Baaghi TV

Tag: سعودی عرب

  • ترکی اورسعودی عرب نے پُرانی تلخیوں کوبھلاتے ہوئےنئے دورکا آغازکردیا

    ترکی اورسعودی عرب نے پُرانی تلخیوں کوبھلاتے ہوئےنئے دورکا آغازکردیا

    استنبول:ترکی اورسعودی عرب نے پُرانی تلخیوں کوبھلاتے ہوئےنئے دورکا آغازکردیا،اطلاعات کےمطابق ترکی دورے پرگئے ہوئے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان دونوں ملکوں نے صحافی جمال خاشقجی کی قتل سے پیدا ہونے والی پرانی تلخیوں کو بھلا کر "باہمی تعاون کا ایک نیا دور” شروع کرنے کا عہد کیا۔اور یہ بھی عہد کیاکہ دونوں ملک ایک دوسرے کے ساتھ ملکر باہمی معاملات کوحل کریں گے

    مشن کشمیر،سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصرکی ترکی،سعودی عرب اورروسی ہم منصبوں سے الگ الگ

    اس حوالے سے عالمی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ استنبول میں سعودی سفارت خانے میں سن 2018 میں صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے بعد ولی عہد محمد بن سلمان کا ترکی کا یہ پہلا دورہ تھا جس میں محمد بن سلمان نے ترک صدر رجب طیب ایردوآن کے ساتھ تقریباً دو گھنٹے تک بات چیت کی۔

    سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور ترک صدر رجب طیب اردوان کے درمیان ہونے والے اہم گفتگو کے بعد ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے،”باہمی تعلقات بشمول سیاسی، اقتصادی، فوجی، سکیورٹی اور ثقافتی تعلقات میں تعاون کا ایک نیا دور شروع کرنے کے مستحکم عزم کا عہد کیا گیا۔”

    مشترکہ اعلامیہ میں کہاگیاہے کہ دونوں ملکوں نے تجارت کو فروغ دینے اور سرمایہ کاری میں اضافہ کرنے نیز مختلف شعبوں میں شراکت داری کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ دونوں ملکوں نے کہا کہ اگلے دس برسوں کو تعاون کے ایک نئے دور کے طور پر لیا جائے گا۔اس مشترکہ اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ دونوں رہنماوں نے علاقائی اورعالمی مسائل کے حوالے سے اہم مسائل پر ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگی کے لیے دو طرفہ تبادلہ خیال کو فعال بنانے سے بھی اتفاق کیا تاکہ "خطے میں سلامتی اور استحکام کی حمایت کی جاسکے اور تمام مسائل کے سیاسی حل میں مدد مل سکے۔”

    یاد رہے کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اپنے سہ ملکی دورے کے آخری مرحلے پر بدھ کے روز ترکی پہنچے تھے۔ اس سے قبل وہ مصر اور اردن بھی گئے تھے۔ انقرہ پہنچنے پر ان کا شاندار روایتی استقبال کیا گیا۔ وہ اپنا دورہ مکمل کرکے وطن واپس لوٹ آئے ہیں۔ محمد بن سلمان نے ان تینوں ملکوں کا دورہ ایسے وقت کیا جب امریکی صدر جو بائیڈن اگلے ماہ سعودی عرب آنے والے ہیں۔

    سعودی عرب اور ترکی ایک ہونے جارہے ، اہل اسلام کے لیے خوشی کی خبر

    ترکی اور سعودی عرب کے تعلقات میں کشیدگی تقریباً دس برس قبل اس وقت شروع ہوئی تھی جب مصر میں عبدالفتح السیسی سن 2013 میں اخوان المسلمون کے رہنما محمد مرسی کی حکومت کو برطرف کرکے خود صدر بن گئے تھے۔ ترکی نے عبد الفتح السیسی کواس وقت صدر تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

    گستاخانہ خاکے، فرانس کے خلاف ردعمل میں سعودی عرب کی پاکستان اور ترکی کے موقف کی

    رجب طیب ایردوآن نے سعودی عرب سےاپنےتعلقات کو ایک بار پھر بحال کرنےکا فیصلہ کیا ہے کیوں کہ اس وقت ترکی کو شدید اقتصادی مسائل کا سامناہےجبکہ اس کی تجارت میں سعودی عرب کا ایک بڑاحصہ ہے۔ایردوآن نے رواں برس اپریل کے اواخر میں سعودی عرب کا دورہ بھی کیا تھا۔ اس دوران ولی عہد محمد بن سلمان کےساتھ ان کےمعانقے کی تصویر وائرل ہوگئی تھی۔

    یوریشیا گروپ کی مشرق وسطیٰ ریسرچ ٹیم کےسربراہ ایہم کامل کا کہنا ہےکہ بائیڈن کےسعودی عرب کےدورے سے قبل ولی عہد کا تین ملکوں کایہ دورہ ریاض کے”علاقائی کردار کومستحکم کرنے اورمفاہمت کی کوششوں کو توسیع کرنے”کا حصہ ہے۔

     

    انہوں نے کہا کہ اس سے مصر اور ترکی کے درمیان ثالثی کرنے میں بھی مدد ملے گی جو سابق صدر مرسی کی معزولی کے بعد سے تعلقات میں پیدا ہونے والی کشیدگی کو دور کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

  • سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا تاریخی دورہ ترکی، طیب اردوان سے ملاقات

    سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا تاریخی دورہ ترکی، طیب اردوان سے ملاقات

    سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے ترک صدر رجب طیب اردوان کے ساتھ بات چیت کے لیے کئی برسوں میں پہلی مرتبہ ترکی کا دورہ کیا جس کا مقصد سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے بعد دونوں ممالک کے درمیان خراب تعلقات کو مکمل طور پر معمول پر لانا ہے۔

     

    غیر ملکی خبر رساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق اپریل میں رجب طیب اردوان نے علاقائی طاقتوں کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کے لیے ایک ماہ کی طویل مہم کے بعد سعودی عرب کا دورہ کیا تھا، ان کے دورہ سعودی عرب کے مقاصد میں استنبول میں جمال خاشقجی کے 2018 کے قتل کے مقدمے کو ختم کرنا بھی شامل تھا۔

     

    ترک صدر نے اپنے دورے کے دوران ولی عہد محمد بن سلمان کے ساتھ ون آن ون ملاقات کی تھی جس کے دوران انہوں نے بات چیت میں سعودی عرب کی جانب سے سرمایہ کاری کے امکانات کو وسعت دینے کی کوشش کی تاکہ ترکی کی مشکلات سے دوچار معیشت کو بحال کرنے میں مدد حاصل کی جائے۔

    رجب طیب اردوان نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ وہ اور ریاض کے بااختیار رہنما شہزادہ محمد بن سلمان انقرہ میں ہونے والی بات چیت کے دوران اس بات پر تبادلہ خیال کریں گے کہ وہ دونوں ممالک کے تعلقات کو کس اعلیٰ سطح تک لے جا سکتے ہیں۔

    سینئر ترک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر رائٹرز سے گفتگو کرتےہوئے بتایا کہ اس دورے سے دونوں ممالک کے درمیان بحران سے قبل جیسے تعلقات کی مکمل طور پر بحالی کی امید ہے جس سے ایک نئے دور کا آغاز ہو گا۔

     

    سینئر ترک عہدیدار نے کہا کہ ترکی کے گرتے ہوئے زر مبادلہ کے ذخائر کو بحال کرنے میں مدد کرنے کی صلاحیت کی حامل ممکنہ کرنسی سویپ لائن پر بات چیت اور مذاکرات اتنی تیزی سے آگے نہیں بڑھ رہے جس رفتار سے ان میں پیش رفت ہونی چاہیے تھی اور اس معاملے پر رجب طیب اردوان اردگان اور شہزادہ محمد بن سلمان کے درمیان ہونے والی ون آن ون ملاقات میں بات چیت کی جائے گی۔

    سینئر ترک عہدیدار نے دورے کی تفصیلات سے متعلق مزید بتایا کہ شہزادہ محمد بن سلمان کے دورے کے دوران توانائی، معیشت اور سیکیورٹی سے متعلق معاہدوں پر دستخط کیے جائیں گے جب کہ سعودی سرمایہ کاروں کی جانب سے ترکی میں سرمایہ کاری سے متعلق منصوبہ بھی زیر غور ہے۔

     

    سعودی ولی عہد کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب کہ ترکی کی معیشت لیرا کی قدر میں کمی اور مہنگائی کی شرح 70 فیصد سے زیادہ بڑھ جانے کی وجہ سے بری طرح دباؤ کا شکار ہے۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سعودی مالی حمایت اور غیر ملکی کرنسی رجب طیب اردوان کو جون 2023 تک انتخابات سے قبل حمایت حاصل کرنے میں مدد دے سکتی ہے

  • عازمین حج کو قرآن پاک کے 80,000 نسخوں کی فراہمی کے انتظامات مکمل ہوگئے

    عازمین حج کو قرآن پاک کے 80,000 نسخوں کی فراہمی کے انتظامات مکمل ہوگئے

    مکہ مکرمہ:قرآن پاک کی جنرل ایڈمنسٹریشن کی نمائندگی کرنے والے ادارہ برائے رہ نمائی و ہدایات نے قرآن پاک کی طباعت کے لیے شاہ فہد کمپلیکس سے قرآن پاک کے نئے ایڈیشن کے ساتھ شیلف اور الماریاں فراہم کیں اور انہیں مسجد حرام کے اندر رکھا گیا ہے تاکہ بیت اللہ میں آنے والے اللہ کے مہمان ان سے استفادہ کرسکیں۔

    مسجد حرام میں نمازیوں اور عازمین حج کے لیے صدارت عامہ برائے امور حرمین کی نمائندہ ایجنسی ہدایات ورہ نمائی کی طرف سے قرآن پاک کے 80 ہزار نسخے تقسیم کیے گئے۔ قرآن پاک کے یہ نسخے مختلف سائز کی 2300 الماریوں میں رکھے گئے ہیں۔

    قرآن اور کتب کی جنرل ایڈمنسٹریشن کے ڈائریکٹر جنرل جناب غازی بن فہد الذبیانی نے وضاحت کی کہ انتظامیہ نے نابینا افراد کے لیے متعدد بریل قرآن کے ساتھ قرآن کے شیلف اور الماریاں بھی فراہم کی ہیں۔ اس کے علاوہ مسجد حرام میں انگریزی، اُردو اور انڈنیشی زبانوں میں تراجم کے ساتھ بھی قرآن پاک کے نسخے رکھے گئے ہیں۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بیت اللہ کے زائرین کو سہولت فراہم کرنے اور ان کا وقت اس کام میں لگانے کے لیے قرآن پاک اور بریل قرآن کے الفاظ کے ساتھ ساتھ آسان تشریحات پر مشتمل قرآن پاک کی تفسایر بھی فراہم کی گئی ہیں۔

    الذبیانی نے مزید کہا کہ انتظامیہ نے ضیوف الرحمان کو قرآن پاک کے نسخوں کی فراہمی کا خصوصی پروگرام تشکیل دیا ہے۔ ہر عازم حج کو قرآن پاک کا ایک ایک نسخہ دیا جائے گا جو ان کے ساتھ حج کے سفر میں ساتھ رہے گا۔۔ اس کے علاوہ عازمین حج اسمارٹ ڈیوائسز سے60 زبانوں میں قرآن پاک کے تراجم ’کیو آر‘ کوڈ کے ساتھ فراہم کیے گئے ہیں۔

    26 ہزارعازمین حج سعودی عرب پہنچ گئے ۔مکہ مکرمہ میں قائم مین کنٹرول آفس سے جاری اعداد و شمار کے مطابق مدینہ منورہ کی زیارت مکمل کرنے والے 14 ہزار سے زائد عازمین حج کو بسوں کے ذریعے مکہ مکرمہ پہنچایا گیا۔ترجمان مذہبی امور کے مطابق 9 ہزار سے زائد عازمین حج جدہ ایئرپورٹ کے ذریعے مکہ مکرمہ پہنچ گئے،آج تین پروازوں کے ذریعے مزید ایک ہزارعازمین حج جدہ ایئرپورٹ پہنچیں گے،نجی حج سکیم کے تحت 2 ہزار سے زائد عازمین حج سعودی عرب پہنچ گئے۔

    سعودی حکام کے مطابق 351 افراد پر مشتمل طبی عملہ ، معاونین اور مذہبی امور کے اہلکار مکہ ،مدینہ ،جدہ میں انتظامی امور میں مصروف ہیں۔ترجمان کے مطابق شعبہ گمشدگی و بازیابی نے راستہ بھول کر حج مشن آنے والے 128 عازمین حج کو انکی رہائش گاہوں تک پہنچایا،حرم گائڈز نے حرم شریف کے باہر 26 ہزار سے زائد عازمین حج کی درست راستے کی طرف رہنمائی کی،ذاتی سامان گمنے کی 315 شکایات موصول؛ 263 اشیاء تلاش کر کے عازمین کے حوالے کی ،مین کنٹرول آفس نے اب تک صفائی ، موبائل سم، پانی ، رہائش اور کھانے سے متعلق 141 شکایات کا ازالہ کیا ۔عازمین حج کی صحت کی حفاظت کیلئے ماہر ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل سٹاف کی زیر نگرانی دو ہسپتال اور 6 ڈسپنسریاں مصروف عمل ہیں۔مین کنٹرول آفس کے شعبہ سہولت و تعاون کی زیر نگرانی تمام شعبہ جات کی مانیٹرنگ کی جا رہی ہے۔عازمینِ حج کو 24 گھنٹے سہولیات کی فراہمی کیلئے ہر شعبہ کا سٹاف شفٹوں میں متعین کیا گیا ہے۔

    صدارتِ عامہ برائے امور حرمین شریفین کی فیلڈ سروسز امور نےحج سیزن 1443ھ کے لیے ماحولیاتی تحفظ کی خاطرعالمی معیار کے ماحولیاتی تحفظ کے اقدامات اور سروسز فراہم کی ہیں۔ ان متنوع سروسز کی فراہمی کا مقصد ضیوف الرحمان کو بیت اللہ میں ہراعتبار سے محفوظ ماحول اور معیاری سہولیات فراہم کرنا ہے۔

    مسجد حرام کے انتظامی اور ترقیاتی امور، فیلڈ امور کے ماحولیاتی تحفظ کے حصول کےانڈرسیکرٹری جنرل محمد بن مصلح الجابری نے زور دیا کہ ماحولیاتی پروگرامات اور خدمات مسجد الحرام کے زائرین کو منظم کرنے اور انہیں فیلڈ سروسزفراہم کرنے کے کاموں کے لیے مسلسل گورننس کے ذریعے انجام دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسجد حرام اور مشاعرمقدسہ میں عازمین حج کے لیے ماحولیاتی تحفظ کے غیرمعمولی اقدامات کیے گئے ہیں اور یہ اقدامات مملکت کی قیادت کی طرف سے پیش کردہ ’وژن‘ 2030کے اہداف کے مطابق ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی تحفظ سے متعلق پروگرام میں ایک سخت طریقہ کار شامل ہے جو صحت کے اعلیٰ معیارات کے مطابق تمام فیلڈ سروسز جیسے کہ زمزم کے بابرکت پانی کی خدمات، دھلائی، جراثیم کشی اور مسجد حرام میں جراثیم کشی کی براہ راست نگرانی اور پیروی کو یقینی بناتا ہے۔مسجد حرام کے اندرونی اور بیرونی مقامات پر جراثیم کش اسپرے کے لیے فیلڈ ٹیمیں جدید آلات سے آراستہ ہو کر کام کررہی ہیں۔

    مسجد حرام کےدروازوں، داخلی راستوں اور بیرونی صحن،خارجہ راستوں کی صفائی اور ان میں جراثیم کشی کے ساتھ مسجد حرام اور مکہ معظمہ کو ہر طرح کی موذی اور وبائی امراض سے محوظ رکھنے کے لیےذرائع ابلاغ کے ذریعے آگاہی بھی فراہم کی جا رہی ہے اور مکہ معظمہ کا مثبت امیج پیش کیا جا رہا ہے۔

  • خام تیل کی یومیہ پیداوارمیں ریکارڈ اضافہ:اس کےباوجود طلب میں اضافہ

    خام تیل کی یومیہ پیداوارمیں ریکارڈ اضافہ:اس کےباوجود طلب میں اضافہ

    ریاض :سعودی عرب میں دو سال کے دوران خام تیل کی یومیہ پیداوار میں ریکارڈ اضافہ کیا گیا ہے۔سعودی عرب نے رواں برس مارچ کے مہینے سے یومیہ 7.235 ملین بیرل خام تیل برآمد کرنا شروع کیا ہوا ہے جو دو برس کے دوران روزانہ کی بنیاد پر برآمد کیا جانے والا سب سے زیادہ خام تیل برآمد کرنے کا ایک ریکارڈ ہے۔ یہ بات مشترکا ڈیٹا انیشیئیٹو (جودی) نے اپنے حالیہ جائزے میں بتائی ہے۔ جودی کے مطابق رواں برس اپریل کے دوران سعودی عرب کی خام تیل کی برآمدات میں اضافہ ہوا ہے۔

    سعودی عرب کی، جو پوری دنیا میں سب سے زیادہ خام تیل برآمد کرنے والا ملک ہے، اپریل میں خام تیل کی پیداوار بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ سعودی عرب نے اپریل میں 10.441 ملین بیرل خام تیل روزانہ کی بنیاد پر نکالا جبکہ مارچ میں روزانہ 10.300 ملین بیرل خام تیل نکالا جا رہا تھا۔

    سعودی میڈیا کاکہنا ہے کہ اس سلسلے میں سعودی وزیر توانائی شہزادہ عبد العزیز بن سلمان نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ سعودی عرب روزانہ کی بنیاد پر خام تیل کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرنے جا رہا ہے۔ یومیہ ایک ملین بیرل سے زیادہ پیداواری صلاحیت بڑھائی جائے گی۔ 2026ء کے اواخر یا 2027ء کے آغاز تک روزانہ کی بنیاد پر 13 ملین بیرل سے زیادہ خام تیل نکالا جانے لگے گا۔

    واضح رہے کہ اوپیک پلس معاہدے میں شامل سعودی عرب اور دیگر ممالک نے یوکرین پر حملے کے تناظر میں لگائی جانے والی مغربی پابندیوں کے نتیجے میں روسی خام تیل کی فروخت پر اثرات کے باعث اپنی تیل کی پیداوار میں اضافے پر اتفاق کیا تھا۔

    رواں برس اپریل میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے بھی سعودی عرب کی 2021ء میں 3.2فیصد کی شرح سے بڑھنے والی اقتصادی ترقی کو 2022ء میں خام تیل کی بلند پیداوار اور قیمتوں کے سبب 7.6 کی شرح تک بڑھا دیا تھا۔

  • پاکستان کومعاشی بحران سے نکالنےکےلیےسعودی عرب ایک بارپھرمیدان میں آگیا

    پاکستان کومعاشی بحران سے نکالنےکےلیےسعودی عرب ایک بارپھرمیدان میں آگیا

    اسلام آباد:پاکستان کو معاشی بحران سے نکالنے کے لیے سعودی عرب ایک بار پھر میدان میں آگیا۔ برادر ملک کی نامور تجارتی کمپنیوں اور بزنس کونسل کا 30رکنی سرمایہ کاروں پر مشمل بڑا وفد کل20جون (سوموار) کو پاکستان کا دورہ کرے گا۔ سعودی سرمایہ کاروں کے اس تاریخی دورے کے دوران مختلف شعبوں میں تجارت کے حوالے سے اہم معاہدے کیے جائیں گے جبکہ سعودی سرمایہ کار سی پیک میں سرمایہ کاری کے حوالے سے بھی آگاہی حاصل کریں گے۔ سعودی سرمایہ کاروں کا یہ وفد لاہور، سیالکوٹ، فیصل آباد اور کراچی کا دورہ کرے گا جہاں چیمبر آف کامرس سمیت تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے حوالے سے انتہائی اہم ملاقاتیں کی جائیں گی۔

    پاکستانی حکام کی جانب سے سعودی سرمایہ کاروں کے پاکستان آنے والے حالیہ وفد کو شہباز شریف حکومت کی بڑی کامیابی سے تعبیر کیا جارہا ہے اور ملکی معیشت کی موجودہ صورت حال کے حوالے سے توقع کی جارہی ہے کہ دونوں ملکوں میں سرمایہ کاروں کے باہم نئے تجارتی معاہدوں اورکاروباری تعلقات مزید مستحکم ہونے سے پاکستان کی معیشت کو خاطر خواہ فائدہ پہنچے گا۔ سعودی عرب کی نامورکمپنیوں اور بزنس کونسل کا یہ بڑا وفد تین سال بعد پاکستان کا دورہ کر رہا ہے جسے حکومتی سطح پر بہت زیادہ اہمیت دی جارہی ہے۔ پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر نواف بن سعید المالکی نے پاکستان کی موجودہ معاشی صورت حال میں سعودی حکومت کے تعاون سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم آنے والے دنوں میں پاکستان کو معاشی طور پر مستحکم، محفوظ اور بہتر حالت میں دیکھیں گے۔پاکستان اور سعودی عرب یک جان دو قالب ہیں۔دونوں ملکوں کے برادرانہ تعلقات میں ہر آنے والے دن مزید گرمجوشی پیدا ہوئی ہے۔ پاکستان ایک اہم ملک ہے اور سعودی حکومت کے ساتھ بہترین قریبی تعلقات ہیں۔

    سعودی سفیر نے بتایا کہ سعودی بزنس کونسل کا تیس رکنی وفد کل 20جون سوموار کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد پہنچے گا اور لاہور،سیالکوٹ، فیصل آباداور کراچی کا دورہ کرتے ہوئے اہم ملاقاتیں کی جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبے میں تعاون کو فروغ دے رہے ہیں۔سعودی عرب میں پاکستانی سفارتخانے میں کمرشل سیکشن کے وزیر برائے تجارت و سرمایہ کاری اظہر علی داہر کا کہنا ہے کہ سعودی بزنس کونسل کے دورہ پاکستان میں مختلف شعبوں میں تجارت کے حوالے سے معاہدے کیے جائیں گے ۔ وفد سی پیک میں سرمایہ کاری کے حوالے سے بھی آگاہی حاصل کرے گا۔ سعودی سرمایہ کاروں کے حالیہ دورہ پاکستان سے سعودی سرمایہ کاری کو مزید فروغ ملے گا اور پاکستان کی معیشت پر اس کے نہایت شاندار اور مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ ادھر پاک سعودی جوائنٹ چیمبر آف کامرس کے میاں محمود نے کہا ہے کہ سعودی سرمایہ کاروں کے وفد میں خوراک، تعمیراتی شعبے اور فارماسوٹیکل کمپنیز سے وابستہ اہم شخصیات شامل ہوں گی جو پاکستان میں سرمایہ کاری سے متعلق مخلتف چیمبرز آف کامرس اور نامور صنعتکاروں سے ملاقاتیں کریں گے۔

  • جوبائیڈن سعودی ولی عہد  سے براہ راست ملاقات نہیں چاہتے:  حکام کا دعویٰ‌

    جوبائیڈن سعودی ولی عہد سے براہ راست ملاقات نہیں چاہتے: حکام کا دعویٰ‌

    واشنگٹن :امریکی صدرجوبائیڈن سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے براہ راست ملاقات نہیں کرنا چاہتے:اعلیٰ امریکی حکام کا دعویٰ‌.اطلاعات کے مطابق اعلیٰ امریکی حکام نے اس بات کی پیشن گوئی کی ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن نے جمعہ کے روز کہا کہ وہ سعودی عرب کے ڈی فیکٹو لیڈر محمد بن سلمان سے براہ راست ملاقات نہیں کریں گے

    دی مڈل ایسٹ آئی نے رپورٹ کیا کہ امریکی پالیسی سازوں نے امریکی صدر جوبائیڈن کے بطور صدر خلیج فارس کے پہلے دورے کو انسانی حقوق کو رکھنے کے ان کے وعدے سے متصادم قرار دیا ہے۔

     

    دورہ سعودی عرب میں توانائی پر بات چیت سے زیادہ اہم امور پرتوجہ مرکوزکی جائے…

    13 سے 16 جولائی تک چار روزہ دورے کے دوران بائیڈن اسرائیل، مقبوضہ مغربی کنارے اور مملکت کا دورہ کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ یہ دورہ سعودی بندرگاہی شہر جدہ میں علاقائی رہنماؤں کے ایک بڑے اجتماع کے ساتھ اختتام پذیر ہوگا، جہاں بائیڈن کے ولی عہد شہزادہ کے ساتھ کچھ صلاحیتوں میں شرکت کی توقع ہے۔

    کہا جارہا ہے کہ کل جوبائیڈن سے جب پوچھا گیا کہ وہ جمال خاشقجی کے 2018 کے قتل کے موضوع کو کیسے ہینڈل کریں گےتوجوبائیڈن نے جواب دیاکہ میں ارادی طور پرمحمد بن سلمان سے ملنے نہیں جا رہا ہوں۔ میں ایک بین الاقوامی میٹنگ میں جا رہا ہوں جہاں‌ دوسرے لوگوں کی طرح ان سے بھی واسطہ پڑجائے گا

    یادرہے کہ ایک امریکی شہریت رکھنے والے اور مشرق وسطیٰ آئی کے سابق کالم نگارجمال خشوگی کو 2 اکتوبر 2018 کو استنبول میں سعودی قونصل خانے میں قتل کر دیا گیا تھا، جب وہ اپنی آنے والی شادی کے لیے کاغذی کارروائی کے لیے وہاں گئے تھے۔

    تائیوان پر چینی جارحیت ہوئی تو امریکا طاقت کے ساتھ دفاع کرے گا، جوبائیڈن

    اس وقت جب ڈونلڈ ٹرمپ امریکی صدر تھے تو ان دنوں جوبائیڈن نے ٹرمپ پرکڑی نقطہ چینی کی تھی کہ ٹرمپ جمال خشوگی کے قاتلوں سے نرم رویہ رکھتے ہیں‌،لیکن جونہی بائیڈن صدر بنے اورعہدہ سنبھالنے کے بعد سے جوبائیڈن نے امریکی انٹیلی جنس رپورٹ کے اجراء کے بعد، بن سلمان پر پابندیاں عائد کرنے سے انکار کر دیا ہے جس میں خاشقجی کے قتل میں سعودی ولی عہد کے مبینہ ملوث ہونے کی وضاحت کی گئی ہے۔

    جوبائیڈن نے ہم جنس پرست سیاہ فام خاتون کو وائٹ ہاؤس کا ترجمان مقرر کردیا

    دوسری طرف یہ بھی صورت حال ہے کہ جیسا کہ یوکرین پر حملے کے بعد یورپ روس پر اپنی توانائی کا انحصار کم کرنا چاہتا ہے، بائیڈن انتظامیہ نے امریکی تیل کے خلا کو پورا کرنے کے لیے ایران، سعودی عرب اور وینزویلا سمیت پرانے مخالفین سے رابطہ کیا ہے۔گیس کی قیمتوں کو کم رکھنا بائیڈن اور ڈیموکریٹس کے لیے ایک بڑی ترجیح رہی ہے، خاص طور پر نومبر میں ہونے والے اہم وسط مدتی انتخابات سے پہلے۔

    متعدد میڈیا رپورٹس کے مطابق بائیڈن کا خطے کا دورہ سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان قریبی تعلقات استوار کرنے کی کوشش بھی ہے۔ وائٹ ہاؤس کے مشرق وسطیٰ کے کوآرڈینیٹر بریٹ میک گرک اقتصادی اور سلامتی کے معاہدوں کو بروکر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ دونوں ممالک تعلقات قائم کرنے کی طرف کام کر رہے ہیں۔

    سفر کے آغاز میں، امریکی قانون سازوں نے صدر پر زور دیا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ریاض کے ساتھ واشنگٹن کے تعلقات امریکی مفادات کو آگے بڑھائیں،
    اس ماہ کے شروع میں ایوان کی متعدد کمیٹیوں کے سربراہان کی جانب سے بائیڈن کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ، "جب تک سعودی عرب ایک مختلف راستہ اختیار کرنے کے اشارے نہیں دکھاتا، اور مملکت کے ممکنہ دورے کے بارے میں غور و خوض کی روشنی میں جس کے دوران آپ کو ملاقات کا موقع مل سکتا ہے۔ شاہ سلمان اور دیگر علاقائی سربراہان مملکت، ہم آپ کی حوصلہ افزائی کریں گے سعودی عرب پرلازم ہے کہ وہ امریکی صدر کی آمد سے مستفید ہو اوربہترتعلقات کے لیے خود سے آگے بڑھے

    یاد رہے کہ جوبائیڈن کے آنے والے دنوں میں مشرق وسطیٰ کے دورے سعودی مخالفین اور کارکنوں کی طرف سے مذمت کی گئی ہے، جس میں متعدد نے بائیڈن پر "منافقت” اور "خیانت” کا الزام لگایا ہے۔دوسری طرف جمال خشوگی کے بیٹے نے جوبائیڈن پرتنقید کرتے ہوئے کہا کہ جوبائیڈن نے میرے بات کے قاتلوں سے انتقام کو سیاسی کارڈ کے طورپراستعمال کیا لیکن جب الیکشن جیت گئے توسب وعدے بھول گئے لیکن ہم نہیں بھولے

  • حوثیوں کی میزائل ٹیکنالوجی نے امریکی پیٹریاٹ نظام کوفعل کردیا

    حوثیوں کی میزائل ٹیکنالوجی نے امریکی پیٹریاٹ نظام کوفعل کردیا

    صنعا:حوثیوں کی میزائل ٹیکنالوجی نے امریکی پیٹریاٹ نظام کوفعل کردیا،اطلاعات کے مطابق یمن کے وزیر دفاع نے اعلان کیا کہ یمن کی مسلح افواج کو سعودی قیادت والے فوجی اتحاد یعنی امریکہ اور دیگراتحادیوں پرہرطرح سے غلبہ حاصل ہے ،

    انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ کا بنایا ہوا پیٹریاٹ زمین سے فضا میں مار کرنے والے جدید ترین میزائل (SAM) سسٹم جسے سعودی عرب اور اس کے اتحادی حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہیں، یمنی بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کے مقابلے میں زیادہ موثر نہیں ہیں۔

    "فوجی صنعت کے شعبے میں ہماری مہارت اعلیٰ درجے پر پہنچ چکی ہے۔ عاطفی نے مزید کہا کہ یمنی مسلح افواج کافی پیشہ ور ہیں، اور فی الحال ان کے پاس انتہائی درست اور موثر ہتھیار ہیں۔یمنی وزیر دفاع نے کہا کہ "ایک عظیم فتح ان تمام بہادروں کی منتظر ہے جو مضبوطی سے جارحین کے خلاف مزاحمت کے راستے پر گامزن ہیں۔”

    سعودی عرب نے مارچ 2015 میں اپنے عرب اتحادیوں کے ساتھ مل کر اور امریکہ اور دیگر مغربی ریاستوں کے ہتھیاروں اور رسد کی مدد سے یمن پر تباہ کن جنگ شروع کی۔اس کا مقصد عبد ربہ منصور ہادی کی ریاض دوست حکومت کو دوبارہ قائم کرنا اور انصار اللہ مزاحمتی تحریک کو کچلنا تھا جو یمن میں فعال حکومت کی عدم موجودگی میں ریاستی امور چلا رہی ہے۔

    جب کہ سعودی زیرقیادت اتحاد اپنے کسی بھی اہداف کو پورا کرنے میں ناکام رہا ہے، اس جنگ نے لاکھوں یمنیوں کو ہلاک اور دنیا کے بدترین انسانی بحران کو جنم دیا ہے۔

  • سعودی عرب کےوزارت اسلامی امور کےمکہ میڈیا دفتر میں خاتون سربراہ تعینیات

    سعودی عرب کےوزارت اسلامی امور کےمکہ میڈیا دفتر میں خاتون سربراہ تعینیات

    وزارت اسلامی امور کے مکہ میڈیا دفتر میں خاتون کو سربراہ تعینات کر دیا گیا-

    باغی ٹی وی : عرب میڈیا کے مطابق سعودی عرب کے وزیر اسلامی امور، دعوت ورہنمائی شیخ عبداللطیف آل الشیخ نے مکہ میں میڈیا سیکشن کی سربراہ ایک شهد وجيه منشی نامی خاتون کومقررکیا ہے اور شیخ عبداللطیف آل الشیخ نے اپنی وزارت میں خواتین کی کارکردگی اور اچھی استعداد کی تعریف کی ہے۔

    یمن میں بلی اور بلے کی شادی،باقاعدہ نکاح بھی پڑھایا گیا،ویڈیو وائرل


    سوشل میڈیا پر وزارت اسلامی امور مکہ ریجن شاخ میں میڈیا سیکشن کی سربراہ خاتون کو بنائے جانے پر سوشل میڈیا صارفین نے اسے مثبت اقدام قرار دے دیا ہےصارفین نے خاتون کی تعیناتی کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ یہ اچھا کام ہے۔ ہر عہدے پر خواتین کو بااختیار بنانا ضروری ہے۔

    عرب میڈیا کے مطابق وزیر اسلامی امور نے کمپیوٹر سائنس کے ماہر سعودی کی جگہ خاتون کا تقرر کیا ہے شهد وجيه منشی کو اس کے جس ساتھی کی جگہ تعینات کیا گیا ہے وہ کمپیوٹر سائنس کا ماہر تھا جبکہ منشی کا خصوصی مضمون میڈیا ہے۔

    علاوہ ازیں وزیر اسلامی امور نے مکہ مکرمہ ریجن میں وزارت کی نئی عمارت کا افتتاح کیا ہے ۔انہوں نے عمارت میں تمام سہولتوں اور وسائل کا جائزہ بھی لیا۔

    واشنگٹن:سعودی سفارتخانے کی سڑک کا نام تبدیل کر کے’جمال خاشقجی وے‘ کر دیا گیا

    واضح رہے کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلطان کےسعودی عرب کے ویژن 2030 کا مقصد 2030 تک تقریباً 10 لاکھ سعودی خواتین کو ملازمتیں فراہم کرنا ہے سعودی عرب کے انسانی حقوق مشن کے عہدے دار مشال البلاوی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ سعودی عرب میں خواتین کو تحفظ اور اختیار حاصل ہے کہ وہ اصلاحات اورتبدیل ہوتے حالات کے بڑے حصے تک رسائی رکھتی ہیں جن میں ملازمتوں کی مارکیٹ خاص طور پر قابل ذکر ہے-

    عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی

    انہوں نے کہا تھا کہ سعودی عرب نے اسلامی شریعت کے مطابق خواتین کو خود مختار بنانے اور انہیں مردوں کے برابر لانے کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں سعودی عرب کے ویژن کے تحت کام میں مردوں اورخواتین کے لیے مخصوص حد بندی ختم کرنے پر زور دیا گیا ہے سعودی عرب خواتین کی حوصلہ افزائی کرنا چاہتا ہے کہ وہ مختلف شعبوں خاص طور پرسائنس اینڈ ٹیکنالوجی، ریاضی اور انجینیئرنگ کی تعلیم حاصل کریں کیونکہ اس طرح انہیں روزگار کی مارکیٹ میں مختلف مواقع ملیں گے سعودی حکومت کام کی جگہ پر خواتین پر تشدد اور ہراسانی ختم کرنے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہی ہے۔ خواتین اور ان کے حقوق کو تحفظ فراہم کرنے کے قوانین بنائے جا رہے ہیں۔

    مصر میں عجیب الخلقت بچھڑے کی پیدائش

  • سعودی عرب سے پاکستان آنے والی پرواز حادثے سے بچ گئی

    سعودی عرب سے پاکستان آنے والی پرواز حادثے سے بچ گئی

    اسلام آباد:سعودی عرب سے پاکستان آنے والی قومی ایئرلائن کی پرواز حادثے سے بال بال بچ گئی۔تفصیلات کے مطابق پی آئی اے کی پرواز دمام سے اسلام آباد آرہی تھی کہ اڑان بھرتے ہی نوز وہیل بند کرتے ہوئے پائلٹ کو خرابی محسوس ہوئی۔

     

     

    لینڈنگ کے دوران بوئنگ 777 طیارے کا اگلا ٹائر پھٹ گیا۔ کپتان نے مہارت سے طیارہ کنٹرول کرتے ہوئےلینڈ کرایا۔پی کے 246 میں 200 سے زائدمسافر سوار تھے۔ ترجمان پی آئی اے کے مطابق ہائی اسپیڈ ٹمپریچر کی وجہ سے نوزوہیل کی لیئر اتری ٹیک آف کےدوران پائلٹ کونوز وہیل میں خرابی محسوس ہوئی۔

    دمشق ائیرپورٹ پر بمباری اور پروازیں منسوخ:مگرپی آئی اے نے متبادل بندوبست کرلیا

    ترجمان نے بتایا کہ واقعہ 3روز قبل پیش آیا تھا طیارے کی اسلام آباد لینڈنگ کے بعد مکمل جانچ کی گئی۔

    ادھر آج کوئٹہ میں موسم خراب ہونے کی وجہ سے پی آئی اے کی لاہور سے کوئٹہ کی پرواز کو کوئٹہ ایئرپورٹ لینڈ کرنے میں دشواری کا سامنا ہے۔

    پی آئی اے کی گوادر سے کراچی جانے والی پرواز کا ٹائر پھٹ گیا

    تفصیلات کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ پی آئی اے کی لاہور سے کوئٹہ جانے والی پرواز پی کے 322 کوئٹہ ایئر پورٹ لینڈ نہ کرسکی، جہاز کوئٹہ ایئر پورٹ کے اطراف فضا میں چکر لگاتا رہا، پرواز خراب موسم اور تیز ہواؤں کی وجہ سے کوئٹہ ایئر پورٹ پر لینڈنگ کی اجازت نہیں ملی۔

    پی آئی اے کا کمال، مسافروں کو چھوڑ کر پرواز روانہ

    ترجمان پی آئی اے کا کہنا ہے کہ پرواز کو خراب موسم کی وجہ سے واپس لاہور ایئرپورٹ پر روانہ کردیا گیا، مسافروں کو گھر بجھوانے کا فیصلہ کر لیا ہے، خراب موسم کی وجہ سے مسافروں کی سیفٹی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے پرواز کو واپس لاہور بھجوایا گیا۔

  • سعودی ولی عہد محمد بن سلمان 22 جون کو ترکی کا دورہ کریں گے

    سعودی ولی عہد محمد بن سلمان 22 جون کو ترکی کا دورہ کریں گے

    سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان 22 جون کو ترکی کا دورہ کریں گے، ایک سینئر ترک اہلکارکا کہنا ہے کہ جمال خاشجی کے قتل کے بعد دوملکوں کے درمیان پہلی بارحالات کے بہترہونے کی اُمید پیدا ہوئی ہے، محمد بن سلمان کے اس دورے کو بہت اہمیت دی جارہی ہے

    ادھر اس حوالےسے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ استنبول میں سعودی قونصل خانے کے اندرجمال خاشقجی کے وحشیانہ قتل کے بعد شہزادہ محمدبن سلمان کا ترکی کا یہ پہلا دورہ ہے،جمال خاشجی کے قتل نے دونوں ملکوں کےدرمیان حالات کو بہت زیادہ کشیدہ کردیا تھا

    عہدیدار نے کہا کہ دورے کی تفصیلات کا اعلان "ہفتے کے آخر میں” کیا جائے گا۔

    عہدیدار نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کی قیادت اس اہم دورے کے دوران کئی معاہدوں پر دستخط کریں گے، جن کے دارالحکومت انقرہ میں ہونے کی امید ہے، لیکن مقام کی تصدیق ہونا باقی ہے۔

    ترک صدر رجب طیب اردگان پہلے ہی اپریل کے آخر میں سعودی عرب کا دورہ کر چکے ہیں، جہاں انہوں نے مکہ جانے سے قبل محمد بن سلمان سے ملاقات کی تھی۔

    سعودی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے اس وقت اس دورہ کو خوش آئند قراردیتے ہوئے کہا تھا کہ برف پگھلنا شروع ہوگئی ہے ، اس موقع پر دونوں ملکوں کی قیادت نے "سعودی ترک تعلقات اور انہیں تمام شعبوں میں ترقی دینے کے طریقوں کا جائزہ لیا۔”

    گستاخانہ خاکے، فرانس کے خلاف ردعمل میں سعودی عرب کی پاکستان اور ترکی کے موقف کی…

    یاد رہے کہ غیرملکی میڈیا نے اس وقت یہ الزام عائد کیا تھا کہ سعودی ایجنٹوں نے اکتوبر 2018 میں مملکت کے استنبول قونصل خانے میں خاشقجی کو قتل کر کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا، اس کی باقیات کبھی نہیں ملیں۔

    اردگان نے پہلے کہا تھا کہ سعودی حکومت کی "اعلیٰ ترین قیادت ” نے قتل کا حکم دیا تھا اور ترکی نے اس کیس کی بھرپور طریقے سے پیروی کرتے ہوئے، تحقیقات کا آغاز کیا اور بین الاقوامی میڈیا کو قتل کی گھناؤنی تفصیلات سے آگاہ کر کے سعودیوں کو ناراض کیا۔

    سعودی عرب اورترکی میں شدید اختلافات،سعودی عرب کے ترکی پرالزامات اورترکی کےسعودی…

    ترکی کے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات پہلے ہی کشیدہ تھے کیونکہ اس نے خلیجی ریاست پر ریاض کی زیرقیادت ناکہ بندی کے دوران قطر کی حمایت کی تھی لیکن خاشقجی کے قتل کے بعد تین سال تک تعلقات منجمد رہے۔

    سعودی عرب نے اس وقت ترکی کی معیشت پر دباؤ ڈالتے ہوئے ترکی کی درآمدات کا غیر سرکاری بائیکاٹ کیا تھا۔اب صدارتی انتخابات سے ایک سال قبل مہنگائی اور مہنگائی کے بحران کے ساتھ اردگان خلیجی ممالک سے حمایت حاصل کر رہے ہیں۔

    سعودی عرب اور ترکی ایک ہونے جارہے ، اہل اسلام کے لیے خوشی کی خبر