Baaghi TV

Tag: سعودی عرب

  • سعودی عرب سفارتی مذاکرات کی بحالی کا خواہش مند ہے،ایران کا دعویٰ

    سعودی عرب سفارتی مذاکرات کی بحالی کا خواہش مند ہے،ایران کا دعویٰ

    تہران: ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب ان کے ساتھ سفارتی مذاکرات کی بحالی کا خواہش مند ہے۔

    باغی ٹی وی : عالمی خبر رساں ادارے "روئٹرز” کے مطابق سعودی عرب اور ایران کے درمیان سفارتی تعلقات 2016 سے منقطع ہیں تاہم ولی عہد محمد بن سلمان کے وژن 2023 کے تحت تنازعات کو حل کرنے کے لیے تناؤ کے خاتمے اور تعلقات کی بحالی کے لیے بیک ٹو ڈور مذاکرات کے 5 دور ہوچکے ہیں۔

    مسجد نبویﷺ کے سابق امام الشیخ محمود خلیل القاری وفات پا گئے

    دونوں ممالک کی جانب سے سفارتی تعلقات کی بحالی کو وقت کی ضرورت قرار دیا گیا تھا اور حال ہی میں عراقی وزیر اعظم نے تہران میں اپنے ہم منصب سے ملاقات کے موقع پر سعودی عرب اور ایران کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی پر بھی زور دیا تھا۔

    جس کے بعد سعودی عرب تہران کے ساتھ سفارتی مذاکرات دوبارہ شروع کرنا چاہتا ہے اور ہم اسے خوش آمدید کہیں گے،ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادہ نے پیر کو ایک نیوز کانفرنس میں عراق کے وزیر اعظم کی جانب سے علاقائی حریفوں کے درمیان مذاکرات کی بحالی پر زور دینے کے ایک دن بعد کہا۔

    افغان طالبان کا ایک بار پھ منجمند اثاثے بحال کرنے کا مطالبہ

    ایران اور سعودی عرب، مشرق وسطیٰ میں معروف شیعہ اور سنی مسلم طاقتوں نے 2016 میں تعلقات منقطع کر لیے، دونوں فریقین یمن سے شام اور دیگر جگہوں پر خطے میں پراکسی جنگ لڑنے والے اتحادیوں کی حمایت کرتے ہیں۔

    علاقائی حریفوں کے درمیان مذاکرات کا پانچواں دور اپریل میں ہوا تھا روئٹرز کا کہنا ہے کہ سعودی عرب تہران کے ساتھ تعلقات نہیں بلکہ ‘مذاکرات’ دوبارہ شروع کرنا چاہتا ہے-

    واضح رہے کہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان سفارتی تعلقات 2016 میں اس وقت منقطع ہوگئے تھے جب ریاض میں شعیہ عالم دین کا سرقلم کیے جانے کے ردعمل میں تہران میں سعودی سفارت خانے پر حملہ کیا گیا تھا۔

    حجاب نہ کرنے پر ایران پولیس نے خاتون کھیلاڑیوں کو گرفتار کرلیا

  • جنرل قمرجاوید باجوہ سےملاقات کرکےخوشی ہوئی:شہزادہ خالدبن سلمان

    جنرل قمرجاوید باجوہ سےملاقات کرکےخوشی ہوئی:شہزادہ خالدبن سلمان

    ریاض :سعودی نائب وزیر دفاع شہزادہ خالدبن سلمان نے کہا ہے کہ پاکستانی فوج کےکمانڈر جنرل قمر جاوید باجوہ سےملاقات کر کے خوشی ہوئی۔

    ٹوئٹر پر جاری بیان میں شہزادہ خالدبن سلمان نے کہا کہ ملاقات میں دفاعی، عسکری شعبےمیں تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔انہوں نے لکھا کہ ملاقات میں مملکت اور پاکستان کےتاریخی تعلقات باہمی دلچسپی کے امور پر بھی بات چیت کی گئی۔

     

    عرب نیوز کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور سعودی نائب وزیر دفاع شہزادہ خالدبن سلمان کی اتوار کو جدہ میں ملاقات ہوئی۔اس موقع پر سعودی نائب وزیر دفاع کے دفتر کے ڈائریکٹر ہشام بن عبدالعزیز السیف اور پاکستان میں تعینات سعودی آرمی اتاشی میجر جنرل عوض بن عبداللہ الزھرانی بھی موجود تھے۔

     

    عرب دنیا کی معیشت میں سعودی عرب کی پہلی اورمضبوط پوزیشن برقرار

    یاد رہے کہ آج سعودی عرب میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو "کنگ عبدالعزیزمیڈل آف ایکسیلینٹ کلاس” سے نواز دیا گیا۔آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سعودی عرب کے دورے کیلئے جدہ پہنچے جہاں ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ان کا استقبال کیا۔

    سعودی ولی عہد شہزادہ نے آرمی چیف سے ملاقات کی جس کے دوران دو طرفہ تعلقات، خاص طور پر عسکری شعبوں میں تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر شہزادہ خالد بن سلمان بن عبدالعزیز، نائب

     

    https://twitter.com/Saudi_Gazette/status/1540885307507150848?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1540885307507150848%7Ctwgr%5E%7Ctwcon%5Es1_&ref_url=https%3A%2F%2Furdu.dunyanews.tv%2Findex.php%2Fur%2FPakistan%2F657507 وزیر دفاع سمیت سعودی چیف آف جنرل سٹاف لیفٹیننٹ جنرل فیاض الرویلی اور دونوں جانب کے کئی سینئر حکام نے شرکت کی۔

    ترکی اورسعودی عرب نے پُرانی تلخیوں کوبھلاتے ہوئےنئے دورکا آغازکردیا

    آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا اس موقع پر کہنا تھا کہ پاکستان سعودی عرب کیساتھ تاریخی اور برادرانہ تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے ساتھ ملاقات میں دونوں ملکوں کے مابین مشترکہ مشقوں میں دفاعی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا جبکہ برادرانہ تعلقات کو مزید وسعت دینے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

    پاکستان کومعاشی بحران سے نکالنےکےلیےسعودی عرب ایک بارپھرمیدان میں آگیا

  • سعودی عرب کیجانب سےآرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کیلئے کنگ عبدالعزیز کا اعزاز

    سعودی عرب کیجانب سےآرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کیلئے کنگ عبدالعزیز کا اعزاز

    جدہ : سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو کنگ عبدالعزیز میڈیل سے نوازا-

    باغی ٹی وی : عرب میڈیا کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے سعودی عرب کا دورہ کیا۔ ولی عہد محمد بن سلمان نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو کنگ عبدالعزیز میڈل سے نوازا جو مملکت کے بانی کے نام پر ہے۔

    پاکستان ایمازون پرتیزی سے ابھرتی مارکیٹوں کی رینکنگ میں تیسرے نمبر پر آگیا


    سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے شاہ سلمان کے حکم پر سعودی عرب اور پاکستان کے تعلقات کو مضبوط اور ترقی دینے میں جنرل باجوہ کی نمایاں کوششوں کو سراہتے ہوئے انہیں کنگ عبدالعزیز میڈل آف ایکسیلنٹ کلاس سے نوازا۔

    مبشر لقمان نے بڑی خوشخبری سنا دی،اچھا وقت کب شروع ہو گا، الیکشن کب ہونگے؟

    سعودی پریس ایجنسی کے مطابق سعودی ولی عہد اور پاکستان کے آرمی چیف نے ملاقات بھی کی جس میں دو طرفہ تعلقات کا جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر فوجی شعبوں اور ان کو ترقی دینے کے حوالے سے بھی بات چیت کی گئی اس کے علاوہ انہوں نے مشترکہ دلچسپی کے کئی مسائل پر بھی بات کی۔

    تقریب میں سعودی نائب وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان بھی موجود تھے۔ ان کے علاوہ سعودی عرب کے چیف آف جنرل اسٹاف جنرل فیاض الرویلی اور دونوں اطراف کے کئی سینئر حکام موجود تھے۔

    دوسری جانب پاکستان کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آج جدہ میں ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود، سعودی عرب کے پہلے نائب وزیر اعظم اور وزیر دفاع اور جنرل فیاض بن حمید الرویلی، چیف آف جنرل اسٹاف (سی جی ایس) سعودی مسلح افواج سے ملاقات کی۔

    ملاقاتوں میں باہمی دلچسپی کے امور، دوطرفہ دفاعی و سیکورٹی تعاون اور علاقائی امن و استحکام پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ سی او اے ایس نے کہا کہ پاکستان مملکت کے ساتھ اپنے تاریخی اور برادرانہ تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور اسلامی دنیا میں اپنے منفرد مقام کو تسلیم کرتا ہے۔

    دونوں فریقوں نے مشترکہ تربیت، فضائی دفاع، انسداد دہشت گردی اور مواصلات/انفارمیشن ڈومین کے شعبوں میں دفاعی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔ انہوں نے دوستانہ تعلقات اور بھائی چارے کے گہرے جذبے کو پائیدار اسٹریٹجک پارٹنرشپ میں مزید فروغ دینے پر بھی اتفاق کیا، جو خطے میں مسلم امہ کے اتحاد کے حوالے سے اہم ذمہ داری کے حامل اہم کھلاڑی ہیں۔

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی اہلیہ سمیت پرویز مشرف کی عیادت

  • عرب دنیا کی معیشت میں سعودی عرب کی پہلی اورمضبوط پوزیشن برقرار

    عرب دنیا کی معیشت میں سعودی عرب کی پہلی اورمضبوط پوزیشن برقرار

    دبئی ::ریاض:::عرب دنیا کی معیشت میں سعودی عرب کی مضبوط پوزیشن برقرار،دنیا کی معاشی سرگرمیوں کی درجہ بندی کرنے والے اداروں نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ دنیائے عرب میں سعودی عرب آج بھی پہلی مضبوط معاشی قوت کے ساتھ پہلے نمبرپر ہے،اوریہ سفر جاری وساری ہے،

     

    عرب نیوز کے مطابق عرب کارپوریشن فار انویسٹمنٹ اینڈ ایکسپورٹ کریڈٹ گارنٹی کی ایک رپورٹ کے مطابق عرب معیشت میں سعودی عرب کا حصہ 2021 میں 0.4 فیصد پوائنٹس بڑھ گیا کیونکہ مملکت نے خطے کے سب سے بڑے اقتصادی پلیئر کے طور پر اپنی پوزیشن برقرار رکھی ہے۔اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب نے گزشتہ سال 833.5 بلین ڈالر کی گھریلو پیداوار ریکارڈ کی، جو پورے عرب خطے کے 29.7 فیصد کے برابر ہے۔

    متحدہ عرب امارات 410 بلین ڈالر کے ساتھ دوسری سب سے بڑی عرب معیشت تھی، جب کہ مصر 402.8 بلین ڈالر کی پیداوار کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔عرب کارپوریشن فار انویسٹمنٹ اینڈ ایکسپورٹ کریڈٹ گارنٹی کے ڈائریکٹر جنرل عبداللہ احمد الصبیح نے 2022 میں مسلسل ترقی کی توقع ظاہر کی ہے، خاص طور پر 2021 کی اسی مدت کے مقابلے میں 2022 کی پہلی سہ ماہی کے دوران خطے میں درآمد کیے گئے غیرملکی منصوبوں کی مالیت میں 86 فیصد اضافے کے بعد 21 بلین ڈالر تک پہنچ جائے گی۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ عرب معیشت نے مجموعی طور پر2.1 ٹریلین ڈالر کی مجموعی گھریلو پیداوار کے ساتھ دنیا کی آٹھویں بڑی معیشت اٹلی کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔خطے میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں براہ راست اضافہ ہوا۔ آمدن میں سال بہ سال 43 فیصد اضافہ ہوا جو تقریباً 53 بلین ڈالر کے برابر ہے۔اس سے ایف ڈی آئی کل تقریباً 1.58 ٹریلین ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔

    یہ آمد ورفت ترقی پذیر ممالک میں آنے والے بہاؤ کا 6.3 فیصد اور عالمی بہاؤ کا 3.3 فیصد ہے۔96 فیصد سے زیادہ بڑھی ہوئی رقوم صرف پانچ ممالک میں مرکوز ہیں، جس کی قیادت متحدہ عرب امارات کے پاس 20.7 بلین ڈالر ہے اور اس کے بعد سعودی عرب 19.3 بلین ڈالر کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔عرب کارپوریشن فار انویسٹمنٹ اینڈ ایکسپورٹ کریڈٹ گارنٹی کے سالانہ اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ مصر 5.1 بلین ڈالر مالیت کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔ اس کے بعد عمان 3.6 بلین ڈالر مالیت کے ساتھ چوتھے نمبر پر ہے اور مراکش 2.2 بلین ڈالر مالیت کے ساتھ پانچویں نمبر پر ہے۔

    اقوام متحدہ کی تنظیم برائے تجارت و ترقی کے ڈیٹا کے مطابق عرب ممالک کو موصول ہونے والا ایف ڈی آئی بیلنس 2021 کے آخر میں 958 بلین ڈالر سے بڑھ کر ایک ٹریلین ڈالر سے زیادہ ہو گیا۔سعودی عرب 261 بلین ڈالر کے ساتھ عرب رینکنگ میں سرفہرست ہے، جو عربوں کی مجموعی رقم کا 26 فیصد ہے۔ اس کے بعد متحدہ عرب امارات 171.6 بلین ڈالر کے ساتھ دوسرے اور مصر 137.5 بلین ڈالر کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔

  • پاکستان کے سپہ سالار اپنی افواج،وطن کیلئے ارض حرمین سے ایک اور اعزازو فخر لیں گے، طاہر اشرفی

    پاکستان کے سپہ سالار اپنی افواج،وطن کیلئے ارض حرمین سے ایک اور اعزازو فخر لیں گے، طاہر اشرفی

    پاکستان کے سپہ سالار اپنی افواج،وطن کیلئے ارض حرمین سے ایک اور اعزازو فخر لیں گے، طاہر اشرفی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سعودی عرب پہنچے ہیں

    پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین علامہ طاہر محمود اشرفی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان شاء اللہ آج پاکستان کے سپہ سالار اپنی افواج اور وطن کے لئے ارض حرمین شریفین سے ایک اور اعزاز و فخر لیں گے، ہمیں اپنے سپہ سالار اور سپاہ پر فخر ہے.

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اس وقت سعودی عرب کے انتہائی اہم دورے پر ہیں، دورے میں انکی سعودی حکام کے ساتھ ملاقاتیں ہوں گی، علامہ طاہر اشرفی جو سعودی حکمرانوں کے قریب سمجھے جاتے ہیں کا کہنا ہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے دورہ سعودی عرب سے ایک اور خوشخبری ملے گی،

    دوسری جانب عرب نیوز نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان کا کہنا ہے کہ تیل کی سہولت کو 3.6 بلین ڈالر تک بڑھانے کے لیے سعودی عرب کے ساتھ بات چیت چل رہی ہے،اسلام آباد میں پٹرولیم ڈویژن کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ موخر ادائیگیوں کی سہولت کو موجودہ 1.2 بلین ڈالر سے بڑھا کر 3.6 بلین ڈالر کرنے کے لیے بات چیت کر رہا ہے۔

    یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان کی معیشت بحران کا شکار ہے، زرمبادلہ کے ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں اور 6 بلین ڈالر کے آئی ایم ایف بیل آؤٹ پروگرام کو بحال کرنے کے لیے بات چیت چل رہی ہے، ایسی غیر یقینی صورتحال کے باعث پاکستانی روپیہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں کم ترین سطح پر ہے۔

    قبل ازیں سعودی عرب سرمایہ کاروں کے ایک وفد نے بھی گزشتہ ہفتے پاکستان کا دورہ کیا اور اسلام آباد ،لاہور سمیت کئی شہروں میں پاکستانی صنعتکاروں سے ملاقاتیں کیں وفد میں خوردنی تیل، فوڈ پروسیسنگ، تجارت، تعمیراتی مواد، سیاحت و مہمان نوازی، مینوفیکچرنگ، طبی سامان و آلات ، فنٹیک، فارماسیوٹیکل اور انفراسٹرکچر سروسز سمیت دیگر شعبوں کے نمائندگان شامل تھے۔

    توہین مسجد نبوی،پی ٹی آئی کارکن کو سعودی عدالت نے سزا سنا دی

  • ترکی اورسعودی عرب نے پُرانی تلخیوں کوبھلاتے ہوئےنئے دورکا آغازکردیا

    ترکی اورسعودی عرب نے پُرانی تلخیوں کوبھلاتے ہوئےنئے دورکا آغازکردیا

    استنبول:ترکی اورسعودی عرب نے پُرانی تلخیوں کوبھلاتے ہوئےنئے دورکا آغازکردیا،اطلاعات کےمطابق ترکی دورے پرگئے ہوئے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان دونوں ملکوں نے صحافی جمال خاشقجی کی قتل سے پیدا ہونے والی پرانی تلخیوں کو بھلا کر "باہمی تعاون کا ایک نیا دور” شروع کرنے کا عہد کیا۔اور یہ بھی عہد کیاکہ دونوں ملک ایک دوسرے کے ساتھ ملکر باہمی معاملات کوحل کریں گے

    مشن کشمیر،سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصرکی ترکی،سعودی عرب اورروسی ہم منصبوں سے الگ الگ

    اس حوالے سے عالمی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ استنبول میں سعودی سفارت خانے میں سن 2018 میں صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے بعد ولی عہد محمد بن سلمان کا ترکی کا یہ پہلا دورہ تھا جس میں محمد بن سلمان نے ترک صدر رجب طیب ایردوآن کے ساتھ تقریباً دو گھنٹے تک بات چیت کی۔

    سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور ترک صدر رجب طیب اردوان کے درمیان ہونے والے اہم گفتگو کے بعد ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے،”باہمی تعلقات بشمول سیاسی، اقتصادی، فوجی، سکیورٹی اور ثقافتی تعلقات میں تعاون کا ایک نیا دور شروع کرنے کے مستحکم عزم کا عہد کیا گیا۔”

    مشترکہ اعلامیہ میں کہاگیاہے کہ دونوں ملکوں نے تجارت کو فروغ دینے اور سرمایہ کاری میں اضافہ کرنے نیز مختلف شعبوں میں شراکت داری کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ دونوں ملکوں نے کہا کہ اگلے دس برسوں کو تعاون کے ایک نئے دور کے طور پر لیا جائے گا۔اس مشترکہ اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ دونوں رہنماوں نے علاقائی اورعالمی مسائل کے حوالے سے اہم مسائل پر ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگی کے لیے دو طرفہ تبادلہ خیال کو فعال بنانے سے بھی اتفاق کیا تاکہ "خطے میں سلامتی اور استحکام کی حمایت کی جاسکے اور تمام مسائل کے سیاسی حل میں مدد مل سکے۔”

    یاد رہے کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اپنے سہ ملکی دورے کے آخری مرحلے پر بدھ کے روز ترکی پہنچے تھے۔ اس سے قبل وہ مصر اور اردن بھی گئے تھے۔ انقرہ پہنچنے پر ان کا شاندار روایتی استقبال کیا گیا۔ وہ اپنا دورہ مکمل کرکے وطن واپس لوٹ آئے ہیں۔ محمد بن سلمان نے ان تینوں ملکوں کا دورہ ایسے وقت کیا جب امریکی صدر جو بائیڈن اگلے ماہ سعودی عرب آنے والے ہیں۔

    سعودی عرب اور ترکی ایک ہونے جارہے ، اہل اسلام کے لیے خوشی کی خبر

    ترکی اور سعودی عرب کے تعلقات میں کشیدگی تقریباً دس برس قبل اس وقت شروع ہوئی تھی جب مصر میں عبدالفتح السیسی سن 2013 میں اخوان المسلمون کے رہنما محمد مرسی کی حکومت کو برطرف کرکے خود صدر بن گئے تھے۔ ترکی نے عبد الفتح السیسی کواس وقت صدر تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

    گستاخانہ خاکے، فرانس کے خلاف ردعمل میں سعودی عرب کی پاکستان اور ترکی کے موقف کی

    رجب طیب ایردوآن نے سعودی عرب سےاپنےتعلقات کو ایک بار پھر بحال کرنےکا فیصلہ کیا ہے کیوں کہ اس وقت ترکی کو شدید اقتصادی مسائل کا سامناہےجبکہ اس کی تجارت میں سعودی عرب کا ایک بڑاحصہ ہے۔ایردوآن نے رواں برس اپریل کے اواخر میں سعودی عرب کا دورہ بھی کیا تھا۔ اس دوران ولی عہد محمد بن سلمان کےساتھ ان کےمعانقے کی تصویر وائرل ہوگئی تھی۔

    یوریشیا گروپ کی مشرق وسطیٰ ریسرچ ٹیم کےسربراہ ایہم کامل کا کہنا ہےکہ بائیڈن کےسعودی عرب کےدورے سے قبل ولی عہد کا تین ملکوں کایہ دورہ ریاض کے”علاقائی کردار کومستحکم کرنے اورمفاہمت کی کوششوں کو توسیع کرنے”کا حصہ ہے۔

     

    انہوں نے کہا کہ اس سے مصر اور ترکی کے درمیان ثالثی کرنے میں بھی مدد ملے گی جو سابق صدر مرسی کی معزولی کے بعد سے تعلقات میں پیدا ہونے والی کشیدگی کو دور کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

  • سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا تاریخی دورہ ترکی، طیب اردوان سے ملاقات

    سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا تاریخی دورہ ترکی، طیب اردوان سے ملاقات

    سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے ترک صدر رجب طیب اردوان کے ساتھ بات چیت کے لیے کئی برسوں میں پہلی مرتبہ ترکی کا دورہ کیا جس کا مقصد سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے بعد دونوں ممالک کے درمیان خراب تعلقات کو مکمل طور پر معمول پر لانا ہے۔

     

    غیر ملکی خبر رساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق اپریل میں رجب طیب اردوان نے علاقائی طاقتوں کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کے لیے ایک ماہ کی طویل مہم کے بعد سعودی عرب کا دورہ کیا تھا، ان کے دورہ سعودی عرب کے مقاصد میں استنبول میں جمال خاشقجی کے 2018 کے قتل کے مقدمے کو ختم کرنا بھی شامل تھا۔

     

    ترک صدر نے اپنے دورے کے دوران ولی عہد محمد بن سلمان کے ساتھ ون آن ون ملاقات کی تھی جس کے دوران انہوں نے بات چیت میں سعودی عرب کی جانب سے سرمایہ کاری کے امکانات کو وسعت دینے کی کوشش کی تاکہ ترکی کی مشکلات سے دوچار معیشت کو بحال کرنے میں مدد حاصل کی جائے۔

    رجب طیب اردوان نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ وہ اور ریاض کے بااختیار رہنما شہزادہ محمد بن سلمان انقرہ میں ہونے والی بات چیت کے دوران اس بات پر تبادلہ خیال کریں گے کہ وہ دونوں ممالک کے تعلقات کو کس اعلیٰ سطح تک لے جا سکتے ہیں۔

    سینئر ترک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر رائٹرز سے گفتگو کرتےہوئے بتایا کہ اس دورے سے دونوں ممالک کے درمیان بحران سے قبل جیسے تعلقات کی مکمل طور پر بحالی کی امید ہے جس سے ایک نئے دور کا آغاز ہو گا۔

     

    سینئر ترک عہدیدار نے کہا کہ ترکی کے گرتے ہوئے زر مبادلہ کے ذخائر کو بحال کرنے میں مدد کرنے کی صلاحیت کی حامل ممکنہ کرنسی سویپ لائن پر بات چیت اور مذاکرات اتنی تیزی سے آگے نہیں بڑھ رہے جس رفتار سے ان میں پیش رفت ہونی چاہیے تھی اور اس معاملے پر رجب طیب اردوان اردگان اور شہزادہ محمد بن سلمان کے درمیان ہونے والی ون آن ون ملاقات میں بات چیت کی جائے گی۔

    سینئر ترک عہدیدار نے دورے کی تفصیلات سے متعلق مزید بتایا کہ شہزادہ محمد بن سلمان کے دورے کے دوران توانائی، معیشت اور سیکیورٹی سے متعلق معاہدوں پر دستخط کیے جائیں گے جب کہ سعودی سرمایہ کاروں کی جانب سے ترکی میں سرمایہ کاری سے متعلق منصوبہ بھی زیر غور ہے۔

     

    سعودی ولی عہد کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب کہ ترکی کی معیشت لیرا کی قدر میں کمی اور مہنگائی کی شرح 70 فیصد سے زیادہ بڑھ جانے کی وجہ سے بری طرح دباؤ کا شکار ہے۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سعودی مالی حمایت اور غیر ملکی کرنسی رجب طیب اردوان کو جون 2023 تک انتخابات سے قبل حمایت حاصل کرنے میں مدد دے سکتی ہے

  • عازمین حج کو قرآن پاک کے 80,000 نسخوں کی فراہمی کے انتظامات مکمل ہوگئے

    عازمین حج کو قرآن پاک کے 80,000 نسخوں کی فراہمی کے انتظامات مکمل ہوگئے

    مکہ مکرمہ:قرآن پاک کی جنرل ایڈمنسٹریشن کی نمائندگی کرنے والے ادارہ برائے رہ نمائی و ہدایات نے قرآن پاک کی طباعت کے لیے شاہ فہد کمپلیکس سے قرآن پاک کے نئے ایڈیشن کے ساتھ شیلف اور الماریاں فراہم کیں اور انہیں مسجد حرام کے اندر رکھا گیا ہے تاکہ بیت اللہ میں آنے والے اللہ کے مہمان ان سے استفادہ کرسکیں۔

    مسجد حرام میں نمازیوں اور عازمین حج کے لیے صدارت عامہ برائے امور حرمین کی نمائندہ ایجنسی ہدایات ورہ نمائی کی طرف سے قرآن پاک کے 80 ہزار نسخے تقسیم کیے گئے۔ قرآن پاک کے یہ نسخے مختلف سائز کی 2300 الماریوں میں رکھے گئے ہیں۔

    قرآن اور کتب کی جنرل ایڈمنسٹریشن کے ڈائریکٹر جنرل جناب غازی بن فہد الذبیانی نے وضاحت کی کہ انتظامیہ نے نابینا افراد کے لیے متعدد بریل قرآن کے ساتھ قرآن کے شیلف اور الماریاں بھی فراہم کی ہیں۔ اس کے علاوہ مسجد حرام میں انگریزی، اُردو اور انڈنیشی زبانوں میں تراجم کے ساتھ بھی قرآن پاک کے نسخے رکھے گئے ہیں۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بیت اللہ کے زائرین کو سہولت فراہم کرنے اور ان کا وقت اس کام میں لگانے کے لیے قرآن پاک اور بریل قرآن کے الفاظ کے ساتھ ساتھ آسان تشریحات پر مشتمل قرآن پاک کی تفسایر بھی فراہم کی گئی ہیں۔

    الذبیانی نے مزید کہا کہ انتظامیہ نے ضیوف الرحمان کو قرآن پاک کے نسخوں کی فراہمی کا خصوصی پروگرام تشکیل دیا ہے۔ ہر عازم حج کو قرآن پاک کا ایک ایک نسخہ دیا جائے گا جو ان کے ساتھ حج کے سفر میں ساتھ رہے گا۔۔ اس کے علاوہ عازمین حج اسمارٹ ڈیوائسز سے60 زبانوں میں قرآن پاک کے تراجم ’کیو آر‘ کوڈ کے ساتھ فراہم کیے گئے ہیں۔

    26 ہزارعازمین حج سعودی عرب پہنچ گئے ۔مکہ مکرمہ میں قائم مین کنٹرول آفس سے جاری اعداد و شمار کے مطابق مدینہ منورہ کی زیارت مکمل کرنے والے 14 ہزار سے زائد عازمین حج کو بسوں کے ذریعے مکہ مکرمہ پہنچایا گیا۔ترجمان مذہبی امور کے مطابق 9 ہزار سے زائد عازمین حج جدہ ایئرپورٹ کے ذریعے مکہ مکرمہ پہنچ گئے،آج تین پروازوں کے ذریعے مزید ایک ہزارعازمین حج جدہ ایئرپورٹ پہنچیں گے،نجی حج سکیم کے تحت 2 ہزار سے زائد عازمین حج سعودی عرب پہنچ گئے۔

    سعودی حکام کے مطابق 351 افراد پر مشتمل طبی عملہ ، معاونین اور مذہبی امور کے اہلکار مکہ ،مدینہ ،جدہ میں انتظامی امور میں مصروف ہیں۔ترجمان کے مطابق شعبہ گمشدگی و بازیابی نے راستہ بھول کر حج مشن آنے والے 128 عازمین حج کو انکی رہائش گاہوں تک پہنچایا،حرم گائڈز نے حرم شریف کے باہر 26 ہزار سے زائد عازمین حج کی درست راستے کی طرف رہنمائی کی،ذاتی سامان گمنے کی 315 شکایات موصول؛ 263 اشیاء تلاش کر کے عازمین کے حوالے کی ،مین کنٹرول آفس نے اب تک صفائی ، موبائل سم، پانی ، رہائش اور کھانے سے متعلق 141 شکایات کا ازالہ کیا ۔عازمین حج کی صحت کی حفاظت کیلئے ماہر ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل سٹاف کی زیر نگرانی دو ہسپتال اور 6 ڈسپنسریاں مصروف عمل ہیں۔مین کنٹرول آفس کے شعبہ سہولت و تعاون کی زیر نگرانی تمام شعبہ جات کی مانیٹرنگ کی جا رہی ہے۔عازمینِ حج کو 24 گھنٹے سہولیات کی فراہمی کیلئے ہر شعبہ کا سٹاف شفٹوں میں متعین کیا گیا ہے۔

    صدارتِ عامہ برائے امور حرمین شریفین کی فیلڈ سروسز امور نےحج سیزن 1443ھ کے لیے ماحولیاتی تحفظ کی خاطرعالمی معیار کے ماحولیاتی تحفظ کے اقدامات اور سروسز فراہم کی ہیں۔ ان متنوع سروسز کی فراہمی کا مقصد ضیوف الرحمان کو بیت اللہ میں ہراعتبار سے محفوظ ماحول اور معیاری سہولیات فراہم کرنا ہے۔

    مسجد حرام کے انتظامی اور ترقیاتی امور، فیلڈ امور کے ماحولیاتی تحفظ کے حصول کےانڈرسیکرٹری جنرل محمد بن مصلح الجابری نے زور دیا کہ ماحولیاتی پروگرامات اور خدمات مسجد الحرام کے زائرین کو منظم کرنے اور انہیں فیلڈ سروسزفراہم کرنے کے کاموں کے لیے مسلسل گورننس کے ذریعے انجام دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسجد حرام اور مشاعرمقدسہ میں عازمین حج کے لیے ماحولیاتی تحفظ کے غیرمعمولی اقدامات کیے گئے ہیں اور یہ اقدامات مملکت کی قیادت کی طرف سے پیش کردہ ’وژن‘ 2030کے اہداف کے مطابق ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی تحفظ سے متعلق پروگرام میں ایک سخت طریقہ کار شامل ہے جو صحت کے اعلیٰ معیارات کے مطابق تمام فیلڈ سروسز جیسے کہ زمزم کے بابرکت پانی کی خدمات، دھلائی، جراثیم کشی اور مسجد حرام میں جراثیم کشی کی براہ راست نگرانی اور پیروی کو یقینی بناتا ہے۔مسجد حرام کے اندرونی اور بیرونی مقامات پر جراثیم کش اسپرے کے لیے فیلڈ ٹیمیں جدید آلات سے آراستہ ہو کر کام کررہی ہیں۔

    مسجد حرام کےدروازوں، داخلی راستوں اور بیرونی صحن،خارجہ راستوں کی صفائی اور ان میں جراثیم کشی کے ساتھ مسجد حرام اور مکہ معظمہ کو ہر طرح کی موذی اور وبائی امراض سے محوظ رکھنے کے لیےذرائع ابلاغ کے ذریعے آگاہی بھی فراہم کی جا رہی ہے اور مکہ معظمہ کا مثبت امیج پیش کیا جا رہا ہے۔

  • خام تیل کی یومیہ پیداوارمیں ریکارڈ اضافہ:اس کےباوجود طلب میں اضافہ

    خام تیل کی یومیہ پیداوارمیں ریکارڈ اضافہ:اس کےباوجود طلب میں اضافہ

    ریاض :سعودی عرب میں دو سال کے دوران خام تیل کی یومیہ پیداوار میں ریکارڈ اضافہ کیا گیا ہے۔سعودی عرب نے رواں برس مارچ کے مہینے سے یومیہ 7.235 ملین بیرل خام تیل برآمد کرنا شروع کیا ہوا ہے جو دو برس کے دوران روزانہ کی بنیاد پر برآمد کیا جانے والا سب سے زیادہ خام تیل برآمد کرنے کا ایک ریکارڈ ہے۔ یہ بات مشترکا ڈیٹا انیشیئیٹو (جودی) نے اپنے حالیہ جائزے میں بتائی ہے۔ جودی کے مطابق رواں برس اپریل کے دوران سعودی عرب کی خام تیل کی برآمدات میں اضافہ ہوا ہے۔

    سعودی عرب کی، جو پوری دنیا میں سب سے زیادہ خام تیل برآمد کرنے والا ملک ہے، اپریل میں خام تیل کی پیداوار بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ سعودی عرب نے اپریل میں 10.441 ملین بیرل خام تیل روزانہ کی بنیاد پر نکالا جبکہ مارچ میں روزانہ 10.300 ملین بیرل خام تیل نکالا جا رہا تھا۔

    سعودی میڈیا کاکہنا ہے کہ اس سلسلے میں سعودی وزیر توانائی شہزادہ عبد العزیز بن سلمان نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ سعودی عرب روزانہ کی بنیاد پر خام تیل کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرنے جا رہا ہے۔ یومیہ ایک ملین بیرل سے زیادہ پیداواری صلاحیت بڑھائی جائے گی۔ 2026ء کے اواخر یا 2027ء کے آغاز تک روزانہ کی بنیاد پر 13 ملین بیرل سے زیادہ خام تیل نکالا جانے لگے گا۔

    واضح رہے کہ اوپیک پلس معاہدے میں شامل سعودی عرب اور دیگر ممالک نے یوکرین پر حملے کے تناظر میں لگائی جانے والی مغربی پابندیوں کے نتیجے میں روسی خام تیل کی فروخت پر اثرات کے باعث اپنی تیل کی پیداوار میں اضافے پر اتفاق کیا تھا۔

    رواں برس اپریل میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے بھی سعودی عرب کی 2021ء میں 3.2فیصد کی شرح سے بڑھنے والی اقتصادی ترقی کو 2022ء میں خام تیل کی بلند پیداوار اور قیمتوں کے سبب 7.6 کی شرح تک بڑھا دیا تھا۔

  • پاکستان کومعاشی بحران سے نکالنےکےلیےسعودی عرب ایک بارپھرمیدان میں آگیا

    پاکستان کومعاشی بحران سے نکالنےکےلیےسعودی عرب ایک بارپھرمیدان میں آگیا

    اسلام آباد:پاکستان کو معاشی بحران سے نکالنے کے لیے سعودی عرب ایک بار پھر میدان میں آگیا۔ برادر ملک کی نامور تجارتی کمپنیوں اور بزنس کونسل کا 30رکنی سرمایہ کاروں پر مشمل بڑا وفد کل20جون (سوموار) کو پاکستان کا دورہ کرے گا۔ سعودی سرمایہ کاروں کے اس تاریخی دورے کے دوران مختلف شعبوں میں تجارت کے حوالے سے اہم معاہدے کیے جائیں گے جبکہ سعودی سرمایہ کار سی پیک میں سرمایہ کاری کے حوالے سے بھی آگاہی حاصل کریں گے۔ سعودی سرمایہ کاروں کا یہ وفد لاہور، سیالکوٹ، فیصل آباد اور کراچی کا دورہ کرے گا جہاں چیمبر آف کامرس سمیت تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے حوالے سے انتہائی اہم ملاقاتیں کی جائیں گی۔

    پاکستانی حکام کی جانب سے سعودی سرمایہ کاروں کے پاکستان آنے والے حالیہ وفد کو شہباز شریف حکومت کی بڑی کامیابی سے تعبیر کیا جارہا ہے اور ملکی معیشت کی موجودہ صورت حال کے حوالے سے توقع کی جارہی ہے کہ دونوں ملکوں میں سرمایہ کاروں کے باہم نئے تجارتی معاہدوں اورکاروباری تعلقات مزید مستحکم ہونے سے پاکستان کی معیشت کو خاطر خواہ فائدہ پہنچے گا۔ سعودی عرب کی نامورکمپنیوں اور بزنس کونسل کا یہ بڑا وفد تین سال بعد پاکستان کا دورہ کر رہا ہے جسے حکومتی سطح پر بہت زیادہ اہمیت دی جارہی ہے۔ پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر نواف بن سعید المالکی نے پاکستان کی موجودہ معاشی صورت حال میں سعودی حکومت کے تعاون سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم آنے والے دنوں میں پاکستان کو معاشی طور پر مستحکم، محفوظ اور بہتر حالت میں دیکھیں گے۔پاکستان اور سعودی عرب یک جان دو قالب ہیں۔دونوں ملکوں کے برادرانہ تعلقات میں ہر آنے والے دن مزید گرمجوشی پیدا ہوئی ہے۔ پاکستان ایک اہم ملک ہے اور سعودی حکومت کے ساتھ بہترین قریبی تعلقات ہیں۔

    سعودی سفیر نے بتایا کہ سعودی بزنس کونسل کا تیس رکنی وفد کل 20جون سوموار کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد پہنچے گا اور لاہور،سیالکوٹ، فیصل آباداور کراچی کا دورہ کرتے ہوئے اہم ملاقاتیں کی جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبے میں تعاون کو فروغ دے رہے ہیں۔سعودی عرب میں پاکستانی سفارتخانے میں کمرشل سیکشن کے وزیر برائے تجارت و سرمایہ کاری اظہر علی داہر کا کہنا ہے کہ سعودی بزنس کونسل کے دورہ پاکستان میں مختلف شعبوں میں تجارت کے حوالے سے معاہدے کیے جائیں گے ۔ وفد سی پیک میں سرمایہ کاری کے حوالے سے بھی آگاہی حاصل کرے گا۔ سعودی سرمایہ کاروں کے حالیہ دورہ پاکستان سے سعودی سرمایہ کاری کو مزید فروغ ملے گا اور پاکستان کی معیشت پر اس کے نہایت شاندار اور مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ ادھر پاک سعودی جوائنٹ چیمبر آف کامرس کے میاں محمود نے کہا ہے کہ سعودی سرمایہ کاروں کے وفد میں خوراک، تعمیراتی شعبے اور فارماسوٹیکل کمپنیز سے وابستہ اہم شخصیات شامل ہوں گی جو پاکستان میں سرمایہ کاری سے متعلق مخلتف چیمبرز آف کامرس اور نامور صنعتکاروں سے ملاقاتیں کریں گے۔