Baaghi TV

Tag: سعودی عرب

  • سعودی عرب کا مبینہ طور پر تیل کی فروخت  ڈالر کی بجائے یوآن سے کرنے پرغور

    سعودی عرب کا مبینہ طور پر تیل کی فروخت ڈالر کی بجائے یوآن سے کرنے پرغور

    سعودی حکومت مبینہ طور پر تیل کی فروخت ڈالر کی بجائے یوآن سے کرنے پرغور کر رہی ہے-

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق وال سٹریٹ جرنل نے منگل کو اس حوالے سے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ سعودی اور چینی حکام کے درمیان خلیجی ممالک کے تیل کی فروخت کی قیمت ڈالر یا یورو کے بجائے یوآن میں کرنے کے لیے بات چیت جاری ہے-

    دونوں ممالک نے چھ سال تک اس معاملے پر وقفے وقفے سے بات چیت کی، لیکن مبینہ طور پر بات چیت 2022 میں بڑھ گئی، کیونکہ ریاض امریکہ کے ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات اور پڑوسی ملک یمن میں سعودی عرب کی فوجی کارروائی کے لیے اس کی حمایت نہ کرنے پر ناراض تھا۔

    جریدے کے مطابق، تقریباً 80 فیصد عالمی تیل کی فروخت کی قیمت ڈالر میں ہے، اور 1970 کی دہائی کے وسط سے سعودیوں نے امریکی حکومت کے ساتھ سیکیورٹی معاہدے کے تحت تیل کی تجارت کے لیے خصوصی طور پر ڈالر کا استعمال کیا ہے۔

    یہ بات چیت بیجنگ کی جانب سے بین الاقوامی تیل کی منڈیوں میں اپنی کرنسی کو قابل تجارت بنانے اور خاص طور پر سعودیوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو مضبوط بنانے کےلئے کی جارہی ہے چین نے اس سے قبل ریاض کی بیلسٹک میزائلوں کی تعمیر اور جوہری توانائی پر مشاورت میں مدد کی تھی۔

    اس کے برعکس، سعودی-امریکہ حالیہ برسوں میں تعلقات تیزی سے خراب ہو گئے ہیں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ابتدائی طور پر خواتین کے حقوق اور مجرمانہ انصاف سے متعلق ملک کی پالیسیوں کو آزاد کرتے ہوئے ایک مصلح کے طور پر عوامی امیج پیش کیا۔

    تاہم، 2018 میں منحرف صحافی جمال خاشقجی کا قتل ولی عہد کے تعلقات عامہ اور واشنگٹن کے ساتھ تعلقات دونوں کے لیے تباہ کن رہا ہے صدر بائیڈن کے اقتدار سنبھالنے کے بعد یہ دراڑ مزید شدت اختیار کر گئی-

    اسی عرصے کے دوران، چین کے سعودی عرب کے ساتھ اقتصادی تعلقات قریب تر ہوئے ہیں، جس میں مملکت نے 2021 میں ملک کو یومیہ 1.76 ملین بیرل تیل فراہم کیا، چین کے جنرل ایڈمنسٹریشن آف کسٹمز کا حوالہ دیتے ہوئے،وال سٹریٹ جنرل نے بتایا جب کہ ملک اپنی تیل کی تجارت کے لیے ڈالر کو برقرار رکھنے کا ارادہ رکھتا ہے، سعودیوں کی جانب سے تبدیلی چین کے دوسرے بڑے تیل فراہم کنندگان، جیسے روس، انگولا اور عراق کے لیے ڈومینو اثر پیدا کر سکتی ہے۔

    سعودی عرب نے پہلے 2019 میں تیل کو دیگر کرنسیوں میں فروخت کرنے کی دھمکی دی تھی کہ اگر کانگریس نے ایک ایسا بل منظور کیا جس سے اوپیک کے اراکین کے لیے عدم اعتماد کی ذمہ داری کی اجازت دی جائے گی۔ یہ بل، جو کئی سالوں میں متعدد بار پیش کیا جا چکا ہے، اس سال پھر ناکام ہو گیا۔

    منگل کو یہ رپورٹ بھی سامنے آئی ہے امریکہ نے سعودیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ یوکرین پر روس کے حملے اور امریکہ کی طرف سے روس کے تیل کی درآمدات میں کٹوتی کی وجہ سے گیس کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو پورا کرنے کے لیے مزید تیل فراہم کریں۔

    عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت میں ریکارڈ کمی

  • ا سکولوں میں یوگا کو بطور کھیل متعارف:سعودی عرب حکام نے مشاورت شروع کردی

    ا سکولوں میں یوگا کو بطور کھیل متعارف:سعودی عرب حکام نے مشاورت شروع کردی

    ریاض : ا سکولوں میں یوگا کو بطور کھیل متعارف:سعودی عرب حکام نے مشاورت شروع کردی ،اطلاعات کے مطابق سعودی یوگا کمیٹی کی صدر نوف المروعی نے کہا ہے کہ یوگا کو جلد ہی بطور کھیل مملکت کے سکولوں میں متعارف کروایا جائے گا۔

    عرب نیوز کے مطابق نوف المروعی نے کہا کہ وزارت تعلیم کے تعاون سے ملک بھر کے سکولوں میں یوگا کو اس کے صحت کے فوائد کی وجہ سے نصاب کے حصے کے طور پر متعارف کروایا جائے گا۔

    گذشتہ ہفتے نو مارچ کو سعودی یوگا کمیٹی اور سعودی سکول سپورٹس فیڈریشن کے درمیان تعاون کی تفصیلات سے آگاہ کرنے کے لیے ایک تعارفی لیکچر منعقد کیا گیا تھا۔ واضح رہے وزارت کامرس نے نومبر 2017 میں سعودی عرب میں یوگا کی بطور کھیل تعلیم اور مشق کی منظوری دی تھی۔

    نوف المروعی نے الشرق الأوسط کو انٹرویو میں یہ بھی کہا کہ جسمانی اور ذہنی صحت میں یوگا کی اہمیت کی وجہ سے یہ پورے مملکت میں پھیل رہا ہے۔ سکولو میں یوگا کو متعارف کروائے جانے کے حوالے سے سرٹیفائڈ یوگا انسٹرکٹر اور آنندا یوگا

    سٹوڈیو کے بانی خالد جمعان الزہرانی نے عرب نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’جیسے ہی میں نے یوگا کو سمجھنا شروع کیا، میری اس کے ناقابل یقین فوائد کی دریافت کبھی نہیں رکی۔ کیونکہ یہ ایک مکمل اور تبدیلی کا کھیل ہے جو اپنے مشق کرنے والوں کو ایک پرسکون اور صاف ذہن اور مضبوط اور صحت مند جسم کی طرف لے جاتا ہے۔‘ ’مملکت میں ہمارے سکول کے نظام نے ہمیشہ اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ اس کی تمام سرگرمیوں کا مقصد طلبا کی جسمانی اور تعلیمی دونوں پہلوؤں سے ترقی میں حصہ ڈالنا ہے۔

    میرا ماننا ہے کہ سعودی تعلیمی نظام میں یوگا کو متعارف کرانا ایک موثر اقدام ہے۔‘ نوف المروعی کا یہ بھی کہنا تھا کہ سعودی یوگا کمیٹی کے دائرہ کار اور مقاصد کو وسعت دینے کے بہت سے منصوبے ہیں۔ خیال رہے کہ نوف المروعی کو یوگا سکھانے والی پہلی سعودی خاتون کے طور پر جانا جاتا ہے اور وہ وزارت تعلیم کی منظوری حاصل کرنے اور یوگا کو بطور کھیل آگے بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں۔ انہوں نے سنہ 2006 میں عرب یوگا فاونڈیشن قائم کی تھی۔ رواں سال جنوری میں ملک بھر سے ایک ہزار سے زائد افراد نے ملک کے پہلے یوگا فیسٹول میں بھی شرکت کی تھی۔

  • مسجد نبوی ﷺ میں 12سال سے کم عمربچوں کے داخلے پر عارضی پابندی

    مسجد نبوی ﷺ میں 12سال سے کم عمربچوں کے داخلے پر عارضی پابندی

    مدینہ منورہ: مسجد نبوی ﷺ میں 12سال سے کم عمربچوں کے داخل ہونے پرعارضی طورپرپابندی عائد کردی گئی۔

    باغی ٹی وی : مسجد نبوی ﷺ کے امورکے نگران محکمے کی جانب سے جاری بیان کے مطابق مسجد نبوی ﷺ اوراس کے احاطے میں 12 سال سے کم عمر کے بچوں کوداخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی پابندی عارضی طورپرعائد کی گئی ہے۔

    مسجد الحرام میں سماجی فاصلے کے بغیر پہلا جمعہ، دس لاکھ نمازیوں کی شرکت

    محکمے نے 12 سال سے کم عمر بچوں پرعارضی پابندی کی کوئی وجہ نہیں بتائی تاہم سوشل میڈیا پرگردش کرنے والی ویڈیوز میں بچوں کومسجد نبوی ﷺ میں کھیلتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔


    سوشل میڈیا صارفین نے مسجد نبوی ﷺ تقدس کا برقرار نہ رکھنے پروالدین کوشدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

    پاکستان میں کورونا کیسز میں مزید کمی

    واضح رہے کہ سعودی عرب میں کورونا پابندیاں ختم ہونے کے بعد مسجد الحرام میں سماجی فاصلے کے بغیرنمازادا کی گئی نماز جمعہ کے لیے صفوں کودرست کرنے اورفاصلے ختم کرنے کا خصوصی اعلان بھی کیا گیا تھا حرم شریف میں دس لاکھ سے زائد نمازیوں نے شرکت کی تھی حرمین شریفین کے علاوہ مملکت کی تمام مساجد میں مکمل گنجائش کے ساتھ نمازیوں نے صفوں کی پابندی کے ساتھ نماز باجماعت ادا کی تھی-

    عمران خان نے رابطہ کیا تو مولانا کیا ردعمل دیں گے؟ مولانا فضل الرحمان کا تہلکہ خیز…

  • 81 افراد کو سزائے موت: ایران نے سعودی عرب کیساتھ مذاکرات ملتوی کر دیئے

    81 افراد کو سزائے موت: ایران نے سعودی عرب کیساتھ مذاکرات ملتوی کر دیئے

    تہران: سعودی عرب میں حوثی باغیوں کے سہولت کاروں سمیت 81 افراد کو ایک ہی دن میں سزائے موت دینے کے فوری بعد ایران نے براہ راست مذاکرات کے پانچویں دور کو ملتوی کردیا۔

    باغی ٹی وی : عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران نے سعودی عرب کے ساتھ ہفتے کے روز سے شروع ہونے والے براہ راست مذاکرات کے پانچویں دور کو بغیر کوئی وجہ بتائے ملتوی کردیا اور نئی تاریخ کا اعلان بھی نہیں کیا گیا۔

    ایک ہی دن میں دہشتگردی میں ملوث 81 مجرمان کو سزائے موت دیدی گئی

    خیال رہے کہ ویانا میں جوہری معاہدے کی بحالی سے متعلق ہونے والے امریکا اور ایران کے مذاکرات بھی تعطل کا شکار ہوگئے ہیں دونوں ممالک پر جوہری معاہدے 2015 کی بحالی کے لیے دیگر رکن ممالک نے دباؤ ڈالا تھا۔

    مذاکرات کے ملتوی ہونے کی وجہ تو نہیں بتائی گئی ہے تاہم ایران نے یہ اقدام اُس وقت اُٹھایا ہے جب سعودی عرب میں 81 افراد کو ایک ہی دن میں عدالتی حکم پر سزائے موت دی گئی۔

    جن 81 ملزمان کے سر قلم کیے گئے ان میں سے 43 افراد اہل توشیع تھے اور ان پر حوثی باغیوں کی سہولت کاری کا الزام تھا اور یہ اہل توشیع کے اکثریتی علاقے قطیف کے رہائشی تھے جہاں سے سعودی حکومت کے خلاف متعدد بار مہم چلائی گئی ہے۔

    روس کے خلاف لڑنے کے لیے امریکی حمایت یافتہ رضاکاریوکرین پہنچ گئے:روس بھی تیار

    2016 میں بھی شیعہ عالم کا سر قلم ہونے پر ایران میں سعودی سفارت خانے پر حملہ کیا گیا تھا جس کے بعد سعودی عرب نے ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرلیے تھے جس کی بحالی کے لیے مذاکرات جاری ہیں۔

    اس کے بعد سن 2019ء میں ایک ساتھ 37 افراد کو پھانسیاں دی گئیں تھیں۔ تب ان افراد پر دہشت گردی کے الزامات عائد کیے گئے تھے اور ان میں سے زیادہ تر کا تعلق سعودی عرب کی اقلیتی شیعہ کمیونٹی سے تھا۔

    ایران کے براہ راست مذاکرات کے پانچویں دور کو ملتوی کرنے پر سعودی حکومت کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

    یوکرین میں موجود مغربی ہتھیاروں کو روس نے نشانہ بنانے کی دھمکی دے دی:امریکہ بھی…

  • ایک ہی دن میں  دہشتگردی میں ملوث 81 مجرمان کو سزائے موت دیدی گئی

    ایک ہی دن میں دہشتگردی میں ملوث 81 مجرمان کو سزائے موت دیدی گئی

    ریاض :سعودی عرب میں انتہا پسندگروہوں سے تعلق رکھنے والے 81 مجرمان کو سزائے موت دے دی گئی۔سعودی  وزارت داخلہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق 81 مجرمان کو سزائے موت دی گئی ہے جو کہ داعش اور  القاعدہ سمیت غیرملکی ایجنسیوں اور حوثی ملیشیا سے بھی وابستہ تھے، مجرمان میں سعودی اور یمنی شہری شامل ہیں۔

       

    سعودی پریس ایجنسی کی طرف سے جاری ہونے والے بیان میں مزید کہا گیا ہے، ”ملزمان کو اٹارنی کا حق فراہم کیا گیا تھا اور عدالتی کارروائی کے دوران سعودی قانون کے تحت ان کے حقوق کی مکمل ضمانت فراہم کی گئی تھی۔  ملکی عدالتی نظام نے انہیں متعدد گھناؤنے کام کرنے کا مجرم پایا، ایسے جرائم، جن کے نتیجے میں شہری اور قانون نافذ کرنے والے افسروں کی ایک بڑی تعداد ہلاک ہوئی۔‘‘

    جاری ہونے والے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ سعودی حکومت مستقبل میں بھی ایسے سخت اقدامات جاری رکھے گی، ” سعودی سلطنت ملک میں دہشت گردی اور اُن انتہا پسندانہ نظریات کے خلاف ایک سخت اور اٹل موقف اختیار کرتی رہے گی، جن  سے پوری دنیا کے امن اور استحکام کو خطرہ ہے۔‘‘

    سعودی عرب میں گزشتہ ایک عشرے میں اتنے بڑے پیمانے پر پھانسیاں سن 2016 میں دی گئی تھیں۔ اس وقت ایک ہی دن میں 47 افراد کو تختہ دار پر چڑھا دیا گیا تھا۔ ان میں وہ شیعہ رہنما بھی شامل تھا، جنہوں نے ملک میں احتجاجی ریلیوں کا انعقاد کیا تھا۔ تب ایران اور سعودی عرب کے سفارتی تعلقات انتہائی کشیدہ ہو گئے تھے اور تہران میں سعودی سفارت خانے پر حملہ کر دیا گیا تھا۔ سعودی عرب اور ایران کے تب سے سفارتی تعلقات منقطع چلے آ رہے ہیں۔

    اس کے بعد سن 2019ء میں ایک ساتھ 37 افراد کو پھانسیاں دی گئیں تھیں۔ تب ان افراد پر دہشت گردی کے الزامات عائد کیے گئے تھے اور ان میں سے زیادہ تر کا تعلق سعودی عرب کی اقلیتی شیعہ کمیونٹی سے تھا۔

     

  • سعودی آئل ریفائنری میں ڈرون حملے کے بعد لگی آگ پرقابو پالیا گیا

    سعودی آئل ریفائنری میں ڈرون حملے کے بعد لگی آگ پرقابو پالیا گیا

    ریاض :سعودی آئل ریفائنری میں ڈرون حملے کے بعد لگی آگ پرقابو پالیا گیا،اطلاعات کے مطابق سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کی ایک آئل ریفائنری میں ڈرون حملے کے بعد لگی آگ کے حوالے سے نئی اور تازہ ترین صورت حال سامنے آگئی ہے

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق سعودی عرب کی وزارت توانائی نے بیان جاری کیا کہ جس کے مطابق دارالحکومت ریاض کی آئل ریفائنری میں ڈرون حملے کے بعد لگنے والی معمولی نوعیت کی آگ پرقابو پالیا گیا ہے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ آگ سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اورنہ ہی تیل کی سپلائی متاثرہوئی ہے جبکہ یہ حملہ جمعرات کی صبح 4:40 کے قریب ہوا ہے۔حکام کا کہنا تھا کہ اس طرح کے حملے نہ صرف سعودی عرب کو نشانہ بناتے ہیں بلکہ دنیا کو توانائی کی فراہمی کی سلامتی اور استحکام کو بھی نشانہ بناتے ہیں۔

    تاہم حکام نےڈرون حملہ کس کی جانب سے کیا گیا اس بارے میں کوئی تفصیل نہیں بتائی ہے جبکہ فوری طور پر کسی گروپ کی جانب سے کوئی ذمہ داری بھی قبول نہیں کی گئی ہے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات یمن کے حوثی باغیوں کا نشانہ رہی ہیں۔

    حوثی باغیوں نے 2019 میں مشرقی صوبے ابقیق میں آئل پروسیسنگ فیسیلٹی پر حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی جبکہ اس حملے نے عارضی طور پر سعودی عرب کی روزانہ کی نصف پیداروان کو نقصان پہنچایا تھا۔

  • امریکی صدرکا فون،سعودی عرب اور یو اے ای نے بات کرنے سے انکار کر دیا

    امریکی صدرکا فون،سعودی عرب اور یو اے ای نے بات کرنے سے انکار کر دیا

    سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے سربراہان نے امریکی صدر جوبائیڈن سے فون پر بات کرنے سے انکار کر دیا ہے کیونکہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے یوکرین پر روس کے حملے کی وجہ سے توانائی کی قیمتوں میں اضافے کو روکنے کی کوشش کی ہے۔

    باغی ٹی وین: "دی گارجئین” کے مطابق یہ بڑا دعویٰ امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی جانب سے کیا گیا ہے امریکی اخبار کا کہنا ہے کہ بائیڈن نے محمد بن سلمان اور متحدہ عرب امارات کے شیخ محمد بن زید النہیان سےٹیلی فون پر رابطے کی کوشش کی ، دونوں سربراہان نے امریکی صدر کی کال لینے سے انکار کر دیا، کوشش ایسے وقت پر کی گئی جب امریکہ یوکرین کے لیے عالمی سطح پر حمایت بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ٕ

    روس نے یوکرین کی رہائشی عمارت پر بم گرا دیا،2 بچوں سمیت 18 شہری ہلاک

    ایک امریکی اہلکار نے سعودی شہزادہ محمد اور بائیڈن کے بات کرنے کے منصوبے کے بارے میں کہا کہ "فون کال کی کچھ توقع تھی، لیکن ایسا نہیں ہوا۔” "یہ سعودی تیل کے سپیگوٹ کو آن کرنے کا حصہ تھا۔”

    امریکی اخبار نے مزید انکشاف کیا کہ جوبائیڈن تیل کی عالمی قیمت کو قابو میں رکھنے کے لیے کوشاں ہیں، سعودی عرب کے امریکا سے کچھ مطالبات ہیں، یمن جنگ میں امریکی مدد، سویلین جوہری پروگرام میں مدد مطالبات میں شامل ہیں۔

    گزشتہ ہفتے، OPEC، جس میں روس بھی شامل ہے، نے مغربی درخواستوں کے باوجود تیل کی پیداوار بڑھانے سے انکار کر دیا اطلاعات اس وقت سامنے آئیں جب بائیڈن انتظامیہ منگل کو روسی تیل کی درآمد پر باضابطہ پابندی عائد کرنے کے بعد تیل کی سپلائی میں اضافہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جس سے تیل کی قیمتیں 130 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئیں، جو 14 سالوں میں بلند ترین سطح ہے۔

    روس سب سے زیادہ پابندیوں کا سامنا کرنے والا دنیا کا پہلا ملک

    خلیجی خطے میں امریکی پالیسی پر بائیڈن انتظامیہ کے دوران امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات میں سرد مہری آئی ہے۔

    شہزادہ محمد کے لیے امریکہ میں قانونی استثنیٰ بھی مطالبات میں شامل، اخبار کے مطابق سعودی ولی عہد کو امریکہ میں چند مقدمات کا سامنا ہے، جو چار سال قبل استنبول کے قونصل خانے میں سعودی ہٹ ٹیم کے ہاتھوں سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے مقدمہ بھی ہے-

    انتخابی مہم میں بائیڈن نے کہا تھا کہ وہ سعودی عرب کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خمیازہ ادا کرنے پر مجبور کریں گے، متحدہ عرب امارات کو بھی خوثی باغیوں کی جانب سے حالیہ میزائل حملوں کے جواب میں امریکی ردعمل پر خدشات ہیں۔

    مسائل میں ایران جوہری معاہدے کی بحالی شامل ہے۔ یمن کی خانہ جنگی میں سعودی مداخلت کے لیے امریکی حمایت کا فقدان اور حوثیوں کو دہشت گرد گروہوں کی فہرست میں شامل کرنے سے انکار؛ سعودی سویلین جوہری پروگرام میں امریکہ کی مدد بھی شامل ہے-

    فضائی حملوں اور دھماکوں کی گونج میں شادی کرنے والا یوکرینی فوجی جوڑا

    اس ہفتے کے شروع میں، وائٹ ہاؤس کی ترجمان جین ساکی نے کہا کہ بائیڈن اور شہزادہ محمد کے درمیان جلد بات کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے، اور صدر کے ریاض جانے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔

    امریکہ میں متحدہ عرب امارات کے سفیر یوسف العتیبہ نے دونوں ممالک کے درمیان کشیدہ تعلقات کی تصدیق کی۔ "آج، ہم تناؤ کے امتحان سے گزر رہے ہیں، لیکن مجھے یقین ہے کہ ہم اس سے نکل کر ایک بہتر مقام پر پہنچ جائیں گے،” العتیبہ نے پیش گوئی کی۔

    دونوں خلیجی ممالک قیمتوں میں اضافے کو کم کرنے کے لیے زیادہ تیل پمپ کرنے کی صلاحیت رکھنے والے واحد عالمی سپلائرز کے طور پر شمار کیے جاتے ہیں۔

    تیل کی برآمد پر پابندی لگائی گئی تو یورپ کو گیس سپلائی بند کردیں گے، روس کی دھمکی

  • سعودی عرب اور چین کے درمیان ڈرون فیکٹری بنانے کا معاہدہ

    سعودی عرب اور چین کے درمیان ڈرون فیکٹری بنانے کا معاہدہ

    سعودی عرب اور چین کے درمیان مملکت میں ڈرون فیکٹری بنانے کا معاہدے پر دستخط کئے گئے ہیں-

    باغی ٹی وی : "العربیہ ڈاٹ نیٹ” کے مطابق ہفتے کے روز ایڈوانسڈ کمیونیکیشنز اینڈ الیکٹرانکس سسٹمز کمپنی (ACES) نے سعودی عرب میں مقامی طور پر ڈرون پے لوڈ سسٹم تیار کرنے کے لیے ایک عالمی سائنسی کی منتقلی کمپنی کے ساتھ ایک اسٹریٹجک معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔

    سعودی عرب نے مسافروں کیلئے پی سی آر ٹیسٹ اور قرنطینہ کی شرط ختم کردی

    یہ ایڈوانسڈ کمیونیکیشنز اینڈ الیکٹرانکس سسٹمز کمپنی کی جانب سے مملکت میں بغیر پائلٹ کے طیاروں کے لیے ایریل سلوشنز کے نام سے ایک نئی کمپنی کے قیام کے اعلان کے بعد سامنے آیا۔

    نئے معاہدے پر چائنا الیکٹرانکس ٹیکنالوجی گروپ (CETC) کے ساتھ دستخط کیے گئے جو کہ دوہری استعمال کے الیکٹرانکس میں مہارت رکھنے والی سرکاری چینی دفاعی کمپنی ہے۔ یہ دُنیا کی سب سے بڑی دفاعی کمپنیوں میں سے ایک ہے اور یہ چینی کمپنی کو ایک تحقیقی اور ترقیاتی مرکز کے قیام میں مدد کرے گی۔

    ماسکو ائیرپورٹ پر امریکی خاتون ایتھیلیٹ بھنگ سمیت "پھڑی”گئی

    مختلف قسم کے UAV پے لوڈ سسٹم کے لیے مینوفیکچرنگ ٹیم بشمول کمیونیکیشن یونٹس، فلائٹ کنٹرول یونٹس، کیمرہ سسٹم، ریڈار سسٹم، اور وائرلیس ڈٹیکشن سسٹم، تحقیق اور ترقی میں اہم کردار ادا کررہی ہے-

    معاہدہ اور کمپنی کی حکمت عملی ویژن 2030 کے مقاصد کے مطابق ہے کیونکہ سعودی عرب کا مقصد فوجی صنعتوں کے شعبے کو مقامی بنانا، اسے سعودی معیشت کا ایک اہم معاون بنانا، ٹیکنالوجی کی منتقلی، مقامی سرمایہ کاروں کی مدد، اس میں ملازمت کے مواقع فراہم کرنا ہے امید افزا شعبہ اور قومی معیشت میں اس شعبے کی شراکت کو زیادہ سے زیادہ کرنا۔

  • سعودی عرب نے 17 ممالک کی ایئرلائنز پرعائد پابندیاں ختم کردیں

    سعودی عرب نے 17 ممالک کی ایئرلائنز پرعائد پابندیاں ختم کردیں

    ریاض: سعودی عرب نے مختلف ممالک کی ایئرلائنز کی سعودی آمد پر عائد پابندیاں ختم کردیں۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق سعودی ایوی ایشن حکام نے نئی سفری پالیسی سے متعلق اعلامیہ جاری کردیا جس کے مطابق سعودی عرب نے مختلف ممالک کی ائرلائنز کی ملک میں آمد پر عائد پابندیاں ختم کردی ہیں۔

    نئی سفری پالیسی کے مطابق اب جنوبی افریقا، نمیبیا، بوٹسوانا، زمبابوے، افغانستان، ملاوی، موزمبیق، مڈغاسکر، نائجیریا اور انگولا سمیت 17 ممالک کی ایئرلائنز کی سعودیہ آمد و رفت ممکن ہوسکے گی۔

    دریں اثنا سعودی عرب نے مملکت میں آنے والے مسافروں کیلئے پی سی آر ٹیسٹ اور قرنطینہ کی شرط ختم کردی تھی-

    سعودی عرب نے کورونا کیسز میں کمی آنے کے بعد مملکت میں عائد متعدد پابندیاں ختم کرنے کا اعلان کیا تھا سعودی عرب کے سرکاری خبررساں ادارے سعودی پریس ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق وزارت داخلہ کے باضابطہ ذرائع نے بتایا تھا کہ مملکت میں سماجی فاصلے، باہر ماسک پہننے جیسے اقدامات اب لازمی نہیں۔


    حرمین شریفین ٹوئٹر اکاؤنٹ کے مطابق رمضان المبارک کے دوران حرمین شریفین (مسجد الحرام اور مسجد نبویﷺ) سمیت تمام مساجد اپنی مکمل گنجائش کے ساتھ کھل جائیں گی۔

    زائرین اور عازمین کے لیے واحد شرط کورونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین لگوانا ہے۔

    اس کے علاوہ 5 سال سے زائد عمر کے ویکسینیٹڈ بچے بھی حرمین میں داخل ہوسکیں گے البتہ 5 سال سے کم عمر کے بچوں کو مساجد کے احاطے تک داخل ہونے کی اجازت ہوگی۔

    علاوہ ازیں مسجد الحرام میں نماز کی ادائیگی اور مسجد نبوی کی زیارت کے لیے اجازت لینے کی شرط ختم کردی گئی اور توکلنا ایپلیکشین پر ’ویکسینیٹڈ‘ ظاہر کرنا کافی ہوگا۔

    تاہم عمرے اور روضہ رسولﷺ میں نماز کی ادائیگی کے لیے اجازت لینا اب بھی لازمی ہے پابندیوں کے خاتمے کا اطلاق آج سے ہی ہوگا۔


    سعودی عرب میں عمومی طور پر کورونا وائرس کے سلسلے میں لگائی گئی جو پابندی اٹھائی گئیں وہ درج ذیل ہیں:

    مسجد الحرام، مسجد نبوی سمیت تمام مساضد میں سماجی فاصلے رکھنے کی شرط ختم کردی گئی ہے البتہ مساجد کے اندر ماسک پہننا اب بھی لازم ہے تمام کھلے اور بند مقامات، سرگرمیوں اور تقریبات میں بھی سماجی فاصلے کا اطلاق ختم کردیا گیا۔

    کھلے مقامات پر ماسک پہننے کی ضرورت اب نہیں ہوگی البتہ بند مقامات پر اب بھی ماسک پہننا ضروی ہے سعودی عرب پہنچنے والے مسافروں کے لیے پی سی آر اور ریپڈ اینٹیجن ٹیسٹ اب درکار نہیں ہوگا مملکت آنے والے مسافروں کو ادارہ جاتی یا گھروں میں قرنطینہ کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔

    اس کے علاوہ سعودی عرب سے جنوبی افریقہ، نمیبیا، بوسوٹوانام، زمبابوے، لیسوتھو، ایسٹوانا، موزمبیق، ملاوی، ماریشس، زمبیا، مڈغاسکر، انگولا، سیشیلز، کومروس، نائیجیریا، ایتھوپیا اور افغانستان سے پروازوں کی براہِ راست آمدو رفت پر پر لگائی گئی پابندی بھی ختم کردی ہے۔

    البتہ کسی بھی قسم کے وزٹ ویزوں پر مملکت میں آنے والے تمام افراد کو انشورنس حاصل کرنے کی ضرورت ہوگی جو کسی بھی کورونا وائرس کے انفیکشن کے علاج کے اخراجات کو پورا کرسکے۔

  • سعودی عرب جانے والوں کے لیےاچھی خبرآگئی :پی سی آر ٹیسٹ اور قرنطینہ کی شرط ختم

    سعودی عرب جانے والوں کے لیےاچھی خبرآگئی :پی سی آر ٹیسٹ اور قرنطینہ کی شرط ختم

    ریاض :سعودی عرب نے مملکت میں آنے والے مسافروں کیلئے پی سی آر ٹیسٹ اور قرنطینہ کی شرط ختم کردی۔سعودی عرب نے کورونا کیسز میں کمی آنے کے بعد مملکت میں عائد متعدد پابندیاں ختم کرنے کا اعلان کیا۔

    سعودی گزٹ کے مطابق حرمین شریفین (مسجد الحرام اور مسجد نبویﷺ) سمیت تمام مساجد میں سماجی فاصلے کی پابندیاں بھی ختم کردی ہیں تاہم ماسک لازمی قرار دیا گیا ہے۔

    سعودی خبررساں ادارے ایس پی اے کے مطابق ہفتے کی شب وزارت داخلہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ’ کورونا ایس اوپیز کے حوالے سے عائد پابندیوں میں نرمی کی گئی ہے۔ مملکت آنے والوں کے لیے پی سی آر ٹیسٹ اور قرنطینہ کی شرط بھی ختم کردی گئی ہے۔‘

    وزارت داخلہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ’ امور صحت کے نگران اداروں کی جانب سے جاری سفارشات کی روشنی میں متعدد احتیاطی تدابیر میں نرمی کی جارہی ہے۔‘

    حرمین شریفین اور تمام مساجد میں نماز باجماعت کے لیے سماجی فاصلے کی پابندی ختم کردی گئی ہے تاہم ماسک کے استعمال کی شرط بدستور عائد رہے گی۔
    تمام مقامات پر سماجی فاصلے کی پابندی بھی ختم کردی گئی ہے۔ کھلے مقامات پرماسک کی پابندی ختم کردی گئی ہے جبکہ بند مقامات پرماسک استعمال کیاجائے گا۔

    مملکت میں آنے کے لیے پی سی آر ٹیسٹ کی شرط ختم کردی گئی ہے جبکہ کسی بھی نوعیت کے وزٹ ویزے پرآنے والوں کے لیے میڈیکل انشورنس حاصل کرنا لازمی ہوگا جس میں کورونا کے علاج کی مکمل سہولت فراہم کی گئی ہو۔