Baaghi TV

Tag: سعودی عرب

  • ایران کی طرف سے سعودی عرب کو دی جانےوالی دھمکیوں پرتشویش ہے،امریکا

    ایران کی طرف سے سعودی عرب کو دی جانےوالی دھمکیوں پرتشویش ہے،امریکا

    واشنگٹن: امریکا نے سعودی عرب کو ملنے والی ایرانی دھمکیوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے-

    باغی ٹی وی : امریکا کی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان نے منگل کو کہا کہ امریکا ایران کی دھمکیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے سعودی عرب کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے ایران کی طرف سے سعودی عرب کو دی جانے والی دھمکیوں پر تشویش ہے اور اگر ضرورت پڑی تو وہ اس کا جواب دینے سے دریغ نہیں کرے گا۔

    امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب نے ایرانی دھمکیوں کی انٹیلیجنس امریکا سے شیئرکی ہے جس میں سعودی عرب میں اہداف پرممکنہ حملےکی وارننگ دی گئی ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کو سپریم کورٹ سے بڑا ریلیف مل گیا

    ترجمان نے کہا کہ ہمیں خطرات پر تشویش ہے اور ہم فوجی اور انٹیلی جنس چینلز کا مقابلہ کرنے کے لیے سعودی عرب کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔ ہم خطے میں اپنے مفادات اور شراکت داروں کے دفاع کے لیے کام کرنے سے نہیں ہچکچائیں گے۔

    قبل ازیں پیرکو ایران کے لیے امریکی ایلچی رابرٹ میلی نے کہا تھا کہ واشنگٹن ایران میں پرامن مظاہروں کی حمایت کرتا ہے صدر جو بائیڈن نےمجھے اپنے عہدے پر مقرر کیا تو اس کا مقصد ایران کے بارے میں یورپی موقف کو یکجا کرنا اور تہران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا تھا ایران کے پاس جوہری ہتھیار ہونے سے دنیا خطرے سے دوچار ہوجائے گی۔

    انہوں نے کہا کہ بائیڈن ایران کے ساتھ "سفارت کاری کو ترجیح دیتے ہیں، لیکن اگر سفارت کاری ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے میں ناکام رہتی ہے تو وہ فوجی آپشن پر بات کریں گے۔

    برازیل : بولسونارو انتظامیہ نے الیکشن میں شکست تسلیم کرلی،اقتدارنومنتخب صدر لولا کو منتخب کرنے کا…

  • سعودی عرب: زائرین عمرہ ویزہ کی مدت پر عمل کریں،وزارت حج و عمرہ

    سعودی عرب: زائرین عمرہ ویزہ کی مدت پر عمل کریں،وزارت حج و عمرہ

    ریاض: سعودی وزارت حج و عمرہ نے کہا ہے کہ مکہ معظمہ آنے والے زائرین کو عمرہ ویزہ میں بتائی گئی مدت پر عمل کرنا ہوگا-

    باغی ٹی وی : "العربیہ” کے مطابق ہفتے کے روز سعودی وازرت داخلہ کے مطابق عمرہ ویزہ مدت جو کہ 30 سے 90 دن کے درمیان ہےعمرہ زائرین کو چاہیے کہ وہ ویزہ کی میعاد ختم ہونے سے پہلے ہی روانہ ہوجائیں ۔

    وزارت حج وعمرہ کی جانب سے جاری گائیڈ لائن میں کہا گیا ہے کہوزارت کی جانب سے عمرہ ویزے کی مدت کو 30 دن سے بڑھا کر 90 دن تک کردیا گیا ہے۔

    اس حوالے سے مزید کہا گیا کہ ’عمرہ ویزے پر بیرون ملک سے آنے والوں کو چاہیے کہ وہ مقامی قوانین کا خیال کرتے ہوئے عمرہ کی ادائیگی اور زیارت مسجد نبوی کے بعد ویزے کی مدت ختم ہونے سے قبل اپنے ملک لوٹ جائیں تاکہ قوانین شکنی کے مرتکب نہ ہوں۔

    پہلے عمرہ ویزے کا دورانیہ ایک ماہ ہوتا تھا۔ اب دنیا کے کسی بھی ملک سے آنے والے عمرہ زائرین کو تین ماہ تک مملکت میں قیام کی سہولت دی گئی ہے۔

    وزارت نے قبل ازیں متحدہ حکومت کے پلیٹ فارم "نسک” کے آغاز کا اعلان کیا تھاجو مکہ اور مدینہ منورہ کے زائرین کے لیے نیا سعودی پورٹل ہوگا، جس کا مقصد عازمین کے تجربے کو فروغ دینا اور عمرہ کی ادائیگی کے لیے ان کی آمد کے طریقہ کار کو آسان بنانا ہے۔

    عرب میڈیا کے مطابق یہ سروس پوری دنیا میں، "ضیوف الرحمان سروس پروگرام” کے اقدامات اور سعودی وژن 2030 کے اہداف کا حصہ ہے”نسک” کو سعودی ٹورازم اتھارٹی کے تعاون اور شراکت داری میں شروع کیا گیا تھاجہاں یہ "سعودی عرب کی روح” پر فراہم کی جانے والی خدمات سے منسلک ہے۔

    اس کا مقصد اللہ کے مہمانوں کے سفر کو بھرپور بنانا اور ریزرویشن اور رابطہ کاری کے طریقہ کار کو آسان بنانا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ جانے والوں کے تجربے کو بہتر بنانے کے لیے مختلف پیکجز اور پروگرام فراہم کرنا ہے۔

    ایپ کے ذریعے عمرہ کمپنیاں بھی اپنی سروسز فراہم کریں گی جبکہ پہلے کام کرنے والی ویب سائٹ ’مقام‘ بھی وقتی طور پر کام کرتی رہے گی۔

  • امریکہ سعودی عرب کے ساتھ  تعلقات کو از سر نو دیکھ رہا ہے،انٹونی بلنکن

    امریکہ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو از سر نو دیکھ رہا ہے،انٹونی بلنکن

    بائیڈن انتظامیہ وسط مدتی انتخاب سے پہلے امریکی صارفین کے لیے تیل کی قیمتوں میں اضافے پر پریشان ہے۔

    باغی ٹی وی : عالمی خبررساں ادارے کے مطابق امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا ہے کہ یوکرین کے لیے سعودیہ کی 400 ملین ڈالر کی امداد ایک مثبت پیش رفت تھی مگر یہ اوپیک پلس میں تیل کی پیدوار کی کٹوتی کا ازالہ نہیں ہے۔

    بھارتی حکومت کا پاکستان کی جاسوسی کیلئے ہنگامی طور پر ڈرون خریدنے کا فیصلہ

    امریکی وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ میں روس کے خلاف سعودی عرب کے ووٹ کی بھی تعریف کی ہے البتہ سعودی عرب کے اوپیک فیصلے نے جو بائیڈن انتظامیہ کو غصہ دلایا ہے کیونکہ انتظامیہ وسط مدتی انتخاب سے پہلے امریکی صارفین کے لیے تیل کی قیمتوں میں اضافے پر پریشان ہے۔

    امریکی وزیر خارجہ بلنکن نے بدھ کے روز کہا کہ سعودی عرب نے اوپیک پلس کی سطح پر غلط فیصلہ کیا تھا ان کے پاس تجزیے میں ایسا کچھ نہیں تھا جو سعودیوں کو تجویز کرتے۔

    بلنکن نے کہا کہ ہم ان طریقوں کی طرف دیکھ رہے تھے جو ان کے لیے مسئلہ پیدا کرنے والے تھے امریکہ کے سب سے اہم سفارتکار نے یہ بھی کہا امریکہ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو از سر نو دیکھ رہا ہے۔

    بلنکن کے بقول اس سلسلے میں بہت سنجیدگی کے ساتھ غور کے انداز میں امریکی کانگریس کے ارکان بھی مشاورت کر رہے ہیں کہ سعودیہ کے ساتھ ہمارے تعلقات ہمارے اپنے مفاد میں ہوں۔

    امریکہ کا روس کےخلاف یوکرین کی مزید فوجی امداد کا اعلان

    قبل ازیں دوسری جانب امریکہ میں سعودی سفیر شہزادی ریما بنت بندر نے ‘سی این این’ کے ساتھ اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں کہا تھا کہ سعودی امریکہ تعلقات اور معاہدات کا جائزہ لیا جانا ایک مثبت چیز ہے لیکن جہاں تک اوپیک میں کیے گئے فیصلے کا تعلق ہے وہ خالصتاً اقتصادی بنیادوں پر تھا سیاسی بنیادوں پر بالکل نہیں تھا۔

    واضح رہے کہا مریکی صدر جو بائیڈن اپنے دورہ سعودی عرب کے موقع پر یہ درخواست کر کے گئے تھے کہ سعودی ایسا فیصلہ کرنے کی مخالفت کرے جس سے اوپیک کی تیل کی پید اوار میں کمی ہو سکتی ہو

    صدر جو بائیڈن کی یہ درخواست ماہ نومبر میں متوقع وسط مدتی انتخابات کی وجہ سے تھی تیل کی پیداوار کم ہونے کا مطلب امریکی صارفین کے لیے تیل کی قیمت بڑھنا ہو گا جس کے سبب ڈیموکریٹس کوانتخابی مشکلات کا سامنا ہو گا۔

    عالمی برادری یوکرین کے بجٹ میں متوقع 38 ارب ڈالر کے خسارے کو پورا کرے،صدر زیلنسکی

    صدر جو بائیڈن نے سعودیہ کو الزام دیا تھا کہ اس نے روس کا ساتھ دیا اس کے مضمرات سعودیہ کو برداشت کرنا پڑیں گے دوسری جانب سعودی عرب نے واشنگٹن کی اس تنقید کو مسترد کر دیا تھا کہ ‘یہ امریکی موقف حقائق پر مبنی نہیں ہے۔‘ سعودی وزارت خارجہ کے مطابق اوپیک پلس کا فیصلہ خالصتاً اقتصادی فیصلہ تھا اس کی وجوہ سیاسی نہیں تھیں۔ ‘

    یاد رہے کہ یہ تنازعہ اوپیک پلس میں کیے گئے اس فیصلہ کے تحت تیل کی عالمی منڈی میں تیل کی رسد اور طلب کے علاوہ قیمتوں کے پس منظر میں 20 لاکھ بیرل یومیہ تیل کم پیدا کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا –

  • امریکا کی جانب سے تیل کے ایمرجنسی ذخائر استعمال کرنے پر سعودی عرب کا شدید ردعمل

    امریکا کی جانب سے تیل کے ایمرجنسی ذخائر استعمال کرنے پر سعودی عرب کا شدید ردعمل

    امریکا کی جانب سے تیل کے ایمرجنسی ذخائر استعمال کرنے پر سعودی عرب نے برہمی کا اظہار کیا ہے-

    باغی ٹی وی: سعودی دارالحکومت الریاض میں منگل کے روز مستقبل سرمایہ کاری اقدام (ایف آئی آئی) سے خطاب کرتے ہوئے سعودی وزیرتوانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے کہا کہ بعض ممالک تیل کے اپنے ہنگامی ذخائر کو استعمال کر رہے ہیں اور پہلے بھی کرچکے ہیں-

    عراق میں اڑھائی ارب ڈالر کی چوری میں ملوث ملزم فرار کی کوشش میں ائیر پورٹ سے گرفتار

    وزیرتوانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے کہا کہ اسے مارکیٹس پر اثرانداز ہونے کے مکینزم کے طور پر استعمال کیا گیا حالانکہ اس کا اصل مقصد تیل کی سپلائی کی قلت کو ختم کرنا تھا۔

    انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ یہ میری اصولی ذمہ داری ہے کہ میں یہ بات دنیا پر واضح کردوں کہ تیل کے ایمرجنسی ذخائر میں کمی آنے والے مہینوں میں انتہائی تکلیف دہ ثابت ہوسکتی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ مجھے یہ سننے کو مل رہا ہے کہ آپ ہمارے ساتھ ہیں یا ہمارے خلاف؟ کیا اس بات کی کوئی گنجائش ہے؟ ہم سعودی عرب کیلئے ہیں اور ہم سعودی عوام کیلئے ہیں۔

    سعودی عرب اور واشنگٹن کے درمیان دہائیوں پر محیط دیرینہ دوستی سے متعلق سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ میرے خیال میں سعودی عرب نے سمجھداری کا مظاہرہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اسے کوئی پرواہ نہیں، آگے چل کر دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔

    بجلی کی ترسیل کیلئے سعودیہ اور بھارت کا زیر سمندر کیبلز بچھانے کے منصوبے پر غور

    شہزادہ عبدالعزیز نے ایمرجنسی ذخائر کے معاملے پر اپنے بیان میں امریکا کا نام نہیں لیا تاہم گزشتہ ہفتے امریکی صدر جو بائیڈن نے اپنے اسٹریٹجک ذخائر میں سے ایک کروڑ 50 لاکھ بیرل تیل جاری کرنے کا اعلان کیا تھا۔

    امریکا یوکرین جنگ کے بعد سے تیل کی قیمتوں پر قابو پانے کیلئے اب تک اپنے اسٹریٹجک ذخائر میں سے 18 کروڑ بیرل کے ذخائر جاری کرچکا ہے۔

    امریکی صدرجوبائیڈن نے گذشتہ ہفتے ایک منصوبہ کا اعلان کیا تھا کہ وہ اس سال کے آخر تک ملک کے تیل کے ہنگامی ذخائر سے تیل کو فروخت کردیں گے اوران ذخائرکو دوبارہ بھرنا شروع کردیں گے۔واضح رہےکہ وہ 8 نومبرکو وسط مدتی انتخابات سے قبل پٹرول کی قیمتوں کو کم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

    زلزلے میں ملبے تلے افراد کو بچانے کیلئے چوہے مدد کریں گے

  • وزیراعظم شہباز شریف کی سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات

    وزیراعظم شہباز شریف کی سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات

    ریاض:وزیراعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے درمیان ملاقات ہوئی، جس میں دونوں رہنماؤں نے دو طرفہ تعلقات اور باہمی امور سمیت دیگر اہم ایشوز پر تبادلہ خیال کیا۔

    وزیراعظم شہباز شریف اپنے وفد کے ہمراہ سعودی عرب کے 2 روزہ سرکاری دورے پر ہیں، جہاں انہوں نے آج فیوچر انویسٹمنٹ انیشیٹیو سمٹ سے خطاب کیا تھا۔

    وزیراعظم شہباز شریف قصر یمامہ پہنچے تو سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ان کا پرتپاک استقبال کیا، ان کے ہمراہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب اور دیگر افراد بھی تھے۔

    وزیراعظم شہباز شریف اور شہزادہ محمد بن سلمان کے درمیان ملاقات میں پاک سعودی تعلقات کا جائزہ لیا گیا اور مستقبل میں دونوں ممالک کے درمیان سرمایہ کاری کے فروغ اور مختلف شعبوں میں تعاون کو بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔

    اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف نے فیوچر انویسٹمنٹ سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے سعودی قیادت کے وژن کو سراہا اور کہا ہے کہ شہزادہ محمد بن سلمان ملک کے مستقبل کیلئے متحرک ہیں، سماجی و مقاشی ترقی کیلئے خواتین کا بااختیار ہونا ضروری ہے، عام آدمی کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کیلئے اقدامات کرنا ہوں گے۔

    انہوں نے آلودگی سے بچنے اور پوری دنیا کیلئے ہوا کے معیار کو بہتر بنانے کیلئے سورج، ہوا اور پانی سے بجلی کے حصول کے شعبے میں سرمایہ لگانے کی ضرورت پر زور دیا۔

  • خاتون کو واٹس ایپ  کے ذریعے ورغلانے کی کوشش ، ملزم کو 5 سال کی قید سنا دی گئی

    خاتون کو واٹس ایپ کے ذریعے ورغلانے کی کوشش ، ملزم کو 5 سال کی قید سنا دی گئی

    شادی شدہ خاتون کو واٹس ایپ کے ذریعے ورغلانے کی کوشش کرنے پر ہراساں کرنیوالے کو 5 سال قید کی سزا سنائی گئی،ملزم کو سزا مشرقی سعودی عرب کے علاقے الاحسا میں فرسٹ جوائنٹ کریمنل چیمبر نے سنائی-

    بای ٹی وی :” العربیہ” کے مطابق پبلک پراسیکیوشن نےملزم پرایک شادی شدہ خاتون کو ہراساں کرنے اور اسے ٹیکنالوجی کے ذریعے بہکانے کی کوشش کرنے کا الزام عائد کیا۔

    ویڈیو شئیرنگ ایپ یو ٹیوب میں نئے فیچرز کا اضافہ

    پبلک پراسیکیوشن نے کہا کہ ملزم نے واٹس ایپ کے ذریعہ جنسی مفہوم کے ساتھ ایسے الفاظ بھیجے جن میں بے حیائی کو مدعو کیا گیا تھا۔ ملزم نے عوامی اخلاقیات اور نجی زندگی کے تقدس کو مجروح کیا۔

    انہوں نے کہا کہ ملزم نے اپنی ملازمت کے فرائض کی انجام دہی کے دوران خاتون کا فون نمبر حاصل کیا اس طرح اس نے اس سالمیت کی خلاف ورزی بھی کی ہے جس میں سیکیورٹی اور ذاتی معلومات کو برقرار رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

    ٹک ٹاک کے فیملی پیئرنگ فیچر کے بارے میں چھ باتیں جو تمام والدین کو معلوم ہونا…

    ملزم نے بھی اپنے جُرم کا اعتراف کیا اور بتایا کہ اس نے خاتون کو پیغامات بھیجے تھےاور یہ کہ جس نمبر سے پیغامات بھیجے گئے وہ نمبر بھی اسی کے زیر استعمال تھا۔

    عدالت نے گفتگو اور مدعا علیہ کے اعترافی بیان کا جائزہ لیا اور اس کی طرف سے جاری کردہ شریعت اور قانونی مجرم پر غور کیا اور اسے 5 سال قید کا حکم دے دیا ان پانچ سالوں میں مقدمہ کے زیر التوا رہنے کے دوران اس کی حراست کی مدت بھی شامل ہے۔

    دنیا بھر میں واٹس ایپ سروس دو گھنٹے معطل رہنے کے بعد بحال

  • وزیر اعظم محمد شہباز شریف سعودی عرب کے دورے پر ریاض پہنچ گئے

    وزیر اعظم محمد شہباز شریف سعودی عرب کے دورے پر ریاض پہنچ گئے

    ریاض: وزیراعظم سعودی عرب کے دو روزہ دورے پر ریاض پہنچ گئے ہیں-

    باغی ٹی وی : نائب گورنر ریاض شہزادہ محمد بن عبدالرحمان بن عبدالعزیز نے میاں محمد شہباز شریف کا ریاض پہنچنے پر استقبال کیا وزیراعظم کے ہمراہ اعلیٰ سطحی وفد بھی ہے جس میں وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب اور وزیر مملکت برائے خارجہ امور حنا ربانی کھر شامل ہیں۔

    وزیر اعظم محمد شہباز شریف ڈیووس ان دی ڈیزرٹ کانفرنس میں شرکت کیلئے سعودی عرب روانہ

    میاں شہباز شریف سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی دعوت پر دورہ کر رہے ہیں، دورے کے دوران ان کی سعودی عرب کے فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقاتیں ہوں گی جن میں دو طرفہ تعلقات کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

    وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف اپنے دورہ سعودی عرب کے دوران ’ڈیووس ان دی ڈیزرٹ‘ کے نام سے ہونے والی سرمایہ کاری کانفرنس میں شرکت کریں گے وزیراعظم اس موقع پر پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع کو اجاگر کریں گے سرمایہ کاری کانفرنس کی تھیم ’انسانیت کے لیے سرمایہ کاری: ایک نئے گلوبل آرڈر کی تشکیل‘ ہے۔

    ریاض میں منعقد ہونے والی یہ کانفرنس 2017 سے باقاعدگی سے منعقد ہونے والا ایک سالانہ ایونٹ بن گیا ہے۔

    رواں سال کا ایڈیشن منگل 25 اکتوبر سے شروع ہو کر جمعرات تک جاری رہے گا اور اس میں دنیا کے مختلف حصوں سے 6 ہزار مندوبین شرکت کریں گے جن میں ملٹی نیشنل کمپنیوں کے اعلیٰ کارپوریٹ ایگزیکٹوز، پالیسی ساز، سرمایہ کار، کاروباری اور نوجوان رہنما شامل ہوں گے۔

    ارشد شریف کی موت،وزیراعظم کا کینیا کے صدر سے رابطہ ،شفاف تحقیقات کا مطالبہ

    اس عالمی سرمایہ کاری کانفرنس کی میزبانی فیوچر انویسٹمنٹ انیشی ایٹو انسٹی ٹیوٹ کرتا ہے جو کہ سرکاری طور پر سعودی حکومت سے منسلک نہیں لیکن وہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی نگرانی میں کام کرتا ہے۔

    سرمایہ کاری کانفرنس کا دوسرا ایڈیشن 2018 میں صحافی جمال خاشقجی کے قتل سے گہنہ گیا تھا جب کہ رواں سال اوپیک کی تیل کی پیداوار میں کٹوتی پر امریکا-سعودی تنازع کے سائے میں منعقد ہو رہی ہے اسی تنازع کی وجہ سے امریکی حکام کو منتظمین کی جانب سے رواں سال کی کانفرنس میں مدعو نہیں کیا گیا۔

    کانفرنس کے منتظمین کا کہنا ہے کہ وہ نہیں چاہتے کہ سرمایہ سے متعلق پروگرام کے دوران سیاست کو مرکزی حیثیت حاصل ہو، کانفرنس میں سرمایہ کاری اور کاروبار پر ہی توجہ مرکوز رکھی جانی چاہیے، تاہم تقریباً 400 اعلیٰ امریکی کاروباری شخصیات نے کانفرنس میں شرکت کی تصدیق کی ہے۔

    پاکستان نے تیل کی پیداوار میں کمی سے متعلق فیصلے پر امریکا کے مقابلے میں سعودی عرب کا ساتھ دیا۔

    کانفرنس میں اداروں کے خلاف بلا جواز نعرہ بازی ،وزیراعظم نے کی مذمت

  • بجلی کی ترسیل کیلئے سعودیہ اور بھارت کا زیر سمندر کیبلز بچھانے کے منصوبے پر غور

    بجلی کی ترسیل کیلئے سعودیہ اور بھارت کا زیر سمندر کیبلز بچھانے کے منصوبے پر غور

    سعودی عرب اور بھارت بجلی کی ترسیل کے لیے زیر سمندر تاریں بچھانے کے منصوبے پر غور کر رہے ہیں-

    باغی ٹی وی : بزنس اسٹینڈرڈ اور اکنامک ٹائمز نے اپنی رپورٹس میں انکشاف کیا ہے کہ سعودی عرب اور ہندوستان بجلی کی ترسیل کے لیے زیر سمندر تاریں بچھانے کے منصوبے پر غور کر رہے ہیں جس سے ہندوستان کے مغربی ساحل کو سعودی عرب سے ملایا جا سکے گا گجرات کا ساحل جلد ہی گہرے سمندر کی تاروں سے مشرق وسطیٰ سے منسلک ہو سکتا ہے، جس سے گرین انرجی گرڈ بنایا جائے گا-

    سعودی عرب کے مستقبل کے شہر "دی لائن” کے تعمیراتی کام کا آغاز ہو گیا

    یہ منصوبہ اس ایجنڈے کا حصہ بننے والا ہے جس پر سعودی وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان اگلے جمعہ کو نئی دہلی کے دورہ کے دوران بحث کی جائے گی ۔ اس دورہ کا مقصد نومبر میں سعودی وزیر اعظم اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ہندوستان کے دورے کی تیاری کرنا ہے زیر سمندر کیبلز کا منصوبہ ہندوستان میں ان کے ایجنڈے کا حصہ ہوگا۔

    ذرائع نے بھارتی اخبار کو بتایا ہے کہ دونوں فریقوں میں ایک پاور نیٹ ورک کے لیے زیر سمندر کیبل پر بات چیت شروع کرنے کا امکان ہے۔ اس نیٹ ورک میں میں جنوبی ایشیا اور خلیجی ریاستیں شامل ہیں۔

    اس معاملے کی جانکاری والے عہدیداروں نے کہا کہ دونوں فریق ممکنہ طور پر جنوبی ایشیا اور خلیجی ممالک پر مشتمل الیکٹریکل گرڈ کے لیے زیر سمندر کیبلز پر بات چیت شروع کر سکتے ہیں، اس بات چیت کو تیل کی برآمدات سے آگے بڑھاتے ہوئے دونوں ممالک اس منصوبے کی کاروباری صلاحیت کی چھان بین کر رہے ہیں۔

    روسی صدرکومکمل طورپرتنہا کردینا خطرناک ہو سکتا ہے، فرانسیسی وزیرخارجہ

    صنعت کے ابتدائی تخمینوں کے مطابق، ابوظہبی حکومت بھی 15 بلین سے 18 بلین ڈالر کے درمیان سرمایہ کی لاگت کے ساتھ اس منصوبے میں شامل ہو سکتی ہے۔

    سرکردہ کارپوریشنز جیسے ٹاٹا گروپ، ریلائنس انڈسٹریز لمیٹڈ، جے ایس ڈبلیو، اور اڈانی، اور دیگر کو پہلے ہی بھارت میں سعودی سفیر کی طرف سے دعوت نامے موصول ہو چکے ہیں اور ان کی رائے طلب کی گئی ہے سعودی ولی عہد انڈونیشیا، جنوبی کوریا اور جاپان کے سفر سے پہلے پہلے بھارت کا دورہ کریں گے۔

    بحیرہ عرب گجرات کے ساحل (مندرا بندرگاہ) کو امارت فجیرہ سے 1,600 کلومیٹر کے فاصلے پر الگ کرتا ہے۔ یہ کیبل ممکنہ طور پر عمان کے راستے 1,200 کلومیٹر کا سفر کر سکتی ہے، جس کا گہرا نقطہ 3.5 کلومیٹر ہے۔

    ذرائع کے مطابق، تین سال قبل، پیٹرولیم اور قدرتی گیس کے حکام نے ایک فزیبلٹی اسٹڈی کی تھی لیکن ہندوستانی حکومت کی جانب سے انٹرنیشنل سولر الائنس کے لیے دباؤ کے نتیجے میں یہ منصوبہ ابھی آگے بڑھنا شروع ہوا ہے۔

    واضح رہے کہ بہت سے ممالک توانائی کے لیے برقی تاروں کے ذریعے براعظموں کو جوڑ رہے ہیں تیل اور گیس کی اونچی قیمتوں کے تناظر میں یورپ کو بھی توانائی کے بحران کا سامنا ہے، روس 2021 میں تیل اور گیس کا سب سے بڑا سپلائر تھا جو یورپی یونین کی توانائی کی کل ضروریات کا تقریباً 40 فیصد فراہم کرتا تھا۔

    شی جن پنگ تیسری بار چین کے صدر منتخب،وزیراعظم شہباز شریف کی مبارکباد

    العربیہ کے مطابق برطانیہ اور ناروے بھی سمندر کے نیچے 800 کلومیٹر طویل کیبل کے ذریعے ہائیڈرو اور آف شور ونڈ پاور کا اشتراک کر رہے ہیں۔

    یونان یورپ میں توانائی کے سب سے زیادہ پرجوش منصوبوں میں سے ایک پر کام شروع کر رہا ہے۔ یونان اپنے الیکٹرک گرڈ کو مصر میں بجلی کے گرڈ سے جوڑ کر پانی کے اندر کیبل بچھا کر 3000 میگا واٹ بجلی منتقل کرے گا یہ بجلی 4.5 گھروں کو فراہم کرنے کیلئے کافی ہے۔

    یہ کیبل شمالی مصر سے براہ راست یونان کے اٹیکا تک جائے گی اس منصوبے کو کوپیلوزوس گروپ نے شروع کیا ہے۔

    3.5 ارب یورو کی لاگت سے انٹر کنیکشن منصوبے GREY کو یورپی یونین کی جانب سے شروع کیا گیا مشترکہ دلچسپی کا اہم منصوبہ سمجھا گیا ہے۔ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ منصوبہ یورپی یونین کے توانائی کے نظام کے بنیادی ڈھانچے کو جوڑنے کے لئے ایک اہم ترجیح ہے۔

    مصر اور دیگر افریقی ممالک میں پیدا ہونے والی صاف بجلی کو ہوا اور شمسی فارموں کے ذریعے پانی کے اندر کیبلز کے ذریعے منتقل کیا جائے گا۔

    العربیہ کے مطابق مصر نے پہلے ہی لیبیا، سوڈان اور سعودی عرب کے ساتھ باہمی رابطے کے منصوبے مکمل کر لیے ہیں، مصر جنوب مشرقی یورپ میں توانائی کا ایک بڑا مرکز بننے کا خواہاں ہے۔

    دبئی میں ایک ارب درہم کی لاگت سے کتابی شکل کی سات منزلہ لائبریری

    اسی طرح4 ہائی وولٹیج ڈائریکٹ کرنٹ برقی کیبلز برطانیہ کے جنوبی ساحل سے 3800 کلومیٹر دور سمندر کے نیچے چلتی ہیں۔ یہ تاریں وسطی مراکش میں صحرا کے ایک حصے سے جوڑی جائیں گی۔

    سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک بھی بجلی پیدا کرنے کے لیے درکار توانائی کے ذرائع کو متنوع بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس وقت سعودی عرب کی بجلی قدرتی گیس سے 52 فیصد، تیل سے 40 فیصد اور بھاپ سے 8 فیصد پیدا ہوتی ہے۔

    بجلی کی شدید قلت کے باعث سعودی عرب کو 2032 تک اپنی 55 گیگا واٹ کی صلاحیت کو 120 گیگا واٹ تک بڑھانا ہوگا۔

  • وزیر اعظم محمد شہباز شریف ڈیووس ان دی ڈیزرٹ کانفرنس میں شرکت کیلئے سعودی عرب روانہ

    وزیر اعظم محمد شہباز شریف ڈیووس ان دی ڈیزرٹ کانفرنس میں شرکت کیلئے سعودی عرب روانہ

    اسلام آباد: وزیر اعظم محمد شہباز شریف دو روزہ دورے پر سعودی عرب روانہ ہو گئے.

    باغی ٹی وی : وزیر اعظم محمد شہباز شریف سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان کی دعوت پر دو روزہ سرکاری دورے کے لیے سعودی عرب روانہ ہو گئے ہیں جہاں ’ڈیووس ان دی ڈیزرٹ‘ کے نام سے ہونے والی سرمایہ کاری کانفرنس میں شرکت کریں گے۔

    وزیراعظم شہبازشریف آج پاکستان سے سعودی عرب چلے جائیں گے

    دارلحکومت ریاض میں اپنے قیام کے دوران وزیراعظم سعودی ولی عہد سے ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی شعبے میں کثیر جہتی تعاون کو مزید مضبوط بنانے اور دیرینہ برادرانہ تعلقات میں مزید بہتری کے حوالے سے مشاورت کریں گے ۔

    وزیراعظم سعودی فیوچر انویسٹمنٹ انیشیٹو سمٹ میں بھی شرکت کریں گے۔

    ریاض میں منعقد ہونے والی یہ کانفرنس 2017 سے باقاعدگی سے منعقد ہونے والا ایک سالانہ ایونٹ بن گیا ہے۔

    عمران خان کی نااہلی سے متعلق فیصلہ فوری معطل کرنے کی استدعا مسترد

    رواں سال کا ایڈیشن منگل 25 اکتوبر سے شروع ہو کر جمعرات تک جاری رہے گا اور اس میں دنیا کے مختلف حصوں سے 6 ہزار مندوبین شرکت کریں گے جن میں ملٹی نیشنل کمپنیوں کے اعلیٰ کارپوریٹ ایگزیکٹوز، پالیسی ساز، سرمایہ کار، کاروباری اور نوجوان رہنما شامل ہوں گے۔

    اس عالمی سرمایہ کاری کانفرنس کی میزبانی فیوچر انویسٹمنٹ انیشی ایٹو انسٹی ٹیوٹ کرتا ہے جو کہ سرکاری طور پر سعودی حکومت سے منسلک نہیں لیکن وہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی نگرانی میں کام کرتا ہے۔

    ارشد شریف کی موت،وزیراعظم کا کینیا کے صدر سے رابطہ ،شفاف تحقیقات کا مطالبہ

  • وزیراعظم شہبازشریف آج پاکستان سے سعودی عرب چلے جائیں گے

    وزیراعظم شہبازشریف آج پاکستان سے سعودی عرب چلے جائیں گے

    اسلام آباد:وزیراعظم شہبازشریف آج پاکستان سے سعودی عرب چلے جائیں گے ،اطلاعات کے مطابق ولی عہد محمد بن سلمان کی دعوت پر وزیراعظم شہباز شریف آج دو روزہ دورے پر سعودی عرب روانہ ہونگے۔

    ’‘ ڈالر کی قیمت میں لائی گئی کمی "آنکھ کا دھوکہ:یعنی مصنوعی ہوگی’’:ماہرین…

    وزیراعظم سعودی سرمایہ کاری کے حوالے سے منعقد ہونے والی کانفرنس میں شرکت کیلئے دو روزہ دورے پر روانہ ہورہے ہیں جہاں اُن کی سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز سے ملاقات ہوگی۔

    بھارت نوازایمپائرنگ:بھارت کیخلاف آخری اوور میں نواز کی نوبال متنازع ہوگئی، سابق…

    خیال رہے کہ شہباز شریف سعودی ولی عہد کی دعوت پر یہ دورہ کررہے ہیں جبکہ امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ اس دورے کے بعد اگلے ماہ محمد بن سلمان کی پاکستان آمد متوقع ہے۔

     

    یاد رہے کہ وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد وزیراعظم شہبازشریف سعودی عرب گئے تھے،اس وقت بھی سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز کی دعوت پر وزیراعظم محمد شہباز شریف تین روزہ اعلیٰ سطح کے سرکاری دورے پر سعودی عرب میں قیام کیا تھا

    گورنر مکہ خالد بن فیصل آل سعود اور سعودی عرب کے قومی سلامتی کے مشیر ڈاکٹر مسعدبن محمد العیبان نے ہوائی اڈے پر وزیراعظم پاکستان کا استقبال کیا تھا
    وفد میں وفاقی وزرا بلاول بھٹو زرداری، مریم اورنگزیب، خواجہ آصف، خالد مقبول صدیقی، چوہدری سالک حسین اور سابق فاٹا کے علاقے سے رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ بھی شامل تھے ،شپبازشریف نے  روزہ رسول پر حاضری دی اور ریاض الجنتہ میں نوافل ادا کیے۔