Baaghi TV

Tag: سعودی عرب

  • اسحاق ڈار کا دورہ سعودی عرب، پہلے مرحلے میں مدینہ منورہ پہنچ گئے

    اسحاق ڈار کا دورہ سعودی عرب، پہلے مرحلے میں مدینہ منورہ پہنچ گئے

    نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار سعودی عرب کے دورے کے پہلے مرحلے میں مدینہ منورہ پہنچ گئے۔

    نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کے مدینہ منورہ پہنچنے پر سعودی حکام نے ان کا استقبال کیا نائب وزیر اعظم آج شام جدہ میں او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کےغیرمعمولی اجلاس میں شرکت کریں گے،اسحاق ڈار او آئی سی کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے ساتھ دوطرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے،اس کے علاوہ اسحاق ڈار جدہ میں پاکستانی قونصل خانے کی نئی عمارت کا افتتاح بھی کریں گے۔

    پنجاب: ہر ضلعی اسپتال میں جدید کارڈیک کیتھ لیب کا آغاز

    پنجاب: بیرونِ ملک روزگار کے خواہشمند نوجوانوں کے لیے پرواز کارڈ پروگرام متعارف

    طارق رحمان بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے نئے چئیرمین مقرر

  • سعودی عرب میں پارسل ڈیلیوری سروس کیلئے عائد شرط پر عملدرآمد کا آغاز

    سعودی عرب میں پارسل ڈیلیوری سروس کیلئے عائد شرط پر عملدرآمد کا آغاز

    سعودی عرب کی ٹرانسپورٹ جنرل اتھارٹی نے پارسل ڈیلیوری سروس کے لیے نیشنل ایڈریس نظام ’’عنوان الوطنی‘‘ پر باضابطہ عملدرآمد کا آغاز کر دیا ہے،’’عنوان الوطنی‘‘ مختلف سرکاری ایپس کے ذریعے آسانی سے حاصل کیا جا سکتا ہے-

    سعودی خبر رساں ایجنسی ایس پی اے کے مطابق پارسل ڈیلیوری سے منسلک تمام کمپنیوں پر لازم ہوگا کہ وہ نیشنل ایڈریس کے نظام کی مکمل پابندی کریں اور کسی ایسی پوسٹل یا پارسل شپمنٹ کو قبول یا منتقل نہ کریں جس میں صارف کا نیشنل ایڈریس درج نہ ہو۔

    رپورٹ کے مطابق ٹرانسپورٹ جنرل اتھارٹی نے نیشنل ایڈریس سسٹم کے نفاذ کے لیے جنوری 2026 کی ڈیڈ لائن مقرر کی تھی، جس کے بعد اب اس پر عملی طور پر عمل شروع کر دیا گیا ہے اس اقدام کا مقصد پارسل اور پوسٹل ڈیلیوری سروس کو مزید مؤثر، منظم اور معیاری بنانا ہے تاکہ ترسیل کے دوران تاخیر، غلط پتے یا دیگر انتظامی مسائل سے بچا جا سکے۔

    بھارت میں امریکی H-1B ویزا فراڈ اور جعلی ڈگریوں کا بڑا اسکینڈل بے نقاب

    اتھارٹی کا کہنا ہے کہ پارسل ڈیلیوری کمپنیوں کو اس بات کا پابند کیا گیا ہے کہ وہ صارفین سے لازمی طور پر نیشنل ایڈریس حاصل کریں۔ اگر کوئی کمپنی اس نظام کی خلاف ورزی کرتی ہے تو ابتدائی مرحلے میں اس پر جرمانہ عائد کیا جائے گا، جو 5 ہزار سعودی ریال سے لے کر 50 ہزار سعودی ریال تک ہو سکتا ہے۔

    ٹرانسپورٹ جنرل اتھارٹی کے مطابق ’’عنوان الوطنی‘‘ مختلف سرکاری ایپس کے ذریعے آسانی سے حاصل کیا جا سکتا ہے ان ایپس میں ابشر، توکلنا، صحتی اور سبل شامل ہیں، جہاں صارفین اپنے نیشنل ایڈریس کی تفصیلات دیکھ اور اپڈیٹ کر سکتے ہیں۔

    نظام کو اکیلے نہیں بدلا جا سکتا، سب کو مل کر ذمہ داری ادا کرنا ہو گی،سہیل آفریدی

    اتھارٹی نے واضح کیا ہے کہ اس نظام کے مؤثر نفاذ کے لیے صارفین کی ذمہ داری بھی اہم ہے۔ صارفین کو بھی لازم ہوگا کہ وہ پوسٹل یا پارسل ڈیلیوری سروس حاصل کرتے وقت اپنے نیشنل ایڈریس کی درست معلومات متعلقہ کمپنی کو فراہم کریں۔

    واضح رہے کہ سعودی عرب میں نیشنل ایڈریس سسٹم کو مختلف سرکاری اور نجی خدمات سے منسلک کیا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف ڈیلیوری سروسز بلکہ مجموعی طور پر ڈیجیٹل گورننس اور عوامی سہولیات کے معیار کو بہتر بنانے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔

    وینزویلا کے صدر امریکی حراست میں،اسپین نے ثالثی کی پیشکش کردی

  • اسحاق ڈار کا سعودی ہم منصب سے ٹیلیفونک رابطہ

    اسحاق ڈار کا سعودی ہم منصب سے ٹیلیفونک رابطہ

    اسلام آباد:نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان سے ٹیلی فونک رابطہ کیا جس میں دونوں رہنماؤں نے خطے کی تازہ صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

    محمد اسحاق ڈار نے ٹیلی فونک گفتگو میں اس امر پر زور دیا کہ علاقائی امن اور استحکام کے مفاد میں تمام مسائل کا حل بات چیت اور سفارتکاری کے ذریعے نکالا جانا چاہیےدونوں وزرائے خارجہ نے اس بات پر اتفاق کیا کہ خطے میں امن و سلامتی کو برقرار رکھنے کے لیے تحمل، دانشمندی اور سفارتی ذرائع کو بروئے کار لانا ناگزیر ہے۔

    وینزویلا پر امریکی حملے کیخلاف ہمسایہ اور عالمی ممالک کا شدید ردعمل

    خیبر پختونخوا ڈیجیٹل رسائی کے حوالے سے سب سے آگے ہے،پی ٹی اے

    ہندتوا سوچ اور انتہا پسندی خطے کے امن کے لیے شدید خطرہ ہے،خواجہ آصف

  • سعودی عرب  :گیسکو نےگھریلواستعمال کیلئے ایل پی جی کی قیمتیں یکساں کردی

    سعودی عرب :گیسکو نےگھریلواستعمال کیلئے ایل پی جی کی قیمتیں یکساں کردی

    ریاض:نیشنل گیس اینڈ انڈسٹریلائزیشن کمپنی (GASCO) نے اعلان کیا ہے کہ یکم جنوری 2026 سے سعودی عرب بھر میں گھریلواستعمال کے لئے ایل پی جی کی قیمتیں یکساں کردی جائیں گی۔

    نئی قیمتوں کے مطابق 11 کلوگرام گیس سلنڈرکی قیمت SR26.23 اور 5 کلوگرام سلنڈرکی قیمت SR11.93 مقرر کی گئی ہےمرکزی گیس ٹینک کے لئے فلنگ ٹیرف SR1.1770 فی لیٹر رکھا گیا ہے، جس میں ٹرانسپورٹیشن اور ویلیو ایڈڈ ٹیکس (VAT) شامل ہیں۔

    آزاد کشمیر: ہیلتھ کارڈ کے اجرا کے حوالے سے اہم پیشرفت

    گیسکو کا کہنا ہے کہ یہ اقدام مختلف علاقوں میں قیمتوں کے فرق کو ختم کرنے اورصارفین کو معیاری اور یکساں خدمات فراہم کرنے کے لئے کیا گیا ہے، یکساں قیمتیں ملکی ترقی، اقتصادی انضمام اور توانائی کے بنیادی خدمات میں شفافیت کو فروغ دینے کی عکاسی کرتی ہیں،یہ فیصلہ توانائی کی قیمتوں میں بہتر گورننس، گھریلو صارفین اور سہولیات کے لیے ایل پی جی کی قابل اعتماد رسائی کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے،اس اقدام سے نہ صرف قیمتوں میں یکسانیت آئے گی بلکہ صارفین کیلئے خدمات کی کوالٹی اور دستیابی میں بھی بہتری آئے گی جبکہ ملک میں توانائی کے شعبے کی حکمرانی اور شفافیت کو بھی فروغ ملے گا۔

    پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی 289 میں ن لیگ کے امیدوار بلامقابلہ منتخب

  • وزیراعظم اور سعودی ولی عہد کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ

    وزیراعظم اور سعودی ولی عہد کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ

    وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے سعودی عرب کے ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود سے ٹیلیفون پر گفتگو کی، جس میں دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے کا عزم کیا گیا۔

    وزیراعظم آفس کے مطابق نہایت گرمجوش اور خوشگوار گفتگو کے دوران وزیراعظم نے خادمِ حرمینِ شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے لیے اپنے احترام اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔

    وزیراعظم نے پاکستان کے لیے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی محبت، خلوص اور گرمجوشی پر ان کا شکریہ ادا کیادونوں رہنماؤں نے اس امر کا اعادہ کیا کہ حالیہ مہینوں میں نئی بلندیوں کو چھونے والے دیرینہ اور برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط کیا جائے گا، اس کے علاوہ علا قا ئی صورتحال اور موجودہ پیش رفت پر بھی تبادل خیال کیا گیا۔

    وزیراعظم نے مختلف چیلنجز کے تناظر میں امتِ مسلمہ کے درمیان اتحاد اور ہم آہنگی برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا مملکتِ سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہاکہ بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے علاقائی امن و استحکام کو برقرار رکھنا ناگزیر ہے۔

    ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ٹیلیفونک رابطے پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا اور پاکستان کے ساتھ باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے کی مملکت کی خواہش کا اعادہ کیا انہوں نے آئندہ برس پاکستان کا سرکاری دورہ کرنے کی خواہش کا بھی اظہار کیا۔

  • پاکستان کی  یمن میں پائیدار امن و استحکام کیلئےتمام کوششوں کی حمایت

    پاکستان کی یمن میں پائیدار امن و استحکام کیلئےتمام کوششوں کی حمایت

    اسلام آباد: پاکستان نے یمن میں دوبارہ تشدد بڑھنے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے-

    ترجمان دفترخارجہ کا کہنا ہےکہ یمن میں پائیدار امن و استحکام کے لیے ہونے والی تمام کوششوں کی حمایت کرتے ہیں یمن کے کسی بھی فریق کی جانب سے یکطرفہ اقدامات کی سخت مخالفت کرتے ہیں، یکطرفہ اقدامات صورتحال کو مزید کشیدہ، امن کوششوں کو نقصان اور خطے کا امن خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔

    ترجمان دفترخارجہ کے مطابق پاکستان نے یمن میں کشیدگی کم کرنے اور امن برقرار رکھنےکے لیے علاقائی کوششوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے سعودی عرب سے مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے مملکت کی سلامتی سے وابستگی کو دہرایا ہے سعودی عرب کی سکیورٹی پاکستان کے لیے اہم ہے، ہر ممکن تعاون جاری رہےگا، پاکستان سعودی عرب سے مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔

    ترجمان دفترخارجہ کا کہنا ہے کہ یمن مسئلے کے حل کے لیے مکالمے اور سفارت کاری کی بنیاد پر راستہ اختیار کیا جائے، امید ہے یمن کے عوام اور علاقائی طاقتیں مل کر جامع اور دیرپا حل کی طرف بڑھیں گی، یمن میں پائیدار تصفیہ خطے کے استحکام کے تحفظ کے لیے ضروری ہے۔

  • یمن میں بلاجواز کشیدگی یو اے ای کے وعدوں سے مطابقت نہیں رکھتی،سعودی کابینہ

    یمن میں بلاجواز کشیدگی یو اے ای کے وعدوں سے مطابقت نہیں رکھتی،سعودی کابینہ

    سعودی کابینہ کا کہنا ہے کہ یمن میں بلاجواز کشیدگی یو اے ای کے وعدوں سے مطابقت نہیں رکھتی۔

    عرب میڈیا کے مطابق سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی زیر صدارت سعودی کابینہ کا اجلاس ہوا، شرکا نے کہا کہ یمن میں بلاجواز کشیدگی یو اے ای کے وعدوں سے مطابقت نہیں رکھتی،امید ہے عرب امارات یمنی گروہ کو کسی بھی قسم کی فوجی یا مالی معاونت نہیں دے گا،دانشمندی، برادرانہ اصول غالب آئیں گے۔

    علاوہ ازیں سعودی کابینہ نے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کا اسرائیلی اعلان بھی مسترد کر دیا۔

    متحدہ عرب امارات کا یمن میں ملٹری آپریشن بند اور اپنے فوجی واپس بلانے کا اعلان

    دوسری جانب متحدہ عرب امارات (uae)نے منگل کے روز اعلان کیا ہے کہ وہ یمن میں تعینات اپنی باقی ماندہ فورسز کو واپس بلا رہا ہے،یہ پیش رفت سعودی قیادت میں اتحادی افواج کے یمن کے جنوبی بندرگاہی شہر مکلا پر فضائی حملے کے فوراً بعد ہوئی۔

    سعودی عرب کے مطابق اس حملے میں ایک ایسی کھیپ کو نشانہ بنایا گیا جو امارات سے منسلک ہتھیاروں پر مشتمل تھی اور یو اے ای کے حمایت یافتہ عناصر کو فراہم کی جا رہی تھی یہ کارروائی ریاض اور ابو ظہبی کے درمیان بڑھتے ہوئے اختلافات میں اب تک کی سب سے بڑی کشیدگی قرار دی جا رہی ہے-

    پی ٹی آئی کا جیسا ایکشن ہوگا، ری ایکشن اس کے مطابق ہوگا ،رانا ثنااللہ

    ایک وقت میں خطے کے دو مضبوط سیکیورٹی ستون سمجھے جانے والے سعودی عرب اور یو اے ای کے مفادات حالیہ برسوں میں تیزی سے مختلف ہوتے چلے گئے ہیں۔ اختلافات کی وجوہات میں تیل کی پیداوار کے کوٹے، علاقائی اثر و رسوخ اور یمن کی سیاسی صورتحال شامل ہیں۔

    سعودی عرب نے منگل کے روز اپنی قومی سلامتی کو ’’سرخ لکیر‘‘ قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ متحدہ عرب امارات نے یمن کے جنوبی علیحدگی پسندوں پر دباؤ ڈال کر انہیں ایسے عسکری اقدامات پر اکسایا جو سعودی سرحدوں تک جا پہنچے۔ یہ بیان دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کے دوران ریاض کی جانب سے اب تک کا سخت ترین مؤقف ہے۔

    یمن میں سعودی حمایت یافتہ صدارتی کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی نے اماراتی افواج کو 24 گھنٹوں میں ملک چھوڑنے کا الٹی میٹم دیا اور بعد ازاں یو اے ای کے ساتھ دفاعی معاہدہ بھی منسوخ کر دیا۔ انہوں نے ایک ٹیلی وژن خطاب میں متحدہ عرب امارات پر الزام لگایا کہ وہ جنوبی عبوری کونسل (STC) کی حمایت کے ذریعے یمن میں بدامنی کو ہوا دے رہا ہے۔

    امریکا کی بھارتی شہریوں کو سخت سزا ؤں کی وارننگ

    دوسری جانب یو اے ای نے فضائی حملے پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جس کھیپ کو نشانہ بنایا گیا اس میں ہتھیار شامل نہیں تھے اور وہ اماراتی افواج کے لیے تھی امارات نے زور دیا کہ حالیہ صورتحال کو ذمہ داری سے اور باہمی رابطے کے تحت حل کیا جانا چاہیے تاکہ مزید کشیدگی سے بچا جا سکے۔

    ان واقعات کے بعد خلیجی ممالک کی اسٹاک مارکیٹوں میں مندی دیکھی گئی ہے ماہرین کے مطابق سعودی عرب اور یو اے ای کے درمیان اختلافات اوپیک کے اندر تیل کی پیداوار سے متعلق فیصلوں پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں، جبکہ اوپیک پلس کے اہم اجلاس سے قبل صورتحال مزید حساس ہو چکی ہے۔

    سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس کی یونیورسٹی کو کالعدم ٹی ٹی پی کے خوارج کیجانب سے دھمکی موصول

  • متحدہ عرب امارات کا یمن میں ملٹری آپریشن بند اور اپنے فوجی واپس بلانے کا اعلان

    متحدہ عرب امارات کا یمن میں ملٹری آپریشن بند اور اپنے فوجی واپس بلانے کا اعلان

    سعودی عرب کے سخت ردعمل کے بعد متحدہ عرب امارات نے یمن میں اپنی باقی ماندہ انسدادِ دہشت گردی کارروائیاں ختم کرنے کا اعلان کردیا،جو کہ 2019 میں اپنی فوجی موجودگی ختم کرنے کے بعد ملک میں اس کے پاس باقی رہ جانے والی واحد افواج ہیں۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع کے بیان میں کہا گیا ہے کہ انسدادِ دہشت گردی یونٹس کی واپسی رضاکارانہ بنیادوں پر اور شراکت داروں کے ساتھ مکمل رابطے اور تعاون سے عمل میں لائی جائے گی، اس کی بنیادی وجہ وہاں موجود اہلکاروں کی حفاظت اور سلامتی کو ممکن بنانا ہے۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ حالیہ پیش رفت اور سیکیورٹی خدشات کے تناظر میں ایک جامع جائزے کے بعد کیا گیا یمن میں متحدہ عرب امارات کی براہِ راست فوجی موجودگی بھی پہلے ہی 2019 میں ختم ہوچکی تھی،یہ اقدام خطے میں امن و استحکام کے لیے یو اے ای کے دیرینہ عزم کے مطابق ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف کی متحدہ عرب امارات کے صدر سے ملاقات

    وزارت دفاع کے بیان میں واضح کیا گیا کہ یو اے ای 2015 سے عرب اتحاد کے تحت یمن میں قانونی حکومت کی حمایت کرتا رہا ہے2019 میں طے شدہ اہداف مکمل ہونے کے بعد اپنی فوجی موجودگی ختم کرنے کے بعد سے صرف محدود اور خصوصی ٹیمیں انسدادِ دہشت گردی کے لیے موجود تھیں، جو اب واپس بلائی جا رہی ہیں، یو اے ای کے بیٹوں نے یمن میں امن اور استحکام کے مقاصد کے حصول کے لیے بڑی قربانیاں دی ہیں۔

    واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب سعودی عرب نے یمن کی بندرگاہ پر مبینہ اسلحہ بردار گاڑیو ں کو نشانہ بنایا سعودی عرب نے موقف اختیار کیا کہ متحدہ عرب امارات یمن کے جنوبی علاقے میں علیحدگی پسندوں کو اسلحہ اور مالی تعا ون فراہم کر رہے ہے۔

    سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات پسِ پردہ خاصے بہتر ہوچکے ہیں،ٹرمپ کا دعویٰ

    تاہم متحدہ عرب امارات نے سعودی عرب کے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اس بیان کو مایوس کن قرار دیا تھااس سے قبل یمن کی بین الااقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے حکمراں نے بھی متحدہ عرب امارات کو 24 گھنٹوں کے اندر یمن چھوڑنے کا کہا تھا۔

    سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات 2015 میں یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف ایک ہی عرب اتحاد کا حصہ بنے تھے تاہم وقت گزرنے کے ساتھ دونوں ممالک کی ترجیحات مختلف ہوتی چلی گئیں.سعودی عرب یمن کی وحدت، مرکزی حکومت اور سیاسی حل پر زور دیتا رہا ہے جب کہ یو اے ای نے جنوبی یمن میں سیکیورٹی، بندرگاہوں اور انسدادِ دہشت گردی پر توجہ مرکوز رکھی اور سدرن ٹرانزیشنل کونسل سے قربت اختیار کی،2019 میں یو اے ای کی فوجی واپسی کے بعد یہ اختلافات کھل کر سامنے آئے تھے جبکہ حالیہ واقعے اور بیانات نے دونوں اتحادیوں کے درمیان تناؤ کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔

    یمنی صدارت کونسل کا متحدہ عرب امارات کے ساتھ معاہدہ منسوخ

  • سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات پسِ پردہ خاصے بہتر ہوچکے ہیں،ٹرمپ کا دعویٰ

    سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات پسِ پردہ خاصے بہتر ہوچکے ہیں،ٹرمپ کا دعویٰ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات پسِ پردہ خاصے بہتر ہوچکے ہیں اور وہ جلد ابراہیمی معاہدوں میں شامل ہو جائے گا۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق صدر ٹرمپ نے اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو کے ساتھ فلوریڈا میں مشترکہ پریس کانفرنس کے دورا ن کہا کہ ابراہیمی معاہدے نسبتاً تیزی سےمزید توسیع پائیں گےاور سعودی عرب کی شمولیت بھی بس کچھ وقت کی بات ہےجہاں تک میرا تعلق ہے، سعودی عرب نے وہ سب کچھ کیا ہے جس کی ہم توقع کرسکتے ہیں، وہ اسرائیل کے ساتھ بہت اچھے طریقے سے معاملا ت چلا رہے ہیں۔

    وزیراعظم شہباز شریف کی متحدہ عرب امارات کے صدر سے ملاقات

    واضح رہے کہ صدر ٹرمپ کے اس دعوے کے باوجود سعودی عرب نے ہمیشہ اسرائیل سے سفارتی تعلقات قائم کرنے سے متعلق محتاط بلکہ واضح طور پر انکاری مؤقف اپنایا ہے۔

    سعودی عرب کی ہمیشہ سے یہی پالیسی رہی ہے کہ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کا انحصار ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام پر ہےتاہم تجزیہ کاروں کے مطابق سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان سیکیورٹی، انٹیلی جنس اور علاقائی امور پر غیر اعلانیہ تعاون موجود ہے، خاص طور پر ایران کے اثر و رسوخ کے تناظر میں۔

    سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس کی یونیورسٹی کو کالعدم ٹی ٹی پی کے خوارج کیجانب سے دھمکی موصول

    ابراہیمی معاہدے

    ابراہیمی معاہدے 2020 میں ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے صدارتی دور میں طے پائے، جن کا مقصد اسرائیل اور عرب دنیا کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانا تھاسب سے پہلے ستمبر 2020 متحدہ عرب امارات اور بحرین نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔

    جس کے بعد اکتوبر 2020 میں سوڈان نے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کا اعلان کیا اور دسمبر 2020 میں مراکش بھی اس معاہدے میں شامل ہوگیا اسرائیل اور عرب ممالک ان معاہدوں کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ میں سفارتی، تجارتی، سیاحتی اور سیکیورٹی تعاون میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

    سال 2026 کا پہلا سپر مون کب نطر آئے گا؟

    صدر ٹرمپ کی اپنے پہلے دور میں بھی کوشش رہی تھی کہ ابراہیمی معاہدوں میں سعودی عرب کو بھی شامل کیا جائے اور اب دوسرے دور میں بھی یہ خواہش ہےاسی تناظر میں صدر ٹرمپ متعدد بار یہ اعلانات کرچکے ہیں کہ سعودی عرب بھی اسرائیل کو تسلیم کرکے ابراہیمی معاہدے میں جلد ہی شامل ہونے والا ہے تاہم یہ جلد اب تک نہیں آئی ہے۔

  • مجرمانہ سرگرمیاں:  گزشتہ پانچ برسوں میں سعودی عرب سے ہزاروں بھارتی ملک بدر

    مجرمانہ سرگرمیاں: گزشتہ پانچ برسوں میں سعودی عرب سے ہزاروں بھارتی ملک بدر

    سعودی عرب نے مجرمانہ سرگرمیوں اور ملکی قوانین کی کھلی خلاف ورزیوں میں ملوث بھارتیوں کو حراست میں لینے کے بعد ملک بدر کردیا۔

    عالمی خبررساں ادارے کے مطابق تازہ سرکاری اعداد و شمار میں انکشاف ہوا کہ سعودی عرب نے گزشتہ پانچ برسوں میں ہزاروں بھارتی شہریوں کو ملک بدر کیا گیا جو کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہےاس حوالے سے خود بھارتی وزارتِ خارجہ نے پارلیمنٹ میں ایک چشم کشا رپورٹ پیش کی ہے جس میں گزشتہ 5 برسوں کے اعداد و شمار جمع کیے گئے ہیں۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صرف سعودی عرب سے 2021 میں 8 ہزار 887، 2022 میں 10 ہزار 277، 2023 میں 11 ہزار 486، 2024 میں 9 ہزار 206 اور رواں برس تاحال 7 ہزار 19 بھاتیوں کو ملک بدر کیا جا چکا ہے۔

    سال 2025 میں 2196 بڑے سائبر کرائم کیسز کی تحقیقات مکمل کی گئیں

    یہ اعداد و شمار اس تلخ حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بھارتی شہری بار بار ویزا کی مدت ختم ہونے کے باوجود قیام، غیر قانونی ملازمت، لیبر قوانین کی خلاف ورزی، آجر سے فرار اور بعض اوقات فوجداری مقدمات میں ملوث پائے گئے۔

    بھارتی وزیر مملکت برائے خارجہ امور کرتی وردھن سنگھ نے اعتراف کیا ہے کہ ملک بدری کی زیادہ تر وجوہات قانونی حیثیت کے بغیر کام کرنا اور رہائشی اجازت ناموں کی خلاف ورزی ہیں مبصرین کے مطابق یہ صورتحال نہ صرف میزبان ممالک کے قوانین کی توہین ہے بلکہ بھارت کی عالمی ساکھ کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔

    میجر عدیل شہید کی نماز جنازہ ادا، فیلڈ مارشل اور وزیر داخلہ سمیت سول و عسکری شخصیات کی شرکت

    بھارت سے تعلق رکھنے والے شہریوں کی ملک بدری کے یہ اعداد و شمار امریکا سمیت دیگر ممالک سے بھی کہیں زیادہ ہیں، جبکہ دیگر ممالک میں یہ تعداد نسبتاً کم رہی ہے ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری، غیر ہنر مند لیبر کی بیرونِ ملک منتقلی اور قانونی آگاہی کی کمی اس مسئلے کی بنیادی وجوہات ہیں،یہ صورتحال بھارت کے لیے ایک سنجیدہ لمحۂ فکریہ ہے کہ صرف عالمی دعووں سے نہیں بلکہ عملی نظم و ضبط اور شہری ذمہ داری سے ہی کسی ملک کی عزت بنتی ہے۔

    یوکرین نے صدر پیوٹن کی رہائشگاہ کو ڈرون سے نشانہ بنانے کی کوشش کی، روس کا الزام