میں جنگ بندی میں توسیع کی کوششیں ابھی تک جاری ہیں یمنی حکومت نے یمن کے مفاد کے حوالے سے ایک اعلی ذمہ داری کے ساتھ بڑی لچک کا مظاہرہ کیا ہے جبکہ ایران کے ساتھ بات چیت ابھی تک ٹھوس نتائج تک نہیں پہنچی ہے اور ہم مذاکرات کے چھٹے دور کی طرف دیکھ رہے ہیں۔

    چین کے ساتھ تعلقات پرانہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ تعلقات پہلی سطح پر اقتصادی ہیں اور ہمارے پاس بہت سے مشترکہ اقتصادی منصوبے ہیں سعودی وزیر خارجہ نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ عراق میں جاری سیاسی بحران جلد ختم ہوگا۔

    دوسری جانب اوپیک پلس کے فیصلے پر امریکی صدر جوبائیڈن نے کہا ہے کہ تیل کی پیدوار میں کمی پر سعودی عرب کو نتائج بھگتنا ہوں گے، انتظامیہ کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں اضافے سے روس کو فائدہ پہنچے گا۔

    اوپیک پلس نے نومبر سے تیل کی پیداوار میں یومیہ 20 لاکھ بیرل کمی کا اعلان کیا ہے ۔ اوپیک پلس کے فیصلے سے تیل کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے اس اقدام نے وائٹ ہاؤس اور کانگریس کو غصہ دلایا اور مملکت اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی تقسیم کو اجاگر کیا دونوں جماعتوں کے قانون سازوں نے سعودی عرب کو سزا دینے کے لیے اقدامات کا مطالبہ کیا۔

    یہ پوچھے جانے پر کہ کیا اب وقت آگیا ہے کہ امریکہ سعودیوں کے ساتھ اپنے تعلقات پر نظر ثانی کرے، بائیڈن نے کہا، "ہاں ، لیکن یہ نہیں بتاوں گا کہ میرے ذہن میں کیا ہےمگر سعودی عرب کو نتائج بھگتنا ہوں گے، تیل کی پیداوار میں کمی امریکی مفادات کے خلاف ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات پر نظرثانی کی جائے ۔

    متحدہ عرب امارات کےصدر شیخ محمد بن زاید النہیان کی روسی صدر سے ملاقات

  • تیل کی پیدوار میں کمی پر سعودی عرب کو نتائج بھگتنا ہوں گے،امریکی صدر

    تیل کی پیدوار میں کمی پر سعودی عرب کو نتائج بھگتنا ہوں گے،امریکی صدر

    امریکی صدر جوبائیڈن نے کہا ہے کہ تیل کی پیدوار میں کمی پر سعودی عرب کو نتائج بھگتنا ہوں گے، انتظامیہ کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں اضافے سے روس کو فائدہ پہنچے گا۔

    باغی ٹی وی : سی این این کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں امریکی صدر جوبائیڈن نے کہا کہ جب ایوان اور سینیٹ واپس آجائیں گے تو انہیں ہونا پڑے گا روس کے ساتھ جو کچھ انہوں نے کیا ہے اس کے کچھ نتائج برآمد ہوں گے۔”

    عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ، گیس کی قیمت میں کمی

    انہوں نے کہا ہے کہ اوپیک پلس نے نومبر سے تیل کی پیداوار میں یومیہ 20 لاکھ بیرل کمی کا اعلان کیا ہے ۔ اوپیک پلس کے فیصلے سے تیل کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے اس اقدام نے وائٹ ہاؤس اور کانگریس کو غصہ دلایا اور مملکت اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی تقسیم کو اجاگر کیا دونوں جماعتوں کے قانون سازوں نے سعودی عرب کو سزا دینے کے لیے اقدامات کا مطالبہ کیا۔

    یہ پوچھے جانے پر کہ کیا اب وقت آگیا ہے کہ امریکہ سعودیوں کے ساتھ اپنے تعلقات پر نظر ثانی کرے، بائیڈن نے کہا، "ہاں ، لیکن یہ نہیں بتاوں گا کہ میرے ذہن میں کیا ہےمگر سعودی عرب کو نتائج بھگتنا ہوں گے، تیل کی پیداوار میں کمی امریکی مفادات کے خلاف ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات پر نظرثانی کی جائے ۔

    روس یوکرائن جنگ کے حوالے سے صدر جوبائیڈن کا کہنا تھا کہ روس اٹیمی ہتھیار استعمال کرنے کی غلطی کبھی نہیں کرے گا پیوٹن نے یوکرین جنگ شروع کرنے سے پہلے غلط اندازہ لگایا۔

    امریکی صدر جوبائیڈن نے عالمی ایٹمی جنگ کے خطرے سے آگاہ کردیا

    سینیٹ کے خارجہ تعلقات کے سربراہ رابرٹ مینینڈیز، جو ایک ڈیموکریٹ ہیں، نے پیر کو سعودی عرب کے ساتھ ہتھیاروں کی فروخت سمیت تمام تعاون منجمد کرنے پر زور دیا۔

    قانون سازوں نے اس قانون سازی کو بھی بحال کیا ہے جو امریکی حکومت کو توانائی کی منڈی میں ہیرا پھیری کے الزام میں اوپیک کے ارکان کے خلاف مقدمہ چلانے کی اجازت دے گی۔ لیکن انتظامیہ کے عہدیداروں نے تسلیم کیا ہے کہ نومبر کے وسط مدت کے بعد تک کسی بھی قانون سازی کے منصوبے کے آگے بڑھنے کا امکان نہیں ہے۔

    سعودی فیصلہ بائیڈن کے لیے بھی ایک ذاتی دھچکا تھا، جس نے جولائی میں مملکت کا دورہ کیا تھا تاکہ زیادہ پیداوار پر زور دیا جا سکے جس سے امریکیوں کے لیے گیس کی قیمتیں کم ہو سکیں لیکن انتظامیہ کے اہلکاروں نے اس کے بعد سے اس تعلق کو کم کر دیا ہے۔

    امریکی صدر جوبائیڈن کے بیٹے کو ٹیکس چوری اور اسلحہ خریداری کے مقدمات کا سامنا

    بائیڈن نے منگل کو کہا سعودی عرب میں میں کیوں گیا تھا انہوں نے مزید کہا کہ یہ سفر "تیل کے بارے میں” نہیں تھا بلکہ یہ واضح کرنے کے بارے میں تھا کہ امریکہ "مشرق وسطی سے دور نہیں ہونے والا ہے۔

    واضح رہے کہ تیل برآمد کنندگان کی تنظیم اوپیک اورغیراوپیک ممالک پر مشتمل گروپ (اوپیک پلس) نے امریکہ سمیت دیگر ممالک کے دباؤ کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے تیل کی پیداوار میں نمایاں کٹوتی کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔ اتفاق رائے کے تحت تیل کی پیداوار میں یومیہ 20 لاکھ بیرل کی کٹوتی کی جائے گی۔

    یہ اتفاق رائے ویانا میں منعقدہ اجلاس میں کیا گیا۔ واضح رہے کہ سعودی عرب اور روس اوپیک پلس میں مرکزی کردار کے حامل ممالک ہیں 2020 میں عالمی وبا قرار دیے جانے والے کووڈ 19 کے بعد تیل کی پیداوار میں نمایاں کمی پر پہلی مرتبہ اتفاق کیا گیا –

    امریکا نے کویت کو جدید میزائل سسٹم فروخت کرنے کی منظوری دیدی

    یہ اتفاق رائے اییک ایسے وقت میں کیا گیا ہے کہ جب پہلے ہی تیل کی مارکیٹ سکڑ رہی ہے لیکن ماہرین کا کہنا تھا کہ اس طرح عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں کی بحالی میں مدد مل سکے گی۔ تیل کی قیمتوں میں اگر پیداوار میں بڑے پیمانے پر کی جانے والی کٹوتی کی وجہ سے اضافہ ہوتا ہے تویہ ممکنہ طور پر امریکہ میں وسط مدتی انتخابات سے قبل جو بائیڈن انتظامیہ کے لیے سخت پریشانی کا سبب بنے گا۔

    ماہرین کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ مغربی ممالک کے ساتھ اوپیک پلس ممالک کے تناؤ میں اضافے کا بھی سبب بن سکتا ہےجبکہ امریکہ کی طرف سے اس اقدام کے جواب میں سیاسی ردعمل سامنے آسکتے ہیں جن میں اسٹریٹجک ذخیرے سے مزید اجرا اور وائلڈ کارڈز شامل ہیں جب کہ جے پی مورگن کا کہنا ہے کہ واشنگٹن تیل کے مزید ذ خائرجاری کرکے جوابی اقدامات کرے گا۔

    امریکہ یوکرین کی حوصلہ افزائی کر کے سفارتی حل کو پیچیدہ بنا رہاہے،ماریہ زخاروف

  • مسلم ورلڈ لیگ کے سیکرٹری جنرل کی چیئرمین سینیٹ سے ملاقات

    مسلم ورلڈ لیگ کے سیکرٹری جنرل کی چیئرمین سینیٹ سے ملاقات

    مسلم ورلڈ لیگ کے سیکرٹری جنرل شیخ ڈاکٹر محمد بن عبدالکریم عیسٰی نے وفد کے ہمراہ چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی سے پارلیمنٹ ہاؤس میں ملاقات کی۔ ملاقات میں سینیٹرز مولانا عبدالغفور حیدری، حافظ عبد الکریم، دلاور خان، نسیمہ احسان، اعجاز چوہدری اور خالدہ اطیب بھی موجود تھے۔ چیئرمین سینیٹ نے سیکریٹری جنرل مسلم ورلڈ لیگ اور اْنکے وفد کے دورہ پاکستان کا خیرمقدم کیا۔

    چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی نے کہا کہ صدارتی سول ایوارڈ سے نوازے جانے پر آپ کو مبارکباد پیش کرتا ہوں اور صدارتی ایوارڈ مسلم امہ کے لیے آپکی خدمات، مسلم ورلڈ لیگ اور بین المذاہب ہم آہنگی کے لیے امن اور رواداری کے پیغام کو پھیلانے کا اعتراف ہے۔پاکستان سعودی عرب کے ساتھ اپنے دو طرفہ تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی قوم اسلاموفوبیا کے خلاف تحریک کی قیادت کے لیے مسلم ورلڈ لیگ کی طرف دیکھتی ہے اور ہم مغرب میں اسلام کے بارے میں غلط فہمیوں کو دور کرنے اور اسلام کے پرامن اور روادارانہ نظریہ کو غیر مسلم دنیا میں پھیلانے کے لیے مسلم ورلڈ لیگ کی کوششوں کو سراہتے ہیں۔

    چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ خادم الحرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی مدبرانہ قیادت میں مملکت سعودی عرب کی ترقی انتہائی قابل تعریف ہے اور سعودی عرب کے وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان کا سعودی عرب کے عوام کی بہتری کے لیے وژن خاص طور پر قابل قدر ہے۔ اسلامی دنیا کے مسائل کے حل کیلئے مملکت سعودی عرب، مسلم ورلڈ لیگ اور خاص طور پر سیکریٹری جنرل کا کردار انتہائی قابل تعریف ہے۔انہوں نے کہا کہ خادم الحرمین شریفین اور سعودی عرب کی قیادت کی خطے میں امن اور ترقی کے لیے کوششوں کے معترف ہیں اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات ہیں جو ہمارے مشترکہ مذہب، مشترکہ اقدار اور ثقافت میں مضبوطی سے جڑے ہوئے ہیں۔دونوں ممالک ہمیشہ ہر طرح کے مشکل حالات میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔

    چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے اور پاکستان کے عوام اور حکومت مشکل وقت میں سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کو سیلاب متاثرین کیلئے فراہم کی جانے والی مدد پر مشکور ہیں۔حالیہ تباہ کن سیلاب نے پورے پاکستان میں لاکھوں افراد کو براہ راست متاثر کیا ہے اور 1700 سے زائد افراد جاں بحق اور معیشت کو اربوں روپے کا نقصان پہنچا۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی تارکین وطن کو سہولیات فراہم کرنے پر سعودی حکومت کے شکرگزار ہیں۔ چیئرمین سینیٹ نے سیکرٹری جنرل کے پاکستان میں جاری دورے کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ مسلم ورلڈ لیگ کے سیکرٹری جنرل شیخ ڈاکٹر محمد بن عبدالکریم عیسٰی نے کہا کہ عرب ورلڈ لیگ عالم اسلام کی نمائندہ فورم ہے اور پاکستان اور سعودی عرب کا رشتہ مستحکم، عوام کے دل ایک ساتھ دھڑکتیں ہیں اور جب بھی پاکستان کا دورہ کیا اپنائیت کا احساس ہوا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی عوام کے ساتھ ساتھ پاکستانی علماء کرام کے ساتھ بھی خصوصی تعلقات ہیں۔ پاکستان کی عالم اسلام کو قریب لانے کی کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور رابطہ عالم اسلامی کے فورم پر پاکستانی علماء کرام کو موثر نمائندگی دی گئی ہے اور ہمارا مقصد اُمت مسلمہ کے صحیح تشخص کو دنیا کے سامنے پیش کرنا ہے۔ رہنماسعودی وفد نے کہا کہ پُر امن بقائے باہمی، محبت، امن اور بھائی چارہ اسلام کا پیغام ہے اور اسی پیغام کو ہم نے عام کرنا ہے۔ وفد کے رہنما نے چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی کی علاقائی و عالمی رابطہ کاری کی کوششوں کو بھی سراہا اور پاکستان کیلئے نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا۔ دونوں رہنماؤں میں ادارہ جاتی تعاون، رابطہ کاری اور معاونت پر اتفاق پایا گیا .

  • عمرہ زائرین 3 ماہ تک سعودی عرب میں قیام کرسکیں گے، بزرگ افراد کی سہولت کیلئے پروگرام کا آغاز

    عمرہ زائرین 3 ماہ تک سعودی عرب میں قیام کرسکیں گے، بزرگ افراد کی سہولت کیلئے پروگرام کا آغاز

    ریاض: سعودی عرب نے عمرہ زائرین کے لیے ویزے کی معیاد اب ایک سے بڑھا کر 3 ماہ کردی۔

    باغی ٹی وی : سعودی عرب کے وزیرحج اورعمرہ ڈاکٹر توفیق الربیع نے بیان میں کہا کہ دنیا کے تمام ممالک سے آنے والے عمرہ زائرین کے لیے ویزے کی مدت ایک سے بڑھا کر 3 ماہ کردی گئی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ سعودی عرب آنے والے عمرہ زائرین اب 3 ماہ تک مملکت میں قیام کرسکیں گے۔ آن لائن پلیٹ فارم ’نسک ‘ کے ذریعے عمرہ اور زیارت ویزوں کا اجرا آسان کردیا گیا ہے۔

    دوسری جانب حرمین شریفین کی اتھارٹی نے بزرگ افراد کی سہولت کیلئے پروگرام ’’توقیر‘‘ شروع کردیا۔ مسجد حرام اور مسجد نبوی کے امور کی جنرل پریذیڈنسی کے تحت شروع کئے گئے اس اقدام میں سماجی، رضاکارانہ اور انسانی خدمات فراہم کرکے معمر افراد کو کئی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔

    امریکہ اور ایران کے درمیان منجمد اثاثوں کے بدلے میں قیدیوں کی رہائی کا معاہدہ طے

    ان خدمات میں معمر افراد کی عبادت ادائیگی میں آسانی پیدا کرنا، ان کو آرام پہنچانا اور انہیں خوش و خرم رکھنے کا بندوبست کرکے ان کے دورہ کو یادگار بنانا شامل ہے۔

    مسجد نبوی اورمسجد حرام کےامور کے جنرل صدر شیخ ڈاکٹرعبدالرحمٰن السدیس نے مسجد الحرام کےزائرین کو بہترین سماجی، رضاکارانہ اور انسانی خدمات فراہم کرنے کے اس پروگرام کا آغاز کیا۔ انہوں نے کہا مسجد حرام میں صحت مند ماحول فراہم کیا جائے۔

    امریکا نے بھارتی کمپنی پر پابندی عائد کر دی