Baaghi TV

Tag: سعودی عرب

  • یمن میں بلاجواز کشیدگی یو اے ای کے وعدوں سے مطابقت نہیں رکھتی،سعودی کابینہ

    یمن میں بلاجواز کشیدگی یو اے ای کے وعدوں سے مطابقت نہیں رکھتی،سعودی کابینہ

    سعودی کابینہ کا کہنا ہے کہ یمن میں بلاجواز کشیدگی یو اے ای کے وعدوں سے مطابقت نہیں رکھتی۔

    عرب میڈیا کے مطابق سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی زیر صدارت سعودی کابینہ کا اجلاس ہوا، شرکا نے کہا کہ یمن میں بلاجواز کشیدگی یو اے ای کے وعدوں سے مطابقت نہیں رکھتی،امید ہے عرب امارات یمنی گروہ کو کسی بھی قسم کی فوجی یا مالی معاونت نہیں دے گا،دانشمندی، برادرانہ اصول غالب آئیں گے۔

    علاوہ ازیں سعودی کابینہ نے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کا اسرائیلی اعلان بھی مسترد کر دیا۔

    متحدہ عرب امارات کا یمن میں ملٹری آپریشن بند اور اپنے فوجی واپس بلانے کا اعلان

    دوسری جانب متحدہ عرب امارات (uae)نے منگل کے روز اعلان کیا ہے کہ وہ یمن میں تعینات اپنی باقی ماندہ فورسز کو واپس بلا رہا ہے،یہ پیش رفت سعودی قیادت میں اتحادی افواج کے یمن کے جنوبی بندرگاہی شہر مکلا پر فضائی حملے کے فوراً بعد ہوئی۔

    سعودی عرب کے مطابق اس حملے میں ایک ایسی کھیپ کو نشانہ بنایا گیا جو امارات سے منسلک ہتھیاروں پر مشتمل تھی اور یو اے ای کے حمایت یافتہ عناصر کو فراہم کی جا رہی تھی یہ کارروائی ریاض اور ابو ظہبی کے درمیان بڑھتے ہوئے اختلافات میں اب تک کی سب سے بڑی کشیدگی قرار دی جا رہی ہے-

    پی ٹی آئی کا جیسا ایکشن ہوگا، ری ایکشن اس کے مطابق ہوگا ،رانا ثنااللہ

    ایک وقت میں خطے کے دو مضبوط سیکیورٹی ستون سمجھے جانے والے سعودی عرب اور یو اے ای کے مفادات حالیہ برسوں میں تیزی سے مختلف ہوتے چلے گئے ہیں۔ اختلافات کی وجوہات میں تیل کی پیداوار کے کوٹے، علاقائی اثر و رسوخ اور یمن کی سیاسی صورتحال شامل ہیں۔

    سعودی عرب نے منگل کے روز اپنی قومی سلامتی کو ’’سرخ لکیر‘‘ قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ متحدہ عرب امارات نے یمن کے جنوبی علیحدگی پسندوں پر دباؤ ڈال کر انہیں ایسے عسکری اقدامات پر اکسایا جو سعودی سرحدوں تک جا پہنچے۔ یہ بیان دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کے دوران ریاض کی جانب سے اب تک کا سخت ترین مؤقف ہے۔

    یمن میں سعودی حمایت یافتہ صدارتی کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی نے اماراتی افواج کو 24 گھنٹوں میں ملک چھوڑنے کا الٹی میٹم دیا اور بعد ازاں یو اے ای کے ساتھ دفاعی معاہدہ بھی منسوخ کر دیا۔ انہوں نے ایک ٹیلی وژن خطاب میں متحدہ عرب امارات پر الزام لگایا کہ وہ جنوبی عبوری کونسل (STC) کی حمایت کے ذریعے یمن میں بدامنی کو ہوا دے رہا ہے۔

    امریکا کی بھارتی شہریوں کو سخت سزا ؤں کی وارننگ

    دوسری جانب یو اے ای نے فضائی حملے پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جس کھیپ کو نشانہ بنایا گیا اس میں ہتھیار شامل نہیں تھے اور وہ اماراتی افواج کے لیے تھی امارات نے زور دیا کہ حالیہ صورتحال کو ذمہ داری سے اور باہمی رابطے کے تحت حل کیا جانا چاہیے تاکہ مزید کشیدگی سے بچا جا سکے۔

    ان واقعات کے بعد خلیجی ممالک کی اسٹاک مارکیٹوں میں مندی دیکھی گئی ہے ماہرین کے مطابق سعودی عرب اور یو اے ای کے درمیان اختلافات اوپیک کے اندر تیل کی پیداوار سے متعلق فیصلوں پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں، جبکہ اوپیک پلس کے اہم اجلاس سے قبل صورتحال مزید حساس ہو چکی ہے۔

    سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس کی یونیورسٹی کو کالعدم ٹی ٹی پی کے خوارج کیجانب سے دھمکی موصول

  • متحدہ عرب امارات کا یمن میں ملٹری آپریشن بند اور اپنے فوجی واپس بلانے کا اعلان

    متحدہ عرب امارات کا یمن میں ملٹری آپریشن بند اور اپنے فوجی واپس بلانے کا اعلان

    سعودی عرب کے سخت ردعمل کے بعد متحدہ عرب امارات نے یمن میں اپنی باقی ماندہ انسدادِ دہشت گردی کارروائیاں ختم کرنے کا اعلان کردیا،جو کہ 2019 میں اپنی فوجی موجودگی ختم کرنے کے بعد ملک میں اس کے پاس باقی رہ جانے والی واحد افواج ہیں۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع کے بیان میں کہا گیا ہے کہ انسدادِ دہشت گردی یونٹس کی واپسی رضاکارانہ بنیادوں پر اور شراکت داروں کے ساتھ مکمل رابطے اور تعاون سے عمل میں لائی جائے گی، اس کی بنیادی وجہ وہاں موجود اہلکاروں کی حفاظت اور سلامتی کو ممکن بنانا ہے۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ حالیہ پیش رفت اور سیکیورٹی خدشات کے تناظر میں ایک جامع جائزے کے بعد کیا گیا یمن میں متحدہ عرب امارات کی براہِ راست فوجی موجودگی بھی پہلے ہی 2019 میں ختم ہوچکی تھی،یہ اقدام خطے میں امن و استحکام کے لیے یو اے ای کے دیرینہ عزم کے مطابق ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف کی متحدہ عرب امارات کے صدر سے ملاقات

    وزارت دفاع کے بیان میں واضح کیا گیا کہ یو اے ای 2015 سے عرب اتحاد کے تحت یمن میں قانونی حکومت کی حمایت کرتا رہا ہے2019 میں طے شدہ اہداف مکمل ہونے کے بعد اپنی فوجی موجودگی ختم کرنے کے بعد سے صرف محدود اور خصوصی ٹیمیں انسدادِ دہشت گردی کے لیے موجود تھیں، جو اب واپس بلائی جا رہی ہیں، یو اے ای کے بیٹوں نے یمن میں امن اور استحکام کے مقاصد کے حصول کے لیے بڑی قربانیاں دی ہیں۔

    واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب سعودی عرب نے یمن کی بندرگاہ پر مبینہ اسلحہ بردار گاڑیو ں کو نشانہ بنایا سعودی عرب نے موقف اختیار کیا کہ متحدہ عرب امارات یمن کے جنوبی علاقے میں علیحدگی پسندوں کو اسلحہ اور مالی تعا ون فراہم کر رہے ہے۔

    سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات پسِ پردہ خاصے بہتر ہوچکے ہیں،ٹرمپ کا دعویٰ

    تاہم متحدہ عرب امارات نے سعودی عرب کے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اس بیان کو مایوس کن قرار دیا تھااس سے قبل یمن کی بین الااقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے حکمراں نے بھی متحدہ عرب امارات کو 24 گھنٹوں کے اندر یمن چھوڑنے کا کہا تھا۔

    سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات 2015 میں یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف ایک ہی عرب اتحاد کا حصہ بنے تھے تاہم وقت گزرنے کے ساتھ دونوں ممالک کی ترجیحات مختلف ہوتی چلی گئیں.سعودی عرب یمن کی وحدت، مرکزی حکومت اور سیاسی حل پر زور دیتا رہا ہے جب کہ یو اے ای نے جنوبی یمن میں سیکیورٹی، بندرگاہوں اور انسدادِ دہشت گردی پر توجہ مرکوز رکھی اور سدرن ٹرانزیشنل کونسل سے قربت اختیار کی،2019 میں یو اے ای کی فوجی واپسی کے بعد یہ اختلافات کھل کر سامنے آئے تھے جبکہ حالیہ واقعے اور بیانات نے دونوں اتحادیوں کے درمیان تناؤ کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔

    یمنی صدارت کونسل کا متحدہ عرب امارات کے ساتھ معاہدہ منسوخ

  • سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات پسِ پردہ خاصے بہتر ہوچکے ہیں،ٹرمپ کا دعویٰ

    سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات پسِ پردہ خاصے بہتر ہوچکے ہیں،ٹرمپ کا دعویٰ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات پسِ پردہ خاصے بہتر ہوچکے ہیں اور وہ جلد ابراہیمی معاہدوں میں شامل ہو جائے گا۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق صدر ٹرمپ نے اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو کے ساتھ فلوریڈا میں مشترکہ پریس کانفرنس کے دورا ن کہا کہ ابراہیمی معاہدے نسبتاً تیزی سےمزید توسیع پائیں گےاور سعودی عرب کی شمولیت بھی بس کچھ وقت کی بات ہےجہاں تک میرا تعلق ہے، سعودی عرب نے وہ سب کچھ کیا ہے جس کی ہم توقع کرسکتے ہیں، وہ اسرائیل کے ساتھ بہت اچھے طریقے سے معاملا ت چلا رہے ہیں۔

    وزیراعظم شہباز شریف کی متحدہ عرب امارات کے صدر سے ملاقات

    واضح رہے کہ صدر ٹرمپ کے اس دعوے کے باوجود سعودی عرب نے ہمیشہ اسرائیل سے سفارتی تعلقات قائم کرنے سے متعلق محتاط بلکہ واضح طور پر انکاری مؤقف اپنایا ہے۔

    سعودی عرب کی ہمیشہ سے یہی پالیسی رہی ہے کہ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کا انحصار ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام پر ہےتاہم تجزیہ کاروں کے مطابق سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان سیکیورٹی، انٹیلی جنس اور علاقائی امور پر غیر اعلانیہ تعاون موجود ہے، خاص طور پر ایران کے اثر و رسوخ کے تناظر میں۔

    سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس کی یونیورسٹی کو کالعدم ٹی ٹی پی کے خوارج کیجانب سے دھمکی موصول

    ابراہیمی معاہدے

    ابراہیمی معاہدے 2020 میں ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے صدارتی دور میں طے پائے، جن کا مقصد اسرائیل اور عرب دنیا کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانا تھاسب سے پہلے ستمبر 2020 متحدہ عرب امارات اور بحرین نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔

    جس کے بعد اکتوبر 2020 میں سوڈان نے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کا اعلان کیا اور دسمبر 2020 میں مراکش بھی اس معاہدے میں شامل ہوگیا اسرائیل اور عرب ممالک ان معاہدوں کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ میں سفارتی، تجارتی، سیاحتی اور سیکیورٹی تعاون میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

    سال 2026 کا پہلا سپر مون کب نطر آئے گا؟

    صدر ٹرمپ کی اپنے پہلے دور میں بھی کوشش رہی تھی کہ ابراہیمی معاہدوں میں سعودی عرب کو بھی شامل کیا جائے اور اب دوسرے دور میں بھی یہ خواہش ہےاسی تناظر میں صدر ٹرمپ متعدد بار یہ اعلانات کرچکے ہیں کہ سعودی عرب بھی اسرائیل کو تسلیم کرکے ابراہیمی معاہدے میں جلد ہی شامل ہونے والا ہے تاہم یہ جلد اب تک نہیں آئی ہے۔

  • مجرمانہ سرگرمیاں:  گزشتہ پانچ برسوں میں سعودی عرب سے ہزاروں بھارتی ملک بدر

    مجرمانہ سرگرمیاں: گزشتہ پانچ برسوں میں سعودی عرب سے ہزاروں بھارتی ملک بدر

    سعودی عرب نے مجرمانہ سرگرمیوں اور ملکی قوانین کی کھلی خلاف ورزیوں میں ملوث بھارتیوں کو حراست میں لینے کے بعد ملک بدر کردیا۔

    عالمی خبررساں ادارے کے مطابق تازہ سرکاری اعداد و شمار میں انکشاف ہوا کہ سعودی عرب نے گزشتہ پانچ برسوں میں ہزاروں بھارتی شہریوں کو ملک بدر کیا گیا جو کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہےاس حوالے سے خود بھارتی وزارتِ خارجہ نے پارلیمنٹ میں ایک چشم کشا رپورٹ پیش کی ہے جس میں گزشتہ 5 برسوں کے اعداد و شمار جمع کیے گئے ہیں۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صرف سعودی عرب سے 2021 میں 8 ہزار 887، 2022 میں 10 ہزار 277، 2023 میں 11 ہزار 486، 2024 میں 9 ہزار 206 اور رواں برس تاحال 7 ہزار 19 بھاتیوں کو ملک بدر کیا جا چکا ہے۔

    سال 2025 میں 2196 بڑے سائبر کرائم کیسز کی تحقیقات مکمل کی گئیں

    یہ اعداد و شمار اس تلخ حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بھارتی شہری بار بار ویزا کی مدت ختم ہونے کے باوجود قیام، غیر قانونی ملازمت، لیبر قوانین کی خلاف ورزی، آجر سے فرار اور بعض اوقات فوجداری مقدمات میں ملوث پائے گئے۔

    بھارتی وزیر مملکت برائے خارجہ امور کرتی وردھن سنگھ نے اعتراف کیا ہے کہ ملک بدری کی زیادہ تر وجوہات قانونی حیثیت کے بغیر کام کرنا اور رہائشی اجازت ناموں کی خلاف ورزی ہیں مبصرین کے مطابق یہ صورتحال نہ صرف میزبان ممالک کے قوانین کی توہین ہے بلکہ بھارت کی عالمی ساکھ کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔

    میجر عدیل شہید کی نماز جنازہ ادا، فیلڈ مارشل اور وزیر داخلہ سمیت سول و عسکری شخصیات کی شرکت

    بھارت سے تعلق رکھنے والے شہریوں کی ملک بدری کے یہ اعداد و شمار امریکا سمیت دیگر ممالک سے بھی کہیں زیادہ ہیں، جبکہ دیگر ممالک میں یہ تعداد نسبتاً کم رہی ہے ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری، غیر ہنر مند لیبر کی بیرونِ ملک منتقلی اور قانونی آگاہی کی کمی اس مسئلے کی بنیادی وجوہات ہیں،یہ صورتحال بھارت کے لیے ایک سنجیدہ لمحۂ فکریہ ہے کہ صرف عالمی دعووں سے نہیں بلکہ عملی نظم و ضبط اور شہری ذمہ داری سے ہی کسی ملک کی عزت بنتی ہے۔

    یوکرین نے صدر پیوٹن کی رہائشگاہ کو ڈرون سے نشانہ بنانے کی کوشش کی، روس کا الزام

  • سعودی عرب سے مزید 13 ہزار سے زائد غیرقانونی تارکین وطن بے دخل

    سعودی عرب سے مزید 13 ہزار سے زائد غیرقانونی تارکین وطن بے دخل

    ایک ہفتے کے دوران سعودی عرب میں اقامہ، لیبر اور سرحدی قانون کی مزید 18 ہزار877 خلاف ورزیاں ریکارڈ کی گئیں جبکہ مزید 13 ہزار 241 غیرقانونی تارکین وطن کو بے دخل کردیا گیا۔

    عرب میڈیا کے مطابق 18 سے 24 دسمبر کے درمیان مجموعی طور پر 11 ہزار 991 افراد کو اقامہ قانون، 3 ہزار808 کو غیر قانونی سرحد عبور کرنے کی کوشش اور 3 ہزار 78 کو قانون محنت کی خلاف ورزی پر حراست میں لیا گیا جبکہ غیرقانونی طور پر مملکت میں داخل ہونے کی کو شش پر ایک ہزار312 افراد کو بھی حراست میں لیا گیا، ان میں سے 55 فیصد ایتھوپین، 44 فیصد یمنی اور ایک فیصد دیگر ملکوں سے تعلق رکھتے ہیں۔

    لاہور میں سہیل آفریدی کی قیادت میں اسٹریٹ موومنٹ صرف ٹریلر تھا، معاون خصوصی

    علاوہ ازیں 46 ایسے افراد کو بھی پکڑا گیا ہے جو سرحد پار کرکے مملکت سے ہمسایہ ملکوں میں داخل ہونے کی کوشش کررہے تھے، سفر، رہائش، روزگار اور پناہ دینے کی کوششوں میں ملوث 14 افراد کو بھی حراست میں لیا گیا ہےاس دوران 13 ہزار 241 غیرقانونی تارکین کو ان کے ملک واپس بھیجا گیا۔

    واضح رہے سعودی عرب میں غیرقانونی تارکین وطن کو سفری، رہائشی یا ملازمت کی سہولت فراہم کرنا قانوناً جرم ہے اور اس کے لیے مختلف سخت سزائیں مقرر ہیں۔

    قلات میں انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن، 4بھارتی حمایت یافتہ دہشتگرد ہلاک

  • سعودی عرب میں  منشیات وصول کرتے ہوئے 6 پاکستانی گرفتار

    سعودی عرب میں منشیات وصول کرتے ہوئے 6 پاکستانی گرفتار

    ریاض: سعودی عرب میں 71 کلوگرام منشیات وصول کرتے ہوئے 6 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کرلیا گیا۔

    سعودی وزارتِ داخلہ کے سکیورٹی ترجمان طلال الشلہوب کے مطابق جنرل ڈائریکٹوریٹ آف نارکوٹکس کنٹرول (جی ڈی این سی) نے زکوٰۃ، ٹیکس اینڈ کسٹمز اتھارٹی کے تعاون سے ریاض ریجن میں مقیم 6 پاکستانی باشندوں کو گرفتار کیا، ملزمان کو 71 کلو گرام میتھایمفیٹامین وصول کرتے ہوئے حراست میں لیا گیا۔

    ایک اور کارروائی میں جی ڈی این سی کی جانب سے عمانی حکام کے ساتھ شیئر کی گئی انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر اسمگلنگ کی دو کوششیں ناکام بنا دی گئیں جن کے دوران 200 کلوگرام سے زائد منشیات ضبط کی گئیں۔

    بلوچستان:سیکیورٹی بہتر بنانے کیلئے پہلا آرٹیفیشل انٹیلیجنس سیل قائم کرنے کا اعلان

    سکیورٹی ترجمان نے کہا کہ سعودی عرب منشیات کے ذریعے ملکی سلامتی اور نوجوانوں کو نشانہ بنانے والی مجرمانہ سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھے گا، ایسی کوششوں کو ناکام بنائے گا اور ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

    سندھ میں جرائم پیشہ عناصر کے لیے کوئی جگہ نہیں، ضیا الحسن لنجار

  • سفارتی تعلقات کی بحالی کیلئے سعودی عرب کا اسرائیل کو دوٹوک اور واضح پیغام

    سفارتی تعلقات کی بحالی کیلئے سعودی عرب کا اسرائیل کو دوٹوک اور واضح پیغام

    سعودی عرب کے سابق انٹیلی جنس چیف شہزادہ ترکی الفیصل نے واضح اور دوٹوک پیغٍام میں کہا ہے کہ صیہونی ریاست کو تسلیم کرنا تو دور کی بات، سعودی عرب اس وقت اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے پر بھی غور نہیں کر رہا ہے۔

    سعودی عرب کے سابق انٹیلی جنس چیف شہزادہ ترکی الفیصل نے اسرائیلی اخبار دی ٹائمز آف اسرائیل کو دیئے گئے انٹرویو میں کہا کہ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی صرف اُسی صورت ممکن ہے جب اسرائیل ایک نارمل ریاست کی طرح بین الاقوامی قوانین کے مطابق طرز عمل اختیار کرے اور فلسطینی مسئلے کا منصفانہ حل سامنے آئے۔

    اُنہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سعودی عرب اسرائیل کے ساتھ کسی قسم کے تعلقات اس وقت تک قائم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی مسئلے کا حل دو ریاستی فارمولے کے تحت طے نہیں ہو جاتا اگر اسرائیل بین الاقوامی قوانین کو تسلیم کرے اور ان پر عمل کرے تو پھر سعودی عرب اس کے ساتھ معمول کے تعلقات پر غور کر سکتا ہےسعودی مؤقف میں نہ کوئی تبدیلی آئی ہے اور نہ کوئی ابہام ہے کہ آزاد اور خود مختار فلسطینی ریاست کا قیام ہی کسی بھی ممکنہ پیش رفت کی بنیاد ہے۔

    پی آئی اے ملازمین کا نجکاری کیخلاف بلاول ہاؤس چورنگی پر احتجاجی مظاہرہ

    اس موقع پر ترکی الفیصل نے 2002 کے عرب امن منصوبے کا حوالہ بھی دیا، جس کی بنیاد 1967 سے پہلے کی سرحدوں اور فلسطینی مہاجرین کے مسئلے کے منصفانہ حل پر رکھی گئی تھی،سعودی عرب نے ماضی میں بھی امن عمل میں حصہ لیا تھا جیسا کہ 1991 کی میڈر ڈ امن کانفرنس کے بعد ہوا تھا لیکن اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا کیونکہ اسرائیل امن کے لیے قیمت ادا کرنے کو تیار نہیں تھا۔

    شہزادہ ترکی الفیصل نے اسرائیلی وزیر اعظم اسحاق رابن کے قتل اور فلسطینی رہنما یاسر عرفات کی موت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ واقعات امن عمل کے ناکام ہونے کی علامت تھے،( اسرائیل ہمیشہ سے یاسر عرفات کو زہر دیے جانے کے الزام کی تردید کرتا آیا ہے لیکن ٹھوس شواہد کے تمام اشارے صیہونی ریاست تک ہی جاتے ہیں)۔

    مدارس کے معاملہ میں پہلے سے طے شدہ باتوں کو بار بار نہ چھیڑا جائے،مفتی منیب

    ترکی الفیصل نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ غزہ اور مغربی کنارے میں کارروائیاں، شام اور لبنان میں فوجی موجودگی، جنگ بندی معاہدوں سے انحراف اور گریٹر اسرائیل جیسے بیانات اعتماد پیدا نہیں کرتےامریکی دباؤ سے متعلق سوال پر شہزادہ ترکی الفیصل نے کہا کہ سعودی عرب اپنی خارجہ پالیسی اپنے قومی مفادات کے تحت بناتا ہے اور کسی بھی بیرونی دباؤ کے تحت فیصلے نہیں کرتا، ولی عہد محمد بن سلمان نے خود وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر کے سامنے واضح کیا تھا کہ دو ریاستی حل کے بغیر اسرائیل سے معمول کے تعلقات ممکن نہیں۔

    پنجاب پولیس کے سابق آئی جی نے خود کو گولی مار لی

    شہزادہ ترکی نے اس تاثر کو بھی رد کیا کہ 7 اکتوبر 2023 کے حماس کے حملے سے پہلے سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان تعلقات معمول پر آنے کے قریب تھے یہ محض قیاس آرائیاں تھیں اور سعودی عرب کا مؤقف ہمیشہ سے واضح رہا ہے کہ فلسطینی مسئلے کے حل کے بغیر اسرائیل کے ساتھ کوئی پیش رفت نہیں ہو سکتی،اگر اسرائیل کے موجودہ وزیر اعظم کے بعد کوئی نیا رہنما آتا ہے تو اسے بھی دو ریاستی حل کو تسلیم کرنا ہوگا۔

    انہوں نے اسرائیلی عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ آپ کو کرنا ہے کہ وہ امن کا راستہ اختیار کرتے ہیں یا نہیں لیکن سعودی عرب کا اصولی مؤقف تبدیل نہیں ہوگا۔

    وزیراعلیٰ پنجاب نے پیرا اسپیشل الاؤنس کی منظوری دے دی

  • سعودی عرب نے  سب سے زیادہ سزائے موت دینے کا اپنا ہی ریکارڈ توڑ دیا

    سعودی عرب نے سب سے زیادہ سزائے موت دینے کا اپنا ہی ریکارڈ توڑ دیا

    سعودی عرب نے ایک ہی سال میں سب سے زیادہ سزائے موت دینے کا اپنا ہی ریکارڈ توڑ دیا ہے۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پیر کے روز مزید تین افراد کو پھانسی دی گئی، جس کے بعد رواں سال اب تک مجموعی طور پر 340 افراد کو سزائے موت دی جا چکی ہے حالیہ برسوں میں سعودی عرب سزائے موت دینے والے ممالک میں چین اور ایران کے بعد تیسرے نمبر پر رہا ہے یہ مسلسل دوسرا سال ہے کہ مملکت نے ایک سال میں دی جانے والی پھانسیوں کا اپنا سابقہ ریکارڈ خود ہی توڑا ہے اس سے قبل 2024 میں 338 افراد کو سزائے موت دی گئی تھی۔

    سعودی وزارتِ داخلہ کی جانب سے سرکاری خبر رساں ادارے سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے ذریعے جاری بیان میں بتایا گیا کہ مکہ ریجن میں قتل کے مقدمات میں مجرم قرار دیے گئے تین افراد کو پھانسی دی گئی-

    2025 کے آغاز سے اب تک دی جانے والی 340 سزاؤں میں سے 232 سزائیں منشیات سے متعلق مقدمات میں دی گئی ہیں، جو مجموعی پھانسیوں کی اکثریت بنتی ہیں۔ یہ اعداد و شمار وزارتِ داخلہ اور ایس پی اے کے جاری کردہ بیانات کی بنیاد پر مرتب کیے گئے ہیں۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سزاؤں میں اس غیر معمولی اضافے کی بڑی وجہ سعودی عرب کی جانب سے 2023 میں شروع کی گئی “وار آن ڈرگز” ہے، جس کے تحت ابتدائی طور پر گرفتار کیے گئے کئی ملزمان کو طویل قانونی کارروائی اور عدالتی فیصلوں کے بعد اب سزائے موت دی جا رہی ہے۔

    واضح رہے کہ سعودی عرب نے تقریباً تین سال تک منشیات کے مقدمات میں سزائے موت پر عملدرآمد معطل رکھنے کے بعد 2022 کے اختتام پر دوبارہ ان سزاؤں کا آغاز کیا تھا،ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق سعودی عرب 2022، 2023 اور 2024 میں دنیا بھر میں سزائے موت پر عمل درآمد کرنے والے ممالک میں چین اور ایران کے بعد تیسرے نمبر پر رہا۔

  • محمد اورنگزیب  کی  سعودی  نائب وزیرِ خزانہ سے ملاقات

    محمد اورنگزیب کی سعودی نائب وزیرِ خزانہ سے ملاقات

    ریاض: وفاقی وزیرخزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے جمعرات کوریاض میں سعودی عرب کے نائب وزیرِ خزانہ عبدالمحسن الخلاف سے ملاقات کی۔

    ملاقات کے دوران دونوں وزراء نے پاکستان میں کلی معیشت کے استحکام کے رجحانات اور معیشت کو مزید بہتر بنانے کے مشترکہ عزم پر تبادلہ خیال کیاسینیٹر محمد اورنگزیب نے پاکستان کی معیشت کو مستحکم کرنے کے لئے سعودی عرب کی دوطرفہ اور کثیرالجہتی معاونت کو سراہا۔

    دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ قیادت اور دونوں برادر ممالک کے عوام کی توقعات پوری کرنے کے لئے تدبیراتی اور حکمتِ عملی کے دونوں محاذوں پر قریبی تعاون جاری رکھا جائے گا۔

    وزیر خزانہ ریاض میں ہونے والی بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کیلئے سعودی عرب کے دورے پرہیں،دورے کے دوران انہوں نے شاہی دربار کے مشیر محمد التواجیری سے ملاقات کی اور مختلف بین الاقوامی میڈیا اداروں کو انٹرویوز بھی دیئے۔

  • سعودی عرب میں گھریلو ملازمین سے فیس وصولی پر پابندی، 20 ہزار ریال جرمانہ

    سعودی عرب میں گھریلو ملازمین سے فیس وصولی پر پابندی، 20 ہزار ریال جرمانہ

    سعودی عرب نے آجروں کو گھریلو ملازمین سے بھرتی، ورک پرمٹ اور دیگر مدوں میں کسی بھی قسم کی فیس وصول کرنے سے روک دیا ہے۔ خلاف ورزی پر 20 ہزار سعودی ریال تک جرمانہ اور تین سال تک بھرتی پر پابندی عائد کی جا سکتی ہے۔

    سعودی گزٹ کے مطابق کمپنیوں پر پابندی عائد کی گئی ہے کہ وہ ملازمین سے بھرتی، پیشے کی تبدیلی، خدمات کی منتقلی، اقامہ یا ورک پرمٹ کی کوئی فیس وصول نہ کریں۔یہ دفعات سعودی وزارتِ افرادی قوت کی جانب سے جاری کیے گئے ملازمین کے حقوق و ذمہ داریوں کے رہنما اصولوں میں شامل کی گئی ہیں، جن کا مقصد گھریلو ملازمین کو باوقار زندگی اور بہتر کام کے ماحول کی ضمانت فراہم کرنا ہے۔

    وزارت کے جاری کردہ گائیڈ کے مطابق گھریلو ملازمت کے شعبے میں ڈرائیور، نرس، باورچی، معلم، کسان، گارڈ، کافی بنانے والے اور ماہر فزیو تھراپی سمیت متعدد پیشے شامل ہیں۔رہنما اصولوں میں واضح کیا گیا ہے کہ گھریلو ملازم سے مراد وہ شخص ہے جو براہِ راست یا بالواسطہ طور پر آجر کے لیے گھریلو کام انجام دیتا ہے یا اس کے ماتحت عملے کا حصہ ہوتا ہے.

    وزیراعظم سمیت 25 فیصد ارکان اسمبلی اجلاس میں شریک نہیں ہوئے،فافن رپورٹ

    اسرائیل غزہ کے شہریوں کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کا پابند ہے،عالمی عدالت انصاف